Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 2

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 2

بشر ی نے ٹھک سے آ کر دروازہ کھو لا بی بی نیچے آ جا ئیں چا ئے تیا ر ہے ۔ میں دل ہی دل میں اس نو کر انی کو کو سے جا رہا تھا۔
میر ا جی چا ہ رہا تھا میں کچھ اور وقت سَحر کے ساتھ گز اروں ۔لیکن قسمت کو شا ئید یہ ہی منظو ر تھا کہ ہم بس مختصر ٹا ئم کے لیے ہی ملا قا ت
کر یں۔وہ میر ے ساتھ چا ئے کے لیے نہیں آئی تھی کسی کام کے بہا نے سے وہ اپنے کمر ے میں ہی رک گئی تھی۔ میںنے بھی آنے
پر زیا دہ ضد نہیں کی ۔

کچھ دیر کے بعد ڈا کٹر صا حب بھی گھر آ گئے تھے ان سے ملا قات کی تو مجھے کا فی اچھا محسو س ہوا ۔ہم نے خا ص تا کید سے دوبا رہ
ان کو آنے کے لیے کہا تھا ۔

مجھے اْس کی خا مو ش نظر وں میں بہت سا رے سو ال محسو س ہو ئے تھے اس کی آنکھو ں میں موسمِ خزا ں کی اداس شا م کی طر ح آنسو ادھم مچا تے ہوئے نظرآرہے تھے لیکن وہ آنسو اب پتھر کی شکل اختیا ر کر چکے تھے ایسے محسو س ہو رہا تھا صدیوں سے نمکین پا نی بر ف کی چٹان بناہوا ہے۔
خواہشیں حسریتیں بکھری ہوئی دیکھا ئی دیں۔منز ل بہت دور لیکن مسا فر آج بھی کٹھن را ستوں پر کا نٹوں کی چبن کو محسو س کر رہا ہو۔
میں چا ہتا تھا کے وہ کچھ بولے لیکن شائید وہ اپنا غم کسی سے بھی با نٹنا نہیں چا ہتی تھی۔آفتا ب نے گہر ی سا نس لیتے ہوئے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور راکنگ چیئر پر بیٹھے گہر ی سو چوں میں گم ہو گیا۔با ر با ر اس کا چہرہ آفتا ب کہ سا منے آ رہا تھا ۔ کبھی آنکھیں بند کر تا تو کبھی
کھو لتا اسی کشمکش میں را ت کا فی ہو چکی تھی۔

٭٭٭

مجھے کہیں نہیں جا نا میں آخر کیو ں جا ئوں؟ کو ئی وجہ بتا دیں میں اس قا بل نہیں ہو ں کے لو گو ں سے ملوں مجھے نہیں جا نا سَحر تلخی سے جو اب دے رہی تھی۔چند لمحوں کہ تو قف کہ بعد وہ دوبا رہ بو لی۔میں ایک شکستہ عما رت کہ ٹوٹے ہوئے بے جا ن درو دیوار کی ما نند ہوں۔جس کی کہیں کو ئی اہمیت نہیں ہے گلی میں پڑا ہوا گلا سڑا کیڑا یا پھر غلا ظت اور گند گی کا ڈھیر جس کو لو گ دور سے بھی دیکھنا پسند نہیں کر تے ہیں۔آخر میں
کیو ں جا ئوں؟ آپ پلیز مجھے مجبور مت کر یں ۔تا ئی اماں میں لو گو ں کو فیس نہیں کر سکتی ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں ہے۔چند سا نسیں قدرت کی طر ف سے با قی ہیںوہ تو مجھے پو ری کر نی ہی ہیں ورنہ میرا وجود تو اسی دن ہی مٹی ہو گیا تھا۔ حا لات کی سختیوں نے اُس کو اتنا اکھڑ مزاج بنا دیا تھا۔
مسز ندیم بھی چا ہتی تھیں کے وہ اپنے دل کا غبا ر نکال لے کچھ تو کہے اْس نے پچھلے ۵ سا لو ں میں گلے شکو ے کرنا چھو ڑ دیئے تھے۔
سحر میر ی بچی تم کیوں ایسے سو چتی ہو؟ میر ے یا تمہا رے تا یا ابا کہ پیا ر میں کبھی کہیں کمی محسو س ہوئی؟ مسز ند یم سوالیہ انداز میں سحر سے
مخا طب تھیں۔تم ہما رے جینے کا سہا را ہو۔ہما ری آخری امید ہو۔امید تو کبھی نہیںٹوٹتی ہم دو نو ں بھی ایک آخری امید کہ سہا رے زند گی کہ دن پو رے کر ہے ہیں۔ورنہ دنیا میں ہما را کو ن ہے کو ئی نہیں سو ائے اُس نیلی چھت والے کہ۔آنسوں کی نمی کو اپنے گا لوں سے پو نچھتے ہوئے سحر کو اپنے گلے لگا یا۔تم ایک مکمل انسا ن ہو، جیتا جا گتا وجود۔قدرت کا خسین شا ہکا ر‘ ایک ایسی مخلوق جس کو قدرت نے ہم سب کہ لیے خا ص بنا کر بیھجا ۔ان تما م با توں کہ با وجود سحر با لکل خا مو ش کھڑی رہی۔ان کی کسی با ت کا کو ئی جوا ب نہ دیا۔ مجبو ر ہو کر مسز ند یم پلٹ
آ ئی تھیں۔
مسز ند یم کہ جا نے کہ بعد ان کہ تما م الفا ظ سحر کہ اردگر د گھو م رہے تھے۔کیا مجھے بھی امیدوں کہ سہا رے جینا چا ہئے؟لیکن میں کس امید کہ
سہا رے خود کو تسلی دوں میر ی زند گی کا تو ہر را ستہ بند ہو چکا نہ کو ئی منز ل نہ امید ۔میں کیسے ایک مکمل انسان ہوں؟اذیتوں کی عما رتیں میرے
ارد گرد کیوں بلند ہو تی جا رہی ہیں آخر کب تک اس وجود کو دنیا کی سختیاں برادشت کر نی ہیں۔کب مجھے اس جہا ں سے چھٹکا را ملے گا۔
میر ے پا س تو کو ئی ایسا چر اغ نہیں جس کی رو شنی مجھے ایک نئی را ہ دیکھا ئے۔ سحر خود کلا می کہ دا ئر ے میں الجھی ہو ئی کتنی ہی دیر خود سے سوال کر تی رہی۔
وہ نہیں جا ئے گی ڈاکٹر صاحب آپکی بیٹی ہے ضدی تو ہے۔میں چا ہتی ہوں وہ لو گو ں سے ملا کر ے اپنے غم سے خو د کو نکا لے۔ الما ری کی
طر ف بڑ ھتے ہوئے مسز ند یم نے اپنی با ت پو ری کی تھی۔مسز ند یم تیا ر کھڑ ی تھیں اور بشر ی کو با ہر لا ن میں کھڑ ی کافی کچھ سمجھا رہی تھیں ۔
بشر ی ہر با ت میں جی جی کہہ رہی تھی۔کچھ ٹا ئم کے بعد ایک ایسا منظر دیکھنے کو آیا جس کو سب دیکھ کر ششدر رہ گئے۔
گلا بی رنگ نے اس کی سا دگی اور حسن میں اور اضا فہ کر دیا تھا۔نظریں جکا ئے وہ لان میںکھڑ ی تھی۔ میں تیا ر ہو ں چلیں ۔
ہاجرہ بہت حیر انی سے دیکھ رہی تھی۔اس نے کو ئی بنا ئو سنگھا ر نہیں کیا تھا بس گلا بی جو ڑا پہن کر دوپٹہ سر پر رکھے وہ دعوت پر
جا نے کو تیار کھڑ ی تھی۔
٭٭

آفتا ب کی نظریں گیٹ پر تھی سب لو گ آ چکے تھے لیکن وہ شد ت سے سَحر کا انتظار کر رہا تھا۔اْسے یقین تھا کے وہ ضرور آئے گی۔
اگلے ہی لمحے اس نے آگئے بڑھ کر ڈاکٹر ندیم اور ان کی فیملی کو خو ش آمدید کہا تھا۔سَحر نے مشکل سے مسکر ا کر سلام کیا تھا۔
آپ کے آنے کا بہت شکر یہ کہہ وہ سَحر کو رہا تھا لیکن نظریں ڈاکٹر ند یم اور پرو فیسر ہا جرہ کی طر ف تھیں۔

Read More:  Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 17

بھا بھی یہ سَحر ہیں سا منے والے گھر سے آئی ہیں ۔را بعہ مہما نو ں میں گھیر ی کھڑی تھی۔مصنو عی مسکراہٹ سے وہ سَحر سے ملی۔جا نتی ہوں میں یہ ڈاکٹر صا حب کی بھتیجی ہے۔ان کو کون نہیں جا نتا سو سا ئٹی میں ان کے چر چے ہمیں سنتے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے۔رابعہ کے تلخ جوابوں
نے سحر کو کھڑے کھڑے زمین میں گاڈ ھ دیا تھا۔ان سے ملیں میری چھوٹی بہن عائشہ ہیںما ئشاللہ سے ایم بی اے اکائونٹس مکمل کر چکی ہیں۔
کچھ روز پہلے ہی امریکہ سے ڈگری لے کر واپس آئی ہیں۔ رابعہ نے طنزیہ انداز میں سحر کا اور عا ئشہ کا تعارف کروایا تھا۔سحر بمشکل ہی مسکرا
کر جواب دے پائی۔آپ سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔
عائشہ بولڈ اور ما ڈرن دیکھا ئی دے رہی تھی ضرورت سے زیادہ ہی فضول بو ل رہی تھی فنکشن میں ہر امیر کبیر لڑکے پر اس کی نظریں جمی ہوئی
دیکھا ئی دے رہی تھی۔سحر کو عجیب نظروں سے سر سے پا ئوں تک کافی دفعہ دیکھ چکی تھی آخر کار اپنی عادت سے مجبور وہ بول ہی پڑی ۔
آپ اتنا سا دہ اور عجیب لبا س کیوں پہن کر آئی ہیں کیا اس سے پہلے کبھی کسی پا رٹی میں نہیں گئیں؟
نہیں ۔دو ٹوک جواب دے کر سحر نے عائشہ سے جان چھڑانا چا ہی۔
آفتاب تمام باتوں کو سمجھ رہا تھا اس لیے بات کو سنبھالتے ہوئے آگئے بڑھ کر بولا۔ کما ل ہے میر ے علا وہ سب لو گ آپ کو جا نتے ہیں آفتا ب نے کا فی شر یر اندا زمیں سَحر کی طر ف دیکھ کر کہا۔یہ میر ی اکلو تی بھا بھی ہیں کند ھو ں سے پکڑ ے آفتا ب نے شرارتی سے انداز میں ایک دو سرے کا پھر سے تعا رف کر وایا۔
وہا ں ہی سلطا نہ بیگم بھی آچکی تھی بیٹی کچھ کھا یا ہے؟بہر ے کو خا ص تا کید سے کہا ان کو اچھے سے سر و کر یں اتنا کہہ کر سب جا چکے تھے۔
آفتا ب نے سَحر کو اکیلے بیٹھے دیکھا تو اس کی جا نب آیا۔ایک کو نے میں کیو ں بیٹھی ہیں؟آیئے میں آپ کو اپنا گھر دیکھا تا ہوں۔
نہیں میں یہا ں ہی ٹھیک ہو ں سہمی سی آواز میں سَحر نے جو اب دیا تھا۔
ارے چلیں نہ آفتا ب اس کو زبر دستی کہہ رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے وہ اْٹھ کھڑ ی ہو ئی جی چلئے دوپٹہ اچھے سے سر پر ٹکا کر وہ میر ے سا تھ چل دی۔
ہما را گھر آپ کے گھر کی طر ح بہت بڑا تو نہیں لیکن میر ی امی نے کافی اچھے سے سجا یا ہوا ہے۔ یہ گھر خا لی ہی ہے رہنے والے تو
صر ف ہم دو لو گ ہی ہیں بھا بھی تو الگ رہتی ہیں۔مستقل وہ بو لے جا رہا تھا لیکن اس نے اپنی خا مو شی نہیں تو ڑی تھی۔
آپ کچھ بو لتی کیوں نہیں ہیں؟اسی دوران آفتا ب نے اپنے کمر ے کا دروازہ کھو لا تھا یہ میراکمر ہ ہے آئیے ہا تھ کے اشا رے سے
وہ جھکے ہوئے اند ز میں اْسے اندر آنے کو کہہ رہا تھا۔
نہیں نہیں ایک دم سے وہ چو نک کر بو لی تھی۔
میںآپ کو کوئی نقصا ن نہیں پہنچا ئو ں گا آپ پر یشا ن مت ہوں ہنستے ہنستے آفتا ب نے کہا ۔
ایسی کو ئی با ت نہیں ہے نظریں جکا ئے سَحر نے جو ا ب دیا ۔
آپ کی گبھر اہٹ سے تو مجھے ایسا ہی محسو س ہو رہا ہے جیسے میں کو ئی دہشت گر د ہوں۔ارے آئیے نہ ایک با رپھر بے تکلفی سے
آفتا ب نے کہا۔
’’جھجکتے ہو ئے وہ کمر ے میں داخل ہو ئی ۔‘‘
با ئیں جا نب لگی کھڑ کی کی طر ف ہا تھ سے اشا رہ کر تے ہو ئے آفتا ب کچھ کہہ رہا تھا۔
’’لیکن وہ بت بنی کھڑ ی تھی۔‘‘
وہ پلٹا اور چٹکی بجا کے بولا آپ سے مخا طب ہوں ۔ یہ کھڑ کی آپ کے کمر ے کے سا منے ہی کھو لتی ہے اْس رات میں نے آپ کو
اکیلے کھڑ ے دیکھا تھا ۔
کس رات قدر ے گھبرائے ہوئے لہجے میں بو لی۔
کا فی دن گز ر گئے اس با ت کو آئیے واپس چلیں میں بس یہ ہی دیکھا نے لا یا تھا ۔
وہ سہمی نظر وں سے کھڑی اپنے ہی گھر کے منظر کو یو ں اجنبیوں کی طر ح دیکھے جا رہی تھی جیسے بہت قیمتی شے ڈھو نڈ رہی ہو۔
مجھے لگتا ہے آپ کو کو ئی گہرا صدمہ پہنچا ہے آپ اتنی گم سم کیو ں رہتی ہیں؟
ایک با ر پھر گھبرا کر وہ پلٹی ایسا کچھ نہیں ہے۔
میں اْس کی آنکھو ں کی نمی کو محسو س کر چکا تھا۔
اس جگہ سے جیسے کو ئی گہرا تعلق ہو گلا س ونڈوکو وہ یوں مضبو طی سے پکڑ ے کھڑی تھی ۔
واپس نیچے آتے ہوئے بھی چپ سا دھے سڑھیا ںاترتی رہی میر اجی چا ہتا تھا اس سے با تیں کر نے کو پو چھنے کو ا س کی خا موشی کو توڑنے
کو لیکن میں بے بس تھا کچھ کہہ نہیں پا تا تھا دوسری ہی ملا قات میں میں کیسے اْس کو کچھ بھی نہیںبو ل سکتا تھا۔

گھر واپس آنے کے بعد سَحر کو سو چ کے دھا رے کہیں سے کہیںلے جا رہے تھے۔ وہا ں آفتا ب بھی بے چین تھا را ت بھر خواب
آنکھو ں میں لیے جا گتا رہا ۔
صبح سو یر ے آفتا ب جا گنگ کے لیے جایا کر تا تھا لیکن وہ یہ نہیں جا نتا تھا سَحر بھی اکثر اوقات اپنی ادھوری تصویریں مکمل کر نے گھر
سے با ہر آیا کر تی تھی۔
ہا پنتے ہو ئے آفتا ب نے سا نس لیا اور پا نی پینے لگا ۔ ارے آپ ہا تھ کے اشا رے سے وہ سَحر کو پو چھ رہا تھا۔ خوشی سے پا گل ہو ئے
جا رہا تھا آپ رو زانہ یہاں آتی ہیں؟ میں تو روزانہ آتا ہو ں کبھی کبھا ر دیر بھی ہو جا تی ہے لیکن آپ کو پہلے کبھی دیکھا نہیں؟
ہمیشہ کی طر ح آفتا ب بو لے جا رہا تھا وہ چپ سا دھے بیٹھی تھی۔ کچھ بو لیئے نہ ایک با ر پھر وہ اْس سے مخا طب تھا ۔
میں یہا ں کبھی کبھی آتی ہوں رنگوں کی ڈبیا بند کر تے ہوئے سَحر نے جو اب دیا
کیا ہم بیٹھ کر کچھ با ت کر سکتے ہیںاگر آپ کو برا نہ لگے؟ ججھکتے ہوئے آفتا ب نے سَحر سے پو چھا
اٰیڈوکیٹ آفتا ب کہتے ہیںمجھے شرا رتی سے اندا ز میں اپنا تعارف کر وا رہا تھا۔آپ اتنا چپ چا پ کیوں رہتی ہیں؟ کیا کو ئی پر یشا نی
ہے؟ کیا ہم اچھے دو ست بن سکتے ہیں؟ ایک ہی سا نس میں آفتا ب نے اتنے سا رے سو ال کر ڈالے تھے۔
آپ کچھ زیا دہ ہی نہیںبو لتے اپنی چیزیں اٹھا تے ہو ئے بس ایک ہی جملے میںسَحر نے جوا ب دیا۔
سامنے والا جب کچھ کہے گا ہی نہیں تو بندہ نہ چیز تو بو لے گا جھکے ہو ئے انداز میں الٹے پا ئوں چلتے ہوئے آفتا ب نے کہا۔
ہلکی سے مسکرا ہٹ سے اس نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور خا مو شی سے تیز تیز چلنے لگی۔
آپ کی آنکھو ں میں اتنی تھکن کیوں ہے؟ ایک با ر پھر آفتا ب نے بے تکلف ہو کر پو چھا۔
سَحر کا ذ ہن اس گھنے جنگل کی طر ح تھا جس میں تیز ہوائوں اور خو فنا ک آند ھیوں کا شو ر ہو تا ہے اْس کے پا س کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں
۵ سال گز رنے کے بعد بھی اپنے ما ضی کو بھولا نہیں سکی تھی ۔’’ کبھی کبھی ایسا ہو تا ہے نہ کو ئی حا دثہ ہو تا ‘ نہ چو ٹ لگتی ہے نہ گہرا
زخم آتا ہے پھر بھی درد اْٹھتا ہے تکلیف ہوتی ہے درد کی شدت اس قدر گہر ی ہو تی ہے بے سکونی بے قرا ری خو د بخود
محسو س ہو نے لگتی ہے رونگ رو نگ مر دہ ہو جا تا ہے جیتا جا گتا انسا ن زندہ لا ش لگنے لگتا ہے‘‘ سَحر اپنی با ت مکمل کر کے جا چکی تھی۔
آفتا ب تن تنہا کھڑا سو چتا رہا یہ اتنی گہر ی با تیں بھی کر سکتی ہے دوبا رہ سے اپنے ٹریک پر بھا گتا ہوا گھر پہنچ آیا ۔

Read More:  Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 7

کتنا لیٹ کر وا دیا مجھے کچھ ہی دن میں دفتر والے مجھے خیر آبا د کہہ ڈا لیں گے ۔حمید حمید نا شتہ لے آئو بلند آواز میں آفتاب بو لا۔
ہا ئے ہا ئے کیسی با تیں کر تے ہیں چھو ٹے صا حب اللہ نہ کر ے ایسا ہو ۔ آپ کو دن دْگنی را ت چو گنی تر قی ملے بس ابھی لایا جی
کچن کے اند ر سے ہی حمید نے بلند آواز میں کہا۔
وہا ں کھڑ ے کھڑے تو نا شتہ میز پر نہیں ا ٓجا ئے گا ۔ امی آپ خو د ہی نا شتہ بنا لیا کر یں اس کو تو میںوا پس آکر پو چھتا ہو ں تنگ کیا ہو ا۔
چھو ٹے صا حب نا شتہ
گھڑ ی دیکھو ٹا ئم کیا ہو رہا ہے کو ٹ میں لوگ ۹ بجے سے بھی پہلے پہنچ جا تے ہیں اور میں یہا ں دال رو ٹی کے چکر میں انتظا ر کر رہا ہوں
آج تو آفتا ب نے کھر ی کھر ی سنا دی ۔
’’وہ وہ وہ ‘‘ حمید کچھ بو ل ہی نہیں پایا۔
کیا وہ وہ لگا رکھی ہے؟ غصیلے انداز میں آفتا ب بو لا۔
صا حب مجھے را بعہ بی بی نے بلا لیا تھا ان کی طر ف تھا اس وجہ سے لیٹ ہو گیا ۔
سخت غصے سے آفتا ب نے کر سی ہٹا ئی اور اٹھ کھڑ ا ہوا ۔ سلطا نہ اور حمید دونوں جا نتے تھے کہ آفتا ب کا غصہ با لکل ٹھیک ہے اس لیے
چپ چا پ سن رہے تھے۔
تیز ی سے گیٹ کی جا نب بڑا گا ڑی لے کر وہ جا چکا تھا ۔
آفتا ب دفتر میں بیٹھا میز پر پھیلے ہو ئے کا غذا ت کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔ابھی ابھی اس کا ما تحت پر ویز یہ کا غذا ت اس کو دیکر گیا تھا۔
کسی امیر بزنس مین کی پراپرٹی کا کیس تھا فا ئل کو اچھی طر ح سے غو ر سے پڑ ھ رہا تھا ایک ایک ورق اْلٹا کر مکمل جا ئزہ لے رہا تھا۔
وہ ہا ئی کو رٹ کا ایک دیا نتدار وکیل تھا پو ری دلجمعی سے کیس کی جب تک تسلی نہ کر لیتا کبھی بھی دستخط نہ کر تا ما تحت پر ویز اْس کی اس
عا دت سے واقف تھا اس لیے وہ کا غذات دے کر خود چلا گیا تھا۔آفتا ب اپنے کام میں مصر وف تھا ایک ایک جملے کو غور کے ساتھ
پڑھنے میں مصروف تھا۔کہ دروازے پر آہٹ ہوئی اس نے میز پر جھکے جھکے گر دن مو ڑی۔
دروازے میں اس کا عزیز تر ین دوست ایڈوکیٹ حامد کھڑا مسکرا رہا تھا۔
’’اسلام علیکم‘‘ حا مد نے بلند آواز میں بو لا اور ہا تھ آگئے بڑھا یا۔
آفتا ب نے مسکرا کر حا مد کا ہا تھ تپا ک سے پکڑ لیا ۔
بڑے دنوں بعد آئے ہو ئے آفتا ب نے اپنی نشست سنبھالتے ہوئے کہا۔
بس یا ر کر اچی گیا ہو ا تھا وا پس آتے ہی آپ کے پا س خا ضر ہو گئے۔اپنا چمبر بھی تو کھو لنا ہے بس میں تو مزید پیسے کما نا چا ہتا ہوں
تعلیم کو یہا ں ہی خیر آبا د بو لوں گا حکو مت نے نو کر ی تو دی نہیں۔ آرا م سے کما ئو ں گا اور کھا ئوں گا ۔چمبر کی جگہ سب کچھ
دیکھ آ یا ہوں بس تجھے ساتھ لے کر جا ئو ں گا تسلی بھی تو کر وانی ہے ۔حا مد نے خوشگوار سے انداز میں بات کو مکمل کیا۔
آگئے کے کو ئی ارا دے نہیں جنا ب کے آفتا ب نے چھیڑ خانی کے اند از میں بو لا۔
شا دی کر وں گا قہقہ لگا کر حا مد نے جو اب دیا۔
ٹھیک ہے بھائی آفتا ب نے ہا تھ کو الٹا گھما تے ہو ئے کہا ۔
میں ایک کا م سے آیا ہوں ایک عر ض لے کر اگر صا حب فرصت نکا ل لیں کر سی پر بیٹھے حا مد جھک کر بو لا۔
حکم کر یں آپ عر ض نہیں۔ دو نوں دوست ایک دوسر ے کہ ساتھ کا لج ٹا ئم سے تھے ایسے ہنسی مذا ق معمول کی با ت تھی۔
یار آفتا ب چیمبر میں کچھ پینٹنگز لگا نی ہیں۔کچھ ایسی تصا ویر جو آج کل کہ حالات سے آگا ہی دیں،
تصا ویر ‘ پینٹنگزدل ہی دل میں بو لا ‘ آفتا ب اپنی کر سی سے اْٹھ کھڑا ہوا ۔
ارے بھا ئی کیا ہو اکچھ غلط کہہ ڈا لا میں نے؟بیٹھ جا ئو میاں۔ حا مد نے کا فی سنجد گی سے پو چھا ۔
ایسی کو ئی با ت نہیں نفی میں سر ہلا تے ہوئے آفتا ب نے جو اب دیا۔اس کے ذہن میں سَحر کا خیال آیا دل ہی دل میں وہ سو چ رہا تھا لیکن
حا مد کو کچھ بتا نہیں سکا ۔ تمہا را کا م ہو جا ئے گا میں ایک دو اچھے پینٹرز کو جا نتا ہوں بنو ا دوں گا کب تک چا ہئے؟ آہستگی سے
اس نے حا مد سے پو چھا ۔
اگر تم کہہ رہے ہو تو کام تو اچھا ہی ہو گا مجھے ساتھ جا نے کی ضرو رت نہیں ہے بس یہ ہے اگلے ہفتے تک اگر مل جا ئے ۔ اب
چا ئے پلا دو یا ر اخبا ر پکڑ تے ہو ئے حا مد نے تھکے ہوئے لہجے سے کہا۔
پو را راستہ آفتا ب اِسی کشمکمش میں تھا سَحر سے کس طر ح جا کر بو لوں گا میرا یہ کا م کر دے ۔ خدا جا نے وہ میر ی بات ما نے بھی یا نہیں
ڈھیروں‘ سوالوں اور الجھنوں میں گھِرا ہو ا تھکا ہا راا ٓفتا ب گھر پہنچا۔ را ت کا کھا نا کھانے کے بعد لان میں چہل قد می کر نا اس کی عا دت تھی۔لیکن آج وہ بس ایک ہی با ت سو چ رہا تھا سَحر سے کیسے با ت کی جا ئے ۔چلتے چلتے وہ ایک دم رکا ۔ صبح آفس جا نے سے پہلے میں
سَحر سے با ت کر وں گا۔ ہو سکتا ہے وہ کل بھی واک کر نے کے لیے آجا ئے اگر نہیں آئی تو میں گھر جا کر بات کر وں گا اگر پھر بھی
اْس نے انکار کیا تو میں حا مد سے معذرت کر لوں گا ۔ان تما م با تو ں کہ بعد وہ اپنے کمر ے میں جا کر گہر ی نیند سو چکا تھا۔

Read More:  Rishtay Pyar Kay by Fairy Malik – Episode 7

صبح صبح حسبِ معمول آفتا ب اْٹھ گیا۔ اپنے جا گر ز کے تسمے با ندھتے ہوئے حمید کو آواز لگائی۔ میر ے آنے تک نا شتہ میز پر
لگا ہو ۔ میںآج کو ئی بہا نہ نہیں سنو ں گا ۔امی جا گ رہی ہیں؟ آفتا ب نے کر سی پر بیٹھے بیٹھے حمید کی طر ف سوالیہ نظر وں سے
دیکھا۔
’’جی چھوٹے صا حب بیگم صا حبہ تو فجر کے بعد سو تی ہی نہیں۔‘‘
’’حمید کی با ت مکمل ہو تے ہی وہ اْٹھ کر بنا جو اب دیئے چلا گیا۔‘‘
جا گنگ کر تے کر تے وہ تھک چکا تھا لیکن سَحر کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی کا فی افسر دگی سے وہ پا رک میں ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔پا نی کی طلب
محسو س ہوئی تو وہ اْٹھ کر دوبا رہ چلنے لگا ۔ با ئیں جا نب کا فی دور اْس نے ایک لڑکی کو دیکھا جو کچھ تصا ویر بنا نے میں مصر وف تھی بھا گتا ہوا
وہ اس کی طر ف گیا۔ آپ یہا ں بیٹھیں ہیں میں نے آپ کو پا ر ک میں ہر جگہ تلا ش کیا۔مجھے آج آپ سے ایک کا م تھا۔
آپ نے کل بھی میرا کا فی ٹائم ضا ئع کیا تھا اس وجہ سے بر ائے مہر با نی آپ جا یئے مجھے میرا کام کر نے دیں سَحر تڑک کر بو لی۔

’’ما یو سی سے وہ کچھ جو اب نہیں دے پا یا الٹے پا ئوں چلنے لگا۔‘‘

سَحر اْسے غصے سے دیکھ رہی تھی۔ پھر گر دن موڑ کر ہا تھ سے اشا رہ کر کے اْس کو اپنی طر ف آنے کو بولا۔
آفتا ب بھا گتا ہوا اس کی جا نب آیا ۔ اس کہ لیے اتنا ہی کا فی تھا کہ سَحر نے خو د اْس کو بلا یا ہے۔
جی کہیے آپ کو مجھ سے کیا کام ہے میں ویسے کسی کہ کیا کا م آسکتی ہوں؟ ایک عو رت کی افسر دہ سی تصویر میں بر ش سے رنگ
لگا تے ہوئے بو لی۔
درا صل میر ا یک دوست ہے ایڈو کیٹ حا مد اْس نے اپنا پرا یئو ٹ چیمبر کھو لا ہے تو اس سلسلے میں آپ سے با ت کر نی ہے۔
میں آپ کو وکیل نظر آتی ہوں؟سوالیہ اند ازمیں سحَر نے پو چھا۔
نہیں نہیں ۔نفی میں سر ہلا تے ہو ئے آفتا ب گھا س پرسَحر کے قریب بیٹھ گیا۔
پھر کیا کا م ہے آپ کو؟ اپنا بر ش نیچے رکھتے ہوئے کا فی سنجد گی سے پو چھ رہی تھی۔
میر ے دو ست کو کچھ پینٹنگز بنوانی ہیں کچھ ایسی تصا ویر جو آج کل کہ حا لات کہ با رے میں ہوں ۔
میں لو گوں کا کا م نہیں کر تی ہوں اپنی مر ضی سے اپنے لیے کام کر تی ہوں آفتا ب کو تڑک کر اس نے جو اب دیا۔
ارے آپ تو نا را ض ہو گئی۔ میں تو دو ست سمجھ کر آپ کے پا س آیا تھا شہر میں اتنی جلد ی کو ئی بھی تصا ویر بنا کر دینے پر آما دہ نہیں
ہو رہا ہے ہر کو ئی ۴ سے ۶ ماہ کا ٹا ئم ما نگ رہا ہے اس کو جلد ی چا ہیے تھی تو آپ میر ے ذہن میں آئی کسی کہ رزق کا کام شر وع ہونے
سے رک جا ئے گا بے چا رہ سا منہ بنا کر وہ سَحر کو منا نے کی کو شش کر رہا تھا ۔ آپکی مر ضی ہے میں چلتا ہوں کہیں اور شا ئید کو ئی اْس غر یب
کی مد د کر دے۔آنکھیں گھما تے ہوئے آفتا ب اْٹھ کھڑا ہوا۔کچھ دور جا نے کے بعد آفتا ب نے مڑ کر دیکھا تو سَحر اْس کے پیچھے
نظریں جھکا ئے کھڑی تھی۔
کس طر ح کی پینٹنگز بنو انی ہیں آپ شا م میں گھر آکر مجھ سے تفصیل سے با ت کر لیجئے گا لیکن میں کسی قسم کا معا وضہ نہیں لیتی ہوں
آپ کا دوست مجبور ہے اِس لیے میں نے ہا ں کی ہے کو شش کروں گی وقت سے پہلے ہی بنا کر دوں مسکر ا کر اس نے تما م با تیں
مکمل کی۔اپنا مو با ئل نمبر لکھوا نے کہ بعد وہ جا چکی تھی۔آنے سے پہلے مجھے کا ل کر لیجئے گا۔
ہا ئے بو لتی ہے تو لگتا کو ئل اس کی آنکھیں کس قدر خو بصورت ہیں نا ک بھی آفتا ب دل ہی دل میں سو چ ہی رہا تھا ۔
ایک دم سے جھنجھلا کر بو لا جی جی ضر ور کیا کر وں جب سا منے آتی ہے تو کمبخت دل قا بو میں نہیں رہتا با لوں میں ہا تھ پھیرنے کے
بعد واپس گھر کی طر ف بھا گنے لگا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: