Churian Drama by Saadat Hasan Manto Read Online – Episode 2

0

چوڑیاں از سعادت از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 2

–**–**–


دوسرا منظر
(تحفوں کی دوکان۔۔۔ وسیع و عریض جگہ ہے ، جہاں بے شمار الماریاں دھری ہیں بڑے بڑے شیشے کے شوکیس رکھے ہیں۔ہر ایک چیز جھلمل جھلمل کر رہی ہے۔۔۔ بہت سے گاہک جمع ہیں۔کچھ آ رہے ہیں کچھ جا رہے ہیں۔۔۔ حامد اور سعید ادھر آتے ہیں۔ حامد کے ہاتھ میں اخبار ہے وہ اس دوکان کا پتہ دیکھ رہا ہے۔۔۔ دوکان دار نئے گاہکوں کو دیکھ کر متوجہ ہوتا ہے اور پاس آتا ہے۔)
دوکاندار:فرمائیے۔
حامد:تحفوں کی یہی دوکان ہے۔ جس کا اشتہار۔۔۔
دوکاندار:آپ اس اخبار میں ملاحظہ فرما رہے ہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ آئیے۔۔۔
(دوکان کے ذرا اندر چلے جاتے ہیں۔۔۔ اتنے میں چند لمحات کے بعد دو لڑکیاں آتی ہیں۔بڑی تیز بڑی طرار)
حمیدہ:(دوکان کے ملازم سے)تحفوں کی یہی دوکان ہے۔
ملازم:جی ہاں۔ یہی دوکان ہے اور گورنمنٹ سے رجسٹرڈ۔
حمیدہ:رجسٹرڈ؟
ملازم:جی ہاں۔۔۔ اندر تشریف لے جائیے میم صاحب۔
(دونوں لڑکیاں دوکان کے اندر چلی جاتی ہیں۔ حمیدہ اس شوکیس کے پاس پہنچتی ہے۔ جہاں حامد دوکاندار کے پاس کھڑا ہے اور جھک کر شوکیس میں رکھی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔)
حامد:(دوکاندار سے)مجھے آپ کی سب چیزیں پسند آئی ہیں (اچانک حمیدہ کی طرف دیکھتا ہے)خاص طور پروہ چیز تو خوب ہے۔۔۔
(حمیدہ کے گال ایک دم سرخ ہو جاتے ہیں۔)
دوکاندار:کونسی؟
حامد:(دوکان کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر کے)وہ پتلی جواس کے کونے کی زینت بڑھا رہی ہے۔
دوکاندار:قدر افزائی کا شکریہ۔۔۔ فرمائیے کون سا تحفہ باندھ دوں؟میرا ذاتی خیال ہے کہ۔۔۔
حامد:فرمائیے فرمائیے۔ آپ کا ذاتی خیال کیا ہے۔
(حمیدہ کی طرف دیکھتے ہوئے۔)
دوکاندار:کس کے متعلق؟
حامد:(چونک کر)ان ہی۔۔۔ ان ہی تحفوں کے متعلق!
دوکاندار:میرا ذاتی خیال ہے۔ مگر آپ کس تقریب کے لئے تحفہ چاہتے ہیں؟
حامد:ہاں یہ بتانا واقعی ضروری ہے (آواز دیتا ہے) سعید صاحب۔۔۔ سعید صاحب!
سعید:حاضر ہوا۔
حامد:آپ انہیں بتا دیجئے کہ مجھے کس تقریب کے لئے تحفہ چاہتے۔
(حمیدہ کھل کھلا ہنستی ہے۔)
حامد:یہ کون ہنسا؟
دوکاندار:لڑکیاں ہیں۔ ہنس رہی ہیں۔
حامد:ہاں لڑکیاں ہیں ہنس رہی ہیں۔۔۔ قصہ یہ ہے کہ مجھے اپنی بیوی کے لئے۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ اس بیوی کے لئے جومیری بیوی ہونی چاہئے اور بہت جلدہونی چاہئے۔ مجھے ایک تحفہ خریدنا ہے۔ ہم دونوں نے یہی فیصلہ کیا ہے حالانکہ میں اپنی سالگرہ منا سکتا تھا۔
دوکاندار:اس میں کیا شک ہے۔۔۔ میراذاتی خیال ہے۔
(حمیدہ ہنستی ہے۔)
دوکاندار:یہ کون ہنسا؟
سعید:لڑکیاں ہیں ہنس رہی ہیں !
حامد:ہاں لڑکیاں ہیں۔ انہیں ہنسنا ہی چاہئے۔
دوکاندار:میرا ذاتی خیال ہے کہ اب، آپ کو جلدی کوئی تحفہ خرید لینا چاہئے کیوں کہ۔۔۔
حامد:میں اپنا تحفہ منتخب کر چکا ہوں۔
دوکاندار:فرمائیے۔
حامد:(شوکیس میں سے دو چوڑیاں نکالتا ہے جس پر مینا کاری کا کام ہے) یہ وہ چوڑیاں جواس خوب صورت بکس میں دو حسین کلائیوں کو دعوت دے رہی ہیں۔
دوکاندار:(بکس لے کر)واہ واہ۔۔۔ کیا تحفہ چنا ہے آپ نے۔۔۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ۔۔۔
(تیز قدمی سے حمیدہ آتی ہے۔)
حمیدہ:(دوکاندار سے)اس تاش کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
حامد:بہت خوب صورت ہے۔ خصوصاً۔۔۔
حمیدہ:میں نے آپ کی رائے طلب نہیں کی۔
سعیدہ:کچھ میں عرض کروں۔
حمیدہ:جی نہیں (دوکاندار سے)فرمائیے اس کے متعلق آپ کی ذاتی رائے کیا ہے؟
دوکاندار:بڑا خوب صورت ہے۔ دیرپا ہے اور ایک تحفہ چیز ہے۔ وہ خوش نصیب ہو گا۔ جسے آپ یہ تحفہ دیں گی۔
حامد:یعنی اگر وہ فلش کھیلے گا تو خوب جیتے گا۔
حمیدہ:آپ نے کیسے جانا کہ میں یہ تاش کسی کو تحفہ دینے ہی کے لئے خرید رہی ہوں۔۔۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تلاش میں نے صرف اپنے لئے خریدا ہے۔۔۔ (دوکاندار سے)پیک کرا دیجئے اسے (بٹوہ کھول کر) یہ لیجئے اس کی قیمت۔
حامد:(چوڑیوں کا بکس دوکاندار کو دیتے ہوئے)پیک کرا دیجئے اسے (جیب سے دام نکال کر دیتے ہوئے) لیجئے قیمت!
(دوکاندار دونوں چیزیں لے کر چلا جاتا ہے۔)
حمیدہ:(اپنی سہیلی کو آواز دیتی ہے)سعیدہ!
سعید:ارشاد۔
حمیدہ:آپ کا نام سعیدہ ہے؟
سعید:جی نہیں۔۔۔ فقط سعید، ہائے ہوز کے بغیر۔۔۔
(سعیدہ آتی ہے۔)
حمیدہ:(حامد کی طرف دیکھ کر سعیدہ سے)کیوں سعیدہ، میں نے یہ تاش اپنے لئے خریدا ہے یا کسی اور کے لئے؟
سعیدہ:اپنے لئے۔
حامد:یہ اور بھی اچھا ہے۔
حمیدہ:کیوں؟
حامد:اس لئے کہ چوڑیاں بھی میں نے اپنے لئے خریدی ہیں۔
حمیدہ:(مسکرا کر) آپ خود پہنئے گا۔
حامد:جی ہاں فی الحال خود ہی پہنوں گا جب تک۔۔۔ آپ تاش بھی فی الحال اکیلے ہی کھیلیں گے۔
حمیدہ:فی الحال میں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور میں سمجھتی ہوں کہ فی الحال ہمیں یہ گفتگو بند کر دینی چاہئے۔
(دوکاندار آتا ہے۔)
دوکاندار:میرا ذاتی خیال ہے کہ۔۔۔
حامد:فی الحال اپنے ذاتی خیال کو موقوف رکھئے۔۔۔ لائیے میری چوڑیاں۔
حمیدہ:لائیے میرا تاش۔
(دوکاندار دونوں کے پیکٹ دونوں کے حوالے کر دیتا ہے۔۔۔)
(سب باہر نکلتے ہیں۔)
ــــــــــــــــــــــــ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: