Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 7

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 7

–**–**–

علیزے کو اوپر بھیج کر موحد نے اپنا سروس ریوالور لوڈ کرکے اس پر سائلنسر لگا کر جیب میں رکھا باہر نکل کر گھر کا مین دروازہ باہر سے لاک کیا اب وہ پائیں دیوار پھلانگ کر گھر کی پچھلی طرف سے کود کر باہر نکلا اس کے چہرے پر کرختگی چھائی ہوئی تھی وہ احتیاط سے چاروں اطراف دیکھتے ہوئے گلی عبور کرکے مین روڈ کی طرف آیا سامنے ہی برگد کے درخت کے نیچے وہ مشکوک اسٹیشن ویگن کھڑی ہوئی تھی موحد نے اپنی جیب سے نائٹ وژن دوربین نکالی ۔۔۔
دو افراد گاڑی میں بیٹھے کھانے پینے میں مصروف تھے وہ وقفے وقفے سے موحد کے گھر کی طرف بھی نظر دوڑا رہے تھے یعنی پوری طرح سے نگرانی کی جارہی تھی ۔

موحد ریوالور نکال کر جھک کر چلتے ہوئے پیچھے سے اس ویگن کے نزدیک آیا اور پھر اس نے فرنٹ وھیل کا نشانہ بنا کر فائر کردیا ۔
کچھ ہی دیر میں فرنٹ ڈور کھول کر ایک آدمی نیچے اترا موحد دم سادھے گاڑی کی بیک کے پیچھے چھپا ہوا تھا اس آدمی نے اتر کر چاروں جانب دیکھا پھر ٹائر کی سمت جھکا یہ وقت بالکل مناسب تھا موحد تیزی سے کہنیوں کے بل رینگتا ہوا اس کے بالکل پیچھے آیا اور زور سے ریوالور کے دستے سے اس کی گردن پر وار کیا ۔

وہ دونوں آج پورا دن ایس پی موحد کی نگرانی کرتے رہے تھے اب ایس پی تو اپنے گھر میں چلا گیا تھا اب بس اس کے سونے کا انتظار تھا اس لئیے وہ دونوں راستے سے لئیے برگر نکال کر باتیں کرتے ہوئے اپنی پیٹ پوجا کررہے جب گاڑی ہلکی سی ڈگمگائی

” لگتا ہے ٹائر برسٹ ہوگیا ہے ” ان میں سے ایک تشویشناک انداز میں بولا

” کھڑی گاڑی کا ٹائر برسٹ کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ ” دوسرے ساتھی نے نفی کی

” تم اندر بیٹھو میں چیک کرتا ہوں ۔۔۔” پہلا آدمی اپنا برگر پیپر میں لپیٹ کر ڈیش بورڈ پر رکھتا ہوا بولا

وہ گاڑی سے اترا چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا وہ گردن گھما کر اطراف میں دیکھتا ہوا ٹائر چیک کرنے جھکا ہی تھا کہ اس کی گردن پر زور سے ریوالور کا دستہ پڑا اس سے پہلے وہ سنبھلتا موحد نے اس کے منھ پر ہاتھ رکھا اور پے در پے اس کی گردن پر وار کرکے اسے بیہوش کردیا اب وہ سیدھا کھڑا ہو کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا دروازہ کھولا

” کیا ہوا ٹائر چیک کیا ؟؟ ” اندر بیٹھا آدمی بوتل سے پانی پیتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا

” ہمم وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اندر بیٹھا

” کون ہو تم ۔۔۔۔” وہ آدمی اب چونکا

” تمہارا باپ ۔۔۔۔” موحد نے سرد لہجے میں جواب دیتے ہوئے ریوالور اسے کے ماتھے پر رکھا

” کون ہو تم اور میرا تعاقب کیوں کررہے تھے ؟؟ ” موحد نے ٹریگر پر دباؤ بڑھایا

” تم تم ایس پی ہو ؟؟ ” اب کے اس آدمی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں

” جتنا پوچھا اتنا جواب دو ؟؟ ” موحد نے اس کے چہرے پر ایک زور دار پنچ مارا

” مجھے کچھ نہیں پتہ ۔۔۔۔” اب کے وہ خود کو کمپوز کرتے ہوئے ڈھٹائی سے بولا

” اوکے اگر تمہیں کچھ نہیں پتہ تو تم میرے کسی کام کے نہیں ہو ۔۔۔” موحد نے اس کے بازو کا نشانہ لیکر فائر کیا

” وہ تکلیف سے چیخ اٹھا

” اس بار گولی چوک گئی لیکن فکر مت کرو اگلی گولی تمہارے دل کے آر پار ہو گی ۔۔۔” وہ ریوالور گھماتے ہوئے بولا

” بتاتا ہو سر بتاتا ہوں بس آپ اس گھوڑے کو تو دور کریں ۔۔۔” اس نے موحد کے ہاتھ میں تھامے ہوئے ریوالور کی طرف اشارہ کیا

” میں بس تین تک گن رہا ہوں شروع ہوجاؤ ورنہ اگر تم میرے ہاتھوں جہنم رسید ہوگئے تو اوپر جا کر شکایت مت کرنا ۔۔” موحد نے ٹھیک اس کے دل کے مقام پر ریوالور رکھا

” ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔۔۔”
اس آدمی کے دائیں بازو سے خون بہہ رہا تھا چہرے پر ڈر و خوف سے پسینے چھوٹنے لگے تھے

” ہمیں ۔۔۔۔۔تنظیم نے بھیجا ہے آپ کل ہمارے آدمی کو پشاور ہائیکورٹ لے کر جارہے ہو ہمیں آپ کے پل پل کی خبر اوپر تک دینی ہے ۔۔۔” وہ فر فر بول اٹھا

” رپورٹ کیسے اور کسے دے رہے ہو ؟۔۔۔” موحد نے سوال کیا

” وہ ۔۔۔۔” اس آدمی کی حالت خراب ہونے لگی

” کیسے اور کسے دے رہے ہو؟ ۔۔۔۔” موحد نے اب اس کی ران پر گولی چلائی

” اس فون سے ، شیخ الاسلام کو ۔۔۔۔” اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا فون جیب سے نکال کر موحد کی طرف بڑھایا

اس آدمی کے ہاتھ سے فون لے کر موحد نے اسے بھی سر پر دستہ مار کر بیہوش کیا اب وہ فون کو چیک کررہا تھا اور اس کے چہرے پر سرد مہری پھیلتی جارہی تھی ۔

شیخ کو کون نہیں جانتا تھا ایک مشہور سیاسی رہنما وفاقی وزیر ۔

موحد نے گاڑی سے اتر اپنے واچ مین کو فون کر کے اپنی پولیس جیپ گلی کے نکڑ پر لوکیشن بتا کر لانے کو کہا

وہ اس سیاسی پارٹی کا نام آنے کے بعد اب کسی پر بھی ٹرسٹ نہیں کرسکتا تھا ۔ چوکیدار اس کی پولیس جیپ لے آیا تھا چوکیدار کے ساتھ مل کر اس نے ان دونوں آدمیوں کے ہاتھ پیر باندھ کر منھ پر ٹیپ لگا کر انہیں اپنی جیپ کی پچھلی نشست پر ڈالا ۔یہ چوکیدار ان دونوں بھائیوں کا خاص آدمی تھا

” رازق خان اس ویگن کا ٹائر بدل کر اسے صبح ہونے سے پہلے پہلے غائب کرنا ہے ۔۔۔”

وہ اسے ہدایات دیتا ہوا اپنی پولیس جیپ میں بیٹھا ، جیپ اسٹارٹ کرکے کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا رات کا ایک بج رہا تھا یہ وقت مناسب تو نہیں تھا لیکن اس کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا اس نے فون نکال کر کال ملائی تین بیل کے بعد فون پک کرلیا گیا

” ہیلو سر میں آپ کی طرف آرہا ہوں ۔۔۔” سلام کرنے کے بعد اس نے مختصر رپورٹ دے کر فون بند کیا اب اس کا رخ کمشنر پولیس اسلام آباد کی رہائش گاہ کی طرف تھا

____________________________________________

“ناقابل تلافی نقصان !! “قانتا کے منھ سے یہ الفاظ سرگوشی کی صورت میں ادا ہوئے تھے جنہیں میجر احمد کے حساس کانوں نے باخوبی سنا تھا اس نے سر اونچا کرکے اس برقعے والی کو گھور کر دیکھا اور انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔

کافی دیر ہوچکی تھی سرمہ خان اور اس کے ساتھی وہی آگ جلا کر ڈیرہ ڈال کر بیٹھ چکے تھے

” اوئے خبیثوں کوئی شغل لگاؤ !! وہ گانا تو سناؤ
” آنکھیں ڈرون اور دل بم ہوگیا ۔۔۔” سرمہ خان نے فرمائش کی

سرمہ خان کی فرمائش پر سارے ہی موڈ میں آگئے اب بندوقیں ایک طرف رکھ کر وہ گانے بجانے میں مصروف ہوگئے تھے جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا وہ آپس میں واہیات حرکات کرنا شروع ہوچکے تھے

” باجی !! ” دلاور نے قانتا کو سرگوشی میں پکارا

“او برقع والا باجی !! ” اب کے وہ تھوڑا اونچا بولا تو قانتا نے اس کی طرف دیکھا

“باجی تم اپنی آنکھیں اور کان بند کرلو ۔۔” دلاور نے ریکوئسٹ کی

قانتا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے برقعے کی جالیوں سے اسے گھورا وہ آنکھیں بند کرے یا کھلی رکھے ان دونوں کو تو پتہ بھی نہیں چلنا تھا نیچے کا منظر سلگتی لکڑیوں کی مدھم سی روشنی کی وجہ سے واضح تھا وہ لوگ شیطان کی راہ اپنا چکے تھے آپس میں مگن ہو چکے تھے سرور کی محفل جم چکی تھی یہ ایک بہترین وقت تھا یہاں سے نکل جانے کا لیکن یہ دو میجر احمد اور دلاور ان کی نظر سے کیسے بچا جائے وہ یہ سوچنے میں مصروف تھی ۔

” سر کیا خیال ہے نیچے اتر کر ان غافلوں پر حملہ کردیا جائے ؟ ” ایجنٹ دلاور نے سوال کیا

” نہیں !! یہ ان کا اپنا علاقہ ہے فائر کریں گئے تو ان کی مدد کو مزید افراد آسکتے ہیں بنا فائرنگ گوریلا وار اسٹائل میں حملہ کرنا ہوگا ۔۔۔” میجر احمد نے پرسوچ نگاہوں سے نیچے دیکھتے ہوئے کہا

” اور یہ باجی اس کا کیا کریں ؟ اسے ادھر ہی چھوڑنا تو خطرناک ہوگا ۔” دلاور نے اپنی دانست میں ایک اہم پوائنٹ اٹھایا

” اے لڑکی !! محترمہ ۔۔۔۔” میجر احمد نے سرگوشی میں قانتا کو پکارا

” یار ایک تو !! اس مصیبت کا نام کیا ہے اسے ادھر متوجہ کرو ۔۔۔” احمد رسپانس نا ملنے پر جھنجھلا گیا

” سر جی اس مصیبت کا نام باجی ہے ۔۔۔” دلاور نے جواب دیا

” ہر وقت مذاق اچھا نہیں ہوتا بلاؤ اسے ۔۔۔۔” میجر احمد جھنجھلایا

” میں مذاق کب کررہا ہوں آپ نے دیکھا نہیں اس سمندر خان سے اس سرمہ خان تک سب ہی اسے باجی وہ بھی برقعے والی پکار رہے ہیں ان لوگوں کے تو نام ہی الگ ہوتے ہیں کیا پتہ اس کا نام ہی باجی برقعے والی یا برقع خانم ہو ۔۔۔” دلاور نے سنجیدگی سے کہا پھر احمد کے چہرے کے جھنجھلائے ہوئے تاثرات دیکھ کر اوپر اچک کر قانتا کو نیچے آنے کا کہا

” سنو مس برقع خانم !! ہم دونوں ابھی نیچے اتر رہے ہیں تم دس منٹ بعد نیچے اترنا اور ادھر میدان کی طرف جا کر ان کی گاڑی کے پاس ہمارا انتظار کرنا ۔۔۔” میجر احمد نے اسے ہدایات دیں اور خود دلاور کو اشارہ کرتے ہوئے ایک جمپ لگا کر نیچے کودا

” سر آپ نے اسے ابھی اترنے کا کیوں کہا ؟ وہ لڑکی ہے ادھر خون خرابہ دیکھ کر بیہوش ہوگئی تو کون اٹھائے گا ؟؟ ”

” درخت پر چڑھنا آسان ہوتا ہے اترنا نہیں اب وہ ہم لوگوں کی طرح ایک جمپ لگا کر تو اترنے سے رہی بے فکر رہو آدھے ایک گھنٹے میں جب تک وہ سنبھل سنبھل کر اترے گی اس وقت تک ہم سارا صفایا کرچکے ہونگے ۔۔۔” وہ اپنی پنڈلی میں سے تیز دھار چاقو نکال کر سیدھا کھڑا ہوا

” دلاور تم ریڈی ہو ؟؟ ” میجر احمد نے سوال کیا

” یس سر ۔۔۔” وہ پرجوش انداز میں بولا

” لیٹس گو ۔۔۔” وہ دونوں دبے قدموں ان لوگوں کی طرف بڑھنے لگے
میجر احمد چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اسے دو آدمی نظر آئے وہ دبے قدموں ان کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا اپنے سامنے موجود آدمی کو پیچھے سے پکڑ کر بڑی تیزی اس کے گلے پر چاقو پھیرنے کے بعد دوسرے کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر اس پر بھی حملہ کردیا ۔
میجر احمد اور دلاور تقریباً چھ افراد کو ٹھکانے لگا چکے تھے اب سامنے ہی لکڑیاں سلگ رہی تھی وہ دونوں چوکنا انداز میں چلتے ہوئے ادھر پہنچے ہی تھے کہ میجر احمد کو اپنی کنپٹی پر بندوق کی نال رکھی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔

” یہی رک جاؤ ۔۔۔”
————————————————————————

” آنکھیں ڈرون ہوگی ہیں ۔۔۔۔۔” سرمہ خان گنگناتے ہوئے منھ میں نسوار پر نسوار ڈالے جا رہا تھا نشہ چڑھ رہا تھا جب اسے سامنے سے ایک آدمی آتا نظر آیا چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد ورزشی جسامت وہ دور سے ہی ہزاروں میں ایک نظر آرہا تھا جیسے جیسے وہ نزدیک آرہا تھا سرمہ خان کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔

” ارے یہ تو وہ اپنا فوجی والا جوان ہے بخیر بخیر ۔۔۔۔” وہ اب اسے پہچان چکا تھا ۔۔

” خوچہ آؤ میری آنکھوں میں دیکھو ، میرا دل بم جیسا ہے تم آکر تباہ کردو ۔۔۔” سرمہ خان ایک جذب سے بولتا ہوا اٹھا

” تم میں ام کو امارا دلہن نظر آتا ہے ۔۔۔” وہ آنکھ میچ کر مسکرایا

اس جوان کے چہرے پر اس کی بات سن کر سرخی سی چھا گئی ۔۔

” ام تم کو اپنی نسوار سے بھی زیادہ عزیز رکھے گا ۔۔۔” سرمہ خان نے اپنی چاہت کا احساس دلایا

ابھی وہ میجر احمد کے دلکش خوابوں میں کھویا ہوا تھا جب کسی نے اسے جھنجھوڑا

” سرمہ خاناں اٹھو ہمارے چھ آدمی مارے گئے ہیں دشمن چھپ کر وار کررہی ہے ۔۔۔” اس کا ساتھی اسے جگا رہا تھا

” کون دشمن ؟؟ ” سرمہ خان سیدھا ہوا

” وہی جوان جسے آپ ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔”

” وہ امارا دلدار ؟؟ کدر ہے ام کو بتاؤ ۔۔۔”

“بڑا ہی خطرناک دلدار چنا ہے خان نے ۔۔۔”سرمہ خان کا ساتھی بڑبڑایا

” اس کی ساری اکٹر سارا خطرناک پن ام نکال دے گا بس وہ ایک بار امارے ہاتھ لگ جائے قسم نسوار کی تیر کی طرح سیدھا کر کے گھر بٹھائے گا اسے ۔۔۔۔”سرمہ خان نے اپنی گن اٹھائی

” پیچھے دیکھو خان وہ دلدار ادھر ہمارے آدمی لوگ کو مار رہا ہے ۔۔۔”

سرمہ خان نے مڑ کر دیکھا جہاں دلاور اور احمد اس کے ساتھیوں سے لڑ رہے تھے اس نے اپنے ساتھیوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور خود دبے قدموں چلتے ہوئے اس کے بالکل پیچھے جاکر اپنی گن اس کی کنپٹی پر رکھ دی ۔

” یہی رک جاؤ میرے ڈرون محبوب ورنہ ام تم کو کچا چبا جائیگا ۔۔۔” سرمہ خان اور اس کے ساتھی ان دونوں کو چاروں طرف سے گھیر چکے تھے

” انہیں ڈیرے پر لے کر چلو ۔۔۔۔” اس نے حکم دیا

” دیکھو میرا جان ام ابھی تمہیں اڈے پر لے جا کر سبق سکھائے گا پھر تم کو اپنے ساتھ جنت کی سیر بھی کروائے گا دم پخت بھی کھلائے گا ۔۔۔”

اس خطرناک سچویشن میں بھی دلاور سے سرمہ خان کی بات ہضم نہیں ہوئی یہ دھمکی تھی پیار تھا کیا تھا کچھ سمجھ نہیں آیا اور اسے اچھو لگ گیا

” یہ تو اب میجر احمد سے سبق حاصل کرکے رہے گا ۔۔۔” وہ میجر احمد کا ضبط سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر سوچ رہا تھا

———————————————————————

موحد کمشنر صاحب کے گھر پہنچ چکا تھا اور اب وہ انہیں اس مجرم کا سیل فون اور اس پر آئے میسجز دکھا رہا تھا

” ہمم یہ بہت بڑا گیم ہے جب سے فوج نے ان کے اڈے تباہ کئیے ہیں اب یہ پختون بچاؤ کی مہم کی آڑ میں چھپ کر یہ سب کام کررہے ہیں ان کی وجہ سے ہمارے پختون بدنام ہورہے ہیں ۔۔۔”

” سر میرے لئیے کیا حکم ہے ؟؟ ” موحد نے ادب سے سوال کیا
” سرکاری حکم کے مطابق بم دھماکہ کیس کی سماعت تو پشاور ہائی کورٹ میں ہی ہوگی میں صبح ہوتے ہی اگلے ہفتے کی تاریخ لے لیتا ہوں ، کل تمہارا نکلنا مناسب نہیں لگ رہا کیا پتہ دشمنوں نے کیا جال بچھایا ہوا ہے ۔۔”

“اور ان دونوں کا کیا کرنا ہے ؟ ” موحد نے گاڑی میں بیہوش پڑے مجرموں کے بارےمیں پوچھا

” انہیں یہی چھوڑ دو میں نظام کو فون کرتا ہوں کوشش کرتے ہیں اگر یہ وعدہ معاف گواہ بن کر ہماری مدد کرسکیں ۔” کمشنر صاحب نے سنجیدگی سے کہا

“اوکے سر جیسے آپ کہیں ، اب اجازت دیجئے ۔” موحد جانے کی اجازت لیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا

” موحد !! تم جیسے جوان اس ملک کا اثاثہ ہیں ۔۔”
I am very Proud on you young man ..
تم نیکسٹ ویک اس بم دھماکہ کیس کے ملزم کو پشاور ہائیکورٹ اپنی نگرانی میں لے کر جا رہے ہو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا ۔۔۔”

” یس سر !! ” موحد نے غور سے ان کی بات سن کر سر ہلایا اور مصافحہ کر کے باہر نکل گیا

اب اس کا رخ اپنے گھر کی طرف تھا جہاں اس کے دل کا سکون علیزے اس کا انتظار کررہی تھی ۔
————————————————————————

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: