Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 3

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 3

–**–**–

زین کے گھر سے جانے کے بعد بتول خانم نے ثمن سے پوچھا “کیا ہوا تمہيں” اور “کل سے کدھر تھی تم؟؟
اماں اور ساتھ ہی ثمن زور زور سے رونے لگی۔۔۔
اس کا اس طرح رونے سے بتول خانم اور زارا کو بہت کچھ سمجھنے پر مجبور کرگیا۔۔۔
ثمن اماں کی جان کچھ تو بتا نہ اور پھر ثمن نے باغ میں آم تورنے سے لیکر واپس شہر سے گھر آنے تک سب بتادیا۔۔
اور بتول خانم بھی اپنی بیٹی کی خاک میں ملی عزت کی میت پر بین کرنے لگی وہ دونوں ہی رو رہی تھی اپنے گھر کی عزت کے پامال ہونے کے دکھ سے اور ثمن اب ہوش و خراش سے بگانہ ہوچکی تھی۔۔۔
____________________________***
زین ان پانچوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ڈیرے سے باہر نکل رہا تھا کے سیدوں کا ملازم باتھ میں ناشتے کی پلیٹ اٹھ کر ڈیرے میں داخل ہوا۔۔
اس نے جب زین کے ہاتھ میں ریوارول دیکھی تو اس نے کہا ادب سے کہا خان جی آپ اور ادھر۔۔
زین نے بغیر ڈرے کہا جا اپنے مالک کے کفن دفن کا انتظام کر۔۔
اسے خانوں کی عزت کی طرف دیکھنے کی سزا ملی یے۔۔۔
اور زین ڈیرے سے باہر نکلا گیا۔۔
_________________________***
زین گھر میں داخل ہوا تو زین ماں کے گلے لگ کر رونے لگا اماں میں اپنی عزت کی خفاطت نے کرسکا مجھے معاف کردیں اماں،، زین روتے ہوۓ ماں کو کہ رہا تھا۔۔
اور بتول خانم اور زارا بھی زین کے ساتھ رورہی تھی۔۔ زین بچے تمہاری کیا غلطی میری ثمن کے نصیب میں ہی یہ لکھا تھا۔۔۔
پر اماں میں جابر شاہ اور ان کتوں کو دنیا سے مٹا دیا ہے اب ہماری عزت پامال کرنے والے بھی زندہ نہیں ہیں۔۔
_________________________***
شاہ جی شاہ جی ظلم ہوگیا ظلم ہوگیا
سیدوں کا ملازم بھاگتا ہوا شاہ حویلی میں داخل ہوا۔۔
ارے کیا ہوگیا غلامے بک تو سہی مجید شاہ نے غصہ سے ملازم کو جھڑکا
شاہ جی چھوٹے شاہ جی کا اور ان کے دوستوں کا قتل خانوں کے زین نے کردیا ہے۔۔
کیا بک رہا ہے غلامے شاہ جی تسی ڈیرے پر چل کر دیکھ لو۔۔
__________________________***
ثمن اب ہوش میں تھی اور اسے وہ سب یاد آرہا تھا جو رات اس کے ساتھ ہوا تھا..
ان پانچوں کا باری باری۔۔۔ اس سے آگے اس سے سوچا نہیں گیا۔۔ ثمن کو اپنا وجود ایک غلاظت کا ایک ٹکڑا لگرہا تھا۔۔۔
ثمن توُ تو برباد ہوگٸ ہے،، “کیا کرۓ گی تم اب ثمن تمہارا وجود ایک ناپاک جسم ہے۔۔ نہ تو کوٸی اب تمہیں اپناٸے گا نہ ہی تمہاری پہلے والی عزت رہی ہے۔۔ تو کیا سارے زندگی بدنامی کی زندگی جیے گٸ؟؟ اور اور لالا زین کیا وہ بھی میری عزت کے چلے جانے سے اب وہ سر اٹھا کر چل سکے گا بھی نہیں اسکا سر اب میرے جیتے جی اٹھ نہیں سلتا،، ثمن کے آنسو اسکے گلے میں جاکر غایب ہورہے تھے۔۔
لیکن میں اپنے لالا کا سر اونچا دیکھنا چاہتی ہو اور اس کے لیے مجھے میری جان دینی ہوگی تب ہی سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔
ثمن مشکل سے بیڈ سے اتری اور کچھ تلاش کرنے لگی۔۔ تب ہی اسکی نظر فروٹ کی ٹوکری میں پڑی چھری پر پڑی۔۔
اس نے چھری جلدی سے اٹھا لی اور بےدردی سے باری باری دونوں کلاٸیوں کو بہت گہرے کٹ لگاٸۓ اور بیڈ پر لیٹ کر اوپر اپنے کمبل ڈال لیا کے کسی کو کچھ نظر نہ آٸے۔۔
اور قطرہ قطرہ ثمن کے جسم سے خون نکل کر بیڈ کے میٹرس میں جزب ہو رہا تھا جیسے جیسے خون جسم چھوڑ رہا تھا ایسے ہی ثمن کے چہرہ ویران اور تاریک ہورہا تھا،، اور ثمن کی زندگی ختم ہورہی تھی۔۔
اللہ پاک سب مسلمانوں کو حرام موت سے بچایے۔۔لیکن کھبی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان مجبورن حرام موت کو چن کر زندگی سے رہاٸی حاصل کر لیتا ہے۔۔ اللہ پاک سب کا ایمان پر خاتمہ دے.. !آمین!
__________________________***
مجید شاہ اپنے جان سے پیارا بیٹے کو ایسی دردناک موت دیکھ کر خون کے آنسو رویۓ۔۔
ان پانچوں کو شہر اور جابر شاہ کی میت کو شاہ حویلی میں لایا گیا۔۔
شاہ حویلی میں جابر شاہ کی موت سے کہر بھرپا ہو چکا تھا ثروت بیگم کو غشی کے دورے پر رہے تھے،، جابر شاہ جیسا بھی تھا ان کا بیٹا اور بھاٸی تھا اس کے بھابی اور بھاٸی بھی رو رہے تھے۔۔
جابر شاہ کا بتجہ جازب شاہ کے بیٹے پر اپنے تایا کے موت کا برا اثر پڑا۔۔
مجید شاہ نے علاقے کے ایس ایچ او کو بتایا تھا کے زین کے قتل کردیا میرے بیٹے کا اور اسے سحت سزا دی جاۓ۔۔۔
_________________________***
ثمن ثمن میری جان یہ سوپ پی لو اماں جان نے بجوایا ہے،، زارا خانم نے ثمن کو پیار سے پکارتے ہوا کہا۔۔ پھر ثمن نے کمبل سے منھ باہر نہیں نکالا تو زارا نے کمبل ہٹا کر دیکھا تو اس کے پیرو کے نیچے سے زمین نکل گیٸ۔۔
زارا نے روز کی چيخ ماری اور زمین پر گرگیٸ۔۔
بتول خانم نے جب بہو کی زور کی چيخ سنی تو فوران ثمن کے کمرے کی جانب بھاگی ، گھر میں داخل ہوتے زین کو بھی بیوی کی آواز سنی تو وہ بھی ثمن کے کمرے کی جانب بھاگا۔۔
جب دونوں ماں بیٹا کمرے میں پہنچے تو ان کی صدمے سے برا حال تھا۔۔ کیوں کے ثمن بیڈ پر بے جان جسم کے ساتھ پڑی تھی ، اسے جسم میں ایک قطرہ بھی خون نہیں بچا تھا۔۔ چہرہ اس کا ہلدی کی طرح ہوچکا تھا اور ہونٹ کالے،
ثمن کی سفید بیڈ شیٹ اور اسکین کمبل خون سے بھر چکے تھے اور ثمن مردہ حال بیڈ پر لیٹی تھی۔۔
ان تینوں کی دردناک چيخوں اور رونے کی آواز سے اردگرد کے لوگ جمع ہوگے۔۔
ثمن کی موت کی خبر سارے گاٶں میں پھیل چکی تھی۔۔
ثمن کو پہلا غسل دے کر اس کی میت خان حویلی میں رکھی جاچکی تھی۔ اب سب عورتیں باری باری زارا خانم اور بتول خانم کے گلے لگ کر رو رہی تھی اور ان کے غم میں شریک تھیں۔۔
ارم اور سویرہ ثمن کی چارپاٸی کے ساتھ لگی بھیٹی تھیں اور زارہقطار رورہی تھیں انہے اپنی جان پیاری دوست کی ناگہانی موت کا بہت دکھ تھا۔۔۔
سب مرد بھی زین کو حوصلہ دے رہے تھے اور اس کے غم میں شریک تھے۔۔
ابھی شام کے پانچ کا وقت تھا اور ثمن کی نماز جنازہ کا وقت آٹھ بجے رکھا گیا۔۔۔
__________________________***
شاہ حویلی میں جابر شاہ کو مرے پانچ چھ گھنٹے گزر چکے تھے۔۔
اب نماز جنازہ کا وقت بھی ہوچکا تھا۔۔
ثروت بیگم کے بھی رو رو کر آنسو خشک ہوچکے تھے۔۔
اب جابر شاہ کا جنازہ اٹھ چکا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہی جابر شاہ منو مٹی تلے دفن ہوچکا تھا۔۔۔
آج مجید شاہ کا غرور تکبر مان اور شیر بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے انکو چھوڑ کر اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا، وہ کچھ نہیں کرسکے تھے۔۔ نہ ہی کسی میں اتنی ہمت ہے کے کوٸی کچھ کرسکتا۔۔
بےشک انسان کی آخری منزل قبر ہی ہے،، جب انسان کو آخر ادھر ہی آنا ہے پھر یہ تکبر یہ غرور، یہ سب کس لیے، اللہ پاک سب کو اچھے عمال کرنے کی توفیق دے آمین۔۔
________________________***
رات کے آٹھ بجے چکے تھے اور ثمن کی آخری آرام گاہ کا وقت ہوچکا تھا۔۔
ثمن کو نہلا کر آخری لباس یعنی کفن پہنا کر اسکو تیار کردیا گیا تھا۔۔
اب سب ثمن کی آخری منزل کے لیے دعا کررہے تھے۔۔
کے مولانا صاحب نے بولنا شروع کیا میری التماس یے تمام بھایوں سے کے مرحومہ کی میت کو کوٸی نا محرم ہاتھ نہیں لگاٸے۔۔
مرحومہ کا ہقیقی بھایٸ ایک ہی ہے تو اس لیے مرحومہ کے تایا،چچا، اور ماموں آگے آکر مرحومہ کی میت کو کندھ دیں۔۔
ثمن کے تایا چچا اور ماموں جو دوسرے شہروں سے آیے تھے انہوں نے ثمن کے جنازہے کو اٹھایا۔۔
کلمہ شہادت۔۔۔ کی صدا آیٸ اور جنازہ کو لیجایا گیا۔۔
_________________________***
آج شاہ حویلی کے سب افراد خاموشی سے بھیٹے تھے کسی کو نہ کچھ کھانے کی پروا تھی نہ سونے کی ایسے میں ثروت. نے بہو ثناء کو پکارہ بیٹا بچوں کو کھانا دو صبح کے بھوکے ہیں ثناء جی کہتی کچن میں چلی گیٸ۔۔
بیٹا کھانا کھلو ثناء نے بیٹے سے کیا ماما مجھے نہیں کھانا جب تک تایا جان کے قاتل سے بدلہ نہیں لےلوں جازب کا بیٹا پاٶں پٹھتے اندر چلا گیا۔۔
اور مجید شاہ کو اپنے جابر کی جھلک اس میں نظر آیٸ۔۔
وہ معصوم زہن بچا تھا پندرہ سال اتنے نہیں ہوتے کے وہ اپنے تایا کی بھی غلطی سمجھ سکھتا ، اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کے اس کے تایا نے کیا گھٹیا کام کیا تھا جس کی اسے سزا ملی تھی چھوٹی سی۔۔۔
________________________***
زین ابھی ہی آیا تھا ثمن کو منو مٹی تلے چھوڑ کر کے اس کا ملازم آیا۔۔
جان جی!
ڈی ایس پی اور پولیس آٸی ہے باہر ملازم نے اطلاح دی اوکے تم چلو میں آتا ہوں۔۔
زین یہ پولیس زارا نے تڑپ کر کہا ۔۔
بیٹا ہمارا کیا ہوگا اب بتول خانم نے بھی کہا۔۔
اماں جسے مینے قتل کیا وہ عام آدمی تو تھا نہیں پر میں جلدی آجاٶ گا۔۔
اب کی بار زارا خانم رونے لگی۔۔۔
جی ایس پی صاحب؟؟
زین علی خان ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔۔ ایس پی نے زین سے ہاتھ ملاتے کہا پر اوپر سے بہت سحت آوڈر ہیں، آپ کو ارسیٹ کا۔۔ ہمے مجبورن آپ کو اریسٹ کرنا پڑے گا نوکری کا مسلہ ہے۔۔
ہمم چلو ایس پی میں چل رہا ہوں۔۔
آج کا دن خان خاندان کے لیے بہت منہوس ثابت ہوا تھا آج کے دن ہی ان کی گھر کی عزت گیی، آج ہی ان کی جوان بیٹی کی موت ، اور آج کے دن ہی ان کا بیٹا اریسٹ ہوا تھا۔۔۔
___________________________***
شاہ جی آپ کا مجرم سلاخوں کے پیچھے ہے۔۔
ایس ایچ او نے مجید شاہ کو کال کرکے بتایا۔۔
شاہ جی یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کے وہ بھی کوٸی معمولی آدمی نہیں ہے۔۔ اس کا وکیل آیا ہے اور کل تک اس کی ضمانت ہوجاٸے گی۔۔ میں تو آپ کو اس لیے انفام کررہا ہوں کے آپ کچھ کرو۔۔
اوکے ٹھیک ہے ایس ایچ او
میں کچھ کرتا ہوں۔۔
شاہ جی آپ کیوں بھول رہے ہیں کے، پنچایت کی دستار (پگڑی) ابھی بھی آپ کے سر پر ہے۔۔
بہت اچھے ایس ایچ او اچھا مشورا دیا ہے۔۔
چلا ٹھیک ہے میں کرتا ہوں کچھ۔۔
غلامے او غلامے۔۔۔
مجید نے اپنے ملازم کو بلایا۔۔۔۔ جی شاہ جی آپ نے یاد کیا۔۔
جا جاکر سب پنچاہتیوں کو کل صبح دس بجے اگھٹے ہونے کا کہ آآ ۔۔۔ جی بہتر شاہ جی۔۔
_________________________***
دوسری صبح زین خان ضمانت پر واپس آگیا تھا کیوں کے اب فیصلہ پنچایت نے کرنا تھا،، زین علی خان کی رہاٸی میں سب پنچاہتیوں کا بھی ہاتھ تھا جو کے مجید شاہ کے علاوہ سب تھے ورنہ وہ بےشک جتنا پاورفل ہوتا چھ قتل کی سزا صرف سزٸے موت تھی۔۔
سب یہ بھی جانتے تھے کے زین علی خان برا لڑکا ہرگز نہیں اس نے جو بھی کیا غیرت میں کیا۔۔
اور اب دس بجے پنچاہت تھی۔۔
اللہ جانے پنچایت کون سے نیا باب کھولنے والی تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: