Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 20

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 20

–**–**–

عبدالفاتح کو راتوں رات خاموشی سے پاک فضائیہ کے طیارے نے قاہرہ پہنچا دیا تھا ۔مشن مکمل ہوچکا تھا۔ میجر زوار اپنی لمبی چھٹی پر اگلی فلائٹ سے بیرون ملک روانہ ہورہا تھا ۔احمد ، کیپٹن حمید اور دلاور سب کام نبٹا کر دن کے بارہ بجے سیف ہاؤس پہنچے ۔دلاور اور کیپٹن حمید کو اب بہت جلد کسی نئے مشن پر روانہ ہونا تھا کچھ دن وہ دونوں میجر احمد کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے ۔

” آپ لوگ رات بھر کدھر تھے ۔۔۔” کچن سے کافی کا مگ ہاتھ میں لئیے قانتا نے ان تینوں کو گھورتے ہوئے سوال کیا

” افف باجی کو تو ہم بھول ہی گئے تھے ۔۔۔” دلاور نے سر پر ہاتھ مارا

” مسٹر احمد آپ نے تو آج مجھے اوڑی لے کر جانا تھا ۔۔” اس نے احمد سے سوال کیا

” دلاور حمید ناشتے کا بندوست کرو اور مس قانتا آپ کا کام ہوچکا ہے ۔۔۔”
” جانتی ہوں ۔۔۔” قانتا نے اس کی بات کاٹی

” جب سب جانتی ہیں تو پھر اس طرح کیوں سوال کررہی ہیں ۔ ؟ ” میجر احمد نے اسے گھورا

” باجی آپ کیا جانتی ہیں ہمیں بھی بتائیں ۔۔۔” کچن تک جاتا دلاور پلٹ کر واپس آیا ۔

” میں بھی ایک ایجنٹ ہوں آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں ۔۔” قانتا نے بلیک ٹی شرٹ میں ملبوس لمبے چوڑے احمد کو گھورا ۔
” یہ مشن ہمیں آئی ایس آئی نے اسائن کیا تھا اور آپ ہم میں سے نہیں ہیں اب آپ تیاری کریں شام تک آپ کی واپسی کا ارینج کردیا جائیگا ۔۔۔” احمد نے اکھٹر انداز میں جواب دیا اور سیدھا اندر کچن میں دلاور اور حمید کے پیچھے چلا گیا ۔

” تم بہت اکھڑ ہو اور شاید بدتمیز بھی لیکن مجھے پتہ نہیں کیوں اچھے لگتے ہو ۔۔۔” قانتا نے پرسوچ نگاہوں سے اسے اندر جاتے دیکھا ۔

کچن میں میز پر چائے کے کپ اور پاپے کی ٹرے کے ساتھ ان تینوں کا شاہی ناشتہ حمید تیار کرکے رکھ چکا تھا وہ تینوں گول میز پر کرسی گھسیٹ کر بیٹھے چائے پیتے ہوئے باتیں کررہے تھے جب دلاور کی نظر دروازے میں ساکت کھڑی قانتا پر پڑیں جو احمد کو ٹکٹکی باندھے دیکھے چلی جارہی تھی اس کی آنکھوں سے جھلکتے جذبے بہت واضح تھے ۔

” حمید 1.45 …” دلاور نے چسکی بھرتے ہوئے سرگوشی کی جس پر حمید نے غیر محسوس انداز سے گردن گھمائی

” میجر احمد ! سر اگر ناراض نہ ہوں تو ایک بات کہوں ۔۔” کیپٹن حمید نے اسے متوجہ کیا

” یس کہوں ۔۔” احمد نے اپنا کپ میز پر رکھا

” میجر مجھے لگتا ہے وہ آپ کو بہت پسند کرتی ہے اور شاید بات پسندیدگی سے بھی آگے نکل چکی ہے ۔۔” کیپٹن حمید نے سنجیدگی سے کہا۔

” واٹ ناسنس ؟ ہم ادھر سب کام کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں یہ فضولیات کرنے نہیں ۔۔۔” احمد کو غصہ چڑھ گیا ۔

” اٹس اوکے کیپٹن ! تم احمد سر کو چھوڑو بس یہ بتاؤ کہ کس کی بات کررہے ہو ؟ ۔۔” دلاور نے شرارت سے پوچھا

” اپنی اور تمہاری بلکہ سارے جہاں کی باجی جان کی سوائے ۔۔۔” وہ بڑے مزے سے بولا

” ناٹ اگین ۔۔۔تم دونوں پھر شروع ہوگئے ۔۔۔” احمد ٹھیک ٹھاک تپ گیا اور کرسی گھسیٹ کر دروازے پر ساکت کھڑی قانتا کے پاس سے گزرتا ہوا اندر بیڈ روم میں چلا گیا ۔
قانتا اسے اندر جاتا دیکھ کر ہوش میں آئی ۔

” میجر احمد ! میجر احمد پلیز میری بات سنئیے ۔۔” اس نے آواز لگائی وہ بیڈروم کے دروازے پر رکھا ہاتھ ہٹا کر پلٹا
” جی فرمائیے ۔۔۔”
قانتا باوقار انداز میں چلتی ہوئی اس کے نزدیک آئی ۔

” سر کیا آپ میرے ساتھ ایک کپ کافی جوائن کرسکتے ہیں ؟ ”
احمد نے ایک نظر اس کی گہری سمندر جیسی نیلی آنکھوں میں جھانکا وہ بڑی امید سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

” لسن مس ! آپ کا کام اب ادھر ختم ہوچکا ہے بہتر یہ ہے کہ آپ کافی پلاننگ کی بجائے قاہرہ واپسی کی تیاری کریں ۔” اس نے سختی سے جواب دیا

” میجر احمد ! میں نے سوچا تھا ریسکیو مشن آپ کے ساتھ کرکے مجھے کچھ سیکھنے کا موقع ملیگا لیکن ۔۔خیر آپ سے مل کر آپ کے ساتھ جتنا بھی سہی پر کام کرکے اچھا لگا میں آپ کو ہمیشہ یاد رکھوں گئی ۔۔۔” وہ جواب دے کر تیزی سے پلٹ گئی لیکن اس کی آنکھوں میں آئی ہلکی سی نمی احمد کی زیرک نگاہوں سے اوجھل نہیں تھی وہ ایک گہرا سانس لے کر اندر کمرے میں داخل ہوگیا اس کا اردہ تین چار گھنٹے سونے کے بعد قانتا کو ائیر پورٹ چھوڑ کر آنے کا تھا ۔
شاور لے کر فریش ہونے کے بعد وہ سونے لیٹ گیا آنکھیں بند کرتے ہی قانتا کی گہری نیلی آنکھیں اس کی بند آنکھوں میں اتر آئیں ۔۔
” ہمیں ایسے پڑاؤ کی اجازت نہیں ہوتی مس قانتا ۔۔۔” وہ بڑبڑایا
ابھی اس کی آنکھ لگے بمشکل ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ اس کا پرسنل سیل فون لگاتار تواتر سے بجنے لگا اس نمبر پر گھر والے اس سے کوئی بہت ہی اہم بات یا ایمرجنسی ہو تو ڈسٹرب کرتے تھے اس نے تیزی سے اٹھ کر اپنا فون اٹھایا دادی کی کال پر کال آرہی تھیں ۔
” اسلام علیکم دادی ۔۔” اس نے فون اٹھایا
” وعلیکم اسلام احمد ۔۔ ” ان کی ٹہری ہوئی آواز ابھری
” دادی سب خیریت تو ہے ۔۔۔” اس نے پوچھا
” احمد کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے موحد تین دن سے غائب ہے پشاور کسی مجرم کو لے کر گیا تھا اور اب یہ پولیس والے کہتے ہیں وہ غائب ہوگیا ہے کل رات تمہارے گھر پر بھی چار آدمیوں نے حملہ کیا ہے چوکیدار مارا گیا ہے پورا گھر اس وقت سیل ہے بچے ۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکیں جیسے اپنے آنسو پی رہی ہوں احمد دانت بھینچے ان کی بات سن رہا تھا۔

” احمد ان بوڑھی ہڈیوں میں اب مزید کوئی خبر سہنے کی ہمت نہیں ہے تم چھٹی لے کر آؤ اور میرے موحد کو ڈھونڈ کر لاؤ ۔۔۔” انہوں نے بات مکمل کی احمد نے بنا ایک لفظ کہے فون بند کردیا تھا اس کے وجیہہ چہرے پر بلا کی سختی چھائی ہوئی تھی وہ اپنا سامان بیگ میں ڈال کر جانے کیلیے تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلا جہاں سامنے ہی قانتا ، حمید اور دلاور بیٹھے باتیں کررہے تھے ۔
” Is everything okay ? ”
کیپٹن حمید اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر چونک گیا
” مجھے فوراً کراچی جانا ہوگا تم دونوں قانتا کو ائیر پورٹ چھوڑ دینا کرنل جھانگیر کو میں خود کال کردونگا ۔۔۔” وہ انہیں ہدایات دیتا ہوا آگے بڑھا

” احمد ! آخر ہوا کیا ہے ۔۔۔” دلاور اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے پوچھا
” میرے گھر پر اٹیک ہوا ہے اور موحد کو مسنگ پرسن ڈکلیئر کیا گیا ہے ۔۔۔” اس کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوچکی تھیں
” ٹیررسٹ اٹیک ؟ ” حمید نے جو اٹھ کر ان کے نزدیک آچکا تھا سنجیدگی سے پوچھا
” یس ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے جواب دے کر اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
” موحد نے تو لاسٹ ائیر ہی سی ایس ایس کرکے پولیس فورس جوائن کی تھی نا ۔۔۔” احمد نے دلاور سے سوال کیا
” ہاں بہت بریلینٹ لڑکا ہے ۔۔۔”

” مسننگ پرسن ۔۔یہ یقیناً انہیں لوگوں کی کاروائی ہے اور اندر کے لوگ بھی ملے ہوئے ہیں ورنہ ایک ایس پی ہر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔” احمد نے برفیلے سرد لہجے میں کہا۔

” میں مس قانتا کو آج رات کی فلائیٹ سے روانہ کرکے کراچی جارہا ہوں ویسے بھی ابھی کچھ دن کی چھٹی ملی ہے ۔۔۔” دلاور نے فیصلہ کیا

” لیٹس گو ! میجر احمد کو جوائن کرتے ہیں تم قانتا کو ڈراپ کا انتظام کروں میں ہمارے ٹکٹس بک کرواتا ہوں ۔۔۔” کیپٹن حمید سنجیدگی سے بولتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔
احمد اور دلاور ایک ہی بیچ کے تھے جبکہ حمید ان کا جونئیر تھا ایس ایس جی کمانڈو ٹریننگ کے بعد احمد آئی ایس آئی جوائن کرچکا تھا اور اب اس کے نقش قدم پر دلاور اور حمید چل رہے تھے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: