Darr Horror Novels Safa Asim

Darr Novel by Safa Asim – Episode 1

Darr Novel by Safa Asim
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

ڈر از صفاء عاصم – قسط نمبر 1

–**–**–

 ہانیہ ابھی چھوٹی سی تھی کہ اس کے والد کی کار ایکسیڈنٹ میں موت ہو گئی۔ اس کی امی فوزیہ کی چھوٹی عمر میں شادی کردی گئی تھی۔ تمام رشتہ داروں کے زور دینے کے کی وجہ سے فوزیہ کو دوسری شادی کرنی پڑی۔
فوزیا کا سسرال بہت اچھا تھا سب اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کی دو نندیں تھیں سارا اور فلزا ۔ سارا چھوٹی تھی اور آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی جبکہ فلزا بڑی بہن کالج میں پڑھتی تھی۔
شروع شروع میں تو ہانیہ بہت ڈری سہمی رہتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے تمام گھر والوں سے انسیت ہو گئی۔ خاص طور پر فلزا اور سارا جن سے وہ بہت زیادہ قریب ہو گئی تھی۔ سکول اور کالج سے واپسی پر دونوں بہنیں ہانیہ کے ساتھ لگی رہتیں۔ شادی سے پہلے فوزیہ ہانیہ کے بارے میں بہت فکرمند رہتی تھی لیکن جب اس نے دیکھا کہ ہانیہ کو بہت پیار مل رہا ہے تو وہ بے فکر ہوگئی۔
ہانیہ جب تین سال کی ہوئی تو اسکا بھائی ارسلان دنیا میں آیا جس کی وجہ سے گھر میں زیادہ رونق لگی رہتی۔ چار سال کی عمر میں ہانیہ کا اسکول میں ایڈمیشن کروا دیا گیا۔ اسی سال فلزا کی رخصتی ہو گئی۔ جس کی وجہ سے گھر میں اب صرف سارا، ہانیہ اور ارسلان ہوتے۔ زندگی اسی طرح ہنسی خوشی چل رہی تھی کہ ایک دن کچھ انہونی ہوگئی۔
فوزیا ہانیہ کو اسکول سے چھٹی کے وقت واپس لا رہی تھی۔ اچانک گلی سے گزرتے ہوئے فوزیہ کا پاؤں پھسلا اور وہ کچرے کے ڈھیر میں جا گری۔ خوش قسمتی سے اس کو زیادہ چوٹیں نہیں آئیں، صرف پاؤں میں چھوٹی سی موچ آگئی۔
گھر آکر اس نے پاؤ پر کچھ مرہم لگائی اور آرام کرنے کا سوچا۔ بیڈ پر لیٹتے ہی اسکو گہری نیند آگئی۔ فوزیہ نے خواب میں خود کو ایک گہرے جنگل میں اندھا دھند بھاگتے ہوئے پایا۔ شاید وہ کسی جانور سے اپنی جان بچا رہی تھی ۔ وہ جانور اسکا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ ڈرنے لگی۔ اچانک اس کا پیر پھسلا اور وہ منہ کے بل گر پڑی۔ اس کے پیچھے بھاگنے والے جانور نے اپنے دانت اس کی گردن میں گاڑ دیے۔
اچانک ایک چیخ کے ساتھ فوزیہ نیند سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ پسینے میں شرابور ہو رہی تھی۔ اس کا سر بھاری ہو رہا تھا اور پورا جسم دکھ رہا تھا۔
چیخ کی آواز سن کر اس کا شوہر عامر بھی اٹھ بیٹھا تھا۔ اس نے پریشانی سے فوزیہ سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کیا کوئی برا خواب دیکھا ہے؟ فوزیہ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھا۔ کوئی جانور میرا پیچھا کر رہا تھا اچانک میرا پیر پھسلا اور میں گر پڑی تو اس جانور نے مجھے گردن پہ کاٹ لیا۔ فوزیہ نے ڈرتے ہوئے بتایا۔
کوئی بات نہیں تم آیت الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر اپنے اوپر دم کرو اور سو جاؤ۔ عامر نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔ فوزیہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے لیٹ گئی۔ بیڈ پر لیٹتے ہی اسے احساس ہوا کہ اس کی گردن میں کچھ چیز چبھ رہی ہے۔ اس نے گردن پر ہاتھ پھیرا تو کچھ جلن سی محسوس ہوئی۔
فوزیہ اٹھ کر واش روم میں گئی۔ اس نے آئینے میں اپنی گردن کی پچھلی طرف دیکھا تو وہاں پر ایک زخم تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کسی جانور نے اپنے پنجوں سے نوچا ہو۔ فوزیہ بہت حیران ہو گئی۔ اس نے جلدی سے زخم صاف کیا اور ایک مرہم لگا لی۔
اس نے وضو کیا اور باہر کمرے میں جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئی۔ ابھی فجر نہیں ہوئی تھی لہٰذا اس نے تہجد پڑھ کر اپنے لیے دعا مانگی۔ اس کے بعد اس کا دل کچھ پرسکون ہوا تو وہ سو گئی۔
صبح اٹھ کر اس کے معمول کے کام جاری ہوگئے۔ ہانیہ کو سکول بھیج کر جب وہ باقی گھر والوں کے لیے ناشتہ بنانے لگی تو سارا اس کے پاس آئی اور پوچھا کہ بھابی آپ رات کو کس وقت واپس اپنے کمرے میں گئیں؟ فوزیہ نے حیران ہوتے ہوئے جواب دیا کہ میں کب تمہارے کمرے میں آئی؟ بھابھی یاد کریں جب میں رات کو اپنے کالج کے یگزام کا پڑھ رہی تھی تو آپ میرے کمرے میں آئی تھیں۔ مجھے آپ نے کہا کہ آپ آج میرے ساتھ سوئیں گی۔ میں نے آپ سے ارسلان اور ہانیہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا تھا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں۔ آپ کو ابھی نیند نہیں آ رہی لہذا آپ آج میرے ساتھ ہی سوئیں گی۔ اس کے بعد ہم دونوں نے خوب مل کر ہلہ گلہ کیا اور ساری رات مزے سے باتیں کیں۔ اتنا کہہ کر سارا زور زور سے ہنسنے لگی۔
اپریل فول بھابھی یہ کہ سارا نے فوزیہ کو گلے لگا لیا۔ اوفوہ سارا میں تو ڈر ہی گئی تھی کہ میں کب رات کو تمہارے کمرے میں آئی، تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔ یہ کہہ کر فوزیہ بھی ہنسنے لگی۔ ارے نہیں بھابھی میں تو ہلے گلے کی بات پر اپریل فول کہہ رہی تھی۔ کمرے میں تو آپ میرے آئی تھیں نہ؟🌹🌹
سارا کی اس بات پر فوزیہ کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ اسے لگا کہ سارا شاید پھر سے مذاق کر رہی ہے ۔
اس نے پھر سے اپنی بات دہرائی اور کہا کہ رات میں وہ اپنے ہی کمرے میں تھی۔
سارا حیرانی سے اپنی بھابھی کو دیکھنے لگی اور اچانک ہنسنے لگی۔ اچھا بھابھی تو اب آپ مجھے اپریل فول بنانے کی کوشش کر رہی ہیں نا؟ سارا نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ فوزیہ کچھ کہتی، باہر سے سارا کی وین کے ہارن کی آوازیں آنے لگیں ۔ سارا ہنستے ہوئے نائس جوک بھابھی کہہ کر باہر بھاگ گئئ۔
فوزیہ وہیں حیران و پریشان کھڑی رہ گئی۔
خیر اس نے اس بارے میں بعد میں دیکھنے کا سوچا اور اپنے بقیہ کام نبٹانے لگی۔
کام سے فارغ ہو کر اس نے ظہر کی نماز ادا کرنے کا سوچا۔
وضو کرنے کے لیے جب وہ باتھ روم گئئ تو اپنی گردن والی چوٹ کا معائنہ کرنے کا سوچا ۔ اس نے جب آئینہ میں دیکھا تو حیران رہ گئی کیونکہ اب وہاں کوئی زخم نہیں تھا۔
یہ واقعہ اسکو بہت عجیب لگا۔ وہ دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی۔
اچانک اس کو خیال آیا کہ آج وہ ابھی تک ہانیہ کو اسکول سے لے کر نہیں آئی۔ اس کی چھٹی ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔
ہانیہ کو اسکول سے لینے کے بعد اس کو کچھ سامان خریدنا تھا تو اس نے بازار کا رخ کیا۔
بازار پہنچ کر وہ اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے لگی۔ اس نے ہانیہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
کچھ دیر یہاں وہاں سے چیزیں لینے کے بعد ہانیہ کو بھوک لگنے لگی اور وہ کچھ کھانے کی ضد کرنے لگی۔ وہ دونوں ایک چپس کی شاپ پر گئیں۔
ہانیہ کو چپس دلوا کر جب اس نے پرس میں سے دوکاندار کو پیسے دینے چاہے تو اچانک کہیں سے ایک بھاری بھرکم عورت فوزیہ سے آ ٹکرائ۔
فوزیہ اس کے لئے تیار نہ تھی اور پیچھے کی طرف گر گئی۔ اس کا سامان بھی پھیل گیا تھا۔
اس سے پہلے کہ فوزیہ اس عورت کو کچھ کہہ پاتی، اسکو ہانیہ کا خیال آیا۔
وہ جلدی سے اٹھی اور ہانیہ کو دیکھا، لیکن وہ اسکو کہیں بھی نظر نہ آئی۔ فوزیہ بہت پریشان ہوگئی اور اس کی حالت غیر ہونے لگی۔
اس نے سارا سامان وہیں چھوڑ کر ہانیہ کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔
اس نے آس پاس کے لوگوں کو ہانیہ کا حلیہ بتایا اور ان سے پوچھا لیکن کسی کو بھی ہانیہ کے بارے میں نہیں معلوم تھا۔
وہ پریشان ہو کر رونے لگی۔ اس کا پرس اور سارا سامان بھی لاپتہ تھا۔
اچانک اسکو عامر کو کال کرنے کا خیال آیا لیکن موبائل پرس میں تھا جو کہ اب پتا نہیں کہاں تھا۔
اس نے پاس کے دکاندار سے موبائل مانگا اور عامر کو کال لگائی۔ لیکن فون بند جا رہا تھا ۔
اس نے باقی گھر والوں کو ٹرائے کیا لیکن سب بےسود۔ سب کے نمبر بند تھے، حالانکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔
وہ کافی گھبرا گئی اور اس نے واپس اپنے گھر کی طرف جانے کا سوچا۔ پورا راستہ وہ روتے ہوئے اپنے گھر کی طرف آئی۔
گھر پہنچتے ہیں اس نے دھڑا دھڑ دروازہ بجانا شروع کر دیا۔ دروازہ اس کی نند سارا نے کھولا۔
سارا اپنی بھابھی کی یہ حالت دیکھ کر بہت پریشان ہو گئی اور پوچھنے لگی کہ بھابھی کیا ہوا؟
فوزیہ نے اس کو روتے ہوئے ساری بات بتائی کہ کس طرح وہ بازار گئی اور وہاں پر ہانیہ اس سے گم ہو گئی۔
یہ بات سن کر سارا اپنی بھابی کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔
فوزیہ کو سمجھ نہیں آیا کہ سارا اس کو اس طرح کیوں دیکھ رہی ہے۔ سارا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو گھر کے اندر لائی۔
اندر کا منظر بہت حیران کن تھا۔ اس کو دیکھ کر فوزیہ کی گھگھی بن گئی۔🌹
ہانیہ صحن میں بیٹھی ارسلان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ کچھ ہوا ہو۔
اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، اس کے سر میں درد ہونے لگا۔
فوزیہ نے سارا سے پوچھا کہ ہانیہ یہاں پر کس طرح سے آئی؟ وہ تو بازار میں گم ہو گئی تھی۔
میں کب سے اسے ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ مجھے نہیں ملی بلکہ میں نے تم سب کو کال بھی کی تھی لیکن تم میں سے کسی نے بھی فون نہیں اٹھایا۔
فوزیہ کو اپنی بھابھی کی حالت ٹھیک نہیں لگی۔
وہ اسے اندر کمرے میں لے کر آئی اور پانی کا گلاس دیا۔
پانی پی کر فوزیہ کو تھوڑا سکون محسوس ہوا۔
وہ سارا سے پوچھنے لگی یہ سب کیا ہے؟
سارا نے بتانا شروع کیا، بھابھی ابھی آپ کچھ دیر پہلے ہانیہ کو لے کر سامان کے ساتھ گھر آ گئی تھیں کیونکہ اس کو بہت بھوک لگ رہی تھی اور آپ کا کہنا تھا کہ بازار کے کھانے سے اچھا ہے کہ گھر کا کھانا کھایا جائے۔
گھر آکر آپ کو یاد آیا کہ آپ نے کسی سبزی والے کے پیسے نہیں دیے۔ آپ فورا اٹھیں اور پیسے دینے چل پڑیں۔
میں نے آپ کو کہا بھی کہ بھائی دیتے ہوئے آجائیں گے لیکن آپ نے ایک نہ سنی اور چلی گئیں۔
اور ابھی آپ تھوڑی دیر بعد آئیں تو یہ کہہ رہی ہیں کہ آپ سے ہانیہ بازار میں گم ہوگئی حالانکہ اس کو تو آپ خود گھر لے کر آئیں تھیں۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
فوزیہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
اس نے ساری بات سارا کو بتانے کا سوچا، اور شروع سے سب کچھ بتا دیا۔
فوزیہ ابھی بتا کے ہی چکی تھی کہ باہر سے ارسلان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔
وہ دونوں گھبرا کر باہر بھاگیں۔ صحن میں ایک خوفناک منظر ان کا انتظار کر رہا تھا۔
چھوٹا سا ارسلان زمین پر پڑا ہوا تھا اور ہانیہ بہت زور سے پے در پے اس کے منہ پر تھپڑ مار رہی تھی۔
تھپڑ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کا منہ لال ہو چکا تھا اور اسی وجہ سے وہ رو رہا تھا۔
فوزیہ فورا ہانیہ کو پکڑنے کے لیے بھاگی۔
اتنے میں سارا نے ارسلان کو اٹھایا اور اس کو چپ کروانے کے لیے اندر کمرے میں چلی گئی۔
جب فوزیہ نے ہانیہ کو پکڑا تو وہ بہت زور زور سے چیخنے لگی۔
وہ اپنے آپ کو فوزیہ کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔ فوزیہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ہانیہ جیسی چھوٹی سی بچی کی طاقت اتنی زیادہ ہو گئی تھی جیسے کہ کسی نوجوان کی ہو۔
فوزیہ زور زور سے قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی۔
ہانیہ نے اپنے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر چیخنا شروع کر دیا کہ بند کرو بند کرو۔
اس کی شکل نہایت عجیب ہو گئی تھی، وہ پہچان میں نہیں آ رہی تھی۔ بے حد جھریوں ذدہ چہرہ اور چہرے پہ جا بجا تازہ زخم کے نشانات جن سے خون رس رہا تھا۔
کٹے پھٹے ہونٹ جن میں سے سڑے ہوئے پیلے دانت باہر جھانک رہے تھے۔
آنکھیں باہر کو ابلی ہوئی تھیں جو کہ بلکل سفید ہو رہی تھیں۔
فوزیہ کو اپنی بیٹی سے بے تحاشہ ڈر محسوس ہوا۔
لیکن وہ ماں تھی، اپنی بیٹی کو اس حالت میں چھوڑ نہیں سکتی تھی۔
لہذا اس نے اور زور سے قرآنی آیت کا ورد کرنا جاری رکھا۔ ہانیہ کی بھرپور کوشش جاری تھی کہ کسی طرح سے وہ اپنی جان چھڑا کر بھاگ جائے۔
اچانک اس نے فوزیہ کے ہاتھ پر بہت زور سے کاٹ لیا۔ وہ درد سے بلبلا اٹھی۔
فوزیہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس نے بہت سختی سے ہاتھ جکڑا ہوا تھا۔
فوزیہ کے ہاتھ سے خون بہنے لگا۔
اس کی توجہ اپنے ہاتھ پر چلی گئی اور اس موقع کو غنیمت جان کر ہانیہ فوزیہ سے اپنے آپ کو چھڑوا کر گھر سے باہر نکل گئی۔
فوزیہ گھبرا کر جلدی سے اٹھی اور باہر کی طرف ہانیہ کے پیچھے لپکی۔
اسی اثنا میں اسکو خیال آیا کہ سارا اور ارسلان اندر اکیلے ہیں۔
وہ اندر کمرے کی طرف بھاگ گئی تو دیکھا سارا ارسلان کو گود میں لیے بیٹھی تھی اور زاروقطار رو رہی تھی۔
اس کو دیکھتے ہی وہ فوزیہ کی طرف آئی تو سارا نے پوچھا کہ بھابھی ہانیہ کہاں ہے؟
فوزیہ نے اس کو ساری بات بتائی اور کہا میں اس کو باہر ڈھونڈنے جا رہی ہوں۔
سارا فورا سے اٹھی اور بولی کے بھابھی میں بھی چلتی ہوں۔
فوزیہ نے جواباً کہا کہ نہیں تم گھر میں رہ کر ارسلان کا خیال رکھو اور عامر کو کال لگانے کی کوشش کرتی رہوں۔
اتنا کہہ کر فوزیہ چلی گئی۔ باہر گلی میں آ کر اس نے ادھر ہانیہ کو ڈھونڈنا شروع کر دیا کیا لیکن وہ اس کو کہیں بھی نظر نہیں آئی۔
پڑوسیوں سے دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھا بھی لیکن کسی کو بھی ہانیہ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔
چلتے چلتے وہ ہانیہ کے سکول کی طرف جانے لگی کے شاید ہانیہ کا وہاں اسے پتہ چل جائے۔
راستے میں اس کا گزر اسی کچرا کنڈی کے ڈھیر کے پاس سے ہوا جہاں پر وہ ایک دن گری تھی۔
وہاں ایک بھیانک نظارہ اس کا منتظر تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: