Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 4

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 4

–**–**–

گاٶں کے پرانے برگز کے درخت کے نیچے پنچایت لگاٸی جاتی تھی۔۔
اس وقت سب پنچاہتیوں کا انتظار سیدوں کا ملازم کررہا تھا، کیوں کے شاہ حویلی قریب ہی تھی جب سب پنچاہیتی آجاتے تب سید مجید شاہ نے تشریف لانی تھی کیوں کے وہ پنچایت کے سربراہی پگڑی کے مالک تھے۔۔
جی تو دس بجنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے کے سب پنچاہیتی اپنی اپنی پگڑیاں اور چادروں کو سنبهالتے ہوۓ۔۔
چارپایوں پر برجمان ہوۓ، زین علی خان بھی اپنے گارڈز کے ساتھ آیا تھا پر زین نے گارڈز کو پنچایت کی چاردیوری سے باہر رکنے کا کہا اور خود اندر آیا،،
سید مجید شاہ بھی سربراہی پگڑی سنبهالے اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔۔
گاٶں کے ایک اور شاہ صاحب نے بولنا شروع کیا جو کے پنچایت میں سے ہی تھے۔۔
جیسے کے سب بھایوں کو پتہ ہے کہ یہ پنچایت کس مقصد کے لیے لگاٸی گٸ ہے۔۔
ہماری بچی زین علی خان کی بہن کو پامال کردیا گیا جو کے زین علی خان کے مطابق اور ہماری بچی مرحومہ کے مطابق سید جابر شاہ مرحوم نے کیا ہے،، سید جابر شاہ نے بھی غلطی کی اور زین علی خان نے بھی غلطی کی چھ قتل کر ڈالے، پر ادھر سب ہی جانتے ہیں زین علی خان کیسا لڑکا ہے اس نے جو بھی کیا غلط کیا لیکن اپنی غیرت میں کیا۔۔
اب ہم یہ فیصلہ انصاف سے کرنا چاہتے ہیں اس لیے بڑے احترام کے ساتھ سید مجید شاہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پنچاہیتی دستار چودهری امان دین کو سونپ دیں اس فیصلہ کے ہوجانے تک۔۔
مجید شاہ کے وہمگمان میں بھی نہیں تھا کے ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ پر اب مجبورن انکو دستار دینی پڑی۔۔
چودھری امان دین کو پگڑی دے دی گٸ۔۔
چودھری امان دین نے بولنا شروع کیا۔۔
میرے خیال میں دونوں مسلوں کو مدنظر رکھتے ہوے،، ثمن بیٹی کے ساتھ غلط کیا جابر شاہ نے اور زین خان کو بھی قتل جیسا سنگين جرم نہیں کرنا چاہے تھا۔۔
اس لیے پنچایت اس کا یہ فیصلہ کرتی ہے کے زین خان کی بیٹی کو ونی کردیا جاۓ،، جازب شاہ کے بیٹے سے۔۔۔
چودھری امان کچھ اور بھی کہہ رہۓ تھے پر زین نے زوردار آواز میں کہا۔۔
بس چودھری صاحب بس اک لفظ نہیں آگۓ مجھے پنچایت کے اس فیصلے سے انکار ہے۔۔
اب سیدوں کی جانب سے بھی سب بولنے لگے۔۔ پھر ہم خون کا بدلہ خون سے لیگے بس۔۔
دونوں خاندانوں کو سکون سے بیٹھنے کا کہا گیا۔۔
اگر تم دونوں خاندانوں کو پنچایت کا فیصلہ قبول نہیں۔۔
میں مرنا پسند کرو گا پر دشمن کے گھر بیٹی نہیں دوگا۔۔
تو تم دونوں خاندانوں کو گاٶں ہمیشہ لیے چھوڑ کر جانا ہوگا۔۔
اور باہر تم لڑ مرو ہمے کچھ لینا دینا نہیں۔۔
چودھری امان نے غصہ سے کہا۔۔
او چپ اوۓ۔۔
سید مجید شاہ نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔۔
تم سب کو کس نے کہا ہمے پنچایت کا فیصلہ قبول نہیں۔۔
مجید شاہ نے اپنے خاندانوں والوں کو غصہ سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
ایک عمر گزری ہے میری پنچایت کے فیصلے کرتے ہوۓ۔۔ اور سب میرے فیصلے مانتے ہیں، تو بلا میں خود اس فیصلے سے یا کوٸی بھی اس فیصلے سے کیسے انکار کر سکتا ہے۔۔
چودھری امان دین آپ اپنا فیصلہ سناٸے ہماری طرف سے ہاں ہے آپ کے سب فیصلے۔۔
ہاں تو زین علی خان تم بتاٶ۔۔
مجھے انکار ہے چودھری صاحب۔۔
دیکھ زین خان ہم تمہیں وقت دیتے ہیں کل تک کا سوچ سمجھ کر بتا۔۔
بھایوں کل تک کے لیے پنچایت برخاصت کی جاتی ہے،، اور سب پنچاہیتی ادھر سے چلے گے۔۔
___________________________***
بتول خانم ثمن کے کمرے میں بھیٹی رو رہی تھی اس کی تصویر دیکھ دیکھ کر۔۔
زین کمرے میں آیا اور بتول خانم سے فریم لیکر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔۔
اماں جان خود کو سنبهلے آپ کی ضروری ہم سب کو بھی ہے پلیز سنبھلے خود کو وہ دیکھے بچے کتنے پرشان ہیں،، زین نے اپنی آٹھ سالہ بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔
زین کی بیٹی اتنی سمجدار تو تھی کے اسے یہ بتایا گیا تھا کے پھپھو کو قتل کردیا گیا ہے۔۔ اور اسے بھی اپنی پھپھو کے قاتل سے بدلہ لینا ہے۔۔ وہ معصوم یہ سب باتیں تو نہیں سوچ سکتی تھی بلکہ وہ یہ سوچتی تھی کے جس نے اس کی پیاری پھپھو کو اس سے دور کیا ہے وہ اسے بہت مارے۔۔
اچھا زین بچے کیا بات بنی پنچایت کی اماں جان بچی کو ونی کرنے کا کہ رہے ہیں اور میرے منع کرنے پر سیدوں کے خون کے بدلے خون کی دہمکی دے رہے ہیں ۔۔
کمرے میں آتی زارا خانم تو تڑپ اٹھی زین کے خون کا سن کر،، زین زین پلیز پلیز بچی کو ونی ہی کردے پر اگر آپ کو سیدوں کے لوگوں نے کچھ کردیا تو کیا ہوگا۔۔ وہ ایک بیوی بن کر کہہ رہی تھی ورنہ کون ماں چاہتی ہے اس کی بیٹی دشمن کے گھر جاٸے۔۔
زین بیٹا زارا ٹھیک کہتی ہے تم مان لو بیٹا اس فیصلے کو۔۔
آپ دونوں پاگل ہوچکی ہیں کیا میں اپنی بیٹی کبھی سیدوں کو نہیں دوگا۔ اس سے تو بہتر ہے میں سیدوں کے ہاتھوں قتل ہوجاو۔۔
اور زین غصہ سے گھر سے باہر نکلا گیا۔۔
__________________________***
۔
میں سید مجید شاہ بات کر رہا ہوں۔۔
بات کرواں میری جمشید سے۔۔
جمشید کیا بنا کام کا۔۔
شاہ جی آپ کا انعام مل گیا ہے اور بےفکر رہے کام ہو جایۓ گا۔۔
جمشید خیال رکھنا آدمی شہر کے ہونے چایے ورنہ سارا شک مجھ پر جاٸۓ گا،، آپ فکر ہی نہ کریں۔
اوکے اور وہ بچنا نہیں چاہے۔۔
اوکے شاہ جی۔۔
اوکے رب رکھا۔۔
____________________________***
زین گھر سے نکل کر ڈیرے پر پہنچا۔۔۔
اسلام خان جی۔۔
سب ملازم سلام کرنے لگے کھڑے ہوکر۔۔
امین ، رحمان ، حیات ۔۔
زین نے تینوں ملازموں کو بلایا۔۔ جی خان جی۔۔
وہ نہر والے باغ میں کچھ کام ہے تو تینوں آدمی لیکر جاو اور اپنی نگرانی میں کام کروانہ جی بہتر خان جی۔۔
وہ کہتے باہر نکلا گے۔، ایسے ہی باقی سب کو بھی زین نے کام پر لگا دیا۔۔
اور گارڈ اس وقت دو ہی تھے ۔۔
ایک گارڈ کو زین نے گھر سے کھانا لے آنے کا کہا کیوں کے زین نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اور اب اس کا گھر جانے کا موڈ نہیں تھا۔۔۔
زین کا گھر بیس منٹ کی دوری پر تھا ابھی تیس منٹ ہوچکے تھے یعنی گارڈ کو پہنچھنے میں دس منٹ تھے۔۔
دس بارہ آدمی شہری حلیۓ میں زین کے ڈیرے پر پہنچے،، جو گارڈ تھا اسے کسی طرح چار پانچ نے کابو کیا کیوں کے اس کے پاس گن تھی۔۔
اور دو چار باہر دروازے کے پاس رکے اور دو تین اندر چلا گے اور زین اپنے دھیان میں تھا کے ایک گولی اس کے بازو پر لگی ابھی وہ سمبھلا بھی نہ تھا کے دو اور گالیاں ایک پیٹ میں اور ایک کندھے پر لگی اور زین کی آنکھوں کے آگے اندھرہ چاہ گیا۔۔
اب ان آدمیوں نے گارڈ کی ثانگ پر گولی ماری اور فرار ہوگے۔۔۔
جب گارڈ کھانا لے کر پہنچا تو اپنی ساتھی کو زخمی دیکھ کر اسے سہارا دیکر چارپاٸی پر لایا رحمت یار مجھے چھوڑ خان جی کو گولیاں لگی ہیں جلدی کر خان جی کو جلدی سے ہسپتال لے کرجا جلدی کر۔۔۔
رحمت گاڑی لیکر آیا اور پہلے زین خان کو گاڑی میں ڈالا اور پھر زخمی گارڈ کو ڈالا۔۔
پھر اس نے آمین کو کال کی امین شہر جانے والی سڑک پر آجا خان صاحب کو گولیاں لگی ہیں اور رحمان کو حویلی بج دے اطلاع دینے۔۔
یہ تم کیا بول رہے ہو رحمت میں ٹھیک کہ رہا ہوں آمین مینے جو کہا وہ کر اچھا میں سڑک پر پہنچا رہا ہوں۔۔
___________________________***
بی بی جی بی بی جی۔۔۔
خان صاحب کو گولیاں لگی ہیں۔۔
آمین اور رحمت انکو ہسپتال لے کر جا رہے ہیں۔۔
کیا بتول خانم دل تھام کر بھیٹگی۔۔
کمرے سے باہر آتی زارا نے جب بات سنی تو دل پر ہاتھ رکھ کر بولی یا اللہ حیر۔۔۔
اماں میں ہسپتال چلی جاو رحمان کے ساتھ،؟ اس نے پڑپ کر پوچھا۔۔
ہاں چلی جاو میں گھر ہی ہوں بچوں کے پاس تو جاو اور جاکر مجھے حیر خبر دینا جی اماں۔۔
رحمان گاڑی نکالو۔۔
جی بی بی جی۔۔
زارا خانم چادر لیکر ہسپتال کے لیے نکل گٸ
_____________________________***
اسلام و علیکم شاہ جی آپ کا کام ہوگیا۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔
اب جب تک میں کال نہ کرو تب تک ادھر کال نہیں کرنا۔۔
بہتر شاہ جی۔۔
شاہ جی زین علی خان کو کسی نے گولیاں ماری ہیں اور اسے زخمی خالت میں ہسپتال لے کر گے ہیں۔۔
غلامے نے آکر اطلاع دی۔۔
کس نے ماری گولی خان کو۔۔ مجید شاہ نے بظاہر سنجيدگی اپناتے ہوۓ پوچھا۔۔
شاہ جی سنے میں آیا یے کہ شہری لوگ تھے۔۔
اوو اچھا۔۔
جاو تم۔۔
اور غلام بحش چلا گیا۔
اور مجید شاہ کے چہرہ پر فتح جیت کی خوشی تھی۔۔
___________________________***
بتول خانم جانماز پر بھیٹے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک اپنے رب سے مانگ رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوٸی۔۔
کون؟؟ بتول خانم نے ادھر سے ہی پوچھا, بی بی جی چودھری امان دین اور خان نواز، ابرہیم خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔
اکرم ملازم نے بتایا۔۔
اچھا سب کو بھیٹک میں بٹهاوں میں آتی ہوں۔۔
اچھا بی بی جی۔۔
اسلام و علیکم بھابی جان، بتول خانم بھیٹک میں داخل ہوٸی تو نواز جان اور ابرہیم خان نے کہا یہ دونوں انکی برادری میں سے تھے دور پار کے رشتدار تھے۔۔
و علیکم اسلام آپ سب ٹھیک ہیں۔
دعا سلام کے بعد۔۔
ہم کسی خاص مقصد کے تحت آٸے ہیں۔۔۔
جی بولیں۔
بات دراصل یہ یے کہ ہمے لگتا ہے یہ حملہ بھی زین بیٹے پر مجید شاہ نے ہی کروایا ہے۔۔ پر اس بات کا ہمارے پاس کوٸی گواہ یا ثبوت نہیں ہے،، اس لیے ہم زین خان کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔۔
پر بھابی آپ سے گزارش ہے کہ پنچایت کا فیصلہ ہولینے دیں ورنہ ایسا نہ ہو زین خان کو سیدوں کے کچھ کردیں۔۔ آگے آپ خود فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہیں۔۔
شام میں پنچایت ہے آپ خاصر ہو جاٸے گا۔۔
اب ہمے اجازت دیں،
” رب رکھا”
اور تینوں باہر نکلا گے۔۔
____________________________***
ہوسپیٹل کے کوریڈور میں زارا خانم پرشانی سے ٹہل رہی تھی۔۔۔
ڈاکٹر باہر نکلا۔۔۔
ڈاکٹر زین اب کیسے ہیں؟؟ زارا نے بےقراری سے پوچھا۔۔
آپ کون ہیں پیشنٹ کی؟؟
جی میں بیوی ہوں انکی۔۔
دیکھے ان کو تین گولیاں لگی ہیں۔۔
یہ موجزہ ہی لگتا ہے کے ان کو تین گولیاں لگی پھر بھی وہ بچ گے۔۔۔
اب وہ خطرہ سے باہر ہیں، لیکن ابھی تین چار دن اور ہوسپیٹل ہی رکھنا ہوگا۔۔۔
“اسلام و علیکم”
اماں زین اب خطرہ سے باہر ہیں، آپ پرشان نہیں ہوں،،
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔
زارا بچے ایک بات کرنی تھی تم سے۔۔۔
جی اماں جی میں سن رہی ہوں۔۔۔
ابھی پنچایت بھی ہے اور دن کو ابرہیم خان، نواز جان، چودھری امان دین کے آنے کا مقصد اور یہ بھی بتایا کہ انہے لگتا ہے یہ سب سیدوں نے کروایا تو اب ہم پنچایت کا فیصلہ قبول کرنے چایے۔۔۔
اماں مجھے میرا سوہگ سے آگے کچھ نہیں آپ ونی کردیں۔۔
زین کے گھر آنے سے پہلے پہلے۔۔۔
اچھا میں چلتی ہوں پنچایت کا وقت ہوگیا ہے۔، اللہ حافظ اماں۔۔
زارا خانم نے روتے ہوۓ فون رکھ دیا۔۔۔
___________________________***
اب پنچایت اپنا فیصلہ سناتی ہے،،۔
جازب شاہ کے بیٹے کے ساتھ زین علی خان کی بیٹی کا نکاح کل دن کو رکھا جاتا ہے ،، پر رخصتی لڑکی کے اٹھارہ سال کی عمر میں ہوگی۔۔۔
دوستوں “ونی” وہ رسم جو پرانے وقتوں میں ہوتی تھی۔۔
قتل کے جرم میں قاتل کو سزا کے طور پر اس کی بہن یا بیٹی مقتول کے گھر والوں میں سے کسی بھی مرد سے جو کنوارا ہو ونی کردیا جاتا ہے،، بھاٸی، بیٹا، بتہجا، کسی سے بھی اس مرد کی عمر چاہے بیس سال ہو چاہے اسی سال،لڑکی بےشک کم عمر ہو جب وہ اٹھادہ سال کی ہوتی ہے تب اسے اس انسان کی ساتھ رخصت کردیا جاتا ہے، چاہے اس وقت مرد کی عمر اسی سال بھی ہو اٹھادہ سالہ لڑکی کو ونی کے تحت اس کے ساتھ رخصت کرنا پڑتا ہے۔۔
نکاح اسی وقت ہوجاتا ہے جب پنچایت فیصلہ سناتی ہے۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: