Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Episode 9

0
دشت وفا از سیما شاہد – قسط نمبر 9

–**–**–

علیزے کچن میں جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی یہ کچن یہ گھر اس کیلئے اجنبی ہرگز نہیں تھا یہ اس کے تایا کا گھر تھا جہاں وہ نکاح سے پہلے اکثر آیا کرتی تھی تائی امی کے شانوں سے لٹک کر اس کا فرمائشی پروگرام جاری رہتا تھا۔اس کی اپنی ماما اسے ڈانٹنا شروع کرتی تھیں اور تائی اپنی پرشفقت آغوش میں اسے لیکر ماما کو ٹوک دیا کرتی تھیں ۔
بڑی ہی خوشگوار یادیں وابستہ تھی اس گھر سے اس کے مکینوں سے ، علیزے نے اپنی آنکھوں سے نمی کو صاف کیا اور فرج سے قیمہ نکال کر بھوننا شروع کیا ایک گھنٹے میں وہ قیمہ آملیٹ پراٹھے اور چائے بنا کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھ چکی تھی ایپرن اتار کر ہاتھ دھونے کے بعد وہ موحد کے کمرے کی جانب بڑھی ۔

کمرے کا دروازہ ناک کرکے اندر داخل ہوئی تو وہ نیم غنودگی میں آنکھیں بند کئیے اڑھا ترچھا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا وہ دھیرے سے چلتی ہوئی اس کے نزدیک آکر کھڑی ہو گئی

” موحد ۔۔۔۔” علیزے نے آہستگی سے پکارا

” ہوں۔۔۔” وہ بند آنکھوں کے ساتھ اس کی موجودگی محسوس کرکے مسکایا

” اٹھیں ناشتہ کرلیجئے پھر آرام سے سو جائیے گا ۔۔۔” علیزے نے اس کی تھکن محسوس کرتے ہوئے نرمی سے اسے اٹھانا چاہا

وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھا

” آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ آنکھیں بھی دیکھیں کتنی ریڈ ہو رہی ہیں ۔۔۔” علیزے نے پریشانی سے اسے دیکھا

” میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا سر میں درد ہورہا ہے ابھی تمہارے ہاتھوں کی بنی اسٹرانگ سی چائے پیونگا تو سارا درد بھاگ جائے گا ۔۔۔” وہ رات بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد اب تھک چکا تھا تین دن سے اسے ایک لمحہ آرام کا نہیں ملا تھا

” کیا بہت زیادہ درد ہورہا ہے ؟؟ ” اب کے علیزے کی آنکھوں میں اس کے درد کے احساس سے نمی چمکنے لگی تھی

” نہیں چلو تم ناشتہ لگاؤ میں دو منٹ میں فریش ہوکر آتا ہوں ۔۔۔” وہ دوبارہ بیڈ پر نیم دراز ہوگیا

علیزے نے پرتفکر انداز میں اسے دیکھا جو دوبارہ آنکھیں موند چکا تھا وہ چاہ کر بھی اسے یہ نہیں بتا پائی کہ ناشتہ وہ لگا کر آئی تھی وہ پلٹی اور لائٹ آف کرکے دبے قدموں سے چلتی ہوئی اس کے نزدیک آکر بیڈ کے پاس قالین پر دوزانو ہو کر بیٹھ گئی اور سر پر دوپٹہ درست طریقے سے لپیٹ کر اس نے اپنی نازک ہتھیلیوں سے اس کے سر کو دبانا شروع کردیا ساتھ ہی ساتھ وہ آنکھیں بند کئیے قرآنی آیات زیر لب پڑھتے ہوئے اس پر دم کرنے لگ گئی تھی۔

وہ صرف دو منٹ کیلئے ہی لیٹا تھا جب علیزے لائٹ آف کرکے اس کے پاس آئی اس کی نرم ہتھیلیوں کا لمس سکون بن کر اس کی رگ رگ میں اترا تھا اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اس کی علیزے آنکھیں بند کئیے اس پر دم کررہی تھی یہ احساس ہی اس کیلئے بہت تھا کہ اس کی چاہت اس کی منکوحہ کو اس کی فکر ہے اس کا احساس ہے وہ اس کی دعاؤں کا اس کی چاہت کا مرکز ہے علیزے کی محبت پر اسے اپنے آپ پر رشک محسوس ہوا اور اس کے سادہ ملیح چہرے کو نظروں میں بساتے ہوئے وہ پرسکون نیند کی وادی میں اتر گیا جہاں وہ تھا اور اس کی علیزے ۔۔۔۔۔
____________________________________________

چمن !!

ان دونوں کے نیچے اترنے کے بعد قانتا نے دو منٹ ویٹ کیا پھر بڑے آرام سے اپنے شٹل کاک برقعے کو سمیٹ کر درخت کی دوسری سمت سےچاروں طرف اچھی طرح سے دیکھ بھال کر کے جمپ لگائی اور سیدھی زمین پر گری اٹھ کر اپنے ہاتھ جھاڑے اور آگے بڑھی ہی تھی کہ اسے دور میجر احمد اور دلاور کچھ علاقائی افراد سے لڑتے ہوئے نظر آئے دونوں کا انداز کمانڈو ایکشن والا تھا وہ مخالف سمت میں چلنا شروع ہوئی ۔
درختوں کے جھنڈ سے نکلی تو سامنے ہی چار بڑی جیپیں کھڑی ہوئی تھی وہ سارے کتنے احمق تھے اپنی گاڑیاں بنا کسی گارڈ کے باہر چھوڑ کر اندر تھے وہ ان کے احمقانہ پن کو سوچتی ہوئی ایک جیپ کی طرف بڑھی اس کا ارادہ جیپ چرا کر یہاں سے بھاگ جانے کا تھا جیپ کا دروازہ کھول کر وہ اچک کر اندر داخل ہوئی اب وہ اگنیشن کے پاس وائر ڈھونڈ رہی تھی جب جیپ میں موجود وائرلیس پر پشتو میں ایک بھاری مردانہ آواز گونجی ۔۔
” سرمہ خان ۔۔۔۔۔”
” سرمہ خاناں کابل میں رابطہ کرو ۔۔۔۔”

ٹرانسمیٹر کچھ دیر کے بعد خود بند ہوگیا قانتا کابل کا سن کر چونک گئی اس کی معلومات کے مطابق ان کے لیڈر عبدل الفاتح کو اغوا کر کے افغانستان ہی لے جایا گیا تھا اب وہ جلدی جلدی جیپ کی تلاشی لے رہی تھی باری باری ساری گاڑیوں کو اس نے چیک کیا سب کی سب اسلحہ بارود سے بھری ہوئی تھی اس نے اپنی پسند سے ایک گن نکال کر اپنے برقعے کے اندر جیب میں رکھی سائیڈ سیٹ پر پڑی جدید دوربین اٹھائی اور چند دستی بم اٹھا کر وہ بڑے آرام سے گاڑیوں سے تھوڑی دور جا کر ایک درخت کو منتخب کرکے اس پر چڑھ گئی اب وہ نائٹ وژن دوربین سے ان لوگوں کو ٹریس کرنے کی کوشش کررہی تھی اس کا ارادہ ان سب کو مار کر اس سرمہ خان کو اپنے قبضے میں کر کے انفارمیشن اگلوانے کا تھا ۔کچھ ہی دیر میں
اسے سرمہ خان اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ میجر احمد اور دلاور نظر آچکے تھے ۔

” یہ جس پوزیشن میں کھڑے ہیں بڑی آسانی سے داؤ لگا کر اس سرمہ کی گردن پکڑ سکتے ہیں تو یہ ایسا کیوں نہیں کررہے ؟؟ ” وہ پرسوچ انداز میں انہیں دیکھ رہی تھی
” شٹ یہ تو ان کے ساتھ ادھر ہی آرہے ہیں ۔۔۔۔” وہ تیزی سے جمپ لگا کر درخت سے اتری اور دوڑتی ہوئی گاڑیوں کی طرف بڑھی ایک گاڑی کی ڈگی میں خاصی خالی جگہ وہ پہلے ہی نوٹ کر چکی تھی تیزی سے گٹھری کی طرح خود کو سمیٹ کر ڈگی میں چھپ کر وہ لیٹ گئی

وہ سب شاید گاڑیوں میں سوار ہوچکے تھے سفر شروع ہوچکا تھا اور قانتا کو ابھی تک ان دونوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی جو بڑی آسانی سے خود کو ان دشمنوں کے حوالے کئیے بیٹھے تھے ۔

” کیا یہ واقعی یرغمال بن چکے تھے یا یہ کوئی ان کا پلان ہے ۔۔۔۔” وہ مسلسل سوچ رہی تھی
______________________________________________

سفید شلوار پر گھیر دار گلابی فراک پہنے دوپٹہ کاندھے پر لٹکائے وہ خود بھی اس گلابی شام کا حصہ لگ رہی تھی اس کے لمبے سنہرے گھونگریالے بال پشت پر پھیلے ہوئے تھے وہ بلاشبہ ان کے خاندان کی سب سے حسین پر ضدی لڑکی تھی انہیں اس میں انہیں اپنے بیٹے شہید کرنل شیر کی جھلک دکھائی دیتی تھی وہ چاہتے ہوئے بھی پلوشہ پر کوئی سختی نہیں کرپارہی تھیں ۔۔

” پلوشہ !! ” انہوں نے آواز لگائی

“پلوشہ۔۔زما خکلے لورے دننا راشہ۔”( پیاری بیٹی اب اندر آجاؤ ۔۔)

پلوشہ جو کب سے چھت پر دھوپ سینکنے کے بہانے آکر زلمے خان کی بیٹھک پر نظر رکھی ہوئی تھی جہاں زلمے خان سمندر خان اور چند غیر ملکی موجود تھے مورے کی آواز سن کر چونک گئی

” آئی مورے ۔۔۔۔۔” وہ پلٹی اب اس کا ارادہ تایا زلمے کے باہر بنے بیٹھک نما کمرے کی طرف جا کر ٹوہ لینے کا تھا

” جی مورے کیوں بلا رہی تھیں ؟؟ ” وہ تخت پر مٹر چھیلتئی مورے کے پاس آئی

” تمہیں کتنی بار منع کیا ہے اس ٹائم بال کھول کو چھت پر مت جایا کرو جن چمٹ جاتا ہے اور پھر اگر تمہارے زلمے تایا نے تمہیں چھت پر دیکھ لیا تو وہ بھی غصہ کریگا ۔۔۔” انہوں نے اس ٹوکا

” مورے مجھے باہر دالان میں جانا ہے ۔۔۔۔” وہ ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولی

” اے لو میں کیا کہہ رہی ہوں اور تم کیا سن رہی ہو ؟؟ لور۔ باہر زلمے سے ملنے مرد آئے ہوئے ہیں وہ ناراض ہوگا ۔۔۔” مورے نے پلوشہ کو ٹوکا

” میرا دل گھبرا رہا ہے بابا یاد آرہے ہیں ابھی وہ ہوتے نا تو مجھے باہر جانے سے کبھی بھی نہیں روکتے ۔۔۔۔” وہ روٹھے لہجے میں بولی

” لورے اگر شیر یاد آرہا ہے تو جاؤ اس کیلئے قرآن پڑھو نفل پڑھو یہ باہر جانے کی کیا تک ہے ۔۔۔۔”

پلوشہ نے ناراض نظروں سے اپنی دادی کو گھورا جو کسی بھی طرح اس کے جھانسے میں نہیں آرہی تھی اور پلٹ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھی اندر پہنچ کر اس نے دروازہ بند کیا اور اپنا سیل فون نکال کر کیپٹن حمید کو کال ملانے لگی ۔۔

———————————————————————–

کیپٹن حمید کافی دیر سے سیف ہاؤس میں بیٹھا میجر احمد اور ایجنٹ دلاور سے رابطے کی کوشش کررہا تھا آخری رابطے پر ان دونوں نے ہی اسے وہی سیف ہاؤس میں رکنے کی ہدایات دی تھیں رات ہورہی تھی جب اس کا سیل فون بجا

” شیرنی کالنگ ۔۔۔۔”

” اب اس وقت اس کو کیا ہوگیا ۔۔۔” وہ نمبر دیکھ کر بڑبڑایا اور فون کو کان سے لگاتے ہوئے کال ریسیو کی

“کیپٹن ؟؟ ”

” ظاہر ہے کیپٹن کو کال ملائی ہے تو کیپٹن ہی بول رہا ہوں ۔۔۔”

” اتنا لمبا جملہ بولنے کی بجائے تم سیدھا یس یا جی میڈم بھی بول سکتے تھے ۔۔۔” پلوشہ تپ اٹھی

” بولو کیا بات ہے ؟؟ ” وہ اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا پوائنٹ پر آیا

” زلمے تایا کی بیٹھک میں مہمان ٹہرے ہوئے ہیں آج ہی آئے ہیں تین غیر ملکی ہیں اور شکل سے پکے خبیث ، ایک تو ہندوستانی لگ رہا ہے اور باقی دو گورے ہیں شاید یہودی ہیں ۔۔۔” وہ پرجوش انداز میں بولی

” تو ؟؟ ” حمید نے سنجیدگی سے پوچھا

” تو کیا مجھے ان کی باتیں سننی ہیں اور مورے باہر پہرا لگا کر بیٹھ گئی ہیں ۔۔۔” اس نے اپنی پریشانی بیان کی

” تو پھر میں کیا کروں اس سب میں ؟؟ ” حمید نے ٹہرے ہوئے لہجے میں پوچھا

” حمید وہ لوگ جب آئے تھے میں باہر تھی اور وہ بار بار انڈیا کا ہنس ہنس کر نام لے رہے تھے بس اب تم جلدی سے آکر ان کی باتیں پتہ کر کے مجھے بتاؤ ورنہ مجھے کھڑکی سے کود کر مردان خانے جانا پڑیگا ۔۔۔”

” پلوشہ !! تم نے مجھے بتایا کافی ہے خبردار جو تم مردانے میں گئیں ۔۔۔”

” اوکے تو پھر تم آرہے ہو ؟؟ میں پچھلا دروازہ کھول دوں ۔۔۔؟”

” نہیں اب خدا کیلئے تم اس سب کو بھول جاؤ مار خور جاگ رہا ہے وہ دیکھ لیگا ۔۔۔” حمید نے فون بند کیا

اس کے چہرے پر سوچ و تفکر کی لکیریں چھائی ہوئی تھیں زلمے خان کے پاس غیر ملکیوں کا رات کو آنا ہرگز نظر انداز کئیے جانے کے قابل نہیں تھا وہ جو دو راتوں سے جاگا ہوا تھا اپنے آرام کو پس پشت ڈالتے ہوئے اٹھا اور زلمے خان کے ڈیرے کی طرف روانہ ہوا اپنی بوسیدہ بائیک کو دور چھوڑ کر وہ چادر لپیٹے گلیوں سے گزرتا ہوا اپنے ٹارگٹ مقام تک پہنچا چاروں اطراف دیکھتے ہوئے دیوار پر ہاتھ رکھ کر اچھل کر اندر داخل ہوا یہ چار پانچ کمروں پر مشتمل ڈیرہ بنا ہوا تھا جس کا ایک رخ حویلی کے دالان میں تھا وہ احتیاط سے کمرے چیک کرتے ہوئے آگےبڑھ رہا تھا جب ایک کمرے سے اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں اس نے چاروں جانب دیکھتے ہوئے دروازے کی جھری سے اندر جھانکا
محفل جمی ہوئی تھی زلمے خان کے ساتھ پلوشہ کے بتائے گئے حلیہ والے آدمی بھی موجود تھے

” سب یہ سمجھ رہے ہیں وہ لیڈر کابل میں ہے اب فوج پر دباؤ ڈالیں گے اور پھر انہیں ناکام ثابت کرنے کے بعد جب آپ کہوں گے اس کی لاش وزیرستان پھنکوا دینگے ایک تیر سے دو شکار ۔۔۔۔”
” ہمم یہ بات اچھا ہے ! اس سے ہماری پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور ہمیں فوج کے خلاف جلوس نکالنے کا موقع بھی مل جائیگا ۔۔۔” زلمے خان نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: