Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 13

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 13

–**–**–

اس نے ابھی تک کسی کو بھی اپنی پشاور روانگی کا وقت نہیں بتایا تھا وہ اچھی طرح سے یہ بات جانتا تھا کہ مجرم کو بچانے کیلئے ان کی تنظیم کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا شام کے چار بجنے والے تھے وہ اپنی کیپ اٹھاتے ہوئے اٹھا اور اپنے آفس سے باہر نکلا باہر کھڑے اردلی نے اسے دیکھتے ہی سلیوٹ مارا وہ اشارے سے جواب دیتے ہوئے تھانہ سے باہر نکلا ہی تھا کہ انسپکٹر خالد اسے دیکھ کر چونکا اور تیزی سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا

” سر آپ اس وقت پشاور کیلئے نکل رہے ہیں ؟ ”

” کیوں کوئی پرابلم ہے ؟ ” موحد نے اسے گھورا

“نو سر میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا دیر بہت ہوگئی ہے راستے میں رات ہو جائیگی ۔۔” انسپکٹر خالد اپنے ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا

“بات تو تمہاری ٹھیک ہے ، اسی لئیے ابھی گھر جا رہا ہوں ۔۔۔” وہ انسپکٹر خالد کو بغور دیکھتے ہوئے بولا

” تو پھر پشاور کب جائینگے ؟ پرسوں تو اس کی پشاور ہائی کورٹ میں پیشی ہے ۔”

” میں کل صبح دس بجے تک ملزم کو لے کر روانہ ہونگا عدالت کے وقت سے پہلے ہم پشاور میں ہونگے ۔۔” وہ سنجیدگی سے بولتے ہوئے اپنی جیپ کی طرف بڑھا

موحد کے جاتے ہی انسپکٹر خالد نے سکون کی سانس لی اور چور نظروں سے چاروں جانب دیکھتے ہوئے اپنا سیل فون نکالا
” جناب ایس پی موحد کل صبح دس بجے آپ کے بندے کو لیکر روانہ ہوگا اب آپ کسی چیک پوسٹ پر اسے روک کر اپنا بندہ چھڑوا سکتے ہیں ۔۔” وہ پوری تفصیلات بتا رہا تھا ۔
____________________________________________

موحد تھانے سے نکل کر سیدھا دادی اور علیزے سے ملنے کا ارادہ کرتے ہوئے ان کے گھر کی طرف روانہ ہوچکا تھا ایک پوش علاقے میں بنے اس عالیشان بنگلے کے چوکیدار نے موحد کی جیپ دیکھتے ہی سلام کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا تھا وہ جیپ سے اتر کر کیپ ہاتھ میں لیتے ہوئے اندر داخل ہوا سامنے ہی لاؤنچ میں علیزہ اور دادی کی محفل جمی ہوئی تھی دادی تخت پر بیٹھی ہوئی تھی اور ان کے پیروں کے پاس قالین پر علیزے منھ بنائے بیٹھی تھی اس کے لمبے سیاہ بال کھلے ہوئے اس کی پوری پشت کو ڈھانپے ہوئے تھے اور دادی اس کے سر میں تیل لگانے کا فریضہ انجام دے رہی تھیں

” اسلام علیکم ! ” موحد نے بآواز بلند سلام کیا

” وعلیکم السلام ارے میرا بیٹا آیا ہے ۔۔۔” وہ اسے دیکھ کر خوش ہوگئیں
” جی دادی پشاور کیلئے نکل رہا تھا سوچا آپ سے ملتا جاؤں ۔۔۔” وہ دلچسپی سے علیزے کو دیکھتے ہوئے بولا

موحد کی بھاری آواز سن کر علیزے نے چونک کر اس کی سمت دیکھا جو پولیس یونیفارم میں کیپ ہاتھ میں لئیے مردانہ وجاہت کا شاہکار نظر آرہا تھا پھر اس کی پرشوق نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر وہ سٹپٹا گئی اور تیزی سے اپنے بال سمیٹ کر تخت پر رکھا دوپٹہ اٹھا کر سلیقے سے اوڑھا
” علیزے جاؤ موحد کیلئے اچھی سی چائے کا اہتمام کرو ۔۔” دادی نے علیزے کو حکم دیا وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔

موحد نے انہیں اپنی روانگی سے لے کر مشن تک کی ساری باتیں بتا دی تھیں ۔

” موحد بیٹا میرا دل تو احمد اور تمہارے درمیان اٹکا رہتا ہے اللہ تم دونوں بھائیوں کو اپنی امان میں رکھے بس اب کے میں نے کچھ نہیں سننا تم خیریت سے واپس آجاؤ تو کم از کم میں تمہاری خوشی تو دیکھ لوں ،احمد کی تو آواز سنے بھی ہفتہ ہوگیا ہے ۔۔” وہ سنجیدگی سے بولیں

” اماں آپ شہید کی بیوہ اور ماں ہیں آپ جیسی مائیں اس سرزمین کا اثاثہ ہیں مت پریشان کیا کریں دل کو میں احمد بھائی کو میسج بھیج دونگا وہ موقع ملتے ہی آپ کو فون کرلینگے آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔”موحد نے پیار سے ان کا ہاتھ تھاما

” احمد کی تو بات ہی مت کرو اللہ جانے کب شادی کیلئے ہامی بھرے گا لیکن تم کان کھول کر سن لو میں نے اسی سال علیزے کو تمہارے ساتھ رخصت کردینا ہے ۔۔” انہوں نے دو ٹوک لہجے کہا

” پر دادی ماں علیزے ابھی چھوٹی ہے اسے گریجویشن تو کرنے دیں ۔۔۔” وہ پریشان ہوا

” شادی کے بعد پڑھا لینا ، دیکھو موحد خوشیاں جتنی ملیں سمیٹ لینی چاہئیے وقت کا کچھ بھروسہ نہیں ہوتا ہاں اگر تمہں اعترض ہے تو بولو ۔۔۔”انہوں نے عینک کی آڑ سے اسے دیکھا

” میں بھلا کیوں اعترض کرونگا ؟ لیکن احمد بھائی نہیں مانیں گے اور اماں ایسے اچھا تھوڑی لگتا ہے کہ بڑا بھائی کنوارا ہو اور چھوٹے کی شادی ہوجائے ۔۔۔” موحد نے مشروط ہامی بھری

” احمد نے تو اپنی وردی سے شادی کرلی ہے آ لینے دو اسے اس بار ، میجر بن گیا ہے اب کیا بوڑھا ہو کر بیاہ رچائے گا ۔۔۔” دادی خاصی بھری بیٹھی تھیں

” دادی ماں آپ جو چاہیں کریں میں حاضر ہوں بس علیزے کی مرضی ضرور پوچھ لیجئے گا ۔۔۔” موحد نے ان کے کندھوں کو پیار سے دبایا

” علیزے تم دونوں بھائیوں کی طرح نہیں ہے بہت تابعدار بچی ہے ، اس سے تم خود بھی اس کی رائے پوچھ سکتے ہو ۔” وہ کھڑی ہوئیں

” دادی میں راضی ہوں آپ جب چاہیں رخصتی کردیں مجھے کوئی اعترض نہیں ہے کہیں تو آج ہی لے جاتا ہوں اور نہ ہی مجھے علیزے سے پوچھنے کی ضرورت ہے ۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا

” جیتے رہو جگ جگ جیو !! اب بس احمد کو لکھ بھیجو اس ماہ کے آخر تک آجائے میں رخصتی کی تیاری شروع کرتی ہوں ۔۔۔” وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں

” نماز کا وقت ہورہا ہے پتہ نہیں یہ لڑکی چائے بنانے میں اتنا وقت کیوں لے رہی ہے میں دیکھتی ہوں ۔۔۔”

” دادی آپ نماز پڑھ لیں میں علیزے کو چیک کرتا ہوں پھر چائے ساتھ پئیے گئے ۔” وہ انہیں روکتا ہوا خود کچن کی طرف بڑھا

___________________________________________

ویسے تو گھر میں مالی چوکیدار اور ایک کام کرنے والی ، سب موجود تھے لیکن کھانا پکانے کا کام دادی کو ملازمین سے کروانا پسند نہیں تھا وہ خود بھی ایکٹیو تھیں اور اب تو علیزے بھی کچن سنبھال لیتی تھی ۔ دادی سے بات کرنے کے بعد وہ علیزے کو دیکھنے کے لیے سیدھا کچن میں آگیا جہاں علیزے بڑے انہماک سے اس کے لئیے چائے اور لوازمات ٹرے میں سیٹ کر رہی تھی ۔

” کیسی ہو ؟ ” اس کی گھمبیر آواز گونجی

علیزے اس کی آوز پر پلٹی

“آپ میں بس چائے لا ہی رہی تھی ۔۔۔” وہ اوون سے کیک نکالتے ہوئے بولی

” یار میں کیا مہمان ہوں ؟ اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔” وہ ٹرے میں رکھے لوازمات کباب فروٹ چاٹ سینڈوچز پر نظر دوڑاتے ہوئے بولا

” آپ سیدھا آفس سے ادھر آئے ہیں مجھے پتہ ہے آپ نے لنچ بھی نہیں کیا ہوگا ۔۔” وہ رسان سے بولتی ہوئی اس کی فکر کرتی سیدھا اس کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی

” بس ابھی نکلنا تھا تو دادی کو سلام کئیے بغیر ، تمہارا چہرہ دیکھے بغیر کیسے جا سکتا تھا ۔۔۔” وہ کباب اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوئے بولا

” آپ کہیں جارہے ہیں ؟ ” علیزے نے دھیرے سے پوچھا

” ہاں ایک اہم کام سے پشاور کیلئے نکلنا ہے سوچا جاتے جاتے تمہارے ان پیارے پیارے ہاتھوں سے بنی چائے پیتا جاؤں ۔۔۔” وہ بولتے ہوئے نزدیک آیا اور ٹرے علیزے کے ہاتھوں سے لے کر اسے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے باہر نکلا

لاؤنچ کے پاس پہنچ کر ٹرے تخت پر رکھی اور خود بھی بڑے اطمینان سے سامنے پڑے صوفے پر پیر پسار کر بیٹھ گیا ۔

” دادی کدھر گئیں ؟ ” علیزے نے چاروں طرف دیکھا

” وہ نماز پڑھنے گئی ہیں ابھی آتی ہونگی تم بیٹھو ۔۔۔” وہ ریلیکس انداز میں اپنی نظریں اس کے صبیح چہرے پر جماتے ہوئے بولا

” میں نماز پڑھ کر آتی ہوں ۔۔۔” وہ اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا کر ہاتھ مسلتے ہوئے بولی

” ابھی خاصا وقت ہے میرے جانے کے بعد پڑھ لینا ۔۔” موحد نے قریب آکر اس کا نازک ہاتھ تھام کر اسے صوفے پر بٹھایا ۔

علیزے کو آج موحد کی بار بار خود پر اٹھی نظریں کچھ اور ہی رنگ اور جذبات سے بھری ہوئی محسوس ہو رہی تھیں وہ سر جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھ مسل رہی تھی

” علیزے ۔۔۔۔” موحد کی گھمبیر آواز گونجی

” جی ۔۔۔۔” اس نے سر اٹھایا اور اس کی بھرپور توجہ خود پر مرکوز دیکھ کر فوراً سر جھکا لیا

” میں اب تم سے الگ نہیں رہ سکتا ، بچپن سے تمہیں چاہتا آرہا ہوں میری محبت سے تم بھی انجان تو نہیں ہو بولو جانتی ہو نہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں ؟؟ ” وہ اس کے جھکے سر پر نظریں جمائے پوچھ رہا تھا

علیزے کے چہرے پر اترتے دھنک کے دلکش رنگوں سے وہ ہرگز بھی انجان نہیں تھا

” تمہیں اندازہ بھی ہے تم کتنی خوبصورت ہو ، کتنی دلکش ، کتنی معصوم ہو ؟ کس طرح سے مجھ جیسے بندہ بشر کے دل میں اندر تک اتر کر وار کرتی ہو ۔۔۔” وہ سوال کررہا تھا علیزے کو اپنے اندر کپکپاہٹ سی اٹھتی محسوس ہوئی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اٹھ کر بھاگ جائے
” میں نے تمہارے لئیے ایک گفٹ لیا تھا اس رات دینا ہی بھول گیا ۔۔۔” اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پازیب نکالی

” یہ میں تمہیں خود پہنانا چاہتا ہوں اجازت ہے ؟ ” اس نے علیزے کی جھکی ہوئی نظروں کے آگے پازیب لہرائی

وہ سٹپٹا کر رہ گئی آج تک موحد نے اس سے اس طرح بات نہیں کی تھی ۔کبھی اپنے جذبات یوں عیاں نہیں کئیے تھے ۔موحد نے علیزے کی جھکی لرزتی پلکوں کو بغور دیکھتے ہوئے دھیرے سے جھک کر علیزے کے نرم و نازک سفید پیروں میں وہ بیش قیمت باریک سی پائل باری باری پہنائی اور پھر سیدھا ہوا

” تمہارے انٹر کے فائنل امتحان کب ہیں ؟ ”

” چار ماہ بعد ! کیوں ؟ ” وہ حیران ہوئی

” میں نے دادی سے اس ماہ کے آخر میں تمہیں رخصت کرانے کی ہامی بھر لی ہے تم بھی اپنا مائنڈ سیٹ کرلو ، امتحان اب تم رخصتی کے بعد ہی دینا ۔ اب جاؤ اور دادی کو بھیج دو ۔۔” وہ نرمی سے اس کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتا ہوا پیچھے ہٹا

علیزے اجازت ملتے ہی اپنے تیزی سے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
_____________________________________________

تین دن ہوچکے تھے میجر احمد اور ایجنٹ دلاور نے اب تک اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا وہ آج ان کی تلاش میں نکلنے کا اردہ کر چکا تھا جب اس کے فون پر پلوشہ کا میسج آیا ۔

” زلمے تایا ابھی زبیر لالہ کے ساتھ کابل کیلئے نکل رہے ہیں اور وہ رات والا ہندوستانی آدمی بھی ان کے ساتھ ہے انہوں نے ڈالر سے بھرا بریف کیس بھی پجیرو میں پچھلی سیٹ کے اندر چھپایا ہے ۔۔۔۔”

کیپٹن حمید پلوشہ کا میسج دیکھ کر چونک گیا زلمے خان کا اس طرح بارڈر کراس کرنا یقیناً کوئی بڑی بات تھی

” مجھے زلمے خان کی گاڑی کا رنگ ماڈل اور نمبر بتاؤ ۔۔ ” اس نے جوابی ٹیکسٹ کیا اور اپنا ریوالور جیب میں رکھتے ہوئے باہر نکلا سرمئی ملگجے قمیض شلوار میں آنکھوں میں سرمہ ڈالے بال بکھرائے وہ پکا نشئی لگ رہا تھا اب اس کا رخ بارڈر کے راستے پر تھا جہاں سے زلمے خان نے گزرنا تھا

کچھ ہی دیر میں اس کی اسکرین پر زلمے خان کی جیپ کی تصاویر آگئی تھیں ۔جنہیں دیکھ کر اس کے چہرے پر کرختگی چھا گئی اور اس نے پلوشہ کو فون ملایا

” تمہیں میں نے فیلڈ ورک سے منع کیا تھا ، کیا تھا کہ نہیں ؟؟” وہ سختی سے فون ملتے ہی بولا

” اتنا ناراض کیوں ہو رہے ہو ؟ میں نے تو بس اپنے کمرے کی کھڑکی سے تصویریں کھینچی ہیں ہاں اب ذرا زلمے تایا نکل جائیں تو مہمان خانے کی جا کر تلاشی لونگی ۔۔” وہ پردہ برابر کرتی ہوئی کمرے میں پڑی آرام کرسی پر بیٹھ گئی

” پلوشہ تم سمجھتی کیوں نہیں ہو اس سب میں تمہاری جان کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے جو میں افورڈ نہیں کرسکتا ۔۔۔” وہ جھنجھلا اٹھا

” کیپٹن حمید !! میری جان کی پرواہ مت کرو زلمے تایا مجھے بہت پیار کرتے ہیں وہ کبھی بھی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔” پلوشہ کے لہجے میں اپنے تایا کی محبت کا مان تھا

” پلوشہ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں !! جو اپنی زمین کا نہیں وہ کسی کا نہیں ہوتا بس اب تم مزید کچھ نہیں کروگی اور واپس لاہور جا کر یونیورسٹی جوائن کرو ۔۔۔” وہ سختی سے بولا

” تم کیوں فضول میں میرے ابا بن رہے ہو ؟ میں نے کہا نا کہ جب تک یہ کیس ۔۔۔۔۔۔۔” وہ بول ہی رہی تھی کہ کسی نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا ۔۔۔
_____________________________________________

زلمے خان جیپ میں اپنی نگرانی میں سامان رکھوا رہا تھا جب اسے جیپ کے سائیڈ مرر میں اوپر کمرے سے جھانکتی پلوشہ دکھائی دی ۔۔

بچپن سے ہی پلوشہ وہ جب بھی کہیں جاتا تھا اسے خداحافظ کہنے کھڑکی میں کھڑی ہوتی تھی اور اس وقت تک کھڑی رہتی تھی جب تک اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتی تھی ۔وہ مسکراتے ہوئے اسے ہاتھ ہلانے کیلئے پلٹ ہی رہا تھا کہ پلوشہ نے فون سے تصویر کھینچی زلمے خان کی رگیں تن گئی تھی وہ زبیر کو ہدایات دیتے ہوئے واپس حویلی کے اندرونی رہائشی حصے کی طرف بڑھا اس کا رخ سیڑھیوں کی جانب تھا

” زلمے ابھی نکلے نہیں تم ؟؟ ” مورے نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر پوچھا

مگر وہ کوئی جواب دئیے بغیر سیڑھیاں چڑھ کر سیدھا پلوشہ کے کمرے کے دروازہ پر پہنچا اور آہستگی سے دروازہ کھولا وہ کرسی پر بیٹھی کسی سے فون پر باتوں میں مگن تھی پلوشہ کی پشت اس کی سمت تھی ۔۔

” کیپٹن حمید !! میری جان کی پرواہ مت کرو زلمے تایا مجھے بہت پیار کرتے ہیں وہ کبھی بھی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔”

زلمے تیز قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس پہنچا اور فون اس کے ہاتھوں سے چھین لیا

“ہیلو پلوشہ ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔” کیپٹن حمید کی بیقرار سی آواز گونج رہی تھی

” تایا ابو وہ میں ۔۔۔۔۔” پلوشہ گڑبڑا کر کھڑی ہوگی
زلمے خان نے سرد نظروں سے اسے دیکھا اور اپنی جیب سے پستول نکال کر اس کی کنپٹی پر رکھی

” تایا ابو ۔۔۔۔” پلوشہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا اور یہ اس کی آنکھوں کا آخری منظر تھا زلمے خان نے ٹریگر دبا دیا تھا پلوشہ کے سر میں سوراخ ہوچکا تھا روح قفس عصری سے پرواز کرچکی تھی بے جان لاشہ اپنے ہی خون میں نہایا ہوا تھا ۔

گولی کی آواز سن کر مورے تائی اماں زبیر سب بھاگے ہوئے اندر آئے اور سامنے کا منظر دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئے مورے نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا

” اس کا غیر مرد سے تعلق تھا جس کا امارا مذہب اجازت نہیں دیتا اس کو دفنانے کا انتظام کرو ۔۔۔۔” زلمے خان نفرت سے کہتا ہوا اپنے ہاتھ میں پکڑے فون کو نفرت سے دیکھتے ہوئے بند کرگیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: