Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 22

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 22

–**–**–

وہ تینوں اس وقت تہہ خانے میں موجود تھے کمشنر کرسی پر رسی سے بندھا ہوا تھا کیپٹن حمید اوپر کچن سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر لایا اور بیہوش کمشنر کے منہ پر پانی پھینکا وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور رسی سے بندھا ہونے کی وجہ سے کسمسا کر رہ گیا اس نے چاروں طرف دیکھا یہ ایک بند تہہ خانے نما کمرہ تھا جس میں اوپر سیلنگ پر پیلا سو واٹ کا بلب جل رہا تھا اور سامنے تین سیاہ پوش لمبے لمبے افراد کھڑے اسے گھور رہے تھے ان کے نقاب سے جھانکتی سیاہ آنکھوں میں سفاکی عروج پر تھیں ۔

” کون ہو تم لوگ ؟ جانتے نہیں میں کون ہوں ؟ ۔۔۔” کمشنر غرایا
ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دلاور سامنے پڑی کرسی گھسیٹ کر بڑے اطمینان سے اس کے سامنے بیٹھا اور اپنی ایڑی میں چھپا تیز دھار چاقو نکال کر اس نے کمشنر کو دیکھا پھر بڑے آرام سے اس کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا پور کاٹ ڈالا
کمشنر کی زوردار چیخ گونج اٹھی اب وہ باری باری اس کی تمام انگلیوں میں چیرا لگا رہا تھا اور کمشنر کا درد سے ، خوف سے برا حال تھا ۔
” تمہیں مجھ سے کیا کام ہے بتا دو پر پلیز اس طرح مت کرو ۔۔۔” کمشنر نے التجا کی پر دلاور بنا کچھ سنے بنا کچھ کہے اب اس کے دوسرے ہاتھ کی ایک ایک انگلی اور ہتھیلی پر چیرا لگانے میں مگن ہوگیا تھا جیسے اس سے ضروری اور کوئی کام نہیں ہو ۔احمد اور حمید بڑے اطمینان سے یہ کھیل دیکھ رہے تھے ۔

“بہرے ہو کیا ؟ سنائی نہیں دیتا ۔۔۔” کمشنر کا برا حال تھا
” ہاتھ ہوگئے اب میری باری ہے میں اس کی آنکھوں میں چیرا لگانا چاہتا ہوں ۔۔۔” حمید بھاری لہجے میں دلاور سے مخاطب ہوا جسے سن کر کمشنر کی حالت بری ہوگئی
” دیکھو خدا کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دو جتنا پیسا چاہئیے یا اگر تمہارا کوئی بندہ چھڑوانا ہے تو بتاؤ میں سب کام کروا دونگا بس مجھے جانے دو ۔۔۔” وہ منت سماجت پر اتر آیا تھا
دلاور سکون سے کرسی سے اٹھ کر حمید کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے احمد کے ساتھ جا کر کھڑا ہوگیا حمید نے ہاتھ میں پکڑے چاقو کی دھار کو چیک کیا

” تم لوگ کچھ بولتے کیوں نہیں ہو ؟ کس تنظیم سے ہو کس نے بھیجا ہے تمہیں ؟؟ ” وہ انہیں ابھی بھی کسی تنظیم مافیا کے ساتھی سمجھ رہا تھا ۔حمید نے سنجیدگی سے چاقو کی نوک اس کے داہنے گال پر رکھی اور ہلکا سا دباؤ بڑھایا
” آہ ۔۔۔” وہ چلا اٹھا
اب چاقو اس کی کھال کے اندر اتر چکا تھا وہ تقریباً نیم بیہوش ہونے کو تھا جب میجر احمد نے حمید کو اٹھنے کا اشارہ کیا وہ اسے نفسیاتی طور پر ہرا چکے تھے اب بس معلومات لینی باقی تھیں جو یقیناً آرام سے مل جانی تھیں ۔
” زندہ رہنا چاہتے ہو ؟ ” احمد نے سر کے بالوں سے پکڑ کر اس کا سر اونچا کیا اس کے خون سے بھرے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں تھیں اس نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا
” ایس پی موحد کدھر ہے ۔؟ ” میجر احمد کا پوچھا ہوا سوال سنسناتے ہوئے تیر کی طرح کمشنر کے دماغ میں لگا
” تم !! کون ہو تم ۔۔۔” اب وہ میجر احمد کی نقاب سے جھانکتی ہوئی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جب ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر پڑا
” سوال نہیں بس جواب دو ورنہ ۔۔۔۔” احمد نے اپنی پسٹل اس کی کنپٹی پر رکھی
” بتاتا ہوں بتاتا ہوں ۔۔۔” کمشنر ہانپنے لگا میجر احمد کے اشارے پر کیپٹن حمید نے اپنا سیل فون نکال لیا تھا وہ اب کمشنر کا بیان اعتراف گناہ ریکارڈ کررہا تھا ۔ کمشنر کو وہی بندھا چھوڑ کر وہ کمرہ لاک کرتے ہوئے سیڑھی کے ذریعے اوپر چڑھنے ہوئے کچن کی پینٹری میں پہنچے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس پینٹری کے نیچے ایک خفیہ تہہ خانہ تھا ۔
” ہمیں فوری وزیرستان کیلئے نکلنا ہوگا ۔۔۔” دلاور سنجیدگی سے بولا کمشنر کی اطلاع کے مطابق موحد کو اغوا کر کے وزیرستان کے راستے افغانستان لے جایا گیا تھا ۔
” کمشنر کے بیان کی وڈیو ریڈی ہے ؟ ” احمد نے سوال کیا تو حمید جو وڈیو ایڈٹ کرنے میں لگا تھا اس نے سر ہلایا
” ہمیں بیس رپورٹ کرنی ہوگی وہی سے ہم ہیلی کاپٹر کے ذریعے گھنٹے میں وزیرستان پہنچ سکتے ہیں ۔۔” میجر احمد سنجیدگی سے بولا
” اور اس خبیث کا کیا کرنا ہے ؟ ” دلاور نے سوال کیا۔
” کرنل جھانگیر کو اعتماد میں لینا ہوگا وہ خود ہینڈل کر لینگے ۔۔۔” میجر احمد نے اپنا سیل فون نکالا صبح کے چار بجنے والے تھے وقت تو مناسب نہیں تھا پر یہ ایمرجنسی تھی اس نے کرنل جھانگیر کے مخصوص نمبر پر وقفے وقفے سے تین بیل دیں یہ ایک سگنل تھا تاکہ کرنل پرائیویسی میں ان سے بات کرسکیں ۔ٹھیک چالیس سیکنڈ میں کرنل کا فون میجر احمد کے پاس آرہا تھا۔
انہیں ساری ڈیٹیلز بتا کر اب وہ تیزی سے گھر بند کرکے اپنی آمد کے سارے آثار مٹا کر حمید اور دلاور کے ساتھ بیس جانے کیلئے تیار تھا جہاں کرنل کا ارینج کردہ کاپٹر ان کا انتظار کررہا تھا ۔

**********

صبح کے اجالے کے ساتھ ہی وہ تینوں کمانڈو لباس میں تیار اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے ۔مار خور جب سر پر کفن باندھ کر دشمن کو گرانے کی ٹھان لیتا ہے تو بڑے سے بڑی چٹان بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتی قدرت بھی اس کا ساتھ دیتے ہے کہ وہ راہ حق پر فرض کی راہ پر چلنے والے خوش نصیبوں میں سے ایک ہوتا ہے ۔
سپین واگ میں موجود ٹوپی والوں کا اڈہ ان کا ٹارگٹ تھا فجر کے وقت وہ اپنے ٹارگٹ پر پہنچ چکے تھے ۔یہ ایک چھوٹا سا تربیتی کیمپ تھا جہاں سلیپنگ سیلز کو ٹرینڈ کیا جاتا تھا ۔ وہ ہاتھ میں چاقو لئیے دبے پاؤں چلتے ہوئے پہرے داروں کی طرف بڑھے جو آپس میں باتوں میں مگن تھے انہیں سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر جیسے بجلی سی کڑکی تھی اور وہ چھ کے چھ چوکیدار ان تینوں کے تیز دھار چاقوؤں کا شکار بن کر زمیں پر بے جان لاشہ بنے گرے پڑے تھے ۔
ایک دوسرے کو ہاتھ کے اشارے سے اوکے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے جہاں سب موت کے ہرکارے پرسکون نیند سو رہے تھے وہ ایک ایک کرکے سب کو موت کی گھاٹ اتارتے کمرے چیک کررہے تھے جب دلاور اور میجر احمد آخری کمرے میں داخل ہوئے ۔
“کون خبیث انسان کا بچہ امارے کمرے میں داخل ہوا ہے ۔۔۔” ساتھ والے دروازے سے اپنی شلوار کا ازار بند بند کرتے ہوئے سرمہ خان اندر داخل ہوا وہ شاید واش روم سے آرہا تھا اسے دیکھ کر وہ دونوں چونک گئے اور سرمہ خان اپنے سامنے دو سیاہ پوش افراد کو دیکھ کر ٹھٹک گیا ۔
” تم بالکل امارا ظالم محبوب گلاب خان جیسا ہے ہائے ۔۔۔” وہ میجر احمد کی قد کاٹھی دیکھتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
میجر احمد نے آگے بڑھ کر ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر مارا وہ گھوم کر رہ گیا اس سے پہلے وہ اپنے نیفے سے ہتھیار نکالتا دلاور نے تیزی سے اپنی گن نکالی اور اس کے سر پر رکھ دی ۔
” تمہارے ہاتھ کا گرمی اور طاقت ۔۔۔” سرمہ خان نے میجر احمد کو گھورا
” تم امارا گلاب خان ہے کہہ دو تم ادر امارے واسطے آیا ہے ۔۔۔” وہ واقعی کھسکا ہوا تھا ۔
” ایس پی موحد کدھر ہے ؟ کہاں چھپایا ہے اسے ؟ ” میجر احمد نے اسے گردن سے پکڑ کر زمین سے اوپر اٹھایا
سرمہ خان ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” ام کو سب پتہ ہے پر ام نہیں بتائے گا ۔۔۔” وہ میجر احمد کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولا
” تیری تو۔۔۔” دلاور کو غصہ چڑھ گیا اس نے ایک زور دار کک اسے ماری اور وہ میجر احمد کی گرفت سے نکل کر دور جا گرا دلاور اسے بری طرح پیٹ رہا تھا حمید بھی سب کا صفایا کرکے اندر آچکا تھا پر سرمہ خان کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں تھا ۔
” تم ام کو مار ڈالو زبان کاٹ کر پھینک دو پر ام تم کو کچھ نہیں بتائے گا ۔۔۔” وہ اپنی ضد پر ڈٹا ہوا تھا
” کیوں ۔۔۔۔” اب کے پہلی بار حمید دلاور کا ہاتھ روکتے ہوئے اس کے سامنے آیا ۔
” پٹھان تو اپنی مٹی کی ، اپنی ماں کی حفاظت میں جان دینے سے بھی نہیں ڈرتا تم کیسا خان ہے جو ان دشمنوں کے ساتھ اپنے ہی لوگوں کو مار رہا ہے تم غدار ہے خان تم غدار ہے ۔۔۔” حمید نے رواں پشتو میں اسے ٹوکا
” ام ایسا نہیں اے ۔۔۔۔”
” تم ایسا ہی اے ۔۔۔” حمید نے اسے ٹوکا اور اسے ٹوپی والوں کی اصلیت جس سے وہ بھی بخوبی واقف تھا بتانے لگا
” دیکھو خوچہ لوگ ام غدار نہیں ہے اور یہ مار پیٹ کر کے تم ام سے کوئی کام نہیں لے سکتا ہے ہاں اگر ۔۔۔۔” اس نے پیار سے میجر احمد کی طرف دیکھا
” گلاب خان اپنا گلاب سا چہرہ دکھا کر ام کو حکم دے تو قسم نسوار کی ام تم کو ابھی کے ابھی افغانستان لے جائے گا ۔۔۔” اس کی فرمائش سن کر دلاور کو پھندا سا لگ گیا حمید الگ حیران تھا اسے سرمہ خان اور گلاب خان کی یک طرفہ لو اسٹوری کا کچھ علم نہیں تھا ۔
” یہ گلاب خان آپ ہیں سر ۔۔ ” اس نے میجر احمد کو دیکھا
” یہ عشق وشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجے
اک ڈرون کا حملہ ہے امارے دل بم دھماکہ کرتا ہے ” سرمہ خان نے شعر پڑھا
” سر اب ایک یہی آدمی ہے جو ہمیں وہاں تک لے جاسکتا ہے تھوڑا ٹھرکی ہے پر ابھی یہ ہمارا وقت باتوں میں لگا کر برباد کررہا ہے جلدی کریں اس سے پہلے ادھر دشمن کی کوئی اور ٹولی آجائے، آپ ہی اسے ڈیل کرسکتے ہیں ۔۔” کیپٹن حمید نے سنجیدگی سے میجر احمد کو دیکھا تو وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنا نقاب اتار کر سرمہ خان کے سامنے آیا

” سرمہ خان میرا بھائی ایس پی موحد کدھر ہے ۔۔” اس نے سنجیدگی سے سوال کیا
” وئی زار ! وہ ایس پی تمہارا بھائی ہے ؟ ” وہ حیران ہوا
” ام کو وعدہ معاف گواہ بنائے گا ؟ ” سرمہ خان نے سنجیدگی سے پوچھا اور میجر احمد کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ انہیں لوکیشن اور تمام معلومات فرفر بتانے لگا غدار کا طعنہ اس کی غیرت پر کسی تازیانے کی طرح لگا تھا ۔
********
وہ تینوں ہیلی کاپٹر سے مطلوبہ ہدف پر پیرا شوٹ کے ذریعے کود چکے تھے یہ سر پر کفن باندھ کر چلے مجاہدو کا ٹولہ تھا جو تعداد میں بظاہر کم تھا لیکن قوت میں سب پر بھاری تھا انہیں جلد از جلد موحد کو بازیاب کرکے اس پورے اڈے کو تباہ کرنا تھا اس مقصد کیلئے وہ ٹائم بم ساتھ لائے تھے کرنل جھانگیر نے کم وقت میں بھی پوری تیاری سے انہیں بھیجا تھا ۔
عمارت میں بیہوشی کے بم اور دھواں بم پھینک دئیے گئے تھے اب وہ تینوں تیزی سے موحد کو ڈھونڈ رہے تھے کئی بے جان وجود ادھر موجود تھے کئی لاشوں کی بوریاں تیار تھیں اندر ایک کمرے میں انہیں نیم مردہ موحد کا وجود ملا جس کی سانس رک رک کر چل رہی تھی جس پر بہیمانہ تشدد کیا گیا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر احمد کا دل رک سا گیا تھا۔
” حوصلہ ۔۔۔۔” دلاور نے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور خود تیزی سے موحد کی طرف بڑھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا فائر کرکے اس کی زنجیریں توڑنے کے بعد وہ موحد کو اٹھا کر باہر نکلے کیپٹن حمید ان کے نکلتے ہی جلدی جلدی دس منٹ کا ٹائم سیٹ کرکے بم لگا رہا تھا سب بم پلانٹ کرنے کے بعد اس کے پاس صرف چار منٹ بچے تھے وہ تیزی سے دوڑتا ہوا چھلانگیں مارتا ہوا اس عمارت کے احاطے سے نکل کر اب دور بھاگ رہا تھا جب ہیلی کاپٹر اس کے سر پر آکر رکا اور ایک رسی اس کی طرف اچھالی گئی جسے تھام کر وہ اوپر چڑھنا شروع ہوا اور ہیلی کاپٹر تیزی سے رخ موڑتا ہوا غائب ہو گیا ۔
********

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: