Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 5

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 5

–**–**–

آج زین کو ہوسپیٹل میں دوسرا دن تھا لیکن زین کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا، زارا خانم بہت پرشان تھی اپنے ہم سفر کے لیے اور ساتھ ساتھ اسکی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو تھی۔۔
زارا خانم پرشان حال زین کے سرہانے بھیٹی درود تنجینا کا ورد کررہی تھی،
کمرے میں ڈاکٹر آیا، کیسی طبیعت ہے ان کی اب؟؟ ڈاکٹر نے زارا سے کہا۔۔
ڈاکٹر صاحب کل سے ایسے ہی ہیں ہوش میں نہیں آٸے۔۔
انکو وہکنس ہی بہت ہوچکی ہے ان کا بلڈ پہت ضایع ہوچکا پے اس لیے انکو وہکنس ہے، جس کے باعث ہوش میں نہیں آرہے ، ڈاکٹر نے زین کو ڈریپ لگاتے ہوۓ کہا، پرشان مت ہوں مینے ڈریپ لگا دی ہے انشالللہ شام تک ہوش میں آجاٸے گۓ، ڈاکٹر کہتا ہوۓ باہر نکلا گیا۔۔
____________________________________***
دادو اماں میں اکیلا سکول کیوں جارہا ہوں، آج آپی کیوں نہیں جارہی، زین کے سات سالہ بچے نے معصومیت سے اپنی دادی سے سوال کیا،
بچے آپی کی آج گڑیا کی شادی ہے نہ اس لیے آپی نہیں جارہی آپ جلدی جاٶ، لیٹ ہو رہے ہو سکول سے،، بتول خانم نے اسے پیار سے سمجھتے ہوۓ سکول بجھوا دیا۔۔۔
دادو اماں میری گڑیا کی شادی ہے آج؟؟
زین کی بیٹی آنی نے کہا،، جی میری چندہ آج میری گڑیا کی بھی شادی ہے، معصوم آنی نے اس بات کو اگنور کردیا کہ دادی کی گڑیا تو وہ خود ہے۔۔
دادو اماں میری گڑیا آج شادی کرکے اپنے گڑے کے ساتھ چلی جاٸے گٸ مجھے چھوڑ کر آنی اپنے گڑیا کو سینے کے ساتھ لگتی ہوٸی بولی، نہیں چندہ آج نہیں جارہی گڑیا،۔
بیگم صاحبہ ہسپتال سے جھوٹی بیگم صاحبہ کا فون ہے، ملازم نے آکر بتایا۔۔
اور بتول خانم فون سنے چلی گٸ۔۔
اسلام و علیکم’
اماں جی۔
و علیکم اسلام زارا بچے زہن کیسا ہے؟؟.
اماں اب تک ہوش میں تو نہیں آٸے ہیں ، پر ڈاکٹر نے ڈریپ لگاٸی ہے اور ان کا کہنا ہے شام تک ہوش میں آ جاٸے گۓ۔۔
اللہ پاک بہتر کرۓ گا۔۔
اماں پنچایت کا کیا فیصلہ ہوا؟؟
بچے آج نکاح رکھا ہے پنچایت نے اگر تمہاری اجازت ہو تو کر دو۔۔
اماں مجھے میرے سوہاگ سے آگۓ کچھ نہیں۔۔
اور ویسے بھی بہنے اور بیٹیاں باپ بھایوں پر قربان ہوتی آٸی ہیں،
ہماری ثمن نے بھی تو بھاٸی کی عزت کی خاطر جان دے دی کے اس کا بھاٸی سر اٹھا کر جی سکے، اسے پتہ تھا اگر وہ زندہ رہی تو اس کی عزت کے تانے دے دے کر اس کے بھاٸی کو جینے نہیں دے گۓ اس لیے اس نے اپنی جان کی پروا نہیں کی اور دے دی جان اپنی،،
میری آنی بھی اپنے باپ پر قربان سمجھ کردیں اسے ونی دے دیں اسے دشمن کے گھر کر دیں اس کا نکاح دشمنوں میں۔۔
اور زارا خانم نے روتے ہوۓ فون رکھ دیا۔۔۔۔
____________________________________***
خان حویلی کے سامنے پنچاہیتی آجاتے نظر آۓ۔۔
سب پنچاہتیوں کو خان حویلی کے گارڈن میں بٹھایا گیا۔۔
خان ابرہیم نے بتول خانم سے نکاح کی اجازت چاہی جو بتول خانم نے سر ہاں میں ہلا کر دے دی اور گڑیا سے کھیلتی آنی پر سرخ دوپٹہ ڈال دیا۔۔
اور جازب شاہ کے بیٹے کے ساتھ زین خان کی بیٹی آنی کا نکاح کردیا گیا۔۔
کچھ ہی لمحے بعد وہ معصوم شاہ خاندان کی بہو بن چکی تھی، اس آٹھ سالہ کم عمر بچی کو عمر سے بڑا بندھن میں بندھ چکے تھے۔۔
نکاح کے بعد بتول خانم نے آنی کو سینے سے لگا کر بہت روٸی میری بچی اگر تیرے باپ کی زندگی کی بات نہ ہوتی تو ہم تمہیں کبھی اس آگ میں نہیں جھونکتے۔۔
پر زارا خانم اور بتول خانم کو کون سمجھتا کے جس باپ کے لیے ان دونوں نے آنی کو شاہ حویلی کی بہو بنایا یے، اس باپ کو سید مجید نے پھر بھی نہیں چھوڑنا تھا۔۔
____________________________________***
ہاہاہاہاہاہاہا بابا ساٸیں وہ میری بیوی بن چکی ہے سنی شاہ کی ہاہاہاہاہاہاہا پندرہ سالہ نا سمجھ بچے میں ایک بڑے مرد کا انتکام بول رہا تھا۔۔۔
سنی شاہ کو اسکی معصوم منکوحہ جسے اس نے دیکھا تک نہیں تھا شدید نفرت تھی بلکے پورے خان خاندان سے،
اب میں خانوں کو بتاٶ گا کسی اپنے کے کھونے کا درد کیا ہوتا ہے،، اسے بلاشبہ یہ سب مجید شاہ نے اس ناسمجھ بچے کا زہن گندہ کیا تھا۔۔
دیکھے وقت سنی شاہ کے دل میں کیا ڈالتا ہے۔۔
____________________________________***
زین گھر آچکا تھا، زارا خانم اور بتول خانم نے ابھی تک زین کو آنی کے متعلق نہیں بتایا تھا، آنی باہر اپنی دوستوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ ردا نے کہا، ارے آنی تمہاری تو شادی ہوگٸ ہے، نہیں وہ تو میری گڑیا کی شادی تھی۔ آنی نے حیرت سے منھ کھولتے ہوۓ کہا۔
نہیں میری ماں نے بتایا کے آنی کی شادی ہوچکی یے۔ آنی روتے ہوۓ، گھر میں داخل ہوٸی تو گھر سے باہر ںکلتے زین سے لپٹ کر رونے لگے۔۔
کیا ہوا بچے آنی بچے کیا ہوا زین نے آنی کو چپ کرواتے پوچھا۔۔
بابا ردا کہتی ہے تیری شادی سنی شاہ سے ہوگٸ ہے اور آنی نے پھر سے رونا شروع کر دیا۔۔
زین کی پیشانی پر لا تعداد بل پڑ چکے تھے، اس اب اپنی بیوی اور ماں پر شدید غصہ آرہا تھا اور اس اب ان دونوں کا زین سے نظر نہ ملانہ سمجھ آیا۔۔ پر اس وقت آنی کے سامنے وہ خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوۓ بولا ارے میری رانی بیٹی تمہاری سہیلی نے تم سے مزاق کیا ہوگا اتنی سی بات پر رونے لگی۔۔ سیچ بابا وہ مزاق کر رہی تھی، جی بچے۔ بابا مینے شادی نہیں کرنی ہے ، میری ٹیچر کی شادی ہوٸی وہ اپنے بابا ماما کو چھوڑ کر چلی گٸ۔
پر مینے اپنے مما بابا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا اور آنی زین کے گلے لگ گٸ۔۔۔
اماں جان۔۔۔۔
زین نے بتول خانم کو پکارا۔۔
جی زین بچے، اماں آپ نے کس کی اجازت سے میری بیٹی ونی کی زین چہرہ پر سحت تاٹر لاتے ہوۓ پوچھا، زین نے آج تک بتول خانم سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی ، لیکن آج اس کی بیٹی کی زندگی کا سوال تھا تو وہ چپ کیسے رہتا، زین اماں جی نے مجھ سے پوچھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ زارا خانم نے جب بتول خانم کا سر جھکا دیکھا تو کہا، تم کون ہوتی ہو میری بیٹی کی زندگی کا فیصلہ کرنے والی؟؟، زین نے زارا خانم کے بازو کو سحتی سے پکڑ کر کہا، میں ماں ہوں آنی کی،، ماں ایسی ہوتی ہے ماں جو اپنی بیٹی کو دھوہ پر لگا کر خوش ہے ہاں، زین نے اونچی آواز میں کہا، زین اب دشمنی تو ختم ہوچکی ہے نہ اور یہ سب ہم دونوں ساس بہو نے آپ کی زندگی کے لیے ہی تو کیا، لیکن ابھی بات زارا خانم کی پوری نہیں ہوٸی تھی کے زین کے تھپڑ نے اس کا منھ بند کر دیا زارا کو زین سے ایسی توقع نہیں تھی تبی زین کو خیرانگی سے دیکھنے لگی، زارا میں ایسی زندگی پر لعنت بیجتا ہوں اور دوسری بات زندگی اور موت صرف خدا کی زات کے ہاتھ میں ہے سیدوں کے ہاتھ میں نہیں، اور زارا اپنی شکل بھی مت دیکھنا مجھے اور اماں آپ بھی مجھ سے بات مت کیجے گا، اور زین غصہ سے باہر نکلا گیا۔
____________________________________***
کرکٹ کھیلتے لڑکوں جن میں سنی شاہ بھی تھا، ارے سنی سنا ہے تیرا نکاح ہوگیا یہ اٹھادہ سالہ لڑکا تھا۔ ہاں ہوگیا تو، یار خانوں کی لڑکیاں بہت زبردست ہوتی ہیں،، یہ کہنا ہی تھا کہ سنی نے اس کا گلبان پکڑ لیا اوے سالے سن اس گھر سے سنی شاہ کا گہرا رشتہ ہے آنیدہ خیال رکھنا، سنی شاہ تھا ہی ایسا وہ شروع سے اپنے سے جڑی ہر چیز اور بات کے لیے ایسا ہی تھا، یا شاید یہ جازب کے خون اور ثناء کے تربیت کا اثر تھا کہ وہ جابر شاہ جیسا بلکل نہیں تھا،، پر مجید شاہ اسے اپنے اور جابر شاہ جیسے بنانا چاہتے تھے۔۔
پر ہم نے تو سنا ہے کہ تیرا نکاح صرف بدلہ کے لیے کیا گیا ہے، اس لڑکے نے گلبان چھڑتے ہوۓ کہا، تمہیں کہا نہ چاہے جس کے لیے بھی نکاح کیا اس گھر کی عورتوں کے بارے میں میرے سامنے بکواس نہ کر اور سنی شاہ اپنی حویلی کی جانب چلا گیا۔۔
___________________________________***
زین کافی وقت ناراض رہا زارا خانم سے پر محبوب بیوی ہو تو بندہ کب تک ناراض رہتا ہے بلا آخر کار زین کو منانے میں زارا خانم کامیاب ہوچکی تھی اور بتول خانم نے تو کب سے بیٹے کو منا لیا تھا۔۔
زین علی خان آنی کی طلاق چاہتا تھا پر اس کے بڑوں نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا۔۔
ایک وجہ یہ کہ ہماری بیٹیاں کبھی طلاق جیسا داغ نہیں لگواتی اور دوسرا یہ کے پنچایت فیصلہ سے انکار کرنا بےقوفی تھی ، اس لیے زین نے بھی اب آنی کے نکاح کو لیکر یہ ہی سمجھ لیا تھا کہ یہ ہی اس کی قسمت میں تھا اور دوسرا زین خان کو کیا پورے گاٶں کو پتہ تھا کے جازب شاہ اور اس کی بیوی کتنے اچھے انسان تھے، اس لیے زین مطمئن تھا کے سب اچھا ہو گا۔۔
_____________________________________***
مجید شاہ کل سے شہر گۓ تھے۔۔
اسلام و علیکم شاہ جی کیسے مزاج ہیں آپ کے۔۔
جمشید نے مجید شاہ سے ہاتھ ملاتے ہوۓ پوچھا۔۔
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ جمشید اتنے بےکار آدمی بیجھے جو اس کو ختم ہی نہیں کرسکے،، شاہ جی اسے اللہ نے رکھا ہے ورنہ میرے آدمیوں نے کمی نہیں چھوڑی تھی۔۔
اچھا جو بھی اب اس بار جب بھی وہ شہر آیا تو بج کر نہیں جانا چایے تو نہیں جانتے میں کیسے برداشت کررہا ہوں وہ میرے شیر بیٹے کو موت کی نیند سلا کر خود سکون سے جی رہا ہے،،
اوکے شاہ صاحب اس بار وہ بچ کر نہیں جاسکے گا۔۔
لیکن رکھے اس بار جمشید نے یقین دہانی کرواٸی۔۔
چل ٹھیک ہے دیکھتے ہیں اب بار بھی مجید شاہ نے مسکرا کر کہا۔۔
شاہ جی ایک کرم نوازی کردیں، پیسے کی تم فکر نہ کر ، منھ بولے دام دوگا، ارے نہیں نہیں شاہ صاحب وہ مجھے پتہ ہے آپ ہمیشہ خوش کرتے ہیں ۔۔۔
بات کچھ اور ہے،، ہاں بول شاہ جی مجھے اپنا گینگ چایے۔ جمشید نے کہا۔۔ چل یہ کام ہو جاۓ گا تیرا۔۔
اب میں چلتا ہوں جب وہ شہر آیا تو تمہیں بتا دو گا۔۔
____________________________________***
زین رات کو سونے بیڈ پر لیٹا تھا زارا خانم نے زین سے کہا۔۔
زین آپ پاپا بنے والے پیں۔۔۔
کیا سیچ۔۔۔
جی بلکل سیچ۔۔ تو اس میں پرشان ہونے والی کیا بات ہے؟؟
آپ شاید بھول گۓ۔۔ مجھے ڈاکٹر نے کہا تھا۔۔ چوٹے کی پیداٸش پر اس کے بعد ڈلیوری سے میری جان کو بھی خطرہ ہے۔۔ تو اس میں پرشانی والی کیا بات ہے صبح شہر جاکر ڈاکٹر سے مشہور کرلیتے ہیں کچھ حل ہوا تو ٹھیک ورنہ ابارشن کروا لینا،، ہممم چلے ٹھیک ہے۔۔۔
____________________________________***
مما وہ لڑکی کب حویلی میں آٸی گٸ سولہ سالہ سنی شاہ نے کہا؟؟ کون لڑکی بیٹا ثناء نے پوچھا۔۔
مما میری منکوحہ سنی نے بڑے دڑلے سے کہا تھا ،
ابھی نہیں نو سال بعد۔۔ کیوں اتنی لیٹ ؟
ونی کے فیصلے کے مطابق جب وہ اٹھادہ سال کی ہوگٸ تب رخصتی ہوگٸ۔۔
ثناء کہ کر رکی نہیں جیسے اسے بیٹے کی بات ناگوار گزری ہو۔۔
آخری کب نو سال پورے ہوگۓ۔۔ اور میں خانوں سے بدلہ لوگا۔۔
آخری کب۔۔۔
یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا کہ سنی نے وقت کے ساتھ بدل جانا ہے اور وہ ابھی ابھی ہی تو جوانی کی دہلیس پر قدم رکھ رہا تھا ۔۔ اور اس کے تایا کی موت کو لے کر بہت غلط رنگ اس کے رہن میں بھرا گیا تھا۔۔ اور مجید شاہ کے علاوہ اور کون ایسا کر سکتا ہے۔۔۔
____________________________________***
آگلی صبح۔۔۔
زارا جلدی کرو میں باہر گاڑی میں ویٹ کررہا ہوں تمہارے جلدی آٶ۔۔
اوکے آپ چلے میں چادر لیکر آتی ہوں۔۔۔
میڈم صاحبہ ہوسپیٹل آچکا ہے اترے۔۔
دیکھے مینے ان کا ٹریٹمنٹ کرلیا ہے، ان کی پریگننسی سیف ہے۔۔۔
بس 7 منتھ سے انکو مکمل بیڈ ریسٹ کرنی ہے بس ان کا خیال رکھیے گا۔۔۔
واپسی پر ان کو ایک گاڑی فالو کر رہی تھی زین کافی دیر سے نوٹ کررہا تھے جیسے ہی زین نے گاڑی سے اترنے کے لیے بریک لگانی چاہی پر یہ کیا بریک نہیں لگ رہی تھی اور سامنے سے تیز رفتار آتے ڈیزل کے بھرے ٹنکر کے ساتھ ٹکڑاٸی اور آگ کا ایک دریا امڈ آیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: