Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 17

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 17

–**–**–

چالیس سالہ دراز قد چہرے پر کرختگی کاندھے پر صافہ اور سر پر پگڑی باندھا ہوا ملا عبد السفیان اپنے تین حواریوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ۔
یہ ایک بند کمرہ تھا نہ کوئی کھڑکی نہ کوئی فرنیچر بس ایک کونے پر لکڑی کی میز تھی جس پر لوہے کے آنکڑے رکھے ہوئے تھے اور ساتھ ایک کرسی بیچ کمرے میں پڑی ہوئی تھی جس پر ایک جوان بندھا ہوا تھا اس کے چہرے پر کالا کپڑا چڑھا ہوا تھا گردن ڈھلکی ہوئی تھی ، وہ بیہوش تھا۔ وہ قدم اٹھاتے ہوئے اس بیہوش جوان کے نزدیک آیا اور ایک جھٹکے سے اس کے چہرے پر سے کالا کپڑا ہٹایا ۔

” ٹھنڈا پانی لاؤ ۔۔۔” اس نے سرد لہجے میں اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو مخاطب کیا

” جی سرکار ۔۔۔” وہ تیزی سے پلٹ کر واپس گیا اور پانی سے بھری بالٹی میں برف ڈال کر واپس لایا اور ملا عبدالسفیان کے اشارے پر اس نے یخ ٹھنڈے پانی کی بالٹی اٹھا کر پانی اس جوان کے چہرے پر پھینک دیا ٹھنڈا پانی چہرے پر پڑتے ہی وہ جوان کسمسا کر اٹھا اور ملا نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھ سے سیدھا کیا ۔

” خوش آمدید ایس پی موحد ۔۔۔”

موحد نے ایک جھٹکے سے اپنا چہرہ اس کی گرفت سے چھڑانا چاہا تو اس نے اپنی انگلیوں سے موحد کو جبڑوں سے اس قدر سختی سے پکڑا کے اس کی انگلیاں موحد کی کھال کے اندر دھنس سی گئیں تھیں ۔

” تم اب تک ہمارے تیس آدمیوں کو مار چکے ہو ہمارے دو آدمی تم نے زندہ پکڑے تھے ان کے بیان اور ثبوت کہاں ہیں ؟ کس کی کسٹٹڈی میں ہیں ؟ بتاؤ ۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا جہاں کوئی خوف کوئی ڈر نہیں تھا الٹا وہ اسے چیلنچ کرتی نگاہوں سے گھور رہا تھا ۔

” آخری بار پوچھ رہا ہوں سارے ثبوت کدھر ہیں ؟ ” ملا عبدالسفیان نے اسے ایک موقع دیا لیکن وہ تو نا بولنے کی قسم کھائے نڈر انداز میں بیٹھا ہوا جیسے اسے چڑا رہا تھا ۔

” اسے میز کی سیر کروانی ہوگی ۔۔۔” اس نے مڑ کر اپنے ساتھیوں سے کہا جو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھے موحد کے ہاتھ پیر کھول کر اسے زبردستی اٹھا کر میز پر لٹانے کے بعد اس کے دونوں ہاتھ اور پیر میز کے کناروں پہ ابھرے ہوئے لوہے کے راڈ کے ساتھ باندھ دئیے گئے تھے ۔

” شروع کرو ۔۔۔” ملا عبدالسفیان نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے موحد کو الیکڑک شاک دینے شروع کردئیے ہر بجلی کے جھٹکے پر اس کا جسم تڑپ کر اچھل رہا تھا ۔

” ابھی بھی وقت ہے بتا دو ہماری پارٹی کے خلاف اکھٹے کئیے ثبوت اور گواہوں کے بیان کدھر چھپائے ہیں ۔۔۔” ملا نے پسینے میں شرابور موحد کو جبڑوں سے پکڑ کر ایک آخری موقع دینا چاہا مگر موحد کی آنکھوں سے چھلکتا ہوا نڈر انداز اور بے خوفی دیکھ کر وہ پیچھے ہٹا اس کے ٹرانسمیٹر پر سگنل آنے لگے تھے

” اسے ایک لمحے کی بھی نیند میسر نہیں ہونی چاہیے اس کا منہ کھلواوں نہیں بتاتا تو اس کھال ادھیڑ دو چاہے تھرڈ ڈگری تششد ہی کیوں نہ کرنا پڑے ورنہ تم لوگ میرے ہاتھوں زندہ نہیں بچو گے ۔۔” وہ موحد کے پاس کھڑے جلادوں کو وحشیانہ لب و لہجہ میں ہدایات دے کر مڑا پھر پلٹا

” خیال رہے اس کی روح قفس عنصری سے پرواز نہیں کرنی چاہیئے باقی سب خیر ہے ۔۔۔”

*********

قانتا نے فائر کھول دیا میجر احمد اور دلاور نے تیزی سے زمین پر بیٹھ کر خود کو سیف کیا قانتا نے بجلی کی تیزی سے سرمہ خان کے ساتھیوں کو اپنا نشانہ بنایا تھا اسماعیل خان کا بے جان لاشہ گولیوں سے چھلنی ہو کر رہ گیا تھا سرمہ خان اور اس کے باقی ساتھی حصوں میں بٹ کر بھاگتے ہوئے سرمئی پہاڑیوں میں غائب ہوگئے تھے ۔

” کون ہو تم ؟ ۔۔۔۔” ایجنٹ دلاور نے قانتا کے نزدیک پہنچ کر میں سوال کیا

” دلاور ابھی انویسٹیگیشن کا وقت نہیں ہے وہ لوگ پہاڑیوں میں چھپے ہیں کہیں سے بھی انجانی گولی ہمارا شکار کرسکتی ہے موو ناؤ ۔۔۔” میجر احمد کی سرد مہری میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری

دلاور سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھا جب احمد نے رک کر ساکت کھڑی برقع والی لڑکی کو دیکھا

” محترمہ آپ کو کیا الگ سے انویٹیشن دینا ہوگا ؟ ”
میجر احمد کا طنزیہ لہجہ سن کر قانتا تیزی سے آگے بڑھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا ہاتھ آیا شکار اس کی جلد بازی کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گیا تھا ۔وہ تینوں اپنی پوزیشن لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے دلاور اور احمد دونوں نے چاقو نکال کئیے تھے رات گہری ہونا شروع ہوگئی تھی پہاڑیوں کے پار افغانستان کا علاقہ شروع ہوچکا تھا ۔

” وہ دیکھو ادھر کوئی سگریٹ پی رہا ہے ۔” اندھیری رات میں دور ایک ہلکا سا سرخ دھبا نظر آرہا تھا

” دشمن کے علاقے میں گھس کر اسے مارنے کا اپنا مزا ہے ۔۔” احمد نے سرسراتی ہوئی آواز میں کہا اور دبے پاؤں اس سمت بڑھا

سمندر خان اور چند ساتھی سستانے کے لیے سرحد پار کرکے رک گئے تھے یہ ان کا اپنا علاقہ تھا تو تھوڑی بہت بیفکری بھی تھی سرمہ خان آگے چلا گیا تھا جب میجر احمد اور دلاور نے ان پر حملہ کیا چند منٹ میں وہ سارے ڈھیر زمین پر پڑے تھے جب قانتا میجر احمد کے پاس آئی ۔

” ان سے عبدالفاتح کو کہاں رکھا گیا ہے یہ انفو نکلوائیں ۔۔۔”
میجر احمد نے غور سے برقع میں چھپی قانتا کو دیکھا

” آپ یہ نیک کام خود کیوں نہیں کرلیتی ؟ ۔۔” اس نے قانتا کو آفر کی
” اوکے ۔۔۔” قانتا نے سر ہلا کر اپنا رخ سمندر خان کی طرف کیا جو میجر احمد کے ہاتھ مار کھا کھا کر ادھ موا زمین پر پڑا گہری سانسیں لے رہا تھا ۔قانتا نے گریبان سے پکڑ کر سمندر خان کو سیدھا کیا ۔

” ترک لیڈر عبدالفاتح کو کہا رکھا ہے ؟ ” اس نے اپنی گن سمندر خان کے ماتھے پر رکھی

” ام نہیں بتائے گا باجی ! ام تو تم کو معصوم باجی سمجھا تھا اور تم ۔۔۔۔” اس نے قانتا کو گھورا

” تم بھی ان فوجی لوگوں کا ساتھی نکلا جو ام پر ظلم کرتا ہے ۔۔۔”
” ترک لیڈر عبدالفاتح کو کہا رکھا ہے ۔۔۔” قانتا نے ایک زور دار تھپڑ رسید کرکے سوال دہرایا

” ہمارے پاس پوری رات اس ڈرامے کے لئیے نہیں ہے اگر یہ نہیں بتا رہا تو اسے شوٹ کرکے ختم کرو ۔۔۔” میجر احمد نے سرد لہجے میں قانتا کو مخاطب کیا ۔

” گلاب خان ! امارا سرمہ خان نے تم کو کتنی محبت دی اور تم خنزیر کا بچی ۔۔۔” ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ میجر احمد ایک ہاتھ سے قانتا کو ہٹاتے ہوئے آگے بڑھا اور ایک زور دار کک اس کے منہ پر ماری جس سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور منہ سے خون بہنے لگا تھا ۔میجر احمد نے اطمینان سے اپنی سائلنسر لگی گن نکالی اور سمندر خان کی ٹانگ پر فائر کیا ۔

” ام بتاتا ہے اسے ادر اوڑی کے علاقے میں کیمپ میں رکھا ہے ۔۔۔” سمندر خان بمشکل بولا
” اوڑی ۔۔۔” میجر احمد بڑبڑایا
” ہاں اوڑی میں رکھا ہے اب ام کو جانے دو ۔۔۔” سمندر خان نے ہاتھ جوڑے
میجر احمد نے ایک نظر سمندر خان کو دیکھا جس کے سر پر نہ جانے کتنے بے گناہوں کا خون تھا یہ وہ ناسور تھا کو ملک میں رہ کر ملک کی جڑیں کاٹ رہا تھا انہیں زندہ گرفتار کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا میجر احمد نے اس کے سر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی تھی ۔دلاور نے باقی سب کو بھون ڈالا تھا قانتا حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔

” یہ آپ لوگوں نے کیا کیا ؟ یہ میرے ملک کا دشمن تھا ابھی تو مجھے عبدالفاتح تک پہنچنا تھا .” قانتا نے بڑی مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا ۔

” ہمیں یہاں سے فوراً نکلنا ہوگا یہ ان کا علاقہ ہے اور مس آپ کیا انہیں سر پر اٹھا کر لے جاتیں آپ کو پتہ بھی ہے اوڑی کدھر ہے ؟”میجر احمد نے سوال کیا

” یہاں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں ہے ہم ان کے آدمی انہیں کی زمین پر مات چکے ہیں اب صبح کا اجالا پھیلنے سے پہلے ہمیں بارڈر کراس کرنا ہے ۔۔” میجر احمد نے سنجیدگی سے کہہ کر قانتا اور دلاور کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا وہ جس سرمئی پہاڑیوں کے راستے سے آئے تھے اب اسی راستے سے واپس جارہے تھے ۔

رینگتے ہوئے کئی دراڑیں عبور کرکے وہ پشین پہنچ چکے تھے قانتا کا برقع جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا وہ لوگ صبح کا اجالا پھیلنے کا انتظار کر رہے تھے

” مس آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا ۔” دلاور نے قانتا سے سوال کیا جو نیم اندھیرے میں اپنا برقع اتار کر رکھ رہی تھی
” ہمارا کوئی ایک نام نہیں ہوتا اتنا تو آپ کو پتہ ہوگا ۔۔۔” قانتا نے بات شروع کی ۔

” ہمم ۔۔” دلاور نے ہنکارہ بھرا میجر احمد بھی چٹان سے ٹیک لگائے ان دونوں کی طرف متوجہ تھا

” میرا تعلق مصر کی ایجنسی سے ہے میں یہاں اپنے پارٹنر کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو چھڑانے آئی تھی ہماری ایجنسی کی اطلاعات کے مطابق ہمارے لیڈر عبدالفاتح کو اغوا کرکے وزیرستان میں رکھا گیا تھا لیکن یہاں آکر تو سب الٹا ہو گیا ہے مجھے لگا عبدالفاتح کو کابل لے جایا گیا ہے پر اب یہ آدمی اوڑی کے علاقے کا کہہ رہا ہے تو اب مجھے ادھر جانا ہوگا ۔۔” قانتا نے تفصیل سے اپنی بات مکمل کی ۔

” کیا آپ میری مدد کرینگے ؟ ” اس نے میجر احمد کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا

صبح کا اجالا پھیلنے لگا تھا قانتا کی نیلی آنکھیں اور سنہری رنگت نمایاں ہورہی تھی وہ مصری حسن والی پرکشش حسینہ احمد کی طرف آس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی جب دلاور نے اسے ٹہوکہ مارا
” سر جی باجی کچھ پوچھ رہی ہیں ۔۔۔”
” مس ۔۔۔” احمد سیدھا ہوا
” قانتا ! مائی نیم از قانتا ۔۔۔” اس نے فوراً اپنا تعارف کروایا جسے سن کر دلاور حیران رہ گیا

” سر جی ابھی کچھ دیر پہلے تو باجی کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی نام نہیں ہوتا اور اب ۔۔۔دال میں کچھ تو کالا ضرور ہے ۔۔” وہ بڑبڑایا

” اوڑی مقبوضہ کشمیر میں سری نگر سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ادھر جانا اتنا آسان نہیں ہے ۔۔” میجر احمد نے اوڑی کی لوکیشن بتائی

” یعنی یہ را اور یہ طا*لبان ملے ہوئے ہیں ۔۔” قانتا حیران ہوئی۔

” اس میں کون سی نئی بات ہے بھارت کا مقصد ہی پاکستان کو توڑنا ہے زیادہ تر سازشیں ادھر سے ہی ہوتی ہیں ۔” دلاور نے دخل دے کر اپنی بات مکمل کی

” لیکن پاکستان تو خود بھی حملے کروا رہا ہے ۔۔” قانتا نے الجھے ہوئے انداز میں کہا

” یہی تو نظر کا دھوکہ ہے ۔بھارت، پاکستان کیلئے جو مذموم عزائم رکھتا ہے، وہ سب جانتے ہیں پاکستان کو توڑنے کیلئے پی ٹی ایم کی پشت پناہی کرنے سے لے کر دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ٹیررسٹ اسٹیٹ ڈکلیئر کروانا ان کا مقصد ہے جس کے لئیے ’’را‘‘ تو اپنی جگہ سرگرم ہے ہی، پر ساتھ ساتھ اس نے ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ نامی دہشت گردم تنظیم کی بھی باقاعدہ سرپرستی اور فنڈنگ شروع کر دی ہے۔ ’’را‘‘ کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ ’آئی ایس آئی ایس‘‘ کے دہشت گردوں کو اغوا کر کے جنوبی ہندوستان میں لے جاتے ہیں اور ان کو خودکش دھماکوں کے ٹارگٹ دئیے جاتے ہیں۔ اور دنیا کے کسی بھی کونے میں ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ دہشت گردی کرے تو الزام پاکستان پر آتاہے۔ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘کا مخفف ہے۔ جس کا کام ہی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح مختلف ملکوں اور ریاستوں میں دہشت گردی جیسے عفریت کو فروغ دینا ہے۔ یوں تو را دہشت گردی میں کسی سے کم نہیں لیکن پاکستان میں بار بار اپنے عظائم میں ناکام ہونے کے بعد اب یہ کام شروع کیا ہے ۔ اس تنظیم کے ساتھ اگرچہ غیر مسلم کم ہیں اور مسلم ممبران کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی مسلک اور ایشو کو بنیاد بنا کر کہیں بھی کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے کہ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ یعنی اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘ نامی یہ تنظیم کسی مسلمان ملک میں کچھ نہیں کر سکتی۔ ” میجر احمد نے تفصیل سے سمجھایا

” اور اوڑی میں ہمارا سامنا آئی ایس آئی ایس اور را دونوں سے ہوگا ۔۔۔” دلاور نے بیچ میں لقمہ دیا

********

فجر کی نماز پڑھ کر کر وہ کمرے سے نکلی سفید دوپٹہ نماز کے انداز میں لپیٹا ہوا تھا ۔ نہ جانے کیوں پر اس کا دل گھبرا رہا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہوں وہ کچھ دیر لان میں چہل قدمی کرنے کے بعد خاموشی سے چلتی کچن میں آئی اور دادی کے لئے چائے بنا کر ٹرے میں رکھی اور ٹرے اٹھا کر دادی کے کمرے میں آئی جہاں وہ حسب معمول فجر کی نماز کے بعد اپنی تسبیحات پڑھنے میں مصروف تھیں ۔
علیزے نے چائے کی ٹرے ان کے سامنے رکھی اور وہی دوزانوں ہو کر بیٹھ گئی ۔ دادی جان نے روز مرہ کے معمول کی طرح احمد ، موحد پر حصار کھینچ کر علیزے پر پھونک ماری ۔
” کیا بات ہے علیزے ، تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے چہرا اتنا اترا اترا سا کیوں لگ رہا ہے ؟ ” انہوں نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا
” دادی پتہ نہیں پر رات سے دل بہت گھبرا رہا ہے جیسے جیسے ۔۔” علیزے کی سمجھ نہیں آیا کہ اپنی فیلنگز کیسے بیان کرے
“بیٹی ایسے وہم نہیں پالتے بس لاحول پڑھ کر وضو کرکے احمد اور موحد پر حصار کھینچ دیا کرو ۔میں تو برسوں پہلے ہی اپنے دونوں پوتوں کو اللہ کی امان میں دے کر پرسکون ہوچکی ہوں ۔” انہوں نے سمجھایا
” دادی ۔۔۔” وہ سسکی
” دادی مجھے ڈر لگتا ہے اگر کچھ ہوگیا ۔۔۔۔”
” علیزے ! ” انہوں نے اسے ٹوکا
” ایک شہید کی بیٹی اور سپاہی کی منکوحہ ہو کر تمہارا دل اتنا کمزور کیسے ہوسکتا ہے ؟ میرے دونوں ہوتے اگر اس مٹی کا قرض اتارتے ہوئے شہید بھی ہوگئے تو یہ میرے لئیے باعث فخر ہوگا ۔۔” انہوں نے نم آنکھوں سے مضبوط لہجے میں اپنی بات مکمل کی ۔
” دادی پلیز ایسا تو مت کہیں اللہ انہیں سلامت رکھے آپ پلیز ایسا مت کہیں ۔۔” علیزے کا ننھا سا دل لرز اٹھا

” سچائی کو قبول کرنا سیکھو اللہ اپنے خاص بندوں کو خاص کاموں کے لیے چنتا ہے اب اٹھو اور کالج جانے کی تیاری کرو ۔۔۔” انہوں نے اسے ٹوکا

” دادی میرا آج دل نہیں کررہا کالج جانے کو ۔۔۔” وہ انکاری ہوئی
” جاؤ پھر آرام کرو اور دو رکعات نماز نفل پڑھ کر اپنے سر کے تاج کیلئے دعا مانگو دیکھنا سب ٹھیک ہوگا ۔ وہ بتا کر کام سے پشاور گیا ہے آج یا کل تک جائے گا ۔”
وہ دل ہی دل میں آمین کہتے ہوئے اٹھی اور پژمردگی سے چلتی ہوئی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر پیر لٹکا کر بیٹھ گئی وہ بار بار اپنی انگلیاں مسل رہی تھی اس کے دھیان کے سارے سرے موحد سے جڑے ہوئے تھے وہ موحد سے بہت پیار کرتی تھی اور اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے موحد اس سے بہت دور جارہا ہوں حالانکہ ابھی دو روز پہلے ہی تو وہ اس سے مل کر اس کے پیروں میں نازک سی پائل پہنا کر گیا تھا موحد کا چہرہ اس کا ایک ایک نقش علیزے کی آنکھوں میں اترنے لگا تھا وہ رونا نہیں چاہتی تھی پر اسے اپنے اوپر اختیار نہیں رہا تھا آنکھوں سے آنسوں کی لڑی بہنا شروع ہوچکی تھیں ۔
” اللہ میاں میرے موحد کو سلامت رکھنا ۔۔۔” وہ تڑپ تڑپ کر بس ایک ہی دعا مانگے جا رہی تھی ۔

*********
جاری ہے
یہ ناول بہت محنت اور تحقیق کے بعد لکھا جارہا ہے آپ کی حوصلہ افزائی ضروری ہے
شکریہ 💞

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: