Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 19

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 19

–**–**–

وہ چاروں میز کے گرد کرسی رکھے بیٹھے ہوئے تھے جب قانتا نے میجر احمد کو مخاطب کیا ۔
” آپ مجھے ادھر کیوں لائے ہیں ؟ ہمیں تو اوڑی جانا تھا ۔۔۔” وہ اس سیف ہاؤس میں آکر الجھی ہوئی تھی صبح سے میجر احمد غائب تھا اور اب لنچ کے وقت آیا تھا تو کوئی بات ہی نہیں کررہا تھا ۔
” مس قانتا ۔۔۔۔” احمد نے اسے مخاطب کیا
” پلیز کال می قانتا جیسے آپ اپنے ان ساتھیوں کو نام سے بلاتے ہیں ۔۔۔” اس نے دلاور اور کیپٹن حمید کی طرف اشارہ کیا
” آپ ہماری ساتھی نہیں ہیں باجی ورنہ کہنے کو تو میں آپ کو بھابھی ۔۔۔۔”
” شٹ اپ دلاور ۔۔۔” احمد نے اس کی بات کاٹی
” قانتا ! اوکے ؟ ” احمد نے اس کی نیلی آنکھوں میں جھانکا
” ہمم ” اس نے سر ہلایا
” آپ کی گورنمنٹ نے ہماری ہیلپ مانگ لی ہے اس لئیے آپ بیفکر ہوجائیں ۔۔۔” اس نے تسلی دی
” لیکن کوئی پلان تو ہوگا ہم ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے ۔۔” قانتا نے سوال کیا
” آپ ابھی آرام کریں کل شام تک آپ کو پلان بتا دونگا ۔۔۔” احمد نے سنجیدگی سے کہا
قانتا نے ایک نظر ان تینوں کو دیکھا اور اٹھ کر اندر بیڈ روم میں چلی گئی وہ سمجھ گئی تھی کہ احمد اسے ابھی کچھ نہیں بتانے والا ۔
” سر آپ نے باجی کا دل توڑ دیا ہے جب ہم آج رات اٹیک کررہے تو کیا باجی ساتھ نہیں ہونگیں ؟ ” کیپٹن حمید نے داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سوال کیا
” نہیں یہ پورا مشن مارخور پورا کریگا اور ویسے بھی جو ٹیم لیڈر اس مشن کیلئے آرہا ہے وہ کبھی بھی غیر ملکی ایجنٹ کو وہ بھی لڑکی کو ہرگز ساتھ شامل کرنا پسند نہیں کریگا ۔۔۔” میجر احمد نے جواب دیا
” ٹیم لیڈر ؟ ” دلاور نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائیں

” یس ٹیم لیڈر آج ہی وزیرستان سے واپس آکر شام تک ہمیں جوائن کرلینگے اور ذرا خیال سے بندہ بہت اکھٹر مزاج اور گرلز الرجک ہے اس کے سامنے تم دونوں یہ باجی باجی مت کرنا ۔۔۔” احمد نے وارن کیا

” گرلز الرجک + اکھٹر مزاج + آئی ایس آئی او گاڈ میجر زوار سپر ایجنٹ کے ساتھ ہم یہ مشن کرینگے ۔۔۔” دلاور جوش سے بولا

” مزا آئیگا ۔۔۔” کیپٹن حمید کرسی سے ٹیک لگا گیا ۔

**********
تیز رفتار فوجی جیپ کمپاونڈ میں آکر رکی ایک دراز قد ورزشی جسامت کا حامل عمر تقریباً تیس سال مردانہ وجاہت سے بھرپور کمانڈو ڈریس کوڈ میں ملبوس جوان باہر نکلا ۔
وہ آج ہی واپس آیا تھا اب اس کا ارادہ لمبی چھٹی پر اپنے ڈیڈ ریٹائرڈ بریگیڈیئر افتخار کے پاس جانے کا تھا جو ان دنوں بیرون ملک رہائش پذیر تھے جب کرنل جھانگیر نے اسے کانٹیکٹ کیا اور فوراً رپورٹ کرنے کا حکم دیا ۔
“گڈ ایوننگ سر ۔۔۔” اس نے اندر آکر سلیوٹ کیا
” ویلکم ٹائیگر ! ۔۔۔” انہوں نے پرجوش انداز میں اٹھ کر اسے گلے لگایا
” ٹائیگر ایک مشن ہے اس میں تمہاری مدد کی ضرورت ہے ” ۔۔انہوں نے تفصیلات بتانا شروع کیں ۔

“پورا مشن ہمارے ایجنٹس پورا کرینگے لیکن یہ تینوں ابھی فیلڈ میں نئے ہیں کسی ماہر ایجنٹ کا ساتھ ان کے لئیے ضروری ہے کہ معاملہ بین الاقوامی ہے اور ہمیں ہر صورت اپنا ٹارگٹ زندہ بچا کر لانا ہے ۔۔”

” آج رات دو بجے سرجیکل اسٹرائیک بہتر ہے ۔ میں بیس ہینگر پہنچ جاؤنگا ۔۔۔” زوار نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
*********
میز پر نقشہ پھیلا ہوا تھا جس پر بیچ میں سرخ مارکر سے اوڑی کے ایک مقام کو سرکل کیا ہوا تھا میجر زوار اس آپریشن کو احمد ، دلاور اور حمید کے ساتھ لیڈ کررہے تھے ۔ترک حکومت پاکستان سے عبدالفاتح کو چھڑوانے میں مدد کیلئے درخواست کرچکی تھی ۔
” یہ کیمپ ہمارا مین ٹارگٹ ہے ہماری انفارمیشن کے مطابق ترک لیڈر عبدالفاتح کو اغوا کرکے یہی رکھا گیا ہے ۔ اس کیمپ کا کمانڈر یہ کرشن ہے جو را کا ایجنٹ ہے اور اس وقت کیمپ میں موجود ہے ہمیں عبدالفاتح کو زندہ واپس لانا ہے اور دشمن کے اس کیمپ کو جہاں اغوا کنندگان کو رکھا جاتا ہے تباہ کرکے آئینگے ۔۔۔” میجر زوار نے پلان بتا کر سب کو دیکھا
” جنٹلمین آپ تیار ہیں ؟ ” اس نے سوال کیا
” یس سر ۔۔۔۔” وہ سب بلند آواز میں بولے

چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا تھا جب آسمان کی بلندیوں پر موجود جہاز سے چار پیراشوٹرز اس جنگل میں اترے اپنے اپنے پیرا شوٹ جسم سے الگ کرکے انہوں نے اپنی گنز ہاتھ میں لیں اب وہ بہت احتیاط سے آگے بڑھ رہے تھے ۔ان کے چہرے کالے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے ۔صرف ان کی آنکھیں نظر آرہی تھیں ۔

” الرٹ ٹیم ! دشمن کیمپ نزدیک آرہا ہے ہمیں بہت احتیاط سے اندر گھس کر اپنے ٹارگٹ کو چھڑانا ہے ۔۔۔” میجر زوار نے درختوں کے جھنڈ کے پاس رک کر نائٹ وژن دوربین آنکھ سے لگائی جہاں جھنڈ کے اندر درختوں میں گھرا لکڑی کا بنا بڑا سا جھونپڑا نما مکان نظر آرہا تھا جس کے چاروں اطراف علاقائی لباس میں ملبوس گنیں اٹھائے چوکنے ٹیررسٹ پہرا دے رہے تھے ۔
” دلاور ، حمید تم دونوں رائٹ سائیڈ سے اٹیک کرکے دشمن کو اپنی طرف متوجہ کرو اور میجر احمد تم مجھے کوور کرو ۔۔۔” میجر زوار نے انہیں ہدایات دیں

دلاور اور حمید آہستگی سے دائیں جانب بڑھنا شروع ہو گئے ۔ کیمپ کے نزدیک پہنچ کر کیپٹن حمید نے زمین پر سے ایک بڑا سا پتھر چن کر اٹھایا اور دلاور کو اشارہ کرتے ہوئے وہ پتھر زور سے پھینکا ۔پتھر جا کر لکڑی کے تختے پر جاکر لگا ایک آواز سی پیدا ہوئی اور دو پہرے دار اس آواز کو سن کر اس سمت آئے ۔

” یار ادھر کوئی نہیں ہے تجھے وہم ہوا ہوگا ۔۔۔” ایک پہرے دار لے دوسرے کو ٹوکا جو چاروں جانب گھور گھور کر دیکھ رہا تھا اس سے پہلے وہ دونوں پلٹ کر واپس جاتے تختے کے نیچے چھپے دلاور اور حمید نے جمپ لگا کر ان دونوں کو گلے سے پکڑ لیا اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے تیز دھار چاقو ان کی شہ رگ پر پھیر کر ان کا بے جان لاشہ نیچے پھینک دیا اب وہ کیمپ کا رائٹ حصہ آرام سے کوور کرسکتے تھے پوزیشن لے کر انہوں نے اپنا نشانہ سیٹ کیا اندھیرے میں ان دونوں کی سیاہ آنکھیں چمک رہی تھیں ۔اب کھل کر دشمن کو زک پہچانی تھی ۔

میجر زوار اور احمد دونوں سگنل کا ویٹ کررہے تھے۔جب فائر کی آواز گونجی اور سب بھاگتے ہوئے دائیں جانب جاتے نظر آئے ۔
” سر ہم نے رائٹ سائیڈ ایریا ہوتی طرح سیکور کرلیا ہے ۔۔” دلاور کی آواز ٹرانسمیٹر میں ابھری
زوار ، احمد کے ساتھ اس مکان میں گھس چکا تھا فائرنگ شروع ہوچکی تھی وقت کم تھا انہیں یہاں دشمن کی مزید کمک پہنچنے سے پہلے نکلنا تھا وہ دونوں کمر سے کمر ملائے تیزی سے فائرنگ کرتے ہوئے دشمن کو کوئی بھی موقع دئیے بغیر مار چکے تھے اور اب ایک ایک کمرہ چیک کررہے تھے انہیں بھاری مقدار میں بم ، ہینڈ گرنیڈ ملے تھے اس پورے کیمپ میں موجود پندرہ افراد مارے جاچکے تھے ۔
دلاور اور حمید چوکنا انداز میں کیمپ کے دونوں اطراف پہرا دے رہے تھے اور اندر زوار اور احمد مکان کی ایک ایک دیوار کو چیک کررہے تھے ان کی اطلاع کے مطابق عبدالفاتح کو یہی رکھا گیا تھا وہ دونوں ہی پورے مکان کا جائزہ لے رہے تھے جب میجر زوار کی نظر فرش پر بچھے ایرانی قالین پر پڑی عموماً قالین کمرے کے وسط میں بچھائے جاتے ہیں لیکن یہ داہنی طرف ایک کونے پر بچھا ہوا تھا۔۔
” احمد کم ۔۔۔” زوار نے آہستگی سے قالین کے نزدیک پہنچ کر اپنی گن کی نوک سے قالین کو اٹھایا تو نیچے لکڑی کا فرش تھا ۔۔۔
” پورا فرش سیمنٹ کا ہے سوائے اس کے ۔۔۔” احمد نے ہاتھ پھیر کر کھوکھلا پن محسوس کیا
” میجر احمد ہمیں بنا آواز کئیے خاموشی سے یہ تختہ اکھاڑنا ہوگا ۔۔۔” زورا گن زمین پر رکھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھوڑی سی محنت کے بعد تختہ جڑ سے اکھڑ چکا تھا اور نیچے بوسیدہ سی سیڑھیاں جاتی نظر آرہی تھیں احمد نے جیب سے ٹارچ نکال کر اندر روشنی ڈالی
” یہ یقیناً کوئی سرنگ ہے ۔۔” میجر احمد نے زوار کو مخاطب کیا
” ہوسکتا ہے ہمیں اندر اتر کر چیک کرنا پڑیگا ۔۔۔” زوار پرسوچ انداز میں بولا
” کیپٹن حمید ، دلاور باہر سب کلئیر ہے تو اندر آؤ اوور ۔۔۔” میجر زوار نے آہستگی سے ان دونوں سے کانٹیکٹ کیا
” یس سر ۔۔”
ان دونوں کے اندر آتے ہی احمد اور زوار بھی سیدھے کھڑے ہوگئے اب وہ چاروں اس سرنگ کے اوپر کھڑے ہوئے تھے ۔
” دلاور اور حمید تم دونوں ادھر پہرا دو اور میرے سگنل کا ویٹ کرو اور احمد تم میرے ساتھ آؤ ۔۔۔”
زوار احتیاط سے قدم جماتے ہوئے سیڑھیاں اتر رہا تھا اندر گھپ اندھیرا تھا اور یہ ایک سیلن زدہ سرنگ نما تہہ خانہ تھا وہ دونوں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے جب میجر زوار کے حساس کانوں میں کسی کے تیزی سے قدم پیچھے کرکے سرکنے کی آواز آئی وہ فوراً احمد کو رکنے کا اشارہ کرکے دیوار سے ٹیک لگا کر دم سادھے کھڑا ہوگیا ۔کوئی تھا جو انہیں دیکھ رہا تھا چند لمحوں بعد اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا بال نما آلہ نکالا اور اسے آگے سرنگ میں لڑھکا دیا اس بال کے فرش سے ٹکرانے کی آواز سنتے ہی فائرنگ شروع ہوگئی یعنی کچھ دھشتگرد اندر چھپے بیٹھے تھے احمد اور زوار نے آگے بڑھ کر فائرنگ کرتے ہوئے انہیں ٹارگٹ کرنا شروع کردیا تھا ۔
تہہ خانے سے آتی فائرنگ کی آواز سن کر دلاور اور حمید نے بھی نیچے چھلانگ لگا دی تھی اب دلاور رول کرتا ہوا آگے بڑھ آیا تھا اور وہ جیسے ہی اپنی جیب سے لائٹ بم پھینکتا فوری چراغاں ہوتے ہی زوار اور احمد اپنی گنوں سے ان چھپے ہوئے کتوں سے بدتر دہشت گردوں کو گولیوں سے چھلنی کرکے آگے بڑھ رہے تھے کچھ ہی دیر میں پوری سرنگ میں سناٹا چھا گیا تھا ۔
“دلاور تم بائیں بازو چیک کرو حمید بیک اپ کرو ۔۔۔”میجر زوار نے ہدایات دیں تبھی سامنے ملگجی سی پیلی روشنی میں انہیں فرش پر ایک آدمی اوندھے منہ پڑا ہوا نظر آیا جس کے ہاتھ پیر رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور منہ میں کپڑا ٹھونس کر ٹیپ لگایا ہوا تھا ۔۔۔
” سر ! ایوری تھنگ اوکے ؟ ” احمد نے آگے بڑھ کر زوار سے سوال کیا جو جھک کر اس آدمی کو سیدھا کررہا تھا
” یس آل ان کنٹرول ٹارگٹ مل گیا ہے ۔۔” زوار نے سنجیدگی سے جواب دیا تبھی کسی کے دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی
” احمد ہری آپ تم ٹارگٹ کو لے کر باہر نکلو میں اسے دیکھتا ہوں ۔۔”
احمد اور دلاور اس بیہوش بندھے ہوئے آدمی کو اٹھا کر تیزی سے نکل گئے تھے ۔
میجر زوار ، کیپٹن حمید کے ساتھ اس آدمی کا تعاقب کررہا تھا جو یقیناً اس کیمپ کا کمانڈر انچارج تھا کچھ دور چل کر زوار نے ہاتھ کے اشارے سے کیپٹن حمید کو روکا اور اس آدمی کی ٹانگ کا نشانہ لے کر فائر کیا ۔اس کے گرتے ہی وہ دونوں اس کے نزدیک پہنچے اور اس کی گن پیر سے ٹھوکر مار کر دور پھینک دی
را کے ایجنٹ کرشن کی حالت پاک فوج کے کمانڈوز کو دیکھ کر خراب ہوگئی تھی پہلی بار اس طرح انہیں کے علاقے میں گھس کر انہیں مارا جارہا تھا ۔
” دیکھو مجھے چھوڑ دو یہ ہماری زمین ہے اگر مجھے مارو گے تو یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے ۔۔” اس نے دھمکانے کی کوشش کی
میجر زوار نے گڑگڑاتے ہوئے کرشن کو آرام سے دیکھا اور پھر اسے شوٹ کرکے وہ واپس پلٹا
” سر ۔۔” کیپٹن حمید کہنا چاہتا تھا کہ اسے زندہ پکڑ لینا تھا کرنل جھانگیر کا حکم تھا زورا اس کے پاس آکر رکا
” کیپٹن پاگل کتوں کو مار دینا ہی بہتر ہوتا ہے ۔۔”
وہ چاروں اس کیمپ سے ترک لیڈر عبدالفاتح کو لے کر باہر نکل آئے تھے ۔
” جنٹلمین لیٹس گو ۔۔۔” زورا ہے انہیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا اور اپنی جیب سے ہینڈ گرنیڈ نکال کر اندر گیا دو ہینڈ گرینڈ پن نکال کر اس سرنگ میں پھینک کر وہ برق رفتاری سے کھڑکی کی طرف بڑھا اور ایک ان ہینڈ گرنیڈ کی پن ہٹا کر اسے کھڑکی سے اندر پھینک کر باہر کود گیا ۔زور دار دھماکوں سے فضا لرز اٹھی تھی دشمن کا ایک بڑا اڈا اسی کی سرزمین پر تباہ ہوچکا تھا ۔
*********

زنجیروں میں جکڑا ہوا موحد لہو لہان تھا اس کی کمر کی کھال ادھڑ چکی تھی آنکھیں کالی ہو چکی تھی جب ملا اندر داخل ہوا ۔
” اس نے زبان کھولی کے نہیں ؟ ” اس نے دلچسپی سے موحد کے لہولہان وجود کو دیکھا
” بہت ڈھیٹ جان ہے کچھ بولتا ہی نہیں ہے ۔۔۔” ایک آدمی نے جواب دیا
” اس کے گھر کی تلاشی کے لئیے ٹیم بھیجو چپے چپے کی تلاشی کراؤ کچھ تو ملیگا ۔۔۔” اس نے حکم دیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: