Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 3

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 3

–**–**–

کیپٹن حمید ایجنسی سے رابطہ کرکے وہی فاٹا والوں کا انتظار کررہا تھا اور دلاور اسے چھوڑ کر سمندر خان کے پیچھے جا چکا تھا ۔
دلاور بڑی مہارت سے اونچی نیچی بل کھاتی پتھریلی سڑک پر ایک مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے سمندر خان کی پجیرو کا پیچھا کررہا تھا کافی دور جاکر سمندر خان کی جیپ ایک تنگ گلی میں داخل ہو گئی کچے پکے مکانات سے بنی اس گلی کے باہر کئی مسلحہ افراد ٹولیوں میں بٹے پہرا دے رہے تھے دلاور نے اپنی جیپ ایک گنبد نما چٹان کے پیچھے روک دی تھی اب اس کا ارادہ پیدل ان لوگوں کی نظروں سے بچتے بچاتے اندر گلی میں داخل ہونے کا تھا وہ خاموشی سے دم سادھے رات کے گہرے ہونے کا انتظار کررہا تھا ۔۔۔

آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی پہرے دار بھی اب ایک جگہ گول دائرے میں آگ جلائے بیٹھے تھے دلاور کیلئے یہ ایک بہترین موقع تھا وہ زمین پر لیٹ کر کہنیوں کے بل سانپ کی طرح رینگتا ہوا گلی طرف بڑھا اس اندھیرے میں کسی کی بھی توجہ پیچھے زمین کی طرح نہیں تھی زمین چٹان کی طرح سخت اور سرد تھی پر وہ بڑے اطمینان سے رینگتا ہوا اس ممنوع گلی میں داخل ہوچکا تھا ۔
گلی میں داخل ہوتے ہی وہ قلابازی کھاتے ہوئے سیدھا کھڑا ہوا اور ایک کچی اینٹوں سے بنی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا پوری گلی سنسان اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تین سے چار جھونپڑی نما مکانات بنے ہوئے تھے وہ چوکنا انداز میں چاروں جانب دیکھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ایک مکان کی جانب بڑھا مکان کے دروازے کے باہر بوسیدہ سی چٹخنی لگی ہوئی تھی اس نے دھیرے سے چٹخنی کھول کر دروازہ کھولا اور پلٹ کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اندر داخل ہوگیا ۔
باہر سے کچا مکان اندر سے کسی محل سے کم نہیں تھا سامنے ہی بڑے بڑے بینرز پڑے تھے دلاور نے ٹارچ کی روشنی ان پر ڈالی ۔۔

“باجوہ ماجوہ دھشتگرد، غپورا مپورا دھشتگرد”

” یہ جو دھشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ۔”

بڑے بڑے الفاظ میں پاک فوج کے خلاف نفرت آمیز مواد ان جھنڈے نما بینرز پر لکھا ہوا تھا کئی پمفلٹس بھی بکھرے پڑے تھے یہ ان لوگوں کا ٹھکانہ تھا جو اس وقت پاکستانیوں کو فوج کے خلاف ورغلا کر ملک کو توڑنے کی کوشش کررہے تھے ۔اس سب کو دیکھ کر دلاور کے وجیہہ چہرے پر پتھروں کی سی کرختگی ابھر آئی تھی ، وہ دبے قدموں اس کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے کی جانب بڑھا اندر گھپ اندھیرا تھا اس نے احتیاط سے ٹارچ لائٹ جلائی اندر کمرے میں سات آٹھ منھ بند بوریاں پڑی ہوئی تھیں اس نے چاروں اطراف دیکھتے ہوئے اپنے قدم ایک بوری کی طرف بڑھائے اور آہستگی سے بوری کو ہاتھ لگاتے ہی چونک گیا ، بوری کے اندر سو فیصد انسانی جسم بند تھا ۔اس نے احتیاط سے بوری کو اوپر لگی رسی کو کھولا اندر ایک مسخ شدہ انسانی لاش بند تھی ابھی وہ مزید جائزہ لینے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اسے کھٹکے کی آواز سنائی دی یقیناً کوئی گھر کے اندر داخل ہوا تھا اس نے تیزی سے بوری کو دوبارہ بند کیا باہر سے قدموں کی آوازیں اسی سمت بڑھتی سنائی دے رہی تھیں وقف کم تھا وہ چوکنا ہو کر دم سادھے اپنی سائلنسر لگی پستول ہاتھ میں لئیے دروازے کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا ۔قدموں کی دھمک سے اندازہ ہو رہا تھا کہ آنے والے کم از کم دو افراد ہیں قدموں کی چاپ کمرے کے باہر آکر رک گئی دروازہ کھلا اب دلاور دروازے کے پیچھے تھا

” سمندر خان یہ سات بورے آج ہی آئے ہیں آپ بتاؤ ان کا کیا کرنا ہے ؟ ” سمندر خان کے ساتھی نے بورے دکھاتے ہوئے سوال کیا

” گلریز کا بچہ !! کیا آج نشہ نہیں کیا ؟؟ جو دماغ کام نہیں کررہا ؟ وہی کرنا ہے جو ہمیشہ کرتے ہیں اس میں نئی بات کیا ہے ” سمندر خان دھاڑا

“خاناں ناراض کیوں ہوتے ہو میرا مطلب انہیں کس شہر میں پھنکوانا ہے اس بار کراچی میں پھنکوا دیں کیا ۔” گلریز اپنے سر پر شیشے کی بنی ٹوپی ٹھیک کرتے ہوئے بولا

” نہیں تین کو تو لاہور میں مختلف عوامی مقامات پر پھنکوا دو اور وہ جو یونیورسٹی والا لڑکا تھا اسے پشاور میں یونیورسٹی کے پاس اور باقی کو وزیرستان کے علاقے میں ۔۔۔” سمندر خان نے ہدایات دیں

” ٹھیک ہے خاناں ۔۔۔”

” کل صبح ان بوروں کے ملنے کے بعد فوج اور پولیس کے خلاف احتجاج کیلئے سب کو اشارہ دے دینا امارا لوگ مارا جا رہا ہے ہمیں انصاف دو فوج سے امارے علاقے خالی کراؤ ۔ یہ نعرہ لگوانا ہے ۔۔۔” وہ خباثت سے بولا

” اوئے اندر آؤ اور یہ بورے اٹھا کر باہر ٹرک پر سوار کرواؤ ۔۔۔” گلریز نے آواز لگائی

تین مزدور نما آدمی اندر داخل ہوئے اور باری باری سارے بورے اٹھا کر باہر لے جانے لگے دو سے تین چکروں میں سارے بورے باہر جا چکے تھے ۔۔۔

” گلریز اس لڑکی کا کچھ پتا چلا ؟؟ ” کمرے سے نکلتے ہوئے سمندر خان نے سوال کیا

” وہ برقعے والا باجی کا ؟ ” گلریز نے احمقانہ سوال کیا

” نہیں تیری ماں کا ۔۔۔” سمندر خان ٹھیک ٹھاک تپ اٹھا

” میں یہ بوریاں روانہ کروا کر خود اس باجی کی تلاش میں نکلتا ہوں ۔۔۔” گلریز نے دروازہ بند کرتے ہوئے بولا

______________________________________________

وہ دونوں آدمیوں کو مار کر چوکنے انداز میں سیدھا کھڑا مزید شکار ڈھونڈ رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے ہلکی سی سرسراہٹ محسوس ہوئی ایک خطرناک سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر دوڑ گئی وہ بڑے آرام سے اپنی جگہ کھڑا رہا جو بھی تھا وہ بڑے احتیاط سے اس کا شکار کرنے آرہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے نامحسوس سی سرسراہٹ اسے اپنے بہت قریب محسوس ہوئی ہاتھ میں پکڑے چاقو کو تولتے ہوئے وہ بجلی کی رفتار سے پلٹا ۔اس نے ایک زوردار کک پیچھے کھڑے وجود کو ماری اور پھر چلتا ہوا اس کی سمت بڑھا اور گردن سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا اس سے پہلے وہ اس کی گردن پر چاقو پھیرتا وہ چونکا چاند کی ملگجی سی روشنی میں اس نے اپنے سامنے کھڑے نسوانی وجود کو دیکھا اور ایک جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑی ۔

قانتا ہاتھ میں سریہ کی سلاخ لئیے انتہائی احتیاط سے اس نقاب پوش کی طرف بڑھ رہی تھی قریب پہنچ کر اس نے اپنا ہاتھ اونچا کرکے جیسے ہی اس نقاب پوش پر وار کرنا چاہا وہ تیزی سے پلٹ کر اسے کک مار چکا تھا وہ کراہ کر گری اس سے پہلے وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو پاتی وہ نقاب پوش مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے اس کے نزدیک آیا اور بڑی بے رحمی سے اس کی گردن دبوچ کر اسے کھڑا کیا قانتا نے مشکل سے اپنی سسکی کو روکا اس سے پہلے وہ اس کو کک لگا کر خود کو چھڑواتی اس نے خود ہی اسے دھکا دے کر چھوڑ دیا

” کون ہو تم ۔۔۔۔۔” اس نقاب پوش کی بھاری آوز گونجی

” میں ۔۔۔۔” قانتا نے لبوں پر زبان پھیری شکر ہے وہ اس وقت بھی برقعے میں ملبوس تھی

” ہاں تم اتنی رات گئے یہ سریہ ہاتھ میں لئیے ان پہاڑوں پر کیا کررہی ہوں ۔۔۔۔” اب کے اس نے سختی سے سوال کیا

” میں وہ بکریاں چرانے نکلی تھی کہ کچھ غنڈے میرے پیچھے پڑ گئے ۔۔۔۔” قانتا نے جلدی سے کوور اسٹوری بنائی

میجر احمد نے غور سے شٹل کاک برقعے والی کو دیکھا جس کا لہجہ کچا پکا سا تھا برقع بھی ایک دو جگہ سے پھٹا ہوا تھا جالیوں سے نیلی آنکھیں صاف نظر آرہی تھیں اسی وقت بھاگتے قدموں کے ساتھ ٹارچ کی روشنی چمکی احمد نے تیزی سے جھک کر خود کو روشنی سے محفوظ کیا

” ارے ادھر آؤ برقعے والا باجی وہ اوپر کھڑا ہے ۔۔۔۔” نیچے سے گلریز خان نے قانتا پر ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو آواز دی

قانتا نے سر اٹھا کر سامنے کھڑے نقاب پوش کو دیکھا

” میں جاؤں وہ لوگ آرہے ہیں ۔۔۔۔” بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں قریب آرہی تھیں

” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے وہی کھڑے رہنے کا اشارہ کرکے اندھیرے میں غائب ہوگیا

” یہ دیکھو خانہ خراب یہ باجی ادھر آرام سے کھڑا ہے ادھر سمندر خاناں اس کے لئیے پاگل ہورہا ہے ۔۔۔۔” گلریز نے اوپر آکر قانتا کو آرام سے کھڑا ہوا دیکھ کر دانت پیسے

“اب امارا شکل کیا دیکھ رہے ہو پکڑو اس باجی کو ۔۔۔” اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کو آگے بڑھنے کا ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا جو دم سادھے کھڑے ہوئے تھے ۔

” ایک لڑکی سے ڈر رہے ہو ؟؟ باجی کچھ نہیں کہے گا اسے پکڑو اور چلو ۔۔۔” وہ بولتے ہوئے پلٹا اور حیران رہ گیا ایک سیاہ پوش اس کے سر کا نشانہ لئیے کھڑا تھا ۔

میجر احمد ہاتھ میں تیز دھار چاقو لئیے چٹان کے ساتھ دم سادھے ٹیک لگائے کھڑا تھا جب تین قبائلی افراد بھاگتے ہوئے اس لڑکی تک پہنچے وہ دبے قدموں چلتا ہوا ایک کے بالکل پیچھے آکر کھڑا ہوگیا اس نے مضبوطی سے اپنا ہاتھ اس کےمنھ ہر رکھا اور تیزی سے چھرا اس کی گردن پر پھیر کر اسے آرام سے بنا آواز زمین پر ڈال کر دوسرے آدمی کا شکار کیا سامنے ہی وہ لڑکی دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی وہ اس کی نیلی آنکھوں کو خود پر جما ہوا محسوس کررہا تھا اس نے آرام سے چاقو اپنی پنڈلی میں اڑسا اور گن نکال کر گلریز خان کے سر کا نشانہ لیکر کھڑا ہوگیا ۔

__________________________________________

گلریز خان جیسے ہی پلٹا اپنے اوپر نشانہ تانے کھڑے نقاب پوش کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتا یا کرتا میجر احمد نے زور سے گن کا دستہ اس کے سر پر مارا وہ بیہوش ہو کر گر گیا ۔

” تم یہی ٹہرو میں دو منٹ میں آتا ہوں یہ بیہوش ہے تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔” وہ ساکت کھڑی برقعے والی لڑکی کو تسلی دیتے ہوئے پلٹ کر واپس اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

تھوڑی دور جا کر اس نے جیب سے وائرلیس ٹرانسمیٹر نکالا
” ایجنٹ دلاور واٹ از یور پوزیشن اوور ۔۔۔”

” ٹھکانہ ٹریس کرلیا ہے اٹس آ کیس آف مسنگ پرسنز اوور “

” کوئی evidence اوور ۔۔۔”

” سات مسخ شدہ بوری بند لاشیں اوور “

” لیو دا پلیس ۔۔۔۔”

” یس سر اب واپس آرہا ہوں اوور ۔۔۔”

” گڈ میرے پاس بھی شکار ہے تم ادھر ہی آجاؤ ۔اوور اینڈ آل ۔۔۔” لوکیشن بتا کر اس نے ٹرانسمیٹر آف کیا اس کے اندازے کے مطابق دلاور کو آنے میں بس بیس منٹ ہی لگنے تھے وہ رسٹ واچ میں وقت دیکھتے ہوئے پلٹا اب اس کا ارادہ اس لڑکی سے تفتیش کرنے کا تھا ۔
————————————————————————-

نقاب پوش کے جاتے ہی قانتا تیزی سے بیہوش پڑے گلریز کی طرف بڑھی وہ بڑی مہارت سے اس کی تلاشی لے رہی تھی اس کی جیب سے پستول نکال کر وہ اپنی جیب میں ڈال چکی تھی اس کے ہاتھوں میں ایک عجیب سی ساخت کی مردانہ انگوٹھی تھی وہ اسے اتار ہی رہی تھی کہ اسے قدموں کی چاپ سنائی دی وہ تیزی سے اسے چھوڑ کر واپس دور جا کر کھڑی ہوگئی

میجر احمد واپس آیا تو گلریز اسی طرح بیہوش پڑا تھا اور وہ برقعے والی لڑکی خاموشی سے یا شاید ڈر کے مارے دور کھڑی ہوئی تھی

” اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا بس تم یہ بتاؤ تمہارا گھر کدھر ہے ؟ ۔۔۔”احمد نے اسے مخاطب کیا

وہ چپ چاپ سر جھکائے کھڑی رہی اس علاقے اسے بالکل بھی آگاہی نہیں تھی مقامی زبان بھی اسے تھوڑی بہت آتی تھی سامنے کھڑا آدمی اس کا انداز سب کچھ اسے ایک ٹرینڈ کمانڈو ثابت کررہا تھا لیکن جب تک کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا اس وقت تک قانتا کا اپنی شناخت چھپانا ہی بہتر تھا

” کیا پوچھ رہا ہوں میں تمہارا گھر کدھر ہے ؟؟ ” اب کے وہ سخت انداز میں بولا

قانتا نے پرسوچ نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر دھیرے سے جھومتے ہوئے بیہوش ہو کر وہی گر گئی اس صورتحال میں اسے اپنا بیہوش ہونا ہی مناسب لگا ۔

” شٹ اب یہ ایک اور نئی مصیبت ۔۔۔” احمد ٹھیک ٹھاک جھنجھلا گیا تبھی اس کا ٹرانسمیٹر وائیبریٹ کرنے لگا

” سر میں آگیا ہوں آپ کدھر ہیں اوور ۔۔۔” دلاور کی آواز سنائی دی

” دلاور تم اوپر آؤ میں سگنل دیتا ہوں یہاں ایک معصوم لڑکی ان دھشت گردوں سے ڈر کر بیہوش ہو گئی ہے اوور اینڈ آل ۔۔۔۔۔”
—————————————————–_————_-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: