Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 1

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 1

وہ صبح صا دق کا قت تھا۔ مشر ق کی سمِت آسما ن پر سْرخی نے آہستہ آہستہ پھیلنا شر وع ہی کیا تھا پر ندوں کی سْر یلی چہچہاہٹ سے فضا
بھر ی ہو ئی تھی ہوا میں ٹھنڈک کا احسا س ابھی با قی تھا۔ لان میں سْرخ گلا ب اورموتیا کی مہک چا روں اوڑھ پھیل چکی تھی ۔گلا ب اور
مو تیاکی بھینی بھینی مہک نے پو رے گھر کی فضا کو اپنی خو شبو میں قید کیا ہو ا تھا ۔ بڑے سے خوبصورت لان میں سبز سبز گھا س پر شبنم کہ قطروںنے اس صبح کہ منظر کو اور دلفر یب بنا دیا تھا۔ اخبار والااپنی پرانی سا ئیکل کی گھنٹی کو زور زور سے بجاکر گھر گھر اخبار پھینک رہا تھا
دودھ والا ما لی ہر کو ئی اپنے اپنے کا م میں مصروف نظر آرہے تھے۔ سورج اپنی پیلی رو شنی کو تیز ی سے زمین کی طر ف پھیلا رہاتھا۔سور ج کی روشنی شبنم کہ قطروںسے ٹکرا کر ان کی خوبصورتی کو دوبالا کر رہی تھی۔ معمولی سے پا نی کہ قطر ے سورج کی چمک سے کسی قیمتی ہیر ے سے کم معلوم نہ ہوتے۔ آفتاب نے دھیر ے سے آنکھیں کھولیں۔بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر با ئیں جانب رکھے وال کلاک کو بمشکل ٹٹولتے
ہو ئے ہا تھ میں لیا۔ اور ٹا ئم دیکھا ۔یہ حمید بھی نہ کبھی وقت پر نہیں جگا نے آتا واک کا ٹا ئم ہی نہیں رہا آ نکھیں مو ندے وہ کچھ بڑبڑایا تھا ۔

تم ہر بار گھر آتے ہو اور یو نہی مجھے ٹا ل کر وا پس چلے جا تے ہو اپنا گھر بسا ئو اب میر ی بو ڑھی ہڈیو ں میں اتنی جان نہیں رہی تمہا ری
کب تک ذمہ دا ری دوں ۔ مجھے اب یہ گھر کا ٹنے کو آتا ہے تم شا دی کیوں نہیں کر لیتے ہو ؟ابھی تو وکا لت شرو ع کی ہے ابھی سے
شا دی کر لوں امی آپ بھی نہ بس۔اگلے مہینے میں اسلام آبا د وا پس آ رہا ہوں اْس کے بعد اس قصے پر غو روفکر کریں گے۔یہ کیس
کا فی کمپلیکیٹڈ لگتا ہے۔حسبِ عا دت آفتاب نے اپنی وکا لت شر وع کر کے سلطا نہ کو چپ کر وا دیا تھا۔

’’بس بس اپنے قصے کہا نیاں اپنے پا س رکھو مجھے مت سْنا یا کر و۔ہا تھ ہوا میں بلند کر کہ سلطا نہ نے جو اب دیا۔‘‘

’’امی امی‘‘ کند ھو ں سے پکڑ ے آفتا ب بو لا۔ بھا بھی کو لا کر ابھی آپ کو سکو ن نہیںا ٓیا جو ایک اور مصیبت
لانے کا سو چ رہی ہیں شرارت سے ایک با ر پھر اْس نے اپنے الفا ظ دہرا ئے تھے ۔بھا بھی کو لا کر ابھی آپ کو سکو ن نہیںا ٓیا جو ایک اور مصیبت لانے کا سو چ رہی ہیں۔با لوں میں برش کر تے ہوئے اس نے اپنی بات مکمل کی۔

جو منہ میں آتا بو ل دیتے ہو۔ کیا ہے؟ کو نسی مصیبت اپنے گھر میں دو نو ں میا ں بیو ی خو ش ہیں۔کسی قسم کی کو ئی کمی نہیں ضر وری نہیں کے میں اپنی بہو پر حکمر انی کر وں۔سلطانہ سختی سے مخا طب ہوئی۔
بس ایسی سا س جس کو ملے گی وہ تو خو د ہی نخر ے کر ے گی۔کیا ہی با ت ہے ہما ری سخی اما ں جا ن کی۔آفتا ب قدر ے مسکر ا کر بو لا۔
وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑ ے تھے۔آج میں واک کر نے بھی نہیں گیا یہ حمید بہت سست ہو تا جا رہا ہے چھو ٹے گھر سے بڑے گھر
میںآ کر اس کے بھی پر پر زے نکل آئے ہیں۔ایسی نو ک جو ک حمید کے سا تھ گھر میں چلتی ہی رہتی تھی وہ بھی بر ا نہیں ما نتا تھا۔
آپ آس پڑوس میںا ٓیا جا یا کر یں ۵ سال میں اتنی سی اقفیت بھی نہیں بنا سکیں گھر سے با ہر جا یا کر یں۔اپنی لا ڈلی بہو کے سا تھ شا پنگ
پر جا یا کر یں گھر الگ ہیں لیکن اندر سے دروازہ تو ایک ہی ہے اتنا بھی فر ی نہ چھو ڑیں پچھتا ئیں گی۔آخر آپ کو بھی تو ساس بننے کا شرف
حا صل کر ہی لینا چا ہئے۔بھئی دادی تو اچھی خا صی ساس نما خا تون تھیں ۔ویسے آپ کیا بدلے وغیرہ نہیں لینا چا ہتی۔یہ ہی مو قع ہے بس
آپ ہا تھ سے جا نے مت دیں ۔میں آپ کہ فا ئدے کی بات کر رہا ہوں۔اپنی ہنسی کو ہو نٹوں میں دبا ئے آفتاب ماں کے سا منے اپنا وکا لت نامہ جھا ڑ رہا تھا۔ویسے کیا ہی مزہ آئے جب آپ بھا بھی کو صبح فجر پر آوازیں لگا نا شر وع کر دیں۔اور بھا بھی تھر تھر کا نپتی ہوئی آپ کے
سا منے پیش ہو جائیں۔لیکن یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا خواب ہی ہو سکتا ہے ۔ہماری را بعہ بھا بھی اور حکم سنیں گی۔آفتاب شرارت سے
ماں کوبا ر بار جتلا رہا تھا۔
اپنی وکا لت اپنے تک رکھو مجھے فضول کی با توں میں کو ئی خا س دلچسپی نہیں ہے۔جس دن تمہا ری بیوی آگئی نہ تم اپنے بھا ئی سے بھی دو چار
ہاتھ آگئے نکلو گے۔سب جا نتی ہوں میں۔بریڈ سلا ئس پر مکھن لگا تے ہوئے سلطا نہ نے جواب دیا۔
ہاں یہ تو ہے۔آخر مسز آفتا ب ہو گی اس کی مان کر تو چلنا پڑے گا۔آپ کو اپنے کمر ے میں کھا نا نا شتہ مل جا یا کر گا۔اس کا گھر ہو گا آخر وہ جیسے چا ہے گی سنبھالی گی میری کیا مجا ل ہو گی جو میں اس کو یہ تک کہہ سکوں گا بیگم تم ایسے نہیں کر و ۔وہ ماں کو چڑا چڑا کر با تیں سنا رہا تھا۔سلطا نہ اس کی عادتوں سے واقف تھی کیونکہ وہ اکثر ماں کو اس طر ح کی با تیں سنا کر شا دی کہ نا م سے چھٹکا را حا صل کیا کر تا تھا۔ اس با ر وہ کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔
سلطا نہ کا بڑا بیٹا نا صر اور اْس کی بیو ی را بعہ الگ رہتے تھے ۔ را بعہ کچھ الگ طبیعت کی ما لک تھی اس وجہ سے سلطا نہ نے خو شی سے اْس کو الگ گھر بنو ا کر دیا تھا۔آنا جا نا لگا رہتا مگر را بعہ مکمل سلطا نہ کے ساتھ رہنے پر آما دہ نہیں تھی ہمیشہ منہ تو ڑ کر جو ا ب دے دیا کر تی میرا اکیلی کا سسرال تھو ڑا ہے دو سری بہو بھی لے آئیں ۔گھر میں کو ئی بھی را بعہ کی با تو ں کو سنجیدگی سے نہیں سنا کر تا تھا۔وہ عا دت سے مجبور بو ل کر خود ہی چپ کر
جایا کر تی تھی۔سلطا نہ نے اکیلے ہی اپنے بچو ںکی پر ورش کی تھی۔گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی با پ کا سا یہ نہ ہو تے ہو ئے بھی
اْس نے کبھی محسوس نہیں ہو نے دیا ۔نا صر ‘آفتاب‘ ما ریہ‘ تینو ں بچو ں کو بہت پیار اور شفقت سے پال پو س کر اس مقا م تک لا کھڑا کیاتھا۔

’’تم مجھے الٹی پٹیا ں مت پڑھا ئو نا شتہ کر و چپ کر کے۔ سلطا نہ قدر ے چڑ کر بو لی تھی۔ لاہور واپس کب جا رہے ہو؟ ‘‘

’’کل صبح 10بجے’’
کی فلا ئٹ ہے ۔ آپ کیو ں پر یشا ن ہو رہی ہیں ہمیشہ کے لیے واپس آرہا ہوں شا دی بھی ہو گی اور ڈھو ل بھی بجے گا۔ پر جو ش انداز
میں آفتا ب بو لا۔
’’تنگ مت کر و آفتا ب اکتا ہٹ بھر ے لہجے میں سلطانہ بولی۔‘‘
امی آپ رو رہی ہیں ایسے تو مت کریں ۔جلدی واپس آئوں گا اور آتے ہی آپ کی عدالت میں حا ضر ی ہو گی آپ جا نتی ہیں نہ میں آپ کو دکھی نہیں دیکھ سکتا ہوں۔ اور آپ کی آنکھو ں میں ہر گز نہیں ۔ آفتا ب نے ما ں کو آنسوں کو ہتھیلوں پر گرنے سے پہلے ہی پو نچھ ڈالا۔اگلے ہی لمحے اپنی نشست چھوڑ کر ما ں کے گلے سے لگ کر وہ ان کو تسلی دینے لگا تھا۔آپ کیوں خود کو ہلکا ن کر تی ہیں بھئی شا دی تو کر وں گا ہی۔آپ بس یہ مجھے ایمو شنل بلیک میل مت کیا کریں۔آفتا ب نے خوشگو ار سے شرا رتی انداز میں ما ں کو تنگ کیا تھا۔
ہٹ پرے سلطانہ نے چڑ کر بو لا۔
اتنا تو آپ ما ریہ کی رخصتی پر نہیں روئی جتنے آنسو اس نا لا ئق بیٹے کے لیے بہا رہی ہیں۔ارے امی اب کیا بہو لانے کی اتنی جلدی ہے مجھے ما ر بھی پڑ سکتی ہے۔ اُف اتنا ظلم ہو گا مجھ پر ۔زار دار جھٹکے کی وجہ سے آفتاب اپنی جگہ سے کھسک گیا تھا۔
تم لو گ بس اپنی مر ضی کر تے ہو میری تو کو ئی نہیں سنتا ہے۔ ساری زندگی تم لو گوں کہ لیے بیوگی کا ٹ دی۔تنکہ تنکہ جمع کر کے میں نے اپنا
آشیا نہ بنا یا تھا۔ ایک میڈم آئی تو اپنی مر ضی والی۔ اب دوسری اس سے بھی چا ر ہا تھ تیز ملے گی۔جو مر ضی کر و۔گو یا سلطا نہ نے آنسو ں کی ندیاں بہا دیں۔
ماریہ ‘ناصر اور آفتا ب دو نوں سے چھوٹی تھی۔دو بھا ئیوں کی اکلو تی بہن۔بہت ہی لاڈ پیا ر سے پا لا تھا ۔ بی اے کا امتحا ن دیکر پا س ہوئی
تو اچھا رشتہ ملنے پر سلطا نہ نے شا دی کر ڈالی۔باپ کی پینشن سے ما ریہ کی شا دی خو ب دھوم دھا م سے کی گئی تھی۔سلطا نہ کی چچا زاد بہن کا بیٹا انگلینڈ سے ڈاکٹر بن کر آیا تو رشتے کی بات شر وع کر دی ۔لوگ اچھے اور شر یف تھے۔لڑکا بھی پڑھا لکھا تھا۔ اور شعبہ بھی بہت اچھا تھا۔اس لیے مزید کسی بھی چھان بین کی ضرورت محسوس کئے بغیر ہی سلطا نہ نے رشتے کے لیے ہاں کر دی تھی۔ اپنے گھر میں میاں اور بچو ں کہ ساتھ بے حد خوش تھی، کبھی کبھا ر میکے کا چکر لگا یا کر تی۔ماریہ ماں اور بھا بھی کی کشیدگیوں کو جا نتی بھی تھی اور سمجھتی بھی تھی لیکن اس نے کبھی بھی ان کہ گھر کے معملات میں مدا خلت نہیں کی تھی۔ نہ ہی اپنی ما ں کو غلط پٹیاں پڑھایا کر تی۔اسی کہ کہنے پر را بعہ کو بھی الگ گھر بنو اکر دیا گیا۔
’’ہٹ پر ے ہو ہر وقت مذا ق مت کیا کرو۔‘‘ با زو زور سے جھٹکا اور آفتا ب کو پیچھے کی طرف دھیکلا۔

Read More:  Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 14

’’شکر ہے امی آپ مسکر ائی تو ۔‘‘آفتاب کی سا نس میں سانس آئی۔
٭٭٭ ٭٭٭

دوپہر کا ڈیڑھ بج رہا تھا گھر میں ہر سْو خا مو شی تھی ۔کمرے میں ایک طرف پینٹنگ بر ش اور مختلف رنگ بکھر ے پڑے تھے ۔
ابھی تک کمر ے میںاند ھیرا گہر ی رنگت اختیا ر کئے ہوئے تھا۔لیمپ کی رو شنی اس قدر مدھم تھی کمر ے میں دا خل ہونے والے
شخص کو ایک دم رات کی تا ریکی کا احسا س ہو نے لگتا۔بلیو ولوٹ کہ پر دوں نے کھڑکی کو ڈھا نپا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے رو شنی کی ایک
بھی کر ن اندر آنے سے قا صر تھی۔
کا غذ کے چند ٹکڑے بشری کے پا ئوں کے سا تھ ٹکر ائے تھے۔’’سَحر بی بی‘‘ ا ٹھ جا ئیں بیگم صا حبہ کب سے آپ کا پو چھ رہی ہیں۔
ٹائم کیا ہو رہا ہے؟ ’’کمبل منہ پر اوڑھے وہ بو لی تھی۔ ‘‘
آئے ہا ئے چھو ٹی بی بی دوپہر ہو نے کو ہے سورج سر پر چڑ ھ آیا اور آپ پو چھ رہی ہیں ٹا ئم کیا ہوا ہے۔
’’بشر ی ٹا ئم کیا ہو ا ہے؟ اس با ر وہ غصے سے بو لی تھی۔ ‘‘
’’چھو ٹی بی بی ڈیڑ ھ بج گیا ہے۔ ‘‘
بشری کی بات سنتے ہی۔ جھٹ سے سَحر نے کمبل میں سے منہ با ہر نکالا اور دائیں جانب لگے وال کلاک کی طرف دیکھا۔ سَحر تھِکے نقو ش کی
ما لک تھی رنگ گو را لمبے با ل حسن کی کہیں بھی کو ئی کمی نہ تھی۔لائٹ پیک کلر کا ٹریک سوٹ پہنے اس نے اپنے دودھ جیسے سفید ہا تھوں کو کمبل سے با ہر نکال کر ایک بار پھر انگڑائی لیتے ہوئے اپنے با لوں کو سا ئیڈ ٹیبل پر پڑے کیچر کی مدد سے سمیٹ لیا۔سیاہ آنکھوں کو دو نوں ہا تھوں سے ہلکا سا مسلا تو خود کو مکمل نیند سے جا گا ہوا محسوس کیا۔سحر ایم اے اردو مکمل کر چکی تھی اسی سال پر ایئوٹ امتحا ن دیکر پا س ہو ئی تھی۔ گھر کے کسی ایک کو نے میں میں پو را دن گزار دیا کر تی نہ کسی سے با ت کر نا نہ کو ئی دوست نہ ہی کو ئی اور مصرو فیت بہت اچھی پینٹر تھی لیکن رنگوں سے بھی اس کو کوئی خا ص لگا ئو نہ تھا ۔ گھر میں صر ف تین لو گ رہتے تھے ۔ڈا کٹرندیم ‘ ان کی بیو ی پر وفیسر ہاجرہ۔کچھ عرصہ پہلے یو نیورسٹی سے ریٹائرڈ ہو چکی تھی۔ رشتے میں سَحر کہ تا یا اور تائی تھے۔ لیکن کسی کو کسی کی ذا تی زندگی میں کوئی خا ص دلچسپی نہیں تھی۔

نا شتہ یہا ں کمر ے میں لے آئو فر یش ہو نے کہ بعد وہ بشر ی سے مخا طب ہو ئی۔جو اس کہ کمر ے کی صا ف صفائی میں مصر وف تھی۔
ٹھیک ہے بس ابھی گئی اور ابھی آئی۔تیز ی کہ انداز میں بشر ی نے چٹکی کا اشا رہ دیا اور چلی گئی۔بشری دوبارہ مڑی تھی، بی بی نا شتے
میں کیا لیں گی؟
ڈریسنگ ٹیبل کے سا منے الجھے ہوئے لچھے دار با لوں کو سلجھا تے ہو ئے سحر نے پلٹ کر بشر ی کی طر ف دیکھا تھا۔ کچھ بھی لے آئو ۔پہلے کبھی
میں نے کو ئی ڈیما نڈ کی ہے یا کو ئی نخرہ کیا ہے وہ سوالیہ نظر وں سے بشر ی سے مخا طب ہوئی تھی۔
نفی میں سر ہلا تے ہوئے بشر ی بولی ۔ بی بی جی بڑی بیگم صا حبہ کا حکم ہے کہ آپ سے ضرور پسند نا پسند کا پو چھا جا ئے میں تو بس اس وجہ سے پو چھ رہی تھی۔ بے بس سی بشر ی اتنی بات کہہ کر پلٹ گئی۔

سحر کا دن تو یو ں ہی یہا ں وہا ں بیٹھ کر گز ر جا تا۔ لیکن اکثر را ت کی تنہا ئی میں وہ پر یشان ادا س رہا کر تی۔آسما ن پر پھیلتی شا م اور ابھر تی
را ت کا سیاہ منظراسے ہمیشہ کی طر ح افسردہ اور سو گوار کر دیتاتھا۔ایک عجیب سی بے چینی وہ اپنی روح میں اترتی محسو س کر تی۔ایک عجیب بے معنی سی کفیت‘ جس کو آج تک وہ سمجھ نہیں پائی تھی ۔رات کی خا مو شی اور آسما ن کی تا ریکی یہ اعلا ن کر رہی تھی ہر کو ئی اپنی آرا م گا ہ میں پر سکون اور میٹھی نیند سو چکا تھا۔چاند اور ستا رے بھی خا مو شی کی چا در اوڑھے با دلوں کہ پیچھے چھپے بیٹھے تھے۔درختون کہ جھنڈ میں چھپے پر ندے اپنے گھو نسلوں سے سر یلی آواز نکا لنے سے بھی قا صر تھے۔ کہیں دور جنگلوں سے گیدڑوں کی آواز بار بار محسوس ہو رہی تھی۔ رات آ دھی سے زیا دہ گز ر چکی تھی سَحر کو نیند نہیں آ رہی تھی۔زبر دستی آنکھیں بند کیئے وہ بستر پر کر وٹیں بدل رہی تھی۔
رات کی تا ریکی میں جب ہر ذی رو ح کوآرا م اور سکو ن کی طلب محسو س ہو تی تھی ایسے میںوہ اکثرسو چتی تھی کو ئی جا دوئی چرا غ‘ چھڑی اُس کہ ہا تھ لگ جا ئے جس سے وہ وقت کی رفتا ر کو ایک ہی ہند سے پر منجمد کردے وقت کی حر کت کو ہمیشہ کہ لیے اپنے قا بو میں کر لے۔کسی
طر یقے سے اپنے ما ضی میں واپس چلی جا ئے ہر شئے کو ریو رس کے بٹن سے دو با رہ سا منے لے آئے۔شا م ڈھلتے ہی وہ د عا کِیا کر تی آج
را ت کا اندھیرا نہ ہو۔را توں کی تنہا ئی اُس کہ لیے تکلیف سے کم نہ ہو تی۔ ما ضی کی یا دوں میںگم وہ جھنجھلا ہٹ سے ایک دم اپنے بستر سے
اْ ٹھ کھڑ ی ہو ئی اتنے بڑے کمر ے میں اْ س کو شد ید گھٹن کا احسا س ہو رہا تھا۔ با ہر لان کی جا نب لگی کھڑ کی کو کا فی زور سے اْ س نے کھو لا دیا تھا اور پر دے بھی ہٹا دیئے۔ایک گہر ی سا نس لیتے ہو ئے اس نے خو د کو کا فی پر سکون محسو س کیا۔لان کی سِمت کھلنے والی کھڑکی سے ہلکی سی رو شنی اندر آکر فر ش پر ایک خا ص مقا م تک بچھی ہو ئی تھی با قی ہر جگہ اند ھیر ے کا را ج تھا۔وہ کھڑ کی سے با ہر کی دنیا کو یو ں دیکھ رہی تھی جیسے
کو ئی پری ذات زمین پر بھٹک گیا ہو۔اْس کی نظر وں میںا س قدر اداسی تھی۔جیسے وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو میر ی تنہا ئی مجھے کا ٹتی ہے۔
مقدر اورنصیب کی ہار انسان کو خز اں کہ سو کھے ہو ئے پتو ں کی ما نند بنا دیتی ہے جن میں کڑکڑاہٹ بظا ہر وجو د نظر آتا ہے
گیلی زمین کہ ساتھ چپکتے ہی دو با رہ ان پتوں کا کو ئی وجو د نہیں رہتا۔ایک ہی لمحے میں یہ وجود کی کر چی کر چی ہو جاتا ہے۔سحر بھی کچھ ایسے ہی وجود کے ساتھ دنیا میں زندہ ہو نے کا ثبو ت دے رہی تھی۔
٭٭٭

Read More:  Kaho Mujh Se Mohabbat Hai by Iqra Aziz – Episode 3

کا لج کے دو ستوں سے مل کر آفتا ب ابھی گھر آیا ہی تھا حمید نے کھا نے کا پو چھا تو اْس نے منع کر دیا مجھے نیند آ رہی ہے میں سو نے
کے لیے جا رہا ہوں۔صبح بس جلد ی جگا دینا ۔حمید نیند میں بس سر ہلا کر جو اب دے رہا تھا ۔کمر ے میں آکر آفتا ب نے لا ئٹ آن کی
تو آج دیکھنے کو ایک عجیب سا منظر تھا۔بائیں جا نب لگی کھڑ کی کے پر دوں میں اْس کو ایک عکس محسو س ہو ا۔وہم سمجھ کر وہ کپڑ ے تبدیل
کر نے چلا گیا وا پس بیڈ پر لیٹتے ہوئے لا ئٹ بند کی تو عکس اور واضح ہو گیا۔دھیر ے سے وہ کھڑ کی کی جا نب بڑ ھا تھا ۔ہلکا سا پر دہ
ہٹا نے پر اْس کی نظر سا منے ایک لڑ کی پر پڑ ی ایسے محسو س ہوا جیسے وہ قدرت سے نا را ض ہوکر کھڑ ی ہے۔چند لمحے کے لیے بے سا ختہ
کھڑ ا اْسے دیکھتا رہا ۔را ت کی تا ریکی میں بھی اْس کا حسن اور خوبصو رتی چھپ نہیں رہا تھا ایسے لگ رہا تھا آسما ن سے کو ئی پری
زمین پر اتر آئی ہو۔یہ کو ن ہے ؟ اْس نے خو د سے ہی سو ال کیا تھا ۔وہ بلا کی خو بصورت تھی نظر یں ہٹا نے کو جی نہیں چا ہ رہا تھا۔
سَحر کی نظر ایک دم سا منے کھڑ ے آ دمی پر پڑی تو اْس نے بو کھلا کر کھڑ کی بند کر دی جیسے کسی چو ر کی چو ری پکڑ ی گئی ہو ۔اور اب وہ سزا سے
بھا گنے کے لیے خود کو تخفظ دے رہا ہو۔ وہ بہت گبھر ا گئی تھی پچھلے ۵ سا لو ں سے آج تک اْ سے کسی نے نہیں دیکھا تھا ۔دو نو ں جا نب سوالو ں کے ڈھیر لگ چکے تھے۔
آفتا ب تو اْس کے حسن کا دیو ا نہ ہو گیا تھا ۔ لیکن سَحر مختلف سو چو ں میں گم تھی ۔
٭٭٭٭٭٭

آفتا ب کی پر یکٹس مکمل ہو ئی تو وہ مستقل اسلام آبا د شفٹ ہو گیا۔رو زانہ جا گنگ پر جا تا واپس آ تے ہو ئے اْس
کی نظر یں ڈا کٹر صا حب کے بنگلے پر ہوتیں شا ئید وہ اْسے دیکھنے کا منتظر تھا ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد آفتا ب کو گو رنمٹ جا ب مل گئی۔
اسی خو شی میں سلطا نہ بیگم نے ایک دعو ت کا اہتما م کیا ۔عزیز رشتہ دار آ فتا ب کے دو ست ۔ را بعہ کے میکے والے سب کو خا ص تا کیدسے
دعوت دی۔ ما ریہ اور قیصر شرکت نہیں کر سکتے تھے۔ کیو نکہ ما ریہ نے پہلے ہی آفتا ب سے معذرت کر لی تھی وہ لوگ امر یکہ گئے ہوئے تھے ۔کافی عر صے بعد بچو ں کہ ساتھ چھٹیاں گزارنے۔اس لیے آفتا ب نے بھی برا نہیں مانا۔
لان میں بیٹھے چا ئے کے سپ لیتے ہو ئے آفتا ب نے جھجکتے ہو ئے پو چھا امی آپ نے سا منے والے ڈا کٹر صا حب اور اْن کی
فیملی کو دعوت نہیں دی؟ تسبیح کر تے کر تے سلطا نہ ایک دم رکی کچھ ٹا ئم خا مو ش رہنے کہ بعد جو اب نفی میں تھا ۔
کیو ں امی؟ وہ ہما رے ہمسا ئے ہیں سا تھ رہتے ہو ئے اتنا عر صہ گز ر گیا انسا ن ملتا جلتا ہی اچھا لگتا ہے وہ بو لے جا رہا تھا۔
چند لمحو ں کے تو قف کے بعد وہ پھر بو لا تھا کیا وا قع ہی آپ ڈا کٹر صا حب اور ان کی فیملی کو نہیں بلا رہیں؟ وہ سو الیہ نظر وں سے
اپنی ما ں کی طر ف دیکھتا رہا ۔
بیٹا نہ ہی تو وہ کبھی ہما رے گھر آئے اور نہ ہی میں کبھی ان کے گھر گئی ویسے بھی وہ لو گ کم ہی کسی سے ملتے ہیں۔ایسے اچھا تھو ڑا لگتا ہے
یو ںکسی کے ہا ں بن بلا ئے آپ چلے جا ئو۔
امی ہم انہیں انو ائٹ کر نے جا ئیں گے اس میں تو کو ئی برا ئی نہیں آپ ا ٹھیں میں آپ کے سا تھ چلتا ہوں۔زیا دہ سے زیا دہ وہ لو گ آنے سے منع کر دیں گے۔اُٹھیں نہ ۔ بس چلیں وہ با ضد اپنی ما ں کو کہہ رہا تھا۔
اچھا بھئی چلو ۔ بچو ں کی طر ح ضد کر تے ہو تم اب بڑے ہو گئے ہو بچے تو نہیں ہو۔سلطانہ نے خو شگوار سے موڈ میں جواب دیا۔

گھر کے با ہر بیٹھے چو کیدار سے آفتا ب اچھے سے ملا اور اندر جا نے کو کہا سا تھ میں بتا یا کے ہم سا منے والے گھر سے آئے ہیں ۔
ڈا کٹر صا حب یا اْن کی مسز گھر پر ہیں؟ گھر میںا ٓج تک کو ئی مہما ن رشتہ دار نہیں آیا تھا ایک عر صہ گزر چکا تھا ۔چو کیدار نے کا فی
دیر سو چا اور پھر اندر جا نے کو بو لا۔گیٹ سے اندر آتے ہی ایسے محسو س ہو رہا تھا جیسے کسی محل کی چا ر دیوا ری میں دا خل ہو ئے ہوں۔
آفتاب نے عین وسط میں کھڑے ہو کر ایک با ر پھر نظر اٹھا کر گھر کا کمل جا ئزہ لیا۔اتنی خامو شی اور ویرانی آج سے پہلے بستے گھر وں
میں نہ دیکھی نہ محسوس کی۔سرخ اورسفید ما ربل کی خوبصورتی اور چمک برقرار تو تھی لیکن اس قدر بے رونق اور اداس جیسے زندہ لوگ
شہر خموشاں میں رہ رہے ہو۔ماربل کی سفید دیواروں میں بھی اداسی چیخ رہی تھی لان میں پڑی کر سیا ںاس قدر گدلی نظر آرہی تھیں
جیسے سالوں سے ان کو استعمال نہ کیا ہو۔
گھر میں بہت زیا دہ ملا زم نظر نہیں آ رہے تھے بشر ی نے چو نک کر دیکھا اور کا فی گر م جو شی سے مہما نوں کا استقبال کیا۔بی بی جی آپ
بیٹھئے میں ابھی بیگم صا حبہ کو بلا کر لاتی ہوں۔مجھے معلو م ہے آپ سا منے والے گھر سے آئی ہیں اور یہ آپکے چھو ٹے صا حبزا دے ہیں
ما ء شا اللہ سے وکیل ہیں سو سا ئٹی میں بڑا نا م ہے جی ان کا ۔ سلطا نہ نے اسے ٹو کا اور تلخی سے کہا اپنی بی بی کو بلا ئو میںان سے ملنے آئی
ہوں۔جھجک کر وہ وہا ں سے چلی گئی۔آفتا ب نظریں گھما تے اْس چہر ے کو تلا ش کر رہا تھا جس کے حسن کا وہ دیوانہ ہو چکا تھا۔

Read More:  Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 7

’’اسلام علیکم‘‘۔

’’وعلیکم اسلام‘‘

ایک با ر پھر بشر ی کا لیکچر شر وع ہو گیا تھا بی بی جی یہ سا منے والے گھر سے آئے ہیں اور یہ ان کے صا حبزا دے ہیں ابھی ابھی لا ہور
سے وکا لت کا امتحا ن پا س کر ک آئے ہیں۔مسز ند یم مسکرا کر بشری کی جا نب مو ڑی تھی چا ئے لیکر آئو اور کم بو لا کر و۔
ہم درا صل آپ کو ایک دعو ت نا مہ دینے آئے ہیں میرا بیٹا وکالت پا س کر کے آیا ہے اور جا ب بھی مل گئی ہے آفتا ب ڈاکٹر صا حب
اور آپ کو بھی بلا نا چا ہتا ہے سلطا نہ نے با ت کر نے میں پہل کی ۔
مسز ندیم بے سا ختہ بو لی کیو ں نہیں ہم ضر ور آئیں گے بچو ں کی خو شیاں ہی تو اصل خو شیا ں ہیں ۔
میں گھر سے کم ہی نکلتی ہوں بس مصر و فیت ہی کچھ ایسی ہے۔دو نو ں ما ں بیٹا ان کی با تیں سن کر کا فی حیران تھے لو گو ں سے سنی ہو ئی
با توں سے با لکل مختلف پا یا تھا۔
’’آپ اور انکل ہی رہتے ہیں۔ یہا ں کبھی کسی کو دیکھا نہیںآپ دو نوں کے علا وہ آفتا ب جھجکتے ہوئے بو لاتھا۔‘‘

نہیں نہیں اکیلے کیوں، ہما ری بیٹی بھی ہما رے ساتھ رہتی ہے ۔ مسز ندیم کا فی سو چ بچار کے بعد بولی۔ لیکن بس آجکل وہ فا ر غ ہے تو اپنے کا موں میں مگن رہتی ہے۔بس کیا کر یں۔ میں تو پوراوقت اسی کے کا موں میں الجھی رہتی ہوں۔اور لڑکیوں کے تو ہزاروں کام ہوتے ہیں کبھی شا پنگ تو کبھی کچھ۔ پورا دن اسی کے آگئے پیچھے گزر جاتا ہے۔ ’’آج کل کے بچے ‘‘صا ف دیکھا ئی دے رہا تھا مسز ندیم کے
الفا ظ ان کا سا تھ نہیں دے رہے تھے۔

’’سلطا نہ بیگم نے کا فی چا ہ کر ملنے کی خوا ہش کر ڈا لی ۔آفتا ب بھی تو اسی انتظا ر میںتھا۔ ‘‘
’’شا ئید وہ سو رہی ہو گی مسز ندیم نے با ت کو بدلتے ہوئے جو اب دیا۔‘‘
کا فی اسرار کے بعد مسز ند یم نے بشر ی کو آواز دی ۔وہ کا فی سہمے ہو ئے لہجے میں اْسے کہہ رہی تھی سَحر بی بی کو بلا کر لا ئو ان سے کہنا
’’تائی اماں‘‘ بلا رہی ہیں کچھ لو گ ملنے آئے ہیں۔ سو رہی ہوئی تو جگا لینا ۔‘‘
بشر ی بھی ایک عجیب سی کفیت میں مبتلا نظر آ رہی تھی بی بی جی میں جا کر دیکھتی ہو ں ۔تھکے تھکے قدموں سے بشری اوپر کی جانب گئی۔سڑھیوں پر چڑھتے ہوئے بھی بشری کسی گہری سو چ میں الجھی ہوئی محسو س ہو رہی تھی۔نہ جا نے وہ کس طر ح اس بارہ سڑھیوں کے
فا صلے کو طے کر کہ سحر تک جا رہی تھی۔معمولی سے اس فا صلے کو بشری نے بہت طویل سفر بنا لیا ۔
نہ جا نے بشر ی اْسے کیا کہہ کر لائی تھی اور کس طر یقے سے ڈرا ئنگ روم تک آنے کے لیے اْس کو منا یا تھا۔
آئو بیٹا امی نے ہا تھ آگئے بڑھا کر اسے اپنے پا س جگہ دی بہت پیا ری بیٹی ہے آپکی اس کو بھی سا تھ لیکر آئیے گا ۔
آپ کیا کر تی ہو؟ سلطا نہ نے نہا یت محبت سے پو چھا۔
بشر ی نے لپک کر جو اب دیا چھو ٹی بی بی نے ایم اے اْردو کیا ہے اور بہت اچھی پینٹر بھی ہیں کیا ہی کما ل کی تصا ویر بنا تی ہیں دیکھنے والا دھنگ رہ جا ئے۔
’’ارے واہ ہمیں بھی دیکھا ئیے آفتا ب نے بے تکلف ہو کر کہہ ڈا لا ۔‘‘

بشر ی ایک دم سکتے میں آگئی کسی نے کو ئی جو اب نہیں دیا سَحر تو جیسے بت بنی بیٹھی ہو صر ف اْس کا وجود ہم میں تھا رو ح تو کہیں
اور ہی تھی اتنے لو گو ں میں بیٹھی وہ گہر ی سو چوں میں گم تھی۔میں نے اْس کی آنکھو ں میں اداسی دیکھی لبو ں پہ شکوہ تھا میں ایک زندہ
انسان کو پتھر کی شکل میں دیکھ رہا تھا۔وہ اس سا دگی میں بھی اس قدر خو بصور ت لگ رہی تھی ۔ مجھے ایسے محسو س ہوا جیسے وہ صدیوں سے خا مو ش ہے۔میں گہر ی سو چوںمیں گم تھا ۔ اسی دوران ایک آواز میر ے کا نو ں میں پڑی۔

’’سَحر نے نہا یت سا دگی سے مجھے کہا تھا آئیے میںا ٓپ کو اپنی پینٹنگز دیکھا تی ہو ں۔‘‘

مسز ندیم نے اْسے حیران ہو کر دیکھا جا جا جا جا ئو بیٹا وہ لڑکھڑاتے ہوئے انداز میں بو لی ۔ہا تھ کے اشا رے سے انہو ں نے ایک با ر پھر جا نے کے لیے بو لا تھا ۔ سَحر بیٹے جا ئیے ۔
شا ئید وہ بھی دوبارہ اس کے زندہ وجود کو محسو س کر نا چا ہتی تھیں ۔ ایک با ر پھر وہ اس کی آواز سننا چا ہتی تھیں۔لیکن اس نے تو خا مو شی نہ تو ڑنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ میں اْس کے پیچھے چل دیا آپ اتنی کم گو کیوں ہیں؟ مجھے لگتا ہے آپ کو کوئی گہرا صد مہ پہنچا ہے کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں سڑھیا ں چڑھتے ہوئے میں نے اس سے دو با تیں پو چھیں تھیں۔ لیکن اس نے جو اب دینا منا سب ہی نہ سمجھا میں خا مو شی سے کمر ے تک اْس کے پیچھے آیا۔وہ کما ل کی آرٹسٹ تھی رنگو ں کا استعما ل کر نا تو کو ئی سَحر سے سیکھے ہر تصویر لا جو اب تھی دیکھنے والا دھنگ رہ جا ئے ۔آپ تو بہت اچھی پینٹنگ بنا تی ہیں۔ کہیں سے سیکھا ہے؟
ڈرے سے لہجے میں اس نے مجھے بیٹھنے کے لیے کہہ ہی دیا۔ اس کی آواز میں اتنی مٹھا س تھی یو ں لگا جیسے کو ئل نے کچھ کہہ دیا ہو۔
آفتاب نے پا س پڑے ا سٹول کو سَحر کی طر ف کسکھا دیا۔آپ بھی بیٹھ جا ئیں۔بے تکلف ہو کر آفتا ب نے کہا ۔
آپ ہما رے گھر کل آئیں گی؟ہم آپ کو دعوت دینے کے لیے آئے ہیں۔ایک با ر پھر وہ سَحر سے مخاطب ہوا ۔

’’میں کہیں بھی نہیں آتی جا تی ہوں۔ اس لیے وعدہ نہیں کر تی کو شش کر وں گی۔‘‘
’’ارے کیو ں آپ کہیں جا ب کر تی ہیں؟‘‘
پا س پڑی ایک اداس پینٹنگ اٹھا تے ہو ئے۔اس نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
آپ اپنی تصویروں میں ہر رنگ استعما ل کر تی ہیں لیکن میں نے جہا ں تک محسو س کیا ہے آپ سر خ رنگ کم استعما ل کر تی ہیں۔
’’سرخ رنگ کا شما ر میر ے رنگو ں میں نہیں ہو تا ۔‘‘سَحر نے سنجید گی سے جو اب دیا۔
’’لیکن یہ تو ہر رنگ کی جا ن ہے اس کے بغیر تو خو بصورتی نا مکمل ہے ۔‘‘آفتا ب بو لا۔

’’سَحر نے اپنی خو بصو رت آنکھوں کو حیرانگی سے گھما یا اور خا مو ش رہی۔‘‘

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: