Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 1

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 1

–**–**–

چوبیس سال کی وہ دلکش خوبصورت حسینہ سورج کی کرنوں کا سا سنہری روپ لئیے سنجیدگی سے بریفننگ سن رہی تھی اس کے لمبے سرخی کی آمیزش لئیے سنہرے بال اس کی کمر پر لہرا رہے تھے بلیک ڈریس پینٹ پر سفید شرٹ اور کالا کوٹ پہنے وہ حددرجہ سنجیدگی سے بیٹھی ہوئی تھی اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ۔۔۔

” ہمیں پورا یقین ہے کہ ہمارے گریٹ لیڈر عبدل الفاتح کو زلمے خان زادہ کے ذریعے اغوا کرکے پاکستان لے جایا گیا تھا اور وہی سے وزیرستان کے راستے یا پھر چمن بارڈر یا پشین سے گزرتے ہوئے انہیں افغانستان لے جایا گیا ہے ۔ اس سے پہلے انہیں کوئی نقصان پہنچا کر ہمیں بلیک میل کیا جائے ہمیں ہر صورت انہیں آزاد کروانا ہوگا ۔ایجنٹ بورک اور ایجنٹ قانتا تم دونوں کو ابھی روانہ ہونا ہے تمہارے پاس دو دن ہیں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے انڈر اسٹینڈ ۔۔۔”

” یس سر !! ” تیس سالہ ایجنٹ بورک اور قانتا نے سر ہلا کر ایک ساتھ جواب دیا

” میٹنگ برخواست ۔۔۔”

تیس سالہ سفید فام چھ فٹ لمبا چوڑا بورک میٹنگ ختم ہوتے ہی قانتا کی طرف متوجہ ہوا ۔

” ایجنٹ قانتا یہ فیلڈ میں تمہارا دوسرا کیس ہے کیا تم کمفرٹیبل فیل کررہی ہو ؟ ہمیں پاکستان اور پھر افغانستان جانا ہوگا تم کر لوگی ؟ سوچ لو ورنہ میں پارٹنر بدل بھی سکتا ہوں ۔۔۔” بورک نے سنجیدگی سے کہا

” اٹس اوکے سر بورک ! کام کام ہے چاہے افغانستان میں کرنا ہو یا اسرائیل میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔” وہ متانت سے اپنے سنہرے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے بولی

” پاکستان کبھی گئی ہو ؟؟ ” بورک نے سوال کیا

” ایک بار آئی ایس آئی کے ساتھ داعش کے خلاف کام کیا تھا تو تھوڑا آئیڈیا ہے اور اردو بھی پورے تلفظ کے ساتھ بولنی آتی ہے ۔۔۔”وہ نرمی سے بولی

” گڈ !! لیٹس گو ہمیں ٹھیک آدھے گھنٹے میں پشاور کیلئے روانہ ہونا ہے وہاں سے چمن بارڈر جائینگے اور پھر اپنے ٹارگٹ کابل ۔۔۔” بورک نے اسے اپنا پلان بتایا

وہ دونوں پشاور پہنچ چکے تھے اور اب ایک مقامی ڈرائیور سے ساز باز کر کے کوئٹہ اور وہاں سے چمن کی طرف روانہ ہو چکے تھے قانتا نے مقامی عورتوں کی طرح خود کو شٹل کاک برقع میں چھپایا ہوا تھا اور بورک قمیض شلوار کندھے پر صافہ رکھے پیروں میں پشاوری چپل اور منھ میں نسوار دبائے مقامی پٹھان لگ رہا تھا ۔

” بھائی ہماری بیگم کو چمن سے گاڑی کی شاپنگ کرنی ہے بس تم ہمیں بارڈر کے پاس جہاں گاڑیاں بکتی ہیں ادھر مین بازار تک پہنچا دو ۔۔۔” بورک کا لہجہ کہیں سے بھی غیر ملکی نہیں لگ رہا تھا

“دیکھو بھائی شام ہونے والا ہے ادھر اندھیرے کا سفر ٹھیک نہیں ہوتا ، ہم تمہیں لیکر جا تو رہا ہے لیکن اگر پہاڑیوں کے بعد کسی نے راستہ روکا تو میں گاڑی روک کر بھاگ جاؤں گا تمہاری اور تمہاری عورت کی ذمہ داری ہرگز نہیں لونگا ۔” پٹھان ڈرائیور نے اسے صاف صاف آنے والے خطرے سے آگاہ کیا

” یارا تم گاڑی تیز چلاؤ آگے کی فکر مت کرو ۔۔۔” بورک نے جواب دیا

اونچی نیچی پتھریلی سڑکوں پر وہ سفید گاڑی دوڑتی چلی جا رہی بورک اور قانتا دونوں ہی چوکنا بیٹھے ہوئے تھے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد گاڑی ایک علاقے میں داخل ہوئی مٹی اور اینٹوں سے بنے کچے مکانات جگہ جگہ بڑی بڑی دریوں کو پردے کی طرح لٹکایا ہوا تھا ۔۔

” ہے بورک ان مکانوں کی چھت چیک کرو ۔۔۔” قانتا نے سرگوشی کی

مکانات کی چھتوں پر مشین گنیں ، توپیں ترتیب سے لگی ہوئی تھیں گلی میں مٹی سے سنے بچے بھی پستول گن تیز دھار چاقوؤں سے کھیل رہے تھے

” ویلکم ٹو ” نو مین لینڈ “۔۔۔” بورک نے سرسراتی ہوئی آواز میں جواب دیا

” پٹھان بھائی !! ہم اس سے آگے نہیں جاسکتا اب آپ کو پیدل جانا ہوگا بس آدھے گھنٹے چلنے کے بعد آپ بارڈر کنارے پہنچ جاؤ گے ۔” ڈرائیور نے گاڑی روکی

بورک نے سر ہلاتے ہوئے قانتا کو گاڑی سے اترنے کا اشارہ اور جیب سے ہزار ہزار کے کڑکڑاتے نوٹ نکال کر ڈرائیور کو دئیے
“شکریہ بھائی اگر زندہ لوٹے تو مجھے کال کردینا میں واپس لینے آجاؤنگا ۔” ڈرائیور نے خوشی سے رقم اپنی جیب میں رکھتے ہوئے کہا

وہ دونوں تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے علاقے کے اندر داخل ہوگئے چاروں طرف لوگ کندھوں پر بندوق لٹکائے چل پھر رہے تھے ۔

” یہ نو مین لینڈ ابھی بھی اگزسٹ کرتی ہے ؟ ” قانتا نے چلتے ہوئے پوچھا

” یہ علاقہ فاٹا کے اندر آتا ہے اور بظاہر یہ علاقہ غیر نہیں لیکن حقیقتاً یہ علاقہ غیر ہی ہے ۔۔۔” بورک نے تیزی سے چلتے ہوئے جواب دیا ۔

” قانتا ہمیں رات ہونے کا انتظار کرنا پڑیگا ایسا کرتے ہیں کسی گنجان ٹیلے کے پاس آڑ میں چھپ کر وقت گزارتے ہیں ۔” بورک اسے ہدایات دیتے ہوئے پلٹا ہی تھا کہ سامنے دو بڑی بڑی مونچھوں والے لمبے تڑنگے سے پٹھان اس کے سامنے کھڑے ہوئے تھے

” کون ہو تو ؟ ادھر کیا کررہے ہو ؟؟ ” ایک نے گن نکال کر بورک کے ماتھے پر رکھی

” ہم ادھر شاپنگ کرنے آیا ہے ۔۔۔”

” شاپنگ کرنے آیا ہے ہممم ” اس نے طنزیہ انداز میں بورک کے الفاظ دھرائے

” قانتا یہ افغان طالبان ہیں میں جیسے ہی اشارہ کرو فائر کھول دینا ۔۔۔” بورک نے کوڈ ورڈز میں کہا

” یہ کیا بولا تو ؟؟؟ ” اس افغان نے سختی سے بورک کا منھ دبوچا

” ان دونوں کو خان کے پاس لے کر چلو وہی فیصلہ کریگا ۔۔۔” دوسرے آدمی نے قانتا کو آگے دھکا دیتے ہوئے کہا

بورک کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ اگر وہ ان کے اڈے پر پہنچ گیا تو نکلنا مشکل ہو جائیگا وہ لوگ چلتے چلتے ویرانے میں پہنچ چکے تھے ۔جب بورک چلتے چلتے لڑکھڑا کر رکا اور قانتا کو آنکھوں سے مخصوص اشارہ کیا
قانتا بجلی کی تیزی سے پلٹی اور ایک زور دار کک اپنے ساتھ چلتے آدمی کو رسید کی اب وہ اپنے برقع کے اندر چھپی گن نکال کر ان دونوں کا نشانہ لے چکی تھی

” سیدھے کھڑے ہوجاؤ ورنہ شوٹ کردونگی ۔۔۔” وہ غرائی

وہ دونوں افغانی بڑی دلچسپی سے قانتا کو دیکھ رہے تھے جیسے کوئی بڑا بچے کو شرارت کرتا دیکھ کر محفوظ ہوتا ہے ۔۔
” امارا شک ٹھیک تھا تم دونوں ایجنٹ ہو ۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا پورا علاقہ فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھا قانتا نے فائر کھول دیا تھا ۔

” قانتا یہ تم نے کیا کیا ؟ اب بھاگوں جلدی کرو ۔۔۔۔” بورک غصہ سے چلایا

لیکن وہ دونوں چار قدم بھی نہیں چلے تھے کہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تھا پورا علاقہ بھاگتے قدموں اور فائرنگ کی آواز سے گونج رہا تھا بورک اور قانتا ڈٹ کر مقابلہ کررہے تھے ۔

————————————————————————-
کوئٹہ چھاؤنی ۔۔

تیز رفتاری سے چلتی ہوئی چیپ اندر داخل ہوئی وہ جیپ سے اتر کر سر سے سلیوٹ کا جواب دیتے ہوئے تیزی سے اندر بڑھا ۔۔

” سر میجر احمد رپورٹنگ ۔۔۔” اس نے اندر داخل ہو کر سلیوٹ کیا

” میجر کل ہی رپورٹ ملی ہے کہ کچھ مسنگ پرسنز کو چمن بارڈر کے ذریعے علاقہ غیر لے جایا گیا ہے جن میں مصر کی ایک اہم شخصیت بھی شامل ہے جن کے دستخط اسرائیل کو لیکر لبنان سے ایک اہم معاہدے پر ہونے ہیں مصری حکومت نے ان کی گمشدگی ابھی راز میں رکھی ہے لیکن اگر وہ انہیں بازیاب نہیں کروا سکے تو یہ یہودیوں کی فتح ہوگی جو اس معاہدے کے خلاف ہیں ۔اس لیے ہمیں اپنے لیول پر انہیں بازیاب کروانے کی کوشش کرنی چاہیے ، کوئی سوال ؟؟ ” کرنل جھانگیر نے بات ختم کی

” نو سر ! ” اس نے سمپل جواب دیا

” ہمیں ہر حال میں دشمن کو اس کی چال میں ناکام کرنا ہے انڈر اسٹینڈ ۔۔۔۔” کرنل جھانگیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر سختی سے کہا

” سر مارخور کبھی بھی دشمن کو اس کی چال میں کامیاب ہونے نہیں دے سکتا ۔۔۔” میجر احمد نے سرد لہجے میں جواب دیا

” اس میں عبدل الفاتح کی تمام تفصیلات ہیں آخری بار کہا دیکھا گیا اور تصاویر سب موجود ہے آپ کو اس کیس میں ایجنٹ دلاور ، کیپٹن حمید اسسٹ کرینگے دونوں اس وقت چمن میں تعینات ہیں ۔۔۔” انہوں نے ایک یو ایس بی میجر احمد کی طرف بڑھائی

” گڈ لک فار مشن میجر ۔۔۔۔” انہوں نے میٹنگ ختم کی

” تھینکس سر ۔۔۔” اس نے کرنل جھانگیر کو سلیوٹ کیا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکل گیا

جیپ میں بیٹھ کر اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا دن کے بارہ بج رہے تھے اس کا رخ اب اپنے آفس نما فلیٹ کی جانب تھا وہ ہر صورت ایک گھنٹے کے اندر اندر اپنے ہتھیار اور سازو سامان لے کر چمن کے سفر پر نکل جانا چاہتا تھا ۔
————————————————————————-

پشین کے قریب ایک قہوہ خانہ پر علاقہ کے مردوں کا ہجوم جما تھا بیچ میز پر دو علاقائی جوان پنجہ لڑانے میں مصروف تھے ۔

” آج تم ہارے گا اور پھر منھ کالا کر کے گدھے پر بیٹھ کر سیر کرےگا ۔۔۔” اس نے اپنے مخالف کو چڑایا

مقابلہ اپنے زورو پر تھا جب اس کی جیب میں پڑا ٹرانسمیٹر مخصوص انداز میں وائیبریٹ کرنے لگا

” ایک تو یہ دلاور بھائی کو بھی غلط وقت پر میری یاد آتی ہے ۔۔۔” وہ بڑبڑایا اور ایک جھٹکے سے اس نے اپنے مخالف کا ہاتھ میز پر پٹخ دیا

واہ واہ مبارک چاروں طرف شور مچ گیا وہ کسی ہیرو کی طرح اکٹر کر ہاتھ ہلاتے ہوئے میز سے اٹھ کر بیت الخلا کی جانب بڑھا چاروں جانب اچھی طرح دیکھ کر اس نے اپنا فون نما ٹرانسمیٹر نکالا

” کیپٹن حمید کدھر ہو تم ؟؟ ” اوور

” دلاور سر میں اس وقت ایک اہم مشن پر چائے کے کھوکہ میں ہوں ۔۔۔” اوور

” اپنا اہم مشن ابھی چھوڑو اور جلدی سے سرمئی پہاڑ پر پہنچوں ہمیں میجر احمد کو رپورٹ کرنا ہے ۔۔” اوور اینڈ آل

” میجر احمد ! یا اللہ کبھی کوئی خوبصورت دلکش حسینہ ہی بھیج دیا کر یہ کیا ایجنٹ دلاور سے گرا اور میجر احمد میں اٹکا ۔۔” وہ خود پر ترس کھاتا ہوا اپنی سرمہ سے بھری آنکھوں کو مسلتے ہوئے باہر نکلا

” اوئے خوچہ کدر جاتا ہے ۔۔” قہوہ خانہ کے مالک نے باہر نکلتے ہوئے کیپٹن حمید کو ٹوکا

” امارا ماں بلا رہی ہے اب ام کل آئے گا ۔۔۔۔” وہ نشئی کی طرح لڑکھڑاتا ہوا باہر نکل گیا

————————————————————
میجر احمد فاٹا کی وردی میں ملبوس گارڈز کو اپنی شناخت کروا کر مشہور پہاڑی سلسلے پر موجود تھا جہاں مار خور ایجنٹ دلاور نے اس کا استقبال کیا ۔

” کیا رپورٹ ہے ۔۔۔” میجر احمد نے کرسی پر بیٹھ کر سوال کیا

” سر انسانی اسمگلنگ یعنی ہیومن ٹریفکنگ اس وقت چاغی کے مقام پر ہورہی ہے ہم نے بارہ مغوی بازیاب کروائے ہیں ۔۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے رپورٹ دی

” کوئی گرفتار ہوا ؟ “

” سر آپ جانتے ہیں ان ٹوپی والوں کے ہاتھ بہت لمبے ہیں ۔انہوں نے تمام مغویوں کو زنجیروں سے باندھا ہوا تھا اور تاوان کا مطالبہ بھی کیا جاچکا تھا ۔جب ہماری ٹیم ادھر پہنچی تو سوائے ان قیدیوں کے ادھر کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔” دلاور نے تفصیل بیان کی

” اس وقت ہمارا ٹارگٹ مصری لیڈر عبد الفاتح کی رہائی ہے جنہیں یا تو چاغی یا پھر پشین کے راستے لے جایا گیا ہے ہمیں ان کی لوکیشن معلوم کرنے کیلئے ان کے نیٹ ورک میں شامل ہوکر ان تک پہنچنا ہوگا ۔۔۔” میجر احمد نے پلان بتایا

” کیپٹن حمید اس علاقے کے ایک بارسوخ خاندان کے اندر تک پہنچ چکا ہے وہ آجائے تو پلان فائنل کرلیتے ہیں ۔۔”

“زلمے ؟؟ ”
” جی سر ۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: