Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 6

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 6

–**–**–

اسلام آباد ۔۔۔
موحد علیزے کو لے کر اوپن ائیر ریسٹورنٹ میں آیا تھا ۔پہلے سے ریزرو کرائی ہوئی میز پر پہنچ کر اس نے ویٹر کو منع کرتے ہوئے خود علیزے کیلئے کرسی باہر نکالی ۔

” بیٹھئے میڈم ۔۔۔۔”۔ علیزے کو بٹھا کر وہ خود عین اس کے سامنے بیٹھا اور بڑے سکون سے اسے دیکھنے لگا جیسے اس سے اہم کوئی اور کام نہیں ہے ۔
موحد کی نظروں کی تپش علیزے کو گڑبڑانے پر مجبور کررہی تھی اس کے گال شرم سے سرخ پڑ گئے تھے ۔

” آپ ۔۔۔۔” اس نے موحد کو ٹوکنا چاہا

” کیسی ہو اتنے دن بعد ملی ہو تو نظریں تمہارے چہرے سے ہٹنے کو راضی نہیں ہو رہیں اس لیے گھبراؤ نہیں بس دیکھ رہا ہوں ۔۔۔” اس نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا

” آپ کئی دنوں سے گھر بھی نہیں آئے دادی بھی آپ کو مس کررہی تھیں ۔۔۔” اس نے دھیمے لہجے میں شکوہ کیا

” اور دادی کی پوتی کے بارے میں کیا خیال ہے اس نے مجھے مس نہیں کیا کیا ؟؟ ” وہ گھمبیر لہجے میں اس کے معصوم چہرے پر چھائی خفت کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

” میں نے بھی آپ کو مس کیا تھا ۔۔۔” وہ نظریں جھکا کر آہستگی سے اپنے مومی ہاتھوں کو مسلتے ہوئے بولی

ہلکی پھلکی باتوں کے دوران اس کے اشارے پر ویٹر کیک لے آیا

” Happy belated birthday Sweet Wife ….”

اس نے علیزے کو وش کیا جس کی آنکھیں یہ سب اہتمام دیکھ کر جگمگا اٹھیں تھیں۔ انہیں آنکھوں کی جگمگاہٹ دیکھنے کو تو اس نے یہ اہتمام کیا تھا اس کی آنکھوں میں چھائے خوشی کے رنگ دیکھ کر موحد کو اپنے اندر ایک سکون سا اترتا محسوس ہوا تھا

” آپ کو یاد تھا ؟؟ مجھے لگا اس سال آپ بھول گئے ہیں ۔۔۔” وہ چمکتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی

” میں اپنی زندگی کی زندگی کا اتنا اہم دن بھلا کیسے بھول سکتا ہوں ؟؟ سوری جاناں میں ان دنوں ایک کیس میں بری طرح سے بزی ہوں لیکن آج جیسے ہی فارغ ہوا دیکھو سر کے بل کھینچا چلا آیا اپنی محبت کے دربار میں ۔۔۔” وہ بولتے بولتے رک کر علیزے کو دیکھنے لگا جو بڑی محویت سے اسے دیکھ رہی تھی نظر ملتے ہی علیزے نے سٹپٹا کر اپنی نظریں جھکا لیں ۔

” اب جلدی سے موم بتی بجھا کر کیک کو حلال کرو ۔۔۔”

علیزے نے کیک پر لگی موم بتیاں پھونک مار کر بجھائیں پھر آنکھیں بند کرلیں موحد اچھی طرح سے جانتا تھا وہ بچپن سے ہی اس طرح موم بتیاں بجھا کر اللہ سے ایک وش گفٹ میں مانگا کرتی تھی ۔وہ غور سے اس کی بند گھنیری پلکوں کو ، لرزتے لبوں کو دیکھ رہا تھا جب علیزے نے دھیرے دھیرے اپنی گھنیری پلکوں کا جال اٹھایا

” اس سال کیا گفٹ مانگا اللہ میاں سے ۔۔۔” موحد نے شرارت سے پوچھا

” بری بات وش بتاتے نہیں ہیں ورنہ وہ پوری نہیں ہوتی ۔۔۔۔” علیزے نے اسے سمجھایا

” خیر مجھے تمہاری سب وشز کا پتہ چل جاتا ہے آخر اللہ نے مجھے تمہارا محرم راز جو بنایا ہے تم بے فکر رہوں میں اپنا بہت خیال رکھوں گا اتنی جلدی تمہاری جان چھوڑنے والا نہیں ہوں ۔۔۔” وہ علیزے کے ہاتھ میں چھری تھما کر کیک پر پھیرتے ہوئے بول رہا تھا

” آپ بھی بس ۔۔۔۔” علیزے اپنے دل کا حال اس کی زبان سے سن کر شرما گئی

” وہ محرم ہی کیا جو اپنے ساتھی کے دل کا حال نا جان سکے ۔۔۔” موحد نے پیار سے علیزے کی پلیٹ میں کیک ڈالا

ایک پرتکلف ڈنر کر کے وہ دونوں ریسٹورنٹ سے نکلے اب اس کا رخ علیزے کے گھر کی طرف تھا

” علیزے تمہارا کالج کیسا چل رہا ہے کوئی پرابلم تو نہیں ہے ۔۔۔” اس نے گاڑی چلاتے ہوئے سوال کیا

” نہیں سب ٹھیک ہے ۔۔۔” علیزے نے دھیرے سے جواب دیا

” اگزام کب ہیں ؟؟ ” اگلا سوال آیا

” اللہ اللہ ابھی تو سیکنڈ ائیر شروع ہوا ہے اتنی جلدی امتحان نہیں ہوتے ۔۔۔” علیزے نے جیسے اس کی عقل پر افسوس کیا

موحد نے علیزے کے انداز پر اسے گھور کر دیکھا تبھی اس کی نگاہ بیک ویو مرر میں ویران سڑک پر پیچھے آتی ویگن پر پڑی اس کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اپنے خدشے کی تصدیق کرنے کیلئے اس نے بلا وجہ گاڑی دو تین سڑکوں پر فضول میں بھگائی اب اسے پورا یقین ہوگیا تھا کہ بڑی مہارت سے اس کا پیچھا کیا جارہا تھا ابھی علیزے اس کے ساتھ تھی اس لئیے وہ کوئی بھی رسک لینا نہیں چاہتا تھا وہ گاڑی کا رخ اپنے گھر کی طرف موڑ چکا تھا علیزے کا گھر وہ کسی بھی قیمت پر دشمنوں کی نظر میں لانا نہیں چاہتا تھا

” آپ گھر نہیں چل رہے ؟؟ دادی انتظار کررہی ہونگی ۔۔” علیزے نے موحد کو راستہ بدلتے دیکھ کر سوال کیا

” ہمم ۔۔۔” موحد نے ایک ہاتھ سے گاڑی چلاتے ہوئے دوسرے سے اپنا فون نکالا

” اسلام علیکم دادی ۔۔۔” فون کے ملتے ہی اس نے سلام کیا

” میں علیزے کو لے کر آپ کے پاس گھر آرہا تھا کہ راستے میں کچھ پرانے چاہنے والے مل گئے ہیں ۔اب میں علیزے کو اپنے گھر لے جارہا ہوں ۔۔۔” اس نے مختصر الفاظ میں اپنی بات مکمل کیں

” اپنا بہت خیال رکھنا اور علیزے کو آرام سے صبح گھر چھوڑ جانا ۔۔” وہ بھی اس کی اور احمد کی دادی تھیں فوراً بات کو سمجھ گئیں تھیں

موحد نے فون رکھ کر گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی

علیزے نے سنجیدگی سے لب بھینچے گاڑی چلاتے ہوئے موحد کو دیکھا پھر سائیڈ مرر سے باہر جھانکا

” باہر کچھ نہیں ہے اور میرے ہوتے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔” موحد نے موڑ کاٹتے ہوئے علیزے کو ٹوکا

گھر پہنچتے ہی واچ مین نے اس کی گاڑی دیکھتے ہی مین دروازہ کھول دیا گاڑی اندر لاکر وہ تیزی سے باہر نکلا

” علیزے تم اندر میرے روم میں جاکر آرام کرو میں ابھی کسی کام سے جارہا ہوں صبح ملتے ہیں ۔۔” اس نے علیزے کو اندر جانے کا حکم دیا اور خود بھی ساتھ اندر داخل ہوکر دروازے کھڑکیاں چیک کرنے لگا

” آپ ! سب ٹھیک تو ہے ؟ آپ کدھر جارہے ہیں ۔۔” وہ گھبرا اٹھی

” سنئیے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے ۔۔۔۔” علیزے کا ننھا سا دل بیٹھا جا رہا تھا

” مجھ پر ٹرسٹ ہے ؟؟ ” موحد نے اس کے نزدیک آکر سوال کیا

” خود سے بھی زیادہ ۔۔۔” اب کے علیزے نے مضبوطی سے جواب دیا

” تو پھر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے آرام سے ہمارے کمرے میں آرام کرو اور ہاں صبح کا ناشتہ میں تمہارے پیارے پیارے ہاتھوں سے بنا ہوا کھاؤں گا ۔۔” وہ ہلکے پھلکے انداز میں اسے تسلی دیتے ہوئے باہر نکل گیا

علیزے نے وہی کھڑے کھڑے اس پر آیت الکرسی کا حصار کھینچا اور اوپر موحد کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے ۔
کمرے میں پہنچ کر اس نے سائیڈ میز پر اپنا دوپٹہ اتار کر رکھا اور وضو کرنے کیلئے واش روم کی طرف چلی گئی

______________________________________________

چمن ۔

احمد اور دلاور دونوں ایک ہی درخت پر چڑھ گئے تھے یہ اونچے گھنے درخت تھے رات کے اندھیرے میں انہیں ان درختوں پر ڈھونڈنا ناممکنات میں سے تھا ۔

احمد جیسے ہی اوپر کی شاخ پر پہنچا اسے وہ برقعے والی لڑکی بڑے آرام سے پتوں میں خود کو سمیٹ کر بیٹھی ہوئی دکھائی دی وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے سامنے ہی چوکنا ہو کر بیٹھ گیا تھا دلاور بھی سامنے ہی دم سادھے بیٹھا ہوا تھا یہ ایک بہت ہی گھنا پرانا درخت تھا جس پر وہ تینوں ہی آرام سے چھپ کر بیٹھ گئے تھے ۔

” باجی آپ کو درخت پر چڑھنا کس نے سکھایا ؟؟ ” دلاور نے چاروں اطراف دیکھتے ہوئے سرگوشی میں اس برقعے والی لڑکی سے پوچھا

” میں بچپن سے ہی درخت پر چڑھنے میں ماہر تھی اور جب فیلڈ میں ۔۔۔۔” قانتا نے بات شروع کی

” سسش خاموش !! دشمن قریب ہی ہے اگر ہماری آوازیں اس تک پہنچ گئیں تو سب پکڑے جائینگے اور محترمہ ہم مردوں کی تو پھر بھی خیر ہے میں نہیں چاہتا آپ کوئی ناقابل تلافی نقصان اٹھائیں اس لئیے خاموشی سے بیٹھو پتہ تک ہلنا نہیں چاہئیے ۔۔۔” میجر احمد نے ان دونوں کو ٹوک کر چپ کروایا

” ناقابل تلافی ۔۔۔۔” قانتا نے دہرایا ابھی اس کی اردو اتنی اچھی بھی نہیں تھی کہ بھاری بھرکم الفاظ سمجھ سکے

” یہ ناقابل تلافی نقصان کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔” اس نے سرگوشی میں پوچھا

” سر جی !! ” دلاور نے سنجیدگی سے میجر احمد کو مخاطب کیا

” باجی جی کو ناقابل تلافی نقصان سمجھا دیں ۔۔۔” دلاور نے احمد کے متوجہ ہوتے ہی کہا

” شٹ اپ دلاور !! اور تم برقعے والی اب ایک آواز حلق سے نہیں نکلے ورنہ ان دشمنوں کے ہاتھوں تمہاری عزت کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں لونگا میں ۔۔” میجر احمد نے ترش لہجے میں دونوں کو ڈانٹا

کچھ ہی دیر میں اندھیرے میں دور سے بھاگتے قدموں کی آوازیں سنائی دینے لگیں میجر احمد اور دلاور دونوں اپنی اپنی گنیں سنبھال کر چوکنا ہو گئے تھے اور قانتا وہ بڑے آرام سے مزید اونچی شاخ کی طرف بڑھ گئی تھی

” کدھر گیا وہ لوگ ؟؟ خوچہ تم ہڈحراموں سے دو بندے نہیں پکڑے جاتے ۔۔۔۔” سرمہ خان تھک کر درخت کے نیچے بیٹھتے ہوئے بولا

” خان وہ لوگ اتنی جلدی علاقے سے نہیں نکل سکتا یہیں کہیں چھپا بیٹھا ہوگا کچھ گھنٹوں میں سورج نکل آئیگا تو ہم انہیں پکڑ لے گا ۔۔۔” سرمہ خان کا دست راست بھی تسلی دیتے ہوئے بیٹھ گیا

” امارے کو کچھ نہیں پتہ بس ام کو وہ لوگ چاہئیے ہر قیمت پر ۔۔۔” سرمہ خان نے ٹانگیں پھیلا کر سر درخت سے ٹکا لیا

” خان آپ اڈے پر جاؤ آرام کرو ہم انہیں پکڑ کر ادھر لے آئیگا ۔۔۔”

” کیا سراپا تھا اور آنکھیں !!! ” سرمہ خان نے اپنی ران پر ہاتھ مارا

” آہ ظالم ہم تو اس کی خوبصورتی پر مر گیا بس اب دل کو وہ چاہئیے ۔۔۔۔” سرمہ خان خالص عاشقوں کے انداز میں آہ بھرتے ہوئے بولا

” سر آپ ٹھیک کہہ رہے تھے باجی کی عزت کو خطرہ ہے پر یہ باجی تو برقعے میں ہے پھر اس خبیث نے اسے کیسے دیکھ لیا ؟؟ ” دلاور نے آہستگی سے میجر احمد سے سوال کیا

میجر احمد نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا خود اس کے وجیہہ چہرے پر بھی الجھن تھی

” ہائے کیا بازوں تھے ، کیا قد تھا اور اس پر اس کی ہوش ربا جوانی اندھیرے میں بھی الگ سے نظر آرہی تھی ۔۔” سرمہ خان کی آنکھوں میں جیسے اس کا وجود جھلک رہا تھا

” خان !! آپ فکر مت کرو پر یہ تو بتا دو آپ کو وہ برقع والا باجی کب نظر آیا ؟؟ ” سرمہ خان کے نئے چیلے نے سوال کیا

” برقع والا ؟؟ ارے وہ باجی جائے بھاڑ میں ! میرا دل تو اس خوچہ لمبا والا فوجی جیسا دکھتا جوان پر آیا ہے ۔۔” سرمہ خان نے آنکھیں میچ کر کہا

” کیا جوان تھا اور اس کا ماتھے کا بل وہ کسرتی بازو ہائے ڈھونڈ کر لاؤ اسے ۔۔۔۔” سرمہ خان اپنی ٹوپی ٹھیک کرتے ہوئے بولا

سرمہ خان کی بات سن کر دلاور درخت سے نیچے گرتے گرتے بچا

” سر !! باجی کی نہیں ادھر تو آپ کی عزت خطرے میں ہے ۔۔۔” دلاور نے میجر احمد کو دیکھا

” ناقابل تلافی نقصان ۔۔۔۔” درخت پر بیٹھی قانتا مسکراتے ہوئے بڑبڑائی جس ہر احمد نے گھور کر اسے دیکھا

“مبارک ہو سر ! باجی کو ناقابل تلافی نقصان کے معنی سمجھ میں آ گئے ہیں ۔۔۔” دلاور نے مسکرا کر اسے چڑایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: