Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 12

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 12

–**–**–

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی وہ گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی تھوڑی دیر دستک کے بعد ملازمہ شاید مایوس ہوکر واپس چلی گئی تھی کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا جیسے کوئی اس کے بالوں میں دھیرے دھیرے سے انگلیاں پھیر رہا ہو بڑی مشکل سے اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے کھڑی بارعب سی مورے کو دیکھ کر جھٹکے سے کمبل کو اتارتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔
” پلوشہ کتنی دیر سے تمہیں نماز کیلئے بلوا رہی ہوں اور تم ؟؟ کبھی تو وقت سے اٹھ جایا کروں لوگوں کی لڑکیاں صبح اٹھ کر اپنے گھر والوں کو قہوہ بنا کر دیتی ہیں وضو کا پانی گرم کرتی ہیں اور ایک یہ ہماری پوتی ۔۔” انہوں نے پلوشہ کو گھورا جو بڑی ڈھٹائی سے جمائی لیتے ہوئے ان کو دیکھ رہی تھی

” سوری مورے آپ اتنا غصہ کیوں کررہی ہیں بس اب وعدہ آئندہ سے وقت پر اٹھ جایا کرونگی ۔۔”

” بیس سال کی لوٹھا کی لوٹھا ہوگئی ہو آج تک مجال ہے جو وقت پر اٹھ کر کبھی خود سے فجر کی نماز کو آئی ہو ۔۔۔” وہ خفگی سے بولیں

” آپ چلیں میں وضو کرکے آتی ہوں ۔۔” وہ وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے تیزی سے باتھ روم کی جانب بڑھی دروازہ کھول کر پلٹ کر دیکھا اسے پتہ تھا مورے ابھی بھی اسے دیکھ رہی ہونگی
” پتہ ہے مورے ہم پاکستانی لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟ ” وہ رکی

” ہماری مائیں کبھی بھی ہم سے خوش نہیں ہوتیں انہیں ہمیشہ ہی دوسروں کی لڑکیوں میں اچھائی نظر آتی ہے ۔۔” وہ تیزی سے بات مکمل کرکے اندر گھس گئی

نماز پڑھ کر وہ کچن میں آئی جہاں تائی امی ناشتہ بنوانے میں مصروف تھیں

” پلوشہ آج تو بڑا جلدی کچن میں آگئی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا

” آج میرا اردہ مورے کو اور آپ کو اپنے ان پیارے پیارے ہاتھوں سے قہوہ بنا کر دینے کا ہے ۔۔۔۔” وہ آگے بڑھ کر چولہا جلاتے ہوئے مگن انداز میں بولی

ابھی وہ قہوہ کا پانی چڑھا ہی رہی تھی کہ زلمے تایا اندر داخل ہوئے
” خانم آپ نے ہماری بیٹی کو چولہے کے آگے کیوں کھڑا کیا ہوا ہے ۔۔۔” وہ پلوشہ کو دیکھ کر بولے

” تایا ابو میں خود ادھر آئی ہوں اور آج میں خود مورے کو اور آپ کی خانم کو قہوہ بنا کر پلاونگی ۔۔” وہ ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بولی

” پر اتنے ملازم کس کام کے ؟ کہ ہماری بیٹی کو کام کرنا پڑے ۔۔” وہ ناراض ہوئے

” تایا بنانے دیں نا ورنہ مورے نے دوسروں کی لڑکیوں کے طعنے دے دے کر مار دینا ہے ۔۔” وہ منہ بسورتے ہوئے بولی

” اچھا اچھا ٹھیک ہے پھر ہم بھی اپنی بیٹی کے ہاتھ کا قہوہ پی کر کام سے نکلے گا ۔۔۔” زلمے خان نے شفقت سے کہا

” آپ کے مہمان چلے گئے ؟ ” پلوشہ نے سرسری انداز میں پوچھا

” کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟ ” اب زلمے خان چونکے

” میں وہ مورے نے بتایا تھا مہمان خانہ میں مہمان آئے ہوئے ہیں تو کیا ان کیلئے بھی قہوہ بنالوں ۔۔۔” وہ بات بناتے ہوئے بولی

” نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور خانم آپ مہمان خانہ میں انگریزی چائے ناشتہ بھجوا دیں ۔۔۔” زلمے خان نے ہدایت کی

” پلوشہ میں مورے کے پاس جا رہا ہوں میرا قہوہ ادھر ہی لے آنا ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولتے ہوئے باہر نکل گئے بڑے بڑے قدم اٹھاتے ہوئے وہ مورے کے کمرے میں داخل ہوئے

” اسلام علیکم ۔۔۔”

” وعلیکم اسلام زلمے خان ۔۔” مورے نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنی تسبیح ایک طرف رکھی

” مورے آپ پلوشہ کو میرے کسی مہمانوں کا نہیں بتایا کریں اب وہ مجھ سے میرے آنے جانے والوں کا پوچھے یہ مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔”

” زلمے تم کن مہمانوں کی بات کررہے ہوں ؟اور میں پلوشہ کو کیوں بتاؤنگی ؟ ” وہ حیران ہوئیں

اس سے پہلے زلمے خان کوئی جواب دیتا دروازہ کھول کر ٹرے میں سلیقہ سے قہوہ اور ساتھ لوازمات لئیے پلوشہ اندر داخل ہوئی

” یہ لیں مورے گرم گرم قہوہ اور تایا ابو یہ آپ کیلئے حلوہ بھی ہے ۔۔۔” وہ پیالہ زلمے خان کی طرف بڑھاتے ہوئے خوشدلی سے بولی جو اسے پرسوچ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا

” پلوشے رات تم کدھر تھیں ؟ ” زلمے خان نے سنجیدگی سے سوال کیا

” میں نے کدھر جانا ہے زہرا خالہ کے گھر جانا تھا مورے نے منع کردیا پھر ٹی وی دیکھتے دیکھتے کب سو گئی پتہ ہی نہیں چلا صبح بھی مورے نے زبردستی اٹھایا ہے ۔” وہ سکون سے کانفیڈنس سے بولی

” ہمم ۔۔۔” زلمے خان نے پیالہ خالی کرکے میز پر رکھا اور کھڑا ہوگیا

” مورے چلتا ہو ۔۔۔”

” زلمے خان گھر کب لوٹو گے؟ آج زبیر کے سسرال والے آرہے ہیں ۔۔۔” مورے نے آگاہ کیا

” مورے آج شاید کام سے کابل بھی جانا پڑے دودن بعد ہی لوٹو گا ویسے بھی یہ سسرال دعوت یہ آپ کا شعبہ ہے ۔۔۔” وہ بیزاری سے بولا

” زلمے خان زبیر تمہارا بیٹا ہے ۔۔” مورے نے یاد دلایا

” پتہ ہے مورے اور وہ بھی میرے ساتھ ہی جا رہا ہے آپ عورتوں کی دعوت نبٹاؤ اگر کام اہم نہیں ہوتا تو میں ضرور رک جاتا ۔۔۔” زلمے خان نے جواب دیا

” اب کم از کم زبیر کو تو چھوڑ جاؤ ۔” وہ ناراض ہوئیں

” ٹھیک ہے مورے زبیر کو چھوڑ دیتا ہوں ۔” زلمے خان خداحافظ کہتا ہوا باہر نکل گیا

پلوشہ بھی تیزی سے کھڑی ہو کر برتن اٹھا کر باہر نکلنے لگی تھی کہ مورے نے آواز دی

“برتن رکھ دو ملازم لے جائے گا تم ادھر آکر بیٹھو ۔۔۔”
پلوشہ نے تیزی سے ٹرے واپس رکھی اور مورے کے پاس آئی
” مورے سچ میں مجھے بہت نیند آرہی ہے پلیز تھوڑی دیر تو اور سونے دیں بعد میں جتنا چاہیں لیکچر دے لیجئے گا ۔۔۔” وہ معصوم سا چہرہ بنا کر بولی

” اچھا جاؤ ۔۔۔” انہوں نے اجازت دی

وہ تیزی سے کمرے سے نکلی دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ کو لاک کیا سائیڈ میز کی دراز میں سے دوربین نکالی اور کھڑکی کا پردہ سرکا کر باہر دیکھنے لگی کچھ دیر بعد اس کی انگلیاں تیزی سے سیل فون پر میسج ٹائپ کررہی تھیں ۔
______________________________________________

موحد کافی دیر سے پولیس اسٹیشن میں اپنے آفس میں بیٹھا بم دھماکہ کیس کی ساری فائلز کیس ہسٹری ثبوت کمپائل کررہا تھا اس کی پوری کوشش تھی کہ ملزم کسی بھی طرح سے بچنے نا پائے ابھی وہ اپنے کاموں میں مصروف تھا کہ دروازہ ناک کرکے انسپکٹر خالد اندر داخل ہوا ۔
” سر بکتر بند گاڑی اور سارے انتظامات ہوگئے ہیں آپ بتائیں ملزم کو لے کر کب نکلنا ہے ؟ ” سلیوٹ کرنے کے بعد اس نے سوال کیا

” میں آپ کو نکلنے سے پہلے انفارم کردونگا ابھی میں اپنے دوسرے کاموں میں مصروف ہوں ۔” موحد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا

” یس سر ، اوکے سر ۔۔۔” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا

انسپکٹر خالد ابھی موحد کے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ اس کا فون بجنے لگا اس نے چور نظروں سے چاروں اطراف دیکھتے ہوئے فون کان سے لگایا اور تھانے سے باہر نکل گیا
” میں نے منع کیا تھا کہ مجھے فون مت کرنا تم لوگوں کی سمجھ میں بات کیوں نہیں آتی ۔۔” وہ غصہ دباتے ہوئے بولا
” اوئے انسپکٹر اب تو ہمیں بتائے گا کہ کب اور کیا بات کرنی ہے ؟ ” ایک بھاری آواز ابھری

” شیخ صاحب آپ ۔۔۔” وہ چونکا

” ہمارے آدمی کو لے کر وہ ایس پی پشاور کیلئے کب نکل رہا ہے ؟ ”

” سر کچھ پتہ نہیں اس نے ابھی تک کوئی وقت نہیں بتایا ہے لیکن آپ بیفکر رہیں وہ جیسے ہی نکلے گا آپ کو اطلاع کردی جائیگی ۔۔” انسپکٹر خالد نے مودبانہ انداز میں جواب دیا
اس کی بات سنتے ہی دوسری طرف سے فون کاٹ دیا گیا تھا ۔
_____________________________________________

میجر احمد نے بڑی مشکل سے سرمہ خان کی بکواس پر اپنا غصہ ضبط کیا تھا ۔

” او گلاب خاناں ناراض کیوں ہوتا ہے ام اس باجی کو چھوڑ دیگا بس تم غصہ مت کرو دیکھو تو تمہارا دونوں گال بھی لال ہوگیا ہے واللہ واللہ کیا سرخی ہے ۔۔۔” اس نے محبت سے احمد کو دیکھا

“اوئے خبیثوں باجی کو چھوڑ دو ۔۔۔” سرمہ خان نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی جنہوں نے فوراً قانتا کو چھوڑ دیا سرمہ خان چلتا ہوا قانتا کے پاس آیا جو اپنے برقعے کی جالیوں سے اسے گھور رہی تھی

” دیکھو برقع والا باجی ام تم کو صرف اپنا گلاب خاناں کے صدقے میں چھوڑ رہا ہے اب تم جلدی سے اپنا علاقہ بتاؤ امارا ساتھی لوگ تمہیں چھوڑ آئیگا ۔۔”

” برقع باجی آپ گھبرائیں نہیں اس کو گلاب خان سے بہت محبت ہے اس لئیے آپ محفوظ ہیں بس جلدی سے اپنا پتہ بتائیں تاکہ آپ اس جھنجھٹ سے نکل کر اپنے گھر پہنچ سکیں۔ ” دلاور نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا

” کانٹا خان تم بہت سمجھداری والا باتیں کرتا ہے ۔” سرمہ خان نے تائید کی
اس سے پہلے قانتا کچھ کہتی سرمہ خان کا فون بج اٹھا اور مغنیہ کی تیز آواز میں رنگ ٹیون ابھری

” پشاور سے میری خاطر دنداسہ لانا ۔۔”

سرمہ خان نے ناگواری سے فون نکالا اور زلمے خان کا نمبر دیکھ کر فوراً فون کان سے لگایا

” اچا اچا ام ابھی نکلتا ہے شام تک کابل پہنچ جائیگا ۔۔” سرمہ خان نے پوری بات سن کر جواب دیا قانتا کابل سنتے ہی الرٹ ہوگئی تھی

“اسماعیل ۔۔۔”سرمہ خان نے اپنے ساتھی کو پکارا

“جی خان حکم ۔۔۔”

“بڑا والا گاڑی نکالو ام آتا ہے ۔۔۔”اسے ہدایات دے کر وہ قانتا کی طرف مڑا

” دیکھو برقع باجی اب جلدی سے اپنا پتہ بتاؤ ام تم کو گھر بھیج کر اپنے گلاب خان سے ملاقات کریگا پھر ام کو سفر پر بھی نکلنا ہے تھوڑا امارے حال پر رحم کرو جلدی سے ادر سے اپنے گھر جاؤ تمہارا گھر والا اور بچہ لوگ پریشان ہورہا ہوگا ۔۔۔” سرمہ خان نے اسے سمجھایا

“میرا گھر تو کابل میں ہے ادھر بارڈر پار رشتہ داروں کے ساتھ شاپنگ کیلئے آئی تھی آپ مجھے کابل چھڑوا دو ۔۔۔” قانتا دھیمے لہجے میں بولی

“باجی ویسے تو تم پورا بم ہو اور آواز اتنی ہلکی ۔۔۔جاؤ اسماعیل خان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر امارا انتظار کرو ام ابی اپنے گلاب خان سے مل کر آتا ہے ۔۔” قانتا تابعداری سے سر ہلاتے ہوئے سرمہ خان کے آدمی کی نگرانی میں باہر نکل گئی

” گلاب خاناں یاراں ام کو ابی کام سے جانا ہے پر تم فکر مت کرنا یہ لوگ تمہارا خیال رکھیں گئے ام بی دو دن میں واپس جائے گا ۔ پھر پشاور بھی جانا ہے اس نے اپنی دانست میں احمد کو تسلی دی اور کمرے سے نکلتے نکلتے پھر رکا

“تم کو امارا یاد تو آئیگا یہ امارا نشانی نسوار رکھ لو ۔۔”

” گلاب خان ام پشاور سے تمہارا واسطے کیا لائے ؟؟ ” وہ دروازے پر کھڑا بڑے پیار سے پوچھ رہا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: