Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 21

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 21

–**–**–

دادی کے کمرے میں جانے کے بعد علیزے خبروں کا چینل بند کرکے اوپر ٹیرس پر آگئی اس کا دل بہت اداس تھا نیند آنکھوں سے روٹھی ہوئی تھی اسے موحد یاد آرہا تھا دل اس کی گمشدگی سے بہت ڈرا سہما ہوا تھا مگر وہ دادی کے سامنے رو کر انہیں پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی اس لئیے ان کے سونے کے بعد ادھر خاموشی سے آکر بیٹھ گئی تھی آسمان پر تارے ٹمٹما رہے تھے اس کی آنکھوں سے موتی کی لڑیوں کی طرح آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے موحد نے اسے جتنی اپنائیت اور محبت دی تھی وہ اس کی رگ رگ میں اتر چکی تھی اس کی ساری امیدیں چاہتیں محبتیں سب صرف اور صرف موحد کیلئے تھیں ۔

” کیا بات ہے دادی یہ علیزے کا منہ کیوں پھولا ہوا ہے ؟ ” وہ تین دن کا تھکا ہارا ابھی شام ہی گھر پہنچا تھا اور برآمدے میں بچھے تخت پر تسبیحِ پڑھتی دادی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا ۔جب علیزے چائے کا کپ اس کے نزدیک رکھ کر اندر گئی
” اسے چھوڑو اور تم اٹھو اندر کمرے میں لیٹ کر سو جاؤ دیکھو تو آنکھیں کیسے سرخ ہورہی ہیں ۔۔ ” انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
” دادی جان مجھ سے آرام نہیں ہوگا جب تک آپ مجھے علیزے کی ناراضگی کی وجہ نہیں بتائیں گئیں ۔۔۔” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
دادی نے۔ ایک نظر پینٹ اور ہالف ٹی شرٹ میں ملبوس موحد پر ڈالی چوڑا سینہ ورزشی بازو خوش شکل ، لمبا قد وہ پورے ماحول پر چھا جاتا تھا ۔۔
” ماشاءاللہ ۔۔۔” بےاختیار ان کے لبوں سے نکلا اور انہوں نے آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونکی کہ کہیں ان کے لاڈلے پوتے کو ان کی نظر ہی نہ لگ جائے ۔
” دادی جان ۔۔۔” موحد نے ان کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایا
” بتائیں نہ اس کا موڈ کیوں آف ہے ؟ ” اس کا دل علیزے میں اٹکا ہوا تھا
” ارے میاں کیا بتاؤں کل عید ہے اور وہ مہندی لگانے کی ضد کررہی ہے میں نے تو پیالے میں مہندی گھول لی تھی ہر اسے ڈیزائن بنوانا ہے ۔۔ ” انہوں نے موحد کو مخاطب کیا
” تو دادی آپ اسے لگانے دیں اس میں پرابلم کیا ہے ۔۔۔” وہ حیران ہوا
” پرابلم ! کوئی ایک ہو تو بتاؤں بھی تم اچھی طرح سے جانتے ہو وہ کتنی سیدھی اور بزدل ہے اب جگہ جگہ قربانی کا جانور بندھا ہوا ہے چوزے سے ڈرنے والی کو میں باہر کیسے لے کر جاؤں ؟ اس ڈرپوک کی وجہ سے ہم تو اپنا بکرا تمہاری طرف بندھواتے ہیں ۔۔۔” انہوں نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا ۔

” دادی اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے مہندی لگوانے لے جاتا ہوں ۔۔۔” اس نے پیار سے ان کے ہاتھ پکڑے ۔

” پہلے تھوڑی دیر آرام کرلو پھر لے جانا ۔۔۔” انہوں نے اجازت دی
” شام تو ہورہی ہے دادی میں اسے لے کر جاتا ہوں پھر آکر ہی آرام کرونگا ۔آج ایک طرح سے چاند رات والی رونقیں ہیں صبح قربانی بھی کرنی ہے اس لئیے آج تو آپ کے پاس ہی رکونگا ۔۔” وہ ان سے اجازت لے کر اندر گیا

کمروں میں جھانک کر وہ کچن میں آیا جہاں علیزے پھولے ہوئے منہ کے ساتھ رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھی ۔وہ دروازے سے ٹیک لگا کر اسے دیکھ رہا تھا نیوی بلیو کلر کے سوٹ میں اس کی چمپئی رنگت چمک رہی تھی یہ سوٹ اس پر بہت جچ رہا تھا وہ شاید پارلر جانے کیلئے تیار ہوئی تھی لمبی چٹیا نازک کمر کی شان بڑھا رہی تھی ۔موحد آج کئی دنوں بعد بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا جب اس کی نظروں کی تپش محسوس کرکے علیزے نے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔
” آپ ۔۔کچھ چاہئیے کیا ؟ ” اس نے پوچھا
” موڈ کیوں خراب ہے میری بیوی کا ؟ ” وہ آگے بڑھ کر اس کے نزدیک آیا اور کفگیر اس کے ہاتھ سے لے کر الگ رکھا
” ایسی تو کوئی بات نہیں میں تو ٹھیک ہوں ۔۔۔” وہ اس کی بولتی نگاہوں سے نظریں چرا کر پیچھے ہوئی ۔
” تو پھر یہ غبارے کی طرح منہ کیوں پھیلایا ہوا ہے ؟ ” موحد کی نظریں علیزے کو اپنے اندر تک اترتی ہوئی محسوس ہوئیں ۔
” جلدی سے اپنی چادر لے کر آؤ میں باہر انتظار کررہا ہوں ۔۔۔” وہ اس کے چہرے سے بمشکل نظریں ہٹا کر پیچھے ہٹا
” رئیلی ۔۔۔” وہ خوشی سے کھل اٹھی
” جلدی کرو ۔۔۔” وہ اسے حکم دیتا کچن سے نکلا اور باہر گاڑی میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا بمشکل پانچ منٹ میں سیاہ شیشوں والی چادر اوڑھے خوشی سے دمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ علیزے باہر آئی اور اس کی جیپ کا دروازہ کھول کر اندر اس کے برابر بیٹھ گئی ۔موحد نے گاڑی سڑک پر ڈالی اور ایک مشہور بیوٹی پارلر کا رخ کیا بیس منٹ کی ڈرائیو کے دوران ہلکی پھلکی باتیں کرتے وہ پارلر پہنچ چکے تھے ۔
” سنو ۔۔۔” اس نے دروازہ کھول کر اترتی ہوئی علیزے کو پکارا
” یہ رکھو ۔۔۔” اس نے اپنا والٹ نکال کر اس کی سمت بڑھایا
” میرے پاس پیسے ہیں ۔۔۔” علیزے نے سہولت سے اسے بتایا
” ہاں لیکن مہندی تو میرے نام کی لگاؤ گی نا ! ” وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اترا اور علیزے کا ہاتھ پکڑ کر اپنا والٹ اس کی شفاف ہتھیلی پر رکھا ۔

” اچھی سی کلائیوں سے اوپر تک مہندی لگوانا مجھے بہت پسند ہے ۔۔۔” اس کے گھمبیر لہجے میں کی گئی فرمائش سن کر وہ سٹپٹاتے ہوئے اس کا والٹ اپنی ہتھیلیوں میں مضبوطی سے تھامے اندر بھاگ گئی تھی ۔
پارلر میں بہت رش تھا تقریباً دو گھنٹے بعد وہ دونوں ہاتھوں میں مہندی لگائے آستینیں اوپر کئیے دروازے پر سے اچک کر موحد کو باہر تلاش کررہی تھی جب وہ اسے جیپ سے ٹیک لگائے آرام سے کھڑا نظر آیا وہ فورا باہر نکلی اسے آتا دیکھ کر موحد سیدھا ہوا تبھی سامنے سے کچھ بچے اپنا بکرا گھماتے ہوئے آتے نظر آئے اور علیزے کا رنگ اپنے سامنے بکرے کو دیکھ کر فق پڑگیا وہ زور سے چیختے ہوئے موحد کی طرف بھاگی تو دوسری طرف بکرے کو اپنی بےعزتی پسند نہیں آئی اور وہ رسی تڑوا کر علیزے کی طرف بڑھا ۔
موحد نے تیزی سے علیزے کو تھاما ۔
” وہ بکرا مجھے بچا لیں پلیز ۔۔۔۔” علیزے کی آنکھوں سے خوف ٹپک رہا تھا
” آرام سے ورنہ مہندی خراب ہو جائے گئی ۔۔۔” اس نے احتیاط سے اسے اپنے پیچھے کرکے سامنے سے آتے بکرے کو سینگوں سے پکڑ کر روکا ۔اس کی یہ بہادری دیکھ کر علیزے کا دل عش عش کر اٹھا ۔
بکرے کو بچوں کے حوالے کرکے وہ ہنستا ہوا اس کی طرف بڑھا اور جیپ کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے میں مدد کی ۔
وہ گاڑی چلاتے ہوئے گایے بگاہے اس کے دودھیا ہاتھوں پر سجی مہندی کو دیکھ کر بار بار ایک ہی شعر پڑھتے ہوئے اپنا سر دھن رہا تھا ۔۔

مہندی لگائے بیٹھے ہیں کچھ اس ادا سے وہ
مٹھی میں ان کی دے دے کوئی دل نکال کے

” موحد ۔۔۔” وہ روتے ہوئے اسے پکار رہی تھی
” موحد پلیز آجائیں ۔۔۔۔” وہ اپنا اختیار کھو رہی تھی اس پر جان چھڑکنے والا اس کا محرم اس کا سب کچھ غائب تھا سب کہہ رہے تھے وہ شاید ۔۔۔۔۔
لیکن اسے اپنی دعاؤں پر ، اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ تھا وہ ہمت کرکے وضو کرنے اٹھی ۔

*********
میجر احمد جناح ٹرمینل کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی تیزی سے باہر نکل کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا شام ڈھلنے کو تھی پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ ٹیکسی سے اتر کر ڈرائیور کو پیسے دے کر اپنا بریف کیس سائز جتنا بیگ اٹھا کر مین گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا۔
سامنے لان میں کرسیاں الٹی پڑی تھیں ۔پولیس کی پیلی پٹی نے راستہ بلاک کیا ہوا تھا آگے فرش پر چاک سے ڈیڈ باڈی مارکنگ ہوئی تھیں جو یقیناً چوکیدار کی لاش کا خاکہ تھا وہ بغور دیکھتے ہوئے آگے بڑھا اندر جانے والے دروازے کا لاک ٹوٹا ہوا تھا اس کا سوراخ اور دھوئیں کا نشان بتا رہا تھا کہ اسے گن سے فائر کرکے توڑا گیا ہے ۔وہ دروازے کو دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوا اور دیوار پر نصب سوئچ پر ہاتھ مار کر لائٹ آن کی ۔
پورا لاؤنچ الٹا پڑا تھا صوفے کی گدیاں تک پھٹی ہوئی تھیں ۔وہ لب بھینچے ایک ایک کمرے کو چیک کررہا تھا ۔گھر کی حالات واضح بتا رہی تھی کہ ان لوگوں کو کسی خاص چیز کی تلاش تھی جس کیلئے الماری بیڈ دیوار فرنیچر کسی چیز کو نہیں بخشا تھا ۔
********

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: