Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 5

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 5

–**–**–

اسلام آباد

وہ گاڑی چلاتے ہوئے گاہے بگاہے ساتھ بیٹھی علیزے پر بھی نظر ڈال رہا تھا جو خاموشی سے سر جھکائے اپنی انگلیاں مڑوڑنے کا کام سر انجام دے رہی تھی ۔ایک مشہور مال کی پارکنگ میں گاڑی روک کر وہ پوری طرح سے چپ چاپ بیٹھی علیزے کی طرف متوجہ ہوا

” لگتا ہے جلدی جلدی میں تیار ہوئی ہو ! منھ پر تو تم نے بس پانی کے چھینٹے ہی مارے ہیں عجیب بھوتنی سی لگ رہی ہو کم از کم صابن سے منھ تو دھو لیتی ۔۔۔۔” اس نے علیزے کو چھیڑا اور اس کی توقع کے عین مطابق وہ شرم و جھجک چھوڑ کر الرٹ ہو گئی

” کیا واقعی میں بہت بری لگ رہی ہوں ۔۔۔” اس نے پریشانی سے موحد سے سوال کیا جو کافی سنجیدہ لگ رہا تھا

” ہاں تمہارا کاجل پھیلا ہوا ہے آدھا چہرہ کالا ہوا پڑا ہے پکی پکی بھوتنی لگ رہی ہو ۔۔”

” اللہ اللہ اب میں کیا کروں ایسے تو میں باہر نہیں جاسکتی آپ واپس گھر چلیں پلیز ۔۔۔” وہ روہانسی ہوئی

” تم پریشان مت ہو میں ہو نا ، ابھی سب ٹھیک کردیتا ہوں ۔۔۔” موحد نے شرارت سے کہتے ہوئے ٹشو پیپر باکس سے نکالا اور اس کی سمت جھکا علیزے نے سادگی سے سر ہلاتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھی کتنے ہی پل گزر گئے تھے جب اس نے آنکھیں کھولیں تو موحد اس کے انتہائی نزدیک ٹکٹکی باندھے بڑی فرصت سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا دیکھتے ہی دیکھتے علیزے کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا اور وہ نظریں جھکا کر رخ موڑ گئی

علیزے کے چہرے پر پھیلتی سرخی اور لرزتی پلکوں کا رقص دیکھ کر وہ چونک کر ہوش میں آکر پیچھے ہٹا

” چلو وائف آج تمہیں اپنی پسند کی شاپنگ کرواتا ہوں ۔۔” وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا

” لیکن میرا چہرہ ۔۔۔۔” وہ ہچکچائی

” ہمیشہ کی طرح دلکش ہے چاہوں تو میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھ لو ۔۔۔” وہ گھمبیر لہجے میں بولتا ہوا پھر سے اس کے نزدیک ہوا

” نہیں اٹس اوکے ۔۔۔” وہ تیزی سے پیچھے ہوئی

” چلو بھی یا اب گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کا ارادہ ہے ۔۔۔” وہ سن گلاسز آنکھوں پر لگاتا ہوا نیچے اترا

ان دونوں کے مال کے اندر جاتے ہی دور کھڑی اسٹیشن ویگن حرکت میں آئی اور مال کے مین گیٹ پر آکر رکی ویگن میں سے ایک ادھیڑ عمر آدمی پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھول کر اترا اور چاروں جانب دیکھتے ہوئے اندر مال کے اندر داخل ہو گیا اس کے کانوں میں بلو ٹوتھ لگا ہوا تھا اس کے اندر داخل ہوتے ہی ویگن دوبارہ حرکت میں آئی اور پارکنگ میں چلی گئی ۔

“کیا لو گی ؟ ” مال کے اندر داخل ہوئے اس نے پوچھا

” بس سینڈل ۔۔۔” وہ جوتوں کی دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

” آؤ پہلے تمہاری سینڈل خرید لیتے ہیں پھر باقی شاپنگ کرینگے ۔۔” وہ اسے لیکر شاپ میں داخل ہوا رنگ برنگے شوز سینڈلز میں سے اس نے اپنی پسند کی نازک سی ہیل والی سینڈل پسند کی ۔

” تم یہ ٹرائے کرو اگر سائز ٹھیک ہے تو فائنل کرتے ہیں ۔۔” وہ سیلز مین کے ہاتھ سے ڈبہ لے کر علیزے کی سمت بڑھاتے ہوئے بولا

” میم آپ پیر آگے کیجئے میں آپ کی ہیلپ کردیتا ہوں ۔۔” سیلز مین خوش اخلاقی سے بولتا ہوا علیزے کے پیروں کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ موحد نے اسے گردن سے پکڑ کر دور کیا

” کیا ہم نے آپ سے ہیلپ مانگی ؟؟ ” وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا

” نو سر ! بٹ سر اٹس مائی ڈیوٹی سر ۔۔۔” وہ گڑبڑا اٹھا

” آپ جاسکتے ہیں ہمیں کوئی مدد نہیں چاہئیے ۔۔۔” موحد نے خشک لہجے میں بولتے ہوئے اسے ہٹایا

” تم اتنی پریشان کیوں ہورہی ہو ؟؟ شوز ٹرائے کرو اور چلو یہاں سے ۔۔۔” وہ اس سچویشن سے پریشان ہوتی علیزے کو دیکھ کر بولا

علیزے نے اثبات میں سر ہلاتے باریک اسٹریپ والی سینڈل اپنے پیروں میں ڈالی اس کے نازک سے گلابی رنگت والے پیر اس سینڈل میں جگمگا اٹھے تھے موحد کی نظروں میں ستائش سی اتر آئی تھی ۔۔۔

” بس یہ ٹھیک ہیں تم یہی پہنی رہو اور جاگرز اس کے ڈبے میں رکھ لو ۔۔۔” وہ علیزے کو ساتھ لیکر بل پے کر کے شاپ سے باہر نکلا

” اب چلیں ۔۔۔” علیزے نے باہر کی طرف رخ کیا

” اتنی جلدی کیا ہے مسز ابھی ایک چیز اور لینی ہے جس کی آج مجھے شدت سے کمی محسوس ہوئی ہے ۔۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا

” سنئیے ۔۔۔” کافی دیر مال میں چلنے کے بعد علیزے نے اسے پکارا

وہ تو اس کے منھ سے ” سنئیے ” سن کر ہی جھوم گیا تھا

” سنائیے مسز موحد ۔۔۔۔” وہ شوخ ہوا

اس کے طرز تخاطب سے علیزے کے چہرے پر سرخی ابھر آئی تھی وہ بلش کرنے لگی تھی

” یار اب تم ایسے شرمایا کروں گی تو پھر ۔۔۔” وہ سرد آہ بھرتے ہوئے پیچھے ہٹا

“چھ بج گئے ہیں جلدی کیجئے ورنہ دادی پریشان ہو جائینگی ۔۔۔” وہ منمنائی

” بے فکر رہو دادی کو پتہ ہے کہ تم میرے ساتھ ہو انہیں کی اجازت سے تمہیں ڈنر پر لے جارہا ہوں ۔۔۔” وہ علیزے کا ہاتھ پکڑ کر جیولری شاپ میں داخل ہوا

” مجھے نازک سی پائل دکھائیں وائٹ گولڈ کی ملٹی شیڈز میں ۔۔۔” اس نے کاؤنٹر پر پہنچ کر سیلز مین کو اپنی ڈیمانڈ بتائی

” یہ آپ کیا کررہے ہیں ۔۔۔۔” علیزے نے سیلز مین کے ہٹتے ہی سوال کیا

” اپنی منکوحہ کیلئے پائل خرید رہا ہوں کوئی اعتراض ؟؟ ” وہ تیکھے لہجے میں بولا

اپنی پسند سے پائل خرید کر وہ باکس اپنی جیب میں ڈال کر علیزے کو لے کر ریسٹورنٹ کی طرف روانہ ہوا ۔اس بات سے انجان کہ ایک ویگن بڑی مہارت سے فاصلہ رکھتے ہوئے اس کا پیچھا کررہی تھی ۔

—————————————————————–
چمن ۔۔

جیپ کے چاروں ٹائر برسٹ ہوچکے تھے وہ کئی جھٹکے کھا کر ڈگمگا کر رک گئی تھی

میجر احمد اور دلاور دونوں اپنی اپنی گنز اٹھا کر گاڑی سے کود کر نیچے اتر آئے تھے یہ نو مین لینڈ ایریا تھا اگر فائرنگ ہوتی بھی تو ایف سی یا کسی نے بھی مدد کو نہیں آنا تھا

” دلاور تھری او کلاک فائر۔۔۔” احمد نے تیز لہجے میں اسے دشمن کی پوزیشن بتائی

دلاور کے فائر کرتے ہی دوسری جانب سے بھی فائر کھول دیا گیا تھا وہ دونوں اپنی ہی گاڑی کی آڑ سے دشمن کو نشانہ بنا رہے تھے ۔

” اوہ خوچہ تم جو بھی ہے بندوق پھینک دو ورنہ ہم تم پر گرینڈ پھینک رہا ہے ۔۔۔” ایک بھاری آواز گونجی

” سر اب کیا کرنا ہے اگر ہم گاڑی چھوڑ دیں تو یہ سمندر خان ہاتھ سے نکل جائیگا کیا مقابلہ کریں ؟؟ ۔۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے پوچھا

” نہیں ہم ابھی مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں صرف سمندر ہی نہیں یہ لڑکی بھی اس وقت ہماری ذمہ داری ہے اوپر دیکھو ہمیں چاروں جانب سے گھیرا ہوا ہے ۔۔۔”
میجر احمد کے کہنے پر دلاور نے اوپر نگاہ دوڑائیں تو دور سے فصیلوں پر ہلکی ہلکی فاصلے سے ٹمٹماتی ہوئی لائٹس دکھائی دی

” سمندر خان کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے مگر وہ لڑکی سویلین ہے اس کی رکھوالی ہماری ذمہ داری ہے ۔۔” میجر احمد نے چاروں جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا

” ابھی سرنڈر کرتے ہیں جیسے ہی یہ سارے سامنے آئینگے فائر کھول دینگے ۔۔۔” احمد بے خوفی سے آگے بڑھ کر کھڑا ہوگیا دلاور نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خود بھی ساتھ جا کر کھڑا ہوگیا

” خوچہ تھوڑا سا اور آگے آؤ نا اور گن پھینک دو تاکہ ہم بھی تمہارا دیدار کرسکیں ۔۔۔” اب کے وہ آواز تھوڑا نزدیک سے سنائی دی

سامنے ہی ایک چالیس سالہ آدمی ہاتھ میں 30 بور کی ماؤذر گن لئیے کھڑا تھا قمیض شلوار میں ملبوس کندھے پر صافہ رکھے منھ میں نسوار دبائے سر پر شیشیوں کی بنی ٹوپی پہننے ہوئے نیلی آنکھوں میں سرمہ کی دھار لگائے وہ انہیں گھور رہا تھا

احمد ایک قدم آگے بڑھا ہی تھا کہ چاروں جانب سے دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی اب وہ دونوں گاڑی سمیت بیس آدمیوں کے گھیرے میں تھے ۔

“ام آخری بار کہہ رہا ہے گن پھینک دو ورنہ امارا آدمی لوگ تم پر گولی چلا دے گا پھر شکایت مت کرنا کے سرمہ خان نے تمہیں جان بچانے کا موقع نہیں دیا ۔۔” وہ دونوں کو گھورتے ہوئے بولا

احمد نے دلاور کو آنکھ سے اشارہ کیا اور ان دونوں نے اپنی اپنی گنیں نیچے پھینک دیں ۔

” تم لوگ کھڑا امارا منھ کیا دیکھ رہا ہے ۔بابا اس گاڑی کی تلاشی لو ۔۔۔” سرمہ خان نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور خود چلتا ہوا ان دونوں نزدیک آیا اور ٹارچ کی لائٹ باری باری دونوں پر ڈالی

” تم تو اپنا ہی آدمی لگتا ہے پھر اس فوجی جاسوس کے ساتھ کیا کررہا ہے ؟؟ ” اس نے پشتو میں دلاور سے پوچھا

” ہم دونوں ادھر پشین سے ہی ہے یہ میرا دوست ہے ہم بڑا گاڑی خریدنے جا رہا تھا ۔۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے پشتو میں جواب دیا

” تو پھر تمہارا پاس یہ گن کدھر سے آیا ۔۔۔”سرمہ خان نے سوال کیا

” یہ گن !! یہ ادھر سے آیا ہے جدھر سے تم کو ملا ہے ۔۔۔” اب کے احمد نے جواب دے کر سرمہ خان کو چونکا دیا

” خان ادھر گاڑی میں ایک آدمی اور ایک لڑکی بیہوش پڑا ہے ۔۔۔” ایک آدمی چلایا اور اس نے سمندر خان کے بیہوش وجود کو اٹھا کر زمین پر پھینکا اس سے پہلے وہ قانتا کو ہاتھ لگاتا
” تمہیں اتنے اندھیرے میں کیسے پتہ چلا کہ لڑکی ہے ؟ ٹھیک سے دیکھو ۔۔۔” سرمہ خان چلایا

“خان لڑکی ہی ہے اس نے برقع پہنا ہوا ہے ۔۔۔”

“برقع ہٹا کر دیکھو کیا پتہ ان کا کوئی ساتھی عورت بن کر چھپا ہوا ہو جسے یہ سرحد پار کروانا چاہ رہے ہوں ۔۔”سرمہ خان نے حکم دیا

” لڑکی کو ہاتھ مت لگانا وہ ہماری حفاظت میں ہے ۔۔۔۔” میجر احمد سرد لہجے میں بولا

“ہمم لڑکی کو بھی باہر نکالو ۔۔۔۔” سرمہ خان اپنی بندوق احمد کے سینے پر رکھ کر بولا

سرمہ خان کا ساتھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے واپس گاڑی کی طرف مڑا بیک سیٹ کی طرف جھکا تو وہ خالی تھی وہ تیزی سے سیدھا ہوا

” سرمہ خان وہ لڑکی غائب ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔”

اس کی آواز سنتے ہی احمد بجلی کی تیزی سے جھکا اور سرمہ خان کو گردن سے پکڑتے ہوئے اپنے شکنجہ میں کس لیا
” سرمہ خان گن پھینک دو اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہوں کہ بندوقیں پھینک دیں ۔۔۔”احمد غرایا

اس سے پہلے سرمہ خان کچھ کہتا پیچھے ایک دھماکہ ہوا اور سرمہ خان کے چار آدمی اڑتے ہوئے دور جا گرے
دلاور اور میجر احمد نے موقع سے فائدہ اٹھا کر تیزی سے زمین پر گری اپنی گنز اٹھائیں اور اوپن فائر کھول دیا وہ دونوں کھلے میدانی علاقے میں تھے ان دونوں کے فائر کھولتے ہی سارے آدمی ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔

“دلاور پہاڑی کی طرف چلو ۔۔۔”میجر احمد نے اسے بیک اپ کرتے ہوئے حکم دیا

فائرنگ کی آواز پورے علاقے میں گونج رہی تھی دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا لیکن کوئی تھا جو ان دشمنوں کو ٹارگٹ کررہا تھا جس کا فائدہ اٹھا کر وہ دونوں دوڑتے ہوئے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے

احمد نے دلاور کو آگے جانے کا اشارہ کیا اور خود زمین پر لیٹ کر پوزیشن سنبھال لی کچھ دیر بعد وہ تین آدمیوں کو گرا کر اٹھنے ہی لگا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرا کر دھم سے گرا میجر احمد نے تیزی سے اپنی گن سے اس کے سر کا نشانہ لیا ۔
_____________________________________________

قانتا خاموشی سے ان کی جیپ میں بیہوش ہونے کی ایکٹنگ کررہی تھی جب ٹائر برسٹ ہوا ، دیکھتے ہی دیکھتے چاروں ٹائر برسٹ ہو چکے تھے کچھ ہی دیر میں فائرنگ کے بعد ان لوگوں کو گھیر لیا گیا تھا وہ کسی بھی صورت ان کے ہاتھ لگنا نہیں چاہتی تھی جیسے ہی اس آدمی نے سمندر خان کو ڈگی سے نکال کر پھینکا وہ گاڑی کے پچھلے دروازے کو آہستگی سے کھول کر رینگتی ہوئی نیچے اتر کر جیپ کے نیچے سرک گئی اب اس نے ٹٹول کر اپنے جوتے کی ہیل ہٹائی اور اندر سے ایک چھوٹا سا دستی بم نکال کر اس سرمہ خان کے پیچھے کھڑے ساتھیوں پر پھینکا ۔وہ ساتھ ساتھ ان پر فائرنگ کرکے اپنا راستہ صاف کرتی جا رہی تھی ۔جب امینیش ختم ہونے پر گن ایک طرف پھینک کر وہ بھاگی ۔

دھمکا ہوتے ہی وہ تیزی سے گاڑی کے نیچے سے نکل کر مخالف سمت بھاگنے لگی کافی آگے جاکر اسے احساس ہوا یہ میدانی علاقہ تھا وہ ٹھٹک کر رکی اور غور سے چاروں جانب دیکھا قریب ہی گھنے درختوں کا سلسلہ تھا وہ جلدی سے اندر داخل ہوئی تھی چاروں جانب دیکھتے ہوئے جھاڑیوں کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے وہ آگے بڑھ رہی تھی کہ زمین پر گرے کسی انسانی وجود سے ٹکرا کر گر پڑی اس سے پہلے وہ سیدھی کھڑی ہوتی اس آدمی نے اس کے سر پر گن تان لی تھی

” تم ادھر کیا کررہی ہو ؟؟ ” احمد نے جو اسے شوٹ کرنے ہی والا تھا برقع دیکھ کر اسے پہچانتے ہوئے اپنی گن نیچے کی

” میں نے ادھر بم ۔۔۔۔۔” قانتا نے بولنا شروع کیا

” اٹس اوکے ابھی فالتو باتوں کا وقت نہیں ہے ، تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں اس سچویشن سے نکلتے ہی تمہیں ذمہ داری سے تمہارے گھر پہنچا دونگا ۔۔۔” میجر احمد تیزی سے کھڑا ہوا اور قانتا کو ساتھ آگے چلنے کا اشارہ کیا

” آپ لوگ کون ہیں ؟؟ ” قانتا نے سوال کیا

” ہم !! ہم اس مٹی کے محافظ ہیں ۔۔۔” وہ چلتے ہوئے بولا

” اور وہ لوگ کون ہیں ؟ ” قانتا نے دوسرا سوال کیا

” یہ تمہارا کنسرن نہیں ہے تم اپنے ننھے منے دماغ پر زور مت دو اور چپ چاپ چلو اب مجھے تمہاری آواز سنائی نا دے ۔۔۔” اب کے میجر احمد نے اسے ڈانٹا

کچھ دور جا کر ایک چٹان کے پاس انہیں دلاور ملا

” میجر احمد یہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور اس وقت بری طرح ہمیں ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں ہم زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتے ۔۔۔” دلاور نے احمد کو رپورٹ دی

” جو بھی ہو یہاں سے نکلنا ہوگا ۔۔۔۔” احمد نے اپنی گن لوڈ کی

” یہ برقعے والی باجی ! ” وہ قانتا کو دیکھ کر حیران ہوا

” یہ تو بھاگ گئی تھی !! یہ آپ کو کدھر سے ملی ؟ اب ہم اس باجی کی حفاظت کریں یا مقابلہ کریں ۔۔ ” دلاور نے اب قانتا کو دیکھا

“آپ لوگ ابھی چھپ جائیں ۔۔۔۔۔۔” قانتا نے مشورہ دینا چاہا

” دلاور لڑکی ذات ہے مت الجھو اسے کیا پتہ اس سب کا ، وہ لوگ جلد ہی ادھر تک پہنچ جائینگے پوزیشن سیٹ کرو ۔۔۔” میجر احمد نے اسے ٹوکا

” اور تم خبردار جو کوئی چیخ ماری یا ڈر کر بیہوش ہوئیں بس خاموشی سے ہمیں فالو کرنا ۔۔۔” اب کے احمد نے قانتا کو ہدایات دیں

دوڑتے بھاگتے قدموں کی آوازیں قریب آرہی تھی

” سر وہ باجی کدھر گئی ۔۔۔۔” دلاور چونکا

احمد جو چٹان کی آڑ میں پوزیشن سنبھال چکا تھا دلاور کی آواز سن کر چونک کر پلٹا

سامنے ہی ایک گھنے درخت پر وہ لڑکی اپنا برقع سنبھالتے ہوئے اوپر چڑھتی چلی جا رہی تھی ۔

“اس وقت اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہوسکتا ۔ “دلاور نے بھی اسے دیکھ لیا تھا

” سر آپ باجی والے درخت پر چڑھ جائیں کہیں وہ ڈر کر گر گرا گئیں تو سب پھنس جائینگے۔ ۔۔”

اب وہ دونوں بھی تیزی سے درخت پر چڑھ رہے تھے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: