Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 6

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 6

–**–**–

شاہ جی بہت بہت مبارک ہو،،
مجید شاہ نے فون کان کے ساتھ لگایا تو جمشید نے کہا، کام ہوگیا؟؟
مجید شاہ نے اپنے کام کی بات پوچھی،
جی شاہ جی آپ کا دشمن اپنی موت آپ مرگیا، پر اس کے ساتھ اسی کی بیوی بھی۔۔ تو تمہیں کیا تکلیف ہورہی ہے اس کی بیوی مرنے سے مجید شاہ نے سنگدلی سے کہا۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوا شاہ جی ایسے ہی بات کررہا تھا۔۔
اچھا یہ بتاٶ کتنی گولیاں ماری اس حرام خور کو مجید شاہ نے بےہسی کے تمام ریکاڈ توڑتے ہوا کہا،،
ہاہاہاہاہاہاہا شاہ جی گولی نے ماری بس گاڑی کی بریک نکالی تھی، اور وہ بےچارہ اپنی موت آپ مرگیا۔۔
آگ لگ چکی تھی اس کی ساری گاڑی کو ڈیزل کے ٹنکر سے ٹکراٸی تھی اور آپ یقین کرلے شاہ جی آپ کے دشمن کا ایک بال بھی نہیں بچا جل کر کوٸلہ ہوچکے تھے دونوں، جمشید نے کمینگی سے کہا۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا آج میرا دشمن زین خان بھی مرچکا ہے، ہاہاہاہاہاہاہا آج میں بہت خوش ہو، صرف زین ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی بھی، ہاہاہا آج میرا بیٹے کی روح کو سکون ملے گا اور میں اپنے شیر کی نظر میں سر اٹھا نے کے قابل ہوا ہوں۔۔
اب چل میں فون رکھتا ہوں کچھ دنوں بعد پھر تمہاری ضرورت پڑے گی۔۔
زین خان کے گھر والوں کو بھی تو ٹھکانے لگانا ہے،، ہاہاہاہاہاہاہا بہتر شاہ جی آپ نے جب یاد کیا تب غلام خاصر ہے۔۔۔۔
دروازے کے باہر کھڑا وجود مجید شاہ کی باتیں سن چکا تھا،، بلکہ اسے یہ بھی پتہ چل چکا تھا کہ اب زین خان کے گھر والے بھی سیف نہیں ہیں، اور اسے ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ہے، اس لیے وہ دروازے سے ہٹ گیا۔۔۔۔۔۔
____________________________________***
خان حویلی کے سامنے تین گاڑیاں آکر رکی۔۔
حویلی کے باہر کھڑے گارڈ نے پوچھا کون ہو؟؟
ہمے گھر کے مالک سے ملنا ہے، خان جی تو صبح سے بیگم صاحبہ کے ساتھ شہر گۓ ہیں ابھی تک واپس نہیں پہنچے۔۔
آپ ان کے علاوہ ان کے والد صاحب کو بلا دے ملنا ضروری ہے۔ دیکھو کون ہو تم لوگ گارڈ نے غصہ سے پوچھا، اسے یہ لوگ انجان لگے اور یہ بھی جو لوگ یہ نہیں جانتے کہ زین خان کے والد اس دنیا میں نہیں وہ ان کے جانے والے کیسے ہو سکتے ہیں۔۔
اب دوسری گاڑی سے انسپکٹر سامنے آیا۔۔
تم سے جو کہا وہ کر گھر کے مالک کو بلاو۔۔
صاحب جی گارڈ نے انسپکٹر کو دیکھتے ہوا کہا۔۔
خان جی کے والد اس دنیا میں نہیں، اور ان کی والدہ ہیں، ہمارے خان صاحب نے آجازت نہیں دی کسی غیر کو حویلی کے اندر لے جانے کی اس لیے پوچھ رہا ہوں، تم ان کی ماں کو بلاو۔ اب کے بار گارڈ چلا گیا۔۔
بتول خانم چادر سنبهالتی دروازے پر پہنچی،، جی فرمائے۔۔
خاتون ہم یہ ڈیتھ باڈیز پہنچانے آٸے ہیں،، ہمے آرڈر ملا تھا کہ ہم یہ باڈیز سربراہ کے حوالے کرنی ہیں اس لیے آپ کو زحمت دی۔۔
پولیس انسپکٹر نے ادب سے کہا، بتول خانم کو چادر سے منھ چپاکر آتے دیکھ کر کہا۔۔
ک۔ک۔کون۔ سی باڈیز بتول خانم کی زبان لڑکھڑا گٸ کسی خدشہ کے تحت،۔۔
خالہ جی یہ اپ لاشوں کو پہچانے کیا یہ آپ کے بیٹا بہو ہیں آپ کے گارڈ سے معلوم ہوچکا ہے کہ دونوں صبح سے گھر سے نکلے ہیں۔۔
انسپکٹر نے بتول خانم کو مخاطب کیا۔۔
بتول خانم لڑکھڑتے قدموں سے چلتی ہوٸی گھیں، ان کا خدشا درست ثابت ہوا، وہ دونوں زین اور زارا ہی تھے، بتول خانم چيخ مار کر زمین پر گر پڑٸی۔۔
پروس کے لوگوں نے جب بتول خانم کے رونے چلانے کی آواز سنی تو سب عورتیں بھی پہنچ گھیں اور بتول خانم کو اٹھا کر حویلی میں لے گٸ۔۔
زین اور زارا کو بھی خان حویلی میں پہلا غسل دے کر ان کی میت کو خان حویلی کے صحن میں رکھا گیا،، بتول خانم کی طبیعت مزید خراب ہوتی جارہی تھی، ان کو صبر ہی تو نہیں آرہا تھا۔۔
آتا بھی کیسے کچھ وقت پہلے ہی تو ان کی جوان بیٹی کی ناگہانی موت اور اب جوان بہو بیٹے کی لاشے سامنے پڑۓ تھے، تو وہ کیسے برداشت کر پاتی اتنا برا غم، زارا اور زین کی ساری لاش جل کر کوٸلہ بن چکی تھی پر خدا کی قدرت ان کے چہرے سلامت رہے جس وجہ سے ان کی شناخت ہوسکی تھی۔۔۔
____________________________________***
شاہ حویلی کے مکینوں میں جازب شاہ اس کی بیوی اور ثروت بیگم تھیں جنکو زین اور زارا کی موت کا دکھ ہوا تھا۔۔
مجید شاہ کو جو دکھ تھا وہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں،، شاہ خاندان بھی دوسرں کو دیکھنہ کی عرض سے خان حویلی پہنچے تھے، تاکہ مجید شاہ پر کسی کو شک نہ جاۓ، اور ایسا ہوا بھی تھا، سب زین اور زارا کی موت کو حادثاتی موت تصور کررہے تھے جو کہ بلکل ایسا نہیں تھا۔۔
____________________________________***
سارے گاٶں میں زین اور زارا کے نماز جنازہ کے علان ہوچکے تھے۔۔
جنازہ کا وقت رات دس بجے کا تھا، ابھی نو ہوۓ تھے۔۔
زین اور زارا خود سکون کہ نیند سو چکے تھے، اپنی بوڑھی ماں کے کمزور کندھوں پر زین کے دونوں بچوں کی بڑی اور بھاری زماداری ڈال کر۔۔
دونوں بچے ماں باپ کی چارپاٸی کے ساتھ چپکے بھیٹے تھے، دونوں بچے زارہقطار رو رہیے تھے۔۔
پر نہ ان کے رونے سے ماں باپ نے واپس آنا تھا نہ واپس انکو ماں باپ ملنے تھے۔۔
بتول خانم بھی بار بار غش کھا کر گرجاتی تھیں۔۔
آنی روتے ہوۓ۔۔
“بابا آپ سے مینے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاٶگٸ پر آپ نے نہیں کیا تھا اسی لیے مجھے چھوڑ کر جارہے ہیں، پلیز بابا اٹھے نہ مجھ سے وعدہ کریں کہ مجھے چھوڑ کر نہیں جارہے آپ۔۔ بابا۔۔۔ بابا”
مما آپ تو اٹھ جاۓ نہ میں اب کبھی آپ کو تنگ نہیں کرٶ گٸ نہ کوٸی صد کرٶ گٸ، پلیز مما بابا اٹھ جاٸۓ نہ آپ دونوں ہی کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ ایسے؟؟؟
پلیز پلیز اٹھ جاٸۓ نہ،، آنی آٹھ سال کی تھی بڑی نہیں تو بہت چھوٹی بھی نہیں جو موت جیسی خقیقت کو جھٹلا دیتی۔۔
بیٹا آنی سے بھی چھوٹا تھا اس لیے بس روٸے جارہا تھا۔۔۔
اوکے نہیں اٹھ رہے نہ آپ دونوں نہیں سنی نہ میری بات اب میں بھی نہیں بولوں گٸ آنی اب صرف آنسوں سے رورہی تھی۔۔۔
دس بجے میں تیس منٹ رہتے تھے۔ کہ بارانے رحمت شروع ہوچکی تھی،، بارش میں ہی زین اور زارا کو سپرد خاک کیا گیا۔۔۔۔
____________________________________***
دیکھا بیگم جس نے ہمارے شیر بیٹا کو مارا اسے بھی قدرت نے کتنا اچھا انتکام لیا بیوی بھی مری اور خود بھی ہاہاہاہاہاہاہا،،
شاہ جی کہیں آپ نے ہی تو نہیں ثروت بیگم نے بات ادھوری چھوڑتے ہوا مجید شاہ کی طرف سوال طلب نظروں سے دیکھا،،۔
ارے نہیں بیگم ہم ایسا کیوں کریں گۓ، قدرت نے اسے سزا دی ہمارے جابر شاہ کی موت کی۔۔
ثروت بھی خاموش ہوگی.
جازب بات کر رہا تھا کہ اسے شہر والی حویلی میں اب رہنا ہوگا۔۔
کیوں شہر کیوں مجید شاہ نے کہا؟, سنی بیٹے کے دسویں کے امتحان کے بعد اسے کالج جانا ہوگا اس لیے جازب چاہ رہا تھا، اور جازب چھوٹی کو بھی اچھے سکول میں ڈلانا چاہتا ہے، اس کے خیال میں گاٶں میں رہ کر اچھی تعليم ممکن نہیں۔۔
ہممم چلو انہے جانے دیتے ہیں شہر آخر بچوں کے مستقنل کا سوال ہے۔ مجید شاہ نے کہا۔۔
____________________________________***
زین اور زارا کو اس دنیا سے گۓ بیس دن ہوچکے تھے۔۔
بتول خانم بچوں کو سلا کر نماز ادا کرکے ورد کر رہی تھیں کہ ان کے پیچھے والا دروازہ ناک ہوا،، بتول خانم جانتی تھیں کہ آنا والا کون ہے۔۔
آٶ بچے بیٹھو، خالہ جان آپ کی ساری زمینے بیچ دی ہیں اور سارا پیسا اکونڈ میں ڈال دیا ہے کل آپ کی حویلی کی رقم ملاتے ہی آپ ہہاں سے بچوں اور چار پانچ ملازموں کو لیے کرنکل جاٸے گا، اب آپ کو یہاں پر خطرہ ہے،، آنا والا حیرہواہ نے ساری بات تفصیل سے بتاٸی،، بچے اپنے مرحوم شوہر کی حویلی چھوڈنے کا بلکل دل نہیں کرتا اب کیا کرو مجبور ہوں، تم نے میری بہت مدد کی ورنہ میں اکیلی عورت کیا کرتی، خالہ جان اپنی الاد بھی کہتی ہیں اور غیروں جیسی باتیں بھی کرتی ہیں۔۔
اچھا خالہ یہ گھر کی چابی ہے آمیں، رحمان، حیات، اکرم، رخیم، یہ سب آپ کے پرانے اور وفاداد ملازم ہیں اور ہیں بھی شہر کے اس لیے یہ آپ کے ساتھ جاۓ گۓ جیپ امین لیکر آجاۓ گا باقی جو دوسری گاڈی ہے زین والی اس میں آپ اور بچے اور دو ملازم رحمان حیات ساتھ ہوگۓ۔۔۔
اب آپ اپنی اور بچوں کی پیکنگ کرلے میں آپ کی حویلی کا فرنیچر شہر بجوا لو باہر ٹرک آچکے ہیں۔۔
بہت شکریہ بچے۔۔..
____________________________________***
سیدوں کے ڈیرے پر جازب شاہ کو دیکھ کر سب ملازموں نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
مجھے پہلی بار دیکھا ہے تم لوگوں نے نہیں شاہ جی۔۔ حیر چھورو علامے ایسا کرو اپنے آدمی لیکر جاو شہر والی حویلی کو نیا فرنیچر رکھواں اور صفاٸی کرواں۔۔
اور تم سب حویلی چلو آج رات کو تکریب ہے حویلی میں جازب شاہ نے آدھے آدمی شہر اور باقی سب حویلی بجوا دیۓ۔۔
____________________________________***
چلے خالہ سب تیار ہے؟؟, حیرہواہ نے پوچھا۔۔
جی بچے چلو۔۔
بتول خانم اور بچے اور دو ملازم زین کی گاڈی میں تھے اور گاڑی کی ڈرایونگ سیٹ حیرہواہ نے سنبھلی ہوٸی تھی۔۔۔
جب گاڑی شہر کی سڑک پر پڑی تب حیرہواہ نے رحمان کو ڈرایونگ سیٹ دی اور خود بتول خانم کو الودع کیا اور اپنے رستے پر چل پڑا۔۔۔۔۔
____________________________________***
شاہ حویلی میں دن کا سا سما تھا، ہر طرف روشنیاں لگی تھی اور سب ہی جازب شاہ اور اس کی فیملی کو الودع کرنے دعوت میں خاصر تھے۔۔ کچھ دنوں بعد جازب شاہ کی فیملی نے مری والی حویلی میں شفٹ ہوجانا تھا۔۔
اس لیے دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔
____________________________________***
بتول خانم حیریت سے شہر پہنچا چکی تھی اور حیرہواہ نے بھی کال کر کے حیریت معلوم کرلی تھی۔۔۔
اب خان خاندان سیف تھا ہر طرح کے خطرہ سے ، ملازم اپنی اپنی جگہ پر اور کام کرنے والی بھی بتول خانم نے رکھ لے تھی، خان خاندان کی اتنی دولت تھی کہ آنے والی دس نسلہ بھی بیٹھے کر کھاتی تب بھی بہت تھا اس لیے روپے پیسے کی کوٸی کمی پیشی نہیں تھی۔،،
یہ گھر بھی حویلی جیسا ہی تھا ڈبل اسٹوری پانچ کمرے اوپر اور پانچ نیچے۔۔
سب کچھ تھا بچوں کے پاس دادی کا پیار روپیا پیسا نہیں تھا تو زین اور زارا کا ساتھ جیسے بچے بہت مس کرتے تھے۔۔۔
____________________________________***
آگلی صبح۔۔۔۔
شاہ جی شاہ۔۔۔
غلام بحش باگتے ہوۓ شاہ حویلی میں داخل ہوا۔۔
کیا ہوگیا ہے غلام بحش۔۔
جازب شاہ نے آرام سے پوچھا۔۔
شاہ جی وہ وہ خانم بچوں کو لیکر کہیں نکل چکی ہے، اور اپنی زمینے بھی بیچ گٸ۔۔
خان حویلی کو گرا کر ادھر یونيورسٹی بناٸی جاٸے گٸ۔۔
اچھا تو تم اتنے پرشان کیوں ہورہے ہو۔۔
آرام سے جاو بابا ساٸیں کو بتاٶ۔۔
جازب شاہ نے غلام بحش کہ جانے کے بعد مسکراتے ہوا باہر نکل گیا۔۔
غلام بحش نے مجید شاہ کو بھی وہ ہی سب بتایا۔۔
کیا بات کررہے ہو وہ ہمارے خاندان کی بہو کو کہا لے کر جا سکتی ہے۔۔
جازب شاہ جاٶ پتہ کرواں وہ کہاں گٸ ہے۔۔
اوکے بابا ساٸیں میں پتہ کرواتا ہوں۔۔۔
___________________________________ ***
اگلے دن۔۔۔
بابا ساٸیں ان سب کو کچھ پتہ نہیں چل سکا کسی نے بھی ان کو جاتے نہیں دیکھا۔۔
جازب شاہ تمہیں زرا بھی فکر نہیں وہ تمہارے بیٹے کی منکوحہ کو لیکر بھاگی ہے۔۔
آپ زرا ٹھنڑے دماغ سے سوچے وہ سنی کہ نکاح میں ہے ایسے میں وہ کیا کسی اور سے اپنی پوتی کا نکاح کروا سکتی ہیں، نکاح پر نکاح کبھی نہیں ہو سکتا۔۔ آپ پرشان کیوں ہو رہے ہیں اگر وہ چلی بھی گٸ تو ہمارے بیٹے کا کیا ہے سنی کی ہم اور شادی کردیں گۓ ، لڑکا زات ہے، زندگی خراب ہوگی تو ان کی پوتی کی وہ کسی اور سے اس کی شادی نے کرسکتی ، نقصان ان کا ہے اس لیے آپ پرشان نہ ہوں۔۔۔
جازب شاہ نے آرام سے مجید شاہ کو آگاہ کیا۔۔
پر مجید شاہ کو دکھ تو کسی اور بات کا تھا۔۔
وہ تھا خان خاندان کا خاتمہ کا دکھ خان خاندان کا وارث ابھی بھی تھا جو خان خاندان کو آگۓ چلانے کا سبب بن گا۔۔۔
یہ دکھ مجید شاہ کو اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: