Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 16

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 16

–**–**–

موحد خاموشی سے پارکنگ سے نکل گیا تھا ۔ اب یہاں رکنا بیکار تھا ، جس مجرم کو وہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے لایا تھا وہ مارا جاچکا تھا لیکن اس کا ریکارڈ کردہ بیان اور ثبوتوں کی فائل موحد کے پاس تھی وہ روڈ پر چلتا ہوا فورسز کی نظروں سے بچتا بچاتا اس علاقے سے دور نکل آیا تھا اب اس کی نظریں ٹیکسی کی تلاش میں تھیں وہ بسوں کے اڈے سے کراچی کیلئے بس پکڑنے کا ارادہ کرچکا تھا ۔نزدیک سے گزرتی ٹیکسی کو روک کر اس نے ڈرائیور کو ڈائیوو ایکسپریس اسٹینڈ تک چلنے کی ہدایت کی اور پچھلی سیٹ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ٹیکسی کے رکتے ہی وہ ڈرائیور کو پیسے دے کر نیچے اترا اور کراچی جانے والی ڈائیوو ایکسپریس کا پتہ چلانے کیلئے آگے بڑھا ہی تھا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا ۔اس نے جیب سے فون نکالا کمشنر صاحب کی کال تھی ۔اس نے فون اٹھایا

” موحد کہاں ہوں تم ؟ سب ٹھیک تو ہے بم بلاسٹ نیوز آرہی ہے ” کمشنر صاحب نے فوراً سوال کیا

” جی سر خود کش حملہ ہوا ہے اور میں ادھر پشاور میں ہی ہوں ۔۔” وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں بولا

” آئی نو لیکن کدھر ؟ ” وہ جھنجھلا گئے

” سر ہائی کورٹ کے پاس ہی ہوں ۔۔” اس نے دانستہ اپنی لوکیشن نہیں بتائی

” اور وہ ملزم ؟ وہ ٹھیک ہے ” ان کے لہجے میں تشویش تھی

” نہیں سر ! ہی از نو مور ، اس بلاسٹ کا مقصد ہی اسے ہائی کورٹ پہنچنے سے روکنے کا تھا ۔۔”

” اوہ یہ تو بہت برا ہوا وہی تو ہمارا ثبوت تھا ۔۔” کمشنر صاحب نے تاسف سے کہا

” اٹس اوکے سر محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اس کا وڈیو بیان میں نے چلنے سے پہلے ریکارڈ کرلیا تھا وہی ان مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے کافی ہوگا ۔۔” وہ مضبوط لہجے میں بولا

” گریٹ ! تو پھر ایسا کرو تم وہ وڈیو پشاور پولیس کے حوالے کردو اور آج رات سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رک جاؤ تھوڑا آرام کرو ۔۔” انہوں نے ہدایات دی

” شیور سر ۔۔” اس نے تابعداری سے جواب دے کر فون بند کیا اور کھڑکی کے نزدیک پہنچ کر کراچی جانے والی ڈائیوو کا ٹکٹ لے کر اپنی بس کی طرف آگیا یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا اور اب وہ یہ سارے ثبوت انسداد دہشت گردی کی انویسٹیگیشن ٹیم کے حوالے کرنا چاہتا تھا ۔
آدھے گھنٹے بعد ڈائیوو کراچی کے لئیے روانہ ہوچکی تھی وہ اطمینان سے کھڑکی سے ٹیک لگائے چوکس چوکنا بیٹھا ہوا تھا ۔
لمبے سفر کے بعد وہ شام ڈھلے کراچی پہنچ چکا تھا وہی سے رکشہ کرکے وہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا دو دن سے وہ ایک لمحہ بھی نہیں سویا تھا ۔اس کیس پر اس نے بہت محنت کی تھی کوئی تو تھا جس نے اس کا سارا پلان آؤٹ کیا تھا لیکن کون اسٹیبلشمنٹ میں کسی کو بھی اس کا پلان پتہ نہیں تھا نہ ہی تھانے میں تو ؟؟ پولیس کمشنر ؟ اس سے آگے وہ ابھی سوچنا نہیں چاہتا تھا گھر پہنچ کر رکشے والے کو فارغ کرکے وہ پہلے احمد کے کمرے میں آیا جیب سے یو ایس بی اور مائیکرو چپ نکال کر مخصوص جگہ پر رکھ کر اپنے کمرے میں آیا اور سونے کے لئے لیٹ گیا ۔
صبح اٹھ کر وہ یونیفارم میں ملبوس سر پر کیپ پہنے تھانے جانے کے لیے تیار تھا ۔ٹھیک نو بجے وہ تھانے پہنچ چکا تھا اپنے اسٹاف کو سلام کا جواب دیتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں آیا کیپ اتار کر میز پر رکھی اور کرسی پر بیٹھ کر انسداد دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ کو کال ملانے لگا ۔
کال ملتے ہی اس نے اپنا تعارف کروا کر ملنے کی خواہش کی وہ انہیں اپنے جمع کئیے ہوئے سارے ثبوت اور فائلز ہینڈ اوور کرنا چاہتا تھا ۔فون سے فارغ ہوا ہی تھا کہ آفس کا فون بج اٹھا ۔

” گڈ مارننگ سر ۔۔” اس نے کمشنر صاحب کی آواز سن کر سرد لہجے میں وش کیا

” موحد تم واپس آگئے مجھے انفارم بھی نہیں کیا ؟ اتنی غیر ذمہ داری کی مجھے تم سے امید نہیں تھی ۔۔” وہ ناراض ہوئے

” سر آج ابھی کچھ دیر پہلے ہی واپس آیا ہوں ۔۔” اس نے جواب دیا

” ٹھیک ہے تم ڈی سی آفس آجاؤ اور کیس کی فائل لیتے آنا ۔۔” انہوں نے ہدایات دی

” سر فائل کیوں ؟ ”

” واٹ از رانگ ود یو ایس پی موحد ؟ تمہیں نہیں پتہ یہ کیس اب کلوز کرنا ہے “کمشنر صاحب نے سختی سے پوچھا

” سر یہ دہشت گردی کا کیس ہے اور میں یہ فائل ایجنسی کو ہینڈ اوور کررہا ہوں ۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بولا کر فون بند کرکے کھڑا ہوگیا
تھانے کا چکر لگا کر ہیڈ کانسٹیبل اور انسپکٹرز کو روز مرہ کی ہدایت دے کر باہر نکلا آنکھوں پر سن گلاسز لگا کر چلتا ہوا اپنی پولیس جیپ کی طرف آیا تبھی کسی نے پیچھے سے اس کے سر پر زور سے ریوالور کا دستہ مارا ۔ وہ تیزی سے مڑا اور سامنے کھڑے آدمی کو جس نے اپنے چہرے پر مفلر لپیٹا ہوا تھا ایک ہاتھ سے روکتے ہوئے زور سے دھکا دیا اور اس پر ٹوٹ پڑا ۔موحد کے سر پر کنپٹی کے پاس سے خون بہے چلے جا رہا تھا وہ اپنے چہرے پر سے خون صاف کرکے کھڑا ہوا اور اس آدمی کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے تھانے کے اندر لے جانے لگا تھا کہ دور سے ایک فائر ہوا اور گولی اس کے بازو میں لگی وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا اور اس آدمی نے اپنی جیب سے کلوروفارم میں ڈوبا ہوا رومال زبردستی اس کی ناک پر رکھا ۔
موحد بیہوش ہو کر گر گیا تھا ۔حیرت کی بات تھی کہ فائر کی آواز سن کر بھی تھانے سے کوئی باہر نہیں نکلا تھا ۔اس آدمی نے موحد کو اٹھا کر اپنی اسٹیشن ویگن میں ڈالا اور آرام سے وہاں سے نکل گیا ۔
********

: “يَوْمُ‌ الْعَدْلِ عَلَى الظّالِمِ أشَدُّ مِنْ يَوْمِ الْجَوْرِ عَلَى الْمَظْلُومٍ”،
“ظالم کے لئے انصاف کا دن اُس سے زیادہ سخت ہوگا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن”۔

فجر کی نماز پڑھ کر چوکیدار رکھوالی کے کتوں کو باندھنے کے لئیے بڑا سا لوہے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور چونک گیا ۔سامنے زمین پر خون ہی خون پھیلا ہوا تھا ایک نچا ہوا بھنبھوڑا ہوا مردہ جسم سامنے پڑا تھا جس کی شناخت مشکل تھی کتوں نے اسے بری طرح نوچ کھایا تھا اور اب بڑے اطمینان سے ہڈیاں چبا رہے تھے چوکیدار نے اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو تیزی سے وہاں سے ہٹایا اور گن نکال کر ایک ہوائی فائر کیا ۔

فائر کی آواز سنتے ہی پوری عمارت کی بتیاں روشن ہونی شروع ہوگئی کئی افراد بھاگتے ہوئے باہر آئے جن میں کیپٹن حمید بھی شامل تھا ۔ لاش کی شناخت زمین پر پڑے اس کے سیل فون اور قیمتی سونے کے ڈائل والی راڈو گھڑی سے ہوچکی تھی یہ زلمے خان ان کے سردار کی لاش تھی ۔ پورے ٹریننگ سینٹر میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوچکا تھا کیپٹن حمید خاموشی سے وہاں سے کھسک گیا تھا اس کا کام ادھر ختم ہوچکا تھا اب اس کا رخ بڑے پہاڑ پر واقع ایجنسی کے آفس کی طرف تھا ۔اسے میجر احمد اور دلاور کو رپورٹ کرنی تھی ۔وہ آگے قدم بڑھا رہا تھا اور دور کھڑی پلوشہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسے انصاف مل گیا تھا بیشک ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ، ظلم خود نہ برداشت کرنا اور دوسرے لوگوں کو بھی ظلم سے نجات دلانا مسلمانوں کی پہچان اور ان کی امتیازی شان ہے اور کیپٹن حمید جیسے جوان مرد مومن ہی اس کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں وہ چلتے چلتے رکا ایک مانوس سا احساس اسے اپنے آس پاس محسوس ہورہا تھا اس نے ایک گہرا سانس لیا اور پلٹ کر دیکھا ۔
سفید لبادے میں ملبوس پلوشہ دور کھڑی اسے دیکھ رہی تھی نظریں ملتے ہی وہ مسکائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں تحلیل ہوگئی ۔

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی

مری داستاں کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

ترے ہاتھ سے میرے ہونٹ تک وہی انتظار کی پیاس ہے
مرے نام کی جو شراب تھی کہیں راستے میں چھلک گئی

تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی

********
میجر احمد اور دلاور دونوں ہی بڑے سکون سے جیپ میں بیٹھے ہوئے تھے ان دونوں کے درمیان میں بیٹھی قانتا ان کا اطمینان دیکھ کر پریشان ہو رہی تھی گاڑی پتھریلے راستوں پر دوڑ رہی تھی ۔

” سرمہ خاناں آگے فوج کا لوگ کھڑا ہوا ہے ۔۔”ڈرائیور گاڑی کی رفتار کم کرکے راستہ بدلتے ہوئے بولا

” یہ فوج اس وقت ادر کیا کرتا ہے ۔۔” سرمہ خان نے پاک فوج کی گاڑی کو دیکھا

” لگتا ہے بارڈر سے آرہا ہے یہ گروپ اور ادر سے گزرتے پانی پینے ہلکا ہونے واسطے رکا ہے دیکھو سارا آدمی گاڑی میں بیٹھ رہا ہے ۔۔”

” سمندر خان ۔” سرمہ خان نے پیچھے آتی اپنے ساتھیوں کی ویگن میں رابطہ کیا

” جی خان حکم ۔۔” سمندر خان کی آواز ابھری

“اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہوگا پہلے ان کو مارے گا تم گاڑی کسی چٹان کی آڑ میں چھوڑ دو ہمیں ان کا شکار کرکے پہاڑوں میں چھپ کر ادر سے نکلنا ہوگا جلدی کرو ۔۔”سرمہ خان نے ہدایت دی ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی کا رخ موڑا ۔

” خان موقع اچھا ہے یہ چھ فوجی ہیں ابھی ان کا گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوا ہے انہیں اڑا دیتے ہیں ۔” سمندر خان کی آواز ابھری

“اچھا بات ہے ! اس طرح ان کی موت سے ہماری دہشت اور پھیلے گی ٹھیک ہے خوچہ پوزیشن لو اور اڑا دو سمندر خان ان کی گاڑی پر لانچر سے حملہ کرو ایک بھی فوجی بچنا نہیں چاہئیے ۔۔۔” سرمہ خان نے ہدایت دی جسے سن کر میجر احمد اور دلاور کے چہرے پر تناؤ کی کیفیت آگئی تھی دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا اور ۔۔۔
میجر احمد نے اپنےآگے بیٹھے سرمہ خان کے گلے میں ہاتھ ڈالا اسی وقت دلاور نے اپنے نیفے سے سائلنسر لگی پستول نکالی اور دروازہ کھول کر چلتی گاڑی سے باہر کود گیا ۔
دلاور نے پتھریلی زمین پر گرتے ہی قلابازی کھا کر پوزیشن لی اس کا ٹارگٹ سمندر خان کی وین تھی جہاں سے حملہ ہونا تھا اس نے وین کے ٹائروں کا باری نشانہ لیا وین ڈگمگا کر آگے بڑھی اور ایک درخت سے ٹکرا کر رک گئی اب اس نے وین کے دروازوں پر فائر کیا پوری کوشش تھی کہ انہیں باہر نہ نکلنے دیا جائے تاکہ فوجی گاڑی وہاں سے آرام سے نکل جائے ۔
میجر احمد کے بازو سرمہ خان کی گردن پر دباؤ بڑھا رہے تھے ۔
” گلاب خان ۔۔۔” سرمہ خان نے شاکڈ ہوں کر اسے پکارا
” گاڑی روکو ورنہ اسے مار دونگا ۔۔” میجر احمد پھنکارا اسماعیل خان نے فوراً گاڑی کو بریک لگایا

” نیچے اترو ۔۔۔” میجر احمد نے حکم دیا

” گلاب خان یہ تم ٹھیک نہیں کررہا تم نے ابھی تک سرمہ خان کا پیار دیکھا ہے غصہ نہیں ۔۔۔” سرمہ خان نے اسے ٹوکا

” نیچے اترو ۔۔۔” میجر احمد غرایا

اسماعیل خان اور سرمہ خان نیچے اترے میجر احمد نے سرمہ خان کی سیٹ پر پڑی گن اٹھائی اور نیچے اتر گیا ۔

“آگے چل ۔۔” احمد نے سرمہ خان کو دھکا دیا اور جیپ کی کھڑکی سے جھانک کر برقع والی لڑکی کو مخاطب کیا

” مس آپ ادھر ہی رہیں گاڑی سے ہرگز بھی باہر مت نکلنا آپ پاک فوج کی حفاظت میں ہیں ہم آپ کو بحفاظت یہاں سے فارغ ہوکر آپ کے گھر تک پہنچا دینگے ۔” اس نے قانتا کو تسلی دی اور ان سرمہ خان کی طرف متوجہ ہوا جو خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔

” تم نے ام کو دھوکہ دیا تم فوج کا آدمی لوگ ہو تم سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے ۔۔” سرمہ خان نے زمین پر تھوک پھینکا

” دھوکہ ؟ یہ لفظ تمہارے منہ سے اچھا نہیں لگتا دہشت گردی تم لوگ کرو ، اپنے ہی لوگوں کو تم ماروں ڈاکے ڈالو معصوم بچوں کی جان لو اور الزام پاک فوج پر لگاؤ ۔۔۔غدار ہو تم ۔۔۔” میجر احمد پھنکارا

” تم ۔۔۔” سرمہ خان نے مٹھیاں بھینچ لیں اس کی آنکھیں سرخ رنگ ہوگئی تھی تبھی ماحول فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھا سرمہ خان تیزی سے قلابازی کھا کر پہاڑ سے نیچے کود گیا .
*******
دلاور اکیلا انہیں نہیں روک سکتا تھا لیکن اس کے عمل سے فوجی جیپ وہاں سے صحیح سلامت گزر چکی تھی اب اس ویگن کے پچھلے دروازے سے سے سرمہ خان کے ساتھ اتر کر دلاور پر فائر کھول چکے تھے وہ درختوں کی آڑ لے کر خود کو بچاتے ہوئے ان کی فائرنگ کا جواب دے رہا تھا ۔جب اس کے بیک اپ پر میجر احمد آگیا ہے ۔

” سر آپ کا عاشق کہاں ہے ؟ ” دلاور نے سرگوشی کی

” انہیں پہاڑیوں میں کہیں ہے اور اب یہ ہمارا شکار کرینگے اور ہم ان کا ۔۔” میجر احمد نے سفاک لہجے میں کہا
” شکار ۔۔۔” دلاور کی آنکھیں جگمگا اٹھی جیسے اسے کوئی من پسند کام مل گیا ہو

” ہمیں ان سب کو مار کر سرمہ خان کو زندہ پکڑنا ہے ۔۔” میجر احمد نے پلان بتایا اور وہ دونوں ان گہرے اندھیرے میں ڈوبے پہاڑوں میں گم ہوگئے خونی آنکھ مچولی شروع ہو گئی تھی ۔وہ دو مار خور ان دس افراد پر بھاری تھے لیکن یہ ان کا علاقہ تھا اور گولی کی آواز سن کر بہت جلد ان کے مزید ساتھیوں کی کمک آجانی تھی وقت کم تھا جس کا میجر احمد اور ایجنٹ دلاور کو اندازہ تھا ۔

قانتا نے میجر احمد کی ہدایات سن کر سر ہلا دیا تھا لیکن وہ ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی تھی اس نے اپنے لباس میں چھپی اے کے 47 نکالی اور برقع کی جیب میں رکھے دھواں بن چیک کئیے جو صرف ایک ہی بچا تھا اب وہ آگے سرک کر اس گاڑی کی تلاشی لے رہی تھی سیٹ کے نیچے اچھا خاصا اسلحہ بارود چھپا ہوا تھا اس نے چند دستی بم اٹھائے ایک اور گن اٹھا کر اپنی گردن میں لٹکائی اور خاموشی سے دوسرا دروازہ کھول کر رینگتی ہوئی گاڑی سے اتر کر اس سمت بڑھی جہان سرمہ خان نے چھلانگ لگائی تھی اس کا ٹارگٹ سرمہ خان تھا جو اسے ان کے اس اڈے کا پتہ بتا سکتا تھا جہاں عبدالفاتح کو رکھا گیا تھا ۔فائرنگ کی آوازیں گونج رہی تھیں وہ رینگتی ہوئی پہاڑ کے کنارے تک آئی اور پھر نیچے دیکھتے ہوئے اس نے چھلانگ لگا دی ۔
پتھریلی زمین پر گرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر خود کو سیف کیا اب وہ سرمہ خان کو ٹریک کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔

چاند کی ہلکی سی چاندنی میں وہ آگے بڑھ رہی تھی جب اسے اوپر دلاور اور احمد دشمنوں میں گھرے ہوئے نظر آئے وہ آگے بڑھنے ہی لگی تھی کہ اسے سرمہ خان نظر آگیا اس کے ساتھیوں کی کمک آچکی تھی اور وہ ان گن برادر آدمیوں کے ساتھ ان دونوں احمد اور دلاور کو گھیر چکا تھا۔
قانتا نے تیزی سے پتھروں پر ہاتھ جماتے ہوئے اوپر چڑھنا شروع کیا ۔اب اسے ان دو جوانوں کو بچانا تھا ۔وہ احتیاط سے اوپر پہنچ کر کھڑی ہوئی ہی تھی کہ اس کی گردن پر گن کی نوک لگی ۔اسماعیل خان خباثت سے کھڑا اسے اپنی گن کا نشانہ بنائے دیکھ رہا تھا ۔
*******
” ہتھیار پھینک دو گلاب خان ورنہ امارا آدمی لوگ تم کو بھون دے گا ۔۔” سرمہ خان نے ان دونوں کو للکارا

میجر احمد اور دلاور سیدھے کھڑے ہوگئے ۔

” کون ہو تم ؟ ” سرمہ خان نے میجر احمد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا جو بڑے اطمینان سے ایسے کھڑا تھا جیسے ہوا کھانے چہل قدمی پر نکلا ہو
” جواب دو ۔۔۔” سرمہ خان نے بندوق کی نالی اس کے سینے پر رکھی ۔
” سرمہ خان یہ برقع والا باجی اس کا کیا کرنا ہے ؟ ” اسماعیل خان کی آواز سن کر سرمہ خان پلٹا

” ام کو پتہ تھا تم مشکوک ہو باجی ۔۔۔”سرمہ خان نے قانتا کو گھورا
“یہ بیوقوف ادھر کیا کررہی ہے ۔۔” دلاور کا موڈ خراب ہوا
” ویٹ ۔۔” احمد نے قانتا کو گھورتے ہوئے سرگوشی کی
” یہ خود بھی مرے گئی اور اب اسے سیو کرنے کے چکر میں ہم بھی مرینگے ۔” دلاور بھنایا

“دیکھو گلاب خاناں تم ام کو صاف صاف بتاؤ تم کون ہو ورنہ ام ابھی ادر اس باجی کو اپنے ساتھیوں کے حوالے کر کے اس کا تماشہ دیکھنے گئے ۔۔” سرمہ خان نے قانتا کو دھکا دیا

” لڑکی کو چھوڑ دو اس کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔” احمد غرایا
” Let me Handle this …”
قانتا نے ہاتھ اٹھا کر میجر احمد کو سشتہ انگریزی میں روکا

“سر یہ باجی تو انگریزی بول رہی ہے ۔ “دلاور نے سرگوشی کی

” یہ لڑکی کافر ہے کافروں کی زبان بولتی ہے اسے اب ہم بتائے گا ہم کون ہے اسماعیل خان اس کا برقع اتارو ۔۔۔” سرمہ خان نے حکم دیا اور اسماعیل خان کمینی مسکراہٹ چہرے پر سجائے قانتا کی طرف بڑھا ۔

“آؤ باجی ہم تمہارا رونمائی کرتا ہے ۔۔” نسوار سے رنگے دانت نکالتے ہوئے اس نے قانتا کے برقع کی طرف ہاتھ بڑھایا اور جیسے ایک بجلی سی لپکی تھی قانتا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے پٹخ کر گلے میں لٹکی گن اتار کر فائر کھول دیا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: