Darr Horror Novels Safa Asim

Darr Novel by Safa Asim – Last Episode 2

Darr Novel by Safa Asim
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin

ڈر از صفاء عاصم – آخری قسط نمبر 2

–**–**–

 وہاں ایک بھیانک نظارہ اس کا منتظر تھا۔
ہانیہ کچرے کے ڈھیر پر اکڑوں بیٹھی کچرا دونوں ہاتھوں سے کھانے میں مصروف تھی۔
وہ آس پاس کے ماحول سے بیگانہ تھی۔
فوزیہ کو یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی تھی کہ اس کی بچی کس حالت میں تھی۔
اس نے دکھ سے آنکھیں میچ لیں۔
اسی دوران مغرب کا وقت ہو گیا اور پاس کی مسجد سے اذان کی آواز آنے لگی۔
اذان کی آواز سنتے ہی ہانیہ بری طرح تڑپنے لگی اور اچانک غش کھا کر گر پڑی۔
فوزیہ جلدی سے آگے بڑھی اور اس کو گود میں اٹھا لیا۔
اس نے دیکھا تو ہانیہ کا چہرہ اب نارمل ہو چکا تھا۔
بچی کے چہرے پر بہت تھکن کے آثار تھے جیسے کہ کئی دن کی جاگی ہوئی ہو۔
ابھی اس نے اپنے گھر جانے کا سوچا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اس کی تو جان ہی نکل گئی۔ وہ فورا ڈر کے پیچھے مڑی تو عامر کو دیکھ کر تھوڑا پرسکون ہوئی۔
عامر نے اسے بتایا کہ وہ ڈھونڈتے ہوئے اس کو یہاں تک آیا ہے۔
وہ فوزیہ کو لے کر اپنے گھر کی طرف چلنے لگا۔
راستے میں چلتے ہوئے فوزیہ نے اس کو ساری بات گوش گزار کر دی۔
جب وہ گھر پہنچے تو ہانیہ کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے۔
ہانیہ کو ہوش تو آگیا لیکن اس کی حرکتیں بدستور جاری تھی۔
کبھی وہ اپنے ہاتھوں کو چاٹتی تو کبھی پیروں کو۔
وہ تمام گھر والوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔
تب ہی عمر کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو رسی سے باندھ کر رکھنا پڑا۔
فوزیہ اور سارا دونوں قرانی آیات کا ورد کر رہی تھی لیکن کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
اسی اثنا میں عامر کو اپنے دوست شفیق کے تایا کا خیال آیا جو کہ مسجد میں پیش امام تھے۔
وہ کافی لوگوں کی اس حوالے سے مدد بھی کیا کرتے تھے۔
وہ جلدی سے گھر سے نکلا اور مسجد کی طرف چل پڑا۔
راستے میں اس نے اپنے دوست شفیق کو بھی لے لیا اور اس کو سارا ماجرا بتایا۔
شفیق نے دلاسہ دیا کہ ہاں ضرور تایا تمہاری مدد کریں گے۔
وہ دونوں مسجد پہنچ گئے۔
لیکن ان کو وہاں جا کر پتہ چلا کہ آج تایا موجود نہیں ہیں۔
وہ کسی دوسرے شہر ضروری کام سے گئے ہوئے ہیں۔
یہ جانتے ہی عامر کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔
وہ بہت زیادہ پریشان ہوا اور شفیق سے کہنے لگا کہ اب کیا کریں۔
اس نے کہا کہ رکو میں کال کر کے پوچھتا ہوں۔
اس نے کال کرنے کی بہت کوشش کی لیکن تایا کال رسیو نہیں کر رہے تھے۔
عامر بہت زیادہ پریشان تھا اسی لیے اس نے پوچھا کیا کوئی اور حل نہیں ہے؟
یہ کہہ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
شفیق سے اپنے دوست عامر کی یہ حالت دیکھی نہیں گئی اور وہ اس کو اپنے گھر لے آیا۔
گھر آ کر اس نے اپنی الماری سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا جس پر بہت باریکی سے نفیس کام کیا گیا تھا۔
شفیع وہ ڈبہ لے کر عامر کے سرہانے بیٹھ گیا۔
اس کو کھولتے ہی کمرے میں ایک بھینی بھینی خوشبو پھیل گئی۔
اس ڈبہ میں ایک تعویز تھا۔ شفیق نے بتانا شروع کیا۔
بہت سال پہلے میرے تایا نے یہ تعویز مجھے ایک حفاظتی بند کے طور پر دیا تھا۔
وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں لہٰذا یہ ایک طرح سے انھوں نے مجھے اپنی سکیورٹی کے لیے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی میں کسی مشکل یا مصیبت میں پڑوں تو یہ تعویذ گلے میں ڈال لوں۔
اس سے میری تمام مشکلات آسان ہو جائیں گی۔
یہ ان کا بہت پڑھا ہوا اور کافی دم کیا ہوا تعویذ ہے لیکن ابھی مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے تو میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ تعویذ تم لے لو اور جا کر ہانیہ بیٹی کے گلے میں پہنا دو۔
انشاءاللہ اس سے حالات میں فرق پڑے گا اور تمہاری مشکلات میں آسانی ہو جائے گی۔
عامر اپنے دوست کا بہت مشکور ہوا اور اس کا شکریہ ادا کرنے لگا۔
اچانک اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔
اس نے دیکھا تو فوزیہ کی کال تھی۔ وہ پریشان ہو گیا۔
اس نے کال اٹھائی تو دوسری طرف سے سارا کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی۔۔۔
رسیو کرتے ہی عامر نے پوچھا، خیریت تو ہے تم نے فوزیہ کے نمبر سے کیوں کال کی؟
نہیں بھائی کچھ خیریت نہیں ہے۔
یہ کہہ کر سارا رونے لگی۔
بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا؟
عامر نے تشویش سے پوچھا۔
بھائی ہانیہ بہت زیادہ رو رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر رسیوں کے جکڑنے سے نشانات ہو گئے تھے۔
تو بھابھی کو اس پر بہت ترس آیا اور انہوں نے اس کی رسیاں کھول دیں۔
میں نے ان کو بہت منع بھی کیا لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی۔
رسیوں کے کھلتے ہی اس نے بھابھی کو گردن پر کاٹ لیا اور ارسلان کو گود میں لے کر گھر سے باہر بھاگ گئی۔
میں نے ارسلان کو اس سے لینے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے مجھے بہت زور سے دھکا دیا جس کی وجہ سے میں گر گئی تو اس کو باہر بھاگنے کا موقع مل گیا اور اسی لیے میں نے آپ کو فون کیا ہے کہ آپ جہاں بھی ہوں جلدی آ جائیں۔
میں بھی ابھی باہر جا رہی ہوں اس کو ڈھونڈنے۔
اوہ میرے خدایا یہ کیا ہو گیا، تم گھر پر ہی رکو میں فورا آ رہا ہوں ہوں۔
عامر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے بھائی لیکن آپ جلدی آجائیں۔ سارا نے غمگین آواز میں کہا۔
عامر نے شفیق سے کہا کہ ہمیں گھر چلنا ہو گا جلدی، تم بھی ساتھ چلو حالات بہت خراب ہیں۔
وہ دونوں ڈبہ ساتھ لے کر نکل پڑے۔ چلتے چلتے عامر کو خیال آیا تو وہ اپنے گھر کی طرف جانے کے بجائے اسی کچرا کنڈی کے ڈھیر کے طرف چل دیا۔
شفیق کے پوچھنے پر اس نے شبہ ظاہر کیا کہ شاید وہ یہاں ہو سکتی ہے۔
جب وہاں گئے تو عامر کا شک درست نکلا۔
وہ وہیں پر بیٹھی ہوئی تھی لیکن اس دفعہ منظر کچھ اور تھا۔
زمین پر چاک سے ایک دائرہ بنا ہوا تھا۔
اس کے بیچ میں ہانیہ بیٹھی ہوئی تھی۔
اس کے ہونٹ ہل رہے تھے جیسے کہ کچھ پڑھ رہی ہو۔
اس کے ایک ہاتھ میں انسانی کھوپڑی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں بڑے موتیوں والی ایک مالا۔
اس کا چہرہ بہت ہیبت ناک تھا۔ اس میں جگہ جگہ زخم تھے اور ان میں سے خون رس رہا تھا۔
عامر اور شفیق دونوں کو یہ دیکھ کر بہت خوف محسوس ہوا۔
وہ جیسے ہی اس کی طرف بڑھنے لگے تو اس نے اپنی دونوں آنکھیں کھول دیں اور منہ کھول کر غرانے لگی، جس سے اس کے بڑے اور نوکیلے دانت صاف دکھ رہے تھے۔
دائرے کے اندر ہانیہ کے سامنے ایک مردہ بلی بھی پڑی ہوئی تھی جس میں سے بہت گندی بو آ رہی تھی۔
عامر نے ڈبہ شفیق کے ہاتھ سے لیا اور ہانیہ کے گلے میں تعویذ پہنانے کے لئے آگے بڑھا تو ہانیہ اس کے ارادے کو بھانپ گئی اور فوراً وہاں سے اچھل پڑی۔
شاید وہ اتنی آسانی سے تعویذ پہننے والی نہیں تھی۔
شفیق نے عامر کو کہا کہ تم اس کو باتوں میں لگاؤ، میں پیچھے سے اس کے گلے میں تعویذ ڈال دوں گا۔
چنانچہ عامر نے ایسا ہی کیا۔
وہ ہانیہ کے سامنے آیا اور اس سے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگنے لگا۔
میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو یہ معصوم اور نادان ہے اس نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا۔
ہانیہ نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
عامر بہت حیران ہو گیا لیکن وہ اسی طرح سے معافی مانگتا رہا کہ بچی کی جان چھوڑ دو۔
اتنے میں شفیق ہانیہ کے پیچھے گیا اور تعویز ہاتھ میں لے کے اس طرح سے ہوا میں اچھالا کہ وہ سیدھا ہانیہ کے گلے میں آگیا۔
تعویذ کے گلے میں آتے ہیں وہ بری طرح چنگھاڑنے لگی۔
ابھی وہ بری طرح چیخ ہی رہی تھی کہ اس کے گرد بنا ہوا دائرہ جلنا شروع ہو گیا۔
اس میں سے شعلے نکلنے لگے آگے اور ان کی ان میں وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔
یہ دیکھ کر وہ بہت چیخی چلائی اور زمین پر تڑپنے لگی۔
آہستہ آہستہ اس کا چہرہ واپس نارمل ہونے لگا اور وہ بے ہوش ہو گئی۔
عامر نے اس کو گود میں اٹھا لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔
گھر پہنچ کر ایک بری خبر اس کی منتظر تھی۔۔۔🌹
ہانیہ کے کاٹنے کی وجہ سے فوزیہ کی حالت بہت خراب تھی۔
وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی اور الٹی سیدھی حرکتیں کر رہی تھی۔
وہ فوزیہ کو کمرے میں لے گیا۔
اتنے میں باہر کا دروازہ بجا۔
شفیق دیکھنے گیا تو سامنے اس کے تایا کھڑے ہوئے تھے۔
وہ ان کو اندر لے کر آ گیا اور عامر کو بتایا کہ میرے تایا آ گئے ہیں۔
عامر نے ان کو سب کچھ بتانا چاہا تو انھوں نے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور کمرے میں چلے گئے۔
سب لوگ ان کے ساتھ ہی سب کمرے میں آ گئے۔
ان کو دیکھ کر فوزیہ اور زیادہ بھڑک گئی اور زور زور سے چیخنے لگی۔
وہ آگے بڑھے اور اس کے ماتھے پر انگوٹھا رکھ دیا جس سے فوزیہ سکون میں آگئی اور چپ کر کے بیٹھ گئی۔
انہوں نے اپنی تسبیح پر کچھ پڑھنا شروع کیا جس سے وہ بیڈ پر گری اور ایک گہری نیند میں چلی گئی۔
انہوں نے عامر کو بتایا کہ ابھی کچھ دیر میں یہ ہوش میں آجائے گی، تم فکر نہ کرو۔
یہ کہتے ہی وہ باہر صحن میں واپس آگئے۔
انھوں نے ہانیہ کو پکڑ کر زمین پر سیدھا بٹھا دیا، اور حیران کن طور پر وہ بیٹھ بھی گئی حالانکہ وہ اس وقت بےہوش تھی۔
سارا یہ دیکھ کر کہ کافی ڈر گئی اور ننھے ارسلان کو لے کر اندر کمرے میں فوزیہ کے پاس چلی گئی۔
شفیق کے تایا جی نے اپنی پڑھائی شروع کر دی۔
جیسے جیسے وہ پڑھتے جاتے ہانیہ کے جسم پر کپکپی طاری ہونا شروع ہوگیا۔
آہستہ آہستہ ان کی آواز بھی تیز ہوتی جا رہی تھی۔
وہ دوسرے ہاتھ سے تسبیح کے دانوں کو گھما رہے تھے۔
انہوں نے شفیق سے ایک پانی کی بوتل لانے کا کہا۔
جب وہ بوتل لے کر آیا تو انہوں نے اس پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری اور اس بوتل میں سے کچھ چھینٹے نکال کر انھوں نے ہانیہ کے چہرے پر مارے تو اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔
اس کا چہرہ بے حد خوفناک تھا، باہر کو ابلی ہوئی اور گہری سرخ رنگ کی آنکھیں۔
انہوں نے غصے سے پوچھا کے اس بچی پر کیوں حاوی ہوئے ہو؟
پہلے تو وہ کچھ نہ بولی، صرف قہقے لگاتی رہی۔
لیکن جب انہوں نے اس پانی کی بوتل سے کچھ اور چھینٹے مارے تو چیخنا شروع ہو گئی اور اور سب کچھ بتانے لگی۔
ایک دن یہ اور اس کی ماں ہمارے آشیاں یعنی کچرا کنڈی کے ڈھیر کے پاس سے گزر رہے تھے، کہ اچانک اس کی ماں کا پیر پھسلا اور وہ گر گئی۔
اس بچی نے وہاں پر پڑی ہوئی ہماری ایک قیمتی شے اٹھا لی۔
اس کی ماں چاہتی تو اس کو روک سکتی تھی لیکن اس نے نہیں روکا۔
وہ ایک قیمتی پتھر تھا جو کہ ہمارے پیروں کی امانت تھا جسے یہ اپنے ساتھ گھر لے آئی۔
مجھے اس پر بہت غصہ آیا اور جب سے میں اس کے ساتھ ہوں۔
اب میں اس کو تباہ و برباد کر کے رکھ دوں گا جب تک کہ مجھے میرا پتھر نہ ملا۔
وہ بولے کہ یہ چھوٹی نادان بچی ہے۔
اس نے جان بوجھ کر تمہاری چیز نہیں۔
اٹھائی یہ تمہارا پتھر واپس کر دے گی لیکن تم ان لوگوں کا پیچھا چھوڑ دو۔
پہلے تو وہ نہ مانا لیکن جب انہوں نے اپنی پڑھائی شروع کی اور اس پر پھر سے پانی پھینکا تو وہ مان گیا اور پتھر لے کر جانے کا وعدہ کر لیا۔
ایک دم سے ہانیہ اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔
وہ تینوں بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے دیکھنے کے کیا کرتی ہے۔
اس نے اپنے کھلونوں کی الماری کا دروازہ کھولا اور اس میں سے ایک بکس نکالا۔
اس کو کھولا تو اس کے اندر ایک چھوٹا سا چمکتا ہوا پتھر تھا۔
اس نے وہ ہاتھ میں لیا اور مٹھی بند کر دی اور ایک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی۔
تایا جی نے وہی پانی اس پر پھینکا اور شفیق کو بوتل دی کہ اس گھر کے ہر کونے میں پانی کو ڈالو۔
پھر انھوں نے اپنی پڑھائی شروع کردی۔
اس کے کچھ دیر بعد ہی ہانیہ ہوش میں آ گئی۔
اس تمام واقعے کے بعد عامر نے تایا جی کا بہت شکریہ ادا کیا کیونکہ انہوں نے اس کی فیملی کی جان بچائی تھی۔
وہ مسکرائے اور بولے بس آئندہ سے اپنے گھر والوں کا خیال رکھنا اور کسی الٹی سیدھی چیز کے قریب مت جانے دینا۔
خدا حافظ کہہ کر وہ شفیق چلے گئے۔
عامر کمرے میں فوزیہ کے پاس آیا اور اس کو جگایا۔
وہ اٹھ گئی تو اس نے ہانیہ کے متعلق پوچھا۔
عامر نے اس کو بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اور اب وہ سو رہی ہے کیونکہ بہت تھکی ہوئی تھی۔
اس نے فوزیہ اور سارا دونوں کو ساری بات بتائی اور تایا جی کی ہدایت کے مطابق ان کو آگاہ کیا۔
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا ہم خیال رکھیں گے۔
ماحول خوشگوار ہوگیا۔
عامر ارسلان کے ساتھ کھیلنے لگا اور سارا کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔
جبکہ فوزیہ ہانیہ کو مرہم لگانے لگی کیونکہ اس کے کچھ چوٹیں آئیں ہوئی تھیں۔
سارا کچن میں گئی تو اس کی مٹھی بند تھی۔
اس نے مٹھی کھولی تو اس میں چھوٹا سا قیمتی چمکتا ہوا پتھر تھا۔
اس کو دیکھ کر ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رقصاں تھی۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: