Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 2

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 2

–**–**–

سرمئی پہاڑی کے دامن میں ایک غار نما خلا کے اندر میجر احمد اور ایجنٹ دلاور سنجیدگی سے گفتگو میں مصروف تھے جب کیپٹن حمید تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا ملیشیا یونیفارم میں ملبوس فرنٹیئر کور کے سپاہیوں کو اپنی شناخت کرواتا ہوا اندر داخل ہوا۔

“اسلام علیکم سر !!
کیپٹن حمید رپورٹنگ سر ۔۔۔” وہ اٹینشن ہوا

گھنی بڑھی ہوئی داڑھی لمبے کندھوں تک آتے بال قمیض شلوار میں ملبوس آنکھوں میں بھر کر سرمہ ڈالے وہ عجیب ہی لگ رہا تھا

” وعلیکم اسلام کیپٹن یہ تم نے اپنی آنکھوں کا کیا حال کررکھا ہے ۔۔۔” دلاور کو اسے دیکھ کر جھٹکا لگا

” سر نشیلی آنکھیں بنائی ہیں سمجھا کریں ۔۔۔” کیپٹن حمید مسکرا کر آنکھ مارتے ہوئے بولا

” لیٹس بی سیریس گائیز ۔۔۔۔” سلام دعا کے بعد میجر احمد نے انہیں متوجہ کیا

” کیپٹن یہ زلمے خان پر جو آپ کام کررہے ہیں اس کی کیا پروگریس ہے ؟ ” میجر احمد نے سوال کیا

” زلمے خان اس وقت سب سے بڑا اثر رسوخ والا لیڈر ہے یہ پاکستان میں رہ کر پاکستان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ۔پورے ملک سے اغوا برائے تاوان کا بڑا نیٹ ورک کھڑا کیا ہوا ہے باقی مغوی افراد کو یہ ایران کے راستے بھی باہر نکال رہے ہیں اور افغانستان تو ان کا گڑھ ہے ہی ۔ ان کے پیچھے را اور موساد ہیں جو پاکستان کو کھوکھلا کرنے کے لیے انہیں استمعال کررہے ہیں ان کا ٹارگٹ پاک فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانا اور پختونوں کو بدنام کرکے الگ کرنا ہے ان کے کئی سلیپنگ سیل ہر بڑے شہر میں موجود ہیں ۔۔۔” کیپٹن حمید نے سنجیدگی سے تفصیلات دیں

” کیا ہمیں زلمے خان تک رسائی ہوسکتی ہے ؟ ” دلاور نے پوچھا

” اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اپنے بھائی کا خون کرکے سردار بنا ہے لیکن اس کی بھتیجی میرا ساتھ دے رہی ہے ۔۔۔” کیپٹن حمید نے جواب دیا

” بھتیجی ؟ کیا تم اس پر بھروسہ کرسکتے ہو ؟ ” میجر احمد نے ابرو اچکا کر پوچھا

” سر وہ ایک باشعور پاکستانی شہری ہے لیکن آپ بیفکر رہیں میں اتنی آسانی سے اس کے دھوکے میں آنے والا نہیں اور وہ بھی دھوکہ دینے والوں میں سے نہیں ہے ۔۔” کیپٹن حمید سرد لہجے میں بولا

” نام ؟ “

” پلوشہ شیر خان ۔۔۔۔۔” کیپٹن حمید نے جواب دیا

” مصری رہنما عبدل الفاتح کو کل رات اغوا کیا گیا ہے ہمیں انہیں ٹریس کرنا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مصری ایجنٹس کی مدد بھی کرنی ہوگی ۔۔۔” تمام تفصیلات بتا کر میجر احمد نے اپنا لیب ٹاپ بند کیا

” کیا انہوں نے ہماری مدد مانگی ہے ؟ ” دلاور نے سوال کیا

” نہیں لیکن یہ ہمارا علاقہ ہے اور مارخور کے علاقے میں کوئی اس کی مدد کے بنا آگے بڑھنا تو دور کی بات پر بھی نہیں مار سکتا ۔۔۔” میجر احمد نے ان دونوں کو دیکھا

” تو کیا اب ہم مصر کی انٹیلیجنس کے ساتھ کام کرینگے ؟؟ ” دلاور نے سنجیدگی سے سوال کیا

” نہیں ہم اپنا کام کرینگے ابھی ہمیں صرف آبزرو کرنا ہے اگر وہ اپنے مشن میں ناکام ہوتے ہیں تو ہم عبدالفاتح کو ریسکیو کرینگے انڈر اسٹینڈ ؟؟ ” احمد نے سمجھایا

” یس سر ۔۔۔۔” وہ دونوں یک زبان ہو کر بولے

” سر کوژک کے پاس زلمے کے آدمیوں کی فائرنگ کرنے کی اطلاع ملی ہے ۔۔۔” ایک ایف سی کے جوان نے اندر آکر اطلاع دی

” ویل جنٹلمین لگتا ہے ہمارا شکار قریب ہی ہے لیٹس گو ۔۔۔” میجر احمد نے اپنا لیب ٹاپ بند کیا

_____________________________________________

وہ دونوں چاروں جانب سے گھیر لئیے گئے تھے ۔

” ہتھیار پھینک دو ورنہ امارا آدمی لوگ تمہیں گولیوں سے بھون دیگا ۔۔۔” سمندر خان نے اونچی آواز میں ان دونوں کو وارننگ دی

بورک نے قانتا کو اشارہ کرتے ہوئے گن زمین پر پھینک دی

” اوئے برقع والا باجی !! تم بھی گن پھینک دو ۔۔” سمندر خان کا ساتھی چلایا

قانتا آہستگی سے دوقدم پیچھے ہٹی اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک بار اگر وہ اور بورک ان کے ہتھے چڑھ گئے تو مشن فیل ہو جائیگا اس نے آہستگی سے اپنا گن والا ہاتھ نیچے کیا جیسے گن پھینکنے والی ہو دیکھتے ہی دیکھتے وہ جھک کر گن زمین پر رکھتے ہوئے اپنی جیب میں سے غیر محسوس طریقے سے ہاتھ ڈالتے ہوئے چھوٹا سا دستی بم نکال چکی تھی گن کو زمین پر رکھتے ہی وہ سیدھی ہوئی اور اس نے تیزی سے بم دائیں طرف اچھال کر دھماکہ ہوتے ہی زمین پر پڑی گن اٹھا کر ان دشمنوں کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر فائر کھول دیا تھا

” خنزیر کا بچی !! ” سمندر خان کے منھ سےگالیوں کا طوفان امنڈ آیا تھا ان کے دو آدمی بم دھماکہ کا شکار ہو کر مارے گئے تھے

” قانتا بھاگو ۔۔۔۔” بورک نے قانتا کو کوور کرتے ہوئے آرڈر دیا اب وہ اکیلا ان طالبان کو اپنی گن سے نشانہ بنا رہا تھا
قانتا بنا رکے تیزی سے دوڑتی ہوئی پہاڑی بھول بھلیوں میں غائب ہو گئی

بورک کافی دیر تک مسلسل فائرنگ کرکے انہیں روکنے میں کامیاب رہا تھا وہ خود بھی ٹھیک ٹھاک زخمی ہو چکا تھا دو گولیاں اس کے کندھے کو چھو کر گزر چکی تھیں جب اس کا ایمونیشن ختم ہو گیا ماحول میں اچانک سے ایک سناٹا سا چھا گیا تھا

” اس خبیث کے بچے کے پاس گولیاں ختم ہوگئی ہیں گھیر لو اسے ۔۔۔” سمندر خان نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا

تھوڑی ہی دیر میں بورک سمندر خان اور اس کے ساتھیوں کے چنگل میں پھنس چکا تھا

” کون ہو تم اور ادھر کیا کرنے آئے ہو ؟ “سمندر خان نے بورک کے سر بالوں سے پکڑ کر اونچا کیا اور ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا

” تو تم اتنی آسانی سے زبان نہیں کھولو گئے ۔۔۔” سمندر خان نے اپنی بندوق کی نال کو اس کے شانے پر موجود زخم پر رکھ کر زور سے دباؤ ڈالا

بورک کے زخم سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا سمندر خان اسے اپنے جوتے کی نوک سے بے دردی سے پیٹ رہا تھا چاروں جانب اس کے مسلح افراد بندوق تانے چوکس کھڑے ہوئے تھے ۔بورک نیم بیہوش ہوگیا تھا

” سمندر خاناں پہاڑ کی طرف سے فوجی جیپ آرہی ہے ۔۔۔”

” نکلو یہاں سے اور کسی بھی قیمت پر اس باجی کو زندہ پکڑ کر اڈے پر لاؤ ۔۔۔” سمندر خان نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا
” اور اس کا کیا کریں ؟؟ ” اس کے ساتھی نے نیم مردہ بورک کی طرف اشارہ کیا

” یہ بہت پکا ہے اپنی زبان نہیں کھولے گا ، یہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے ۔۔۔” سمندر خان نے بے رحمی سے کہتے ہوئے اپنی گن اٹھائی اور فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی اس نے بورک کے وجود کو چھلنی چھلنی کردیا تھا

” نکلو یہاں سے اور اس لڑکی کو پکڑ کر میرے سامنے حاضر کرو ۔۔۔” وہ تیزی سے بولتا ہوا اپنے ساتھیوں کو تتر بتر کرتا وہاں سے روانہ ہو گیا
————————————————————————–
وہ پہاڑی سلسلے پر پتھروں اور چٹانوں کی آڑ لیتی تیزی سے آگے بڑھتی چلی جارہی تھی اسے ہر قیمت پر ادھر سے نکل کر اپنے ہیڈ کوارٹر رابطہ کر کے صورت حال بتا کر مدد طلب کرنی تھی جب تڑا تڑ برستی گولیوں کی آوازیں آنا بند ہوگئیں رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا چاروں طرف سے دوڑتے بھاگتے قدموں کی آوازیں سنائیں دے رہی تھیں وہ چاروں جانب دیکھ کر چھپنے کی جگہ تلاش کررہی تھی اس علاقے میں ریت مٹی پہاڑ اور چٹان ہی چٹان تھے اس کا برقع بھی کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا موت کے ہرکارے اس کے تعاقب میں تھے تبھی اس کی نگاہ میں پہاڑ کی اوپر ایک دڑار نظر آئی اس کی نیلی آنکھیں جگمگا اٹھیں اس نے تیزی سے اپنا رخ بدلا اب وہ ہاتھوں کو مضبوطی سے پتھروں پر جماتے ہوئے اوپر چڑھ رہی تھی رات کا اندھیرا اس پر اس کا سیاہ برقع اسے پروٹیکٹ کررہا تھا اوپر پہنچ کر کہنیوں کے بل رینگتی ہوئی وہ اس دڑار کے اندر غائب ہو گئی ۔

” سر یہ تو زلمے خان کا دست راست سمندر خان ہے ۔۔۔” کیپٹن حمید نے دوربین آنکھ سے ہٹاتے ہوئے کہا

” ایجنٹ دلاور تم جیپ لے جاؤ اور احتیاط سے اس سمندر خان کا پیچھا کرو اس کا ٹھکانہ معلوم کرتے ہی مجھے انفارم کرنا ۔”میجر احمد نے اسے آرڈر دیا

” یس سر ۔۔۔۔” دلاور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پلٹا اور تیزی سے جیپ کی طرف بڑھا اسے ایک مخصوص فاصلے پر رہتے ہوئے اس شیطان کا پیچھا کرنا تھا

” سر یہ تو مر چکا ہے حلیہ تو مقامی ہے لیکن یہ بندہ مقامی نہیں لگ رہا ۔۔” کیپٹن حمید نے بورک کی لاش کو سیدھا کیا

میجر احمد نے بورک کو بغور دیکھا پھر اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اونچا کیا

“کیپٹن حمید یہ مصری ایجنٹ تھا اس کی کلائی میں بندھی گھڑی چیک کرو یہ ایک جدید ٹرانسمشن کا آلہ ہے جسے مصر اور شام کے مجاھدین استمال کرتے ہیں ۔”وہ بورک کا ہاتھ چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوا

” سر آپ ۔۔۔”

“”سسشش ” میجر احمد نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
” کیپٹن ان کے کچھ ساتھی ابھی بھی آس پاس ہیں غور سے سنو پہاڑ کی جانب سے بھاگتے قدموں کی دھمک آرہی ہے ۔۔۔”

” کیپٹن تم ایف سی سے کانٹیکٹ کرو اور ان لاشوں کو یہاں سے اٹھوانے کا بندوست کرو میں ان آدمیوں کے پیچھے جاتا ہوں ۔۔۔” وہ کیپٹن حمید کو ہدایات دیتا ہوا آگے بڑھا

پہاڑ کے نزدیک پہنچ کر اس نے اپنی جیب سے کالا ماسک نکال کر چہرے پر چڑھایا پنڈلی تھپتھپا کر چاقو کو چیک کیا اور چیتے کی طرح تیزی سے جمپ لگا کر وہ پہاڑ پر چڑھنا شروع ہوگیا کچھ اوپر جاکر وہ رکا اسے بائیں جانب سے آگے بڑھتے سائے دکھائے دئیے اس نے تیزی سے اپنا چاقو نکالا اور بنا آواز کئیے ان سایوں کی جانب بڑھا

” یہ دیکھو کالا کپڑا یہ اس لڑکی کے برقع کا ہی ہے وہ یہی کہیں چھپی ہوئی ہے ۔۔۔” میجر احمد کو ان کی باتوں کی آواز سنائی دی

“ایک بار ہاتھ لگ جائے دیکھنا زلمے خان اس کا کیا حشر کرتا ہے کمینی نے ہمارے چار آدمی مار گرائے ہیں ۔۔۔”

احمد دبے قدموں چلتا ہوا ان کے بالکل پیچھے پہنچ چکا تھا اس نے بڑے آرام سے اندھیرے میں ایک کے منھ پر سختی سے اپنا بائیاں ہاتھ رکھا اور تیزی سے دائیں ہاتھ سے اس کی گردن پر اپنا تیز دھار چاقو پھر دیا چند لمحوں بعد اس کے مردہ وجود کو آرام سے بنا آواز کئیے زمین پر ڈال کر وہ دوسرے سائے کی طرف بڑھا

———————————————————————–

وہ اس خاردار دراڑ میں چھپی ہوئی تھی جب قدموں کی آوازیں بالکل دراڑ کے سامنے آکر رک گئی وہ شاید دو افراد تھے وہ سانس روکے دم سادھے پڑی تھی جب اچانک سے زمین پر انسانی لاشہ دکھائی دیا اس نے اپنی کلائی پر بندھے گھڑی نما آلہ سے ہلکی سی روشنی ڈالی

گلا کٹا مقامی انسان زمین پر پڑا تھا جس کی آنکھیں بھیانک انداز میں کھلی ہوئی تھیں اب یہاں رکنا خطرناک تھا وہ فیصلہ کرچکی تھی نہایت احتیاط سے وہ رینگتی ہوئی دڑار سے باہر نکلی کچھ قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اسے ایک لمبا مضبوط جسامت والا انسانی ہیولہ نظر آیا وہ فوراً پاس موجود چٹان کے پیچھے ہوئی بڑی احتیاط سے اس آدمی کا چہرہ اپنی گھڑی کی ریز میں دیکھنا چاہا پر وہ نقاب میں تھا چند لمحے سوچنے کے بعد وہ اٹھی پاس پڑی سریہ کی سلاخ احتیاط سے اٹھا کر اس نقاب پوش کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے دبے قدموں بنا آواز کئیے اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: