Churian Drama by Saadat Hasan Manto Read Online – Episode 3

0

چوڑیاں از سعادت از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 3

–**–**–


تیسرا منظر
(ہوسٹل کا وہی کمرہ جو ہم پہلے منظر میں دکھا چکے ہیں۔۔۔ حامد کرسی پر بیٹھا ہے سامنے تپائی رکھی ہے جس پر تاش کے پتے بکھرے ہوئے ہیں حامد انہیں اکٹھا کرتا ہے پھینٹتا ہے۔۔۔ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور سامنے دیوار پر چغتائی کی پینٹنگ کی طرف دیکھ کر گانا شروع کر دیتا ہے۔)
گیت
نیندوں سے لبریز ہیں آنکھیں جیسے خواب رسیلے
ترچھی نظریں یوں پڑتی ہی جیسے بان کٹیلے
چال میں ایسا دم خم جیسے رک جانے کے حیلے
زہر سہی پر کون ہے جو یہ زہر نہ بڑھ کر پی لے
ہونٹوں پر ان سنے ترانے جھیل میں جیسے تارے
نانکی چتون میں وہ جھل مل جو کھیلے سو ہارے
چہرے پر لالی جیسے کلیاں ندی کنارے
حسن کے اس امڈے دھارے میں ڈھونڈے کون سہارے
حامد:(پھر کرسی پر بیٹھ جاتا ہے اور تھوڑی دیر گیت کی دھن گنگنانے کے بعد تاش کے پتے ایک ایک کر کے پھینکتا ہے)بادشاہ۔۔۔ بیگم۔۔۔ اور یہ کہ۔۔۔ راؤنڈ بن گئی (گنگناتا ہے)۔۔۔ حسن کے اس امڈے دھارے میں ڈھونڈے کون سہارے؟(پھر پتے پھینکتا ہے)ستا۔۔۔ اٹھّا۔۔۔ اور۔۔۔ یہ نہلا۔یہ بھی راؤنڈ بن گئی۔
(سعید اندر داخل ہوتا ہے۔)
سعید:آپ راؤنڈیں کیا بنا رہے ہیں۔۔۔ ارے۔۔۔ یہ تو اسی قسم کا تاش ہے۔
حامد:اجی نہیں۔۔۔ اسی قسم کا تاش نہیں بلکہ وہی تاش ہے۔
سعید:(حیرت سے) آپ کا مطلب؟
حامد:(اٹھ کر تاش پھینٹتے ہوئے)بالکل واضح ہے۔
سعید:(کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔) یعنی؟
حامد:دیکھئے میں آپ کو بتاتا ہوں (تاش کے پتے تپائی پر پھینکتا ہے) یہ دہلا۔۔۔ یہ بیگم۔۔۔ اور یہ غلام۔۔۔ دیکھا آپ نے۔۔۔ اب آپ خود ہی سوچ لیجئے۔ یہ کیا معاملہ ہے۔
سعید:آپ خود ہی بیان فرمائیے۔
حامد:(گاتا ہے)ہونٹوں پران سنے ترانے جھیل میں جیسے تارے۔۔۔ یہ ان سنے ترانے آپ نہیں سن سکتے۔
سعید:یہ آپ کیا پہیلیاں بجھوا رہے ہیں مجھ سے۔۔۔ میں پوچھتا ہوں یہ تاش آپ کے پاس کیسے آ گیا؟
حامد:آ گیا۔۔۔ حق بحق وار رسید۔۔۔ میں نے آج نوٹ بک کھول کر دیکھی تو معلوم ہوا کہ آج ہی میری سالگرہ ہے۔۔۔ سو اپنی سالگرہ کا تحفہ مجھے مل گیا اور وہ دو چوڑیاں ادھر چلی گئیں۔
سعید:کدھر؟
حامد:ادھر ہی۔ میری ہونے والی بیوی کے پاس۔
سعید:(اٹھ کھڑا ہوتا ہے) میرا ذاتی خیال ہے کہ دکاندار کی غلطی سے پیکٹ بدل گئے۔۔۔ آپ کی چوڑیاں ادھر چلی گئیں اس کا تاش ادھر آ گیا۔
حامد:آپ کا ذاتی خیال دوکاندار کے ذاتی خیال سے بہت زیادہ درست ہے۔
سعید:اب آپ کیا کیجئے گا؟
حامد:کچھ بھی نہیں۔۔۔ تاش کھیلا کروں گا۔
سعید: اور وہ چوڑیاں پہنا کرے گی۔
حامد:کیا حرج ہے؟
(دروازے پر دستک ہوتی ہے۔)
حامد:کون ہے؟
تار والا:(باہر سے) تار والا حضور۔
(حامد تاش کو تپائی پر رکھ کر باہر نکلتا ہے۔ چند لمحات تک سعید اکیلا تاش کے پتے ایک ایک کر کے تپائی پر پھینکتا ہے۔)
سعید:راؤنڈ۔۔۔ حد ہو گئی ہے۔
(حامد تار لئے اندر آتا ہے۔)
حامد:کیا ہوا؟
سعید:ایک راؤنڈ بن گئی تھی۔۔۔ آپ سنائیے خیریت توہے !
حامد:قبلہ والد صاحب کاتا رہے۔
سعید:کیا فرماتے ہیں۔
حامد:فرماتے ہیں فوراً چلے آؤ۔۔۔ ایک ضروری کام ہے۔
سعید:یہ ضروری کام کیا ہو سکتا ہے؟
حامد:ڈپٹی صاحب ہی جانیں۔۔۔ سوال توہے کہ اب جانا پڑے گا۔۔۔ (سعید کے ہاتھ سے تاش لیتا ہے۔) دیکھئے اگر سوئے اتفاق سے میری غیر حاضری میں آپ کی ان سے ملاقات ہو جائے اور وہ اس تاش کے بارے میں استفسار کریں تو۔۔۔
سعید:میں اپنی لاعلمی کا اظہار کروں ، لیکن اگر وہ اسی قسم کا دوسرا سودا کرنا چاہیں۔
حامد:تو میری طرف سے آپ کو اس کی کھلی اجازت ہے۔
سعید:تو چلئے ، اپنا اسباب بند کیجئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: