Dasht e Wafa Novel By Seema Shahid – Last Episode 23

0
دشت وفا از سیما شاہد – آخری قسط نمبر 23

–**–**–

موحد کو فوری طور پر سی ایم ایچ ہسپتال لایا گیا پر اس کی حالت بہت نازک تھی دادی اور علیزے کو احمد خود جا کر لے آیا تھا ۔
اس کے جسم کی ادھڑی ہوئی کھال کٹی انگلیاں دیکھ کر علیزے لرز کر رہ گئی تھی ۔
” موحد بیٹا ! دادی سے نہیں ملے گا ۔۔” وہ پرشفقت آواز اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی وہ آنکھیں کھولنا چاہتا تھا پر نہیں کھول پارہا تھا علیزے کی سسکیاں اس کے کانوں میں اتر رہی تھیں کتنی بے بسی تھی کہ اس کی زندگی اس کے پاس تھی پر وہ اسے چھو نہیں سکتا تھا دیکھ نہیں سکتا اس کی بند آنکھوں سے پانی کا ایک قطرہ نکلا جسے علیزے نے تیزی سے اپنی انگلی کی پوروں میں سمیٹ لیا ۔۔
علیزے کے نرم ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس شاید یہی وہ چیز وہ خواہش تھی جو اسے اب تک روکے ہوئے تھی اور اب ۔۔۔
اس کا سانس اکھڑنے لگا تھا ڈاکٹرز نے فوراً سب کو باہر جانے کا حکم دیا ۔
علیزے دادی احمد دلاور حمید سب آئی سی یو کے باہر انتظار کررہے تھے جب میجر ڈاکٹر اقبال باہر نکلے ۔احمد تیزی سے ان کے پاس آیا
” He is no more …”

ڈاکٹر نے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر موحد کی شہادت کی اطلاع دی تھی ۔
*******

فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سورہ النساء ۔ 69)

شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے ۔ جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا ۔
شہید کی جب روح نکلتی ہے تو رحمت والے فرشتے ساتھ آتے ہیں اور ایک گواہ ہوتا ہے جو اس کی شہادت کی گواہی دیتا ہے وہ گواہ اس کا بہتا ہوا خون ہوتا ہے اور قیامت کے دن شہید جب اٹھے گا تو اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا ۔

موحد پاک وطن کا جانباز سپاہی تھا جو فرض کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرگیا تھا اس کے اکھٹے کئیے ثبوت اور کمشنر ، کرنل جھانگیر کی کسٹٹڈی میں تھے ۔وقت گزر رہا تھا دادی کا وجود مزید بوڑھا ہوگیا تھا تین دن تین سو برس کے پل باندھ کر ساتھ لے گئے تھے ۔دور دور سے لوگ افسوس کرنے پرسہ دینے آرہے تھے ۔
احمد کو نیا اسائنمنٹ مل چکا تھا دلاور اور حمید انڈر گراؤنڈ جاچکے تھے ۔بس اگر کوئی اپنی جگہ تھم سا گیا تھا تو وہ علیزے تھی ۔وہ جاتے جاتے علیزے کو بہت سمجھا کر گیا تھا دادی کا خیال رکھنے کی تاکید کرکے بڑے بوجھل دل سے وہ اپنے نئے مشن پر روانہ ہوا تھا ۔یہ مار خور بھی جب گھر چھوڑ کر جاتے ہیں تو انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا وہ کب ، کتنے برسوں میں لوٹیں گے اور لوٹیں گئے بھی یا نہیں کچھ خبر نہیں ہوتی ۔بس شہادت کا رتبہ پانے کی چاہ انہیں آگے بڑھاتی کہ یہ رتبہ ہی کچھ ایسا ہے ۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید کے لیے اللہ تعالی کے ہاں سات انعامات ہیں
( 1 ) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے
( 2 ) اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے
( 3 ) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے
( 4 ) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے
( 5 ) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
( 6 ) بہتر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے
( 7 ) اور اپنے اقارب میں ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔

*******
وہ بڑے انہماک سے چائے بنا رہی تھی جب کوئی دبے پاؤں اس کے پیچھے آیا
” بھو ۔۔۔۔” وہ اچھل کر سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے ہٹی
” اللہ اللہ موحد ! آپ نے تو ڈرا دیا ابھی اگر ساری چائے گر جاتی تو ۔۔۔” وہ ناراض ہوئی ۔
” تو کیا ہوتا تم دوبارہ بنا لیتی اس میں کیا بڑی بات ہے ۔۔۔۔” وہ اچک کر سلیب پر بیٹھا اور اسے بغور دیکھنے لگا ۔
” یار علیزے یہ تم دن بہ دن اتنی خوبصورت کیوں ہوتی جارہی ہو ۔۔۔۔” اس نے اپنی پرتپش نظروں کی تپش سے علیزے کے سرخ چہرے اور اٹھتی گرتی گھنی پلکوں کے جال کو دیکھا اور سلیب سے نیچے اتر کر اس کے نزدیک آیا ۔
” تم میرے لئیے بہت ضروری ہو دیکھو آج ہی واپس آیا ہوں اور سیدھا تمہارے دربار میں حاضری دے رہا ہوں ۔۔۔” وہ گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے اس کی پلکوں کو چھو رہا تھا ۔
” آپ باہر جائیں دادی ویٹ کررہی ہیں ۔۔۔” اس نے لرزتے ہاتھوں سے اسے پیچھے کیا
“علیزے کاکروچ ۔۔۔۔” اس نے جاتے جاتے پلٹ کر شرارت کی اور چیخ کر اس کا بازو پکڑ کر اس کی آڑ میں ہوگئی
” پلیز اسے مار دیں ۔۔۔۔” وہ آنکھیں بند کئیے لرز رہی تھی ۔
” علیزے ری لیکس جاناں میں مذاق کررہا تھا ۔۔۔” اس نے لرزتی کانپتی علیزے کو اپنے حصار میں لے کر تسلی دی
” موحد آپ ۔۔۔آپ بہت برے ہیں کوئی بھلا کاکروچ کا مذاق کرتا ہے اب پتہ ہے کتنے دنوں تک مجھے کچن میں آنے سے ڈر لگے گا ۔۔۔” وہ اس کے حصار سے نکلتے ہوئے خفا خفا لہجے میں بولی ۔
” علیزے تم ایک شہید کی بیٹی ، فوجی کی بہن اور ایس پی کی بیوی ہو تمہیں تو بہت نڈر بے خوف ہونا چاہئیے ۔۔۔”
” آپ ہیں نا بہادر تو پھر مجھے آپ کے ہوتے ہوئے کس بات کا ڈر ۔۔ ”
” فرض کرو کل اگر میں نہ رہا ؟ شہید ہوگیا تو ؟ تو کیا کرو گی ؟ ” وہ اسے سمجھا رہا تھا
” موحد آپ بہت برے ہیں ۔۔۔” علیزے کا نازک دل سہم گیا تھا آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
” اچھا بابا اب رونا نہیں ورنہ دادی سے مجھے آج تو پکی پکی ڈانٹ پڑنی ہے ۔۔۔” اس نے علیزے کو ٹوکا اور چائے کی ٹرے خود اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
” موحد ۔۔۔۔” وہ سسک اٹھی
” موحد میں کیا کروں بتائیں آپ کے بغیر میں کیسے جیوں ! ” اس کے اندر سے کراہیں اٹھنے لگی تھی جانے والا جا چکا تھا بس اب اس کی سسکیاں تھی وہ روز بلک بلک کر روتی تھی اس کا ساتھی اس کا محافظ اس کا موحد اب اس دیس چلا گیا تھا جہاں سے کوئی بھی لوٹ کر نہیں آتا ۔۔۔۔
” موحد آپ نے اس مشکل وقت میں کتنی آہیں بھری ہونگی جو ہم تک نہیں پہنچیں آپ نے کتنی آوازیں دی ہونگی ۔۔۔۔” وہ بلک رہی تھی
وہ جانتی تھی کہ جانے والے واپس نہیں آتے لیکن پھر بھی وہ روز اس کے لوٹ آنے کی دعا مانگ رہی تھیں وہ شہید تھا اور شہید کبھی نہیں مرتے وہ بس دنیا سے پردہ کرلیتے ہیں وہ اسے اپنے پاس محسوس کرنا چاہتی تھی ۔
انہیں گزرتے دنوں میں وہ صبح اٹھ کر کچن میں دادی کیلئے چائے بنا کر ان کے کمرے میں آئی ۔

” علیزے تمہارا انٹر کا رزلٹ آگیا ہے ماشاءاللہ سے اسی فیصد سے اوپر مارکس آئے ہیں ۔۔۔” وہ اسے اطلاع کررہی تھیں
” جی دادی میں نے صبح آن لائن چیک کرلیا تھا ۔۔ ” اس نے چائے سلیقے سے ان کے سامنے رکھی ۔

” آگے کیا ارادہ ہے یونیورسٹی جوائن کرنی ہے یا کالج سے بی ایس سی کرنا ہے ؟ ” دادی نے اخبار لپیٹ کر رکھا
” دادی ! ” علیزے نے انہیں دیکھا پھر مضبوط لہجے میں بولی
” میں آرمی جوائن کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔” اس کی آنکھوں سے چھلکتے عزم کو دیکھ کر دادی مسکرا دی کہ علیزے کی آنکھوں کا عزم انہیں اس کا مستقبل دکھا رہا تھا انہیں لگا کہ جیسے موحد کو آج سکون ملا ہو ۔۔۔وہ ان کی بوڑھی نظروں کے سامنے مسکرا رہا تھا ۔

وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ (سورہ البقرہ ۔ 154 )

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔

********

قاہرہ ۔۔۔۔مصر کا دارالحکومت
وہ نیند میں ڈوبی ہوئی تھی جب اس کا فون بجا اس نے تیزی سے اٹھ کر فون اٹھایا صبح کے پانچ بج رہے تھے
” سات بجے جہاں فرعون روتے ہیں ۔۔۔” فون پر کوڈ ورڈ میں میسج جگمگا رہا تھا وہ جلدی سے لحاف ہٹا کر بستر سے اتری الماری سے بلیک پینٹ اور سفید ہلکی سی سیلف ایمبرائیڈری والی شرٹ اور بلیزر کوٹ نکال کر شاور لینے چلی گئی ۔
پندرہ منٹ بعد وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی اپنے سنہری سرخ آمیزش والے بالوں کو ڈرائر سے سکھا رہی تھی بالوں کو بلو ڈرائے کرکے اس نے اونچی پونی باندھی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا لیڈیز ریوالور اٹھا کر جیب میں رکھا اور کوٹ پہن کر آئینے میں خود کو دیکھا اس کی نیلی آنکھوں میں اپنا حلیہ دیکھ کر اطمینان اتر آیا تھا وہ جانے کیلئے تیار تھی ۔
میوزیم کے باہر ایک کالے شیشے والی گاڑی کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی اس کے بیٹھتے ہی وہ گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور روڈ پر دوڑنے لگی ۔ایک گھنٹے بعد وہ ہیڈ کوارٹر میں موجود تھی ۔
وہ ٹک ٹک کرتی تیزی سے چلتی ہوئی اندر کانفرنس روم میں داخل ہوئی ۔
” مس قانتا سٹ ڈاؤن ۔۔۔۔” باس نے اسے حکم دیا
وہ سر ہلاتے ہوئے بیٹھ گئی
” اس بار ان یہودیوں نے بہت بڑا پلان بنایا ہے وہ فلسطین کے بعد اب یمن اردن کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے ان کے ایجنٹ فساد پھیلانے پھوٹ ڈلوانے ان علاقوں میں پہنچ چکے ہیں ان کے مقاصد ناکام بنانے کیلئے انہیں چن چن کر مارنا ہوگا ۔
مس قانتا ، ابرک آپ دونوں اس مشن میں حصہ لینگے ۔۔۔” انہوں نے قانتا اور اس کے ساتھ بیٹھے پچیس سالہ ابرک کو مخاطب کیا
” یس سر ۔۔ ” وہ دونوں ہم آواز کو کر بولے
” اس مشن میں آپ کو ہمارے دوست ملک کے ایجنٹ میجر احمد کے انڈر کام کرنا ہوگا ۔۔۔۔” انہوں نے فائل ان دونوں کی طرف بڑھائی
” مشن ایکسیپٹڈ ؟ ” انہوں نے خاموشی سے فائل کو تکتی کوئی قانتا کو دیکھا
” یس سر ۔۔۔” وہ سر اٹھا کر بولی اس کی نیلی آنکھیں جگمگا رہی تھیں ایک نیا سفر اپنی شروعات کو تھا ۔۔۔

ختم شد
نوٹ ۔
یہ کہانی تم ہی تم اور قوت پرواز سے پہلے کی ہے اب اگر آپ ان دو ناولز کو دوبارہ پڑھیں تو یہ کرادر اور ابھر کر آپ کے سامنے آئیں گئے ۔
مار خور کی زندگی کا سفر کبھی بھی رکتا نہیں ہے میجر احمد اپنے نئے مشن پر روانہ ہوچکا ہے ۔
ایجنٹ دلاور اور کیپٹن حمید دوبارہ انڈر گراؤنڈ جاچکے ہیں کس روپ کس بھیس میں وہ کدھر ہیں کیا کررہے ہیں زندگی واپس بھی آپائینگے یا نہیں انہیں خود نہیں علم بس چھٹیاں ختم ہوتے ہی سر پر کفن باندھ کر یہ مجاہدین نکل پڑتے ہیں ۔
پلوشہ !! کتنی لڑکیاں اس ظلم کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور نہ جانے کب تک ایسا ہوتا رہیگا ۔
موحد اس ناول کا ہیرو وہ کردار جس نے مجھ سے دشت وفا لکھوایا ایک خبر پڑھی اور وہ دماغ میں اٹک گئی پھر رسرچ اور یوں کچھ فکشن کچھ رسرچ یہ کردار وجود میں آیا ۔
علیزے ! کیا صرف ایک علیزے نے یہ دکھ جھیلا ؟ نہیں کئی لڑکیاں یہ دکھ جھیل چکی ہیں اور جھیل رہی ہیں اپنے پیاروں کو سر پر کفن باندھ کر گھر سے بھیجنا آسان ہرگز نہیں ہوتا ۔علیزے نے اب فورس جوائن کرنی ہے اکیڈمی جانا ہے اس کی پوری ٹرانزیشن ہونی ہے ۔
کیا پتہ ایک دن آپ پیج پر آئیں اور آپ کو علیزے نظر آجائے ۔
میں کب کیا لکھوں مجھے خود بھی علم نہیں ہوتا پر میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا لکھو جو آپ کو کچھ انفارمیشن دے دنیا میں کیا ہورہا ہے بتائے ۔امید ہے میں نے اپنا پارٹ بخوبی نبھایا ہو ۔اب آپ سب کے ریویوز کا تبصروں کا انتظار رہے گا
آپ سب کا دشت وفا پڑھنے کا سراہنے کا بہت شکریہ 💞

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: