Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 6

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 6

آپ کد ھر رہ گئے ہیں ۔شر ما تے ہوئے شو خی چھپا نے کہ اند از میں سَحر ‘ شر جیل سے مخا طب تھی۔
سب لوگ آپکا با ر با ر پو چھ رہے ہیں۔لیں تا ئی اماں سے با ت کر یں۔مو با ئل فو ن ہا جر ہ کہ ہا تھ میں تھما دیا۔
شرجیل بیٹا اورکتنا ٹا ئم لگے گا۔ سب مہما ن با ر با ر تمہا را پو چھ رہے ہیں۔ کرا چی سے آنے میں اتنا بھی ٹا ئم نہیں لگتا ہے۔
’’ما ما ‘‘ میں ایئرپو رٹ پہنچ چکا ہوں اور بس دس منٹ میں آپ کہ پا س ہو ں گا۔میر ی ذرا سَحر سے بات کر وائیں۔
لو ۔ تم سے با ت کر نا چا ہ رہا ہے۔ میں ذرا تمہا ری پھو پھو کو بتا دوں کہ شر جیل پہنچ گیا ہے۔وہ تو منہ پھو لا ئے بیٹھی ہیں جب سے آئی ہیں
بس یو ں ہی غصیلے انداز میں ہر با ت کا جواب دے رہی ہیں۔ہا جرہ نے کمر ے کا دروازاہ بند کیا اور چلی گئی۔

اب کمر ے میں صر ف اکیلی سَحر تھی۔اور دوسر ی جا نب شر جیل اُس کی آواز کا منتظر تھا۔وہ جو چند لمحو ں میں اُس کو اپنی زندگی کا مکمل
حصہ بنا نے والا تھا۔اُس کی آنکھو ں میں محبت اور انتظا رکی عجیب سی شو خی اور چمک نظر آرہی تھی۔چہر ے پر شگفتگی۔
ہیلو۔آہستگی سے سَحر نے بو لا۔
مو ٹی میںآرہا ہوں۔ تیا ر رہنا اب بد لے لینے ہیں۔ویسے تمہا رے لیے کچھ خا ص لے کر آرہا ہوں۔ایک سپیشل گفٹ۔
تمہا ری طر ح خو بصور ت ہے۔
بتا ئیں نہ کیا لیا ہے؟ سَحر نے بے تا بی سے پو چھا۔
آنے دو پھر ہی دیکھا ئوں گا۔بس میں گھر آرہا ہوں۔
ٹھیک ہے میں بھی جا تی ہوں مجھے مہند ی لگو ا نی ہے۔
میر ے نا م کی مہند ی لگو ا رہی ہو ۔ ’سنو‘۔ مجھے تم آج بہت یا د آرہی ہو۔ گھر کا را ستہ اتنا لمبا پتہ نہیں کیو ں لگ رہا ۔بعض اوقا ت ا انسان
کی چھٹی حس اُسے آنے والے سا نحے کہ با رے میں مطلع کر دیتی ہے ۔
اچھا بھئی میں فو ن بند کر رہی ہوں۔آپ جلد ی آجا ئیں۔

٭٭٭
سَحر ایک کو نے میں سا کت بت بنی بیٹھی تھی۔چیخوں کی آواز بھی اس کی خا مو شی نہیں تو ڑ پا رہی تھی۔ ہا جرہ اپنے غم میں نڈھا ل تھی۔
ڈاکٹر ند یم کہ اوپر تو آسما ن ٹو ٹ پڑا تھا۔ شر جیل کی میت نے ان کہ گھر کی خو شیوں کو چکنا چو ر کر دیا تھا۔ رو ڈ ایکسیڈنٹ اس قدر
بر ی طر ح ہوا تھا ۔ مو قع پر ہی شر جیل نے دم تو ڑ دئیے۔ کون جا نتا تھا ۔سَحر بغیر بیا ہی بیوہ ہو جا ئے گی۔ اس کہ خواب آنکھو ں
میں پتھربن کر رہ گئے تھے۔ہا تھو ں میں پہنی چو ڑیا ں عور توں نے تو ڑ ڈا لی تھی۔ مہند ی کا رنگ ابھی پھیکا ہی تھا ۔ سرخ جو ڑا
پہنا نا نصیب ہی نہ ہوا۔گھر میں اب تین تین زندہ لا شیں تھیں۔ہا جرہ اپنا سینا پیٹ رہی تھی۔ اپنے با ل نو چ رہی تھی۔وہ خوف
اور تکلیف سے چیخ رہی تھی۔کو ئی میر ی سَحر کو بلا ئو۔ اس کو دیکھا ئو۔ ہم لو گو ں کہ پا س کچھ با قی نہیں رہا۔ ہا ئے میرا بچہ۔ میرا بچہ
کس بے ر حمی سے کچل ڈا لا۔گھر میں کہرا م مچا تھا۔قیا مت بپا تھی۔
سَحر دیوار کہ سا تھ کھڑ ی یہ سا را منظر دیکھ رہی تھی ۔ وہ آج اتنی بے بس تھی ۔ کو ئی اس کی پکا ر سننے والا نہیں تھا۔ اس کہ نا ز نخر ے اُٹھا نے
والا شخص اس کو چھوڑ کر ہمیشہ کہ لئے جا چکا تھا۔ جس کہ ساتھ رہنے کی قسمیں ‘وعدے ‘ کئے تھے آج وہ سَحر کو اپنا ئے بغیر ہی دنیا سے
رخصت ہو چکا تھا۔سَحر خو اس با ختہ تھی۔ جسم ٹھنڈے پسینوں میں ڈوب رہا تھا۔آج وہ ایک با ر پھر اس بھر ی دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی۔
پہلے ما ں‘ با پ‘ اور اب شر جیل کی مو ت نے اس کو تو ڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ شخص جس کہ ہو نے سے زندہ ہو نے کا احسا س ہوتا تھا۔
ایک ہی لمحے میں سَحر کو تن تنہا چھوڑ گیا تھا۔ سبز ہلا لی پر چم میں لپٹاہوا شر جیل اپنی منز ل کہ آخر ی سفر پر گا مز ن تھا۔فو جی سپا ہیوں
نے سلو ٹ اور سلا می کہ ساتھ میت کو گھر سے اُٹھا لیا۔ چا رو ں طر ف ایک با ر پھر کہر ام مچ گیا۔ رو نے اور چیخنے کی آوازیں ایک
با ر پھر بلند ہو نے لگیں۔ ہا جرہ نے با لوں کو زور ‘ زور سے نو چنا شر وع کر دیا۔میر ے بیٹے کو ماں کا آخری پیا ر تو لینے دو۔ کس بے
رحمی سے ما ر ڈالا۔ میر ے گھر کہ چر اغ کو کچل ڈالا۔لر زتی ہوئی آواز سب کہ سینے چھنی کر رہی تھی۔وہ سسکیاں بھر تی رہی لیکن
اب شر جیل لوٹ کر آنے والا نہیں تھا۔ دنیا سے اس کا نا م و نشا ن مٹ چکا تھا۔عالیشا ن بنگلے کی فضا خون کہ آنسو رو رہی تھی۔
شر جیل کہ سہرے کہ پھو ل لو گوں کہ پا ئوں تلے دب گئے۔ کو ن جا نتا تھا یہ پھول اس کی قبر کی زینت بننے والے ہیں۔
٭٭
سحر کو لو گوں اور دنیا داری میں کو ئی دلچسپی ہی نہیں رہی ہے ہر وقت اپنے کمر ے میں بند رہتی ہے میں نے تو بہت با ر کو شش کی ہے لیکن میر ی
با ت تو وہ سمجھتی ہی نہیں ہیں۔آپا اگر آپ کو شش کر یںہو سکتا ہے آپ کی بات ما ن لے۔اسکا اور ہما را دکھ برابر کا ہے لیکن ابھی کم عمر ہے
اس لیے دکھ بر داشت کر نے کی طا قت نہیں ہے ۔ انسان کیا کیا خوا ب دیکھتا ہے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے ۔آج شر جیل کو
اس دنیا سے گئے ہوئے پورا ایک سال گزر گیا ہے لیکن آج بھی وہ مجھے یہا ں اس گھر میں محسو س ہوتا ہے۔ہاجرہ اداس لہجے میں سعدیہ آپا سے گفتگو کر رہی تھی ۔

اچھا تم کہتی ہو تو میں کو شش کر تی ہوں۔لیکن بھئی ہا جرہ برا مت ما ننا سحر کوتم نے بہت ضدی بنا دیا ہے بے جا لاڈپیا ر کا ہی نتیجہ ہے۔شروع سے ہی اگر سختی کی ہو تی تو آج یہ نو بت بہ دیکھنے کو ملتی۔ میر ی بھی بیٹی ہے اکلو تا بیٹا بھی ہے۔ مجا ل ہے جو جما ل اور حمیرا میر ے آگئے او نچی آواز میں بات بھی کر یں۔ سعدیہ کا لہجہ ہمیشہ ہی اکھڑا ہوا ہو تا۔ ہا جرہ بے چا رگی سے اس کی تما م با تیں سنتی رہی۔
ارے بھئی لڑکی کہا ں ہو۔تڑا ک سے سعدیہ نے سحر کہ کمر ے کا دروازہ کھو لا۔میر ے خدا ابھی تک سو رہی ہو۔بیو ہ ہو شو ہر تھا وہ تمہا را
کچھ ثو اب ہی پڑھ کر بخش دیا کر و۔لو گ تو سال مکمل ہو نے پر اہتما م کر تے ہیں تم ہو کہ ابھی تک عد ت ہی پو ری کر رہی ہو۔اور یہ میں کیا
سن رہی ہوں نہ کچھ کھانا نہ پینا جب دیکھو کمر ے میں بند رہنا۔ ہما رے خا ند ان کہ یہ طو ر طر یقے نہیں ہیںجو تم نے اپنا لیے ہیں۔
سحر ایک دم اُٹھ کر بیٹھ گئی۔پھو پھی کی عمر کا لحا ظ کر تے ہوئے چپ چا پ اُن کی تلخ با تیں سنتی رہی۔چلو شا با ش اُٹھو اور با ہر آکر ہما رے
سا تھ کھا نا کھا ئو۔
نظریں جکا ئے سحر بمشکل جی کہہ پا ئی۔
جی جی نہیں بس پا نچ منٹ میں نیچے آئو۔ اور ہا ں سر ڈھا نپ کر آنا پہلے کی با ت اور تھی اب تم بیوہ ہو۔ اور یہ کیا تم نے سبز رنگ کا جو ڑا پہن رکھا ہے۔بیوہ ہو تم ۔ہلکے رنگ پہنا کر و۔ہا جرہ نے تو کو ئی عقل سمجھ بتا ئی نہیں۔ سحر کی الما ری کی جا نب بڑھتے ہوئے سعدیہ نے نہا ئت بے دلی
سے الما ری کا جا ئزہ لینا شر وع کر دیا۔ ایک سفید کر تا سحر کی جا نب پھینکا یہ پہن کر نیچے آنا۔

Read More:  Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 14

وہ کتنی ہی دیر اس سفید کر تے کو دیکھتی رہی اور پھر اٹھا کر رو نے لگی۔تم کیو ں مجھے چھو ڑ کر چلے گئے۔ دیکھو نہ یہا ں میرا اپنا کو ئی بھی نہیں رہا۔سب مجھے ہی تمہا ری مو ت کا قصور وار ٹھہراتے ہیں۔لو ٹ آئو نہ میں بہت اکیلی ہوں مجھے تمہا ری ضر ورت ہے ۔سحر پھوٹ پھوٹ
کر رونے لگی۔
ڈائنگ ٹیبل پربیٹھے ہا جرہ نے سحر کو نیچے آتے دیکھا تو ما متا اُمنڈآئی۔ایک دم اس نے اپنی نشست چھو ڑ دی۔سحر یہ تم نے کیسے کپڑے پہنے ہیں؟ سفید لبا س کیو ں بیٹا؟ تا ئی اماں جس کا کچھ بھی نہ رہا ہو اس کہ لیے رنگو ں کا ہو نا نہ ہو نا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔آپ پر یشا ن مت ہوں۔
یقینا سعدیہ آپا نے تمہیں ایسا کچھ کر نے کو کہا ہو گا۔آپا آپ بھی حد کر تی ہیں بچی ہے وہ ہما رے جگر کا ٹکڑا اور آپ اُسے نہ جا نے کیا کچھ کہہ آئی میں نے تو صر ف یہ سو چ کر آپ کو بو لا تھا آپ مجھ سے زیا دہ سمجھدار ہیں سحر کو اچھی طر ح قا ئل کر لیں گی۔ہا جرہ نے ٹھیک ٹھاک با تیں سعدیہ کو کہہ ڈالی۔کیو نکہ وہ جا نتی تھی سحر نے آج سے پہلے کو ئی ایسی حر کت نہیں کی۔

ارے بھئی سچ تس سچ ہے ہا جرہ بیو ہ تو ہے اس میں برا ما ننے والی کیا با ت ہے تم تو ایسے آگ بگھو لا ہو رہی ہو جیسے میں نے کو ئی گو لی ما ر دی ہو۔ میر ی حمیرا تو کنو اری ہے کم عمر ہے اس کو تو نا زنخر ے اچھے بھی لگتے سحر کو یہ گا ڑے رنگو ں کہ کپڑے اچھے نہیں لگتے۔ سا دگی ہی سادھ لے تو بہتر ہے با قی تم میا ں بیو ی کی مر ضی ہے ہم کو ن ہو تے ہیں کچھ کہنے والے۔

ڈاکٹر صا حب میں آپ کو بتا رہی ہوں مجھے آپا کی حر کتیں اور با تیں با لکل پسند نہیں ہیں۔سحر کہ ساتھ یو ں غیر وں والا برتا ئو کر تی ہیں۔آج بھی انہوں نے بے حد غلط طر یقے سے اس کو سمجھا یا۔ ہم نے اس کو کبھی بہو کا درجہ نہیں دیاتھا۔پہلے بھی بیٹی تھی اب بھی بیٹی ہے۔ ما نا
کہ میں نے اس پیدا نہیں کیا لیکن سینے سے لگا کر پالا ہے را توں کو اس کہ لیے خو د کو بے چین دیکھا ۔پو ری پو ری را ت میں نے اپنی گو دمیں اس کو میٹھی نیند سلا یا ہے میں کیسے اس کو یوں ذلیل ہو تے دیکھوں وہ بھی اپنو ں کہ ہا تھوں برا ئے مہر بانی آپ سعدیہ آپا کو سمجھا دیجئے گا۔
میر ی اولاد کو کسی نے ایک لمحے کو بھی دکھ دینے کی کو شش کی تو میں ہر رشتہ نا طہ ختم کر دوں گی۔ ہا جرہ نے نہا یت سختی سے ڈاکٹر ندیم کو اپنا فیصلہ
سنا یا۔

مجھے تو آپا کی سمجھ نہیںآتی ایک طر ف تو اتنا زہر اگلتی ہیں اور دو سری طر ف مجھ سے کچھ دن پہلے سحر کہ رشتے کی با ت کر رہی تھی۔
رشتہ کس کا رشتہ کیسا رشتہ؟ ہا جرہ چو نک کر بو لی
آپا مجھ سے سحر اور جما ل کہ رشتے کی با ت کر رہی تھیں۔ ان کا خیا ل ہے کہ گھر کہ بچے ہیں با ت گھر میں رہے تو اچھا ہے۔
مجھے تو آپا کہ ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگتے۔صا ف انکا ر کر دیں۔ہما ری بیٹی کو رشتوں کی کمی نہیں ہے۔پڑھے گی اپنا مستقبل بنا ئے گی،پھر سو چیں گے شا دی کا۔جلد با زی نہیں کر نی کو ئی بھی۔

ہا جرہ بیگم کیسی با تیں کر تی ہو۔اب ایک سال گز ر گیا ۔جا نے والے تو واپس نہیںآتے ہر کا م اپنے وقت پر ہو رہا ہے سحر کو بھی اب سبنبھلنا
چا ہئے۔جما ل گھر کا بچہ ہے دیکھا بھا لا ہے پڑھا لکھا ہے آپ ایک با ر سو چ لیں اور سحر سے بھی با ت کر لیں۔

آپ خود با ت کر لینا میں تو ہر گز اس رشتے کہ لیے را ضی نہیں ہوں۔ما ںاپنی اولاد کو دلدل میں کیسے پھینک سکتی ہے ۔
سحر کو میر ے پا س بلا کر لا ئو۔ میں خود با ت کر تا ہوں۔جو اُس کا فیصلہ ہو گا وہ ہی میرا ۔
ہا جرہ نے کسی ملا زم کہ ہاتھ ڈاکٹر ندیم کا پیغام سحر تک بیھجوایا۔
اسلام علیکم تا یاابا‘‘ آپ نے مجھے بلایا۔
جی کہئے ۔شفقت سے اپنا ہا تھ سحر کہ سر پر رکھا۔کیسی ہے میر ی بیٹی؟
ٹھیک ہوں۔تا یا ابا آپ نے خیر ئت سے مجھے بلوا یا ہے۔
سحر بیٹا میں آپ سے کچھ با ت کر نا چا ہتا ہوں۔جو با ت میںآپ سے کر وں گا اسے غو ر سے سننا اور با لکل بھی پر یشا ن نہیں ہونا۔دیکھو بیٹا
شر جیل کی مو ت ہم سب کہ لیے ایک بہت بڑا حا دثہ تھی تمہا رے ساتھ ساتھ ہم دو نوں بھی اس غم میں سے نہیں نکل سکے لیکن جا نے والوں کو نہ تو کو ئی روک سکا ہے اور نہ کو ئی واپس لا سکا ۔قدرت کا قانون ہے ہم سب نے با ر ی با ری واپس جا نا ہے۔کسی کو پہلے اور کسی کو بعد میں۔
میرا سب سے قیمتی اثاثہ تم ہو۔ میں چا ہتا ہوں جتنی جلد ی ہو سکے تم اپنے گھر کی ہو جا ئو۔اپنی زند گی میں ہی میں آپ کو اپنے گھر کا دیکھنا چا ہتا ہوں۔عمر کا آخر ی دور چل رہا ہے نہ جا نے کب بلا وا آجا ئے اور رب کہ حضو ر حا ضری دینی پڑ جا ئے۔جما ل گھر کا لڑکا ہے ۔میرا اور تمہا ری پھو پھو کا خیا ل ہے کہ آپ دو نوں کی شا دی کر دی جا ئے۔
کیا شا دی؟ سحر ایک دم چو نک کر بولی
جی بیٹا شا دی۔
نہیں تا یا ابا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔وہ یہ کہہ کر کمر ے سے نکل گئی۔اپنے چہر ے کو ہتھلیوں سے چھپا ئے بھا گتی ہوئی اپنے کمر ے کی جا نب لپکی ۔سحر کو ایسا محسو س ہوا جیسے کسی نے اس کو پھا نسی پر چڑھا دیا ہو۔جیسے زہر گلے میں اٹک گیا ہو اور اس کو نگلنا مشکل ہوگیاتھا۔ایک تیز
دھا ر والا خنجر اس کہ اندر اتر کر آہستہ آہستہ اُسے قتل کر رہا ہو۔کبھی کبھی اپنو ں کہ الفا ظ ایسی غیر یقنی صورتحا ل پیدا کر دیتے ہیںانسان بے بس
ہو جا تا ہے۔وہ حا لات کہ آگئے خود جھکا دیتا ہے۔اُسے ہر لمحہ شر جیل یا د آتا تھا۔ آج شا دی کہ نا م سے تو وہ تڑپ اٹھی تھی ۔موٹے موٹے
آنسو اس کہ رخسا روں پر گر نے لگے اور پھر رو کنے کا نا م نہیں لے رہے تھے۔شر جیل تم کہا ں ہو دیکھو یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ایک دم اسکے
منہ سے شر جیل کا نا م نکلا وہ داڑھے ما ر کر رو نے لگی ۔تم میر ے سکھ دکھ کہ ساتھی کہا چلے گئے ہو۔کا ش ایک لمحے کو تم مجھے نظر آجا ئوتو میں تمیں اپنے سا رے دکھ بتا ئوں۔شر جیل دیکھو میرا وجود تمہا ری جدائی میں کر چی کر چی ہو چکا ہے۔سحر اتنا شر جیل کی مو ت پر نہیں روئی تھی جتنا آج رو رہی تھی۔
سمجھا نے کہ بعد ڈاکٹر ندیم نے کسی نہ کسی طر ح سحر کو جما ل کہ رشتے کہ لیے را ضی کر ہی لیا تھا۔سعدیہ سج دھج کر فرو ٹ اور مٹھا ئیوں کی ٹکریاںلیے مکمل رشتہ لینے کے لیے اپنے بھا ئی کہ گھر آئی۔حمیرا بھی بھا ئی کی خو شی میں کا فی خو ش دیکھا ئی دے رہی تھی۔جما ل بھی ماں اور بہن کہ ساتھ آیا تھا۔ہا جرہ نے نہ چا ہتے ہوئے ان لو گوں کا کا فی گر م جو شی سے استقبا ل کیا۔ڈاکٹر ندیم بے حدخو ش اور مطمئن تھے۔
سحر نے خا ص کو ئی بنا ئو سنگھا ر نہیں کیا تھا کیونکہ اس کو اب ان با توں میں کو ئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو صر ف تا ئی اور تا یا کی وجہ
سے ہتھیا رڈال چکی تھی۔

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 36

سب لو گ کا فی خو ش دیکھا ئی دے رہے تھے حمیرہ سحر کو بھی لے آئو ۔سعدیہ نے بہت چا ہ کر خو اہش کی۔
ہا ں بیٹا جا ئو۔ وہ اپنے کمر ے میں ہے ہا جرہ نے بات کو مکمل کر کہ بولا۔
ما شا ء اللہ میر ی بیٹی بہت پیا ری لگ رہی ہے سعدیہ بلا ئیں اتا رنے لگی۔ منگنی کی رسم شر وع کر نے سے پہلے میں بھا ئی صا حب سے کچھ
با ت کر نا چا ہتی ہوں،۔
با تیں بھی ہوتی رہیں گی پہلے تم بسم اللہ کرو۔ڈاکٹر ندیم نے جواب دیا۔
نہیں بھا ئی کچھ با تیں پہلے ہی میں صا ف بتا نا چا ہتی ہوں۔سحر کی تما م جا ئیداد جما ل کہ نا م کر نا ہو گی آپ کو۔
یہ تم کیسی پا گلوں وا لی با تیں کر رہی ہو۔ہما را جو کچھ بھی ہے وہ سحر کا ہی ہے۔جما ل کہ نام کیوں؟
ایک بیوہ کو ہم اپنے گھر کی بہو بنا نے جا رہے ہیں ہما ری بھی کو ئی عزت ہے نا م ہے۔کچھ حق تو میر ے بیٹے کا بھی بنتا ہے۔ نو کر ی تو معمولی سی ہے۔شا دی کہ بعد کہا ں اتنے خر چے پو رے ہو تے ہیں۔ کوئی زمین جا ئیداد ہو تو اپنا کا روبار ہی شر وع کر لے گا۔ویسے بھی بہت
رئیس خا ندانوں کہ رشتے ٹھکرا کر جما ل سحر کہ لیے ما نا ہے۔ بس یہ اتنی سی خوا ہش تو آپ کو پو ری کر نی ہی ہو گی۔

ڈاکٹر ند یم کو ہر گز سعدیہ سے یہ تو قع نہیں تھی۔ سخت غصے میں انہوں نے اپنا ہا تھ اٹھا تے اٹھا تے رو ک لیا۔ دا نت چبا کر منہ پلٹ لیا۔
ہا جرہ سحر کو اندر لے کر جا ئو۔اور ان لوگوں سے کہہ دو یہاں سے دفعہ ہو جا ئیں۔معراج کہ بعد میرا نہ تو کوئی بھا ئی تھا اور نہ بہن میں آج سے
اپنا ہر تعلق رشتہ نا طہ ختم کر تا ہوں۔میر ی بیٹی کو ئی لا وارث ہے جس کی تم نے یوں قیمت لگا ڈالی۔نکل جا ئو میر ے گھر سے چلی جا ئو سعدیہ
آئندہ کہ بعد کبھی میر ی دہلیز پر قدم مت رکھنا میرا تمہا را کو ئی تعلق نہیں۔سحر یتیم نہیں ہے اس کا با پ ابھی زندہ ہے تم نے کیا سمجھا کہ میںاس سے جان چھڑانا چا ہتا ہوں۔میر ے شر جیل سے زیا دہ حق ہے اسکا ہم پہ اور ہما ری ہر شئے پہ۔چلی جا ئو تم۔

آج کی رات ایک اور کہر بر داشت کر نا پڑا تھا دن بھی اذیت نا ک تھا۔پہلے تو صرف شرجیل کہ نا م پر رو کر سحر کو صبر آجا یا کر تا۔ لیکن آج
وہ اس طر ح سے دھتکا ری گئی تھی۔جیسے زمین پر ادنی سی مخلوق ہو۔کسی کہ اپنے بھی اتنے پتھر دل ہو سکتے ہیں۔میری ذات سے پھو پھو کو
کو ئی سروکار نہیں تھا۔کیا پیسہ ہی انسان کی پہچا ن ہوتا ہے۔اللہ مجھ سے کیوں اتنے مشکل امتحا نا ت لے رہا ہے۔کو ئی تو میرا اپنا ہو۔ میر ی
تنہا ئی کا ساتھی ۔شر جیل دیکھو میر ے اپنے ہی مجھے قد موں تلے رو ند ھ رہے ہیں۔سحر کا وجود راکھ کی طر ح بکھر رہا تھا۔اسے خود پہ شدید
غصہ آرہا تھا۔کا ش میں اپنے ما ں با پ کہ ساتھ ہی مر جا تی۔مجھے یہاں اکیلے چھوڑ کر خود چین کی نیند سو رہے ہیں۔اگلے ہی لمحے کمر ے کا دروازہ کھو لا ہا جرہ اور ڈاکٹر ندیم کھڑے تھے۔ سحر آئندہ تم کبھی ایسی ما یو سی کی بات نہیں کر وگی۔ہا جرہ نے لپک کر اپنے سینے سے لگایا۔
ہم تمہا رے ما ں باپ ہیں۔ ہما رے جیتے جی ہما ری بیٹی کا کو ئی با ل بھی با نکا نہیں کر سکتا۔میں تو پہلے بھی اس رشتے کہ لیے را ضی نہیں تھی
، تمہا رے تا یا ابا بہت جذبا تی ہو رہے تھے۔ڈاکٹر ندیم ما رے شر مند گی کہ کچھ کہہ نہیں پا رہے تھے۔نہیں تا ئی اماں قصور میرا ہی ہے۔ میں ہی بد نصیب ہوں۔ڈاکٹر ند یم نے ہا تھ جو ڑنے چا ہے تو سحر سینے سے لپٹ گئی۔ بلک بلک کر رو نے لگی۔مجھے شر جیل چاہئے تا یا ابا۔ آپ میر ی اتنی خواہش پو ری کر دیں۔مجھے اس کہ علا وہ کو ئی خو ش نہیں رکھ سکتا۔ آپ کی بیٹی کو صر ف شر جیل چا ہئے۔میر ے دل کا سکو ن را توں کا چین
صر ف ایک ہی شخص پو را کر سکتا ہے مجھے بس شر جیل کہ پا س بیھج دیں۔ورنہ یہ دنیا مجھے اپنے پا ئوں تلے کچل ڈالے گی۔میں مزید اپنی ذات
کی تذلیل بر داشت نہیں کر سکتی ہوں۔میں کب تک اپنے ما ضی سے بھا گتی رہوں گی۔ میر ے ما ضی کی دا ستان ہر شجر پرخزاں آنے سے پہلے اور بہار جا نے کے بعد دہرا ئی جا تی رہے گی۔آج کی رات تینوں نے بہت مشکل سے اور رو رو کر گزاری۔ڈاکٹر ندیم نے سحر کو بہت تسلی دی۔ہا جرہ اپنی گود میں سر رکھے بچپن کی با تیں دہرا تی رہی۔

سحر بیٹا تمہارا جو دل چا ہے گا وہ ہی ہو گا۔ اگر تم آگے پڑھنا چا ہتی ہو۔پڑھو۔جو میر ی بیٹی چا ہے گی وہ ہی ہوگا۔ میں اپنی غلطی پر بے حد
شر مندہ ہوں۔
نہیں تا یا ابا آپ کیسی با تیں کر تے ہیں۔بس مجھے سنبھلنے کہ لیے کچھ ٹائم چا ہئے۔
ہا جر ہ نے سحر کا ما تھا چو مامیر ی بچی بہت بہا در ہے۔بس دل چھوٹا مت کیا کر و۔درد تو ہر جگہ ہے ۔لیکن تم تو ہما ری ہمت ہو امید ہو۔اگر تم ہی کمزور پڑ جا ئو گی تو ہما را کیا بنے گا۔ہم تو صرف تمہا رے نا م پر زندہ ہیں۔اگر تم سے محبت نہ ہو تی تو آج تمہا رے تا یا ابا سعدیہ آپا کو یوں
منہ توڑ کر جو اب نہ دیتے۔بس میرا بچہ جو تمہا را دل چاہے وہ کرو۔
کو ن جا نتا تھاسحرکا وجود کتنا زخمی ہوچکا تھا۔تکلیف نہ چا ہتے ہوئے بھی کم نہیں ہو پا رہی تھی۔دن رات ما ضی کو ٹوٹلتی رہتی۔

بس چھو ٹے صا حب ڈاکٹر صا حب کہ گھر کی یہ درد نا ک داستا ن ہے جس نے ان کی زندگیوں میں کہرا م مچا دیا۔ وقت گز رنے کہ
سا تھ ساتھ بس بیچا رے زند گی کہ دن پو رے کر رہے ہیں۔ سَحر بی بی کہ اکثر رشتے آیا کر تے تھے لیکن ابھی تک شا دی نہیں کی۔
صدمہ بھی تو بہت بڑا تھا۔ ان لو گو ں کی زند گی کا سر مایہ تھا ان کا بیٹا جو چند لمحو ں میں ان کو چھوڑ کر چلا گیا۔اُسی کہ غم میں سَحر بی بی نے
خو د کو بس گھر میں قید کر لیا ہے۔نہ ہی کہیں آتی جا تی ہیں اور پڑ ھا ئی بھی اب تو چھو ڑ چکی ہیں۔

٭٭٭٭

آفتا ب کا دل سَحر کہ لیے خو ن کہ آنسو رو رہا تھا۔اُسے اپنی پو ری زند گی میں صر ف ایک ہی لڑکی پسند آئی تھی ۔ لیکن وہ اب اس
کشمکش میں تھا کہ وہ اس کہ دکھو ں کا مداعوا کسیے کر ے۔ وہ کیسے اس کو تسلی دے۔ کیسے ما ضی کی تلخ یا دو ں سے با ہر نکا ل لائے۔ اسے کیسے
بتا ئے کہ کسی ایک کہ چلے جا نے سے محبت ختم نہیں ہو جا تی میں بھی تو منتظر ہوں۔نہ جا نے وہ نئے سر ے سے ایک رشتہ بنا نا چا ہے
گی۔آفتا ب دفتر میں بھی پو را دن یہ ہی سو چتا رہا۔وہ خو د کو اس کفیت سے با ہر نکا ل ہی نہیں پا رہا تھا۔ سَحر کا دکھ وہ شد ت سے محسوس
کر رہا تھا۔آفتا ب کی طبیعت سو چ سو چ کر خراب ہو نے لگی تھی۔ اس کا جی چا ہ رہا تھا ۔ اُڑ کرسَحر کہ پا س چلا جا ئے اسے احسا س دلا ئے
کہ وہ اکیلی نہیںہے۔دفتر سے واپسی پر گا ڑی ڈاکٹر صا حب کہ گھر کہ آگئے روک دی۔ کا فی دیر سو چنے کہ بعد وہا ں سے چلا گیا۔
پو ری رات وہ ما را ما را سڑکو ں پر گھو متا رہا۔ وہ اپنا غم کسی کو بتا بھی نہیں پا رہا تھا۔تھکن سے چو ر آفتا ب با ہر ٹی وی لا ئو نیچ میں ہی سو گیا تھا۔

Read More:  Dastan E Mujahid Novel By Naseem Hijazi – Episode 3

صبح سو یر ے آفتا ب ہمیشہ کی طر ح ما رننگ وا ک کہ لیے نکلا ۔ پا رک میں اس کی نظر سَحر پرپڑ ی ۔وہ اس کی جا نب لپکا لیکن ایک
دم اپنے قدم رو ک لیے کچھ دیر سو چنے کہ بعد وہ دو بارہ آگئے بڑھا۔آپ تو رو زانہ ہی یہا ں آتی ہیں۔ بتا ئیںآج کیا بنا رہی ہیں؟
مجھے تو آپ کی بنی ہو ئی تصا ویر بے حد پسند آئیں۔
میں اتنی اچھی آرٹسٹ بھی نہیں ہوں۔‘‘
اب یہ تو آپ ایسے ہی کہہ رہی ہیں۔ ما ن لیں کہ آپ کہ ہا تھ میں جا دو ہے۔دوبا رہ تو آپ سے ملا قا ت ہی نہیں ہو ئی۔
کیو ں آپ کو مجھ سے کو ئی کا م تھا؟ چو نک کر وہ ایک دم بو لی۔
اچھے دو ست کیا کا م کہ لیے ہی مل سکتے ہیں۔؟آفتا ب اُس کہ سا منے آکھڑا ہوا۔ ایسے لگا سَحر کا را ستہ رو ک رہا ہو۔ اُس کا دل چا ہ رہا تھا
آج مجھے میر ی با تو ں کا جواب دے کر ہی یہا ں سے جا ئے۔
نہیں میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔سَحرنے تصا ویر برش اور رنگو ں کو سمیٹتے ہو ئے جواب دیا ۔
آپ مجھے غلط مت سمجھئے گا۔ میںآپ کی بہت عز ت کر تا ہوں۔سنجیدہ سے انداز میں آفتا ب نے کہا۔
میں جا نتی ہوں۔ میرا را ستہ چھوڑیں مجھے گھر جا نا ہے۔
چلئے نہ کہیں بیٹھ کر بات کر تے ہیں ۔ایک کپ کا فی ہو جائے۔
مجھے کا فی پسند نہیں ہے اس با ر وہ کا فی سختی سے بو لی ۔
کل میر ی سا لگرہ ہے ۔آپ میر ے سا تھ میرا خا ص دن منا نے آسکتی ہیں؟کا فی سنجدگی سے آفتا ب نے پو چھا۔
سو چ کر جو اب دو ں گی۔ فلحا ل مجھے دیر ہو رہی ہے ۔
سَحر‘‘ جا تے جا تے آفتا ب نے اُسے افسر دگی سے پکا را ۔میں آپ کی کا ل کا انتظا ر کر وں گا۔
گھر جا کر میں آ پ سے بات کر تی ہوں۔ مسکر انے کہ اندا زمیں اُس نے جو اب دیا۔
آفتا ب کو امید کی ایک کرن محسو س ہوئی تھی۔سور ج ڈھلتے ہی آفتا ب گھر آ گیا ۔پو را دن اُس کی نظر یں مو با ئل پر تھیں۔شد ت سے
اس کو سَحر کی کال کا انتظا ر تھا۔گھر واپس آکر بھی آفتا ب بے حد بے چین تھا۔ نہ جا نے کیو ں وہ سَحر کی آواز سننے کو بہت بے قرا ر تھا۔
عجیب سی بے قرا ری نے اس کو پریشا ن کر رکھا تھا۔ حمید دو بار کمر ے میں کھا نے کا کہنے آچکا تھا لیکن آفتا ب نے اُسے انکا ر کر دیا
تھا۔میں بعد میں کھا ئوں گا ابھی مجھے بھو ک نہیں ہے آفس کا کو ئی ضر وری کا م ہے وہ کر رہا ہوں۔انتظا ر کی گھڑیا ں اور مشکل ہو رہی تھی۔
دل کی دھڑ کن تیز ہو تی جا رہی تھی۔ یہ محبت ہے یا دیوانہ پن لیکن میں اب اس کہ بغیر ادھو را ہوں۔آفتا ب انتظا ر کر تے کر تے سو گیا۔
ما یو سی سے اُس کی آنکھیں نم تھیں۔
رات کہ با رہ بجے ایک کال نے اس کو نیند سے بیزار کر دیا۔فو ن پر دوسر ی جا نب سَحر تھی۔ سا لگرہ مبا رک ہو۔ میں لیٹ تو نہیں ہوئی
مجھے لگ رہا تھا شا ئید آخر ی کال میر ی ہو گی۔ڈھیر سا ری دعا ئوں کہ سا تھ سَحر نے آفتا ب کو اُ س کی سا لگرہ کی مبا رک با د دی تھی۔

میں خو ا ب دیکھ رہا ہوں یا سچ ہے۔آفتا ب نے سَحر سے سو ال کیا۔
اس میں خو اب دیکھنے والی کیا با ت ہے ۔ آپ میر ے دوست ہیں میں اپنے دو ستوں کو بہت اہمیت دیتی ہوں۔
شکر یہ۔ نو زاش آپ نے مجھے دو ست تو مانا۔ پھر کل شا م میں آ پ میر ے ساتھ کیک کا ٹنے والی ہیں۔ اتنی با ت کہہ کر آفتا ب
نے فو ن بند کر دیا۔
سَحر اُس کو کو ئی جو اب نہیں دے پا ئی تھی۔
شا م کو آفتا ب نے آ فس کہ بعد سَحر کو کا ل کی اور دو ٹو ک بو لا ۔میں بس آرہا ہوں آپ تیا ر رہنا۔
لیکن ۔ لیکن میں نے ابھی تک گھر نہیں بتا یا میں نہیں جا سکتی۔
وہ آپ مجھ پر چھو ڑ دیں میں خو د آنٹی سے پو چھ لو ں گا۔آفتا ب نے فو ن رکھتے ہی گا ڑی نکا لی اور سید ھی ڈاکٹر صا حب کہ گھر کہ
سا منے رو ک دی۔گھر کہ اند ر دا خل ہو تے وقت اُس کو ایک لمحے کو بھی جھجک محسو س نہیں ہو رہی تھی۔پو رے حق کہ ساتھ وہ گھر
کہ اندر دا خل ہوا۔ سامنے مسز ند یم صو فے پر بیٹھی تھیں۔ اُن سے ملنے کہ بعد آفتا ب نے اپنی سا لگرہ کا بتا یا۔ تو انہو ں نے اس کو
مبار ک با د دی۔ آنٹی میں سَحر کو اپنی برتھڈے پا رٹی کہ لیے انو ائٹ کر نے آیا ہوں اگر آپ کی اجا زت ہو تو میں اس کو سا تھ لے
جا ئوں میر ے تما م دو ست ہو ں گے۔ ہم جلد ی ہی واپس آجا ئیں گے۔سَحر نے کچھ تصا ویریں بھی بنا کر دی تھیں تو سب لوگ
ان سے ملنے کی خو ا ہش مند ہیں۔ پلیز آپ منع مت کر نا۔میر ی درخوا ست سمجھ لیں۔
کا فی دیر خا مو ش رہنے کہ بعد مسز ند یم بو لیں۔ بیٹا سَحر نہیں مانے گی ۔ مجھے تو کو ئی مسئلہ نہیں ہے ۔میں تو خود اُس کو کہتی ہوں گھر سے
با ہر نکلا کر ے لو گو ں سے ملا کر ے۔ گھر بیٹھے بیٹھے غم کم نہیں ہو جا تے۔
آپ مجھے ایک با ر اگر پو چھنے دیں ہو سکتا ہے وہ مان جا ئے۔
لو ۔ سَحر خود ہی نیچے آگئی ہے۔بیٹے آفتا ب کی سا لگرہ ہے وہ آپ کو انو ائٹ کر نے آیا ہے۔ آپ ڈرا ئیو ر کہ ساتھ چلے جا ئو۔
میں۔میں۔ نہیں میرا مو ڈ نہیں ہے پھر کبھی چلی جا ئو ں گی۔
آفتا ب کہ کا فی اسرار پر وہ ما ن گئی تھی۔ ٹھیک ہے میں پہنچ جا ئو ں گی۔
رات کہ آٹھ بجے وہ ڈرا یئور کہ سا تھ آفتا ب کہ بتا ئے ہو ئے اڈریس پر پہنچ گئی تھی۔گا ڑھے گر ین رنگ کا فرا ک پہنے میچنگ ٹا پس
گو ری گو ری کلا ئیو ں میں سو ٹ کی ہم رنگ چوڑیاں پہنے میک کہ نا م پر ہو نٹو ںپر لائٹ پنک لپ ا سٹک لگا ئے وہ بہت پیا ری
لگ رہی تھی۔
ایک گہر ی سا نس لیتے ہوئے آ فتا ب نے دل ہی دل میں سَحر کی بے انتہا تعر یف کر ڈا لی۔آپ کہ آنے کا بے حد شکر یہ۔
یہا ں پر تو آپ کا کو ئی دو ست نہیں ہے آپ نے تو کہا تھا میر ے اور بھی دوست آئیں گے۔کافی سنجید گی سے وہ آفتا ب
سے مخاطب تھی۔لیکن مجھے تو یہا ں پر آپ کہ اور اپنے علا وہ کو ئی اور دیکھا ئی نہیں دے رہا۔آپ نے صر ف مجھے انو ئیٹ کیا
ہے؟

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: