Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 8

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 8

–**–**–

رِنگ۔۔۔رِنگ۔۔۔۔رِنگ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔رِنگ۔۔۔۔۔۔رِنگ۔۔۔۔۔۔
عروا تیرا فون بج رہا ہے۔۔
اس کی روم میٹ+ دوست ہما نے بجتا فون دیا۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔
عروا نے نیند
میں ڈوبی آواز میں کہا۔۔
و علیکم اسلام بیٹا جی آپ نے انفام نہیں کیا کے حیریت سے ہوسٹل پہنچ گھیں ہو، آپ کی مما پرشان ہورہی ہیں۔۔
جازب شاہ نے پرشان لہجے میں عروا سے پوچھا؟..
جی بابا وقت سے پہنچ گٸ تھی، آتے ہی سو گٸ اس لیے نہیں کیا آپ کو انفام۔۔
ابھی بھی سو رہی تھی، ہما نے فون پکڑایا۔۔۔
اچھا بیٹا آپ آرام کرو صبح جلدی اٹھنا ہوگا۔۔
اوکے بابا اللہ حافظ۔۔
_____________________________________***
یونی کے پرسنل صاحب آچکے تھے انہوں نے کافی سراہا خاشر اور احد کو جن کا یونی میں پہلا دن تھا، اور دونوں نے ڈرگز پکڑوا دیے۔۔
پروفیسر میں تمہیں دیکھ لو گا، وہ لڑکا تبرز ملک کا آدمی احد کو دہمکی دینے سے نہ رکا تھا۔۔
اور اس آدمی کو پولیس پکڑ کر لے گٸ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کچھ منتھ بعد۔۔۔۔۔۔
آج انابیہ نے یونی نہیں آنا تھا،جو وہ کل مارخ کو بتا چکی تھی اور مارخ صبح یونی بغیر انابیہ کو لیے نکل چکی تھی جبکہ اب انابیہ کا یونی جانا کا ارادہ بن گیا تھا۔۔
اب وہ یونی سے بہت لیٹ ہوچکی تھی۔۔۔
خاشر کلاس اٹینڈ کررہا تھا۔۔
اور خاشر کی نظر پوری طرح مارخ کے گرد گھوم رہی تھی۔۔
یہ تمہیں کیا ہورہا ہے خاشر وہ تیری سٹوڈنٹ ہے اور تو پروفیسر ہوکر اتنا کھسکا ہوا کب سے ہوگیا ہے، وہ اپنا دل کو ڈانٹتے ہوۓ، سٹوڈنٹس اللہ حافظ کہتا کلاس سے نکل گیا۔۔
اب احد کی کلاس تھی
اور انابیہ کافی لیٹ ہوچکی تھی۔۔۔
ارے آنی آج کیسے بچے گی اس کھروس سے کلاس میں آچکا ہوگا، آنی احد کے بارے میں سوچتے ہوۓ منھ ہی منھ میں بھڑبڑانے لگی۔۔۔۔
آٸٸ کم ان س۔۔ سر۔۔۔
احد نے سر اٹھا کر اجازت لیتی لڑکی کو دیکھا جو کے آدھا پیریڈ ختم ہوجانے کے بعد اب انٹری ماری رہی تھی۔۔
یس کم ان۔۔۔
جی تو محترمہ آپ کی کلاس کا اب وقت ہوا ہے، احد انابیہ پر تانہ کرتے کہا۔۔۔۔۔ آٸی ایم سوری سر انابیہ نے دل میں دانت پیستے ہوا اور بظاہر شرمندہ لہجے میں کہا۔۔
اوکے سٹ اٹینڈ یور کلاس۔۔۔۔
احد نے اخسان کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔
_____________________________________***
میڈیکل گرلز کالج میں چھٹی کی گھنٹی ہوچکی تھی۔۔۔۔
ہما یار مارکیٹ جانا ہے، عروا نے کہا۔۔
چل ٹھیک ہے چلتے ہیں۔۔
ہما نے ہاں میں گردن ہلاٸی۔۔۔
رِنگ۔۔۔۔۔ رِنگ۔۔۔۔۔
ہما نے بیگ سے فون نکلا۔۔
خاشر بھیا کالنگ لکھا آرہا تھا۔۔۔۔
جی بھیا۔۔ کیسے ہیں آپ؟.۔۔
الحَمْدُ ِلله!۔۔
تم کیسی ہو گڑیا؟..
میں بھی ٹھیک بھیا، میں زرا عروا کے ساتھ مارکیٹ آٸی ہوٸی ہوں، بعد میں کال بیک کرتی ہوں۔۔
اوکے گڑیا۔۔۔
عروا تم نے جو لینا ہے لے لو، میں اپنے لیے سینڈل دیکھ کر آتی ہوں۔۔
ہمم ٹھیک ہے۔۔
عروا اپنے لیے پرفیوم چیک کر رہی تھی کہ شاپ میں شارق داخل ہوا۔۔
ایک بلیو مین پرفیوم پیک کر کے دیں۔۔
عروا نے بھی بلیو لیڈی ہاتھ میں پکڑی ہوٸی تھی۔۔
جب دونوں باہر جانے لگے تو دونوں زبردست قسم کے ٹھکڑا گۓ۔۔۔۔
شارق تو سنبھل گیا تھا پر عروا زمین بوس ہونے لگتی ہے کہ شارق اسکی کمر کو مظبوطتی سے تھام لیتا ہے، شارق عروا کی آنکھوں میں مدہوشی سے دیکھنے لگ جاتا ہے اسے یہ نیلی آنکھوں والی کوٸی جادوگرنی لگتی ہے جیسے دیکھنے کہ بعد وہ اپنے ہوش کھو دیتا ہے۔۔
عروا جلدی سے شارق کے ہاتھوں سے نکلتی ہے۔۔
شارق بھی ہوش کی دنیا میں لوٹتا ہے۔۔
ارے میڈم صاحبہ آپ ادھر واہ واہ۔۔۔
اور کمال ہوگیا بھکڑانے کے لیے بھی میں ہی ملا تھا، یعنی یہ اتفاق نہیں یے، اللہ پاک بھی ہمے ملوانا چاہتا ہے، شارق نے ہستے ہوۓ کہا،، تو عروا نے تھوڑے غصے سے شارق کو دیکھا،،
ارے رلیکس میڈم صاحبہ
آٸی ایم جسٹ جوکنگ۔۔
عروا مسکرا دیتی ہے۔۔
آینی وے۔۔
ہہاں کیا کررہی ہیں آپ؟؟
میں دوست کے ساتھ ہوں کچھ چیزوں کی ضرورت تھی تب ہی مارکیٹ کا چکر لگانا پڑا۔۔
ارے آپ مجھے کہہ دیتی نہ میں بھی آپ کے ہوسٹل سے تھوڑا دور ہوں۔۔
بہت شکریہ آپ کا شارق جی، اور عروا کا “شارق جی” کہنا شارق کو بہت پسند آیا۔۔
اوکے میں چلتی ہوں ہما ویت کررہی ہوگی۔۔
اوکے سی یو۔۔
_____________________________________***
عادت کے مطابق آج بھی وہ برف باری کا خوبصورت منظر دیکھنے میں مصروف تھی پر گھر کے باہر نہیں بلکہ اپنا کمرے میں ریگنگ چیٸر پر آرام سے بھیٹے وہ کھڑکی سے باہر گرتی برف کو دیکھ رہی تھی کیوں کہ اس آج بخار تھا اور بتول خانم نے اسے گھر سے باہر نکلنا سحتی سے منع کیا تھا۔۔
ٹک۔۔ٹک۔۔ٹک۔۔
آجاٸے۔۔
آنی میڈم آپکو بتول میڈم بلارہی ہیں،کہ ناشتہ کرلیں۔۔
ایک درمیانی عمر کی عورت ملازمہ نے انابیہ کو ناشتہ کا بتایا۔۔۔
بشری آپ جایں میں آتی ہوں۔۔
انابیہ شال جسم کے گرد لپیٹتی نیچے چلی گٸ۔۔
اسلام و علیکم! دادو اماں۔۔
و علیکم اسلام بیٹا، کیسی ہے طبیعت میری جان کی۔؟
دادو اب کافی بہتر ہے۔۔
ہممم چلو ناشتہ کرلو پھر، انابیہ کو تھوڑا کرنا پھڑا کیوں کے بچپن سے ہی بےشک بخار ہوتا پر وہ بچوں کو کھانا پینا بلکل چھوڑ نے نہیں دیتی تھی کیوں کہ ایسے میں بخار زیادہ ہاوی ہوجاتا جب بلکل کھانا پینا چھوڑ دو۔۔
اس لیے وہ چپ چاپ تھوڑا بہت ناشتہ کرنے لگی۔۔
کب آرہا وہ دادو؟؟
انابیہ نے ناشتہ کے روران ہی پوچھا۔۔
بیٹا چار پانچ دن تک آنا ہے اس نے۔۔
ہممم
انابیہ نے اتنا ہی کہا۔۔۔
_____________________________________***
فری پیریڈ میں مارخ گرونڈ میں بنچ پر بھیٹی ہوٸی تھی۔ تبی خاشر بھی بنچ کی جانب پھڑتا نظر ایا، وہ کلاس اٹینڈ کرکے نکلا تو اس کی نظر مارخ پر پھڑی جو کہ اکیلی تھی اور اتفاق سے اس کی بھی اگلی فری کلاس تھی اسی لیے وہ کچھ سوچتے ہوۓ اس کی جانب چلا گیا۔۔۔
آج چھ منتھ ہوچکے تھے خاشر اور احد کو اس یونی میں، آج انابیہ کو بخار تھا اسی لیے مارخ کو اکیلے آنا پھڑا تھا۔۔
“ہاٸی”
خاشر نے کہا۔۔
جی سر آپ کو کچھ کام تھا تو مجھے بلا لیا ہوتا، مارخ نے جلدی سے کہا۔۔
ارے نہیں نہیں مارخ میں آپ سے ایک پروفیسر بن کر ملنے نہیں آیا۔۔۔
کیا مطلب سر؟؟
مارخ نے ناسمجھتے ہوۓ کہا۔۔
میرا مطلب ہم فرنڈز بن سکتے ہیں کیا۔۔؟؟
مارخ خاشر کا منھ تاکنے لگی اس سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کا سر کیا کہے جارہا ہے۔۔۔
خاشر اپنی عقل پر ماتم کرتے کچھ سوچنا لگا۔۔
میرا مطلب ہے آپ سے ایک کام ہے۔۔
خاشر نے جلدی سے کہا کچھ یاد آتے ہی۔۔
جی سر آپ کہے۔۔
مارخ نے اچھی سٹوڈنٹ کا کرداد نبھاتے کہا۔۔
مینے سنا ہے تم ٹریپ پر نہیں جارہی ہوں؟؟, جی سر نہیں جارہی۔۔
پر اب تمہیں جانا ہے۔
اسے چاہے تم آوڈر سمجھو یا ریکوسٹ۔۔
خاشر کہہ کر رکا نہیں بلکے نکل گیا۔۔۔
اور مارخ اپنے ہینڈسم پروفیسر کے لفظوں پر غور کرنے لگی۔۔
اتنی بچی تو وہ تھی نہیں کہ بات کرنے کا لب لہجہ نہ سمجھ پاتی پر وہ اس پر یقین کرنے سے ڈرتی تھی کہ شاید اس کے ساتھ دوبارہ ایسا نہ ہوجاۓ۔۔
_____________________________________***
عروا اس وقت ہوسپیٹل تھی، اج کچھ میٹنگ تھی سب میڈیکل نیو اینڈ اولڈ سٹوڈنٹس کی۔۔
سسٹر عروا آپ میٹنگ روم میں آجاۓ میٹنگ شروع ہونے والی ہے۔۔
وہ جب ایک واڈ میں پیشنٹ کو دیکھ رہی تھی کہ واڈ بواٸے نے آکر اطلاع دی۔ اوکے میں آتی ہوں۔۔۔
میٹنگ روم۔۔۔
جیسے کہ اس میٹنگ میں سب سٹوڈنٹس ہیں پہلے سال والے بھی اور دوسرے، تیسرے اور چھوتھے سال والے بھی آج ہم آپ کے گھروپس بنادیں گۓ، آپ لوگوں کے امتحان آرہے ہیں اس لیے یہ سب ضروری ہے۔۔ پھر اب آپ سب کی روزانہ کی ڈیوٹی لگاٸی جاٸے گٸ۔۔۔
ہما پہلے سال کی سٹوڈنٹ آپ کے ساتھ ثمر چوتھے اور آخری سال کے ہیں اس کے بعد۔۔ عروا پہلے سال اور آپ کے ساتھ تیسرے سال کے شارق ہوگۓ۔۔
آپ چاروں کا گروپ ہے اچھی محنت کریں اور امتحان کی تیاری کریں۔۔ آپ کے گروپ کو لیڈ کریں گے ثمر جو کہ آپ سب کے سینیر ہیں۔۔۔
_____________________________________***
آج انابیہ اور مارخ دونوں اتفاق سے جلدی آچکی تھی یونی، اور اپنے گروپ کے ساتھ یونی کے دروازے کے سامنے ہی گھڑی گپے ہانک رہی تھی، کے ٹاٸیروں کی چرچراہٹ کے ساتھ بلیک ایکس ای یونی سے اندر آتی نظر آٸی کالی گاڑی کے لشکارے تمام سٹوڈنٹ کی توجہ اپنی طرف مبادلہ کروا گٸ۔
انابیہ نے بھی کہا۔۔
‘Wao so nice’
بہت پیاری کار ہے یار پر ہے کس کی؟؟
ابھی نظر آجانا ہے جس کی ہے مارخ نے کہا۔۔
کار رکی اور احد اس کار سے نکلا۔۔
اس کھروس کی ہے انابیہ نے منھ بنایا۔۔
پر کافی گزلز کی آوازے اس کے کان نے سنی۔۔
یار بہت ہینڈسم پروفیسر ہیں، پر کیا فایدہ کسی کو لفٹ نہیں کرواتے سر احد دوسری لڑکی نے بھی گفتگو میں حصہ ڈالا۔۔
ارے میری جان ہینڈسم ہیں ایٹیوڈ “attitude” ٹو دیکھۓ ہی گۓ۔۔
دانیہ تم پروفیسر صاحب کو پٹالو تو مان جاٶ تمہے ارج نے دانیہ کو کہا دانیہ ہر لڑکے کو اپنے پیچھے لگا نے کا فن رکھتی تھی تبی ارج نے کہا۔۔
اوکے ڈن۔۔
آٸی فون کے ساتھ پٹ لگا دانیہ نے ارج سے کہا اوکے ڈن ہوگیا۔۔
ارج اور دانیہ نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج احد شاہ بھی کمال کا لگ رہا تھا بلیک سوٹ میں پیشانی پر ڈالے بال وہ شہزادہ لگ رہا تھا تبی تو کلاس کی گزلز کا دھیان پڑنے پر کم اور اس پر زیادہ تھا۔۔
احد کو غصہ آرہا تھا اپنی سٹوڈنٹ گرلز پر۔۔
کلاس اپنا اپنا نوٹس جمع کروا دیں،۔ احد نے کہا۔۔
سب بواٸز نے جلدی سے جمع کروا دیۓ، اب گزلز کی باری پھر سب نے احد کو نوٹس جمع کروایا پر انابیہ نے نہیں کیوں کہ اس کے نوٹس مکمل ہی نہیں تھے۔۔
انابیہ آپ کے نوٹس کدھر ہیں احد نے کڑے تیور سے کہا۔۔؟؟
سر و۔۔ وہ میرے کمپلیٹ نہیں ہیں۔۔۔
کیوں کمپلیٹ نہیں ہیں سب نے کیے اور آپ سے نہیں ہوۓ۔۔۔
کل مجھے نوٹس کے علاوہ دو بار اور پورے نوٹس لکھے کر لانے ہیں۔۔
یہ پنش ہے اور احد کلاس سے باہر نکلا گیا۔۔
انابیہ پیچھے احد کے شان میں غزليں پڑ رہی تھی۔۔۔
_____________________________________***
انابیہ میں بھی ٹریپ پر جارہی ہوں۔۔
ارے واہ یہ پرگرام کیسے چینج کرلیا۔۔
بس دل کررہا ہے چلی ہی جاٶ۔۔
اچھا اس کی کوٸی اورر وجہ تو نہیں ہے نہ انابیہ نے آنکھ مارتے کہا۔۔
آنی کی بچی رک بتاتی ہو تمہے۔۔
انابیہ آگے اور مارخ پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
انابیہ بس بھاگ رہی تھی ہاتھ میں پکڑی کوک کی بوتل بھی تھی۔۔
انابیہ بھاگتی ہوٸی جارہی تھی کے سامنے سے آتے احد پر پوری کوک کی بوتل گر چکی تھی اور انابیہ منھ پر ہاتھ رکھے احد کے سوٹ کا خشر دیکھ رہی تھی۔۔
احد نے جب نظر اپنے سوٹ پر ڈالی تو غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا۔۔
تم چھوٹی بچی ہو کیا جو بندورں کی طرح یونی میں بھاگ رہی ہو۔
احد نے انابیہ کے بازو کو سحتی سے پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم نے دوبارہ سے احد شاہ کو غصہ دلایا ہے اب بچ کر رہنا احد نے ایک جھکے سے آنی کو چھوڑا وہ گرتے گرتے بچی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: