Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 25

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 25

–**–**–

” آنی۔۔۔۔احد جب انابیہ تک پہنچا تب انابیہ کی ٹانگے خون میں لت پت تھی احد نے پاگل ہوتے دماغ سے جب انابیہ کو اپنے بازوں میں اٹھایا تو انابیہ کی لفٹ ٹانگ بلکل مڑ چکی تھی، احد کو رونا آیا اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر، احد نے جلدی سے انابیہ کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور شارق کے ہوسپیٹل کی طرف گاڑی ڈال دی کیوں کہ وہ اسی روڈ پر تھا”
“ہوسپیٹل پہنچ کر جب عروا اور ہما نے انابیہ کی یہ حالت دیکھی تو فورا شارق کو انفام کیا، شارق تو اپنی جان سے پیاری آپی کو اس حالت میں دیکھ کر رو دیا اور ساتھ ہی انابیہ کو ٹریٹمنٹ دینے لگا”
“انابیہ کی لفٹ ٹانگ پنڈلی سے ٹوٹ چکی تھی، شارق نے اسے پلسٹر چڑہا دیا تھا اور ڈریپ بھی لگا دی تھی کیوں کے انابیہ کا خون کافی بہہ چکا تھا، انابیہ ابھی تک بےہوش تھی شارق اپنی آپی کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر نظر ڈال کر ہاہر نکل گیا”
“شارق انابیہ کیسی ہے اب احد جو روم کے باہر ویٹ کر رہا تھا پرشانی سے شارق سے پوچھنے لگا”
“احد بھائی آپی کی لفٹ ٹانگ پنڈلی سے ٹوٹ گئ ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک منتھ تک بلکل ٹھیک ہوجائے گئ آپ ٹنشن نہ لیں، شارق نے احد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر صبر کرنا کا کہا کیوں کے وہ احد نے آنکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا”

“ایک ویک بعد آج انابیہ کو ہوسپیٹل سے ڈسچارج کردیا گیا تھا اور احد اسے گھر لے آیا تھا”
“انابیہ اپنے بیڈ روم میں لیٹی تھی، جب کے احد صوفہ پر بیٹھا اپنا موبائل یوز کررہا تھا، تب ہی جازب شاہ اور اثناء شاہ روم میں داخل ہوۓ”
“انابیہ کو سب کہیں بار ہوسپیٹل دیکھنے جاچکے تھے، ابھی جب ملازم نے جازب شاہ کو بتایا کہ احد انابیہ کو گھر لے آیا ہے تو دونوں بہو کی طبیعت پوچھنے چلے آئے”
“کیسی طبیعت ہے اب میری بیٹی کی اثناء شاہ نے انابیہ کے بالوں میں ہاتھ بھرتے ہوۓ پوچھا؟
“مما اب کافی بہتر ہے، انابیہ نے ساس کو جواب دیا، جو اس کے بالوں میں بہت پیار سے ہاتھ چلا رہی تھیں”
“بیٹا انابیہ کے لیے ایک میڈ کا انتظام کرلو پہلے تو ہوسپیٹل میں اور بات تھی اب گھر میں کوئی ارینج کرو تاکہ میری بیٹی کے آرام میں کوئی مسلہ نہیں رہے وہ پہلے ہی اپنی پرابلم میں ہے، جازب شاہ نے احد سے کہا”
“نہیں بابا سائیں میڈ کیوں۔۔ میں ہوں نا میں رکھو گا خیال اپنی بیوی گا اور ویسے بھی مجھ اچھا نہیں لگے گا میرے ہوتے انابیہ کو میڈ ہینڈل کرۓ”
“ہمم چلو جیسے تمہیں بہتر لگے، خیال رکھنا آنی کا جازب شاہ نے احد سے کہا اور دونوں روم سے نکل گے”
“ہوسپیٹل میں بھی احد نے کسی کو انابیہ کو ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا، وہ انابیہ کے چھوٹے موٹے کاموں سے لے کر واشروم لے جانے اور اسے واک کروانے تک سب خود کرتا تھا”
_____________________________________***
“آج ہما کو دانیہ کی طرف جانا تھا، اس کی اور دانیہ کی دوستی کاقی ہوگئ تھی، اسی لیے دانیہ نے اسے اپنی پرانی دوست کے گھر ساتھ چلنے کا کہا اور ہما صدا کی پاگل بنا سوچے اس کے ساتھ جانے کے لیے مان گئ”
“ہما گھر سے نکلنے لگی تھی کہ اس نے ممی کو بتانا چاہا لیکن اسے وہ گھر میں مجود نہیں تھیں، اس نے مارخ کو بتانا چاہا لیکن ملازمہ سے پتہ چلا کہ وہ بھی اپنے بھائی کے گھر گئ ہیں، اسی لیے وہ بنا کسی کو بتائے گاڑی لے کر دانیہ کی طرف چکی گئ”
“دانیہ تو اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی، ہما کو لے کر چلا پڑی، ہما جب اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگی تو دانیہ نے اس کہا میری کار میں جائے گے، اور ہما اس کے ساتھ بیٹھ گئ، جب کہ دانیہ ڈرایونگ سیٹ پر”

“دائم کو ایک چھوٹا سا کام تھا، اسی لیے وہ اپنا کام نپٹا کر واپس جارہا تھا کہ اس نے سوچا وہ گھر کا چکر لگا کے کیوں کہ ان دنوں دانیہ بھی امید سے تھی اسی لیے اس کی طبیعت کا سوچ کر دائم نے گھر جانے والی سڑک پر گاڑی ڈال دی لیکن، اسے اپنی گاڑی میں دانیہ کہیں جاتی ہوئی نظر آئی ابھی وہ اسے کال کرنا ہی والا تھا، لیکن جس سائیڈ پر دانیہ نے ٹرن لیے دائم کے نمبر ڈائل کرتے ہاتھ رک گے، کیوں کے وہ روڈ تو صرف دو طرف جاتا تھا، ایک ریلوے اسٹیشن دوسرا ریڈ لایٹ ایریا تھا”
” دائم نے سوچا دانیہ کا ریلوے اسٹیشن کیا کام اور ریڈ لایٹ ایریا دائم نے کچھ سوچتے ہوۓ پولیس جیپ دانیہ کی گاڑی کے پیچھے لگا دی”

” دانیہ یہ کون سی جگہ ہے، ہما نے ایکا دکا لوگ دیکھ کر کہا، ارے میری دوست نا ایسی جگہ رہتی ہے جہاں زیادہ بیڑ نہ ہو، دانیہ نے بات بنائی”
“شام کے سائے بھی گہرے ہو رہے تھا، تھوڑی آگے جاکر ہما کو موسيقی اور گھنگھروں کی آوازے آنے لگی، جیسے کوئی رکت کررہا ہو، دانیہ یہ کدھر لے کرجارئی ہیں آپ مجھے اس کو کچھ گڑبڑ لگی تو پرشانی سے بولی، ارے بس آگیا تم ویسے ہی پرشان ہوگی ہو، چلو اترو ہما کو کیا پتہ تھا بےشک وہ تعلیم یافتہ اور ایک ڈاکٹر تھی لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ یہ کون سی جگہ ہے اور وہ کون سا پہلے کبھی ادھر آئی تھی، اسی لیے وہ اس کے ساتھ چل پڑھی”

“دائم جس جگہ پہنچا تھا دانیہ کا پیچھا کرتے کرتے وہاں آکر دائم کو شدید غصہ آرہا تھا کہ دانیہ ادھر ایسی گندی جگہ آئی تو آئی کیوں یے، ابھی وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی بہنوں جیسی کزن کو اس کی بیوی کدھر لے جارئی تھی”
“اب دائم کو دانیہ کے گاڑی رکی ہوئی ملی، دائم بھی پولیس جیپ سے اتر کے لوگوں سے دریافت کرنا لگا کے اس گاڑی سے اتری لڑکی کدھر گئ ہے، وہ آدمی دائم کو پولیس یونیفام میں دیکھ کر ڈر گیا اس لیے ایک چھوٹے لڑکے کا کہا جاو صاحب کو لے جاو جہاں وہ دو لڑکیاں گئ ہیں”
” دو لڑکیاں دائم نے اس آدمی کی طرف دیکھا کر کہا؟ جی صاحب جی دو لڑکیاں تھی”
” دوسری کون تھی دائم سوچتا ہوا اس لڑکے کو چلنے کا کہہ چکا تھا”

“دانیہ آپ آپ کدھر لے کر جاریی ہیں، می میں نہیں جارہی ہما جانے لگی تو دانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور گھسیٹتی ہوئی ایک حال نما کمرے میں لاکر ایک عورت کے سامنے پھینکتے ہوا کہا تارہ بائی سنبھلو لڑکی کو اور مجھ یہ اس ملک میں نہیں دیکھنی چاہے، اسے آج رات ہی کسی غیر ملکی کو پیچ دو، دانیہ کیا کررہی ہیں آپ پلیز میرے ساتھ ایسا نہیں کریں ہما نے روتے ہوا کہا، چپ بلکل چپ تمہاری وجہ سے صرف تمہاری وجہ سے ثمر نے مجھے انکار کیا میں تو اسے اپنی طرف متوجہ کر چکی تھی، وہ مگنی توڑنے پر بھی تیار ہو چکا تھا پر تب تم اس کے گروپ میں آئی اور پھر اسے یہ بھی پتہ چلا کے تم اس کی منگیتر ہو اور اس نے مجھے انکار کر دیا، وہ الگ بات ہے کہ اب مجھ دائم سے محبت ہوچکی ہے، لیکن دانیہ اپنا بدلہ لیے بغیر نہیں ریتی ہے، دانیہ نے غصے سے ہما کو کہا اور واپس جانے لگی”
“دائم اسی وقت کمرے میں داخل ہوا جب دانیہ واپس پلٹی، اور اسے روتی ہوئی ہما بھی نظر آئی اور وہ بھاگ کر اس تک پہنچا”
” دائم کو دیکھ کر ہما بھی بھاگ کر دائم تک پہنچی بھائی مجھ بچا لیں دانیہ سے ہما دائم کے گلے لگی رورہی تھی، ہما اب تمہیں کوئی خطرہ نہیں میں آگیا ہوں”
“دائم سامنے گھڑی عورت کو دیکھ کر اور ہما کا یہ کہنا پر کہ اس دانیہ سے بچا لے سب سمجھ آچکا تھا لیکن پھر بھی اس نے سامنے گھڑی بائی سے کہا بتاو اصل بات دائم نے پستول دیکھتے ہوا کہا تھا اس طوائف نے سب دائم کے آگے آگل دیا”
“دائم بات سنے میری دانیہ نے بولنا چاہا لیکن چٹح زور سے پڑنے والے دائم کے تھپڑ میں اتنی طاقت تھی کہ وہ دو قدم دور جاگری”
“زلیل عورت میری بہن کو تم اس گندی جگہ لائی، وہ تو خدا کا شکر مینے تمہیں دیکھ لیا ورنہ میں خاشر اور ثمر کو کیا جواب دیتا، دائم نے دانیہ کے بالوں کو زور سے مٹھی میں جھکڑ کر کہا”
“دائم پلیز مجھ معاف کردیں پلیز، دانیہ نے درد کی شدت سے روتے ہوا کہا۔۔۔ اس پر دائم نے ایک اور تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا اور کہا یہ غلطی نہیں گناہ یے اور اس کی سزا میں ابھی تمہیں دیتا ہوں”
“میں دائم چودھری اپنے پورے ہوش و ہواش میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ دانیہ تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں”
“ایسا کہہ کر وہ رکا نہیں بلکہ ہما کو لے کر وہاں سے نکل گیا”
“شدید غصے کی حالت میں وہ یہ بھی بھول چکا تھا کہ دانیہ پریگنٹ ہے”
“, خاشر کے گھر کے باہر دائم ہما کو اتارتے ہوے، دائم نے ہاتھ جوڑ کر ہما سے معافی مانگی ہما معاف کردو مجھے میری بیوی تمہیں۔۔ پلیز۔۔ دائم بھائی اس میں آپ کا کیا قسور ہے ہما نے ترپ کر دائم کے ہاتھ پکڑ کر نیچے کیے، ہما بیٹا دائم نے جاتی ہما کو پکارہ۔۔ گھر میں کسی سے زکر نہیں کرنا ورنہ میں کسی سے نظر نہیں ملا پاو گا، آپ بے فکر رہے بھائی اور دائم نے گاڑی آگے بڑھا دی”
_____________________________________***
“صبح کے تین کا وقت تھا، انابیہ کو واشروم جانا تھا، اس نے اپنے ساتھ سوئے احد پر نظر ڈالی وہ سکون سے سو رہا تھا، وہ اسے جگانا نہیں چاہتی تھی، کیوں کہ رات کو بھی وہ اسے میڈیسن دے کر اور کافی دیر ورزش کرواتا رہا جو شارق نے ضرور کرنا کا کہا تھا”
“,اور ویسے بھی انابیہ کو گلٹی فیل ہورہا تھا، کہ اس نے احد کے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے، اور وہ ہے کہ اس کا اتنا خیال رکھتا ہے،”
“انابیہ اٹھ کر بیٹھ تو احد اسکے اٹھنے سے ہی جاگ گیا”
“کچھ چاہے آنی احد نے نیند سے ڈوبی آواز میں کہا”
“وہ واشروم جانا تھا، انابیہ نے اپنا مسلہ بتایا”
“احد فورا اٹھا اور انابیہ کو اپنی باہوں میں اٹھا کر واشروم لے گیا”
” واپس جب احد نے انابیہ کو بیڈ پر لیٹایا تو انابیہ کی گلے کی چین احد کے شرٹ میں اٹک گئ، احد جو واپس پلٹا تھا اپنی شرٹ کی کھچاو کی طرف دیکھ تو انابیہ کی چین اس کی شرٹ میں اٹکی ہوئی تھی، احد نے چین نکالی اور انابیہ کی پیشانی پر کس کی اور دوسری جانب جاکر لیٹ گیا”
“احد۔۔۔
“ہم کیا بات ہے انابیہ کچھ اور چاہے؟؟
“انابیہ کی آواز پر احد نے پوچھا”
“انابیہ نے احد کے سینے پر سر رکھے کر کہا آئی ایم ریلی ویری سوری احد مجھے معاف کردیں مینے بہت برا کیا آپ کے ساتھ۔۔۔
“احد جو انابیہ کی پوری بات آرام سے سن رہا تھا انابیہ کااحد کو آپ کہنے پر منھ کھولے انابیہ کو دیکھنے لگا”
“کیا ہوا آپ کو انابیہ نے دوبارہ کہا..؟
“احد انابیہ کا چہرہ ہاتھ میں. لے کر تم انابیہ ہی ہو نا؟؟ خیرانگی سے پوچھا”
“کیوں انابیہ نے ناسمجھی سے کہا”
“باقی سب تو ٹھیک ہے مینے تمہیں معاف کیا لیکن تم نے مجھے آپ کہا اس لیے تم پر شک ہوا کہ تم انابیہ ہی ہونا، احد کے ایسے کہنے پر انابیہ جی پھر کے شرمندہ ہوئی، اب ہیسبنڈ کو آپ نہیں کہوں گئ تو اور کیا کہوں گئ، انابیہ اپنی انگلی کا ناخن دانت سے توڑتے ہوے بولی”
“تم تمہیں یقین آہی گیا کہ میں تمہارا ہیسبنڈ ہوں، احد نے بھی پرانا خساب پورا کرنا تھا، بس کریں نا احد صبح کا بھولا شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے مجھ احساس ہوگیا ہے اب”
“اچھا میری جان احد نے انابیہ کے اوپر ایک ہاتھ رکھتے ہوے بولا اب مجھ سونے دو اور احد خوشی سے سو گیا کہ اس کی بیوی کو عقل آ ہی گئ”

” انابیہ آج تمہارا پلسٹر اتر جائے گا ، تمہے ملازمہ ہوسپیٹل لے جائے گئ، میں خود جاتا لیکن آج میری ضرورت میٹنگ ہے”
“اور تم نے ہی تو مجھ مجبور کرکے بابا سائیں کا آفس جوائن کرنا کا کہا ہے، احد نے مرر میں اپنی ٹائی کو بندھتے ہوا کہا”
“اوکے اوکے میں چلی جاو گئ آپ ٹنشن نہ لیں، اب میں چل بھی سکتی ہوں اور پورا منتھ گزر چکا ہے اب تو انابیہ نے بے فکری سے جواب دیا”
“اوکے اپنا خیال رکھنا اور آج میں گھر دس بجے آجاو گا، احد انابیہ کی پیشانی پر کس کرتا ہوا چلا گیا”

“انابیہ سب سے پہلے ہوسپیٹل گئ اور اپنا پلسٹر اتروایا انابیہ کی ٹانگ بلکل ٹھیک جڑی تھی اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور مارکیٹ چلی گئ”

“وہاں جاکر اس نے ریڈ اور اسکن کلر کا کام دار لہنگا لیا اور ساتھ میچنگ جولیری اور سینڈل لے کر بیوٹی پالر چلی گئ”
“اچھی سی تیار ہوکر انابیہ پالر سے نکلی تو رات کے نو ہوچکے تھے”
“انابیہ صبح ہی اپنے روم کو گلاب اور ستبرگے کے پھولوں سے ریکوریٹ کروچکی تھی”
“انابیہ گھر پہنچی تو سب اپنے اپنے رومز میں تھے، پونے دس کا وقت تھا، اور رات کو سب اپنے اپنے رومز میں ہی ڈنر کرتے تھے اسی لیے سب اس وقت روم میں تھے اور انابیہ کو دولہن کے روپ میں کسی نے نہیں دیکھا تھا”
“وہ اپنے کمرے میں آکر مرر کے سامنے اپنا براڈل روپ دیکھنے لگی بلاشبہ وہ تعریف کے لایق لگ رہی تھی”
“مرر کے سامنے سے ہٹ کر اس نے گھڑی پر وقت دیکھا تو دس بجے میں پانچ منٹ باقی تھے، اس نے ڈریسنگ کے سامنے پڑی پھولوں کی پتیاں اپنے بیڈ پر ڈالی اور اپنا گھنگھٹ نکال کر بیڈ پر بیٹھ گئ”
“انابیہ نے سوچا احد کو اس نے بہت تنگ کیا ہے، اب اسے اچھا سا سرپرائز دینا چاہے اور پھر اس نے یہ پلین بنایا اور آج اس پر عمل بھی کیا”

“احد جب اپنے روم میں داخل ہوا تو اپنے کمرے اور اس سے بڑھ کر دولہن بنی انابیہ کو دیکھ کر خوشی سے ساتوے آسمان پر جا پہنچا”
“وہ اپنی خوشی کو بغیر ظاہر کیے اپنی ٹائی کی نٹ ڑھلی کرتا اپنے بیڈ کی جانب بڑھنے لگا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: