Churian Drama by Saadat Hasan Manto Read Online – Last Episode 4

0

چوڑیاں از سعادت از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 4

–**–**–


چوتھا منظر
(ڈپٹی صاحب کا گھر۔۔۔ ہال کمرہ۔۔۔ پر تکلف طریقے پر سجا ہوا۔ ڈپٹی صاحب دوہرے بدن کے بزرگ ہیں آرام کرسی پر بیٹھے ایک موٹا سگار پینے میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس حامد کھڑا ہے جیسے وہ ابھی اسٹیشن سے آ رہا ہے۔)
حامد:میں آپ کا تار ملتے ہی چل پڑا۔
ڈپٹی صاحب:تم نے بہت اچھا کیا۔ کیونکہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔
حامد:کس میں؟
ڈپٹی صاحب:تمہاری شادی میں۔
حامد:(حیرت سے)میری شادی میں۔۔۔ یعنی میری شادی ہو رہی ہے۔
ڈپٹی صاحب:قطعی طور پر ہو رہی ہے۔
حامد:کس کے ساتھ؟
ڈپٹی صاحب:ایک لڑکی کے ساتھ!
حامد:جس کو میں بالکل نہیں جانتا۔
ڈپٹی صاحب:ہاں !جس کو تم بالکل نہیں جانتے۔
حامد: اور شادی میری ہو رہی ہے؟
ڈپٹی صاحب:تم کہنا کیا چاہتے ہو؟
حامد:میں کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ شادی منظور نہیں۔
ڈپٹی صاحب:(غصے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں)کیا کہا؟
حامد:اباجی یہ سراسر ظلم ہے۔ میں کیسے اپنی شادی پر رضامند ہو سکتا ہوں۔۔۔ میں لڑکی کو جانتا نہیں۔۔۔ اس کی شکل سے ناواقف ہوں۔ جانے کس مزاج کی ہے۔۔۔ کیسے خیالات رکھتی ہے۔۔۔ میری عدم موجودگی میں مجھ سے مشورہ لیے بغیر آپ نے اتنا بڑا فیصلہ صادر کر دیا۔
ڈپٹی صاحب:میں تمہارا باپ ہوں۔
حامد:درست ہے لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ اباجی۔۔۔ آپ خدا کے لئے اتنا تو سوچیں۔پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ روشن خیال ہوں۔۔۔ دل میں جانے کیا کیا امنگیں ہیں اور پھر۔۔۔ اور پھر۔۔۔ اب میں آپ سے کیا کہوں مجھے معلوم ہوتا کہ آپ مجھے یہاں بلا کر یہ فیصلہ سنانے والے ہیں تو میں کبھی نہ آتا کہیں بھاگ جاتا۔۔۔ خود کشی کر لیتا۔
ڈپٹی صاحب:میں تمہاری یہ بکواس سننے کے لئے تیار نہیں۔
حامد:میں شادی کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔
ڈپٹی صاحب:دیکھوں گا تم کیسے نہیں کرتے؟
(غصے میں بھرے کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں۔)
حامد:(اپنے آپ سے)عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔۔۔ شادی نہ ہوئی کھیل ہو گیا۔۔۔ کیا کروں کیا نہ کروں ، میری جان عجب مصیبت میں پھنس گئی ہے۔(باپ کے الفاظ دہراتا ہے۔)دیکھوں گا تم کیسے شادی نہیں کرتے۔۔۔ چلئے فیصلہ ہو گیا۔۔۔ اب چاہے میری ساری زندگی تباہ ہو جائے (جیب میں تاش کا پیکٹ نکالتا ہے۔۔۔ صوفے پر بیٹھ جاتا ہے اور پتے پھینٹتے ہوئے کہتا ہے)یہ تاش ہی اب میری قسمت کا فیصلہ کرے گی۔۔۔ اگر تین پتوں نے راؤنڈ نہ بنائی تومیں کبھی شادی نہیں کروں گا اور اگر راؤنڈ بن گئی تو۔۔۔ قہر درویش برجان درویش کر لوں گا۔۔۔ جب شادی کو کھیل ہی سمجھا گیا ہے ، تویوں ہی سہی۔ میں بھی اس کا فیصلہ پتوں ہی سے کروں گا۔ (ایک ایک کر کے تین پتے پھینکتا ہے)دکی۔۔۔ تکی۔۔۔ اور۔۔۔ یہ چوکا۔۔۔ لعنت (تاش کی گڈی زمین پر پٹک دیتا ہے) آخری سہارا بھی دھوکا دے گیا۔
(حامد کی ماں جلدی جلدی کمرے میں داخل ہوتی ہے۔)
ماں :یہاں بیٹھے تاش کھیل رہے ہو۔۔۔ ماں سے نہیں ملنا تھا؟
حامد:(ماں کی طرف بڑھتے ہوئے)۔۔۔ امی جان۔۔۔ امی جان۔۔۔ میں شادی نہیں کروں گا۔
ماں :یہ کیا بے ہودہ بک رہے ہو؟
حامد:نہیں امی جان۔۔۔ مجھے ایسی شادی منظور نہیں۔ یعنی مجھ سے پوچھے بغیر میری شادی کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔
ماں :اس میں پوچھنے کی بات ہی کیا تھی۔ ماں باپ اندھے تو نہیں ہوتے۔
حامد:مجھے تو آپ لوگوں نے اندھا ہی سمجھا۔
ماں :ہم نے جو کچھ کیا ہے ، ٹھیک کیا ہے۔
حامد:میں مر جاؤں گا۔ لیکن اس طرح شادی کبھی نہیں کروں گا۔
ماں :کچھ ہوش کی دوا کرو۔ جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہو۔
حامد:آپ تو چاہتی ہیں بس گلا ہی گھونٹ دیں۔ آدمی اف تک نہ کرے۔
ماں :بڑا ظلم ہوا ہے تم پر۔
حامد:اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا یعنی میری ساری زندگی پر کاجل کا لیپ کیا جا رہا ہے۔۔۔ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک اندھیرے غار میں دھکیلا جا رہا ہے۔۔۔ اور ابھی کچھ ظلم نہیں ہوا۔۔۔ امی جا سچ کہتا ہوں اسے دھمکی نہ سمجھئے زہر کھالوں گا۔ گاڑی کے نیچے جا مروں گا اور ایسی شادی کبھی نہ کروں گا۔
ماں :تم پیدا ہی نہ ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ آج مجھے یہ دن دیکھنا تو نصیب نہ ہوتا(گلے سے آواز رندھ جاتی ہے۔) میں نے کس چاؤ سے تمہاری نسبت ٹھہرائی تھی۔
(رونا شروع کر دیتی ہے۔)
(دور سے ثریا کی آواز آتی ہے ، امی جان۔۔۔ امی جان۔۔۔ اس کے بعد وہ خود تیز قدمی سے اندر آتی ہے۔)
ثریا:امی جان آپ ادھر ہیں۔۔۔ اخاہ بھائی جان۔۔۔ آپ تشریف لے آئے۔۔۔ امی جان میں آپ کو ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔
ماں :کیا ہے؟
ثریا:ناپ لے آئی ہوں امی جان۔۔۔ لیکن کن مشکلوں سے ملا ہے۔۔۔ پر آپ خاموش کیوں ہیں؟۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں۔ بھائی جان کیا بات ہے؟
ماں :سنار باہر بیٹھا ہے؟
ثریا:ہاں بیٹھا ہے۔
ماں :اس سے کہہ دے کہ چلا جائے۔۔۔ ہمیں کنگنیاں نہیں بنوانا ہیں۔
ثریا:یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی جان۔۔۔ ناپ لے آئی ہوں۔
ماں :ثریا تو اس وقت جا۔۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ سنار سے کہہ دے کل آئے۔
ثریا:اس کا مطلب ہے ناپ موجود ہے تو پھر وہ کل کیوں آئے آج ہی کیوں نہ کام شروع کر دے تا کہ وقت پرمل جائے۔
ماں :جو دل میں آئے۔ کر۔ مجھ نصیبوں جلی کونہ ستا۔
ثریا:جانے آپ کس بات پر بھری بیٹھی ہیں۔ ستائیں آپ کو حامد بھائی جان اور کوسا مجھے جائے۔۔۔ وہ تو خیر اب نخرے کریں ہی گے ، بات بات پر بگڑیں گے۔۔۔ شادی جوہو رہی ہے۔۔۔ اچھا خیر، اس قصے کو چھوڑئیے مجھے اس کے لئے تحفہ خریدنا ہے۔ ابھی وہاں گئی تو معلوم ہوا کل اس کی سالگرہ ہے۔۔۔ کچھ روپے دیجئے مجھے !
ماں :میں کہتی ہوں دفان ہو یہاں سے۔ مغز نہ چاٹ میرا۔
(چلی جاتی ہے۔)
ثریا:(غصے میں حامد کی طرف بڑھتی ہے)حامد بھائی جان۔۔۔ آپ کیوں منہ میں گھنگھنیاں ڈالے کھڑے ہیں۔ جیسے آپ کے منہ میں زبان ہی نہیں ایک تومیں آپ کے کام کرتی پھروں اور پھر الٹا جھڑکیاں کھاؤں۔
حامد:میں اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
ثریا:تو لیجئے۔ یہ ناپ کی چوڑی آپ سنبھالئے۔ باہر سنار بیٹھا ہے اس سے جو کہنا ہو کہہ دیجئے۔
(حامد کے ہاتھ میں غصے سے چوڑی رکھ دیتی ہے۔)
حامد:(چوڑی دیکھ کر)ثریا۔ بات سنو۔۔۔ یہ چوڑی تم نے کہاں سے لی؟
ثریا:کہیں سے بھی لی ہو۔ آپ کو اس سے کیا؟
حامد:میں سمجھ گیا۔ میں سمجھ گیا۔ لیکن یہ واقعی اسی کی ہے نا۔۔۔ اسی کی؟
ثریا:نہیں بتاتی۔
حامد:میری اچھی بہن جو ہوئیں۔۔۔ بتاؤ کس کی ہے؟
ثریا:سمجھ گئے لیکن بار بار پوچھیں گے۔۔۔ مزہ آتا ہے۔۔۔ آپ کی ہونے والی بیوی کی ہے جس کی کلائی سے زبردستی اتار کے لائی ہوں۔
حامد:زبردستی۔ کیوں وہ اتارنے نہیں دیتی تھی؟
ثریا:ہاں ، کہتی تھی، نہیں میں یہ چوڑی کبھی نہیں دوں گی۔ کسی کا تحفہ ہے۔۔۔ تم کوئی اور لے جاؤ۔
حامد:اچھا۔
ثریا:پر میں ایک اور بہانے سے لے آئی کہ مجھے بھی ایسا ہی جوڑا منگوانا ہے۔
حامد:(خوش ہو کر)وہ مارا!
(بہن کو گلے لگا لیتا ہے۔)
ثریا:یہ کیا ہو گیا ہے آپ کو؟
حامد:چپ۔۔۔ اب میں ضرور شادی کروں گا۔۔۔ اب میں ضرور شادی کرونگا۔ امی جان کہاں ہیں؟
ثریا:یہ دیوانہ پن ے؟
حامد:اب میں ضرور شادی کروں گا۔ اب میں ضرور شادی کروں گا۔
ثریا:یا وحشت!
حامد:آج اس کی سالگرہ ہے نا؟
(تاش کے پتے اٹھانا شروع کرتا ہے۔)
ثریا:ہے تو سہی۔ پریہ آپ تاش کے پتے کیا اکٹھے کر رہے ہیں۔
حامد:ٹھہرو ابھی بتاتا ہوں۔(تاش کے پتے اکٹھے کر کے بکس میں ڈالتا ہے) ثریا تم اسے کوئی تحفہ دینا چاہتی ہونا؟
ثریا:جی ہاں !
حامد:تو ایسا کرو یہ تاش لے جاؤ۔
ثریا:تاش؟
حامد:ہاں۔ تم یہ پیکٹ اسے تحفے کے طور پر دے دو اور پھر دیکھو کیا ہوتا ہے میرے منہ کی طرف کیا دیکھتی ہو؟کہہ جو دیا، ا س سے بہتر اور تحفہ نہیں ہو سکتا۔۔۔
(گاتا ہے۔)
ہونٹوں پر ان سنے ترانے جھیل میں جیسے تارے
بانکی چتون میں وہ جھل مل جو کھیلے سو ہارے
چہرے پر لالی سی جیسے کلیاں ندی کنارے
حسن کے اس امڈے دھارے میں ڈھونڈے کون سہارے
(پردہ)
٭٭٭

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: