Chunni Novel By Tawasul Shah – Last Episode 27

0
چنی از تاوسل شاہ – آخری قسط نمبر 27

–**–**–

“ثمر اپنے روم میں داخل ہوا تو سامنے ہی بیڈ پر ہما کو بیٹھیا پایا جو کہ ہاتھوں کو گود میں رکھے اپنے دولہے کا انتظار کر رہی تھی”
“ثمر نے روم لاق کرکے اپنے سر سے پگڑی اتار کر ڈریسنگ پر رکھی اور ہما کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا”
“میری شہزادی بہت پیاری لگ رہی ہے اور ثمر نے اس کے گلے میں نازک سا منھ دیکھائی کا گیفٹ پہنا دیا ”
“ثمر نے ہما کی پیشانی پر اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کی، جس پر ہما اپنے آپ میں ہی سمٹ گئ”
“ثمر ہما کو اسطرح شرماتے دیکھ کر بولا، ارے ارے یار تم ایسے شرماٶگئ تو کیسے چلے گا سب، اور جو میں بھیا جان سے جلد بتہجے کا وعدہ کیا وہ کیسے پورا کرٶ گا، ثمر معنی خیزی سے بولتا ہوا ہما کا دوپٹہ سرکا چکا تھا”
” پلیز ثمر۔۔۔ ہما نے اپنے سرخ ہوتے فیس سے کہا، میری جان نکاح ہوچکا ہے ہمارا اور میں تمہیں جی بھر کے پیار کرنا چاہتا ہوں، اب کی بار ہما خاموش ہوگئ تھی”
“ثمر نے ہما کی ساری جولیری اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور ناک میں پہنی بڑی سی بالی ٹائپ نوزپن اتارتے ہوئے، ہما کہ ہونٹ اپنے ہونٹوں میں قید کر لیے اور اس کے بالوں کا بنا جوڑا کھول دیا ہما کے لمبے بال کھل کر اس کی پست پر بکھر گے ثمر ہما کو اپنے حصارے میں لے کر پیار کرنے لگا، اور یوں ایک خوبصورت رات کا اختتام ہوا”

“آج ولیمے کی تقریب تھی، آج ثمر اور ہما بیت خوش نظر آرہے تھے،”
“ہما نے اپنے اور دانیہ والے قصے کا زکر کسی سے نہیں کیا تھا”
“ولیمے کے بعد جب تھوڑی دیر کے لیے ثمر ہما کے پاس سے گیا تو دانیہ اس کے پاس آگئ اور رو رو کر اس سے معافی مانگنے لگی اور بتایا کے اس کی غلطی کی سزا اسے مل گئ ہے، اور اس کا مسکیرج ہوگیا ہے، دانیہ کا کہنا تھا وہ اب کبھی ماں نہیں بن پائے گئ، اس کے خیال میں. اسے اس کی غلطیاں کی سزا ملی تھی، پر ہما شروع سے صاف دل کی مالک اسے بڑا دل کرکے معاف کر چکی تھی”
_____________________________________***
پانچ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔
“دانیہ کو کوئی اولاد نہیں تھی ، اسی لیے دائم نے شادی کے چھٹے سالہ ہی اپنی کولیگ ایس پی شائزہ سے دوسری شادی کرلی تھی اور شائزہ امید سے تھی اور دائم اسے پاوں بھی زمین پر نہیں رکھنے دیتا تھا، ویسے بھی دانیہ سے اس کا دل اسی وقت ٹوٹ گیا تھا جب اس نے ہما کے ساتھ غلط کرنا کی کوشش کی تھی”
“دانیہ دائم کے ساتھ شائزہ کو دیکھ دیکھ کر اپنے گناہ یاد کرتی شاید یہ اس کی غلطیاں کی سزا تھی، لیکن اب ساری زندگی اس کی زندگی میں بس رونا ہی لکھا تھا”-
_____________________________________***
“شفان شفان عروا ہوسپیٹل سے واپس آئی تو اپنی پانچ سالہ بیٹی کو بلانے لگی، تاکہ اسے تیار ہونے کا کہہ سکے، کیوں کے تھوڑی دیر بعد انہے مائز کی برتھ ڈے پر جانا تھا”
“عروا اسے پکارتی ہوئی روم میں آئی تو دیکھا کہ شفان ٹیب پر وڈیو گیم کھلنے میں اتنی مصروف تھی ہے کہ اسے ماں کی آواز بھی سنائی نہیں دی، عروا نے ٹیب کھنچا تب اسے ہوش آئی ارے ممی ڈارلنگ آپ نے کیا کیا میرا لاسٹ لیول تھا شفان نے منھ ٹھڑا کرکے کہا”
” اٹھو فورا اور جاکر برہان اور ریخان سے تیار ہونے کا کہو، شفان ماں کا غصے والا موڈ دیکھ کر فورا سے اٹھ گئ”

” آج مائز کی برتھ ڈے تھی”
“مارخ اور خاشر کی مائز کے بعد ایک ہی بیٹی تھی ماہ نور جو صرف ایک سال کی تھی”
“تالیوں کی بونچھڑ میں مائز نے اپنی ساتویں برتھ ڈے کا کیک کاٹا اور سب سے پہلے سامنے کھڑی تین سالہ خریم کو کھلایا،جو خریم نے خوشی خوشی کھا لیا، خریم اس کی پھپھو زاد کزن تھی یعنی ہما اور ثمر کی بیٹی”
“مائز شروع سے ہی خریم سے بہت کلوز تھا ان دونوں کی ایچز میں کافی فرق ہونے کے باوجود ان میں. بہت دوستی تھی”
_____________________________________***
“برتھ ڈے سے واپسی پر برہان نے شارق سے کہا بابا ڈارلینگ نانا جی کے گھر بھی جانا ہے، ان کے بچوں کی عادت تھی وہ دونوں کو ممی ڈارلینگ اور بابا ڈارلینگ ہی کہتے تھے”
“شارق برہان کی بات سن کر گاڈی کو شاہ ہاوس کی طرف ڈال چکا تھا”
“گھر میں داخل ہوتے ہی برہان نے پھولوں کے پاس کھڑی چار سالہ معصوم سی عنایہ کو آواز لگائی، عنایہ برہان کو دیکھ کر سامنے لگے پھولوں کی طرح کھل گئ”
” ان دونوں کزنز میں بھی گہری دوستی تھی، وہ اسکول، اکیڈمی، پارک اور یہاں تک دونوں ڈریسنگ بھی سیم کرتے تھے، جب کہ شفان اور ریخان کی عنایہ سے کوئی خاص دوستی نہیں تھی، وہ دونوں ہمیشہ عنایہ کو چھوٹا ہونے کا کہہ کر اس سے ہر بات منوایا کرتے تھے”
“تھوڑی دیر بعد شارق اور عروا بچوں کو لے کر واپس چلے گے”
_____________________________________***
“انابیہ دو سال کے عاطف کو ساتھ لیے ملازمہ کو رات کے کھانے کی ہدایت دے رہی تھی”
“انابیہ اور احد کی عنایہ کے دو سالہ بعد عاطف اس دنیا میں آیا تھا اور وہ بلکل احد کی کاپی تھا”
“تیسری بار انابیہ ماں بنے کے مرحلے سے گزر رہی تھی، انابیہ کی ساتوے منتھ کی پریگننسی تھی، اور ڈاکٹر نے بچے بھی ٹونز بتائے تھے”
” کب آپائنٹمنٹ ہے تمہاری اب احد نے انابیہ سے پوچھا؟؟
“چار دن بعد”
“تبی عنایہ احد اور انابیہ کے درمیان آکر خاموشی سے بھیٹ گئ”
“کیا بات ہے ڈولی؟؟ احد نے عنایہ کو خاموش دیکھا تو اسے اپنی گود میں اٹھتے ہوئے کہا”
“بابا سائیں آپکی شادی ریخان کے ممی پاپا سے پہلے ہوئی تھی تو میں چھوٹی کیوں ہوں، ریخان اور شفان دونوں مجھ پر اپنے بڑے ہونے کا روغب ڈالتے ہیں”
“احد عنایہ کی بات سن کر انابیہ کو دیکھتے ہوئے بولا، ڈولی اس میں تو صرف آپکی ماما کا قصور ہے، احد انابیہ کو آنکھ مارتے ہوئے بولا”
“, احد۔۔۔ انابیہ نے احد کے گھور کر دیکھا اور عنایہ کو اپنے روم میں جانے کا کہا ”
“عنایہ کے جانے کہ بعد احد آپ بھی نا کیا کرتے ہیں بچی کے سامنے ہی شروع ہوجاتے ہیں”
“ہاں تو کیا غلط کہا ہے، اب میں کیا ڈولی کو بتاتا کہ اس کی ماں نے شادی کے بعد بھی مجھ اپنے قریب نہیں آنے دیا تاکہ ڈولی جلدی اس دنیا میں آسکے، احد صوفہ پر بیٹھی انابیہ پر جھکتے ہوئے کہا”
“تو میں کیا آپکی ڈولی کو بتاتی کے اس کے بابا سائیں شادی سے پہلے ہی زبردست میرے قریب آچکے تھے، پھر میں کیسے انہے آسانی سے شادی کے بعد قریب آنے دے دیتی”
“احد انابیہ کے ہونٹوں پر جھکا ہی تھا کہ ننھے عاطف کی ہسنے کی آواز سنائی دی، احد جلدی سے سیدھا ہوا تو عاطف اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ ہنس رہا تھا”
“, عاطف آپکو کتنی بار سمجھایا ماما بابا کے روم میں بن ناق کیے مت آیا کریں، انابیہ اسے آنکھیں دیکھتی ہوئی بولی”
“,ماما آئی پرومس مینے کچھ نہیں دیکھا اور باہر بھاگ گیا”
“, انابیہ اور احد ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے”
_____________________________________***
“شارق نے ان پانچ سالوں میں بہت ترقی کی تھی، اور اس نے ایک اور ہوسپیٹل بھی بنا لیا تھا”
“جس کا نام #عروا_اینڈ_شفان_انٹرنیشنل_ہوسپیٹل رکھا”
“,آج ہوسپیٹل کی اوپنگ تھی، عروا اور شفان دونوں نے ریبن کاٹا، یہ ہوسپیٹل شارق نے عروا اور شفان کو گیفٹ کیا تھا، اور اس کی اونر عروا تھی”

“انابیہ اور مارخ کو بھی کام کرنے کا بحار چھڑا تھا ، اسی لیے دونوں این جیو چلا رہی تھیں، انابیہ ان دنوں بیڈ ریسٹ پر تھی لیکن ڈلیوری کے بعد اس نے دوبارہ این جیو شروع کرنی تھی”
💗💗💗💗💗💗دی اینڈ💗💗💗💗💗💗
________________________________________

یہ اینڈ مینے ابھی سوچ کر کیا ہے یقین مانے ناول مکمل طور پر میرے ذہن سے نکل گیا تھا، ٹنشن ہی اتنی تھی پھر میں نے ناول تھوڑا ریڈ کیا تو یہ لاسٹ ایپیسوڈ لکھ دی، اسے پڑھ کر ضرور بتائے گا کے کیسا لگا۔۔۔
اس میں کوئی کمی رہ گئ تب بھی بتائے گا اور اگر اچھا لگا تو ایک تفصیلی کمینٹ ضرور کیجیئے گا۔۔۔
اور جس جس کو احد اور انابیہ کے کپل کا پیچھے رہ جانے کا دکھ تھا، وہ خوش ہوجائے، ان دونوں کے بچے سب کپلز سے زیادہ ہیں اس میں احد اور انابیہ نمبر لے گے😍
دعاوں میں یاد رکھیے گا۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: