Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 9

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 9

–**–**–

“ہاٸی ہینڈسم”
احد کلاس آف کرکے باہر آیا تو ایک ماڈرن سی لڑکی اس کی سامنے کھڑی تھی، جینز پنٹ پر ٹاٸیٹ شرٹ کھلے بال شانو پر گراۓ، ڈوپٹے سے بےنیاز، فل میک آپ کیے آنکھوں پر چشمہ چڑاۓ، جو کہ اس نے احد کو دیکھ کر اتارا تھا۔۔
وہ احد کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھی۔۔
احد کو اس کی ڈریسنگ دیکھ کر ہی تپ چڑ چکی تھی مشکل سے اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوۓ کہا جی فرمائی؟؟.
میں آپ کو پروفیسر یا سر تو ہرگز نہیں کہوں گی۔۔
کیوں کہ آپ پروفیسر نے ڈارلینگ بنے کے لیے ہو۔۔۔۔
مطلب کیا ہے تمہارا احد نے غصے سے کہا۔۔؟
سمپل میں دوستی کرنا چاہتی ہوں تم سے دانیہ نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔
پر میں تم سے دوستی کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں بلکہ میں کسی بھی لڑکی سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتا۔۔ اور تم جیسی لڑکی سے تو بلکل بھی نہیں۔۔۔
احد کہتے ہی رکا نہیں۔۔
اور دانیہ کا چہرہ اتر گیا احد کی نہ سن کر اس کے پیچھے تو لڑکے مرتے تھے اور اس نے اسکو ایک نظر دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا۔۔
_____________________________________***
ہاٸی گاٸز۔۔
ثمر نے تینوں کو کہا۔۔
اور بنچ پر بیٹھ گیا۔۔۔
ثمر نے ان کو بتایا تھا کہ ہر کالج کے کچھ رولز ہوتے ہیں اور اس کالج کا بھی یہ رول ہے چار سال کالج اور ہوسٹل میں رہ کر پھڑاٸی کرنی پڑتی ہے اور اس کہ بعد کا ایک سال انکو ہوسٹل اور ہوسپیٹل میں کرنی ہے کالج میں نہیں کیوں کہ ہوسپیٹل میں رہ کر ایک سال اچھی تیاری ہوتی ہے ان کے کالج کا کہنا تھا۔۔۔
۔۔۔۔
ثمر اچھی نیچر کا لڑکا تھا ان کے گروپ بنے مہینہ ہوچکا تھا۔۔۔
اس روران ثمر اور ہما ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے تھے لیکن ہما یہ بھی جانتی تھی کہ اس کا رشتہ تہ ہے اور ثمر کا بھی تو رشتہ تہ تھا لیکن دونوں نے ہی ابھی تک اپنے اپنے مگیتر نہیں دیکھے تھے۔۔
ہما کی فیملی میں ایک بھاٸی اور ماں ہی تھے۔۔
اس کا رشتہ بھی ماں اور بھاٸی نے تہ کیا تھا اور ماں کہ کہنے پر کہ لڑکا دیکھ لو پر اس نے منع کردیا یہ کہہ کر کے آپ دونوں نے دیکھ لیا تو ٹھیک ہی ہوگا مجھے نہیں دیکھنا۔۔
۔۔۔
ٹمر کا ایک بھاٸی ہی تھا
ماں باپ تو بچپن میں ہی گزر گۓ۔ بڑے بھابی نے ہی ثمر کو پالا تھا۔۔
اب بھابی کا ثمر کے ساتھ کچھ اچھا برتاو نہیں تھا اور دوسرا وہ اپنے بڑے بھاٸی کا دل نہیں توڑنا چہتا تھا جس نے بہت مشکل سے اس کا رشتہ تہ کردیا تھا کیوں کہ اس کی بھابی نہیں چاہتی تھی کہ ثمر کی شادی ہو اور جاٸیداد میں آدھ حصہ ثمر اور اس کی بیوی کو ملے اس لیے وہ ثمر کی شادی کے حق میں نہیں تھی پر سمیر نے بیوی کی ایک نہیں سنی اور اپنے چھوٹے کا رشتہ تہ کردیا اور ثمر نے بھاٸی کی پسند سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا سمیر نے بہت اسرار کیا کہ ثمر تم لڑکی کی پیکس دیکھ لو پر ثمر نے کہا بھیا آپ نے میرے لیے بہت اچھی لڑکی دیکھی ہوگی اسے میں تب ہی دیکھو گا جب وہ اس گھر میں میری دولہن بن کر آٸے گٸ۔ اور سمیر نے اپنے فرمانبردار بیٹے جیسے بھاٸی کو گلے لگالیا۔۔۔
۔۔۔۔
اج سب نے اپنے اپنے گھر جانا تھا۔۔
شارق کی گاڑی جو کہ آتے وقت ٹھیک نہیں تھی اور گیراج میں تھی اب وہ ٹھیک ہو کر شارق کے ہوسٹل پہنچ چکی تھی۔۔
اس کے گھر سے آنے کے ایک دن بعد ہی خانم بیگم نے شارق کی گاڑی ڈرائيور کے ہاتھ ہوسٹل بجھوا دی تھی۔۔
سارے کالج کی طرح وہ چاروں بھی گھر جارہے تھے ہما عروا اپنے اپنے بگ تیار کیے گھر جانے کہ لیے کھڑی تھیں۔۔
کہ اب ثمر بھی ان کے ساتھ تھا۔۔
جب تینوں گاڑی کا انتظار کرنے لگے۔۔
ہما اسلام آباد کی تھی،
ثمر واہ کینٹ کا، عروا مری کی، شارق بھی مری ہی کا تھا۔۔
اتنے میں شارق اپنی پراڈو لیے آگے جانے لگا تو اسے اپنے گروپ کے تینوں لوگ نظر آۓ۔۔
اووو تم لوگ ابھی تک ویٹ کررہے ہو گاڑی کا اگر چاہو تو میں لفٹ دے سکتا ہو تم سب کو۔۔
شارق نے ثمر کو انکھ مرتے کہا۔۔
میں تو چلا جاو لیڈیز سے پوچھ لو ثمر نے کہا۔۔
ارے پوچھنے کی کیا بات تم سب جارہے ہو میرے ساتھ چلو سب شارق نے اپنایت سے کہا تو سب کو بھیٹنا پھڑا۔۔۔
_____________________________________***
احد کلاس میں انٹر ہوا تو سب لڑکیاں اور لڑکے خوش گپوں میں مصروف تھے۔۔
احد کو دیکھتے ہی سب نے اپنی اپنی پوزیشن سنبھلی۔۔
How are you class??
Fine sar..
Good..
Anaiba give me your notes r panish notes..
احد نے انابیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ سر۔۔۔ اور انابیہ نے گردن نیچھے جھکا دی۔۔
احد کلاس آف کرکے باہر جانے لگا تو انابیہ کو کہنا نہ بھولا۔۔
انابیہ آپ میرے آفس آٶ۔۔
اور انابیہ احد کے پیچھے اس کے آفس جانے لگی۔۔
سر اٸی کم ان۔۔
ویس کم ان۔۔۔۔
انابیہ خان تم مجھے بتادو تم نے سدھرنا ہے کہ نہیں۔۔
کیوں مینے ایسا کیا کردیا یے انابیہ احد کو اکیلا دیکھ کر شروع ہوگٸ تھی۔۔
مسٹر احد شاہ تمہارا یہ روب صرف کلاس کے سامنے ہی چلے گا اکیلے میں تم شاید انابیہ خان کو جانتے نہیں کیوں پنش دی تھی۔۔؟؟.
تمہے کیا لگتا تھا میں کمپلیٹ کردو گی، ہاہاہا بھول ہے تمہاری۔۔
انابیہ نے احد کو چڑاتے ہوۓ کہا۔۔
احد ایک جھٹکے سے اپنی کرسی سے اٹھا اور انابیہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا،، بہت چلتی ہے نہ تمہاری یہ زبان کسی دن بریک لگ جانی ہے اسے۔۔
چھو۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔
ہاہاہاہا صرف پکڑنے سے ہی ڈر گٸ۔۔
آنیدہ مجھے سے پنگا نہ لینا ورنہ اچھا نہیں ہوگا سمجھی۔۔۔
احد نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اور وہ جلدی سے باہر نکلا گٸ۔۔۔
۔۔۔
خاشر آج مارخ کو بہت مس کررہا تھا کیوں کہ وہ آج یونی نہیں آٸی تھی۔۔
اور خاشر دیدارہ یار کی حسرت لیے گھر کی جانب چلا دیا۔۔
_____________________________________***
ثمر شارق کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر تھا جبکہ دونوں لڑکیاں پیچھے۔۔
ثمر نے کہا یار کو سونگ ہی لگا دے۔۔
اچھا لگاتا ہوں۔۔
“اس دل کی بس یہ خواہش ہے اپنا بنالے تجھ کو” “ایسا کرم ہوا رب کا تُو مل گٸ ہے مجھ کو”۔
“سپنوں میں رہ کر جینا کیوں اب تک مجھے کیوں نہ آیا ہے”۔
“نہ جانا کب کیسے، کب کس دن تُونے یہ دل چرایا ہے”۔
“تیری مسکراہٹیں اور تیری یہ ادا”
“کروٹیں سی دل نے لی دڑکنوں نے دی صدا”۔۔
“کروٹیں سی دل نے لی دڑکنوں نے دی صدا”۔۔
“ہاٸی لےگۓ لےگۓ لےگۓ لےگۓ دل کا چین”۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “تیرے دو نین”۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔”تیرے دو نین”۔۔۔۔
“میرے نینوں میں رہتے ہیں اب تو ساری رے”۔۔
“تیرے دو نین”۔۔ “تیرے دو نین”۔۔
گانا چل رہا تھا اور شارق گاڑی کے فرنٹ مرر سے عروا کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہا تھا، عروا شارق کی نظروں سے کنفوز ہوکر دوسری طرف دیکھنے لگی۔۔۔
“مینو پتہ بس لارے نے،
تُو ویاہ نہیں کرانا میرے نال”
کیا
گانہ کے بول چل رہے تھے اور ثمر اور ہما ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور اپنے اپنے بارے میں سوچنے لگے۔۔
_____________________________________***
مارخ۔۔
آنی نے مارخ کو پکارہ۔۔
ہمم کیا بات ہے آنی۔۔؟؟
کل ٹریپ جارہا ہے پورے دس دن کا ٹریپ ہے بہت انجواۓ کریں گۓ۔۔
آنی شاپنگ کرلی تم نے مارخ نے پوچھا۔۔
نہیں کی یار۔۔
آنی نے منھ بناتے ہوۓ بتایا۔
چل شام میں چلے گۓ۔۔۔
مارخ نے کہا اور انابیہ نے بھی ہاں میں گردن بلاٸی۔۔
۔۔۔۔
انابیہ گھر میں داخل ہوہی رہی تھی کہ بلیک پراڈو آکر رکی وہ اچھی طرح جانتی تھی یہ کس کی گاڑی ہے اسی لیے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آچکی تھی گاڑی اور گاڑی والے کو دیکھ کر۔۔
شارق بھی گاڑی سے نکل کر بھاگ کر آنی کے گلے آلگا۔۔۔
کیسا ہو شونو۔۔۔
انابیہ نے اس کے بال بگاڑتے ہوۓ پوچھا۔۔
میں بلکل فٹ آپو۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو چڑیل آپو۔۔
کس کا کلیجھ کھانے کا ارادہ ہے، شارق یہ کہہ کر اندر کی طرف بھاگ گیا۔۔۔
رک جا میں بتاتی ہوں تمہے۔۔۔
انابیہ اس کے پیچھے بھاگنے لگی۔۔
یہ آج پہلی بار نہیں ہوا تھا شارق اور انابیہ کی ایک ساتھ انٹری ایسے ہی کسی انداز میں ہوتی تھی بچپن سے ہی۔۔۔
ارے ارے بچوں اب تم دونوں بڑے ہوگۓ اب تو انسانوں کی طرح گھر میں داخل ہوا کرو، بتول خانم نے اندر سے مسکراتے پر بظاہر سنجيدگی سے کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا دادو اماں ایسا کبھی نہیں ہوگا شارق اور انابیہ نے ہستے ہوۓ کہا۔۔
اب شارق خانم بیگم کو مل رہا تھا۔۔۔
کیسے ہو بچے؟
شکر اللہ کا دادو جی۔۔
اللہ خوش رکھے تم دونوں کو خانم بیگم نے دعا دی۔۔
اب سب صوفے پر بھیٹے باتیں کررہے تھے۔۔۔
اکرم خانم بیگم نے ملازم کو آواز دی۔۔۔
جی بیگم صاحبہ۔۔۔
شارق کا سامان نکل کر اس کے کمرے میں پہنچا دو۔۔
اور سناو شونو لگ رہا ہے اب تم بڑے ہوگۓ انابیہ نے شارق کی بھڑی شیو کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
ہمممم شارق نے ایسے ہی کہا۔۔۔
بچوں کھانا لگ گیا ہے آجاٶ۔۔
خانم بیگم نے کہا، دادو میں فرش ہو کر آتا ہوں اور انابیہ بھی چینج کرنے کمرے میں چلی گٸ۔۔۔
_____________________________________***
بھیا واٸی فاٸی( Wi-Fi) نہیں چل رہی میں نے دوستوں سے کونٹیکٹ کرنا تھا۔۔۔
ثمر نے سمیر کے سٹیڈی روم میں آتے کہا جہاں وہ اپنے آفس کا کام کررہا تھا۔۔
وہ کل ہی آیا تھا تب سے ہی واٸی فاٸی نہیں چل رہی تھی، اور اسے ہما سے بات کرنی تھی اس لیے وہ بےچین تھا۔۔
اچھا چھوٹے ایسا کر میرے موبائل لے اور اس سے ہاٹ سپاٹ اون کرلو واٸی فاٸی میں کوٸی مسلہ ہوگا سمیر نے ثمر کو اپنا موبائل پکڑاتے ہوۓ مصروف انداز میں کہا۔۔
ثمر موبائل لے کر اپنے روم میں آگیا۔۔
ثمر نے جیسے ہی موبائل اوپن کیا تو غلطی سے گیلری پر ٹچ ہوگیا۔۔
ثمر گیلری بند کرنے لگا تب ہی اس کی نظر گیلری پیکس کے ایک فولڈر پر رک گٸ، فولڈر اوپن نہیں تھا لیکن فسٹ والی پیکس ظاہر ہورہی تھی۔۔
ثمر اس پیکس کو دیکھتا ہی رہ گیا،
ثمر اس چہرے کو لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔۔
ایک خوبصورت اور معصوم سی سجی سنوری لڑکی شاید وہ دولہن تھی۔۔۔
اسے اس کی پیکس کا ثمر کے بھیا کے فون میں ہونا الجھن میں ڈال گیا۔۔
اس وقت اس کی زہن میں بہت سے سوال تھے اس کی پیکس اس کی بھیا کے پاس کیوں۔؟؟ اور وہ دولہن کیوں بنی ہے؟؟
بہت سے سوال اسے پرشان کررہے تھے۔۔
_____________________________________***
ہیلو۔۔۔
مارخ نے کال رسیو کرتے کہا۔۔
مارخ تو میرے گھر آجا، شونو آیا ہے اس کے ساتھ بازار چلتے ہیں۔۔
انابیہ نے مارخ کو کال پر بتایا۔۔
اوکے میں آجاتی ہوں۔۔
پر کتنے بجے مارخ نے پوچھا؟؟
ہمم ابھی تین بجے ہیں تم چار بجے تک آجاو تب تک مین شارق کو بتاتی ہوں۔۔
اوکے۔۔
۔۔۔
اس وقت برف باری نہیں ہورہی تھی پر وہ پھر بھی برف پر بھیٹے نہ جانے کیا سوچ رہا تھا۔۔
جیسے وہ اس برف کے نیچے سے اور ان پہاڑوں کو تراش کر بہت سے راز پوشیدہ کرنا چہتا ہو۔۔
اسے جب سے اپنی پھپھو کے بارے میں کچھ انفارمیشن ملی تھی تب سے وہ بےچین تھا۔۔
اور وہ اب اپنی آپو سے بھی پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
اس کے کچے زہن میں وہ بات نہیں نکلی تھی جب اس کے بابا اس کی پھپھو کو کمرے سے خون سے نچڑتا ہوا باہر لاۓ اور پھر آگے اسے کچھ یاد نہیں تھا۔۔
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچپن میں ہوا کوٸی ایسا واقع جو آپ کے کچے زہن سے چمڑ جاۓ وہ پھر کبھی نہیں بھولتا اور شارق کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔
بھو۔۔۔۔۔
انابیہ نے اپنی طرف سے اس کو ڈرانا چاہا پر اسے فرق ہی نہیں پڑا کیوں کہ وہ شاید ادھر تھا ہی نہیں اس کی سوچ کہیں اور ہی تھی۔۔۔
کیا ہوا ہے شونو تم کچھ پرشان سے لگ رہے ہو۔۔
انابیہ نے شارق کے کندھ پر ہاتھ رکھتے کہا۔۔
نہیں آپی کچھ نہیں، وہ ٹال گیا۔۔
اچھا مجھے اور مارخ کو بازار لے کر چلو،،کل ہم نے یونی ٹریپ پر جانا ہے۔۔
انابیہ نے اپنی مطلب کی بات کی۔۔
کب جانا ہے شارق نے ٹھنڈا سانس خارج کرتے پوچھا۔۔
چار بجے تک۔۔
اوکے لے جاو گا، پر میں گھر آیا ہوں اور آپ ٹریپ پر جارہی ہو پاٹنر میرے ساتھ برف کے ساتھ کون کھیلے گا۔۔ اس نے بچپن کہ نام سے پکارا انابیہ کو۔۔
اب ایسا ہے کہ تم بڑے ہوچکے ہو پاٹنر تو تمہیں اپنی وہ والی پاٹنر لے آنی چاہے وہ تمہارے ساتھ عمر بھر کھیلے۔۔
ہمم انابیہ کے ایسے کہنے سے شارق کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی سراپاہ گھوم گیا اور وہ مسکراتے لگا۔۔
انابیہ اسے مسکراتے دیکھ کر شرارت سے اس کا کان پکڑتے بولی ۔۔
لگتا ہے میچ جیت لے میرے شونو نے۔۔
ارے آپی ایسا کچھ نہیں ہے کان تو چھوڑو درد ہوتی ہے۔۔۔
اچھا فلحال چلو دیر ہو رہی ہے اور وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر ساتھ لے جاتی ہے۔۔۔
_____________________________________***
عروا کو آیۓ تین دن ہو چکے تھے پر ابھی تک اس کی ملاقات بھیا سے نہیں ہو پاٸی تھی ممی بابا سے معلوم ہوا تھا کہ احد یونی میں پکچرا ہے۔۔
اور اس کا ٹریپ جارہا ہے یونی کی طرف ایسے ،میں اسے یونی کی. کچھ کام ہے اور وہ لیٹ آتا ہے کچھ عروا میڈم اپنی نیندے پوری کر رہی تھی ۔ یا تو وہ سوتے پاٸی جاتی یا پھر کسی نہ کسی سہیلی کو ملنے نکل جاتی۔۔
پھر ایسے میں. دونوں بہن بھاٸی کی ملاقات نہ ہو سکی۔۔
ڈنر کے لیے آپ کا سب ویٹ کررہے ہیں۔۔
ملازمہ نے آکر عروا کو اطلاع دی۔۔۔
عروا جب نیچھے آٸی تب احد بھی ڈاٸنگ ٹیبل پر مجود تھا۔۔۔
بھیا۔۔
عروا بھاگ کر احد سے ملی آپ کو وقت ہی نہیں اب اپنی گڑیا سے ملنے کا، عروا نے شکوہ کیا۔۔
ارے یار وقت نہیں مل رہا واقع ہی یونی کا ٹریپ جارہا ہے اور ٹریپ کچھ دن لیٹ ہوگیا اسے لیے تھوڑا بیزی تھا پر میں کس سے ملتا جب میں گھر آتا تب میری گڑیا یا سو رہی ہوتی یا باہر اپنی کسی فرنڈ کے ساتھ۔۔۔۔
ہمم تو جگا لینا تھا نہ عروا نے کہا۔۔
اووو سوری آنیدہ سے ایسا ہی کرو گا اب سوری بھیا کو معاف کردو۔۔
معافی ایک شرط پر ملے گی۔۔
ارے وہ کون سی۔۔
جازب شاہ اور اثناء بیگم دونوں بچوں کی نوک جوک پر مسکرا ریے تھے۔۔
کہ اثناء نے عروا کو ٹوکہ ارے بس بھی کرو عروا میرے بیٹے تھکا آیا ہے۔۔
نہیں بلکل نہیں پرنسسز اپنی شرط منواں، جازب شاہ نے عروا کی حوصلہافزائی کی۔۔
تو شرط یہ ہے کہ کل سنڈے ہے اور آپ مجھے شاپنگ پر لے کر جاۓ گۓ عروا نے اپنی شرط بتاٸی۔۔
اوکے اوکے گڑیا لے جاو گا، اب کھانا کھ لو احد نے عروا کو کہا۔۔
جی کھا کے اجازت ہے،
عروا کے ایسے کہنے پر سب مسکرا دیے اور ہلکی پھکی باتوں کے درمیان کھانا کھایا گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: