Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 4

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 4

–**–**–

” تم ایک نمبر کے جھوٹے مکار آدمی ہو ۔۔۔۔”
وہ جو ابھی جائے وقوع سے لاشیں اور زخمیوں کو ہٹوا کر فارغ ہوا تھا جانی پہچانی نسوانی آواز سن کر چونک گیا

” پلوشہ ۔۔۔” وہ بڑبڑایا

” تم ادھر کیا کررہی ہوں ؟؟ ” وہ چاروں طرف دیکھتا ہوا اس کے نزدیک آیا

” دور ہٹو سڑے ہوئے بندر !! افف کتنی بدبو آرہی ہے ۔۔” وہ نزاکت سے ناک پر ہاتھ رکھتی ہوئی پیچھے ہٹی

“اسٹوپڈ تم اس وقت ادھر مجھ سے کھڑی ہو کر بات کرتے ہوئے مجھے بھی مشکوک بنا رہی ہو گھر جاؤ ۔۔۔” وہ رخ موڑ کر بولا

” تم نے تو ایک ماہ پہلے کہا تھا کہ تم یونٹ واپس جا رہے ہو تو پھر ادھر کیا مونگ پھلی بیچنے کے واسطے رکے ہوئے ہو ؟؟ جھوٹا ۔۔۔” وہ ناراض ہوئی

وہ پلوشہ کی بات سن کر تیزی سے پلٹا اور اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے ایک ویران کونے میں لے گیا

” کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ۔۔۔” وہ غرائی

” تم !! ” اس نے اس کا بازو چھوڑا

” کتنی بار سمجھایا ہے کہ یونٹ کا نام مت لیا کرو انفیکٹ تمہیں مجھے ایک اجنبی سمجھ کر گزر جانا چاہئیے یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔۔۔” وہ انتہائی سرد لہجے میں بولا

” واہ واہ ایک تو تمہارے لئیے اپنے چچا تایا کی جاسوسی کی ،اس منحوس جاسوسی کی وجہ سے یونیورسٹی سے بریک لے کر ادھر گھر میں پڑی مورے کے لیکچر سنتی رہتی ہوں اور تم مجھے ایسے ٹریٹ کررہے ہو ؟؟ اب لینا تم مجھ سے زلمے تایا کی کوئی انفارمیشن ۔۔۔” وہ غصہ ہوئی

بلیو جینز کے اوپر سفید لمبا گھٹنوں تک آتا کرتا ، پیروں میں جاگرز شوز اور سر پر اچھی طرح سے دوپٹہ لئیے ہوئے پلوشہ مشرق و مغرب کا ایک حسین امتزاج لگ رہی تھی

کیپٹن حمید نے غور سے اس کے غصہ سے سرخ چہرے کو دیکھا پلوشہ اس کے اسکول کے زمانے کی دوست تھی شہید کرنل شیر گل کی بیٹی ، جس کا تعلق بلوچستان کے ایک مشہور سیاسی خاندان سے تھا انٹر کے بعد حمید نے پی ایم اے جوائن کرلیا تھا اور پلوشہ نے اسلام آباد یونیورسٹی ، وہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں اپنا آنرز مکمل کرچکی تھی اور اب لاء (وکالت) پڑھ رہی تھی جب حمید نے اس سے رابطہ کیا تھا اسے زلمے خان تک پہنچنے کیلئے پلوشہ سے بہتر کوئی ذریعہ مناسب نہیں لگا تھا ۔

” تم اس وقت ادھر کیا کررہی ہو اکیلی آئی ہو یا ؟؟ ” وہ چاروں جانب دیکھتا ہوا بولا

” پہلے یہ بتاؤ مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ؟ ” وہ ضدی لہجے میں بولی

” مجھے یونٹ جوائن کرنا تھا لیکن پھر ادھر سے کچھ ایسی مشکوک حرکتیں ہوئی کہ مجھے یہی رکنا پڑا ، اب تم بولو ادھر کیا کررہی ہو ۔۔۔”

” زلمے تایا کا خاص آدمی سمندر خان گھر آیا تھا سنا ہے کوئی غیر ملکی جاسوس ہمارے علاقے میں آئے ہیں تو میں بس اس کا پیچھا کرتے ہوئے ادھر آئی تو یہاں فائرنگ ہورہی تھی پھر ایف سی والے آگئے ان کے ساتھ تمہیں دیکھا تو سامنے آگئی سمپل ۔۔۔”

” پلوشہ یہ سمپل نہیں ہے تمہیں اس طرح گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئیے گاڑی کہاں ہے تمہاری ؟ جاؤ گھر جاؤ میں آج کل میں خود تم سے رابطہ کرونگا ۔” وہ سنجیدگی سے بولا

” گاڑی تو نہیں ہے میں تو سمندر خان کی جیپ میں نیچے چھپ کر آئی ہوں ۔۔۔” اس نے اپنا کارنامہ بیان کیا

کیپٹن حمید نے افسوس سے اس سرپھری کو دیکھا

” چلو میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔” وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے آگے چلنے لگا کافی دور جا کر ایک جھنڈ کے پیچھے سے اس نے ایک بہت ہی پرانے زمانے کی کھٹارا سی اسکوٹر نکالی

” آؤ جلدی کرو ۔۔۔” وہ بائیک کو کک لگا کر اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا
پلوشہ نے اپنا دوپٹہ کھول کر اچھی طرح سے اپنے چہرے کے گرد نقاب کرکے پوری طرح پھیلا لیا تھا

” چلو اور سنو بس گلی سے دور دکانوں سے پہلے چھوڑ دینا آگے میں خود چلی جاؤنگی ۔۔۔” وہ احتیاط سے اسکوٹر پر بیٹھی

کئی بھول بھلیوں ٹائپ راستوں سے گزرتے ہوئے وہ مطلوبہ مقام تک پہنچا اسکوٹر کے رکتے ہی پلوشہ نیچے اتری
” سنو ۔۔۔۔” اس نے جاتی ہوئی پلوشہ کو آواز دی

” آئندہ اس طرح تم کسی کے پیچھے گھر سے باہر نہیں نکلو گی اور اگر کوئی انفارمیشن ہو تو مجھے ٹیکسٹ کردینا میں خود دیکھ لونگا ۔۔۔”

پلوشہ نے ایک لحظہ کو رک کر بنا مڑے اس کی بات سنی اور کوئی بھی جواب دئیے بغیر آگے بڑھ گئی ابھی تو اسے سب کی نظروں سے بچ کر گھر کے اندر داخل ہونے کے بعد اپنے کمرے تک کھڑکی کے ذریعے پہنچنا تھا جسے وہ اندر سے لاک کرکے آئی تھی ۔
_____________________________________________

تیز رفتاری کے سارے ریکارڈ توڑتی ہوئی پولیس جیپ تھانے کے احاطے میں آکر رکی

” سلام سر ” باوردی حوالدار نے اسے دیکھتے ہی سلیوٹ کیا
کیپ کو اتار کر ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ اپنا دائیاں ہاتھ گھنے شارٹ فوجی کٹ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اندر داخل ہوا
” سلام سر ۔۔۔ ” اسے دیکھتے ہی سب ایک دم ایکٹیو ہوگئے

” انسپکٹر عزیز آپ یونیورسٹی میں بم دھماکے والے کیس کی فائل میری میز پر پہنچائیں ۔۔۔” وہ جاتے جاتے رکا

” اس بم کیس والے ملزم نے اپنی زبان کھولی ؟؟ “

” نہیں سر سب کرکے دیکھ لیا پر وہ کچھ بولتا نہیں ہے ۔۔”انسپکٹر عزیز نے جواب دیا

” سر اس پٹھان کو رہا کرنے کے لئیے صبح سے فون آرہے ہیں کافی بڑے وزیروں کا چہیتا لگ رہا ہے ۔۔۔”

” ہمم اوکے خالد ، محمود تم دونوں ذرا برف کی بڑی سلیں ارینج کر کے لاک اپ میں لاؤ ۔۔۔” وہ حکم دیتا ہوا اندر لاک اپ کی طرف بڑھ گیا

“مجھے تو اس پٹھان پر پر ترس آرہا ہے وہ تو گیا اب سر کے ہاتھوں سے اسے کون بچائے گا ۔” خالد نے ایس پی موحد کو جاتے ہوئے دیکھ کر کہا

” ایس پی ابھی جوان خون ہے اسے باریکیاں نہیں پتہ دیکھنا کسی دن کوئی بڑا نقصان نا اٹھا لے ..” سینئر تھانیدار محمود نے پرسوچ نگاہوں سے ایس پی کو دیکھا

چھ فٹ سے نکلتا قد ، مضبوط جسامت عمر تقریباً اٹھائیس سال ،ایس پی موحد خان مردانہ وجاہت کا جیتا جاگتا شاہکار تھا اور وردی میں تو اس کی چھب ہی الگ تھی ، مضبوط قدموں سے چلتا ہوا وہ لاک اپ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔

سامنے ہی ایک لمبا تڑنگا تقریباً چالیس سال عمر کا پٹھان فرش پر بیٹھا ہوا تھا اس کے چہرے پر کرختگی تھی ۔

“اٹھو سیدھے کھڑے ہو ۔۔۔” ایس پی موحد نے اس کی ٹانگ پر اسٹک ماری

” کون ہو تم ؟ تمہارا مالک کون ہے کس کے کہنے پر تم نے شہر میں بم دھماکے کروائے ۔۔۔” ایس پی موحد نے سنجیدگی سے پوچھا

وہ چپ چاپ ایس پی کی نظروں میں دیکھتا رہا منھ سے ایک لفظ نہیں بولا

” تو تم اپنی زبان نہیں کھولو گے ؟ ۔۔۔ ” ایس پی موحد نے سرد لہجے میں اسے مخاطب کیا وہ ڈھٹائی سے مسکرایا جیسے کہہ رہا ہو کر لو جو کرنا ہے

موحد نے بڑی بے رحمی سے اس کے چہرے پر دو تین باکسنگ پنچ مارے ، تشدد شروع ہوچکا تھا مگر وہ پٹھان بڑی ڈھٹائی سے مار کھا رہا تھا موحد نے اس کے دونوں ہاتھ اوپر چھت سے لٹکتے کڑوں سے باندھ دئیے تھے انسپکٹر عزیز بھی موحد کے ساتھ اس کی زبان کھلوانے کی پوری کوشش کررہا تھا

” سر ڈی آئی جی صاحب کا فون ہے ۔۔۔” حوالدار اندر آیا

” عزیز اس کے سارے زخموں میں نمک بھرو اور اسے سارا دن ساری رات سونے نہیں دینا ہے ایک لمحے کو بھی اسے سکون نہیں ملنا چاہئیے ۔۔” موحد اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے انسپکٹر عزیز کو ہدایات دیتے ہوئے باہر نکل کر اپنے آفس میں آیا اور میز پر رکھا فون اٹھایا

” اسلام علیکم سر ۔۔۔”

” موحد یہ کیا کرتے پھر رہے ہوں ؟ بنا ریمانڈ لئیے تم نے بندہ پکڑ رکھا ہے اب اوپر سے بہت پریشر آرہا ہے بہتر ہے اسے چھوڑ دو ۔۔۔” آئی جی صاحب کی آواز گونجی

” سر یہ لوگ کئی معصوم شہریوں کی جان لے چکے ہیں اور اگر انہیں روکا نہیں گیا تو یہ سلسلہ جاری رہیگا بس آپ ایک رات تک کا وقت اور دے دیجئیے میں اس کی زبان کھلوا لونگا یہ ہمارے لئیے ایک پکا ثبوت ثابت ہوگا ۔۔” موحد نے وقت مانگا

” ٹھیک ہے بس چوبیس گھنٹے ہیں تمہارے پاس ۔۔۔”

” تھینک یو سر ۔۔۔” موحد نے فون رکھا اور اپنی آستینیں چڑھاتے ہوئے واپس لاک اپ کی طرف بڑھ گیا جو بھی ہو اسے ہر حال میں اس پٹھان کی زبان کھلوانی تھی کیسے یہ وہ خوب جانتا تھا ۔
______________________________________________

کاندھے پر بیگ لٹکائے ، سر پر چادر جمائے وہ کالج کے باہر کھڑی بس کا انتظار کررہی تھی اس کا سرخ و سفید چہرہ دھوپ کی تمازت سے سرخ پڑگیا تھا تبھی پولیس کی جیپ اس کے پاس آکر رکی دروازہ کھول کر موحد باہر نکلا ۔ہونیفارم میں ملبوس سن گلاسز آنکھوں پر لگائے وہ سب لڑکیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا کئی لڑکیوں کی آنکھوں میں ستائش اتر آئی تھی تو کئی سیکنڈ ائیر کی اسٹوڈنٹ علیزے کو حسد سے دیکھ رہی تھیں

” کیسی ہو ؟؟ ” موحد اس کے بالکل عین سامنے آکر رکا

” آپ ادھر کیسے ؟؟ ” علیزے کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر چمک سی اتر آئی تھی جسے موحد نے بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے نوٹ کیا

” ایک ضروری کیس کے سلسلے میں شہر سے باہر جا رہا ہوں تو سوچا جانے سے پہلے تم سے ملتا ہوا جاؤں۔”وہ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لئیے ہوا تھا

” وہ میرا خیال ہے مجھے چلنا چاہئیے دادو ویٹ کررہی ہونگی ۔۔۔” وہ اس کی پرشوق نظروں سے گھبرا اٹھی

” آؤ بیٹھو لنچ کے بعد میں تمہیں گھر چھوڑ دونگا ۔۔۔” وہ جیپ کا دروازہ اس کیلئے کھولتے ہوئے بولا

” وہ دادو ۔۔۔” علیزے پریشان ہوئی

” علیزے میری زندگی !! دادو کی پرمیشن ہی سے تمہیں پک کرنے آیا ہوں اب جلدی کرو ۔۔۔”

گاڑی کالج کے احاطے سے نکل کر مین روڈ پر نکل آئی تھی موحد نے گردن موڑ کر علیزے کو دیکھا لمبی چوٹی میں سے سیاہ بال نکل کر اس کے خوبصورت چہرے کو چومتے ہوئے اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کررہے تھے وہ بیگ گود میں لئیے سر جھکائے بیٹھی تھی

” ہم پورے دو ویک بعد مل رہے ہیں اور تم نہ سلام نہ دعا کیا ناراض ہو ؟؟ “

” نہیں ناراض تو نہیں ہوں ۔۔” علیزے نے سنجیدگی سے جواب دیا

موحد نے ایک ہاتھ اسٹیئرنگ سے ہٹا کر اس کی سمت بڑھایا اور اس کی گود میں رکھا اس کا نازک مخروطی ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا

” سوری یار !! میں ایک اہم کیس میں بزی تھا اسی لئیے تمہاری برتھ ڈے مس کرگیا خیر آج ساری کسر نکال لینگے ۔۔۔”

وہ علیزے کو لیکر اپنے گھر آگیا چوکیدار نے اس کی گاڑی دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا وہ گاڑی اندر لے آیا

” کیا احمد بھائی آئے ہوئے ہیں ۔۔۔” علیزے نے خوشی سے پوچھا

علیزے موحد اور احمد کی چچازاد تھی میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی ، احمد اپنی ایس ایس جی کی ٹریننگ مکمل کرچکا تھا اور موحد فائنل ائیر کے ساتھ ساتھ سی ایس ایس کی تیاریاں کررہا تھا جب ایک بم بلاسٹ میں ان کے والدین کی شہادت ہوگئی بس اب ایک بوڑھی دادی ہی رہ گئیں تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی علیزے کا نکاح موحد سے کروادیا تھا رخصتی علیزے کے گریجویشن کے بعد طے پائی تھی چار سال تھے اس وقت تک انہیں یقین تھا کہ وہ احمد کیلئے بھی کوئی اچھی لڑکی ڈھونڈ لینگی ۔نکاح کے بعد سے علیزے نے موحد کے گھر آنا چھوڑ دیا تھا لیکن جب احمد آیا ہوا ہوتا تھا تو وہ ادھر ہی پائی جاتی تھی آخر اپنے احمد بھیا کی لاڈلی جو تھی ۔احمد بھی اس گڑیا کو اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا وہ بابا اور چچا کے انتقال کے بعد خود کو موحد اور علیزے کا باپ بنا چکا تھا اور ایک باپ ہی کی طرح اس نے ان کی ذمہ داری نبھائی تھی

” کیوں تم کیا صرف احمد بھائی کی موجودگی میں ہی ادھر آسکتی ہو ؟ ” موحد نے اسے گھورا
وہ اسے لیکر گھر کے اندر آیا

” جاؤ میرے روم میں جاکر ریڈی ہوجاؤ پھر ہم مل کر لنچ پر چلینگے تھوڑی شاپنگ کرینگے ایک ساتھ ایک اچھا ٹائم اسپینڈ کرینگے ۔۔۔”

” آپ کے کمرے میں ۔۔۔۔” وہ ہچکچائی

” لڑکی جلدی کرو تین منٹ تو تم نے یہیں ضائع کردئیے ہیں تمہارے پاس صرف پندرہ منٹ ہیں جلدی سے ریڈی ہو کر آؤ ۔۔۔۔”

اسے اوپر بھیج کر وہ خود احمد کے کمرے میں بڑھا جہاں وہ اپنی جینز اور ٹی شرٹ پہلے ہی رکھ چکا تھا ۔

موحد کے ٹوکنے پر وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کمرے کی طرف بڑھ گئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی بیڈ پر ایک خوبصورت گلابی لباس اس کا انتظار کررہا تھا وہ دھیرے دھیرے سے چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آئی اس خوبصورت شیفون کے لباس کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک سی اتر آئی تھی وہ لباس اٹھا کر سیدھا واش روم کی طرف بڑھ گئی
جلدی جلدی ہاتھ منھ دھو کر اس نے لباس تبدیل کرکے کالج کا یونیفارم سلیقے سے تہہ کرکے بیگ میں رکھا اپنے لمبے بالوں کو کھول کر برش کر کے اونچی پونی بنا کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ دروازہ کھول کر موحد اندر داخل ہوا ۔۔۔

” واؤ یو آر لکنگ سو پریٹی ۔۔۔۔” وہ چند لمحے ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا رہا

” میں بہت لکی ہوں !! ویسے سوٹ تو تم نے بڑا زبردست پہن رکھا ہے بالکل اپنی رنگت سے میل کھاتا ہوا ۔۔۔” وہ شرارت سے اس کے پاس آیا

” یہ آپ ہی تو لائے ہیں نا ۔۔۔۔” وہ کنفیوز ہوئی

” یار ایک تو تم !! تم بہت سیدھی ہو خیر کوئی بات نہیں جب میری دسترس میں آؤ گی تو میں تمہیں اپنی طرح چالاک بنا دونگا ۔۔۔” موحد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا جو اب جاگرز پہن رہی تھی

” اب کیا ڈیٹ پر جاگرز پہن کر چلو گی ؟؟ وہ بھی فینسی قمیض شلوار پر ؟؟ ” موحد نے اسے ٹوکا

” وہ سینڈل تو نہیں ہیں ۔۔۔۔” وہ ہچکچائی

” کیوں نہیں ہیں ۔۔۔” موحد نے اس کے خفت سے گلابی پڑتے چہرے کو اپنی نظروں کی گرفت میں لیا

” وہ تو گھر پر ہیں میں کالج تو سینڈل پہن کر نہیں جاتی ۔۔۔”

” کوئی بات نہیں ہم پہلے مال چلینگے ۔۔۔۔” وہ اس کی معصومیت پر ہمیشہ ہی دل ہار جاتا تھا

علیزے کا ہاتھ پکڑ کر وہ گھر لاک کرتا ہوا باہر نکلا پولیس جیپ کو وہی چھوڑ کر وہ ڈرائیوے پر کھڑی احمد کی اسپورٹس کار کی طرف بڑھا

” یہ تو احمد بھائی کی گاڑی ہے ۔۔۔” علیزے ٹھٹک کر رکی

” ہاں تو ؟ بھائی کی ہر چیز میری اور میری ہر چیز بھائی کی ہے چلو بیٹھو ۔۔۔” اس نے دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا

تھوڑی ہی دیر میں گاڑی گھر سے باہر نکل چکی تھی ۔ گلی سے گاڑی کے نکلتے ہی دور کھڑی اسٹیشن ویگن اسٹارٹ ہوئی اور ان کے پیچھے روانہ ہو گئی تعاقب شروع ہوچکا تھا ۔
_____________________________________________

میجر احمد چوکنا کھڑا دلاور کا انتظار کررہا تھا ٹھیک دس منٹ بعد دلاور نے اسے میسج کیا اب میجر دلاور ٹارچ کی روشنی سے دلاور کو اپنی پوزیشن دکھا رہا تھا کچھ ہی دیر میں دلاور اوپر آچکا تھا

“سر ان محترمہ کا کیا کرنا ہے ؟؟ ” دلاور نے سمندر خان کو کندھے پر اٹھا کر زمین پر بیہوشی کی ایکٹنگ کرتی قانتا کی طرف اشارہ کیا

” اسے بھی ساتھ کے کر جائیں گے ہوش میں آتی ہے تو پتہ پوچھ کر گھر پہنچا دینگے ۔” میجر احمد نے جواب دیا

” سر اگر یہ رات بھر ہوش میں نہیں تو ؟ یہ قبائلی لوگ ہیں اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے کہا
” ابھی یہاں سے تو نکلتے ہیں پھر سیف ہاؤس پہنچ کر اس لڑکی کا کچھ کرتے ہیں ۔۔۔” میجر احمد نے آگے بڑھ کر اس برقعے میں ملبوس بیہوش لڑکی کو اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالا

وہ دونوں اس اندھیرے میں بڑی تیزی سے نیچے ڈھلان کی جانب بڑھ رہے تھے رات کے وقت ان علاقوں میں موت کا پہرا ہوتا تھا یہاں زیادہ دیر تک ٹہرنا وہ بھی ایک لڑکی کے ساتھ مناسب نہیں تھا نیچے پہنچ کر میجر احمد نے احتیاط سے اس لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹایا اور خود ڈگی سے ایک موٹا رسا نکال کر بیہوش پڑے سمندر خان کی طرف بڑھا اچھی طرح سے اس کے ہاتھ پیر باندھ کر منھ میں کپڑا ٹھونسا اور اسے ڈگی میں ڈال کر ڈگی بند کردی ۔
” لیٹس گو دلاور ۔۔۔ ” وہ آگے سیٹ پر بیٹھتے ہوئے بولا
میجر احمد کے بیٹھتے ہی دلاور نے جیپ اسٹارٹ کی اور تیزی سے سیف ہاؤس کی طرف روانہ ہوا ابھی جیپ دو میل ہی چلی ہوگی کہ بری طرح سے ڈگمگا گئی

” سنائپر شاٹ
” we got hit Sir ….”
ایک ٹائر برسٹ ہوچکا تھا لیکن دلاور نے جیپ نہیں روکی احمد بھی اپنی گن نکال چکا تھا دیکھتے ہی دیکھتے چارو ں ٹائر برسٹ ہوچکے تھے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: