Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 14

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 14

–**–**–

سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے

گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے

سب کے بازو یخ بستہ
سب کا جسم دہکتا ہے

ایک سفر وہ ہے جس میں
پاؤں نہیں دل تھکتا ہے
(احمد فراز )

فون بند ہو چکا تھا تھا وہ شاکڈحالت میں فون کو دیکھ رہا تھا پلوشہ شہید ہوچکی تھی ، اسے زلمے خان پر اس کا حد سے زیادہ اعتبار لے ڈوبا تھا ۔
کیپٹن حمید کی آنکھ سے ایک پانی کا شفاف قطرہ گرا اور اس کی گھنی داڑھی میں گم ہوگیا وہ اس وطن کا محافظ تھا مار خور تھا اور ان مار خوروں کو اس راہ میں رکنے کی ، قیام کرنے کی اجازت نہیں تھی ، ان کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے وہ ہے شہادت ، شہید کی موت ہی اس کے وطن عزیز کی زندگی کی نوید ہوتی ہے اور وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ۔

اس نے دونوں ہاتھ بلند کرکے پلوشہ کیلئے دعائے مغفرت کی ،اب اس کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی چھا گئی تھی پلوشہ کی قربانی کو وہ ہرگز بھی رائیگاں نہیں کرنا چاہتا تھا ۔اس نے اپنا ارادہ بدل دیا تھا گاڑی وہی چھوڑ کر اس نے جھاڑیوں میں چھپی اپنی کھٹارا موٹر سائیکل نکالی اور پشین کے بدنام زمانہ چائے خانہ کی طرف اپنا رخ کیا لب بھینچے چہرے پر کرختگی لئے وہ چائے خانہ کے نزدیک پہنچا موٹر سائیکل وہی چھوڑ کر اس نے جیب سے شراب کی بوتل نکال کر خود پر چھڑکی منہ میں نسوار ڈالی اوراب اس کے چہرے پر ایک نشہ سا تھا ساری کرختگی پتھریلا پن کہیں دور جا سویا تھا مار خور جاگ گیا تھا وہ اپنے گلے میں پڑے مفلر کو اتار کر سر پر شیشے کی ٹوپی سجا کر چائے خانہ کے اندر داخل ہوا ۔

” اوئے منصور خاناں کدر تھا تم ؟ ۔۔۔ ” چائے خانہ کا مالک اسے دیکھ کر پرجوش ہوا

” او یارا اتنے دن سے غائب تھا پنجہ لڑانے بھی نہیں آیا چل آج ایک میچ ہوجائے ۔۔۔” کئی پشتون اسے دیکھ کر خوش ہوئے

” امارے کو کام چاہئیے ۔۔۔۔” کیپٹن حمید چائے خانے کے مالک زمین خان کی آنکھوں میں جھانک کر بولا

” کام کیسا کام ؟؟ تم کب سے کام کرنے لگا ؟ ۔۔۔۔” زمین خان نے مذاق اڑایا

” ام کو پیسہ چاہئیے ڈھیر سارا کام دیتا ہے تو بولو ورنہ ام پشاور جا کر کوئی کام دھندا ڈھونڈے گا تم بھی پنجہ لڑانے والا کوئی اور آدمی ڈھونڈ لینا ۔۔۔”

” یارا تم کو سوائے لڑائی جھگڑے اور نشہ کرنے کے اور کچھ آتا ہے ؟ ۔۔۔” زمین خان نے سوال کیا

” ام سب کرسکتا ہے گاڑی چلا لیتا ہے بندہ مار سکتا ہے چوری کرسکتا ہے ۔۔۔۔” کیپٹن حمید عرف منصور خان نے سینہ پھلایا

” اتنا پیسہ کا کیا کریگا ؟ ”

” اماری محبوبہ کا باپ سے رشتہ مانگا ہے جرگہ نے چالیس لاکھ ادا کرنے کو کہا ہے اب ام چالیس لاکھ کہاں سے لائے پنجہ لڑا کر تو نہیں ملیگا اتنا رقم ۔۔۔”

” اوہ شادی کا معاملہ ہے ٹھیک ہے ٹھیک ہے ام مدد کریگا تم رکو ام ابھی آیا ۔۔۔” زمین خان اسے وہی بیٹھنے کا اشارہ کرکے اندر آیا اور دروازہ بند کرکے اس نے اپنا فون نکالا ۔

” سلام سردار ۔۔۔۔” فون ملتے ہی وہ خوشامدانہ انداز میں بولا

” کہو کیوں فون کیا ہے ؟ ”

” سردار امارا ایک آدمی ہے اسے کام چاہئے بہت وفادار اور اچھا آدمی ہے پیسے کیلئے کچھ بھی کریگا ۔۔۔”

” بھروسہ کا قابل ہے ؟ ”

” جی سردار پکا بھروسہ والا آدمی ہے لڑائی جھگڑے کا ماہر ہے امارا چائے خانہ میں پنجہ لڑاتا ہے ام اس کو دو سال سے جانتا ہے ۔۔۔”

” ٹھیک ہے ڈیرے پر بھیج دو اور یاد رکھنا اگر غلط آدمی نکلا تو ام تمہارا لاش الٹا لٹکا کر جانوروں کو کھلائے گا ۔۔”

” سردار امارا بات پر یقین کرو اور وہ سردار تھوڑا خیال بھی کرو امارا آدمی بھیجنے کا امارا حصہ ۔۔” وہ لالچی انداز میں آنکھیں مٹکاتے ہوئے اپنا حصہ مانگ رہا تھا

فون بند کرکے زمین خان کمرے سے باہر نکلا جہاں سامنے ہی منصور خان بیٹھا ہوا تھا

” ام نے تمہارا نوکری کا بات کیا ہے بس تم وفاداری سے کام کرنا امارا سردار اگر تمہارے کام سے خوش ہوا تو چالیس لاکھ کیا تم کڑوڑ کمائے گا ۔۔۔” زمین خان نے اسے خوش خبری سنائی

” ام تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولے کا زمین خاناں ۔۔۔”

” احسان چھوڑو بس جب پیسہ آجائے تو امارے کو دو لاکھ دے دینا اب تم سرادر کے ڈیرے پر چلا جاؤ وہ انتظار کرتا ہے ۔۔۔”

” سردار کا نام اور ڈیرہ تو بتاؤ کدھر ہے ۔۔۔”

” زلمے خان کا نام سنا ہے ؟؟ ”

“سردار زلمے خان کو کون نہیں جانتا ام کو پتہ بتا دو ام چلا جائیگا ۔۔۔” کیپٹن حمید نے سنجیدگی سے کہا

زمین خان نے اسے زلمے خان کا پتہ بتایا اور کیپٹن حمید اپنے پلان کی کامیابی پر سر ہلاتے ہوئے زلمے خان سے ملنے کیلئے روانہ ہوگیا ۔
زلمے خان کے ساتھیوں میں شامل ہو کر اس ملک دشمن عناصر کو جڑ سے اکھاڑ کر ختم کرنے کا وقت آگیا تھا ۔
___________________________________________

شام ڈھل گئی تھی سات بجتے ہی موحد دادی ماں سے اجازت لیکر گھر سے نکلا اب اس کا رخ تھانے کی طرف تھا اسے اس وقت تھانے میں دیکھ کر حوالدار ، سب انسپکٹر سب حیران رہ گئے ۔

” سلام سر ۔۔۔۔” حوالدار نے سلیوٹ کیا

” آپ اس وقت سر ؟ سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔” سب انسپکٹر نے سوال کیا

” یس سب ٹھیک ہے آپ لوگ ادھر فارغ بیٹھے کیا کررہے ہیں ؟ پٹرولنگ پر نکلیں ۔۔۔” موحد نے سب انسپکٹر کو گھورا

ان سب کے نکلتے ہی وہ سیدھا اسپیشل سیل کی طرف بڑھا اور اندر بند بم دھماکہ کے ملزم کو گریبان سے پکڑ کر باہر نکال کر باہر کھڑی بکتر بند گاڑی میں لاکر بٹھایا اس کے ہاتھ گاڑی کی راڈ کے ساتھ ہتھکڑی لگا کر باندھ دئیے تھے ۔

” نذیر کوشش کرنا میرے جانے کی اطلاع کسی کو بھی صبح سے پہلے نہیں ملے ۔۔۔” اس نے انچارج کو جو اس کا قابل اعتماد ساتھی تھا ہدایات دیں

چاروں جانب اچھی طرح چیک کرنے کے بعد موحد بکتر بند گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر آرام سے بیٹھا اور پشاور کیلئے نکل پڑا ۔اٹھارا گھنٹے کا سفر تھا وہ فل اسپیڈ سے گاڑی دوڑانا شروع کر چکا تھا ۔

______________________________________________

سرمہ خان بڑے پیار سے گلاب خان کو دیکھ رہا تھا

” او دلدارا شرماؤ مت ام کو بتاؤ ام تمہارے لئیے پشاور سے کیا لائے ؟؟ ” سرمہ خان نے اپنی بات دہرائی

” سر اتنے پیار سے پوچھ رہا آپ اس سے اور کچھ نہیں تو دنداسہ تو منگوا ہی لو بڈھا خوش ہو جائے گا ۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے سرگوشی کی

” سرمہ خان ہم ادھر اکیلا رک کر کیا کریگا ؟ ہمیں بھی تمہارے ساتھ کابل جانا ہے ۔۔۔” میجر احمد نے اپنے ہاتھ رسی سے نکالتے ہوئے کہا

” اوئی قربان ! تم کو ام سے بھی زیادہ جلدی ہے ۔۔۔” سرمہ خان کی بانچھیں کھل گئی

” عشق چیز ہی ایسی ہے سب کو گدھا بنا دیتی ہے ۔۔۔” دلاور بڑبڑایا

” چلو جلدی کرو یاراں ام ابھی نکلے گا تو جلدی سے کابل پہنچے گا اور کام ختم کرکے تم کو اپنا پیرس گھمائے گا ۔۔۔” سرمہ خان نے میجر احمد کو ساتھ چلنے کا اشارہ کیا جو دلاور کی رسی کھول رہا تھا

“سر یہ تو پورا ہنی مون پلان کررہا ہے ۔۔۔” دلاور نے احمد کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھا

” بکواس بند کرو ۔۔” میجر احمد دھیمے لہجے میں غرایا

” خوچہ کانٹا خان تم کیا بول رہا ہے ؟ ” سرمہ خان نے مشکوک نظروں سے دلاور کو گھورا

” سرمہ خان ام بس گلاب خان سے اس کا پاسپورٹ کا پوچھ رہا تھا ۔۔”

” امارے ساتھ ہوتے کوئی پاسپورٹ ویزا کی فکر نہیں ہے ام ہے نا اپنے گلاب خان کا پاسپورٹ ۔۔۔”سرمہ خان نے فخر سے اپنا سینہ پھلایا

” تو کیا پیرس بنا پاسپورٹ بس تمہارا شکل دکھا کر جاسکتے ہیں ؟ ” ایجنٹ دلاور نے بھول پن کی حد کردی

” کون سا پیرس کی بات کرتا ہے ؟ ” سرمہ خان نے اسے گھورا

” ابھی تو تم نے گلاب خان کو ہنی مون پر ہیرس لے جانے کا بولا ہے ۔۔”

” ہنی مون ۔۔ ” سرمہ خان کا چہرہ کھل اٹھا تو دوسری طرف احمد نے بڑی مشکل سے اپنے غصہ پر قابو پایا

” کابل میں بس دو تین گھنٹے کا کام ہے پھر ام لانگ ڈرائیو کر کے گانا سنتے ہوئے پیرس جائیگا بولو گلاب خان چلو گے امارا ساتھ ؟ادر کا نسوار واللہ کمال ہے ام تم کو شاپنگ بھی کروائے گا اور ادر ہوٹل میں ٹھہرے گا ۔۔ ” سرمہ خان نے اپنی دانست میں میجر احمد کو سہانے خواب دکھائے

” پیرس میں نسوار ۔۔۔۔” دلاور کو پھندا لگ گیا

” تم امارا مذاق اڑاتا ہے ؟ ” سرمہ خان نے اپنی پستول دلاور کی سمت کی

” نہیں میں تو بس لانگ ڈرائیو کر کے پیرس جانے کا سوچ سوچ کر ہوا میں اڑ رہا ہوں ویسے کابل سے پیرس کتنی دور ہے ؟ کیا میں بھی چل سکتا ہوں ۔۔ ”

” دیکھو خوچہ ام پہلے بول چکا ہے سرمہ خان کی محبت ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی ام تم کو کباب میں ہڈی بنا کر نہیں لے جائیگا ، ام تم کو کابل میں چھوڑے گا پھر ام اور امارا گلاب خان پیرس جائے گا۔” سرمہ خان ایک آنکھ بند کرکے بولا

” سرمہ خان مجھے اپنا مرید بنا لو اور بس اتنا بتادو کابل سے پیرس لانگ ڈرائیو پر کیسے جاؤگے بیچ میں جو سمندر پڑے گا اسے گاڑی میں کیسے پار کرو گے ؟ ” ایجنٹ دلاور ابھی تک پیرس پر اٹکا ہوا تھا

“سمندر ؟ کانٹا خان تم پاگل ہے کیا ؟ کابل سے قندھار کے بیچ سمندر کدر ہے ؟ ” سرمہ خان نے تاسف سے اس کم عقل کو گھورا

” اب یہ پیرس جاتے جاتے قندھار کدھر سے آگیا ؟ ” دلاور نے سر پیٹا

” اپنا قندھار ہی تو امارا پیرس ہے واللہ ادر کی نسوار ادر کی بھیڑیں اور دم پخت واللہ واللہ ۔۔۔” سرمہ خان نے آنکھیں بند کر کے اپنے پیرس کی ہواؤں کو محسوس کیا

” چلو اب دیر مت کرو رات ہورہا ہے لمبا دوسو پچاس میل کا سفر ہے ۔۔” سرمہ خان نے دونوں کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا

میجر احمد اور ایجنٹ دلاور باہر آئے تو سامنے ہی بڑی جیپ میں اسماعیل خان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا پیچھے برقع خانم آرام سے سیٹ پر ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی ۔

“چلو تم دونوں پیچھے بیٹھو ۔۔۔” سرمہ خان آگے کا دروازہ کھول کر بیٹھتے ہوئے بولا

” سر باجی کے پاس آپ بیٹھیں گے یا یہ نیک فریضہ میں انجام دوں ؟ ” دلاور نے سنجیدگی سے پوچھا

ان دونوں کی آواز سن کر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی قانتا سیدھی ہوئی ۔

“افف یہ دونوں کھڑوس بھی ساتھ چلیں گے ۔۔۔” وہ بڑبڑائی

میجر احمد دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ سرمہ خان کی پیچھے مڑا

” او برقع والا باجی تم بیچ میں بیٹھو رات کا سفر ہے عورت کا ساتھ ہونا خطرناک ہے ام نہیں چاہتا کوئی اونچ نیچ ہو ام نے گلاب خان سے تمہیں صحیح سلامت تمہارا گھر پہنچانے کا وعدہ کیا ہے ۔ ”

قانتا کھسک کر بیچ میں ہوگئی اب ایک کونے پر دلاور اور دوسرے پر میجر احمد اور ان دونوں کے بیچ میں قانتا اپنا برقع سنبھال کر بیٹھی ہوئی تھی ۔
_____________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: