Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 4

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 4

رابعہ کیوں دل جلاتی ہو۔ اس کی زندگی اس کی مر ضی تم بلا وجہ غصہ ہو رہی ہو۔کھا نے دو بچوں کو۔سلطا نہ نے ماحو ل کی کشید گی کو کم کر نے کی
کو شش کی تھی۔ وہ با ت کو تنقیدی نگا ہ سے نہیں دیکھ رہی تھی۔ ہمیشہ ہی بات کو ختم کر نے کو شش کر تی۔روایتی سا سوں کی طر ح مو قع کی تلا ش میں کبھی نہیں ہوتی تھی۔
آپ تو اب اس کی ہی طر ف داری کر یں گی۔ ظا ہر ہے جس کا کھا نا اس کہ ہی گن گا نے ہیں۔ ہم نے کو نسا نہیں کھلا یا ۔پڑھا لکھا دیا پا ئوں پر
کھڑا کر دیا۔ اب میاں نخرے یو ں دیکھا تے ہیں۔ جیسے منہ میں سو نے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا ہو۔ یہ سب آپ کی ہی شئے ہے۔ رابعہ سلطا نہ سے مخاطب تھی کہتے کہتے دو نوں بچو ں کو زبر دستی اُٹھا یا اور اللہ حا فظ بو لتے ہو ئے با ہری دروازے سے نکل گئی۔

دما غ خراب ہے اس کا۔جو منہ میں الٹا سید ھا آتا ہے بک دیتی ہے میں کیا جا ہل ہوں ۔مجھے کیا کسی پا گل کتے نے کاٹا ہے جو اس کی بہن اپنے گھر لا ئوں گی دن میں تا رے تو خود دیکھا چکی ہے اب مجھے زندہ ہی قبر میں اتا رے گی عا ئشہ۔سلطا نہ نے تحمل سے حمید کو کہا یہ بر تن سمیٹ دو اور رم بھی کھا نا کھا لو۔ میں کچھ دیر آرام کر وں گی۔

عصر کا وقت ختم ہو نے کو تھا۔ آسما ن پر بدلیا ں آجا رہیں تھی۔ہوا بھی ٹھنڈی چل رہی تھی۔مو سم کا فی خو شگو ار ہو رہا تھا۔ لا ن میں ہی چا ئے لے آ ئو اور میر ے کمر ے میں کچھ کا غذا ت بھی پڑے ہیں وہ بھی اْٹھا لائو آفتا ب نے پو دو ں کی صفا ئی کرتے ہوئے حمید سے کہا۔

جی ابھی لا یا چھو ٹے صا حب ۔
ذارا جلدی لے آنا سالو ں انتظا ر مت کر وانا۔
چا ئے چھوٹے صا حب حمید نے لان میں رکھی لو ہے کی میز پر چا ئے کی ٹر ے رکھتے ہوئے آفتا ب سے کہا،
حمید میا ں ذرا میر ے ہا تھ تو صا ف کر وا دو پا س پڑ ے پا نی کہ پا ئپ کی مد د سے حمید نے آفتا ب کہ ہا تھ دھلوائے ۔
چھو ٹے صا حب ایک با ت پو چھوں چا ئے بنا تے بنا تے حمید بو لا۔
’’ہا ں پو چھو‘‘ آفتا ب نے ہا تھ خشک کر تے ہو ئے جو اب دیا۔
آپ ڈاکٹر صا حب کی طر ف کچھ زیادہ ہی نہیں آتے جا تے پہلے تو کبھی نہیں دیکھا ۔
اپنے کا م سے کا م رکھا کر و ۔آفتا ب نے غصے سے حمید کو جو اب دیا اور تم مجھ پر اتنی نظر کیو ں رکھتے ہو؟
نہیں صا حب جی ہم غر یبوں کی اتنی مجا ل جو آپ پر نظر رکھیں بس یو نہی پو چھا معا ف کر دیں اللہ بخشے میر ے ابا ڈا کٹر صا حب کہ
ہا ں کام کیا کر تے تھے اچھے لو گ ہیں بس کچھ حا لات ایسے ہو گئے کہ دنیا سے ہی کٹ کر رہ گئے۔
آفتا ب چو نک کر بو لا حالات کیسے حا لات ؟
بس صا حب جی لمبی کہا نی ہے ڈا کٹر صا حب دل کہ بہت اچھے انسا ن ہیں لیکن بہت دکھی ہیں۔
دکھی کیوں؟ آفتا ب کو حمید کی با ت سن کر حیر ا نی ہوئی ۔ مجھے پو ری با ت بتا ئو حمید ۔
٭٭٭
بر سو ں پہلے کی با ت ہے جب ڈیفنس میں ڈا کٹر ندیم اور ان کہ خا ند ان والے رہا کر تے تھے ڈاکٹر صا حب کہ چھو ٹے بھا ئی معراج دین
کا فی پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ اور جا تے جا تے اپنی ایک ذمہ دا ری ڈاکٹر صا حب کہ سپر د کر گئے تھے۔معراج دین کی ایک ہی
اکلو تی اولاد تھی ان کی بیٹی سَحر ۔ اس کی ذمہ دا ری اپنے بڑے بھا ئی کو سو نپی اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔ معرا ج دین کی وفا ت کہ
بعد دو نوں میا ں بیو ی نے سَحر کی پر ورش اپنی سگی اولاد سے بھی بڑ ھ کر کی کبھی محسو س ہی نہیں ہو نے دیا کہ بن ما ں با پ کی بچی ہے۔
ڈاکٹر صا حب کا ایک بیٹا بھی تھا ۔جو عمر میں سَحر سے پا نچ سال بڑا تھا ۔گھر میں دو ہی بچے تھے اور دو نوں بہت لا ڈلے سَحر کی ہر با ت
سر آنکھو ں پر رکھی جا یا کر تی۔
کچھ عر صہ گز رنے کہ بعد دو نو ں بچے بڑے ہوئے تو گھر وا لوں نے سَحر اور شر جیل کی منگنی کر دی ۔ حا لانکہ سَحر عمر میں شرجیل سے چھو ٹی تھی۔اس کو اپنے اچھے بر ے کی کیا تمیز۔ ڈاکٹر صا حب نہیں چا ہتے تھے۔ان کہ بھا ئی کی آخر ی نشا نی کہیں اور جا ئے۔
وقت گز رنے کہ سا تھ سا تھ دو نوں میں کا فی دو ستی بھی ہو گئی۔ایف اے سی کہ بعد شر جیل کا فو ج میں انتخا ب ہو گیا ۔ اور وہ اپنی ٹر ینگ کہ لیے اسلا م آبا د سے ابیٹ آبا د چلا گیا۔

شرجیل کا یہا ں سے چلے جا نا پو رے گھر کہ لیے ہی اداسی کا با عث تھا لیکن سَحر کہ لیے کچھ زیا دہ ہی ۔ہر لمحہ سَحر کو شر جیل کی یا د ستا یا کر تی۔
کیپٹن بننے کہ بعد شر جیل واپس چھٹی آرہا تھا۔ گھر میں ہر طر ف چہل پہل تھی مز ے دار کھا نوں کی مہک سے گھر میں خوشی کی ایک لہر دو ڑ رہی
تھی۔ ہر ایک کی زبا ن پر بس ایک ہی نا م تھا شر جیل ۔سَحر کو کا فی شد ت سے اس کہ آنے کا انتظا ر تھا بہت سا ری شکا یات کی لمبی لسٹ
تیا ر تھی بس آنے دو مجھے وہا ں جا تے ہی بھو ل گئے یہا ں سے تو کیا کیا وعدے کر کہ گئے تھے۔ ایک فون تک نہیں کر سکے۔

Read More:  Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 2

آئینے میں کھڑ ی خود کو ہی دیکھتی رہو گی مو ٹی یا مجھ سے ملو گی بھی ویسے تم توچھ ماہ کیا چھ سا ل میں بھی نہیں بدل سکتی ہو۔
وہ ہی گھسی پیٹی ڈریسنگ تھو ڑا تیا ر ہی ہو جا تی ہو سکتا ہے میرا تمہیں لنچ پر لے جا نے کا مو ڈ بن جا تا۔شر جیل دروازے میں کھڑے مسکر اتے ہوئے شرا رتی انداز میں سَحر کو غصہ دلا رہا تھا بچپن سے ہی وہ دو نوں ایک دو سرے کہ ساتھ ہنسی مذاق کر تے تھے اور شر جیل سَحر کو بہت زیا دہ تنگ کیا کر تا تھا۔ کا فی دن کہ بعد گھر گھر لگ رہا تھا دونوں بچو ں کی ہنسی شرا راتیں پو رے گھر میں گو نجتی ڈاکٹر صا حب اور ہا جرہ بی بی
ان کو دیکھ کر بہت خو ش ہو تے۔ انہو ںنے سَحر کو اپنی بیٹی کی طر ح پا لاتھا اس کو وہ ہر حق حا صل تھا جو شر جیل کو حاصل تھا۔
شام کی چا ئے با ہر لا ن میں ہی لے آئو ہا جرہ نے ملا زم کو سنجید گی سے کہا ۔
سَحر اور شر جیل بھی آتے ہی ہو ں گے۔
ارے واہ کس کا انتظا ر ہو رہا ہے ڈا کٹر ند یم نے گھر کہ اندر دا خل ہو تے ہوئے ہا جرہ سے پو چھا ؟
آگئے آپ ‘‘ ہا جرہ بو لی۔
جی ہمیں تو آنا ہی ہو تا ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں جب سے آپ کے صا حبزا دے واپس آئے ہیں ہما ری تو کو ئی خا ص اہمیت ہی نہیں رہی
اوہ ہو کیسی با تیں کر تے ہیں آپ اب اولاد جو ان ہو گئی ہے اہمیت کد ھر سے کم ہو گئی۔
بیگم مت بھو لو میں ہی آخری عمر کا سہا را ہوں ۔
مذاق کر نے کی عا دت گئی نہیںآپ کی۔ ابھی آپ جا یئے اور فریش ہو کر آئیں۔چند ہی لمحو ں میں گا ڑی کا ہا رن سنا ئی دیا تو ڈاکٹر ند یم نے
پلٹ کر کہا آگئے آپ کہ لا ڈلے۔
سَحر نے زور سے گلے مل کر ہا جر ہ کو اسلا م علیکم تا ئی اماں ‘‘کہا۔
میری بیٹی کو زیا دہ تنگ تو نہیں کیا نہ کا ن کھینچو گی ورنہ ۔ اس پری میں ہما ری جا ن ہے۔
ارے واہ گھر سے دور میں رہتا ہوں اور خیا ل ان میڈم صا حبہ کا ہے شر جیل نے کند ھے اچکا تے ہوئے کہا۔
سَحر نے چڑا نے کہ اندا ز میں زبا ن نکا ل کر شر جیل کو غصہ دلا یا ۔
ما ما آپکی اس لا ڈلی کی تو شا پنگ ہی نہیں ختم ہو رہی تھی ایسے لگ رہا تھا پو رے سال کی شا پنگ کرنے آئی ہے بھو کی نہ ہو ۔
ارے بس بس دو نوں جا ئو اور فریش ہو کر آئو میں نے لا ن میں ہی چا ئے منگو ائی ہے یہا ں بیٹھ کر پئیں گے پھر ایک دو سرے
کہ گلے شکو ے کر تے رہنا۔
ہو تم ویسے بہت تیز شر جیل بو لا۔
میں کب کب بتا تی ہوں ابھی تا ئی اماں کو ‘‘۔
اُف اب میں تمہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ماما بابا کی دھمکیاں مت دیا کر و۔
اچھا نہیں دیتی یہ کہتے ہوئے سَحر اپنے کمر ے میں جا چکی تھی۔

میر ا خیا ل ہے اب ہمیں شر جیل کہ واپس آتے ہی دھوم دھا م سے شا دی کر دینی چا ہئے مزید دیر کر نے کا کو ئی فا ئدہ نہیں ہے
منگنی کہ نا م پر اتنا عر صہ گزار چکے ہیں یہ کچے دا ھگو ں کہ رشتے ہو تے ہیں۔لو گو ں کہ بھی منہ بند ہو جا ئیں گے۔ہا جرہ چا ئے بنا تے ہوئے ڈاکٹر ند یم سے مخا طب تھی۔

کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو لیکن ابھی کچھ عر صہ رک جا ئو فو ج کی نو کر ی بڑی سخت ہوتی ہے ۲ سال کہ بعد شا دی کر دیں گے۔
جب تک شر جیل بھی راولپنڈی آ جا ئے گا۔ اور سَحر بھی اپنی تعلیم مکمل کر لے گی۔ یا پھر اس بار شر جیل کہ آنے پر نکا ح کی رسم کر لیتے ہیں
اور رخصتی سَحر کی تعلیم مکمل ہو نے کہ بعد کر دیںگے۔ میں شر جیل سے تفصیل سے بات کر لو ں گا آپ بھی سَحر کو پو چھ لیں۔ کیو نکہ سحر کی
رضا مند ی میر ے لیے سب سے زیا دہ ضر وری ہے۔
لیکن بس میں سو چتی ہوں جتنا جلدی ہو سَحر کو اپنے گھر کی کر دوں لوگ بہت با تیں بنا تے ہیں ۔
آپ کو نہیں پتہ عزیز بھائی اور آپا سعدیہ کئی با ر سَحر کی شا دی کا پو چھ چکے ہیں ان کو لگتا ہے ہم شا ئید سَحر کی تر بیت اچھے
سے نہیں کر رہے ہیں ۔بھئی بن ما ں کی بچی ہے ہم تو بہتری سو چتے ہیں لیکن آپ کہ رشتہ دا روں کو لگتا ہے میں سَحر پر بہت
ظلم کر تی ہوں۔پھو پھی کو اگر اتنا احسا س تھا تو لے جا تی نہ اپنے گھر مجھ میں نقص مت نکا لا کر یں سچ تو یہ ہے کہ آپا کو
بر دا شت نہیں ہو تا سَحر ہما رے گھر کی بہو بنے ۔ ارے بھئی ہم کو نسا اس سے کچھ لے رہے ہیں اللہ کا دیا سب کچھ ہے
میں نے اپنی اولا د سے بڑھ کر اس کو لاڈ پیا ر دیا ہے جا ئیداد اس کی تھی اس کی رہے گی ۔لیکن تو بہ ہے ڈاکٹر صا حب آپا
کی تو میں سن سن کر تھک چکی ہوں۔
کہنے دو ان کو مجھے کسی کہ کہنے سے کو ئی فر ق نہیں پڑتا ہے ہما رے بچے خو ش ہیں میر ے لیے اتنا ہی کا فی ہے اب کہ آپا
آئیں گی تو میں ان کو سمجھا ئو ں گا تم اتنی ٹینشن مت لو ۔وقت بہت تیزی سے گزر جا تا ہا جرہ کل ہی کی با ت لگتی ہے جب
سَحر ہما رے گھر میں آئی ایک ننھی سی کلی کہ قدم پڑتے ہی گھر میں خو شیا ں کھلکھلا اُٹھی ہر طر ف رنگ ہی رنگ شر جیل کہ ساتھ
سا تھ جب ایک اور ذمہ دا ری آئی تو دل کو سکو ن اور قرار محسو س ہو نے لگا۔ اللہ بخشے معرا ج زندہ ہوتا تو دیکھ کر بہت خو ش ہو تے میں جا نتا ہوں اُس کی بھی یہ ہی خو اہش تھی۔اپنی زندگی میں کتنی با ر وہ مجھ سے سَحر اور شر جیل کہ رشتے کہ با رے میں کہا کر تا تھا۔وقت کو کچھ
اور ہی منظور تھا۔ اداس سے لہجے میں ڈاکٹر ند یم نے اپنی با ت مکمل کی۔
٭٭٭٭

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 58

نکا ح کہ سُر خ جو ڑے میں سَحر اس قدر خو بصو رت لگ رہی تھی ایسے لگ رہا تھا چا ند نے زمین پر قدم رکھ دئیے ہو ں ستا روں کہ
جھر مٹ میں کو ئی پر ی زمین پر آگئی ہو۔ سَحر ایک عجیب سی کفیت میں مبتلا تھی آج شر جیل اسے پہلے والا شر جیل نہیں لگ رہا تھا دونوں
ایک ایسے بند ھن میں بند ھ گئے تھے جو نہا یت پا کیزہ تھا ۔ اب مینگتر سے وہ شو ہر کی حیثت سے اس کہ سا منے کھڑا تھا۔ آج سَحر کو
پہلی بار اپنے ما ں اور با پ کی یا د ستا رہی تھی زند گی میں پہلی با ر اس کو ان کہ نہ ہو نے کا احسا س ہو رہا تھا ۔ لیکن سا تھ ہی ہمیشہ کہ لیے
شر جیل کا ہو جا نے کی خو شی بھی بے حد تھی۔شر جیل بھی نکا ح سے بے حد خو ش ا ور مطمئن تھا ۔

میں اس دفعہ شنگریلا دیکھنے جا ئوں گی مجھے ’’ حنا ‘‘بتا رہی تھی بہت ہی پیا ری جگہ ہے پتہ ہے وہ اپنے کزنز کہ ساتھ گر میوں
کی چھٹیا ں گز ار کر آئی تھی ۔ ایک ہم ہیں بس گھر اور کا لج ۔شر جیل مجھے جا نا ہے اور جا نا ہے بس بتا رہی ہوں میں انکا ر نہیں سنو گی۔
چلیں گے لیکن ابھی نہیں اگلی چھٹی پر جا ئیں گے ہو سکتا ہے جب تک رُخصتی بھی ہو جا ئے گی۔ مسز شر جیل کہ نا م سے میر ے ساتھ جا ئیں اور پھر تو میں تمہا ری ایک بھی دھمکی نہیں سنو گا۔ شو ہر بن کر حکمر انی کر وں گا ۔

’’ارے ارے ایسے تھو ڑا ہو گا میں کو ئی نو کر انی ہو ں جو آپ جنا ب کہ کا م کر وں گے ‘‘
’’کا م تو کر نے ہی پڑیں گے میز پر پڑی کا فی کا کپ اٹھا کر سَحر کی جا نب بڑھا یا۔‘‘
مجھے نہیں چا ہئے ‘‘ منہ بنا کر سَحر نے جو اب دیا۔
کیوں نہیں چا ہیے؟ شا دی کہ بعد کا م تو ضروری ہے شو ہر کہ تو جو تے بھی تم ہی صا ف کر و گی۔اچھا تھو ڑا لگتا ہے اب کام والی کر ے۔
کہیں مجھے کا م والی پسند آگئی تو تمہا را کیا بنے گا۔شر جیل بہت ہی سنجیدگی سے سَحر کو تنگ کر رہا تھا۔
وہ کا فی غور سے اور پر یشا نی کہ عا لم میں ٹیرس پر کھڑی کبھی آسما ن کو دیکھتی اور کبھی شر جیل کو۔ آپ مجھ سے نا را ض ہیں ؟ یا پھر آپ کو کوئی اور پسند آ گئی ہے سَحر بر ف کی طر ح ٹھنڈ ے لہجے میں بو لی۔

’’غلط با ت اب تم میر ے کام نہیں کر سکتی تو الزام تو مت لگا ئو ۔‘‘
’’سَحر کی آنکھیں نم ہوئی اور مو تیوں کی ایک لڑی اس کہ گا لوں تک آگئی۔‘‘
ارے ارے سَحر کیا ہو ا رونے کیوں لگ گئی۔ یہا ں میر ی طر ف دیکھو شر جیل نے بہت ہی متا نت سے سَحر کی آنکھوں میں جھا نکا
اور اس کا با زو پکڑ کر اپنی جانب گھما یا۔تم جانتی ہو میں کتنی محبت کر تا ہوں میں تو تمہا ری معصو میت اور پا کیزگی کا دیوانہ ہوں۔
یو نٹ میں بھی مجھے شد ت سے تمہا رے فو ن کا انتظا ر رہتا ہے ۔تم مجھے پو ری دنیا سے زیادہ عزیز ہو میں نے ہمیشہ ہر دعا
میں صر ف اور صر ف تمہیں ما نگا ہے میر ے گھر کا ا جا لا ہو تم میر ے ما ں با پ کہ دل کا ٹکڑا ہو اور اب میری بیوی بھی ہو وہ
قدرے مسکرا کر شرارتی انداز میں اس کو خو ش کر نے کی کو شش میں مصر وف تھا۔

’’چھو ڑیں میرا ہاتھ ابھی تو کہہ رہے تھے کام والی بنا ئوں گا ‘‘
’’غلطی ہو گئی کا نوں کو ہا تھ لگا تے ہوئے شر جیل اسے منا رہا تھا۔‘‘
’’ایک شر ط پر ما نوں گی۔‘‘
’’او ہو میڈم حکم کر یں ہما ری جان بھی حا ضر ہے جھکے ہوئے انداز میں شر جیل نے جواب دیا۔‘‘
’’ابھی لا نگ ڈرا ئیو پر چلیں۔‘‘
’’اس ٹا ئم رات کہ ۱۱ بجنے والے ہیں رات کا فی ہو چکی ہے کل چلیں گے۔‘‘
’’نہیں ابھی چلیں۔‘‘
’’کا فی حیر ت سے شر جیل نے سَحر کو دیکھا جی چلئے میڈم میں گا ڑی نکا لتا ہوں شال لے کر نیچے آئو جلدی سے ۔‘‘
’’مجھے سکو ن بے حد پسند ہے اور رات کہ اس پہر تو اور بھی اچھا لگتا ۔‘‘
’’ہما رے گھر میں کو نسا دس بیس بچے ہیں ۔‘‘ شر جیل نے مسکر اتے ہو کہا۔
شر جیل مجھے تنگ مت کر یں۔،‘
’’اچھا اچھا نہیں کر تا رونے مت بیٹھ جا نا اب۔بتا ئو کیا کھا ئو گی ۔‘‘
’’کا فی پینی ہے مجھے۔سَحر نے بچو ں کی طر ح فر ما ئشی انداز میں کہا۔‘‘
’’مو ٹی کا فی کہ علا وہ بھی کچھ کھا پی لیا کر و۔شرجیل بو لا۔‘‘
’’سَحرمنہ پھو لا ئے بیٹھی تھی۔‘‘
’’رونا مت پیا ر سے تنگ کر تا ہوں۔ سَحر میں شا ئید کل واپس چلا جا ئوں۔‘‘
’’اتنی جلدی یہ کیا با ت ہوئی ہمیشہ تم ایسے ہی کر تے ہو اتنی دیر سے آتے ہو اور جلد ی واپس چلے جا تے ہو۔‘‘
’’تو اور کیا تمہا رے پلو سے بند ھ جا ئوں مسکر اتے ہوئے شر جیل اس کی بات کا جوا ب دے رہا تھا۔‘‘
’’لیکن ابھی تو ایک ہفتہ ہی ہوا ہے اور تم جانے کی با ت کر رہے ہو۔‘‘
’’جب میر ی پنڈی پو سٹنگ ہو گئی نہ تو تم تنگ پڑ جا ئو گی مجھ سے دھکے دے کر آفس بیھجا کر و گی۔‘‘
’’ایسی بھی ظا لم نہیں ہوں۔ سَحر بو لی۔‘‘
’’اپنا بہت خیا ل رکھنا اور ما ما بابا کا بھی۔ ویسے تو مجھ سے زیا دہ تم ان کی لا ڈلی ہو۔‘‘
’’جیلس مت ہو اب ہا ہا ہا۔ ابھی گھر واپس چلیں کا فی ٹا ئم ہو چکا۔‘‘
’’آنے کی بھی جلد ی ہوتی جا نے کی بھی کھا نہیں جا ئوں گا ۔قریب آکر ڈرانے کہ انداز میں شر جیل ‘ سَحر کہ پاس آیا۔‘‘
’’شر جیل تنگ مت کر و گھر چلو تا ئی اماں پریشا ن ہو جا ئیں گی۔‘‘
’’میں بول دوں گا آپ کی لا ڈلی کی فر ما ئیش تھی اگر نہ لے کر آتا تو دھمکیاں دے رہی تھی رخصتی نہیں کر وں گی،‘‘
’’اُف کتنے جھو ٹے ہو تو بہ تو بہ کا نو ں کو ہا تھ لگا کر سَحر اسے غصے سے دیکھ رہی تھی۔میں بھی بتا دو ں گی آپ جنا ب مجھے تنگ کر رہے تھے۔‘‘
’’اب تمہیں میر ی مد د کر نی ہو گی گھر جا کر میر ی پیکنگ کر وانے میں۔‘‘
اچھا جی کا فی حیر ت سے سَحر نے جو اب دیا۔ویسے میں نے آپ کی ہر چیز پیک کر دی ہے کیو نکہ تایا ابا نے مجھے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ
آپ جلدی واپس جا رہے ہو۔
ارے واہ اتنی فر ما بر داری میں تو بہت ہی خو ش قسمت ہوں اتنی پیا ری پیا ری آنکھو ں والی بیو ی ملنے والی ہے۔
کب آئیں گے اب؟اداس سے انداز میں سَحر نے پو چھا۔
جلدی ہی بس تم دل سے آواز دینا۔
مذاق ،مت کر یں بتا ئیں نہ۔
جلد ہی آئوںگا۔
٭٭٭٭٭٭
تا ئی اماںآپ مجھے کسی اچھے کا لج میں ایڈمیشن لے دیں میں پینٹگ سیکھنا چا ہتی ہوں ابھی تو میں آجکل فا رغ ہی ہو ںنا شتے کہ میز پر
بیٹھے سَحر ہا جرہ سے مخا طب تھی۔آپ کو پتہ ہے میر ی بہت سی دوستیں بھی یہ کو رس کر رہی ہیں ۔
ٹھیک ہے لیکن ڈرا ئیور لے کر آیا جا یاکر ے گا ۔ کل جا کر اپنا فا رم لے آئو اور ایڈمیشن لے لو۔
آپ بہت سویٹ ہیں تھنکیو ۔
ارے واہ بھئی سا س ‘ بہو‘ میں بہت لا ڈ ہو رہے ہیں لگتا کہیں شا پنگ کا منصبو بہ بن رہا ہے۔
نہیں’’ تایا ابا ‘‘شا پنگ نہیں میں پینٹگ سیکھنا چا ہتی ہوں اور تائی ماںنے مجھے اجا زت بھی دے دی ہے۔
یہ تو بہت ہی اچھی با ت ہے نئی نئی چیز یں سیکھنے کو ملیں گی وہا ں ۔ہا جرہ بیگم آپ کہ صا حبزا دے کا بھی کو ئی فو ن آیا ؟ ہمیں تو یو نٹ جا
کر بھو ل ہی جا تا ہے کو ئی پتہ ہی نہیں ہو تا اس کا کب کیا کر رہا ہو۔
ارے بھئی فو ن بھی آیا تھا اور وہ با لکل ٹھیک ہے جلد ہی آئے گا ۔کہہ رہا تھا اس با رتو کافی چھٹی ہے ۔

Read More:  Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 7

تایا ابامجھے تو رنگو ں کہ ساتھ سیکھنے کا بہت ہی مز ہ آرہا ہے ایک نئی چیز سیکھنے کو مل رہی ہے آپ کو پتہ ہے وہا ں تو لو گ بہت کما ل کہ
آرٹسٹ ہیں مجھے تو بہت مز ہ آتا ہے ۔اچھا یہ دیکھیں میں نے بھی ایک سیکچ بنا نے کی کو شش کی ہے ہا تھ میں پکڑے آرٹ بک
کہ صفحے الٹا تے ہوئے سَحر اپنا کا م دیکھا رہی تھی۔ تائی اماںکدھر ہیں نظر نہیںآرہی ۔
ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی یو نیو رسٹی سے واپس آکر اپنے کمر ے میں چلی گئی میں نے پو چھا تو کچھ بو لی ہی نہیں۔
آپ بھی نہ کما ل کر تے ہیں مجھے بتا یا تک نہیں میں ابھی دیکھتی ہوں پتہ نہیں کیسی طبیعت ہو گی ۔
سَحر تیزی سے سیڑھیا ں چڑھ رہی تھی اچا نک سے پا ئوں مڑا تو الٹتی ہوئی وہ نیچے فر ش پر آگری ۔
ڈاکٹر ند یم تیز ی سے اس کی جا نب بڑھے ہا جرہ بھی اپنے کمر ے سے با ہر آئی سَحر کی تکلیف بھر ی آواز سے دو نوں کی جان نکل گئی
ڈاکٹر ندیم نے سید ھے ہا تھ کا سہا را دے کر اُٹھا یا درد سے سَحر کی جا ن نکل رہی تھی کر اہتے ہوئے ہمت کر کہ وہ سید ھی کھڑی ہوئی
لیکن پا ئوں پر وزن نہیں ڈال پا رہی تھی۔
یہ ہوا کیسے ؟ ابھی پا نچ منٹ پہلے تو میں اپنے کمر ے میں گئی تھی سب کچھ ٹھیک تھا ۔ہا جرہ پریشان لہجے میں ڈاکٹر ندیم سے مخا طب تھیں۔
’’آ آ بہت درد ہو رہا ہے ۔ ‘‘ سَحر نے رو تے ہوئے کہا۔
’’آپ کھڑے کیا دیکھ رہے ہیں ‘‘۔بچی کی درد سے جا ن نکلی جا رہی ہے اور آپ کو اپنے تجر بے اور معا ئنے کی پڑ ی ہے ۔
ہٹئے یہا ں سے میں خو د لے جا تی ہوں بس اپنی ڈا کٹری اپنے پا س رکھیں خدا نخواستہ کوئی زیادہ نقصان ہو گیا ہوا تو کیا کر
لیں گے آپ؟۔ہڈی وڈی نہ ٹو ٹ گئی ہو دیکھیں تو کیسے زرد ہو رہی ہے۔ڈرائیور قدرے زور سے ہا جرہ نے غصے میں آواز
دی۔
’’ارے ‘‘چلو میں نے کب انکا ر کیا میں تو بس دیکھ رہا تھا چوٹ لگی کہا ں ہے ۔
بس رہنے دیںآپ چوٹ لگی کہا ں پر ہے درد سے تڑ پ رہی ہے اور آپ معا ئنہ کر لیں۔

ایکسرے میں سب کچھ وا ضع ہے بس ہلکی سی ضر ب آنے کی وجہ سے ورم آگیا ہے ایک ہفتہ تک بیڈ ریسٹ کریں اور جو دوائی
اور پین کلر میں نے لکھ کر دی ہے یہ استعما ل کر یں انشا ء اللہ جلد ہی آپ کی بیٹی صحت یا ب ہو جائے گی۔ڈاکٹر کی تاکید ہا جرہ
بخو بی سن رہی تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: