Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 11

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 11

–**–**–

موحد کے سونے کے بعد وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آگئی سب سے پہلے تو دادی کو فون کرکے ساری سچویشن بتائی پھر آرام سے ٹیبل پر سجے ناشتے کے لوازمات کو واپس کچن میں لے جاکر اس نے اوون میں رکھا تاکہ وہ گرم رہیں اور خود ٹی وی لاؤنچ میں آکر بیٹھ گئی کچھ دیر تک چینل بدلتی رہی پھر دیوار گیر گھڑی پر نظر ڈالی تو دن کے دس بج رہے تھے موحد کو سوتے ہوئے دو گھنٹے ہوچکے تھے وہ چلتی ہوئی واپس بیڈروم میں آئی دروازہ آہستگی سے کھول کر اندر داخل ہوئی سامنے ہی موحد آنکھیں بند کئیے لیٹا ہوا تھا اس نے تھوڑا سا جھک کر غور سے اس کی بند آنکھوں کو دیکھا وہ پرسکون نیند میں گم تھا وہ خاموشی سے پلٹی اور کچن میں آگئی کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے اپنے لئیے چائے بنانے کا ارادہ کیا چولہے پر پانی چڑھا کر وہ فرج سے دودھ نکال ہی رہی تھی کہ جب موحد اندر داخل ہوا ۔۔

” تھینکس ڈئیر ۔۔۔” اس نے خوشدلی سے مسکراتے ہوئے علیزے کو مخاطب کیا

” تھینکس ؟؟ کس لئیے ؟” وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی

” میری تھکن کا احساس کرکے میری تھکن سمیٹنے کیلئے ۔۔” وہ گھمبیر لہجے میں بولا اس کی گہری نگاہوں سے علیزے کی نظریں الجھ کر بے ساختہ انداز میں جھک گئیں تھیں اس کے گلابی گال تپ اٹھے تھے

موحد نے بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو اٹھتی جھکتی پلکوں کے رقص کو دیکھا

” چلو تمہیں مزیدار سا لنچ کرواتا ہوں پھر گھر چھوڑ دونگا ۔۔۔”

” نہیں میں نے آپ کے لئیے ناشتہ بنایا ہے آپ فریش ہو جائیں میں ٹیبل لگاتی ہوں ۔۔۔” وہ نرمی سے بولتے ہوئے اوون کو کھول کر چیک کرنے لگی

” تم اکیلی اتنا کام کررہی تھی مجھے مدد کیلئے کیوں نہیں بلایا ؟؟ ” وہ اوون میں قیمہ سالن چھولے دیکھتے ہوئے بولا

“آپ اتنا تھکے ہوئے تھے اور پھر بھلا میرے ہوتے ہوئے آپ کیوں کچن میں کام کرتے ایسے اچھا تھوڑی لگتا ہے ۔۔” وہ اوون میں سے ڈشز نکالتے ہوئے بولی

” ویسے گرینڈ ماں نے تمہیں اچھا خاصا ٹرینڈ کردیا ہے مجھے شادی کے بعد کھانے پینے میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔۔۔”وہ شرارت سے بولتے ہوئے اس کے نزدیک آیا

موحد نے نرمی سے اس کے ہاتھ سے ڈشز لینا شروع کی اور ٹیبل پر رکھنے لگا وہ دونوں مل کر کام کررہے تھے علیزے کے دل کی ایک ایک دھڑکن اس کی اتنی توجہ محبت دیکھ کر خدا کا شکر ادا کررہی تھیں

” چلو بیٹھو ۔۔۔” موحد نے اس کیلئے کرسی کھسکائی اور اس کے بیٹھنے کے بعد ساتھ والی کرسی پر خود بیٹھ کر علیزے کے سامنے پلیٹ رکھ کر اسے شروع کرنے کا اشارہ کیا

” پہلے آپ پلیز ۔۔۔” علیزے ہچکچائی

” موحد نے بڑے آرام سے اس کی پلیٹ میں قیمہ نکال کر ہاٹ پاٹ سے پراٹھے نکالے اور اسی پلیٹ میں خود بھی کھانا شروع ہوگیا

” سوچ کیا رہی ہو جلدی سے ناشتہ کرو پھر تمہیں گھر چھوڑ کر مجھے آفس بھی جانا ہے ۔۔۔” اس نے خاموشی سے پلیٹ کو تکتی علیزے کو ٹوکا

” جی میں لیتی ہوں ۔۔۔” علیزے نے ہچکچاتے ہوئے نوالہ توڑا اسے ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہوئے عجیب سا لگ رہا تھا
” سنئیے ۔۔۔”
” جی بیگم سنائیے ۔۔۔”
” آپ ۔۔۔” اس کا طرز تخاطب سن کر وہ بلش کر گئی
” کیا بات ہے علیزے ؟؟ ”
” آپ پلیز آرام سے ناشتہ کریں میں چائے لاتی ہوں ۔۔۔” وہ جو اس سے الگ پلیٹ مانگنے لگی تھی بات بدل کر کھڑی ہوئی
” علیزے !! قسمت سے کبھی کبھار ہی تمہارے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے جو میں ہرگز بھی گنوانا نہیں چاہتا اور ویسے بھی رخصتی کے بعد تو میں ایک پلیٹ میں تمہارے ان پیارے پیارے ہاتھوں سے کھانا کھایا کرونگا اس لئیے اب یہ شرمانا چھوڑو اور ڈھنگ سے خود بھی ناشتہ کرو اور مجھے بھی کرواؤ ۔۔۔” وہ دونوں ہاتھ باندھ کر آرام سے بیٹھ گیا
“علیزے جلدی کرو میں رات سے بھوکا ہوں ۔۔۔”علیزے نے بوکھلا کر جلدی سے نوالہ توڑا
” آپ یہ کھا لیں ۔۔۔” اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے نوالہ کی طرف اشارہ کیا
” آپ یہ کھلا دیں ۔۔۔” موحد نے اسی کے انداز میں فوری جواب دیا
اب صورتحال یہ تھی کہ علیزے بی بی کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے نظریں زمین پر فوکس کئیے اسے ناشتہ کروا رہی تھیں ہر نوالہ وہ بڑی احتیاط سے اس کے منھ میں ڈال رہی تھی اور موحد بہت ہی اطمینان سے اس کے شرم سے گلگوں چہرے پر نظریں جمائے اس کے نرم و نازک ہاتھوں سے ناشتہ کررہا تھا ۔

” بس ۔۔۔” اس نے علیزے کو روکا

” میں تیار ہوکر آتا ہوں تم جب تک آرام سے ناشتہ کرلو ۔” وہ نرمی سے اس کی مشکل آسان کرتا ہوا اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا موحد کے جاتے ہی ایک گہری سانس علیزے نے خارج کی اور بمشکل تھوڑا بہت کھا کر جلدی جلدی برتن سمیٹنے لگی ۔

وہ ابھی برتن دھو ہی رہی تھی کہ یونیفارم میں ملبوس موحد کچن میں آیا

” یار برتن کیوں دھو رہی ہو ابھی شام میں بوا آئینگی وہ دیکھ لینگی ۔۔۔” موحد نے نلکا بند کرکے اسے سنک کے سامنے سے ہٹایا

” جاؤ جلدی سے اپنا حلیہ درست کرو اور اپنا بیگ لے کر آؤ میں جب تک گاڑی نکالتا ہوں ۔۔”

علیزے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جلدی سے اوپر بیڈروم کی طرف بڑھی جہاں اس کی چادر کالج بیگ اور جاگرز رکھے ہوئے تھے ۔
————————————————————————
رات کا دوسرا پہر شروع ہوچکا تھا چاروں جانب سناٹا چھایا ہوا تھا باہر سے رکھوالی کے کتوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی وہ حددرجہ پریشان تھی اور کیپٹن حمید بہت مزے سے ٹانگیں پسارے آنکھیں بند کئیے بیٹھا ہوا تھا وہ خونخوار نظروں سے اسے گھورتی ہوئی قریب آئی جو ناجانے ایسے خطرناک ماحول میں اتنے آرام سے کیسے سو رہا تھا
“کیپٹن !!”
” کیپٹن کے بچے شرافت سے اٹھ جاؤ ۔۔۔” اس نے کیپٹن حمید کے کان میں سرگوشی کی اس کی پوری کوشش تھی کہ آواز دھیمی رہے

” کیا پرابلم ہے کیوں تنگ کررہی ہو ؟ ” کیپٹن حمید نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا

” کیپٹن مجھے گھر جانا ہے فجر میں مورے مجھے نماز کیلئے اٹھانے آتی ہیں ۔۔۔”

” تو میں بھلا کیا کرسکتا ہوں جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی جاؤ ۔۔۔” وہ دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا

” تم بہت خبیث ہو تم نے ابھی دو گھنٹے پہلے ڈائیلاگ مارا تھا کہ تمہارے ہوتے مجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب دیکھو کیسے مجھے تنگ کررہے ہو ۔۔” وہ تھک کر دروازے کے قریب جا کر کھڑی ہوگئی

” مجھے تم پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہئیے تھا ۔۔”

کیپٹن حمید نے آنکھیں کھول کر اندھیرے میں اس کے خفا خفا سے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی پھر اسے مزید سبق سکھانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے کھڑا ہوا اور چلتے ہوئے اس کے پاس آیا

” چلو تمہیں تمہارے روم تک چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا اور ایک ہاتھ سے پلوشہ کو دروازے سے ہٹاتے ہوئے اپنی جیب سے تار نکال کر دروازے کا لاک کھولنے میں لگ گیا
” کیپٹن تم ۔۔۔۔”
” سسش ۔۔۔” کیپٹن نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
” مار خور کبھی بھی بھروسہ نہیں توڑتا ۔۔۔”

کلک کی ہلکی سی آواز ابھری اور دروازہ کھل چکا تھا چاروں جانب اچھی طرح سے دیکھنے کے بعد اس نے پلوشہ کو باہر آنے کا اشارہ کیا اب وہ اس کا ہاتھ تھامے دبے قدموں چلتا ہوا باہر راہداری میں آچکا تھا سامنے ایک لمبا بڑا سا صحن تھا اور کونے پر رہائشی عمارت تھی جس میں پلوشہ کا کمرہ تھا بیچ میں رکھوالی کے کتے گھوم رہے تھے
” کیپٹن اب ان کتوں کا کیا کریں ۔۔۔” پلوشہ نے پریشانی سے اس کے کان میں سرگوشی کی

” میں صحن کے مخالف سمت جا رہا ہوں یہ سارے کتے میری طرف متوجہ ہونگے تمہارے پاس صرف تین منٹ ہیں تمہیں ان تین منٹ میں بھاگ کر اپنے کمرے تک پہنچنا ہوگا کیونکہ میرے اندازے کے مطابق ان کے بھونکنے کی آواز سن کر چوکیداروں کے آنے اور لائٹ جلنے میں تین منٹ ہی لگنے ہیں بولو کر لوگی ؟؟ “

” لیکن تم !! کیپٹن یہ خطرناک شکاری کتے ہیں اگر تم پھنس گئے تو یہ ایک لمحے میں تمہیں چیرپھاڑ کر رکھ دینگے ۔۔۔” وہ پریشان ہوئی

” میری فکر مت کرو ۔” اس نے سنجیدگی سے کہا

” بی ریڈی ون ٹو تھری ۔۔۔۔”

کیپٹن حمید تیزی سے صحن میں نکلا اس نے صحن میں نکلتے ہی سیٹی بجا کر کتوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور بائیں جانب دوڑ لگا دی پلوشہ نے کتوں کے دوڑتے ہی تیزی سے حویلی کی طرف جان لگا کر دوڑنا شروع کیا قریب پہنچ کر چھوٹی دیوار کے پاس پڑی سیڑھی سے اوپر چڑھی اور منڈیر پر ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھی ہی تھی کہ پورا دالان اور حویلی جگمگا اٹھی ساری لائیٹس آن ہو چکی تھی دوڑتے قدموں کی آوازیں گونج رہی تھیں وہ دیوار کے ساتھ دم سادھے کھڑی ہو کر رینگتی ہوئی اپنے کمرے کی کھڑکی تک پہنچی اور پھر تیزی سے اندر کود گئی
کمرے میں پہنچ کر اس نے کھڑکی لاک کرکے پردے برابر کئیے اور جلدی سے دروازے کا لاک کھول کر بستر میں لیٹ گئی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی بار بار کیپٹن حمید کا چہرہ اس کی نگاہوں میں آرہا تھا

” کیا مصیبت ہے آخر میں تمہارے لیے اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہوں ۔۔۔” اس نے کروٹ بدلی چند منٹ بعد وہ تھک ہار کر سیل فون ہاتھ میں لے کر بیٹھ گئی

” کیپٹن تم انتہائی خبیث آدمی ہو میری نیند اڑ گئی ہے اب خوش !! مجھے یہ میسج دیکھتے ہی بتاؤ کہ تم ٹھیک تو ہو اگر نہیں تو پھر میں آرام سے اپنا دوسرا پارٹنر ڈھونڈنے کا پلان بناتی ہوں ۔۔۔” اس نے دل جلانے والا میسج سینڈ کیا اور پھر فون پر نظریں جما کر انتظار کرنے لگی

تقریباً ایک گھنٹے بعد اس کا سیل فون وائبریٹ ہوا وہ جو اونگھنے لگی تھی ایک دم چوکنا ہوئی اور فون دیکھا

” چلو کسی کی تو نیند میری وجہ سے اڑ گئی ہے اچھا شگون ہے ۔۔۔”

” مار خور تم بھی ۔۔۔” وہ اس کا میسج پڑھ کر ایک سکون سا اپنے اندر اترتا محسوس کررہی تھی

” بلے کو خواب میں چھیچھڑے ۔۔۔۔” اس نے جوابی میسج ٹائپ کیا اور فون بند کرکے لیٹ گئی
_____________________________________________

چمن !!
قانتا ان دونوں کے بیہوش ہوتے ہی اندر آئی وہ سارے کمروں کی جلدی جلدی تلاشی لے رہی تھی لیکن کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں لگا تھا تھک ہار کر وہ میجر حمد اور ایجنٹ دلاور کے پاس آئی ان دونوں کے ہاتھ پیر رسی سے بندھے ہوئے تھے یقیناً یہ لوگ اہم ہیں ورنہ انہیں اس طرح باندھ کر نا رکھا جاتا وہ چلتی ہوئی میجر احمد کے نزدیک آئی اب وہ میجر احمد کی تلاشی لینے ہی لگی تھی کہ باہر سے دوڑتے ہوئے قدموں کی گونج سنائی دی وہ چونک کر کھڑی ہوئی قدموں کی دھمک بہت نزدیک آچکی تھی اس نے کمرے میں چاروں جانب دیکھا اور پھر جلدی سے دروازے کے پیچھے دیوار کے ساتھ بالکل لگ کر دم سادھے کھڑی ہو گئی ۔
سرمہ خان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پشین کی طرف روانہ ہوچکا تھا اس کا ارادہ زلمے خان سے مل کر رات ہی میں واپس اپنے اڈے پر آنے کا تھا وہ کافی آگے آچکے تھے جب انہیں دور سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں

” خان لگتا ہے آپ کا محبوب ایکشن میں آگیا ہے یہ آواز امارے اڈے کی طرف سے آئی ہے ۔۔۔”

” تم خبیث آدمی کبھی تو اس منحوس منھ سے اچھی بات بھی کرلیا کرو ام کو یقین ہے امارا گلاب خان ام کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔۔۔” سرمہ خان نے اپنے آدمی کو سخت نظروں سے گھورا

“اوئے ڈرائیور گاڑی موڑو اور واپس اڈے پر چلو ۔۔۔” سرمہ خان نے ڈرائیور کو ہدایت دی

ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ریورس گیئر لگا کر گاڑی کو واپس موڑا اب وہ تیز رفتاری سے واپس جا رہے تھے اڈے پر پہنچ کر سرمہ خان گاڑی سے باہر اترا آگ دھک رہی تھی اس پر دنبہ سلاخوں میں پرویا بھن رہا تھا چاروں جانب خون ہی خون تھا اس کے سارے ساتھی زمین پر اپنے ہی خون میں نہائے گرے پڑے تھے
سرمہ خان کی آنکھوں میں یہ سب دیکھ کر خون اتر آیا تھا چہرے پر کرختگی چھا چکی تھی وہ گن تھامے اپنے ساتھیوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے مکان کے اندر داخل ہوا پورا مکان سائیں سائیں کررہا تھا وہ اچھی طرح ایک ایک کمرہ دیکھتے ہوئے قیدیوں کے کمرے میں داخل ہوا سامنے ہی گلاب خان اور دلاور رسیوں سے بندھے بیہوش پڑے تھے

“اللہ تیرا شکر ہے امارا گلاب خان غدار نہیں ہے ورنہ ام تو ابھی رنڈوا ہوجاتا ۔۔” سرمہ خان کے منھ سے اطمینان بھری سانس نکلی

” جاؤ سارا لاش ٹھکانے لگا کر ادر سے چلنے کا انتظام کرو ام تب تک گلاب خان کو دیکھتا ہے ۔۔۔” سرمہ خان نے اپنے دونوں ساتھیوں کو حکم دیا اور خود بیہوش میجر احمد کے پاس آیا

” گلاب خان !! آنکھیں کھولو یارا ۔۔۔”اس نے میجر احمد کے گال تھپتھپائے

” ظالم نے کس بیدردی سے امارے محبوب کو مارا !!قسم نسوار کی ایک بار ہاتھ لگ جائے ام اس کو الٹا لٹکا کر مارے گا ۔۔۔” وہ میجر احمد کی رسی کھولتے ہوئے بڑبڑایا

میجر احمد کی رسی کھول کر وہ غور سے احمد کو دیکھ رہا تھا جب اس کی کنپٹی پر ٹھنڈی بندوق کی نالی آ لگی

” کون ۔۔۔” اس نے پلٹنے کی کوشش کی

قانتا نے زور سے گن کا دستہ اس کے چہرے پر مارا وہ لڑکھڑا کر نیچے گرا اور برقع میں ملبوس قانتا کو دیکھ کر چونک گیا

” برقع والا باجی تم ادر کیا کررہا ہے ؟ یہ لڑکی ذات کیلئے اچھی جگہ نہیں ہے چلو شاباش جلدی سے یہ گن امارے کو دے دو تمارا روٹی پکانے والا ہاتھ میں گن اچا نہیں لگتا ۔۔” سرمہ خان نے پیار سے سمجھایا

” کون ہو تم ؟ کس کیلئے کام کرتے ہو ؟”قانتا نے سختی سے پوچھا

” پہلے تم ام کو بتاؤ تم کون ہو اور ادر کیا کررہی ہو ؟”

” اغوا کئیے ہوئے لوگ کدھر جاتے ہیں ؟” قانتا نے سیدھا سوال کیا
” جواب دو ورنہ میں تمہیں گولی سے اڑا دونگی ۔۔” وہ پھنکاری
سرمہ خان نے دلچسپی سے اسے دیکھا اور جیب سے نسوار نکال کر اپنے منھ میں رکھی

” ام نہیں بتائے گا جو کرنا ہے کرلو ۔۔۔”

” ذلیل بڈھے ۔۔۔۔” قانتا کا ضبط جواب دے گیا اس نے گن کے دستے سے سرمہ خان کے سر کا نشانہ لے کر مارا وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور وہ دستہ سیدھا میجر احمد کے بازو پر لگا

” اوئے ظالما تم نے امارے گلاب کو مارا اب ام تم کو نہیں چھوڑے گا ۔۔۔”

” گلاب خاناں اماری جان تم ٹھیک ہے ۔۔۔” سرمہ خان نے تڑپ کر میجر احمد کے بازو کو چیک کیا

” تم ایسے نہیں مانو گے ۔۔۔” قانتا نے اسے گھورا اور اس کی پٹائی شروع کردی وہ پینترے بدل بدل کر سرمہ خان پر وار کررہی تھی سرمہ خان کا ہونٹ پھٹ چکا تھا خون رس رہا تھا جب اس کے ساتھی اندر داخل ہوئے اور تیزی سے سرمہ خان کی مدد کو آئے اب وہ تین اور قانتا اکیلی تھی جب سرمہ خان کا ایک ساتھی اس پر بڑی مشکل سے قابو پانے میں کامیاب ہو گیا

” چھوڑو مجھے ۔۔۔” قانتا نے اس کی ٹانگ پر کک ماری

میجر احمد کا سر چکرا رہا تھا اس نے اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے بمشکل آنکھیں کھولیں سامنے ہی برقع خانم کو سرمہ خان کے ساتھی نے جکڑا ہوا تھا وہ مظلوم لڑکی شاید مدد کیلئے چلا رہی تھی
” چھوڑو مجھے ۔۔۔”
اس کی آواز سن کر میجر احمد کا خون کھول اٹھا تھا
“سرمہ خان اپنے آدمی سے کہو لڑکی کو چھوڑ دے ۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولتے ہوئے کھڑا ہوا

” وئی زار !! تم کو ہوش آگیا ۔۔۔ “

” اپنے آدمی سے کہو لڑکی کو چھوڑ دے ۔۔ “

“خوچہ امارا آدمی تو تم ہے یہ تو امارا ساتھی لوگ ہے ۔۔۔” سرمہ خان نے پیار سے جواب دیا

” اور یہ باجی یہ باجی نہیں پورا بم ہے وہ بھی ایٹم بم ۔۔”
” شرم نہیں آتی ایک شریف لڑکی کو بم کہتے ہوئے۔۔۔” اب کے دلاور بولا جو ہوش میں آکر سچویشن سمجھنے کی کوشش کررہا تھا

” گلاب خاناں تم امارا محبت کا فائدہ اٹھا رہے ہو ۔۔”

قانتا ان دونوں کو ہوش میں دیکھ کر چپ چاپ کھڑی ہوئی تھی جب میجر احمد چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھڑوا کر اسے اپنے پیچھے کیا
” سرمہ خان ہم لڑکی ذات پر ظلم برداشت نہیں کرینگے معصوم لڑکیوں کو پکڑنا ان سے زیادتی کرنا یہ ایک خان کو زیب نہیں دیتا چھوڑو اس لڑکی کو میں اسے اس کے گھر تک چھوڑ کر آؤنگا ۔۔۔” وہ سختی سے بولا

” تم اس برقع والا باجی کا رشتہ دار ہے ؟”

” نہیں لیکن میرا اصول ہے عورت کی عزت کرنا ۔۔۔”

” عزت اچھا بات ہے شکر ہے تم نے محبت نہیں کہا ۔۔” سرمہ خان ری لیکس ہوا
_____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: