Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 7

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 7

–**–**–

جازب شاہ اور اس کی فیملی مری شفٹ ہوچکے تھے۔۔
مجید شاہ کو بہت دکھ تھا خان خاندان کے زندہ نکل جانا کا پر اب وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔۔۔
۔
۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پندرہ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_____________________________________***
یہ صبح کا پٰرنور سما تھا۔۔
وہ ٹاٸیٹ جینز کے ساتھ ریڈ اونی لونگ کوٹ پہنے اپنے گرد گرم شال لپیٹے سر پر کالے رنگ کی خوبصورت ٹوپی پہنے، جس میں سے گولڈن لٹیں نکل کر اس کی پست پر پھیلی ہوٸی تھی۔۔
کالی سیاہ آنکھیں نیچرل پنک ہونٹ روشن چہرہ وہ سمارٹ سی لڑکی بہت پیاری تھی بلکل جیسے پہاڑوں کی بیٹی ہو، پریاوں جیسی۔۔
وہ اپنے دھیان میں برف باری کا منظر دیکھ رہی تھی، مری والوں کے لیے تو برف باری عام سی بات ہے لیقن صبح کہ وقت ایسے برف باری دیکھنا اسے بچپن سے ہی پسند تھا، پر بچپن میں اور اب میں بہت تبدیلی آچکی تھی، اب وہ نہیں تھا جس کہ ساتھ وہ برف میں کھیلتی تھی جب سے وہ گیا تھا وہ بہت تنہا ہوگٸ تھی۔۔
ان ہی سوچوں میں تھی کہ اسے گھر کے اندر سے آواز آٸی بیٹا ناشتہ کرلو ٹھنڈا ہوجاٸے گا۔۔
اور تم نے یونيورسٹی بھی تو جانا ہے نہ پھر وین آجاٸے گٸ۔۔۔
خانمہ بیگم آتی ہوں۔ اس نے بھی آواز لگاٸی، وہ جب بہت لاڈ میں ہوتی تو انہے خانمہ بیگم کہا کرتی تھی۔۔۔
_____________________________________***
احد یار پلیز تو جواٸن کر لے مجھے بھی تمہارے بغیر جانے اچھا نہیں لگے گا۔۔
مینے تیرے کہنے پر ہی اپلاٸی کیا تھا۔۔ اب جب دونوں کو جاب مل رہی ہے تو کیوں انکا کررہا ہے میں جانتا ہوں یار یہ جاب تیرے لیے تو کوٸی اہميت نہیں رکھتی ہے، تو ابھی چاہے تو خود کا کالج کھڑا کر سکتا ہے، امیر باپ کی اولاد جو ہے، پر میری مجبوری سمجھ میرے لیے یہ بہت اچھی جاب ہے، امی بیمار ہیں اور چھوٹی کا بھی رشتہ پکا ہوگیا ہے۔۔
اس کے سسرال والے کبھی بھی رخصتی کا کہ سکتے ہیں۔۔
خاشر جو پیچھے ایک گھنٹے سے احد کو فورس کررہا تھا کہ مری ماڈل ٹاون یونيورسٹی سے آفر آٸی دو پروفيسر چاہے ان کو اور خاشر کو یہ بہت اچھی جاب لگی تھی پر احد مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔
خاشر یار تمہیں پتہ تو ہے میں مری گیا تو بابا پھر سے اپنے آفس جواٸن کرنے کا کہے گۓ، اور تُو جانتا ہے مجھے بزنس میں کوٸی انٹرسٹ نہیں۔ یار تم آنٹی سے بات کرلینا وہ منا لے گھیں انکل کو خاشر نے کہا۔۔
دیکھ خاشر میں تیرے لیے جا تو رہا ہوں اگر اُدھر مجھے کام میں دل نہ لگا تو میں پہلے بتارہا ہوں واپس آنے میں ایک منٹ نہیں لگاٶ۔۔ اوکے اوکے پر ایک بار تُو چل تو سہیے۔۔
_____________________________________***
بلیو شارٹ فراح پاجامہ پہنے اوپر لیدر کی جیکٹ اور بلیو ہی کلر کا دوپٹہ حجاب سٹاٸل اوڑھ ہوا۔۔
ایک ہاتھ میں اپنا سوٹ کیس تھما ہوا، دوسرے ہاتھ کی کلاٸی میں بندھی گھڑی میں بار بار وقت دیکھتی۔۔
وہ معصوم سی اٹھارہ انیس سالہ دوشیزہ تھی، جو کہ کافی جلدی میں لگرہی تھی، یہ مری بس سٹاپ تھا۔ وہ پہلے ہی لیٹ ہوچکی تھی اور آج اس کا موڈ کافی خراب تھا، کیوں کے اپنی تین تین گاڑیاں ہوتے ہوۓ بھی اسے ایسے لوکل سفر کرنا پڑ رہا تھا۔۔
وہ ان ہی سوچوں میں تھی کہ ایک نوجوان آ دمکا لسن لیڈی۔۔
عروا کو تپ ہی تو لگی تھی اس کہ ایسے مخاطب کرنے پر۔۔
کیا ہے عروا نے غصے سے کہا حالانکہ وہ بلکل اپنے بابا کی طرح نرم دل اور آرام سے بات کرنے اور سمجھنے والی لڑکی تھی، اپنی عادت کے برخلاف اس نے غصے کہا۔۔
شارق نے آرام سے کہا ۔ میڈم صاحبہ کیا یہ آپ کا پرس ہے کیا شارق نے پرس کی طرف اشارہ کرتے کہا، جو واقع ہی عروا کا ہی تھا۔۔
جی میرا ہے عروا نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا، اب کی بار شارق نے زور سے عروا کو وہ
پرس پکڑاتے ہوا کہا لیچیۓ، سنبھلیۓ ورنہ بس والوں نے آپ کو آدھے رستے میں ہی اتار دینا تھا۔۔
عروا حیرت سے منھ کھولے اس انسان کو دیکھ رہی تھی، جب وہ غصے میں بات کررہی تھی تو وہ کتنے آرام سے بات کررہا تھا اور جب وہ شرمندہ ہورہی تھی تب اس بدتمیز نے کیا کیا۔۔
شارق پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا اور اتفاق سے بس بھی شارق کے پاس آکر رکی اور شارق بس میں سوار ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بس بھر چکی تھی جب عروا بس میں پہنچی تو بس میں ایک بھی سیٹ خالی نہیں تھی۔۔
لڑکے تو بہت تھے پر پاکستانی عوام میں اتنی تمیز کہا کہ کھڑی لڑکی کو جگہ دیں۔۔
عروا اتر بھی نہیں سکتی تھی کیوں کے وہ ہوسٹل سے آلریڈی لیٹ ہوچکی تھی اس لیے آرام سے کھڑی رہی۔۔
شارق کے ساتھ ایک بوڑھی عورت بھیٹی تھیں اس لیے شارق اپنی جگہ سے اٹھا اور عروا کو کہا میڈم آپ ادھر آجاٸۓ عروا کے پاس اور کوٸی آپشن نہیں تھا اس لیے وہ آرام سے بیٹھ گٸ۔۔
دس پندرہ منٹ کے بعد ایک سٹاپ آیا اور وہ بوڑھی عورت اتر گھیں۔۔
میڈم صاحبہ ادھر میں بیٹھ جاٶ۔۔
عروا نے ہاں میں گردن ہلاٸی۔۔
شارق آرام سے بیٹھ گیا۔۔
ویسے مجھے شارق کہتے ہیں، شارق نے عروا کے جانب ہاتھ بھڑایا۔۔
جیسے عروا نے تھوڑا گورتے ہوا شارق سے ہاتھ ملایا۔۔
اور میں ہوں عروا عروا شاہ۔۔
نیلی آنکھوں، گلابی ہونٹ، اور اس پر کیا بلیو ڈوپٹہ اسے چار چاند لگا رہا تھا شارق کو وہ ایک معصوم سی گڑیا لگی۔۔۔
کہا جاریی ہیں آپ۔؟؟
شارق نے گفتگو کا آغاز کیا۔۔
راولپنڈی گرلز ہوسٹل۔۔۔
میرا میڈکل میں پہلا سال ہے عروا نے شارق کی معلومات میں مزید اضافہ کیا۔۔۔
اوو ریلی شارق نے مسکرا کر کہا، تو کیا میں اب آپ کو پیپر پر لکھ کردو۔۔
نہیں نہیں شارق عروا کی بات پر ہستے ہوا کہا۔۔
وہ دراصل میں بھی راولپنڈی جارہا ہوں پر مینے لڑکوں کے ہوسٹل جانا ہے۔۔
اووو اب عروا نے کہا کون سے سال میں ہیں آپ میڈکل میں دوسرا سال ہے، میرا۔۔
یعنی ہم نے ایک ہی جگہ جانا ہے، جی بلکل شارق نے کہا۔۔
عروا کو شارق سے اب بات کرنا اچھا لگ رہا تھا جب سے اسے پتہ چلا وہ بھی اس کی طرح میڈکل میں ہے تو۔۔
اونچا قد، ہلکی ہلکی بھڑی سیو، گندمی رنگت، براون بال پیشانی پر ڈالے، بلیو پنٹ کے ساتھ پنک شرٹ پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
_____________________________________***
مری ماڈل ٹاون یونيورسٹی کے سامنے وین آکر رکی۔۔
انابیہ جلدی چل یار کافی لیٹ ہو گیا ہے مارخ اسے تیز چلنے کا کہتی ہے۔۔
اسی انفرادی میں مین ڈور سے باہر جاتے احد کے ساتھ انابیہ کی زبردست قسم کی ٹکڑ ہوٸی ۔۔
انابیہ اس کے سینے سے جالگی۔۔
انابیہ اس کے سینے سے سر اٹھانے لگتی ہے پر وہ اپنا سر درد کے باعٹ دوبارہ اس کے سینے پر رکھ دیتی ہے کیوں کہ اس کی نوزپن جو کل ہی اس نے مارخ کے کہنے پر ڈلواٸی تھی احد کی شرٹ میں اٹک جاتی ہے۔۔
مارخ انابیہ کا سرخ ہوتا فیس دیکھ کر جلدی سے اس کی نوزپن احد کی شرٹ سے نکالتی ہے۔۔
اب انابیہ بن رکے بولتی جارہی تھی۔۔
آپ کی آنکھیں ہیں یا بٹن دیکھ کر نہیں چل سکتے آپ، اندھرہ ہے کیا، بدتمیز یہ لوگ آتے ہی اسے لیے ہیں کالج،، انابیہ کہہ کر جانے لگی کہ احد نے اس کی کلاٸی پکڑ لی تمہیں اتنا بڑا مرد نظر نہیں آرہا تھا احد کچھ اور بھی کہتا پر انابیہ کے پڑنے والے تھپڑ سے اس کے لفظ منھ میں ہی رہ گۓ “ڈونٹ ٹچ می” ہوتے کون ہو تم میری کلاٸی پکڑنے والے۔۔
احد نے بھی ہاتھ اٹھانا چاہا پر خاشر اس زبردستی پکڑ کر ساٸیڈ پر لے گیا۔۔
اور مارخ نے جلدی سے انابیہ کی بکس اٹھاٸی اور اندر بھاگ گٸ۔۔
چھوڑ بے سالے تم نے کیوں روکا مجھے تمہاری بہن ہے کیا۔۔
احد کا چہرہ ضبط سے سرخ ہورہا تھا۔ رلیکس یار خیر ہے لڑکی ہے ویسے ہی بات زیادہ بھڑ جاتی۔۔
خاشر اور احد کا یونی میں پہلا دن تھا جب وہ یونی جانے لگے تو احد نے کہا میرے موبائل کار میں رہ گیا ہے چل لے کر آتے ہیں تب ہی مین ڈور سے آتی انابیہ اس سے ٹکڑا جاتی ہے۔۔۔
اچھا اب چھوڑ بھی لکچر کا وقت ہوگیا ہے۔۔
چھوڑنا تو احد نے سیکھا ہی نہیں۔۔
چل چلتے ہیں بعد میں دیکھے گۓ، احد اپنا موبائل نکالتے ہوا بولا۔۔
_____________________________________***
بس کچھ وقت رہ گیا ہے ہماری منزل آنے والی ہے۔۔
شارق نے باہر دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
ہممم عروا نے اتنا ہی کہا۔۔
آپ کالج جاتی ہیں یا صرف ہوسٹل؟؟
نہیں کالج جاتی ہوں صبح اور شام میں ہوسپیٹل پھر رات کو ہوسٹل۔۔
عروا نے بتایا۔۔
ہمم۔۔
اور آپ اب عروا نے پوچھا۔۔۔
میں جسٹ ہوسپیٹل کالج نہیں جاتا۔۔
ویسے بھی دو سال ہی رہ گۓ شارق نے کہا۔۔
ہممم میرے تو تین رہتے ہیں۔۔
چلے اترے پنڈی آگیا ہے۔۔
شارق نے عروا کو بتایا۔۔
_____________________________________***
انابیہ اسے تھپڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی، پاگل ہوگٸ ہو اچھا بھلے انسان کو تھپڑ مار دیا اگر واپس وہ بھی مار دیتا تو کیا عزت رہ جاتی تمہاری ہوش سے کام لیا کر، چپ کر کمبحت سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔
مارخ بڑا سا منھ کھولے حیرت سے انابیہ کو دیکھنے لگی اتنے بڑے الزام پر۔۔
میری وجہ سے کیسے مارخ نے خفا نظر سے دیکھا؟ نہ تو مجھے یہ کمبحت نوزپن ڈلواتی نہ اس سے یہ اٹکتی۔۔
اچھا چل کلاس میں آج نیو پروفیسر نے آنا ہے مارخ نے ہار مانتے ہوۓ کہا۔۔
۔
Hi students.
I’m Ahad Ali shah..
I’m your new lecturer..
اب کلاس شروع کرنے سے پہلے آپ سب مجھے اپنا تعارف کروا دیں۔۔
صباءملک، عاشہ بٹ، خارس شاہ، انیس کیانی، سارہ چودھری، اویس راجپوت،دعا کیانی، احمد شاہ،مارخ عباسی، انابیہ خان۔۔۔۔
تم۔۔۔۔
احد نے انابیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
جی سر میں انابیہ نے احد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ۔۔
سٹوڈنٹس کلاس شروع کرتے ہیں۔۔
احد نے بیس منٹ لکچر دے کر سب سے پوچھا۔۔
سب کو سمجھ آگیا؟؟
یس سر۔۔
اوکے کلاس۔۔
اللہ حافظ۔
احد روم سے باہر نکلا گیا
یار یہ کھروس پروفيسر تھا۔۔
یس جانی ابھی کوٸی غلطی مت کرنا احد سر کی کلاس میں ورنہ انہوں نے اپنا بدلہ کلاس میں ہی لے لینا ہے، مارخ کہتے ہی بھاگ چکی تھی ورنہ انابیہ کا موٹا رجسٹرڈ اس کے سر میں پڑنا تھا۔۔۔۔
۔
ہاٸی بڈی کیسا رہا فرسٹ ڈے؟؟
خاشر نے احد کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا۔۔
تمہیں پتہ ہی ہے شروات کیسے ہوٸی دن کی اور تو اور کلاس میں بھی پہنچ گٸ میری ہاہاہاہاہاہاہا ریلی وہ تیری سٹوڈنٹ ہے۔۔
دانت مت کھول احد نے برا مانتے ہوۓ کہا۔۔
اچھا تم بتاٶ کیسا رہا دن ؟؟
اچھا تھا یار۔۔
اچھا چل کچھ کھاتے ہیں۔۔
احد اور خاشر جب کینٹین پہنچے تو ادھر کافی لڑکے تھے۔۔
احد وہ دیکھ وہ کیا کررہے ہیں، خاشر نے کارنر میں ایک کمرے سا بنا تھا ادھر سے کچھ لڑکے جھومتے ہوۓ نکل رہے تھے۔۔
چل دیکھتے ہیں، احد نے خاشر کو کہا۔۔
دونوں جب کمرے میں داخل ہوۓ تو دونوں دیکھ کر دنگ رہ گۓ۔۔
کیوں کے وہاں لڑکے کچھ اور نہیں بلکہ ڈرگز یوز کررہے تھے اور ایک لڑکا سگریٹ پھر پھر ڈرگز کے یونی کہ سٹوڈنٹس کو دے رہا تھا اور وہ لڑکے انجان بنے اس زہر کو اپنے میدے میں اتار رہے تھے۔۔
اسے لڑکے نے جو سب کو ڈرگز دے رہا تھا احد کو دیکھ کر بولا۔۔
سر جی آپ دونوں کو بھی دوں اسے نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
احد نے دوردار مکاہ اس کے منھ پر جھڑ دیا۔۔ زلیل انسان تو ڈرگز سپلائی کرتا ہے احد نے اسے گلبان سے پکڑتے ہوا تھا۔۔ ان معصوموں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے خاشر پرنسپل سر کو کال کر اور پولیس کو بلاوا۔۔
دیکھ اوۓ پروفيسر تو جانتا نہیں میں کس کا آدمی ہوں ملک تبرز کا آدمی ہوں چھوڑے گا نہیں وہ تمہیں۔۔ اس بات پر احد نے تین چار اور مکے اس پر برساۓ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: