Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 5

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 5

درد کی وجہ سے تیز بخا ر ہو گیا ہے میں نے دوا دے دی ہے ابھی سورہی ہے آپ بھی کھا نا کھا لیں اب ۔میںجا نتی ہوں اس کی
تکلیف آپ سے دیکھی نہیں جا تی ہے۔لیکن کچھ دن تو لگیں گے ٹھیک ہو نے میں پریشا ن ہو کر بیٹھیں گے تو سَحر بھی پر یشا ن
ہو جا ئے گی۔
جا نتی ہو ہا جرہ ننھی سی کلی کو ہم نے اپنے با غ کی رو نق بنا یا تھا اس کہ آنے سے خو شیوں کا احسا س ہو نے لگا تھا سَحر نے ما ں با پ
کا پیا ر دیکھا نہیں اور نہ ہی کبھی اس نے ہم سے اپنے والدین کہ متعلق کو ئی سو ال جو اب کئے کیو نکہ وہ ہمیں دل سے ما ں اوربا پ
کا درجہ دیتی ہے۔ اس لئے مجھے بھی اس کی تکلیف با پ کی حیثت سے ہی محسو س ہو تی ہے ۔ڈاکٹر ندیم سرد اور اداس لہجے میں بولتے
جا رہے تھے۔

صبح کہ آٹھ بجے رہے تھے۔ڈاکٹر ندیم ہسپتا ل جا نے کہ لیے تیار ہو رہے تھے۔ہا جرہ یو نیو رسٹی کہ لیے تیا ر ہو رہی تھی۔
سَحر کہ پا س ہی ہما را نا شتہ لگا دو ہم ایک سا تھ ہی نا شتہ کر یں گے ہا جرہ نے با ورچی کو خا ص تا کید سے کہا تھا۔
میں نیچے آجا تی آپ لو گ میر ی وجہ سے اوپر آئے ۔ابھی تو میںٹھیک ہو رہی ہوں اور پہلے سے کا فی بہتر محسو س کر رہی ہوں۔
آپ دونوںایسے ہی پر یشا ن مت ہوا کریں آپ کی بیٹی اتنی بھی کمز ور نہیں ہے شر یر نظر وں سے ’سَحر‘ ہا جرہ اور ندیم کو تنگ کر نے
میں مصروف تھی۔
بھئی میں تو خود کہہ رہا تھا کہ میرا بچہ با لکل ٹھیک ہے بس یہ تمہا ری تائی اماں پر یشا ن ہو تی ہیں بس کیا کر یں کمز ور دل کی ما لک ہے۔
’تایا ابا‘ ایسے مت کہیں ورنہ میں نا راض ہو جا ئوں گی۔بر یڈ سلا ئس منہ میں لتے ہوئے سَحر ایک دم رکی ۔
’تائی اماں‘ آپ نے شر جیل کو تو نہیں بتا یا کہ مجھے چوٹ لگی ہے ؟
بتا نا تو نہیں چا ہئے تھا لیکن میں کیاکر تی اس کا فون آیا اچا نک سے اور پر یشا نی کہ عالم میں بس منہ سے نکل گیا۔
ہا جرہ بیگم کو ئی با ت تو بیٹے سے چھپا لیا کروہ ہم سے دور بیٹھا ہے اب زیا دہ پر یشا ن ہو رہا ہو گا۔کبھی کبھی تو آپ بھی نہ بس حد
کر تی ہیں۔
ایسا بھی میں نے کیا گنا ہ کر دیا بھئی اس کو پتہ ہو نا چا ہئے کہ ہم گھر والے اس کہ بعد کیسے کیسے حالات دیکھتے ہیں خبردار تم دو نوں
نے مجھے ڈا نٹا خو د کو بچا نے کہ لئے ہا جرہ بیگم دفا ع کر رہی تھی۔
ڈا کٹر ند یم نے ایک زور دار قہقہ لگا یا ارے بھئی ہما ری اتنی جرات کہ ہم آپ سے کچھ کہیں چلئے لیٹ ہو رہا ہے میں ہسپتا ل جا تے
ہوئے آپ کو یو نیورسٹی چھو ڑ دوں گا۔
سَحر بیٹے میں جلد ی وا پس آجا ئوں گی آپ کو کوئی بھی چیز چا ہئے ہوئی تو خود مت اُٹھنا ملا ز م گھر میں مو جود ہیں اس سے کہنا
دو نوں نے سَحر کو پیا ر کیا اور خدا خا فظ کہہ کر چلے گئے۔

٭٭٭٭٭٭
مو ٹی تم کہیں ایک جگہ ٹک کر بیٹھ بھی جا یا کر و چو ٹ لگوا لی نہ اب آرام کر کر کہ اور مو ٹی ہو جا نا۔
شر جیل میں فو ن بند کر دوں گی اگر ایک اور بار مجھے مو ٹی بولا ۔
اچھا اچھا نہیں کہتا کچھ نئی تصویریں بیھج رہا ہوں چیک کر کہ بتا ئو کیسا لگ رہا ہوں۔
ٹھیک ہے لیکن ابھی کچھ دیر اور بات کر و نہ میں اکیلی بو ر ہو رہی ہوں گھر پر کو ئی بھی نہیں ہے۔
میڈم میں اتنا فا رغ نہیں ہوں جو با تیں کر وں وہ تو میر ی بیوی ہو تو خیا ل آجا تا ہے۔
وہ سَحر کو جب بھی بیو ی کہہ کر بلا تا تو وہ حد سے زیا دہ شر ما جا یا کر تی اور بہا نے ڈوھنڈنے لگ جا تی جان چھڑا نے کہ۔
بس بس رہنے دو اللہ خا فظ سَحر نے غصہ ہو کر فو ن بند کر دیا۔
اگلے لمحے سَحر تصا ویر یں دیکھنے میں مصر وف ہو گئی شر جیل کی تصویریں دیکھ کر سَحر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا یوں لگ رہا تھا
شر جیل کی تصویر نہیں وہ خود اُس کہ سا منے آکر بیٹھ گیا ہوشرجیل کی آج کی تصویریں دیکھ کر سَحر کو شرجیل اپنا سا لگ رہا تھا۔
جا نے اس لفظ میں کیسا جا دو تھا کیسی کشش تھی سَحرچھو ئی مو ئی کی طر ح سمٹ گئی۔شر جیل کی تصویروں کو با ر بار بیتا بی سے دیکھتی ۔
شرجیل سَحر کا پہلا پیا ر تھا اُس نے قدرت سے شر جیل کہ علا وہ کبھی کسی کو نہیں ما نگا ہ تھا وہ اس کی روح میں سما نے لگا تھا اور جب سے
اس نے اپنی اور شر جیل کی شا دی کی با تیں گھر میں سنی تھیں اس کہ بعد تو سَحر اور بھی شرجیل کہ قر یب ہو تی جا رہی تھی۔

ما ما نا شتہ تو آج بہت مز ے کا لگ رہا ہے لگتا ہے آپ نے دو با رہ سے کچن میں جانا شر ع کر دیا ہے ارے واہ سب کھا نے میر ی
پسند کہ بنے ہیں حلو ہ پو ری ‘پر اٹھے ‘ نہا ری‘ کما ل کی خو شبو ہے لمبی سا نس لیتے ہوئے شر جیل نے نا شتہ شر وع کر نا چا ہا۔
نا شتہ میں نے نہیں بنا یا ہے آج ہما را با ورچی بد لا ہوا ہے یہ تو تمہا رے با با ہی بتا ئیں گے با ورچی ہے کو ن ۔
ڈا کٹر ند یم نے پیچھے کھڑی سَحر کی طر ف اشا رہ کیا ہما ری بیٹی نے بنا یا ہے اور ذا ئقہ کیو ںنہ ہو اتنی محبت سے بنا یا ہے۔
شر جیل نے شریر انداز میں سَحر کو دیکھا کھا نسی کی اور جھک کر نا شتہ کرنے لگا۔اس با ر وہ سَحر کی طبیعت کی وجہ سے ویکنڈ پر گھر
ٓآیا تھا۔

واہ واہ کیا با ت ہے اتنی فر ما برداری ابھی تو صر ف شا دی کی با ت شر وع ہوئی اور کھانے بنا نے میں لگ گئی لڑکی ۔اچھی با ت ہے
گھر داری سیکھ جا ئو گی تو سکھ میں رہو گی۔ویسے نا شتہ بہت مزیدار تھا لذت کا فی ہے تمہا رے ہا تھ میں مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کو ئی
ہم سے بھی اتنی محبت کر تا ہے ایک بار کہنے پر اتنی خد مت کر دی جا ئے گی۔ اسی لئے میرے دل نے بھی کہا کچھ تو لے کر ہی جا ئوں
شکر یہ تو محبوب کا یو ں خا لی ہا تھ نہیں بو لنا چا ہئے۔اب شر ما تی ہی ر ہو گی یا میر ی طر ف پلٹ کر دیکھو گی بھی۔

نظری یں جھکا ئے سَحر پلٹی اور خا مو شی سے کھڑی رہی۔
شر جیل نے بے حد نر می سے سَحر کا ہا تھ پکڑا اور ایک انگھو ٹھی با ئیں ہا تھ کی تیسری انگلی میں پہنا دی یہ تمہا را گفٹ ۔میں میلوں دور بھی
صر ف تمہا رے با رے میں سو چتا ہوں تمہا را تصو ر ہر لمحہ میر ی آنکھو ں میں رہتا ہے ہر لمحہ مجھے اپنے آس پا س محسو س ہو تی
ہو ۔تمہا ری آنکھو ں کی نمی مجھے تڑپا کر رکھ دیتی ہے لبو ں کی مسکراہٹ جینے کی امنگ جگا دیتی ہے۔زندگی میں کبھی بھی خود کو
میر ے بغیر محسو س مت کر نا میرا وجود صرف تمہا را اور میری ہر سا نس پر تمہا را حق ہے۔
سَحر ما رے شر م کہ پا نی پا نی ہوئے جا رہی تھی سَحر نے شر جیل کو شر میلی ادا سے دیکھا لیکن وہ اس سے نظر ملا نے کی جرا ت نہ کر سکی۔
شر جیل سے اتنی بے تکلف ہو نے کہ با وجو د آج وہ اُس سے بے حد شر ما رہی تھی۔
میر ی طر ف دیکھو سَحر نہا یت محبت اور سا دگی سے شر جیل اس سے مخا طب ہو ا۔
سَحر نے حیا باز نظریں اٹھا ئیں لیکن جلد ہی جھکا لیں نہ جا نے کیوں آج وہ شر جیل کا سا منا نہیں کر پا رہی تھی۔
میں اتنی دور سے صر ف تمہیں دیکھنے آیا ہو ں تمہا ری خیر یت پو چھنے آیا ہو ں۔
سَحر خو بصورت اور دلکش انداز میں اپنا نچلا ہو نٹ دا نتو ں سے کا ٹنے لگی اس کا رو نگ رو نگ خو شی سے مسکرا رہا تھا آج سَحر کی مسکر ا ہٹ
کا انداز قا تلا نہ تھا۔ شر جیل کو بھی آج اپنے جذبا ت پر قا بو رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
’’سَحر‘‘۔ شر جیل نے محبت بھر ی آواز میں پکارا۔
’’جی‘‘۔
میں کل وا پس جا رہا ہوں اور میر ی پو سٹنگ کر اچی ہو گئی ہے اب میں جلدی نہیںا ٓ سکو ں گا۔شر جیل یہا ں وہا ں ٹہلنے لگا تھا ۔با ہر شدیدسردی
تھی۔سردی اور دھند نے پو ری فضا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔دسمبر کی یہ سرد رات دو نوں کہ لیے بے حد یاد گار اور مضطر ب کر دینے والی تھی۔
کچھ دیر کہ بعد اس نے ایک نظر سَحر کی طر ف دیکھا تو اس کا چہرہ مر جھائے ہوئے گلا ب کی طر ح تھا۔اداسی سے اس کہ گا لوں کا رنگ
زرد ہو نے لگا سَحر سر جھکا ئے اداس کھڑی تھی اس کی سو چ کہ زا وئیے کہیں سے کہیں جا رہے تھے۔جب سے اس نے شر جیل سے کر اچی
جا نے کا سنا تھا اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا ایک غیر یقینی کا اضطراب سَحر کو ڈس رہا تھا۔ نہ جا نے شر جیل کب واپس آئے گا وہ اسے کب
ملے گی کب دیکھے گی؟ یہ سب سو ال اس کو بے چین کر رہے تھے خدا جا نے اسے کیوں محسو س ہو رہا تھا شر جیل اب اسے کبھی ملنے نہیں
آئے گا ۔وہ ہمیشہ کہ لئے اس سے بچھڑ رہا ہے بچن کا دوست سا تھی ‘ شو ہر‘ اس سے بہت دور جا رہا ہے۔وہ جتنا اس خیا ل سے
چھٹکا را لینے کی کو شش کر تی اتنا ہی یہ خیا ل با ر بار اس کہ ذہن میں آتا۔خو د کو بہت الجھا ہوا محسو س کر نے لگی تھی۔ ہر لمحہ اس کو شر جیل سے
دوری کا وسوسہ سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔شر جیل کی با تو ں سے وہ بہت گھبر ا سی گئی ’’ نیچے چلئے‘‘
’’نہیں ‘‘ شر جیل نے پیا ر سے روکا۔
’’جا نے دیں نہ ‘‘ وہ پر یشا ن سے انداز میں بو لی۔
’’میں تمہا ری کو ئی با ت نہیں سنو ں گا ‘‘۔ سمجھیں۔ اتنے دن سے میں تم سے با ت کر نا چا ہ رہا تھا بتا نا چا ہ رہا تھا تم ہو کہ
ہا تھ ہی نہیں آتی چپ چا پ کھڑ ی رہو۔
سَحر مجبو ری کہ انداز میں مسکر ا دی لیکن اس کہ اس انداز میں بھی شر جیل اس کی محبت کو محسو س کر رہا تھا۔
’’تمہا ری وجہ سے میں خا ص چھٹی لے کر آیا ہوں کتنی مشکل سے میں آیا ہوں اور تم میرا پو را ٹا ئم شا پنگ اور یہا ں وہا ں گھو م کہ
ضا ئع کر وا چکی ہو۔ جی چا ہ رہا ہے تمہیں کڑ ی سے کڑی سزا دوں‘‘
کیا سزا دینا چا ہتے ہیں؟ ’’سَحر مسکر ائی‘‘
’’جی چا ہتا ہے تمہا رے کا ن کھینچ دوں زور سے تمہا ری ناک پکڑوں‘‘ شر جیل نے ہنستے ہنستے شو خ انداز میں کہا۔
’’مر گئی تو پھر کیا کر یں گے ؟‘‘
’’کرنا کیا ہے بس آزاد زند گی ‘‘ ’’سکو ن ہی سکو ن مز ے ہی مز ے ‘‘
’’سَحر نے رو ٹھنے کا انداز بنا یا اور منہ پھیر کر کھڑی ہو گئی۔‘‘ بے وفا کہیں کہ
ارے بے وفا نہیں ’’شر جیل بے اختیا ر سا ہو گیا‘‘ میں صر ف تمہیں دیکھنے تم سے ملنے آیا تھا ’’خدا جا نے پھر کب ملا قا ت ہو‘‘
سَحر کہ چہر ے سے مسکر اہٹ یو ں غا ئب ہو گئی جیسے کو ئی ما تم کی خبر اس کہ کا نو ں میں پڑ گئی ہو۔ شر جیل کہ دور جا نے کا احسا س سَحر کو
خنجر کی طر ح سینے میں اتر تا محسو س ہورہا تھا۔
’’شر جیل ‘‘
’’سَحر نے اس قدر بے قرا ر ہو کر کہا ‘‘ ’’شر جیل ‘شرارت ‘مذاق ‘شو خی سب بھو ل گیا‘‘
’’آپ اتنی دور چلے جا ئیں گے آج‘‘ وہ تڑپا دینے والی آواز میں بو لی۔
’’ہا ں سَحر جانا ہی ہے ‘‘۔ وہ بھی کا فی اداس لہجے میں بولا
سَحر کا لہجہ ‘ آواز‘ درد کی شد ت سے بھر آیا۔وہ اندر ہی اندر شر جیل کہ چلے جا نے کہ غم سے ٹو ٹ رہی تھی۔
پھر جنو ری میں آئو ں گا ‘‘۔ شر جیل نے شو خی سے سَحر کی آنکھو ں میں دیکھنا چا ہا۔ لیکن اس کی خو بصو رت آنکھو ں میں آنسو جھلملا رہے
تھے۔ جلتی شمع بھی اتنی خو بصو رت نہ ہو گی جتنی سَحر کی نم آنکھیں تھیں۔
’’پگلی‘‘ شر جیل نے اس کی نم آنکھیں دیکھ کر بے سا ختہ کہا۔
ایک مہینہ ہی تو ہے ‘‘ شر جیل نے اسے تسلی دینے کی کو شش کی۔ ویسے بھی اگلی با ر تو میں تمہیں سا تھ ہی لے جا ئوں گا ۔ کیو نکہ
شا دی بھی تو جنو ری میں ہو جا ئے گی۔ اور اپنی بیو ی کو ساتھ لے کر جا نے میں تو کسی کو کو ئی اعترا ض نہیں ہو گا۔ سعدیہ پھو پھو کو بھی
نہیں وہ ایک بار پھر اس کا غم با نٹنے کی کو شش کر رہا تھا۔
سَحر کی آنکھو ں سے نکلتے آنسو شر جیل کی ہمت بھی توڑ رہے تھے۔ اس کی مر دانہ آواز بھی لر زنے لگی تھی۔
چند لمحے دونوں خا موش رہے بے چین ‘ بے تا ب‘ بے قرار۔
میں تمہیں روزانہ فو ن کیا کر وں گا۔ با قا عدگی سے ہما ری بات بھی ہو تی رہے گی ۔یہا ں پر تو کو ئی پا بند ی بھی نہیںہو گی۔
شر جیل نے اس کا چہرہ دیکھا اور ٹھو ڑی سے پکڑ کر او نچا کیا۔ ان آنسو ئو ں کو اس طر ح مت ضا ئع کر و۔ جب یہا ں سے لیکر
جا ئو ں گا اس وقت ما ما کہ گلے لگ لگ کر رو لینا ۔ وہ ما حو ل کی کشیدگی اور اداسی کو کم کر نے کو شش کر ہا تھا۔
تم کیو ں رو رہی ہو سَحر ؟ شر جیل کی آواز بھر آئی۔
سَحر نے بے اختیا ر ہو کر شر جیل کو دیکھا یو ں دیکھا کہ جیسے وہ کہہ رہی ہو مجھے چھو ڑ کر مت جا ئیں۔
شر جیل نے اُسے تسلی کہ اند از میں بہلا نے کی بے حد کو شش کی لیکن اب وہ خو د بھی ٹو ٹ رہا تھا اس کہ الفا ظ اس کا سا تھ نہیں دے
رہے تھے ایسے لگ رہا تھا وہ سَحر کو جھوٹے دلا سے دے رہا ہو۔
سَحر سسکیوں سے رو نے لگی تھی۔ شر جیل کہ صبر کی حد یں ٹو ٹ گئیں۔ اُس نے سَحر کا ہا تھ مضبو طی سے پکڑ لیا۔ سَحر بے سہا را اور مجبو ر
سی کھڑی تھی۔شر جیل نے بے اختیا ر ہو کر اسے اپنے با زئوں میں سمیٹ لیا۔اور پھر شدت سے اپنے جذبا ت بیا ن کر نے لگا۔
سَحر میں بہت جلدی لو ٹ آئوں گا اور تم اکیلی نہیں ہو میر ا نا م تمہا رے نا م سے جڑ چکا ہے انتظا ر کی گھڑ یا ں یو ں پلک جپکنے میں ختم ہو
جا ئیں گی تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا ۔
سَحر مسلسل روئے جا رہے تھی شر جیل نہیں جا نتا تھا سَحر کیو ں رو رہی ہے آنے والا غم اس کو اپنے خو ف کی لپیٹ میں لے رہا تھا ۔
وہ نہ چا ہتے ہوئے بھی خو د پہ قا بو نہ پا سکی۔ آپ مت جا ئیں نہ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔
سَحر‘‘ اس نے تڑ پ کر اپنے با زئو ں کہ حصا ر میں چھپا نے کی کو شش کی۔ شر جیل کی قمیض اس کہ آنسوئو سے بھیگنے لگی۔
تم مجھ پر یقین رکھو میں جلد لو ٹ آئو گا۔ محبو ب سے بچھڑ جا نے کا یہ منظر بے حد تکلیف دے تھا۔درو دیوار بھی آنسو بہا رہے تھے
گھر کا ہر کو نہ اداسی میں ڈو با ہوا تھا آج چا ند بھی مد ھم تھا غم کی شد ت نے دو نو ں کو نڈھا ل کر دیا تھا۔
٭٭٭٭
کیسی ہے میر ی شر یکِ حیا ت ؟ ہمیشہ کی طر ح شر جیل فو ن پر سَحر کو شر یر انداز میں تنگ کر رہا تھا۔
میں با لکل ٹھیک ہوں ۔ آپ خیر یت سے پہنچ گئے؟ مو سم کیسا ہے کرا چی کا؟
مو سم دل کا تو بہت اچھا ہے ایک زور دار قہقہ لگا کر سَحر کی بات کا جو اب دیا۔
مجھے فو ن کر نے میں اتنی دیر کیوں کر دی؟ کب سے انتظا ر کر رہی تھی۔
ہماری یا د ستا نے لگی واہ ‘ واہ‘ سچ کہتے ہیں دور جا نے سے ہی قدر بڑھتی ہے پا س ہو تا ہوں تو ایک نظر دیکھتی بھی نہیں ہو۔
ایسی تو کو ئی با ت نہیں ہے بلا وجہ آپ اب مجھے تنگ کر رہے ہیں۔
او ہو ‘ یہ میں تم سے آپ کب ہو گیا؟ کیا ہی بدلا ئو ہے۔
تو کیا میںآ پ نہیں کہہ سکتی ہوں؟ پہلے آپ میر ے مینگتر تھے اور صر ف کنزن لیکن اب شو ہر ۔ تائی اماں کہتی ہیں شو ہر کو عزت سے
بلا یا جا تا ہے۔
اچھا تو اپنی خو شی سے نہیں یہ عز ت دی جا رہی ہے ۔ما ما کہ کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
نہیں ایسی تو کو ئی با ت نہیں ہے۔
اچھا میں بعد میں بات کر وں گا۔ ابھی یہا ں آیا ہوں۔ نئی جگہ ہے سیٹ ہونے میں ٹا ئم لگے گا۔ اکیڈمی کہ کچھ دوست بھی یہا ں پر ہیں
انہو ں نے نکا ح کی پا رٹی ا رینج کی ہے۔ ان کہ سا تھ کچھ مصرو ف ہوں گا۔پھر کچھ دفتر ی کام ہوں گے۔ رات کہ آخری پہر ہم اپنی
مسز کو یا د کر یں گے۔
بس بس لمبی چو ڑی کہا نیا ں مت سنا ئیں نہیں تنگ کر وں گی۔
جنو ری میں تمہیں لینے آرہا ہوں تیا ری شر وع کردو۔ پھر میں گن گن کر بد لے لو ں گا۔

٭٭٭
مہند ی اور ابٹن کی دلفر یب خوشبوئوں سے پو ری فضا مہک رہی تھی۔چو ڑیوں کی کھنکنا ہٹ‘ رنگ بر نگے خو شیا ں بکیھر تے آنچل اور ڈھولک
کی مخصو ص تھا پ نے پورے ما حو ل کو ایک طلسم میں جکڑا ہو ا تھا۔ پو را گھر دلہن کی طر ح سجا ہوا تھا۔ ہر طر ف رو شنیاں جگمگا رہی تھیں۔
بڑ ے سے لان کو بڑی خوب صو رتی سے سجا یا جا رہا تھا۔ ہا جرہ تو خو شی کہ ما رے پھو لے نہ سما رہی تھی۔اکلو تے بیٹے کی شا دی تھی۔
اس کی زندگی کی سب سے بڑی خو شی ‘ لیکن سا تھ ہی سا تھ سَحر کے رخصت ہو نے کا دکھ بھی تھا۔ کیونکہ شر جیل پہلے ہی بتا چکا تھا میں
رخصتی کہ بعد سَحر کو ساتھ رکھوں گا ۔ اس میں کو ئی حر ج بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اسی کی نو کر ی ایسی تھی رو ز روز آنا بھی آسا ن نہیں تھا۔
اس لیے ہا جرہ‘ اور ند یم نے خو شی سے اپنے بیٹے کو اجا زت دے دی تھی۔ شادی میں صر ف ایک دن با قی تھا۔ کام تھے کہ ختم ہونے کو نہیں ۔
میں اکیلی کیا کیا کر وں سَحر بیٹا کدھر ہو؟ ہا جرہ نے نیچے کھڑے کھڑے آواز لگا ئی۔

ہا تھوں میں چو ڑیا ں‘ پھو لوں کا زیور ‘ پیلا جو ڑا پہنے سَحر نے جھک کر نیچے دیکھا۔ جی تائی اماں۔ میں یہا ں ہوں اپنے کمر ے میں
مہندی لگو ا رہی ہوں۔
نیچے آئو مجھے کچھ بات کر نی ہے۔ ہاتھ کہ اشا رے سے اس نے سَحر کو اپنی جا نب بلا یا۔
ہا جرہ سَحرکو اپنے کمر ے میں لے گئی۔ وہا ں زیورا ت کہ چند ڈبے پڑے تھے۔ ہاجرہ نے تما م زیورات سَحر کہ ہاتھ میں دے دیئے۔
یہ سب زیورات تمہا ری امی کہ اور میر ے ہیں۔ ان پر صر ف تہما را حق ہے اب یہ مو قع آچکا ہے کہ تم ان کو استعما ل کر و پہنو۔ اور بیٹا اب تو
تمہیں اپنی ذمہ داری کا احسا س بھی ہو نا چا ہئے۔ شا دی بہت بڑی منز ل ہو تی ہے۔ تم دونو ں پہلے ایک ہی گھر میں کنز ز تھے۔
شرارتیں ہنسی مذاق چلتا رہتا تھا ۔ لیکن اب تم شر جیل کی بیو ی ہو۔ اس کہ ساتھ رہو گی ۔ مجھے پو را یقین ہے کہ میر ی تر بیت میں
کہیں کو ئی کمی نہیں رہی ہو گی۔تم اپنے شو ہر کو پوری عزت اور احترام سے قبو ل کر و گی اور دونوںخو ش بھی رہو گے۔شر جیل اگر
کہیں غلط بھی ہو تو تم در گز ر کر جانا۔ ہما رے سے دور رہو گے بس ہما ری دعا ہے کہ تم دونوں خو ش رہو۔

تائی اماں ‘‘ آپ کو مجھ پر یقین ہے تو بے فکر رہیں ۔ میں کبھی آپ کو شکا ئیت کا مو قع نہیں دوں گی۔کہتے کہتے سَحر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
آج ہا جرہ ’’ تا ئی‘‘ نہیں ما ں بن کر سَحر کو سینے سے لگا کر رونے لگی تھی۔ میرا گھر تو خا لی ہو جائے گا۔ میر ے بچے مجھ سے دور چلے جا ئیں
گے۔میں تو تم دو نوں سے دوری کا تصو ر بھی نہیں کر سکتی ۔ہم لو گ جلد ہی وہا ں آئیں گے۔ تمہا رے تایا ابا کی نو کر ی اور میر ی جا ب
ہی ایسی ہے ۔ اچھا شر جیل کو تو فون ملا ئو وہ کد ھر ہے۔ تما م مہما ن پہنچ چکے ہیں۔ اور دلہا میاں کا کچھ آتہ پتہ ہی نہیں ہے۔اپنے آنسو
پو نچھتے ہوئے ہا جرہ نے سَحر کو ایک با ر پھر شر جیل کو فو ن کر نے کہ لیے کہا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: