Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 18

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 18

–**–**–

صبح کا سورج طلوع ہوچکا تھا میجر احمد دلاور اور قانتا کے ساتھ فاٹا کے نزدیکی آفس پہنچنے کے لیے نکل چکا تھا وہاں سے مناسب سواری کا انتظام کرکے انہیں کوئٹہ چھاؤنی پہنچنا تھا ۔صبح کے اجالے میں قانتا کا بنا برقع کے غیر ملکی حلیہ بہت نمایاں تھا جو کسی کی بھی نظر میں بآسانی آسکتا تھا کہ ان علاقوں میں عورتیں خال خال ہی نظر آتی تھیں وہ بھی مکمل پردے میں ۔
” مس قانتا آپ کا برقع کدھر ہے ؟ ” میجر احمد نے سوال کیا
” وہ تو پہاڑیوں میں رگڑ کھا کھا کر پورا پھٹ چکا ہے ۔۔۔” قانتا نے جواب دیا
” ہمم آپ کا حلیہ ہمیں پکڑوا سکتا ہے ۔۔” میجر احمد نے جینز اور شرٹ میں ملبوس سنہری بالوں کی اونچی پونی بنائے پیروں میں جاگرز پہنے ہوئے سیدھی کھڑی قانتا کو ناقدانہ انداز سے دیکھا اب سے پہلے وہ برقعے میں چھپی ہوئی تھی تو اس کا لباس انداز سب مخفی تھا لیکن اب اسے بآسانی بحثیت غیر ملکی پہچانا جاسکتا تھا ۔

” سر راستے میں بڑا بازار پڑتا ہے وہاں سے باجی کیلئے کچھ خرید لیتے ہیں ۔۔ ” دلاور نے مشورہ دیا

” بازار صبح دس سے پہلے نہیں کھلے گا اور اتنی دیر رکنے کا چانس ہم نہیں لے سکتے ۔۔” احمد نے صاف انکار کیا .

” اب ہم دونوں بھی اس پٹھانی قمیض شلوار میں ہیں ورنہ اپنی جیکٹ ہی باجی کو دے دینی تھی اب نسوار والے سرمہ خان سے مصری حسن والی حسینہ تک کی جمپ لگے کس کو پتہ تھا ۔۔۔” دلاور نے دکھڑا رویا وہ دونوں ہی گلاب خان اور کانٹے خان کے گیٹ اپ میں تھے ۔

” Behave Dilawar
باجی ہے تمہاری ۔۔۔” احمد نے اسے ٹوکا

وہ باتیں کرتے ہوئے احتیاط سے چاروں جانب دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے جب قانتا کی نظر ایک چائے خانے کے باہر کھڑی گاڑی پر پڑی وہ تیزی سے بلی کی چال چلتی ہوئی آگے بڑھی اور جیسے ہی چائے خانے کا مالک اندر گیا وہ اچک کر جیپ میں بیٹھ گئی اب وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر وائر الگ کررہی تھی تاکہ گاڑی اسٹارٹ کرسکے ۔

” سر ویسے باجی ماشاءاللہ بہت پہنچی ہوئی چیز ہیں سواری کا انتظام کررہی ہیں ۔۔۔” دلاور نے قانتا کو دیکھتے ہوئے کہا

قانتا گاڑی اسٹارٹ کرکے ان دونوں کے نزدیک لائی
” کم آن گائز ! جلدی کرو ۔۔” اس نے کھڑکی سے منہ نکال کر ان دونوں کو پکارا

میجر احمد نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر قانتا کو کھسکنے کا اشارہ کیا اور خود پوزیشن سنبھال کر گاڑی کو گئیر میں ڈال کر اسٹارٹ کیا
” دلاور پوزیشن سنبھال کر بیٹھنا ۔۔۔” اس نے ہدایت دی
” یس سر ۔۔ ” دلاور نے سر ہلایا اور گن نکال کر پچھلی سیٹ پر پوزیشن لے کر بیٹھ گیا گاڑی تیزی سے دوڑنے لگی تھی ۔

” اب تو ہم پاکستان کی سرحدی حدود میں ہیں تو پھر اب کس بات کا خطرہ ہے ؟ ” قانتا نے سنجیدگی سے گاڑی چلاتے ہوئے احمد کو دیکھا

” مس قانتا یہ علاقہ غیر کہلاتا ہے یہاں ان کے کئی ساتھی کئی روپ میں موجود ہیں اور سرمہ خان کو اب تک اپنے ساتھیوں کی موت کا پتہ چل چکا ہوگا ۔ہمارے حلیے تک نشر ہوچکے ہونگے کسی بھی لمحے کسی بھی چھت یا گاڑی سے ہم پر وار ہوسکتا ہے ۔ ” اس نے وضاحت کی ۔

قانتا نے اثبات میں سر ہلایا اور خود بھی گن نکال کر چوکنا ہو کر سائیڈ مرر پر نگاہ جما کر بیٹھ گئی گاڑی تیزی سے پہاڑیوں کو کاٹ کر بنائی ہوئی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی جب اس کا بیک ٹائر ہٹ ہوا ۔۔

” شٹ ! ہم اسپاٹ ہوگئے ہیں دلاور ٹیک پوزیشن ۔۔۔”میجر احمد نے بڑی مشکل سے گاڑی کو کنٹرول کیا ہی تھا کہ ایک گولی شیشے پر آکر لگی گاڑی ڈگمگا کر ڈھلان کی سمت لڑھکتی ہوئی نیچے گری۔
” بوتھ آف ہو جمپ ناؤ ۔۔۔” میجر احمد چلایا
دلاور پہلے ہی دروازہ کھول کر کود چکا تھا احمد نے تیزی سے حواس باختہ قانتا کی کلائی مضبوطی سے تھامی اور باہر کود گیا وہ دونوں روڈ پر رگڑ کھاتے ہوئے آگے جا کر گرے سامنے ہی چار آدمی سروں پر شیشے کی بنی ٹوپیاں پہنے بندوقیں ہاتھ میں لئیے کھڑے ہوئے تھے ۔
” اپنا بندوق پھینک کر ہاتھ سر پر رکھو ۔۔۔” ایک آدمی چلایا ۔
احمد اور دلاور دونوں نے اپنے ہاتھ میں تھامی گنیں زمین پر پھینک دی
” واؤ اب تم لوگ لڑکی لے کر گھومنے لگے ہو ۔۔۔” اس نے قانتا کو خباثت سے دیکھا پھر مڑا
” یہ وہی ہیں جنہوں نے رات ہمارے ساتھیوں کو مارا تھا ۔۔۔” وہ آگے بڑھ کر میجر احمد کے نزدیک آیا
” میجر احمد یہی نام ہے نا تمہارا ؟ تم ہمیں سمجھتے کیا ہو ہمارے آدمیوں کو مارو گئے اور ہم چپ رہیں گے ؟ آخر جب تک تم فوجی ہمارے مظلوم آدمی لوگوں کو بلا جواز جان سے مارتا رہیگا ۔۔۔” وہ دن دھاڑے جھوٹ بول رہا تھا
“ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہننی بلکہ ہم نے پوری تیاری کررکھی ہے ہم بہت جلد پاکستان کو توڑ کر رہیں گئے اپنا حق لے کر رہیں گئے ۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکا اور قانتا کے پاس آیا جس کے حسن کی جھلک اس کی نیت خراب کرچکی تھی یہ چاروں طا*لبان کے تربیت یافتہ کمانڈو تھے ان کے انداز سے پتہ چل رہا تھا ۔
” میں اس لڑکی کو اڈے پر لے جارہا ہوں تم ان دونوں کو ٹھکانے لگا کر پہنچوں اور ان کے سر اڑانے کی وڈیو ضرور بنانا ۔۔۔” اس نے ایک جھٹکے سے قانتا کا ہاتھ احمد کی گرفت سے چھڑوایا اور اسے گھسیٹتے ہوئے اپنی جیپ کی طرف لے جانے لگا
قانتا اس کی گرفت سے نکلنے کیلئے اپنا پورا زور لگا رہی تھی لیکن وہ لحیم شحیم آدمی تھا جس پر قانتا کے کسی وار کا اثر نہیں ہورہا تھا ۔
” دلاور ۔۔۔” میجر احمد نے اسے آنکھ سے اشارہ کیا اور وہ دونوں جیسے وہ لوگ انہیں باندھنے ان کے نزدیک آئے ان ہر ٹوٹ پڑے ایک لمحہ لگا تھا پانسا پلٹنے میں احمد نے فائر کھول دیا تھا ۔
” رک جاؤ ورنہ یہ لڑکی ۔۔۔” اس لحیم شحیم آدمی نے تیزی سے قانتا کو اپنے آگے کرکے اس کے سر پر گن رکھی
” مار دو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔” احمد نے سرد لہجے میں بولتے ہوئے اس آدمی اور قانتا دونوں کو حیران کرگیا تھا
” اپنے قدم روک لو میجر ورنہ ۔۔۔” اس نے ٹریگر پر دباؤ بڑھایا لیکن جیسے ایک بجلی سی کوندی تھی اور فائر ہوا میں ہوا اب وہ آدمی بری طرح سے احمد سے گتھم گتھا تھا ۔ دلاور نے پاس پڑی گن اٹھا کر اس کا نشانہ لینا چاہا
” نو دلاور اس کو زندہ پکڑنا ہے ۔۔ ” میجر احمد نے چلا کر اسے روکا
قانتا حیرت سے احمد کو اپنے سے دوگنا سائز کے آدمی سے لڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی احمد تواتر اس پر وار کررہا تھا بلاشبہ وہ ایک بہترین فائٹر تھا قانتا کی آنکھوں میں اس کیلئے تحسین اتر آئی تھی ۔
میجر احمد اس آدمی ہر قابو پا چکا تھا اور اب اسے اس ہی کی جیپ میں رسی سے باندھ کر ڈال دیا تھا
” سر کہا چلنا ہے ؟ ۔۔”دلاور نے فرنٹ سیٹ سنبھالی
احمد نے قانتا کو آگے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود جمپ لگا کر پچھلی سیٹ پر بیہوش آدمی کے اوپر پیر رکھ کر بیٹھ گیا ۔
” اپنے اڈے پر چلو ۔۔۔” اس نے جواب دیا
” اوکے ۔۔۔” دلاور نے گاڑی کا رخ موڑا
” کیا ہم کوئٹہ نہیں جارہے ؟ ” قانتا نے سوال کیا
” ابھی نہیں ۔۔۔” میجر احمد نے دو لفظی جواب دیا
” کیوں ۔۔”
” ابھی بھی ان لوگوں کے کئی سلیپنگ سیل ادھر موجود ہیں جو کبھی بھی ایکٹیو ہوسکتے ہیں ۔ ذرا اس کا منہ کھلوا لیں پھر چلیں گے ۔۔۔”

” آخر یہ لوگ کون ہیں آپ کا ملک ہر وقت ان کا نشانہ کیوں بنتا ہے ؟ آپریشن ضرب عضب کے بعد تو اس سب کو ختم ہوجانا چاہئیے تھا ۔۔” قانتا نے سوال کیا جس سے ظاہر تھا کہ وہ بھی اپنا ہوم ورک پورا کرکے ادھر آئی تھی

” مس قانتا ! دہشت گردی جسم پر نکلا کوئی پھوڑا نہیں جسے ہم کاٹ کر ، زخم پر مرہم رکھ کر یہ مسئلہ حل کر لیں گے‘ یہ خون کی بیماری ہے اور یہ خون ہمارے پورے جسم میں پھیلا ہوا ہے‘ دہشتگردی ایک سوچ ہے اور یہ سوچ اس وقت پورے ملک میں موجود ہے‘ یہ سوچ کسی خاص خطے‘ فرقے یا طبقہ فکر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی‘ ملک کے تمام طبقے اس سوچ کے حصار میں ہیں‘ یہ لوگ طالبان بھی ہیں‘ یہ لوگ وہ بھی ہیں جو شناختی کارڈ چیک کر کے شیعہ کو قتل کر دیتے ہیں یا سنیوں کی مسجد کو اڑا دیتے ہیں‘ اس سوچ میں ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے خواہش مند نوجوان بھی شامل ہیں‘ اس میں بلوچ لبریشن کے لوگ بھی شامل ہیں‘ سندھو دیش کے لوگ بھی اور وہ لوگ بھی جو کراچی کو سندھ سے الگ کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی جو اپنی سوچ کو شریعت اور دوسروں کی نمازوں کو ’’کفر‘‘ قرار دیتے ہیں اور وہ بھی جن کی نظر میں ہر داڑھی والا اور ہر شلوار قمیض اور ہر پگڑی والا دہشت گرد ہے اور وہ بھی جو ہر جینز‘ ہر شرٹ اور ہر کلین شیو کو قابل گردن زنی سمجھتے ہیں ان سب کو سلو پوائزن دیا جارہا ہے یہ کس وقت ایکٹیو ہو جائیں کسی کو نہیں پتہ ۔۔۔” میجر احمد نے تاسف سے جواب دیا ۔

” ٹھیک کہا سر اور اس کی بنیادی وجہ شدت پسندی ہے جسے باقاعدہ یہ را اور آئی ایس آئی ایس والے ان لوگوں کو ٹریننگ دے کر مائنڈ ڈسٹرب کرکے ابھارتے ہیں ان کے نام نہاد لیڈرز کا کام ہی برین واش کرکے انہیں سلیپنگ سیل بنانا ہے ۔
یہ سیل کس وقت ایکٹو ہو جائے ہم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا‘ دہشت گردی کی ہزاروں وجوہات ہو سکتی ہیں مگر اس کی علامت صرف ایک ہوتی ہے اور وہ علامت ہے شدت پسندی ۔ ہم جب شدت پسند ہو جاتے ہیں‘ ہم جب خود کو ٹھیک اور دوسروں کو غلط سمجھنے لگتے ہیں‘ ہم جب خود کو مظلوم اور دوسروں کو ظالم سمجھنے لگتے ہیں اور ہم جب خود کو مومن اور دوسروں کو کافر سمجھنے لگتے ہیں تو اس وقت ہم دہشت گردی کے دھانے پر پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔” دلاور نے بھی افسوس کیا

” اور یہ سب معصوم ذہنوں کو باور کروایا جاتا ہے ینگ جنریشن ان کا ٹارگٹ ہوتی ہے ابھی کچھ سال پہلے ہی کی بات ہے کہ دنیا بھر سے کئی طالب علم جن میں لڑکیاں بھی شامل تھیں اپنی یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر داعش چلے گئے کسی کو بھی بنا بتائے بس ایک لیٹر چھوڑ کر ان سب اسٹوڈنٹس کو سوشل میڈیا سے ٹارگٹ کیا گیا تھا سارے ایک سے بڑھ کر ایک ذہین ہائی آئی کیوں والے ۔۔۔” قانتا نے ایگری کیا
کچھ دیر بعد وہ لوگ دلاور کے خفیہ اڈے پر پہنچ چکے تھے ۔میجر احمد اس آدمی کو اٹھا کر اندر لے گیا تھا اور دلاور کیپٹن حمید سے رابطہ کرنے کیلئے فریکونسی سیٹ کرنے لگا تھا ۔
********
کیپٹن حمید ، ایجنٹ دلاور ، میجر احمد قانتا کے ساتھ رات گئے کوئٹہ پہنچ چکے تھے اس آدمی سے پوچھ گچھ کے بعد اسے فاٹا کے حوالے کردیا گیا تھا ۔
رات گیسٹ ہاؤس میں گزار کر صبح آٹھ بجے فریش وردی میں ملبوس میجر احمد ، کرنل جھانگیر کے آفس پہنچ چکا تھا۔
” گڈ مارننگ سر ! ” اس نے اندر آکر سلیوٹ کیا
” بیٹھو ۔۔۔” کرنل جھانگیر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
” یس سر ۔۔۔” وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا اور اب انہیں اپنی رپورٹ دے رہا تھا ۔
” میجر تم ان ٹیررسٹ کو زندہ پکڑ کر بھی تو لاسکتے تھے مگر تم کسی مہم پر جاؤ اور خون خرابہ نہ ہو یہ تو ممکن ہی نہیں ۔۔۔” کرنل جھانگیر نے اسے گھورا۔
” ویل سر سچویشن ہی کچھ ایسی تھی کہ ۔۔”
” تمہیں پتہ ہے اگر تم ان کو زندہ پکڑ لاتے تو ہم ان کا منہ کھلوا کر کتنی انفارمیشن نکلوا سکتے تھے ؟ ” کرنل جھانگیر نے بات کاٹی ۔

” سر ان کا پورا ڈیٹا ، ان کے سلیپنگ سیل سب آپ کیلئے اس ڈیوائس میں ریڈی ہے اس سب کے پیچھے را ہے ..” احمد نے یو ایس بی ان کی طرف بڑھائی۔
” آپ جانتے ہیں سر کہ وہ لوگ صرف موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں اگر ہم ان کے ساتھیوں کو زندہ پکڑ لاتے تو وہ ضرور ان کو چھڑانے کے لیے ہمارے ایریا میں آکر اٹیک کرتے ۔۔”

” میجر ! اٹیک تو اب بھی ہوگا آخر تم لوگوں نے ان کے علاقے میں گھس کر انہیں مارا ہے ۔۔۔”

” ہم ہمیشہ کی طرح تیار ہیں سر ! مگر اس بار ان کی تواضع چائے سے نہیں ہمارے جوانوں کی بلٹس سے ہوگی ۔۔” میجر احمد نے کانفیڈنس سے جواب دیا

” اب پلان کیا ہے ؟ ” کرنل جھانگیر نے سوال کیا

سر ہم اوڑی میں سرجیکل اسٹرائیک کے لئیے تیار ہیں نا صرف عبدالفاتح کو چھڑائیں گے بلکہ ان کا پورا اڈہ تباہ کرکے آئینگے ۔۔”

” ہمم اوکے مگر خون خرابہ نہیں بس اپنا ٹارگٹ اچیو کرو اور واپس انڈر اسٹینڈ ؟ ” انہوں نے ہامی بھری

” سر مار خور دشمن کو پسپا کر کے اوپر پہنچا کر ہی واپس آتا ہے اس لئیے آپ فکر مت کریں ویسے بھی اگر اسے زندہ پکڑا تو وہ لوگ اسے چھڑانے کے لیے ہمارے ایریا میں اٹیک کرنے آئینگے ۔۔۔” وہ مسکرایا

” اٹیک تو ہوگا یہ ہم سب جانتے ہیں ۔۔۔”

” جب انہیں بعد میں بھی گیڈر کی موت مارنا ہے تو پھر ابھی کیوں نہیں ؟ “میجر احمد نے سوال کیا

” میجر آپ مشن کی تیاری کریں کل رات دو بجے اوکے ! یو مے گو ناؤ ..”

” یس سر ۔۔۔” وہ کھڑا ہوا اور سلیوٹ مار کر باہر نکل گیا ۔

*******

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: