Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 10

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 10

–**–**–

” ہماری سرکار آپ پختونوں کا دکھ سمجھتی ہے اسی لئیے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں بس ایک بار کسی طرح ہم پاکستانیوں پر فوج کا اثر ختم کردیں تو پھر اس ملک کے ٹکڑے ہونے ہی ہونے ہیں ۔۔” ہندوستانی جاسوس نے چاپلوسی دکھائی

” ہندوستان نے، اسرائیل نے، ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے آپ آرام سے اس لیڈر کو اپنے علاقے میں رکھو اور جب چاہو زندہ یا مردہ ادھر بھجوا دینا آگے کا ہم سنبھال لینگے ۔۔” زلمے خان نے جواب دیا

” سمندر خان یہ رقم رکھو پورے دو ملین ڈالر ہیں خیال سے ۔۔۔” زلمے خان نے پاس رکھے بریف کیس کی طرف اشارہ کیا

” اس بریف کیس میں سارا پلان اور نقشہ بھی موجود ہے احتیاط سے ۔۔۔۔”

کیپٹن حمید بہت چوکنا ہو کر ان کی گفتگو سن رہا تھا جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ بجلی کی تیزی سے پلٹا اور گھما کر ہاتھ رکھنے والے کو اپنی گرفت میں لے کر گھسیٹتے ہوئے برابر والے کمرے میں لے گیا

” پاگل انسان چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔” پلوشہ اس کی گرفت میں بلبلائی

کمرے میں لاکر اس نے پلوشہ کو اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کیا
” تم ادھر کیا کررہی ہو ؟؟ ” وہ سرگوشی میں پھنکارا

” وہی جو تم کررہے ہو اور اگر تم مجھے سیدھے سیدھے بتا دیتے کہ آرہے ہو تو پھر میں ادھر کیوں آتی اس لئیے غصہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے سارا قصور تمہارا اپنا ہے اور جلدی سے اس کمرے سے نکلو ادھر رات ہوتے ہی تایا کے جانے سے پہلے سارے کمرے لاک کردئیے جاتے ہیں ” وہ دروازے کی طرف بڑھی ناب پر ہاتھ رکھا اور غصہ سے پلٹی
” کیپٹن حمید تمہیں ذرا سی بھی شرم نہیں آتی ایک تو اتنے خطرناک کام کرتے ہو اوپر سے مجھے بھی پھنسا دیتے ہو ۔۔۔” وہ خونخوار انداز میں اسے گھورتے ہوئے بولی

” او میڈم !! تمہیں کس گدھے نے مشورہ دیا تھا کہ اس معاملے میں کودو ؟؟ منع کیا تھا نا ؟؟ اب بھگتو ” وہ آرام سے پیر پسار کر بیٹھ گیا

“حمید ۔۔۔” پلوشہ غصہ دباتے ہوئے اس کے نزدیک آئی

” دیکھو دروازہ باہر سے لاک کردیا گیا ہے اور یقیناً اس وقت رکھوالی کے کتے بھی چھوڑ دئیے گئے ہونگے میں گھر کیسے جاؤں ؟؟ ویسے تو میرا کمرہ اندر سے لاک ہے لیکن صبح تو مجھے کمرے سے نکلنا ہوگا ورنہ ۔۔۔۔” وہ پریشان تھی

” یہ تو کمرے سے نکلنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا اب آرام کرو صبح دیکھتے ہیں ۔۔۔” وہ بے فکری سے بولا پلوشہ کو بھی سبق سکھانا ضروری تھا

” حمید تم بہت خبیث انسان ہو ۔۔۔” وہ تپ اٹھی

کیپٹن حمید نے دلچسپی سے مدھم روشنی میں اس کے خفا خفا چہرے کو دیکھا

” تمہاری وجہ سے مجھے بھی محتاط ہونا پڑا ہے ورنہ کب کا ان سب کو ٹائیں ٹائیں فش کرکے نکل گیا ہوتا ۔۔۔” وہ ہاتھ سے گولی مارنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا

” مطلب کیا ہے تمہارا ؟؟ ” پلوشہ نے کیپٹن حمید کو گریبان سے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا

” وہی جو تم سمجھ رہی ہو ۔۔” وہ نرمی سے اس کا نازک ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتے ہوئے بولا

” کیپٹن یہ میرے تایا ہیں جنہیں تم مارنے کی بات کررہے ہو میں تمہاری اتنی مدد کررہی ہوں اور تم ؟؟ ” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے پیچھے ہٹی

” پلوشہ ۔۔۔” کیپٹن حمید نے اس کے ہاتھ تھام کر اسے روکا

” یہ شخص زلمے خان اور اس کے ساتھی وحشی درندے ہیں یہ ہمارے ملک کے دشمن ہیں ہزاروں بےگناہوں کا خون ان کی گردن پہ ہے یہ را کے ایجنٹ ہیں یہ بک چکے ہیں کتنے ہی معصوم پختونوں کو یہ ورغلا رہے ہیں !! یہ ٹوپی والے انہیں تو میں انسان ہی نہیں مانتا اور تم ؟؟ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسی بات کررہی ہو ؟؟ “

” پر کیپٹن وہ میرے تایا ہیں ۔۔۔” پلوشہ نے کہنا چاہا

” یقین کرو جو اپنی مٹی کا نہیں اپنی فوج کا نہیں وہ کسی کا نہیں ہوسکتا اور دیکھنا اگر اسے ضرورت پڑی تو یہ تمہیں بھی مارنے میں ایک لمحہ نہیں لگائے گا ۔۔۔” وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا

” ہمم ” وہ سر جھکاتے ہوئے پاس ہی بیٹھ گئی

حمید نے ایک نظر اس کے پریشان چہرے کو دیکھا

” جب تک میں زندہ ہوں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ذرا رات گہری ہونے دو پھر تمہیں باحفاظت تمہارے کمرے تک چھوڑ دونگا ۔۔۔”
—————————————————————-

صبح ہونے میں تھوڑی ہی دیر رہ گئی تھی جب چاروں گاڑیاں پہاڑوں میں گھری وادی میں آکر رکیں ۔۔

” چلو اترو !! خوچہ لوگ اب تم امارا میزبانی دیکھنا ۔۔۔۔” سرمہ خان گاڑی سے اترتے ہوئے گویا ہوا

میجر احمد اور دلاور دونوں آرام سے گاڑی سے اترے ان کو چاروں طرف سے سرمہ خان کے آدمیوں نے اپنے نرغے میں لیا ہوا تھا وہ دونوں چاروں طرف دیکھتے ہوئے علاقے کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہے تھے

یہ چار پانچ کچے گھروں پر مشتمل تھا جو سارے ایک دائرے میں بنے ہوئے تھے وہ دونوں ان لوگوں کے نرغے میں چلتے ہوئے ایک باہر سے بوسیدہ نظر آتے مکان کے اندر داخل ہوئے ۔۔
اندر سے یہ بوسیدہ مکان پورا محل تھا دبیز مہنگے ایرانی قالین ریشمی پردے اسپاٹ لائٹس سب کچھ جدید ۔۔
انہیں ایک کمرے میں لایا گیا ۔

” اوئے خبیثوں ان دونوں خانہ خرابہ لڑکا لوگوں کو کرسی پر بٹھا کر رسی سے باندھ دو ام ابھی آتا ہے ۔۔۔” سرمہ خان نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی

” جی خان آپ بے فکر رہوں ام ان خبیثوں کو اچھی طرح سے باندھ کر رکھے گا ۔۔۔” ایک آدمی نے موٹا رسہ اٹھا کر پہلے دلاور کے ہاتھ اور پیر باندھے پھر میجر احمد کی طرف بڑھا
سرمہ خان جو کمرے سے نکل کر زلمے خان کو فون کرنے جارہا تھا اسے اچانک خیال آیا کہ ان لوگوں کا نام تو پتہ ہی نہیں کیا وہ پلٹ کر واپس کمرے کی طرف بڑھا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور تڑپ کر رہ گیا

” اوئے خانہ خرابہ امارا لڑکے کو اتنی بری طرح سے باندھ رہے ہو ؟؟ شرم کرو اگر اسے چوٹ لگ گئی تو امارے دل کو تکلیف ہوگا ۔۔۔” وہ رسہ میں سختی سے بندھے میجر احمد کے مضبوط ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے چلایا

” اس کا رسی ڈھیلا کرو دیکھو تو اس کے ہاتھ میں نشان پڑ گیا ہے ام کو یہ پسند نہیں ہے ۔۔۔” وہ بول کر میجر احمد کی طرف جھکا

” دلبرا تم فکر مت کرو ام ابھی تمہارے ہاتھ پر برف لگائے گا ۔۔۔” وہ پیار سے بول کر سیدھا کھڑا ہوا

” قمیض خان امارے دلبر کیلئے دم پخت کا اہتمام کرو اور تم ۔۔۔” اس نے پاس کھڑے آدمی کو بلایا

” ذرا دیکھو تو امارے معصوم دلبر کو اس کے ہونٹ خشک ہورہے ہیں سارا ہونٹوں کا رنگ خراب ہوگیا ظالم کا ۔ جاؤ جا کر ٹھنڈا شربت برف ڈال کر لاؤ ۔۔۔” سرمہ خان نے دل پر ہاتھ رکھ کر احمد کو دیکھا

” خان یہ دشمن ہے اس کو تم ٹھنڈا پانی شربت پلاؤ گئے ؟؟ “

” نہیں اے دشمن نہیں ہے دشمن تو وہ خبیث ہے جو ہمیں گھور رہا ہے ۔۔۔” سرمہ خان نے دلاور کی طرف اشارہ کیا

” یہ معصوم تو امارا ڈرون محبوب ہے اس کی آنکھوں میں ام ڈوب جائیگا ذرا دیکھو تو کیسا اپنی آنکھوں سے بم مارتا ہے ظالم !! ہائے پھر ام مل کر کام کیا کرے گا ایک تھکے گا دوسرا اس کا خیال کریگا ، ام اس کو یہ ام کو نسوار کھلائے گا ۔۔”
سرمہ خان مستقبل کے حسین خوابوں کے سفر پر نکل گیا تھا جہاں وہ اور میجر احمد ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کمر سے کمر لگائے منھ میں نسوار دبائے شلوار قمیض اور شیشے والی ٹوپی پہنے اپنے دشمنوں سے لڑنے میں مصروف تھے ۔

” خان ہوش میں آؤ تمہارا یہ محبوب محبوب نہیں بلکہ ڈرون ہے جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے ۔۔۔۔”

” اوئے اسماعیل خاناں بس !! قسم نسوار کی اب اگر تم نے امارے محبوب پر شک کیا تو ام تمہیں یہی بھون کر رکھ دے گا ۔۔۔” سرمہ خان اپنے ساتھیوں کو ڈانٹ کر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا

” خوچہ تم لوگ اپنا نام بتاؤ اور ادر امارے علاقے میں تم کیا کررہا تھا ؟؟ سب جلدی جلدی بتاؤ ۔۔۔۔” اس نے سوال کیا
” سرمہ خان میرا کیا قصور ہے ؟ کیا میں حسین نہیں ہوں ؟ مجھ سے بھی تو پیار سے بات کرو …” دلاور نے شکایت کی

” بکواس مت کرو ” احمد نے دلاور کو ٹوکا

” او یارا !! تم اپنے دوست سے جل رہا ہے ؟؟ کیسا دوست ہے تم ؟؟ ” سرمہ خان حیران ہوا اس نے دلاور سے سوال کیا

” نہیں سرمہ خان میں تو اس کے نصیب سے ڈر رہا ہوں پیار بھی ملا تو کتنا اور کس کا ۔۔۔۔”

” تم کو بھی امارا پیار چاہئیے ؟؟ ” سرمہ خان نے سنجیدگی سے سوال کیا اور دلاور کو اچھو لگ گیا اس کا سانس رک گیا تھا

” دیکھو خوچہ ام ون نائٹ اسٹینڈ کا قائل نہیں ہے ام ایک آدمی کا ہو کر رہنا چاہتا ہے اور وہ ام کو مل گیا ہے اماری محبت کا گلاب اب کھل گیا ہے تم اپنے واسطے اگر زندہ بچ گئے تو کسی اور کو ڈھونڈ لینا سرمہ خان ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتا بچہ اپنے دل کو سنبھال لو ۔۔۔چلو اب جلدی سے اپنا اپنا نام پتہ فر فر بتاؤ پھر ام رپورٹ دے کر آتا ہے ۔۔”

” یہ جو تمہاری محبت کا لمبا چوڑا گلاب ہے اس کا نام گلاب خان ہے اور ام اس کا چھوٹا بھائی کانٹے خان ہے ہمارا سبزی منڈی میں دکان ہے اور چمن ام ٹرک خریدنے آیا تھا ۔۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے کہا

” تم جھوٹ بولتا ہے ام کو بیوقوف سمجھتا ہے کیا ؟؟ ” سرمہ خان نے سرد نظروں سے ان دونوں کو گھورا

” تم ہماری پوری انکوائری کروا لو ہم بس ٹرک خریدنے آئے تھے راستے میں تمہارے آدمی ٹکرا گئے ۔۔۔” میجر احمد کی گھمبیر آواز گونجی

” پر تمہارے پاس ہتھیار کدر سے آیا ؟؟ ” سرمہ خان نے سوال کیا

” ہم پٹھان ہے ہتھیار ہمارا زیور ہوتا ہے اتنا تو تمہیں بھی پتہ ہوگا ؟؟ ” میجر احمد نے الٹا سوال کیا

” ٹھیک ہے ٹھیک ہے ام تم پر بھروسہ کرتا ہے لیکن دیکھو گلاب خان تم اماری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر جھوٹ مت بولنا ورنہ اگر امارا دل ٹوٹا تو ام سب کو مار دیگا ۔۔۔”سرمہ خان نے گردن ہلا کر جواب دیا

” سرمہ خان اب اپنا بھی تو بتاؤ تم کون ہو کیا کام کرتے ہو ہم شریف لوگوں کو پکڑ کر ادھر کیوں لائے ہو ؟؟ ” میجر احمد نے پوچھا

” اب ام تم کو کیا بتائیں دلبرا ۔۔۔۔۔” سرمہ خان لمبا سانس لے کر کرسی گھسیٹ کر میجر احمد کے سامنے بیٹھا ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ اس کا فون بجنے لگا اس نے فون جیب سے نکالا زلمے خان کی کال آرہی تھی

” بخیر زلمے خان ۔۔۔۔”

” یہ تو بڑی اچھی خبر ہے ام ابھی آتا ہے ۔۔۔” سرمہ خان نے فون رکھا

” گلاب خان تم اماری زندگی میں بہار بن کر آئے ہو تم نے ادر امارے دل میں قدم رکھا دیکھو ام کو ڈالر ملا ام ابھی جارہا ہے پر تم دل چھوٹا مت کرنا ام جلدی سے واپس آتا ہے تب تک دم پخت بھی پک جائیگا پھر ام تم مل کر جشن منائے گا ۔۔۔” وہ پیار سے میجر احمد کو آنکھ مار کر کمرے سے باہر نکل گیا

” اب آپ کا عاشق نامراد تو چلا گیا ہے میرے لئیے کیا حکم ہے ؟؟ ” دلاور نے سنجیدگی سے پوچھا

” اسے واپس آنے دو اس کی زبان کھلوانا ضروری ہے بلکہ کوشش کرتے ہیں یہ ہمیں بھی اپنے آدمیوں میں شامل کرلے ۔۔۔”
” آپ کا تو کنفرم ہے کہ وہ دل و جان سے آپ کو اپنا مان چکا ہے بس میری ہی گاڑی اٹکی ہوئی ہے آپ ایسا کرنا اس سے کہنا پہلے میرے بھائی کو نوکری دو پھر میں تمہیں اپنا دل دونگا ۔۔۔” دلاور خوشدلی سے بولا

یار ایک تو تم بکواس بہت کرتے ہو اور یہ ہم جنس پرستی جو ان لوگوں میں زہر کی طرح پھیل رہی ہے اس کی ہمارے مذہب میں معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں میرا بس چلے تو ان لوگوں کو سنسار کرنے کی سزا سنائی جائے ۔۔۔”میجر احمد نے بات ختم کی ہی تھی کہ باہر سے مشین گن گولیوں کے تڑتڑانے کی آوز سنائی دی

” لگتا ہے ان پر حملہ ہوا ہے دلاور بی ریڈی اپنے ہاتھ پیر کھول لو ۔۔۔”

ابھی وہ دونوں اپنی رسیوں کو کھولنے میں لگے ہوئے تھے کہ میجر احمد کو اپنی گردن میں سوئی سی چبھتی محسوس ہوئی اس نے تیزی سے گردن پر ہاتھ پھیرا اور گردن میں چبھی ڈارٹ سوئی باہر نکالی اس سے پہلے وہ دلاور کو ہوشیار کرتا وہ بھی سوئی کا شکار ہوچکا تھا

” دلاور ہمیں بلو پائپ سے ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔۔۔۔” اپنی بات مکمل کرتے کرتے وہ بیہوش ہوچکا تھا اور دلاور بھی کرسی پر اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ بیہوش پڑا تھا ۔
______________________________________________
گاڑیوں کے رکنے کے بعد قانتا کچھ دیر تک ڈگی میں چھپی رہی پھر آہستگی سے ڈگی اٹھا کر اس نے باہر جھانکا دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا وہ احتیاط سے گاڑی سے اتری اور ڈگی میں پڑی مشین گن اٹھا کر اندر کی طرف بڑھی باہر مکان کے سامنے لکڑیوں پر آگ لگا کر دنبہ بھونا جا رہا تھا چاروں طرف اسلحہ برادر افراد کھڑے باتیں کرنے میں مصروف تھے وہ چوکنا انداز میں آگے بڑھی ہی تھی کہ اسے اپنی پشت پر بندوق کی نالی کا دباؤ محسوس ہوا

” اوئے لڑکی تم ادھر کیا کررہا ہے ۔۔”
وہ دھیرے سے پلٹی

” اوئے تم تو وہ برقع والا باجی ہو جسے سمندر خان ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔” وہ چلایا اٹھا اس کی آواز سن کر باقی لوگ بھی قانتا کی طرف متوجہ ہوگئے

” دیکھو باجی ام بہت خطرناک لوگ ہے تمہارا ساتھی تو مرگیا ہے اب تم لڑکی ذات خود سوچو باجی !! “

” اسماعیل خاناں تم برقع والا باجی کو لے کر اندر چلو ام سمندر خان کو اطلاع کرتا ہے ۔۔۔” ایک ساتھی نے اسے ہدایت دی

قانتا اس کی بات سنتے ہی چوکنا ہوئی اور اس نے آگے چلتے چلتے مکان کے دروازے پر پہنچتے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑی گن سیدھی کی جو ان لوگوں نے نوٹ ہی نہیں کی تھیں اور پھر پورا میدان مشین گن کی آواز سے گونج اٹھا وہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کسی کو بھی سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر بھون چکی تھی اب وہ اندر داخل ہوئی وقت کم تھا یقیناً گولیوں کی آوازیں دور تک سنائی دی گئی ہونگی سارے کمرے وہ چیک کررہی تھی جب دوسرے ہی کمرے میں اسے رسی سے بندھے ہوئے احمد اور دلاور دکھائی دئیے اس نے اپنے برقع کے اندر ہاتھ ڈال کر سر سے ہئیر پن اتاری جو ایک جدید بلو پائپ تھا اور میجر احمد اور دلاور کی گردن کا نشانہ لے کر پھونک مار دی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: