Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 3

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 3

سو رج ڈھلتے ہی آ فتا ب کو بے چینی سی محسو س ہو نے لگی وہ جلدی جلدی اپنا کا م ختم کر نے میں مصر و ف تھا با ر بار سا منے لگے وال کلا ک
پر نظر ڈا لتا سر دیو ں کہ دن بھی نہ بہت ہی چھو ٹے ہو تے ہیں اتنی جلد ی شا م ہو نے لگتی ہے نہ جا نے اب سَحر کے گھر جا نا منا سب بھی
ہو گا یا نہیں اسی کشمکش میں گا ڑی کی چا بیاں میز سے اْ ٹھا کر وہ تیز ی سے اپنے دفتر سے نکل گیا ۔
گا ڑی سیدھی سَحر کہ گھر کہ با ہر لا کھڑ ی کی کا فی دیر آفتا ب اسٹرنگ پر ہا تھ رکھے سو چتا رہا میں اند ر کیسے جا ئو ں سا ئیڈ مر ر میں خود
کو با ر با ر دیکھتا اور با لو ں میں ہا تھ پھیر تا اْس کو مجھ میں کو ئی دلچسپی نہیں ہے لیکن یکطرفہ محبت بھی اکثر جیت جا تی ہے۔چلو آفتا ب
میاں خود سے مخا طب ہوتے ہوئے وہ گا ڑی سے اترا۔گیٹ کیپر کو گھو رتے ہوئے دیکھا اور آگئے بڑھ کر اْسے اند ر جا نے کو بولا
چا چا اندر جا نا ہے چھو ٹی بی بی سے ملنا ہے گاڑی با ہر ہی کھڑی ہے ایک با ر پھر آفتا ب نے غصے سے اْسے دیکھا ۔
ٹھیک ہے صا حب جی جا ئو سو’’ بسم اللہ ‘‘لیکن بی بی تو کسی سے ملتی نہیں آفتا ب کو جا تے ہوئے پیچھے سے آواز لگا کر گیٹ کیپر بو لا۔
سنی ان سنی کر کہ وہ اندر چلا گیا ۔ جا تے ہی ڈاکٹر صا حب کی خا ندانی با تو نی ملا زمہ متھے لگ گئی ۔اب اس کا لیکچر سننا پڑے گا ۔
صا حب جی یہ تو وہ تو اسیے تو ویسے دل ہی دل میں وہ اس کی با تیں دہر ا رہا تھا ۔
آئیے صا حب جی بڑے دن بعد چکر لگا یا بڑے صاحب تو سو رہے ہیں بیگم صا حبہ ذرا با زار تک گئی ہیں کسی خا ص کام سے آنا ہوا؟
ایک ہی سانس میں بشری نے سا ری با تیں کہہ ڈا لی تھیں۔
اْف کتنا بو لتی ہے یہ کیا کھا تی ہے کا ن کہ پیچھے ہا تھ سے کھجلی کر تے ہوئے آفتا ب بو لا ۔مجھے سَحر سے ملنا ہے اگر آپ اْن کو بلا دیں
تو بے حد عنا ئیت ہو گی۔
بی بی سے ملنا ہے اس کا چہرہ حیرا نگی سے ذرد ہو گیا ایک با ر پھر بولی بی بی سے ملنا ہے؟
جی سَحر سے ملنا ہے بلا دیں میں یہا ں ہی ان کا نتظا ر کر ر ہا ہوں لا ئونچ میں صو فے پر بیٹھتے ہوئے آ فتا ب نے کا فی سنجدگی سے کہا۔
گو لا ئی میں سیڑھیاں چڑھتی بشری ہر قدم کہ ساتھ سو چتی اور مڑ مڑ کر نیچے دیکھتی ۔
ایک دم سے جھپا ٹ کر کہ دروازہ مت کھو لا کر و تمہیں کب طو ر طر یقے آئیں گے آخر میر ے کمر ے میں تمہا را کیا کام ہے؟ آج
تو سَحر بشری پر کالے با دلو ں کی طر ح بر س پڑی ۔
بی بی جی میں تو آپ کو بلا نے آئی ہوں جی سا منے والے گھر سے آفتا ب صا حب آپ سے ملنے آئیں ہیں۔
اچھا سَحر قدر ے توقف سے بو لی ۔
بی بی جی کیا کہوں اْن سے میں نے تو اللہ قسم ان سے کہا تھا آپ نہیں ملنے والی لیکن وہ خود ہی بیٹھ گئے میرا کو ئی قصور نہیں گھر کہ تما م
ملا زم سَحر کی عادت سے واقف تھے اس وجہ سے وہ کسی بھی مہما ن کو اْس تک نہ آنے دیا کر تے کیو نکہ وہ کسی سے ملا ہی نہیں کر تی اسی
وجہ سے بشر ی بھی صفا ئیا ں دے رہی تھی۔
او ہو بشر ی خا مو ش ہو جائو دھیمے سے انداز میں اس نے بشر ی کو ٹوکا۔ تم ان کو بیٹھا ئو چا ئے سر و کر و جب تک میں غسل لے لوں
ٹھیک دس منٹ کہ بعد میر ے کمر ے میں اوپر بیھج دینا۔

جی بہتر چھوٹی بی بی اتنا کہہ کر بشر ی چلی گئی۔

آفتا ب کی نظریں سا منے سڑھیوں پر جمی ہوئی تھیں لیکن اچانک سے بشری کو اکیلے آتے دیکھ کر وہ کچھ بجھ سا گیا ایسا لگا جیسے دل کی
دھڑکن رک سی گئی ہو اگر اْسے نہیں ملنا تھا تو مجھے پا رک میں ہی منع کر دیتی خوامخوہ میں یہاں تک آیا اتنی امید سے میں ہمت کر کہ
آیا اور اس نے مجھ سے ملنا تک گنو ارہ نہ کیا بہت ہی ضدی لڑکی ہے ۔بہتر تھا میں اس سے فون پر با ت کر لیتا انکار کر تی تو اتنا دکھ نہ ہو تا یو ں ملا زموں کہ سا منے میں ذلیل نہ ہوتا۔غلطی میری ہی ہے جو بنا بتا ئے منہ اٹھا کر ملنے آگیا۔آخر ایسی بھی کیا انا ہوئی گھر آئے مہما ن کی قدر تک نہیں۔ما یو سی سے منہ لٹکا ئے بیٹھا آفتا ب سَحر کہ متعلق مختلف با تیں سو چنے میں مشغول تھا۔

صا حب جی بی بی نے کہا ہے دس منٹ کہ بعد آپ کو اوپر بیھج دوں ۔وہ کچھ کام کر رہ ہی تھیں تو غسل لینے چلی گئی اس وجہ سے آپ کو انتظار
کا کہا ہے آپ چا ئے لیں گے یا کا فی؟
نہیں مجھے کچھ نہیں کھا نا پینا شکر یہ ۔
بشر ی منہ بسورے وہا ں سے چلی گئی۔
میں بھی کتنا پا گل ہوں ایک ہی لمحے میں کتنا کچھ سو چ ڈالا خود کو غصے سے مخاطب کر نے لگا ۔
ٹھیک دس منٹ کہ بعد گھر کہ با ورچی نے آکر آفتا ب کو اوپر جا نے کہ لیے کہا ۔بی بی نے آپ کو بلا یا ہے کمر ے کہ با ہر تک چھوڑ
کر با ورچی واپس سڑھیا ں اتر نے لگا۔
آہستگی سے دستک دیتے ہوئے آفتاب کا فی جھجک محسوس کر رہا تھا۔
آجا ئیے کمر ے کہ اندر سے ایک آواز آئی آفتا ب کہ دل کی دھڑکن تیز ہو نے لگی دروازہ کھو ل کر اندر دا خل ہو ا۔
سَحر ابھی نہا دھو کر غسل خا نے سے با ہر آئی تو سا منے آفتا ب کھڑا تھا آپ پلیز بیٹھئے میں نے کا فی انتظا رکروایا آئی ایم سو ری
ارے نہیں ایسے کہہ کر آپ مجھے شر مندہ کر رہی ہیں میں بھی بغیر اطلاع دیئے ہی آگیا۔فو ن کر نا میر ے ذہن میں ہی نہیں رہا بس آفس سے نکلا تو دوست کی با ر با ر کال آرہی تھی۔۔ سو چا اتنی بڑی آرٹسٹ ہیں اگر ملنے کا ٹائم ما نگا اور آنے میں تا خیر ہوجا ئے پھر تو ملا قا ت کا ٹا ئم ملتوی ہو جائے گا۔اس لیے میں بن بتا ئے ہی آپ کی طر ف آگیا شر ارت سے آفتا ب سَحر کو ٹکٹی با ندھے دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا۔

آپ پلیز بیٹھیں سحر نے مو ہدبا نہ انداز میں آفتا ب کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ایسی کو ئی با ت نہیں آپ بتا ئیے کیسی تصا ویر بنا نی ہیں پا س پڑی کر سی کو اپنی جا نب کھنچتے ہوئے اس پر بیٹھ گئی۔

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 8

آفتا ب نمو نے پہلے سے لیکر آیا تھا اس نے سَحر کہ ہا تھ میں تھما دیئے اس سے ملتا جلتا کچھ بنا دیں رنگ اپنی مر ضی کہ استعما ل کر لیجئے
گا۔کیو نکہ آپ کی پسند بہت اچھی ہے مسکر ا تے ہوئے آفتا ب نے کہا۔
ٹھیک ہے آپ اگلے ہفتہ کو آکر چیک کر لیجئے گا جب تک کام مکمل ہو جائے گا اگر آپ شر وع میں بھی دیکھنا چا ہیں تو گھر آکر کسی
بھی وقت دیکھ سکتے ہیں اگر آپ کو پسند نہ آئے تو کسی اور سے کر وا سکتے ہیں۔
ارے ارے کیسی با تیں کر رہی ہیں کیوں پسند نہیں آئیں گی کا فی سنجیدگی سے آفتا ب نے کہا ۔
وہ کبھی اْس کہ بھیگے ہوئے چہر ے کو دیکھتا اور کبھی اْس کی اداس آنکھو ں کو گیلے بالوں کا پا نی بہہ کر اس کہ کانو ں کی لو سے نیچے کی جانب
ٹپک رہا تھا با ر بار وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کر تی۔نہ جا نے اس کو کس با ت کا غم تھا جس نے اس کا ظا ہر ی حسن با لکل مد ھم کر دیا تھا۔
کچھ لو گوں کہ لیے محبت کی شدت بڑھتی چلی جا تی ہے لاکھ کو شش کر لو جان چھڑانے کی واپسی کا ہر را ستہ
بند ہوتا نظر آنے لگتا ہے ہم محبت کی ایسی گر ہ میں بندھ جا تے ہیں دل چا ہتا ہے کہیں دور صحرا میں نکل جائیں کوئی امید
مل جا ئے اس کو پانے کی اس کہ ساتھ رہنے کی اپنی خو اہشات کو مٹا کر رب کہ آگئے جھکنے کو دل چا ہتا ہے۔
کچھ ایسا ہی تعلق آفتا ب نے سَحر سے بنا لیا تھا۔
٭٭٭

بشر ی اکثر اوقات سَحر کو دیکھا کرتی آج کل وہ کا فی مصروف دیکھا ئی دینے لگی دل ہی دل میں سب لوگ اللہ کا شکر ادا کر تے
آخر کا ر اْس کی کو ئی مصرو فیت آئی ہے ۔ورنہ تو خا لی تصو یروں کو بنا نا اور سٹور میں پھینک دینا ہی سَحر کی مصروفیت ہو ا کر تی۔
وہ اپنا کام بہت لگن اور محنت سے کر رہی تھی اور اس کو اس با ت کا بھی احسا س تھا کہ آفتا ب کو پسند آجا ئے کیونکہ سَحر کو زند گی میں
ہا ر ہی نصیب ہوئی تھی اس با ر اس کہ دل میں جیت کا جذبہ جا گا تھا وہ کسی سے اظہا ر تو نہیں کر پا رہی تھی لیکن ڈاکٹر ندیم اور اس کی
تا ئی اماں نے اس با ت کو محسو س کیا۔وہ دونوں بھی اپنی اکلو تی اولاد کو خو ش دیکھنا چا ہتے تھے۔
زندگی میں سب کچھ ہما ری خواہش اور مر ضی سے نہیں ہوتا بعض اوقا ت دیر سے کیئے گئے فیصلے ہما رے لیے مثبت ثا بت ہو جا تے ہیں۔
سمندر کی لہر وں کی رفتار وقت کی رفتار سے بھی تیز ہو تی ہے پلک جھپکتے ہی گند گی کو اپنے سا تھ بہا کر لے جا تی ہیں۔
٭٭
ٓآپ میر ی با ت سمجھنے کی کو شش کر یں پرا پرٹی جا ئیداد گھر یہ مسئلے بہت ہی سگین ہو تے ہیں ان معا ملات پر کا فی سوچ بچار کر کے
ہی کو ئی قدم اْٹھا یا جا ئے تو بہتر ہے ۔ سہیل صا حب آپ کہ پا س کس چیز کی کمی ہے جو آپ اپنے لیئے یہ مسئلہ بھی بنا رہے ہیں میں تو
حکم کا غلام ہوں سرکار نے جس طر ف لگا نا ہے لگ جائیں گے لیکن مشورہ دینا میرا فر ض ہے آفتا ب اپنے ایک کلا ئینٹ سے با ت
کر نے میںمصروف تھا ۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں
سہیل نے اْٹھتے ہوئے ہا تھ آفتا ب کی طر ف بڑھا یا بہت شکریہ وکیل صا حب
’’خدا حا فظ‘‘
شام کہ ۵ بجنے کو تھے پیر کا دن لیکن آج آفتا ب کو دفتر میں سر اْٹھا نے کی فرصت نہ ملی ۔
ہفتے کا پہلا دن تو یوں گزر جا تا ہے جیسے دن پٹر ول پر چل رہا ہو۔ اور ایک لمبے سفر کی مسا فت ہے جس کو مکمل ہو نے میں بہت دن
لگتے ہیں کچھ ایسا ہی آج آفتا ب کو محسو س ہو رہا تھا ایک گہر ی سا نس لیتے ہوئے اس نے اپنی کر سی پر سر رکھا اور جسم ڈھیلا چھوڑ کر
آنکھیں بند کر لیں۔
چند منٹ کہ بعد تھکے ہوئے انداز میں کچھ کتا بیں اور اپنا بیگ اْٹھا یا اور گھر کہ لیئے نکل آیا ۔
گھر آ تے ہی سید ھا اپنے کمر ے میں آ گیا۔ پورے دن کی تھکا وٹ کی وجہ سے اسکا بدن درد کر رہا تھا ۔لیٹے لیٹے آفتاب گہری
نیند سو گیا۔
حمید کو سلطانہ نے دو دفعہ کمر ے میں بیھجا لیکن وہ چپ چا پ آہستگی سے دروزاہ بند کر کہ واپس لو ٹ آتا ۔
بیگم صا حبہ چھوٹے صا حب لگتا کا فی تھکے ہوئے ہیں اس وجہ سے سو رہے ہیں آپ کھانا کھا لیں۔

آنکھیں مسلتے ہوئے کر وٹ تبدیل کی زور سے انگڑا ئی لی تو سامنے لگے وال کلا ک پر نظر پڑ ی تو آفتاب اْٹھ کر بیٹھ گیا۔رات کہ ۲ بج گئے آج تو میں نے بہت نیند پو ری کی ہے وہ خود سے مخاطب تھا اور بھو ک بھی محسو س کر ہا تھا ۔لیکن حمید تو اس وقت خرا ٹوں سے سو رہا ہو گا ۔ خود ہی کچھ کر نا ہو گا کچن میں جا کر اْس نے فر یج کھو لا اور کچھ فرو ٹس پلیٹ میں رکھے اور اوپر اپنے کمر ے میں آگیا ۔ کھا تے کھا تے اْس کو سَحر کا خیا ل آیا تو اْٹھ کر کھڑ کی کا پردہ ہٹا یا تو سامنے سَحر کہ کمر ے کی لا ئٹ جل رہی تھی ۔ یہ اس ٹائم تک جا گ رہی ہے ۔اتنی دیر تک کیا کر رہی ہے میرا فو ن بو لتے ہوئے اْس نے یہا ں وہا ں بیڈ پر ہا تھ ما را تو تکیے کہ پاس سے مو با ئل اْٹھا یا ۔سَحر کا نمبر ڈائل کیا ۔سکر ین پر بل جا تے ہوئے وہ دیکھ رہا تھا ۔
اگلے ہی لمحے اْس نے فو ن کا ٹ دیا۔
ارے یہ کیا با ت ہوئی میرا فو ن کا ٹ دیا ۔کیسی لڑکی ہے عجیب ہے ۔آفتا ب نے دو با رہ فو ن کر نا منا سب نہیں سمجھا اور واپس
کھا نے میں مصر وف ہو گیا ۔
سَحر کبھی اپنے فو ن کی طر ف دیکھتی اور کبھی سامنے والے گھر کی طر ف لیکن اْس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ کھڑکی تک آئے کیو نکہ
وہ اچھی طر ح جا نتی تھی سا منے والا کمر ہ آفتا ب کا ہے اور وہ اس وقت جا گ رہا ہے اسی لیے اس کو کال کر رہا ہے۔چند لمحو ں کہ بعد
سا منے سے آتی ہوئی ہلکی سی رو شنی مد ھم ہو تی دیکھا ئی دی تو وہ جلدی سے کھڑکی کہ پا س آئی اور پر دہ اْٹھا کر دیکھنے لگی۔
نہ جا نے یہ کیو ں میر ے اتنے قریب آنا چا ہتا ہے مجھے اس لڑکے کی سمجھ نہیں آتی ہر با ت میں اپنا ئیت ہو تی ہے ۔
میر ے سا منے یو ں ڈٹ کر کھڑا ہو جا تا ہے جیسے پو را حق رکھتا ہو ۔سَحر خود سے مخا طب تھی۔
٭٭٭٭
سورج کی نو کیلی کر نیں لا ئونچ تک آرہی تھیں خوبصورت اور چمکدار دن تھا۔ آفتاب نے ٹی وی لا ئونچ کے پر دوں کو دو نوں ہا تھوں سے
ہٹا دیا۔ ڈائینگ ٹیبل تک دھوپ کی نکھر ی ہوئی تا زگی محسو س ہو نے لگی۔آج تو کافی دن بعد سردی کی شدت کم محسوس ہو رہی ہے۔ ورنہ تو
ٹھوٹھرتی راتیں اور دن با لکل ہی کا ہل بنا دیں گے۔ آفتاب ما ں سے با توں میں مصروف تھا۔اگلے ہی لمحے اس نے با ئیں با زو کی کلائی میں پہنی ہوئی خوبصورت سلور ڈائل کی و اچ کو دیکھا۔ ٹا ئم تو کا فی ہو چکا ہے۔حمیدنا شتہ دے دو مجھے اور کا م بھی ہیں اتوار کا دن بھی کا م کر تے کر تے گز ر جا نا ۔ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے آفتا ب نر م لہجے میں حمید سے مخا طب تھا ۔
صاحب جی بس لا یا ۔
ویسے آج نا شتے میں کیا بنا رہے ہو؟آفتا ب کا موڈ کا فی خوشگوار تھا۔
آج بیگم صاحبہ نے خاص آپ کہ لیئے نہا ری بیھجی ہے۔
چو نک کر پلٹا کس نے بیھجی ہے آفتا ب نے حیر انی سے پو چھا۔بھا بھی نے نہا ری یہ تو سو نے پہ سو ہا گا ہے ۔ قہقہ لگا کر جواب دیا۔
سا منے ڈا کٹر صا حب کہ ہا ں سے آیا ہے نا شتہ بس گر م کر کہ ابھی لا رہا ہوں۔
او میں بھی سو چا بھا بھی اور نہا ری ۔ سلطا نہ نے کر سی پر بیٹھتے ہوئے ہلکا سا تھپڑ آفتاب کے کند ھے پر لگا یا۔ چپ کر و ایسے نہیں کہتے
بھا بھی ہے تمہا ری تم سے عمر اور رشتے میں بڑ ی ہے ۔جو منہ میں آتا کہہ دیتے ہو۔
اچھا تو ہما ری اماںجان ڈر رہی ہیں کہیں ان کی بہو سن نہ لیں ایک بار پھر وہ قہقہ لگا کر بولا۔
اچھا چھوڑو فضول کی باتیں نا شتہ شر وع کرو۔سلطا نہ نے کافی تحمل سے آفتا ب کو کہا۔
سو الیہ نظر وں سے وہ گہر ی سو چ میں پڑ گیا کیا سَحر نے نا شتہ بیھجا ہے ایک با ر پھر حمید سے مخا طب ہوا ۔لے آئو یا ر اب۔
یہ لیجئے گر م گر م نا شتہ۔ہا جرہ بی بی نے بیھجوا یا ہے۔
کما ل کا ذا ئقہ ہے ۔ کھا تے کھا تے آفتاب بو لا
ایک دم اْسے خیا ل آیا سَحر کو بھی ایک ہفتے کا ٹا ئم دیا تھا ۔ پینٹگ مکمل ہو چکی ہوں گی جا کر دیکھتا ہوں۔ آفتا ب کو اْس کہ قر یب جا نے
کا بہا نہ ہی تو چا ہیے ہو تا تھا۔ناشتے سے فا رغ ہو کر شاور لیکر وہ اپنے کمر ے سے نیچے اترا تھا۔ یہا ں وہاں نظریں دوڑانے کہ بعد اس کو
سلطانہ بیگم کہیں دیکھا ئی نہیں دی تو حمید سے مخا طب ہوا۔ جو کچن میں دوپہر کے کھا نے کی تیاری میں مصروف تھا۔ حمید نے آفتا ب کو کچن
کے دروازے میں کھڑے دیکھا تو ۔جلدی سے اس کی طرف آیا۔
چھوٹے صا حب کچھ چا ہئے؟ بس کھا نا بننے میں ابھی تھوڑا ہی ٹا ئم ہے۔
کیا بنا رہے ہو؟آفتاب نے دائیں جانب رکھی فریج میں سے سیب نکالتے ہوئے پوچھا۔
صاحب جی آج بریانی۔کو فتے اور حلیم بنا رہا ہوں۔ بڑی بی بی نے کہا تھا آج آپ بھی گھر پر ہیں اور رابعہ بی بی اور بچے بھی دوپہر کو کھانا یہاں ہی کھائیں گے۔ اس لیے کا فی اہتما م سے کھا نا بنوا رہی ہیں۔
کیوں بھا ئی نہیںآئیں گے کھا نے پر؟ آفتاب نے سوالیہ سے انداز میں سیب کو سینک پر دھوتے ہوئے پوچھا۔
نہیں نا صر بھا ئی تو شا ئید کسی کام سے پشاور گئے ہیں ۔رات کو دیر سے ہی لوٹیں گے۔؟حمید کو دونوں گھر وں کی ہر بات معلوم ہوتی تھی اس لیے آفتاب مطمئن سے انداز میں اس سے پو چھ رہا تھا۔
صا حب جی لائیے مجھے دیں میں سیب کا ٹ دیتا ہوں آپ باہر بیٹھیں میں وہاں ہی لے آتا ہوں۔ حمید نے سیب لینے کے لیے ہاتھ آگئے بڑھا یا تھا۔
اوہوں۔ تم اس کو رہنے دو میں ایسے ہی کھا ئوں گا۔سیب کو بڑا سا چک مارتے ہوئے آفتاب نے جواب دیا۔اور کچن سے با ہر آگیا۔لائونچ میں بیٹھے بیٹھے ہی اس کو خیا ل آیا سحر کی طرف جا نا ہے۔ایک بار پھر اس نے حمید کو آواز دی تھی۔ حمید میں جا رہا ہوں کسی کا م سے کچھ ٹا ئم تک آئو ں گا امی کو بتا دینا اتنا کہہ کر وہ جا چکا تھا۔

Read More:  Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 2

آفتا ب نے سا منے وا لے گھرکہ قریب جا کر ایک نظر پو رے گھر کو دیکھا شہر خا مو شاں کی طرح دیکھا ئی دیتا تھا کہیں سے بھی
زندہ لو گوں کی مہک محسو س نہیں ہوا کر تی تھی۔
بشر ی پر اندہ گھو ما تی اوپر گئی۔ سَحر بی بی آفتا ب صا حب آئے ہیں ۔
ان کو اوپر بیھج دیں۔سحر نے نر م سے لہجے میں بو لا۔ اس کے لہجے میں بہت تحمل اور ٹھہرا ئو ہوا کرتا۔ شا ئید اس وجہ سے ہی وہ ہر کسی کو بہت جلد اپنا بنا لیتی تھی۔
اسلام علیکم
کافی بلند آواز میں آفتا ب نے بو لا۔
وعلیکم سلام آئیے پلیز بیٹھیں ۔ آپ کا کام تیا ر ہے میں تو سو چ رہی تھی آ پ کہ گھر بیھجوا دوں تصویروں کو ہٹا تے ہوئے سَحر
آفتا ب سے مخاطب تھی۔
ارے نہیںآپ کیوں بند ہ خود حا ضر ہے جھک کر آفتا ب نے بو لا۔
آپ یہ دیکھیں یہ والی تصو یر با لکل آپ جیسی بتا کر گئے تھے نمو نہ بھی میر ے پا س ہے آپ مشا ہبت چیک کر سکتے ہیں میں اتنی اچھی
آرٹسٹ تو نہیں ہوں لیکن پو ری کو شش کی ہے کہ آپ کو پسند آجا ئیے۔
تصویروںمیں اس قدر نفا ست تھی کہ شا ئید کو ئی ما ہر آرٹسٹ بھی اس طر ح خو بصو رتی سے رنگ نہ بھر تا ۔
کا لے اور سفید رنگوں میں بنی یہ تصا ویر بے حد پیا ری تھی لیکن بنا نے والی کہ چہر ے پر ایک لمحے کو مسکر اہٹ نہ ملی۔
میں چا ئے آپ کہ سا تھ ہی پیئوں گا اس دن بھی آپ نے مہما نو ں کی طر ح مجھے اکیلے ہی چا ئے پلا دی تھی۔
چند لمحوں کہ بعد آفتا ب نے بے دھڑک بو ل دیا ۔
کچھ دیر کی خا مو شی کہ بعد اْس نے کہا کیو ں نہیں ۔
سحر نے پا س پڑے کارڈ لیس کو اُٹھا یا اور کسی ملا زم کو چا ئے کی تا کید کی۔ایک لمحے کو کارڈلیس کے ریسور کو ہٹا کر اس نے پوچھا آپ چا ئے کہ ساتھ کیا لیں گے؟
جو آپ کھلا دیں گی۔آفتا ب نے شرارت سے جواب دیا۔
چائے کہ ساتھ کچھ سنیکس فرنیچ فرائز‘ کلب سینڈویچ‘ اور میرے لیے ایک اورنج جو س بنا لیں۔ شا ئستگی سے فو ن بند کر کہ وہ اب میری طرف مڑی تھی۔
آپ نے اتنا کچھ کیوں بنوایا ہے میں ابھی نا شتہ کر کہ آپ کی طر ف آیا ہوں ویسے بھی اماں نے آج کھا نے میں کا فی اہتمام کر وایا ہے۔ بھا بھی اور بچے بھی ہما ری طرف ہی کھا نا کھا ئیں گے زیادہ تر سنڈے کو ہم سب ساتھ ہی دوپہر کا کھا نا کھا تے ہیں۔
کو ئی بات نہیں میر ے ساتھ کو نسا آپ روز روز چا ئے پینے کی فرما ئش کر یں گے۔ سحر نے کافی مطمئن سے انداز میں جواب دیا۔
آپ بلا نے والی بنیں ہم تو آپ کہ دروازے سے ہی نہ ہٹیں۔ آفتا ب زیرلب بڑبڑایا تھا۔
چند لمحوں بعد با ورچی ایک بڑی سی ٹرے کو میز پر رکھ کر بر تنوں کو سیٹ کر نے لگا۔آپ جا ئیں میں کر لوں گی۔سحر نے سنجیدہ سے انداز میں کہا۔
اس کو چا ئے بنا تے دیکھ کر آفتا ب دھنگ رہ گیا تھا۔ اس قدر سلیقہ مند اور طر یقے والی لڑکی ہے۔ اتنے عالیشان گھر میں رہتے ہوئے بھی مجا ل ہے کہ کسی قسم کا نخرہ نظرآرہا ہو۔ اور ایک ہما ری بھا بھی صا حبہ ہیں کام تو دور کی بات پا نی کا ایک گلا س بھی پینا ان کہ لیے پل صرا ط سے کم نہیں ہوتاہے۔ کیسے کیسے عجیب لو گ ہیں دنیا میں۔ آفتا ب دل ہی دل میں سو چ رہاتھا۔
چا ئے سحر نے بہت محبت بھر ے انداز میں چا ئے کا کپ آفتاب کی جا نب بڑھا یا۔آپ کچھ لیں نہ نا شتہ تو کب کا ہضم ہو چکا ہوگا۔
آفتا ب چا ئے کہ سِپ لیتا اور اْسے دیکھتا جا تا آپ تنی اداس چپ چا پ کیوں رہتی ہیں؟
کبھی کبھی وقت خا مو ش رہنے پر مجبو ر کر دیتا ہے چا ئے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے جھکے ہوئے اندا ز میں بو لی۔
ہم اچھے دو ست بن سکتے ہیں اگر آپ برا نہ ما نیں۔
میں کسی سے دوستی نہیں کر تی ہوں۔
ہم سے دل لگا ئیں گی تو دنیا بھو ل جا ئیں گی۔
اس با ر اْس نے کا فی گہر ی نظر وں سے آفتا ب کی طر ف دیکھا دوست زبر دستی نہیں بنا ئے جاتے۔
میں کوئی زبر دستی نہیں کر ر ہا ہوں آپ سے آفتا ب نے سنجیدگی سے جو اب دیا
زندگی میں دوبا رہ کبھی ملا قات ہوئی توہم اچھے دوستوں کی طر ح ہی ملیں گے سَحر نے سر جھکا ئے ہوئے صرف ایک ہی جملے میں بات
مکمل کر دی ۔
آفتا ب کہ لیے اتنا سن لینا ہی کا فی تھا ۔
ان تما م با تو ں کہ با وجود آفتا ب کو سَحر کی خا مو شی اور ادا سی کی سمجھ نہیں آئی ہر لمحہ اْس کہ ذہن میں ایک ہی سو ال ہو ا کر تا آخر اس کہ
ساتھ ایسا کیا ہو ا ہے جو یہ سب سے الگ تھلگ رہنا پسند کر تی ہے۔خوبصورت شکل خوبصورت سیرت خوش اخلا ق ہے ۔پھر بھی نہ جا نے کیوں۔
واہ جی واہ آج تو گھر میں خو ب رونق لگی ہوئی ہے۔ عا قب اور ثا قب سے آفتا ب کی خو ب بنا کر تی۔ وہ دونوں بھی چا چا کے دیو انے تھے۔عا قب کو گو د میں لیا لا ڈ کیا تو ثا قب منہ بسورے کھڑا تھا۔ ارے کیا ہوا ہما رے شہزادے کو؟ چا چو دیکھیں نہ میری گا ڑی
ٹو ٹ گئی ہے ۔ او ہو یہ تو بہت ہی برا ۔ لیکن پر یشان ہو نے کی کیا بات ہے ہم اپنے بیٹے کو اس سے بھی اچھی گا ڑی لا کر دیں گے۔لیکن اچھے بچے تو کہنا ما نتے ہیں نہ پہلے کھا نا کھا ئو۔ پھر چا چو مار کیٹ سے نئی گاڑی لا کر دیں گے۔ بہت پیار اور شفقت سے وہ ثا قب سے با تیں کر تا ہوا ڈا ئینگ ٹیبل تک آیا۔اور اب آپ یہا ں بیٹھو۔بھا بھی کیسی ہیں؟ ٹیبل کہ دوسری جا نب بیٹھی را بعہ سے مخا طب ہوا۔
ٹھیک ہوں ۔ اور تم کدھر غا ئب تھے دیور جی؟ چمکیلے بھو رے با لوں کو ہا تھ سے سیٹ کر تے ہوئے طنز یہ سے انداز میں رابعہ بولی۔
کچھ خا ص نہیں کسی کام سے گیا ہوا تھا۔ آپ بتا ئیں بھا ئی خیر ئت سے گئے ہیں پشا ور؟
ہا ں کمپنی کا کچھ کام تھا اسی سلسلے میں گئے ہوئے ہیں۔ اور تم کس کام سے گئے تھے ڈاکٹر صا حب کی طرف؟ رابعہ نے سوا لیہ نظروں سے آفتا ب کو دیکھا۔ اس کہ لہجے کا کسیلہ پن تو واضع دیکھا ئی دے رہا تھا۔
کچھ خا س نہیں کام تھا آفتا ب نے دو ٹوک جو اب دیا اور بر یا نی کی ڈش کی طر ف لپکا۔
امی آپ کو تو پتہ ہی ہے۔عزت دار لوگ ہیں ہم اس کو منع کیا کر یں یوں منہ اُٹھا ئے مت چلا جا یا کر ے۔
آفتا ب کو را بعہ کی با ت پر سخت غصہ آیا تھا۔ نہ جا نے کس لحا ظ کو دیکھتے ہوئے وہ خا مو شی سے کھا نے میں مصروف رہا۔
عا ئشہ کہ رشتے کہ با رے میں کیا خیا ل ہے امی نے بتا یا ہی ہو گا تمہیں رابعہ نے آفتا ب سے پو چھا۔
جب مجھے شا دی کر نی ہو گی میں خود اپنی مرضی سے کر لوں گا آپ کو فکر مند ہو نے کی ضر ورت نہیں ہے ویسے بھی مجھے عا ئشہ جیسی بو لڈ لڑکیاں
قطع پسند نہیں ہیں اور نہ ہی میں اس کہ معیا ر کا ہوں۔ ایک گہر ی سا نس اندر کی طر ف لیجا تے ہوئے آفتا ب نے خا مو شی ا ختیا ر کی۔
دیکھ لوں گی جس دن میں کو ئی را ج کما ری آجا ئے گی۔میر ی بہن تو لا کھوں میں ایک ہے ہزاروں رشتے ہیں۔ وہ تو میں نے سو چا گھر سنبھا ل لے گی تھوڑا امی کا بھی دل لگ جا ئے گا۔ مجھے کیا ضرورت پڑی تمہا ری شا دی کا سو چنے کی۔ اب را بعہ اپنی صفا ئیا ں پیش کر رہی تھی۔
خیا ل اور احسا س آپ بھی کر سکتیں تھیں لیکن ہر کسی کی الگ فطرت ہوتی ہے۔آفتا ب نے بچو ں کہ گا ل تھپتھپائے اور اوپر اپنے کمر ے کی طرف سڑھیا ںچڑھنے لگا۔
دیکھا امی آپ کا لاڈلا کتنا بد تمیز ہے بڑے چھوٹے کا تو لحا ط ہی نہیں رہا۔ خود کو تیس مار خا ن سمجھتا ہے۔غصیلے انداز میں را بعہ اپنی جگہ سے اُٹھی بچوں کہ منہ ٹشو پیپر سے رگڑ کر صا ف کئے۔اب کتنا کھا ئو گے۔یہا ںآتے ہی تم لو گوں کہ پیٹ کنو ئیں بن جا تے ہیں۔ بس بھی کر و
کتنا ٹا ئم ہو گیا ہے ۔ابھی ہوم ورک بھی کر نا ہے جلدی ختم کرو کھا نا۔رابعہ آفتا ب کا غصہ بچوں پر نکا ل رہی تھی۔

Read More:  Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 3

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: