Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 15

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 15

–**–**–

آٹھ گھنٹے تک مسلسل گاڑی چلاتے ہوئے وہ پشاور پہنچ چکا تھا بارہ بجے اس بم دھماکہ کیس کے ملزم کی پیشی تھی جسے چھڑانے کیلئے موحد پر ازحد دباؤ ڈالا گیا تھا پر وہ اپنی عقل و فراست سے کام لیتے ہوئے سب کو ڈاج دے کر اس ملزم کے ساتھ پشاور پہنچ چکا تھا اور اب پشاور ہائی کورٹ کی پارکنگ میں انتظار کررہا تھا ۔

پاکستان میں جتنے دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں ان حملوں میں تقریباً افغانی ملوث تھے جو پشاور سے آتے جاتے تھے ۔بم دھماکہ ، فوجی گاڑیوں پر حملے ، خود کش دھماکے سب میں زیادہ تر افغانی ملوث تھے ۔جو را کے اشاروں پر ناچ رہے تھے ان کا مقصد ہی پاکستان کو کھوکھلا کرنا بلوچستان کو الگ کرکے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا تھا ۔
دہشت گردی آخر ہے کیا ؟ منظم منصوبے کے تحت مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پرتشدد کارروائی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔

حکومت یا عوام میں منصوبے کے تحت خوف و ہراس پھیلانا، جانی و مالی نقصان پہنچانا دہشت گردی ہے جبکہ منصوبے کے تحت مذہبی فرقہ واریت پھیلانا، صحافیوں، کارباری برادری، عوام اور سوشل سیکٹر پر حملے بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ کسی منصوبے کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، لوٹ مار کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے بھی دہشت گردی ہیں۔

وہ بارہ بجنے کا انتظار کررہا تھا پونے بارہ بجے وہ بکتر بند گاڑی سے اترا اور اس نے پیچھے آکر دروازہ کھول کر گردن سے پکڑ کر اس ملزم کو باہر نکالا ۔وہ اسے لے کر آگے بڑھا ہی تھا کہ ہائی کورٹ کے باہر غیرقانونی پارکنگ میں سڑک سے گزرنے والے رکشے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ایک افراتفری سی پھیل گئی تھی چاروں طرف دھواں ہی دھواں چیخیں ہی چیخیں تھی بھاگ دوڑ سی مچ گئی ساری سیکیورٹی فورس کی توجہ باہر دھماکے کی تھی موحد نے ساتھ چلتے ملزم کی گردن ہر اپنی گرفت مضبوط کی اور تیزی سے آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک سنسناتی ہوئی گولی آکر اس کے ساتھ چلتے ملزم کے سر پر لگی اور وہ وہی ڈھیر ہوگیا موحد نے تیزی سے قلابازی کھا کر خود کو ایک گاڑی کے پیچھے کیا اور جیب سے اپنا سروس ریوالور نکالا وہ عقابی نگاہوں سے چاروں جانب دیکھ رہا تھا یہ سنائپر شاٹ تھا اور حملہ بہت پلاننگ سے کیا گیا تھا اتنی احتیاط کے باوجود دشمن عناصر کو اس کی آمد اور سارا پلان پتہ تھا جو ایک انتہائی خطرناک بات تھی اس بھیڑ میں فائر کہاں سے ہوا ، کس نے کیا پتہ چلانا ناممکن تھا ۔پولیس، ریسکیو اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی تھیں اور ہائی کورٹ آنے جانے والے تمام راستے مسدود کر دیے گئے تھے ۔
دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے موحد خاموشی سے وہاں سے نکل گیا کہ ٹارگٹ صرف ملزم ہی نہیں وہ بھی تھا ۔

*********
کیپٹن حمید زلمے خان تک پہنچ گیا تھا اور اب اس کے ٹریننگ سینٹر میں اسی کے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا اس کی تقریر سن رہا تھا ۔

“ہمیں جتنا دبانا تھا یہ لوگ دبا چکے ہیں اب ہمیں اپنا حق خود لینا ہوگا ۔ساتھیوں ٹھیک دو ماہ بعد ہم اسٹرائیک کرینگے اور اس بار حملے پوری قوت سے اور بہت شدید ہونگے اور ان کو ایسی چوٹ پہنچائیں گے کہ انہیں بھی ہمارا دکھ محسوس ہو ہمیں اپنا وطن بنانا ہے اور اس کی راہ میں آنے والی فوج کو ،حکومت کو ہم سبق سکھا کر رہینگے ۔۔” زلمے خان پرجوش انداز میں سب کو ورغلا رہا تھا ان کے اندر پاکستان کے خلاف ، پاک فوج کے خلاف اشتعال پیدا کررہا تھا

کیپٹن حمید پرسکون انداز میں اس کی تقریر سن رہا تھا زلمے خان جیسے لیڈر کے سر پر نہ جانے کتنے بےگناہ شہریوں کا خون تھا اس نے تو سرداری قائم رکھنے کے لیے اپنے بھائی اور بھتیجی تک کو نہیں چھوڑا تھا لیکن ہر ظلم کا ایک اختتام ہوتا ہے ظالم کہ رسی دراز ضرور ہوتی ہے لیکن اس کے گلے میں صحیح وقت کا انتظار کررہی ہوتی ہے اب زلمے خان کے حواریوں میں ایک مارخور کا اضافہ ہوچکا تھا جو اسے دردناک موت دینے کا ٹھان کر آیا تھا کہ گرفتار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ان ظالموں کے ہاتھ کافی لمبے تھے ۔اسے رات کا انتظار تھا گہری سیاہ رات جو اپنے اندر بہت سے راز سمیٹ لیتی ہے ۔

رات کے ایک بجے وہ خاموشی سے بستر سے اٹھا دبے پاؤں چلتا ہوا باہر نکلا پوری عمارت سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی باہر رکھوالی کے کتوں کے غرانے کی آوازیں آرہی تھیں اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتے وہ ایک جمپ لگا کر دیوار پھلانگ گیا تھا ۔اب اس کا رخ زلمے خان کی حویلی کی طرف تھا۔

” وہ دیکھو میرے کمرے کی کھڑکی تمہاری وجہ سے ہمیشہ کھلی رکھتی ہوں ۔۔۔” اس کے ذہن میں پلوشہ کی باتیں گونج رہی تھیں

” تم بہت کھڑوس ہو کیپٹن ایک تو میں تمہاری اتنی مدد کرتی ہوں اور تم بجائے احسان ماننے کے الٹا اکٹر جاتے ہو ۔۔” ایک یاد ابھر کر اس کی آنکھیں نم کرگئی
وطن کی راہ میں ہر چیز مٹ جاتی ہے ، جانیں قربان ہوجاتی ہیں بس یاد اور یاد رہ جاتی ہے ۔

وہ حویلی کے سارے چور راستے ، ساری فصیلیں پہچانتا تھا جانتا تھا کہ پلوشہ اسے کئی بار یہ راستے دکھا چکی تھی بڑی سی دیوار پر چڑھ کر منڈیر پر چلتا ہوا وہ کونے والے کمرے کی طرف بڑھا جس کی کھڑکی پر پڑا پردہ آج بھی ہلکا سا کھلا ہوا تھا یہ پلوشہ کا کمرہ تھا یہ وہ کھڑکی تھی جہاں سے وہ اپنے تایا اور اس کے حواریوں کی جاسوسی کرنے کے لیے باہر آتی جاتی تھی ۔ کیپٹن حمید نے کھڑکی پر ہاتھ رکھا وہ حسب معمول لاک نہیں تھی کھڑکی کا پٹ کھول کر وہ اندر کود کر داخل ہوا اور پردے برابر کرکے کمرے کی لائٹ آن کی ۔سائیڈ کارنر میز پر پلوشہ کی ہنستی مسکراتی تصویر موجود تھی وہ اس تصویر کو دیکھتا ہوا کمرے کا جائزہ لینے لگا فرش پر ابھی بھی پلوشہ کے خون کے نشانات موجود تھے وہ ان نشانات کے پاس بیٹھا اس کے چہرے پر کرختگی چھائی ہوئی تھی اس نے ان نشانات ہر ہاتھ پھیرا پھر لائٹ آف کرکے اپنی جیب سے ماسک نکال کر چہرہ کوور کیا اور کمرے کا دروازہ کھول کر زلمے خان کے کمرے کی طرف بڑھا ۔وہ اس حویلی کے چپے چپے سے واقف تھا ۔

زلمے خان اپنی خوابگاہ میں محو استراحت تھا جب کسی سائے کی طرح کیپٹن حمید اندر داخل ہوا اس نے سختی سے زلمے خان کے منہ پر ہاتھ رکھا اور لمحہ بھر میں وہ اس کی بیگم کے پہلو سے زلمے کو اٹھا کر باہر نکل گیا اب اس کا رخ پلوشہ کے کمرے کی طرف تھا زلمے خان جاگ چکا تھا اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہا تھا لیکن مار خور کی گرفت سے نکلنا اس جیسے لحیم شہیم انسان کے لیے بھی ممکن نہیں تھا ۔کمرے میں لاکر اس نے زلمے خان کو فرش پر بیدری سے پٹخا ۔

” کون ہو تم ؟ ” زلمے خان نے اپنے سامنے کھڑے نقاب پوش سے پوچھا

” تمہاری موت ۔۔۔” کیپٹن حمید نے سنجیدگی سے جواب دیا اور ایک ہاتھ سے اس کا گلا دبوچ لیا

“تم غلط آدمی سے الجھ رہے ہوں میرے ساتھی تمہاری بوٹی بوٹی نوچ کر کتوں کو کھلا دینگے ۔۔” زلمے خان نے اسے دھمکایا

کیپٹن حمید کے چہرے پر نقاب کے اندر ایک مسکراہٹ سی ابھری ۔پلوشہ کی موت کے بعد پہلی بار زلمے خان کو اپنی گرفت میں بلبلاتا ہوا دیکھ کر اسے سکون ملا تھا اس نے ایک ہاتھ سے سختی سے زلمے کا منہ بند کیا اور دوسرے سے اس کے گلے پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا دس منٹ بری طرح اس کی گرفت میں پھڑپھڑانے کے بعد زلمے کا جسم ڈھیلا پڑگیا اور گردن ڈھلک گئی کیپٹن حمید نے اس پر سے اپنے ہاتھ ہٹائے ۔ چلتا ہوا پلوشہ کی تصویر کے پاس آیا اور ایک سلیوٹ مار کر ، اس نے زلمے خان کی لاش کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور ایک بھرپور الوداعی نظر اس کمرے پر ڈال کر باہر کود گیا ۔ایک عہد ایک الفت ایک صدی کا اختتام ہوگیا تھا اب اسے پلٹ کر نہیں دیکھنا تھا ۔زلمے خان کے ٹریننگ سینٹر پہنچ کر اس نے دیوار پر چڑھ کر زلمے کی لاش میدان میں پھینک دی جس کی بو سونگھ کر اس کے پالتو رکھوالی کے کتے اب اس کا لاشہ بھنبھوڑ رہے تھے ۔کیپٹن حمید کے چہرے پر سکون چھا گیا تھا اس نے نقاب اتار کر جیب میں رکھا اور خاموشی سے واپس اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اب صبح کا انتظار تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: