Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 8

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 8

–**–**–

کمشنر صاحب کی ریذیڈینسی سے نکل کر موحد نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا صبح کے چار بجنے والے تھے وہ تیزی سے چلتا ہوا اپنی جیپ تک پہنچا چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوئے اس نے جیپ کا دروازہ کھولا اور اب اس کا رخ اپنے گھر کی طرف تھا ۔گاڑی چلاتے ہوئے وہ مسلسل اپنے اپنے تعاقب کا خیال رکھ رہا تھا لیکن دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا اچھی طرح مطمئن ہونے کے بعد وہ گھر پہنچا تو واچ مین نے اسے دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا ۔

” رازق خان کام ٹھیک ہوگیا ؟ کوئی مشکل تو نہیں ہوئی ؟ ” موحد نے سوال کیا

” نہیں سر آپ بے فکر رہیں ویگن سے سارے شواہد مٹا کر اسے ڈیم کے پاس دریا میں ڈبو دیا ہے ۔۔۔” رزاق خان نے رپورٹ دی

” ہمم بہت شکریہ رزاق خان ۔۔” اس نے ریٹائرڈ سپاہی اپنے بااعتماد واچ مین رزاق خان کا کندھا تھپتھپایا اور اندر گھر میں باہر سے لاک کھول کر داخل ہوا

اس کے کمرے میں علیزے ٹہری ہوئی تھی اس وقت اسے اپنے کمرے میں جانا مناسب نہیں لگا وہ پرسوچ نگاہوں سے اوپر سیڑھی کی جانب دیکھتے ہوئے نیچے احمد کے روم میں چلا گیا ۔

آج کے دن کا آغاز بہت خوبصورت ہوا تھا اور شام کو علیزے کے ساتھ نے اسے بہترین بنادیا تھا لیکن پھر ان آدمیوں کی وجہ سے اسے علیزے کو اس طرح اکیلے چھوڑ کر جانا پڑا تھا ۔

” وہ ڈرپوک لڑکی تو اکیلے گھر میں ڈر ڈر کر سوئی ہوگی ویری سوری علیزے ۔۔۔” وہ سوچتا ہوا واش روم میں فریش ہونے کیلئے چلا گیا

منھ ہاتھ دھو کر اس نے ڈریسنگ روم میں کیبنٹ سے احمد کا ٹنگا ہوا نائٹ سوٹ نکالا دونوں بھائیوں کا قد جسامت تقریباً ایک جیسی ہی تھی جس کا وہ اکثر فائدہ اٹھا لیا کرتا تھا لباس تبدیل کرتے ہوئے اسے اپنی جیکٹ کی جیب میں پڑے جیولری باکس کا خیال آیا اس نے آرام دہ لباس پہن کر جیولری باکس جیب سے نکالا اور کمرے میں آکر بیڈ پر بیٹھ کر جیولری باکس کو کھولا اندر
نازک سی پائل کا جوڑا جگمگا رہا اس نے ایک پائل نکال کر ہاتھ میں لی اس کی نظروں میں علیزے کے صاف شفاف گلابی پیر لہرا گئے ۔۔

” یہ پائل لگتا ہے بنی ہی تمہارے لئیے ہے ۔۔۔”

اس کی آنکھوں میں کئی خوشنما خواب لہرا گئے تھے اس نے پائل واپس باکس میں رکھی اور سونے لیٹ گیا پر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی دل بار بار ہمک کر ایک نظر علیزے کو دیکھنے کا چاہ رہا تھا لیکن یہ وقت مناسب نہیں تھا کچھ دیر بعد اس کے حساس کانوں میں اوپر کی منزل پر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی وہ چونک کر اٹھا سائیڈ میز پر سے اپنا سروس ریوالور اٹھا کر دبے قدموں باہر نکلا سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ اوپر کی سمت بڑھا اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اندر سے مدھم سی روشنی باہر آرہی تھی وہ احتیاط سے آگے بڑھا دھیرے سے پستول پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے دروازہ کھولا ۔اندر داخل ہوا پورا کمرہ خالی تھا وہ بیڈ کی سمت بڑھا بستر پر ایک شکن بھی نہیں تھی یعنی علیزے لیٹی ہی نہیں تھی اس کے چہرے پر تفکرات چھانے لگے تھے تبھی بیڈ کی دوسری سائیڈ سے علیزے سجدہ کرنے کے بعد کھڑی ہوئی اس نے نیت باندھی ہوئی تھی موحد نے وقت دیکھا اور ایک پرسکون گہرا سانس لیتے ہوئے وہی صوفے پر بیٹھ کر اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔
———————————————————————–

موحد کو گئے ہوئے بہت دیر ہوچکی تھی علیزے اپنے کالج بیگ سے سفید چادر نکال کر نماز کے اسٹائل میں لپیٹ کر جائے نماز بچھا کر عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد اس کی حفاظت کے لئے نوافل کی نیت کرچکی تھی ۔نوافل ادا کرنے کے بعد پتہ نہیں کب جائے نماز پر بیٹھ کر تسبیح پڑھتے پڑھتے اسے نیند کے جھونکے نے آ لیا تھا ۔کچھ دیر بعد ہڑبڑا کر اس کی آنکھ کھلی اس نے پاس پڑا اپنا سیل فون اٹھا کر ٹائم دیکھا رات اپنے اختتام کو تھی اس نے فون کانٹیکٹ میں موحد کا نمبر نکالا مگر چاہنے کے باوجود وہ اس وقت کال کرنے کی ہمت نہیں کرسکی ۔ وہ جائے نماز کا کونا موڑ کر اٹھی اس کا ارادہ وضو کرکے تہجد پڑھنے کا تھا ۔
وضو کرنے کے بعد وہ کمرے سے اس امید پر باہر نکلی کہ شاید موحد آگئے ہوں لیکن پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس اندھیرے میں اکیلے گھر میں اس کی نیچے جانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی اور وہ جو صرف چار سیڑھیاں ہی اتری تھی دوبارہ پلٹ کر موحد کے کمرے میں چلی گئی اور اب وہ نماز کے بعد آنکھیں بند کئیے بڑے جذب سے اس کے باحفاظت لوٹ آنے کی دعا مانگ رہی تھی ۔
موحد بہت غور سے سفید چادر میں لپٹے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا وہ آنکھیں بند کئیے اللہ سے راز و نیاز میں مصروف تھی اس کی گھنیری سیاہ پلکیں بھیگنے لگی تھیں وہ دھیرے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور علیزے کے پاس آکر دوزانو ہو کر بیٹھ گیا

” علیزے !! جاناں !! میں آگیا ہوں پلیز رونا نہیں ۔۔۔” اس نے اپنی شہادت کی انگلی سے علیزے کی بھیگتی پلکوں کو نرمی سے چھوا ۔

علیزے نے اس کی آواز سن کر ایک سکون سا اپنے اندر پھیلتا محسوس کیا موحد کی انگلیوں کا لمس اس کے چہرے کی سرخی بڑھا گیا تھا اس نے دھیرے سے اپنی گھنیری پلکوں کا جال اٹھا کر اسے دیکھا ابھی کچھ دیر پہلے وہ اس کی فکر میں بے حال تھی اور اب اسے اپنے سامنے پاکر اسے اپنے اندر ایک توانائی سی ابھرتی محسوس ہورہی تھی ۔

” کیا ہوا ؟؟ ” موحد نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی
وہ جو ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھے جارہی تھی چونک کر نظریں جھکا گئی اب اس کے چہرے پر خفت اور شرمندگی کے رنگ تھے

” تم سوئی کیوں نہیں ؟؟ ” موحد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جائے نماز سے اٹھایا

” آپ گھر پر نہیں تھے فون بھی نہیں کیا تو مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔” وہ سادگی سے بولتے ہوئے اس کا دل چرا رہی تھی

” سوری میری وجہ سے تم رات بھر پریشان رہی لیکن علیزے یہ سب میری جاب کا حصہ ہے اس وطن سے محبت میری رگ رگ میں بسی ہے اور یار تم ایک پولیس والے کی وائف ہو اپنے آپ کو مضبوط بناؤ کل اگر مجھے کچھ ہو گیا تو ؟ میں فرض کی راہ میں شہید ہوگیا تو ؟؟ تمہیں چھوڑ گیا تو ” وہ گھمبیر لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا
اس کی بات سن کر علیزے کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرا چھپا کر رونا شروع کردیا ۔۔۔

” آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ آپ اتنے سنگدل کیسے ہوسکتے ہیں مجھے ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ ۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے شکوہ کررہی تھی ۔

موحد نے ایک گہرا سانس لے کر اس کے سرد پڑتے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے کر نرمی سے اس کے چہرے سے ہٹا کر اس کی سرخ آنکھوں میں جھانکا

” علیزے گڑیا میں بس ایک جنرل بات کررہا ہوں ، میں تمہیں مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں اتنا مضبوط کہ تم آنے والی لڑکیوں کے لئیے مثال بن کر ابھرو ۔۔۔”

” آپ مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نا ؟؟ ” اس کے لہجے میں اندیشے بول رہے تھے

” کبھی نہیں بھلا کوئی اپنی جان کو بھی چھوڑتا ہے ؟؟ ” وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا

” ہاں لیکن اگر وقت شہادت آگیا تو میں اسے لبیک کہونگا ۔۔” اس کا لہجہ مضبوط تھا

علیزے نے دہل کر اسے دیکھا اس کا دل رک سا گیا تھا وہ ایک فوجی خاندان کی بیٹی تھی فرض کی اہمیت کو جانتی تھی لیکن دل تو دل ہی تھا جو اس وقت خزاں رسا پتے کی طرح لرز رہا تھا ۔

” آپ کیوں میری جان لینے پر تلے ہوئے ہیں یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ میں اپنا خیال رکھوں گا ۔۔۔۔” وہ ناراضگی سے بولی
موحد نے دلچسپی سے اس کا خفا خفا سا دلربا سا روپ دیکھا اس کے وجیہہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ در آئی تھی
” علیزے جاناں تم فکر مت کرو ، میں اپنا ڈھیر سارا خیال رکھوں گا اور ویسے بھی جب تک میں تمہاری دعاؤں کے حصار میں ہوں تب تک مجھے کچھ نہیں ہونے والا اور ابھی تو مجھے ڈھیر سارا تمہارے ساتھ جینا ہے ، ہمارے پیارے پیارے بچوں کے ساتھ مل کر تمہیں تنگ کرنا ہے ۔۔۔۔” اس کے گھمبیر لہجے میں جذبات بول رہے تھے انکھوں میں مستقبل کے حسین خواب چمک رہے تھے ۔وہ علیزے کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتا ہوا اس پر جھکا ہی تھا کہ
وہ جھینپ کر پیچھے ہٹی ۔۔۔

” جاؤ لڑکی تمہارا شوہر تھکا ہارا گھر آیا ہے کوئی چائے پانی کا اہتمام کرو اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے اچھا سا ناشتہ بناؤ ، پراٹھا قیمہ آملیٹ وغیرہ وغیرہ آخر آج خوش قسمتی مجھے اپنی بیوی کے ہاتھ کا ناشتہ نصیب ہوگا ۔۔۔۔” وہ ٹرانس سے نکلتے ہوئے ماحول کو بدلتے ہوئے بستر پر گرتا ہوا بولا

” آپ آرام کریں میں ناشتہ بنا کر آپ کو بلا لونگی ۔۔۔” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کمرے سے نکلنے لگی

” سنو ۔۔۔” موحد نے جاتی ہوئی علیزے کو آواز دی

” جی ۔۔۔” وہ پلٹی

” اکیلے کچن میں ڈرو گی تو نہیں ؟ میں ساتھ چلوں کیا ؟ ” وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا

” نہیں آپ تھکے ہوئے ہیں آرام کریں ناشتہ بننے میں ٹائم لگے گا اور ویسے بھی جب آپ کا احساس ساتھ ہے تو ڈر کس بات کا ۔۔۔” وہ مدھم سروں میں بولتی ہوئی لائٹ آف کرکے کمرے سے باہر نکل گئی
_____________________________________________

چمن !!
میجر احمد سیدھا کھڑا سرمہ خان کی بکواس سن رہا تھا

” دیکھو میرا جان ام ابھی تمہیں اڈے پر لے جا کر سبق سکھائے گا پھر تم کو اپنے ساتھ جنت کی سیر بھی کروائے گا دم پخت بھی کھلائے گا ۔۔۔”

اس خطرناک سچویشن میں بھی دلاور سے سرمہ خان کی بات ہضم نہیں ہوئی یہ دھمکی تھی ، پیار تھا ، کیا تھا کچھ سمجھ نہیں آیا اور اسے اچھو لگ گیا

دلاور کی ہنسی سن کر میجر احمد نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا

” اوئے دلبر تم ایسے اپنی نظروں سے ڈرون والا حملہ کروگی تو امارا جان نکل جائیگی ۔۔۔” سرمہ خان اس کی گھورتی نظروں پر فدا ہوا

” خان یہ دونوں مشکوک ہیں تم بولے تو ام ان کو گولی مار دیتا ہے ۔۔۔” سرمہ خان کا آدمی کینہ توز نظروں سے ان دونوں کو گھورتا ہوا بولا

” اوئے خانہ خراب اتنا حسین لڑکا لوگوں کو گولی نہیں مارتے گناہ ملتا ہے ان کو تو اڈے پر لے کر چلو وہاں سے جو سرکار کا حکم آئے گا اس پر عمل کرلینگے ۔۔۔” سرمہ خان بولتے ہوئے میجر احمد کے نزدیک آیا

” خوچہ تمارا قد کاٹھی بوت اچھی ہے ۔۔۔” اس نے ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے میجر احمد کے بازوؤں پر ہاتھ پھیرا
میجر احمد سختی سے اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے پیچھے ہٹا اور اسے خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا

” اب تم ام کو ایسے دیکھتا ہے تو امارا دل خانہ خراب میں کچھ کچھ ہوتا ہے ۔۔۔۔” سرمہ خان نے شکوہ کیا

” سر جی آپ کی اس لیلی کو ڈوز کی ضرورت ہے شروع کروں کیا ؟؟ ” دلاور نے انگلش میں پوچھا

” نہیں ہمیں ان کے اڈے تک پہنچا ہے ۔۔۔” میجر احمد سرد ٹھنڈے لہجہ میں سرمہ خان کو گھورتے ہوئے بولا

” دیکھو خوچہ لوگ یہ کافروں کی زبان میں بات مت کرو ورنہ امارا دماغ گھوما تو ام تم کو ادر ہی زمین میں زندہ گاڑ دے گا پھر شکایت مت کرنا ام سے !! محبت اپنی جگہ اور کافر کا مارنا اپنی جگہ ۔۔۔” سرمہ خان نے پیار سے ان دونوں کو اپنی دانست میں سمجھایا

“دور ہٹ کر بات کرو ۔۔۔” میجر احمد نے سرمہ خان کو وارن کیا

” او دلبر جان !! کیوں روٹھی محبوبہ بن رہی ہے ؟؟ ایسے ناراض ہو کر کیوں امارے دل پر بار بار بم دھماکہ کرتے ہو ڈرون حملہ کرو نا ام کو مزا آئیگا ۔” سرمہ خان نے آنکھ مارتے ہوئے انہیں آگے چلنے کا اشارہ کیا

وہ دونوں ان کی بندوقوں کے نرغے میں چلتے ہوئے درختوں کے جھنڈ سے باہر نکلے جہاں چار بڑی جیپ گاڑیاں کھڑی ہوئی تھی ۔۔

” سر ابھی بھی وقت ہے سوچ لیں ورنہ ادھر جا کر اگر آپ کو یہ الگ کمرے میں لے گیا تو میں کیسے آپ کی عزت کی رکھوالی کر پاؤں گا ۔۔۔” دلاور شرارت سے اس کے پاس سے گزرتا ہوا بولا
میجر احمد نے خونخوار نظروں سے دلاور کو گھورا جسے بے وقت کا بیہودہ مذاق سوجھ رہا تھا

” ظالم نظروں سے تم نا مجھ کو دیکھوں مرجاؤ گا
او سرمہ خان کی جاناں میں مر جاؤنگا ۔۔۔” دلاور گنگنایا

” او خوچہ تم کیا گاتا ہے ام خوش ہوا ۔۔۔۔” آگے چلتا سرمہ خان دلاور کا گانا سن کر جھوم جھوم گیا

ان دونوں کو ایک ہی گاڑی میں بٹھا کر ان کے دائیں بائیں مسلحہ افراد چوکس بیٹھ گئے سرمہ خان نے فرنٹ سیٹ سنبھالی اور سب گاڑیاں آگے پیچھے روانہ ہو گئیں

” ام کو وہ گانا لگا کر دو ظالم ۔۔۔
الک دے سمرا خکلے
ذڑگے رانا وڑے”
سرمہ خان نے ڈرائیور سے فرمائش کی اور زور زور سے گاڑی میں پشتو سانگ بجنے لگا

” سر آپ کو اس گانے کا مطلب پتہ ہے ؟؟ ” دلاور نے سوال کیا
” مجھے پشتو آتی ہے ۔۔۔” میجر احمد نے ری لیکس ہو کر جواب دیا

” پھر بھی سر میں آپ کو مطلب سمجھا دیتا ہوں ۔۔۔” دلاور مکمل شرارت کے موڈ میں تھا

” سر اس گانے میں شاعر اوپس سوری سر !! سرمہ خان کہہ رہا ہے

یہ لڑکا بہت پیارا ہے
میرا دل لے اڑا ہے یہ لڑکا ۔۔۔۔”

وہ دونوں پرسکون انداز میں آپس میں باتیں کررہے تھے جیسے کہ یہ ان کا روز کا معمول ہو دشمن کے چنگل میں پھنس جانے کی انہیں کوئی فکر نہیں تھی کوئی ڈر نہیں تھا ۔ویسے بھی وطن کی مٹی کے یہ رکھوالے سر سے کفن باندھ کر نکلے تھے اور جن کے سر پر کفن ہو انہیں سوائے شہادت کے اور کوئی طلب نہیں ہوتی تو پھر اس راہ میں کیا ڈرنا ۔۔۔۔

_____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: