Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 26

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 26

–**–**–

“احد آرام آرام سے قدم اٹھاتا انابیہ کی طرف بڑھ رہا تھا، اس کے قریب پہنچ کر احد نے غصے سے انابیہ کو دیکھ کر کہا یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟۔۔۔
“انابیہ جو کوئی مزے کا جملہ سنے کی توقع کررہی تھی احد کا سحت لہجہ سن کر پورا منھ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا”
“ایسا نہیں کہ ہماری انابیہ پرشان ہوگئ تھی، وہ بلا پرشان ہونے والی چیز ہے نہیں بلکہ پرشان کرنے والی بلا ہے”
” وہ احد کے فیس اکسپریشن دیکھ رہی تھی، اسے احد کا باظاہر غصے بھی اس کے فیس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا اور آنکھوں کہ دیپ یہ گوائی دے رہے تھے کہ سامنے کھڑے شحص کو اس وقت کتنی خوشی محسوس ہورہی ہے، انابیہ سمجھ گئ تھی وہ بس انابیہ کو ڈرا رہا ہے پر انابیہ کے شیطانی دماغ میں فورا یہ بات آئی کیوں نا احد کو بھی ڈرایا جائے اور اس نے اس پر عمل کیا”
“اووو ہیلو انابیہ نے احد کے سامنے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا، آپ کسی خوش فہمی میں ہیں احد شاہ یہ بناٶ سنگھار مینے آپ کے لیے کیا ہے اگر ایسا سوچ رہے ہیں۔۔ تو آپ غلط ہیں، مجھے دل کررہا تھا پھر سے دولہن بنے کا اسی لیے مینے یہ کیا سمجھے آپ اور یہ کہتے ہی انابیہ بیڈ سے اتری اپنا لہنگا سنبھلتی ڈریسنگ روم کی جانب پڑھنے لگی، تو احد کی مزاق ہوا کی طرح اڑ گئ”
“تمہیں کیا لگتا ہے کوئی لڑکا اتنا شریف ہوسکتا ہے، کہ اپنے بیوی کو دولہن بنا دیکھ کر اس کے حسن سے سراب ہوۓ بغیر اسے چھوڑ دے گا، احد نے جاتی ہوئی انابیہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھنچا تو وہ اس کے سینے سے جالگی”
“آپ بھی یہ ایکٹنگ کرنا بند کریں میں بھی جانتی ہوں آپ مزاق کررہے ہیں، انابیہ اس کے سینے پر مکے برساتی ہوئی پیار سے بولی”
“ہمم یعنی مجھ میری دولہن آخری مل ہی گئ۔۔ احد نے معنی خیزی سے کہا تو انابیہ کو شرم نے آ گھیرا۔۔
“اچھا آپ ڈنر کرلیں میں لے کر آتی ہوں آپ کے لیے انابیہ جانے لگی تو احد نے اس کی کلائی پکڑ لی، مجھے بھوک نہیں ہے کچھ ہلکا پھلکا کھانا کا جی چاہ رہا ہے، ہممم مجھے بھی کچھ ایسا ہی دل چاہ رہا ہے پھر کیا کھایے انابیہ نے کہا”
“ویسے کیا تمہارے خیال میں احد شاہ اتنا پاگل ہے کہ اپنی اتنی پیاری دولہن کو کچن میں جانے دے گا وہ بھی اس روپ میں احد نے انابیہ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انابیہ کی آنکھوں میں جھنکتے ہوا پوچھا”
“تو آپ بنایے گۓ کیا؟ انابیہ نے ناسمجھی سے کہا”
“نہیں تم رکو میں ابھی پیزہ آرڈر کرکے آتا ہوں”
“کچھ دیر بعد دونوں نے پیزے سے انصاف کیا اور اب دونوں اپنے بیڈ پر بیٹھے باتیں کررہے تھے”
“انابیہ آئی لو یو میری جان اور سائیڈ ٹیبل میں سے ایک باکس نکالا، احد نے باکس کھولا جس میں سے گولڈ کا نازک سا پریسلٹ نکلا جس میں ڈائمنڈ کے موتی جھڑے ہوۓ تھے، یہ رہا تمہارا منھ دیکھائی کا گیفٹ احد انابیہ کی کلائی پر پہناتے ہوا ساتھ ساتھ بتا رہا تھا”
” یہ تو بہت خوبصورت ہے، لو یو ٹو احد انابیہ احد کے گلے لگ گئ اور تھوڑی دیر پہلے جو احد نے لو یو کہا اس کا جواب دینے لگی”
“احد اب اس کی ساری ہاتھوں سے چوڑیاں اتار چکا تھا، پھر اس نے اس کی باقی کی جولیری اتار کر اب انابیہ کا دوپٹہ پنز سے آزاد کر کے سائڈ پر رکھ دیا… احد انابیہ کو خود سے قریب سے قریب تر کرکے اس کی گردن پر جھک چکا تھا اور انابیہ احد کی محبت اور پیار کی بارش میں بھیگتی رہی”
_____________________________________***
“آج ہما اور ثمر کی مہندی تھی سمیر نے ہوٹل میں فنکشن کا ارینج کیا تھا”.
“دونوں کی مہندی ساتھ ہی تھی”

“وہ مرر کے سامنے کھڑی خود کو فنکشن کے لیے تیار کررہی تھی، وہ میک آپ کو بس فائنل ٹچ دے رہی تھی تبی ایک ماہ کا مائز نے رونا شروع کردیا اوفو ایک اسی بھی ابھی جگنا تھا، مارخ میک آپ کو ادھر چھوڑ کر اپنے بیٹے کو اٹھنے بیڈ کی جانب بڑھ گئ”
“ارے ارے میرا بیٹا ۔۔ اپنی مما صدقے واری چپ ہو جاٶ، مارخ اسے فیڈ کروانے لگی، مائز کو وہ چپ کروا کر اٹھی تھی کہ خاشر روم میں داخل ہوا، مارخ جو ڈریسنگ کی طرف بڑھ رہی تھی خاشر نے اسے پکڑ لیا، خاشر چھوڑے مجھے تیار ہونا ہے، مارخ نے ہاتھ چھڑواتے ہوا کہا، پہلے میری پیاس بجھا دو خاشر نے اپنے ہونٹوں کی جانب اشارہ کیا، یار خاشر اب بڑے ہوجائے ایک بیٹے کے باپ ہیں، تو کیا بیٹے کے باپ ہونے سے بیٹے کے باپ کے جزبات بھی باپ ہوگے ہیں جو ایسا کہہ رہی ہوں، ساتھ ہی خاشر نے مارخ کو اپنی جانب کھنچا اور خاشر اپنی پسندید چیز ٹیسٹ کرتے ہوۓ مارخ کو چھوڑ دیا تو وہ دوبارہ تیار ہونے لگی گٸ”

“عروا نے جلدی جلدی شاور لیا اور باتگاٶن پہنے ہی باہر اگئ، ابھی وہ ڈریس چینج کرنا ڈریسنگ روم میں جانے ہی لگی تھی کہ شارق اپنے ہوسپیٹل سے واپس آیا، عروا ان دنوں نہیں جاتی تھی ہوسپیٹل کیوں کے اس کا ساتواں منتھ چل رہا تھا اور بچے بھی ڈاکٹر نے تین بتائے تھے، اس لیے شارق کے کہنے پر وہ گھر رہتی تھی”
“شارق نے عروا کو ڈریسنگ روم میں جاتا دیکھ لیا تھا، پر شارق کی نظر اس کی سفید پنڈلیوں پر ہی رک گئ، کیوں کہ عروا نے بات گاٶن پہنا ہوا تھا اور گاٶن عروا کے گھٹنوں تک ہی آتا تھا”
“عروا۔۔۔ شارق نے جاتی عروا کو بلایا”
“شارق میں ڈریس پہنا کر آتی ہوں، نہیں عروا پہلے میری بات سنو! ”
“جی شارق اس کے جسم پر برپور نظر ڈال رہا تھا، عروا کے نم بال اور پانی سے چپکا گاٶن شارق کے دماغ میں ایک آگ لگا چکے تھے”
“شارق عروا کو اپنی باہوں میں اٹھاتا بیڈ تک لایا، اور اس پر جھکتے ہوا بولا یار پہلے اپنے ہیسبنڈ کی تھکاوٹ تو اتار دو۔۔”
“شارق مینے ابھی شاور لیا ہے پلیز رات کو۔۔۔ نو بی بے دوبارہ شاور لے لینا ابھی اور شارق عروا کا منھ اپنے ہونٹوں سے بند کر چکا تھا”
“اپنی خواہش پوری کرنے کے بعد، شارق اب عروا کے پیٹ پر ہاتھ رکھے کہہ رہا تھا، عروا بیٹی کا میں نام رکھو گا اور بیٹوں کا تم رکھ لینا، اچھا جی کیا نام رکھے گۓ بیٹی کا؟
“شفان” اور اس کا مطلب کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب عروا شارق کے بال بگاڑتے ہوۓ بولی”
“شفان کا مطلب ہے ڈاکٹر صاحبہ شارق نے بھی اس کے انداز میں کہا، بارش میں چلنی والی ٹھنڈی ہوا”
“اووو اچھا اپنی ٹھنڈی ہوا کو سنبهلے ابھی دو منتھ باقی ہیں اور اٹھکر واشروم کی جانب جانے لگی، اوو بیٹوں کا نام تو بتاتی جاٶ، وہ بعد میں بتاو گئ اور عروا واشروم میں چلی گئ”
_____________________________________***
“انابیہ تیار ہوکر نیچے آئی وہ ہی لہنگا سنبھلتی جو اس نے احد کو سرپرائز دینے کے لیے لیا تھا، احد چلیں احد جو پیچھے ایک گھنٹے سے اس کا ویٹ کر رہا تھا اور انابیہ بیس منٹ بیس منٹ کہہ کر پورے گھنٹے بعد آئی تھی”
“میرے خیال میں. تھوڑا اور کرلو میک آپ کچھ کمی رہ گئ ہے، نہیں میں ٹھیک ہوں جس کے دل پر تیر چلانے ہیں وہ مجھ ایسے بھی دیکھ کر پاگل ہوجائے گۓ، انابیہ نے ادا سے اپنے سامنے آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوۓ کہا”
“انابیہ کے ایسے کہنے پر احد نے انابیہ کا پورا جائزہ لیا، اووو تو بڑا یقین ہے خود پر، جی کیوں نہیں اب چلیں، انابیہ احد کو بازو سے پکڑ کر باہر لے آئی”
_____________________________________***
“اسٹیج پر دولہا دولہن کو بیٹھایا جاچکا تھا، اور ہما اورنج اور گرین شرارے میں پیاری لگ رہی تھی اور اس کے برابر میں ثمر جو لائٹ گرین شلور کرتے پہنے تھا، دونوں بہت کیوٹ لگ رہے تھے”
” لڑکے بھنگڑا ڈال کر اور لڑکیاں لڈی ڈال کر اب ٹولیاں بنا کر بھیٹے ہوے تھے کیوں کہ اب لڑکیاں اور لڑکوں میں گانے کا مقابلہ ہونا تھا”
“خاشر کوئی بات کررہا تھا احد سے جب کہ احد کی نظر انابیہ کے طواف کررہی تھی، ابے زن مرید رات کو اسی کے باس ہوتا ہے جی پھر کے نہیں دیکھتا کیا یا ابھی تک اس نے قریب نہیں آنے دیا ہے، خاشر احد کو چڑاتے ہوا بولا”
“بکواس مت کر۔۔ اور پاس کیوں نہیں آنے دے گئ، بیوی ہے میری، احد نے واقع میں چڑتے ہوا کہا”
“ہاہاہاہاہاہاہا ایوے ہی۔۔۔ ورنہ ابھی تک مجھے چاچو چاچو کہنے والی والا آچکا ہوتا، خاشر بس کرئے گا یا نہیں؟؟
“نہیں کرتا بس جا جو کرنا ہے کرلے خاشر نے بےخوف ہوکر کہا”
“رک بیٹا بتاتا ہوں تجہے، احد اٹھ کر چلا گیا”

“سنے میڈم!! احد نے ویٹر لڑکی کو بلایا”
“یس سر میں آپکی کیا مدد کر سکتی ہوں؟؟
“مدد کچھ یوں ہے اور اس کے آپ کو پیسے ملے گے، یہ بات ہے کریں گئ میرا کام؟ احد نے ساری بات سمجھا کر اس سے جواب چاہا”
“اوکے سر میں کرو گی آپ وہ شحص بتادیں مجھے، لڑکی پانچ ہزار کا نوٹ دیکھ کر خوشی سے بولی، احد نے خاشر کی طرف اشارہ کیا جو دور کھڑا شارق سے باتیں کررہا تھا، احد کا اشارہ ثمر اور ہما نے بھی دیکھ تھا”

“خاشر آرام سے کھڑا فنکشن انجوائے کررہا تھا کہ ویٹر لڑکی پاس سے گزری اور اس کے کپڑوں پر کولڈرنگ گرگئ، س سوری سر لڑکی فورا بولی، کوئی بات نہیں اور خاشر واشروم کی طرف بڑھ گیا”
“خاشر واشروم گیا تو وہ وہاں واشروم کے باہر والے پورشن میں اپنے کپڑے صاف کرنا لگا۔۔۔
” لڑکی باہر ہی رک گی جب خاشر کپڑے صاف کرکے نکلنے لگا تو وہ لڑکی فورا اندر داخل ہوئی اور گرنے کی بھرپور ایکٹنگ کی جسے خاشر سچ سمجھتے ہوا اسے کمر سے تھام چکا تھا، خاشر اس سے یہ کہہ ہی رہا تھا کہ یہ لیڈیز ایریا نہیں یے، تبھی کلک کی آواز سنائی دی، خاشر نے سامنے دیکھا تو احد اسکی پیکس بنایے مسکرا رہا تھا”
“بیٹا یہ اب جائے گئ مارخ بھابی کے سامنے اور احد وہاں سے بھاگ کر مارخ کے پاس پہنچا اور مارخ کو پیکس دیکھا دی”
“اب ویسے بھی فنکشن ختم ہوچکا تھا اور گھر کے فرد ہی تھے، مارخ نے گود میں اٹھایا مائز زور سے خاشر کی گود میں دیا اور ڈرائيور کے ساتھ گھر چلی گئ، ماہی بات تو سنو یہ کمینہ جھوٹ بول رہا ہے، خاشر ماہی ماہی کرتا رہا پر وہ چلی گئ اور احد یہ سب دیکھ کر مسکرا رہا تھا، جیسے کہہ رہا ہو اب بگتو مینے کہا تھا نا پنگا لے مجھ سے، بیٹا بدلہ تو میں بھی تجہ سے ایسا لو گا کے تو یاد رکھے گا، اور خاشر روتے ہوے موئز کو چپ کرونا لگا جو ماں کی بغیر رو رہا تھا”
_____________________________________***
“آج ہما اور ثمر کی بارات تھی”
“ابھی نکاح نامہ پر ثمر سے سائن کروانے کے بعد اب ہما سے کروائے گے، ہما سائن کر کے خاشر کے گلے لگ کر روئی، احد نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور شارق نے بھی ہاتھ رکھتے ہوے دعا دی، اب دائم نے ہما کو گلے لگا کر بہت سی دعاوں دی..
“دائم مہندی پر نہیں آیا تھا، جس کی وجہ صرف ہما جانتی تھی، آج بھی سب دائم سے دانیہ کا پوچھ رہے تھے لیکن دائم نے کہا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ کراچی گیئ ہے اپنے باپ کے پاس، دانیہ نے ہانیہ اور اپنے باپ کو بھی یہ ہی بتایا تھا کہ وہ کچھ دن رکنے آئی ہے”
” دائم جانے لگا تو ہما نے اس روک لیا، بھیا بات سنے، ہاں گڑیا کیا بات ہے، دائم نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے پوچھا؟؟
“بھیا میری بات کو آپ فریش مائنڈ سے سوچے، دانیہ ماں بنے والی تھی ایسے میں آپ کی اور ان کی طلاق نہیں ہوٸی ہے، آپ پلیز انکو معاف کردیں اور گھر لے آئے، پورا خاندان آپ سے پوچھ رہا ہے اس لیے آپ انکو آج ہی بلوا لیں تاکے کل ولیمے پر سب کے اٹھتے سوال بند ہوں، لوگ طرح طرح کی باتیں کررہے ہیں، ممی بھی کہہ رہی تھیں، کہ دانیہ کیوں نہیں آئی جب کی ثمر اس کا بھی کزن ہے اور وہ ہمارے دائم کی بھی دولہن ہے”
“اس لیے آپ میری بات پر غور کریں میں کھبی نہیں چاہو گئ کہ آپ کا گھر خراب ہو، باقی آپ دانیہ کو سمجھ لینا مجھ یقین ہے اب وہ سدھر جائے گئ”
“گڑیا اس نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا، اس کے بعد میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا لیکن تمہاری بات کا پاس رکھتے ہوے میں اس پر سوچو گا، دائم نے ٹھنڈی آہ بھر کے جواب دیا، جو کافی دیر سے اس لڑکی کا ظرف دیکھ کر حیران رہ گیا تھا، دانیہ نے اس کے ساتھ کتنا برا کیا اور وہ پھر بھی دائم کا سوچ رہی تھی”

” ہما نے سلور کلر کی میکسی پہن رکھی تھی ثمر نے بلیک کلر کی شیروانی دونوں بہت کیوٹ لگ رہے تھے”
” کچھ دیر بعد ہما چودھری ہاوس سے رخصت ہوکر ملک ہاوس جاچکی تھی”

“ہما کی رخصتی کے بعد دائم جب گھر آیا تو ہما کی باتوں کو سوچنے لگا، کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے دانیہ کا نمبر ڈائل کیا، دوسری جانب سے فورا کال اٹھالی گئ، داٸم کچھ بولتا اس سے پہلے ہی دانیہ نے بولنا شروع کر دیا”
“دائم پلیز مجھ معاف کردیں، مجھ آپ سے دوری برداشت نہیں ہورہی ہے، مجھ اور آپکے بچے کو اپکی ضرورت ہے، پلیز صرف ایک بار موقع دے دیں اب کی بار میں کچھ غلط نہیں کرو گی پلیز دائم، دانیہ کی رونے کی آواز دائم کو سنائی دی”
“دانیہ میں تمہیں آخری موقع دو گا، اگر تم سدھر گئ تو ٹھیک ورنہ میں تمہیں اپنی زندگی میں ایک پل بھی نہیں رکھو گا، تھینکس دائم اس بار میں آپ کو اچھی والی دانیہ دائم بن کر دیکھوں گئ”
“,آپ کب آرہے ہیں مجھ لینے، نہیں میں نہیں آو گا ابھی کی فلائٹ سے واپس مری آجاو دائم نے روکھے لہجے میں کہا لیکن دانیہ کے لیے یہ بھی کافی تھا، وہ جلدی سے اوکے دائم میں ابھی نکلتی ہوں دو چار گھنٹے میں. پہنچ جاو گئ اور دائم نے کال کٹ کردی”

“ہما کو ثمر کے سجے روم میں لاکر بیٹھایا گیا”
“جیسمین اور پنک گلاب کے گلدستوں سے روم کو سجایا گیا تھا، ساری دیواروں پر بکے چپکے ہوے تھے اور ان پھولوں سے اٹھتی خوشبو انسان کو دیوانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی ، اس پر وہ سلور میکسی میں بیڈ پر بھیٹی پھولوں کا ہی حصہ معلوم ہوتی تھی”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: