Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 7

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 7

کچھ لو گ سب دو ستوں کی کمی پو ری کر دیتے ہیں۔ آپ کہ آنے کہ بعد مجھے یہا ں سب کچھ مکمل لگ رہا ہے۔کسی بھی دوست
عزیز ‘ رشتہ دار کی کمی محسو س نہیں ہو رہی ہے۔با ئیں جا نب پڑ ی کر سی کو عزت و احترا م کہ اندا ز میں اس نے سَحر کی جا نب کیا۔
پلیز آپ بیٹھیں۔ گھبر ائیں مت میں آپ کو کھا نہیں جا ئوں گا۔آپ اتنا ڈر کیو ں رہی ہیں۔ خو ف کی شد ت سے اُس کہ
ہا تھ پا ئو ں کا نپ رہے تھے۔اُس نے ایک نظر پو رے ریسٹورنٹ میں دو ڑائی اور خا مو شی سے بیٹھ گئی۔آفتا ب کا اس کو جی
بھر کہ دیکھنے کا جی چاہ رہا تھا۔ دل کی ہر با ت کہہ ڈا لنے کو دل چا ہ رہا تھا۔کیک کاٹنے کہ بعد سَحر نے جا نا چا ہا۔ارے ابھی
تو کھا نا آنے والا ہے۔ کھا نا کھا کر ہی جا ئیں گے۔اورآپ بتا ئیں آپ کو کیا اچھا لگتا ہے کھا نے میں؟
میں سب کچھ کھا لیتی ہوں میر ی کو ئی خا ص پسند نہ پسند نہیں ہے۔
آپ اتنی چپ چا پ مت رہا کر یں۔کو ئی دکھ پر یشا نی ہے تو مجھ سے بلا ججھک کہہ سکتی ہیں۔
’’اکثر جلہ ہوا کو ئلہ بظا ہر تو بجھ جا تا ہے لیکن اس کہ اندر کہیں نہ کہیں ایک چنگا ری ہمیشہ سلگتی رہتی ہے دنیا کہ سامنے راکھ کا غلا ف چڑھا لینے سے تکلیفیں کم نہیں ہو جا تیں۔‘‘
آپ با تیں بہت گہر ی کر تی ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے سمجھ بھی نہیں آتی ہے۔سچ تو یہ تھا آفتا ب سَحر کی تکلیف کو دل سے محسو س کر رہا تھا۔
وہ اُس کی آنکھو ں میں جھا نک کر دیکھنا چا ہتا تھا ۔ہر لمحہ وہ اسی کو شش میں تھا اس کا دکھ با نٹ سکے۔کیا قصو ر تھا اس معصو م لڑ کی کا قدرت
نے اس کہ سا تھ اتنا برا کیو ں کیا۔ جیتے جی ما ر ڈالا۔سَحر کھا نا کھا نے میں مصر وف تھی۔ لیکن آفتا ب کی سو چ کہ زا وئیے کہیں اور ہی تھے۔
وہ مسلسل اس کشمکش میں تھا سَحر کہ ذہن پر چھا یا ہوا غم کا خوف کیسے کم کیا جا ئے کو ئی ایسا حل مل جا ئے جس سے اس کی خو د اعتما دی بحا ل
ہو جا ئے۔
آپ تو کچھ لے ہی نہیں رہے‘‘ سَحر نے معصو ما نہ انداز میں کہا۔
’’ہو ں‘‘ آفتا ب کہ چہر ے پر مسکرا ہٹ تھی۔لے رہا ہوں۔
’’آپ میو زک سنتی ہیں؟‘‘
’’نہیں ‘‘ کو ئی خا ص دلچسپی نہیں مجھے۔بس پینٹگ میں ہی تھوڑی بہت دلچسپی ہے۔زند گی میں کچھ کر نے کو ہے بھی نہیں ۔ وقت گز ارنے
کہ لیے سا نس لے لیتی ہو ں میر ے لیے اتنا ہی کا فی ہے ۔
گھو منے پھیر نے کا بھی شو ق نہیں کیا؟ ویسے یہ تو نا ممکن سی با ت ہے کہ آپ کو گھومنا پھر نا پسند نہ ہو۔ لڑکیوں کو تو ایسی چیزیں دلچسپ لگتی ہیں۔
نہیں مجھے کو ئی خا ص دلچسپی نہیں۔نظریں جھکا ئے بو لی۔
کو ئی خا ص جگہ مقام جہا ں آپ نہ گئی ہوں؟اور آپ کی جا نے کی خوا ہش ہو؟ وہ با ضد ہو کر پو چھے جا رہا تھا۔
’’شنگریلا‘‘ ایک لمبی خا موشی کہ بعد اُس نے جو اب دیا۔
تو آپ وہا ں جانا چا ہتی ہیں؟
نہیں‘‘ کند ھے اچکا تے ہوئے بو لی۔
ابھی تو آپ نے بتا یا آپ کی پسندیدہ مقا ما ت میں سے ہے۔ظا ہر ہے وہا ں جا نے کی خواہش بھی ہو گی۔
اب کہیں بھی جا نے کی خواہش نہیں ہے ۔پرا نی با تیں ہیں جب مجھے یہ جگہ پسند ہوا کر تی تھی۔فلحا ل مجھے دیر ہو رہی ہے ۔میرا خیال ہے اب مجھے چلنا چا ہئے۔ را ت کا فی ہو چکی ہے اچھا نہیں لگتا یوں اکیلے اتنی دیر تک ۔
’’آج آپ بہت پیا ری لگ رہی ہیں۔‘‘ ٹھو ڑی کہ نیچے با یا ں ہا تھ رکھے۔ کھوئے ہوئے انداز میں آفتا ب بو لا۔
سَحر نے گہر ی نظر وں سے آفتا ب کو دیکھا ۔ مر جھا ئے ہو ئے اند از میں شکر یہ کہا ۔میرا خیا ل ہے کا فی دیر ہو چکی ہے اب ہمیں چلنا چا ہیے
آئی یم سو ری میں آپ کہ لیے کو ئی خا ص گفٹ نہیں لا سکی میں ما ر کیٹ کم ہی جا تی ہوں۔ایک ڈا ئر ی اپنے بیگ سے نکا ل کر آفتا ب کہ
ہا تھ میں تھما دی۔یہ آپ کی سا لگرہ کا تحفہ ۔آئی ایم سو ری میں آپ کی پسند نہ پسند سے با لکل نا واقف تھی۔عر صہ پہلے میں نے یہ
اپنے لیے خرید ی تھی۔ابھی میں چلتی ہوں۔’’ تھینکو سو مچ ‘‘thankyou so much‘‘ ڈنیر کہ لیے مجھے آپ سے مل کہ بہت
اچھا لگا۔
ارے میں خو د آپ کو گھر تک چھوڑ کر آئو ں گا۔تیز ی سے اُس نے اپنی نشست چھو ڑی اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
نہیں نہیں۔ ڈرا ئیو ر با ہر ہی کھڑ ا میرا انتظا ر کر رہا ہے میں خو د سے گھرچلی جا ئو ں گی۔
سا منے ہی تو آ پ کا گھر ہے۔ میں چھوڑ دوں گا۔ پلیز ۔
آفتا ب نے ڈرائیور کو گھر واپس جا نے کہ لیے کہا۔ بی بی میر ے سا تھ گھر آجا ئیں گی۔
جی ‘‘ ٹھیک ہے۔ ڈرایئور نے سر ہلا کر ہا ں بو لا ۔
ٓآفتا ب نے چا ہ کہ گا ڑی کا دروازہ کھو لا ۔
سَحر ججھک کر بیٹھی ۔ما ضی کی یا دو ں نے اُسے ایک با ر پھر جھنجو ڑ دیا۔ شر جیل کی یا د نے اس کی آنکھیں نم کر دی۔ پھو ل والے نے گا ڑی
کہ شیشے پر دستک دے کر مو تئے کہ گجر ے آفتا ب کہ سا منے کر دئے۔صا حب جی لے لو نہ۔ صبح سے لے کر گھو م رہا ہوں۔ کسی نے
نہیں لیے۔ اللہ آپ کی جو ڑی سلا مت رکھے ۔چا ند سا بیٹا دے۔ ہمیشہ خو ش رہو۔ صا حب جی لے لو نہ۔گا ڑی کی رفتا ر ہلکی تھی۔
پھو ل بیچنے والا بچہ گا ڑی کہ سا تھ ساتھ بھا گنے لگا۔آفتا ب نے ایک نظر سَحر کی طر ف دیکھا ۔اور گا ڑی رو ک دی۔ لائو دو پھو ل
سب کہ سب دے دو۔ اس نے سب گجر ے خر ید کر گا ڑی میں رکھ لیے۔ اور چپ چاپ گا ڑی چلا نے لگا۔آپ کو پھو ل اچھے لگتے ہیں؟
آفتا ب نے سا منے رو ڈ پر دیکھتے ہوئے سَحر سے سو ال کیا۔
نہیں‘‘
وہ ہر با ت کا دو ٹو ک جو اب دے رہی تھی۔‘‘
کیوں؟ پھو ل تو سب لو گو ں کو پسند ہیں۔‘‘
ہر کسی کی اپنی پسند نہ پسند ہو تی ہے اسی طر ح مجھے بھی پھو لو ں‘ اور رنگو ں سے کو ئی خا ص دلچسپی نہیں ہے۔آپ مجھ سے میر ی پسند نہ
پسند کا با ر با ر مت پو چھا کر یں۔ اس با ر سَحر کہ لہجے میں نا را ضی اور غصہ تھا۔اپنے دو پٹے کو ٹھیک کر تے کر تے اُس نے اپنی با ت مکمل
کر دی۔
ارے نہیں میں تو بس یو نہی پو چھ رہا تھا ‘ دو نو ں ہا تھ سٹیر نگ سے اُٹھا کر انجا نے سے اندا ز میں اشا رہ دیا۔ ‘‘
کافی دیر تک وہ اسے تر چھی نظر وں سے دیکھتا رہا۔شا ئید وہ بھی یہ بات محسو س کر ر ہی تھی لیکن انجا ن بنے چپ سا دھے بیٹھی تھی۔
میں آپ سے ۔ میں۔ کچھ کہنا چا ہتا ہوں۔
جی کہئے‘‘میں سن رہی ہوں اس کی جانب چہرے کا رخ کر تے ہوئے سَحر نے جو اب دیا۔
مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں آپ سے شا دی کر نا چا ہتا ہوں۔نہ جا نے اس نے اتنی ہمت کہا ں سے اکٹھی کی تھی۔ بے دھڑک
سے انداز میں کہہ ڈالا۔اس با ت کی پر اوہ کئے بغیر کہ اسے بر ا بھی لگ سکتا ہے۔کر تا بھی کیا وہ دل کہ ہا تھوں مجبو ر ہو کر سب با تیں
بو ل رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے سَحر چو نک گئی جیسے اس کی آنکھو ں میں خو ن اتر آیا ہوں۔ نمکین پا نی قطرہ قطرہ بن کر اُس کی آنکھو ں سے رسنے لگا ۔
اس کا جی چا ہ رہا ہو آفتا ب کو یہا ں ہی زندہ دفن کر دے۔اُس کا چہر ہ نو چ ڈا لے ‘ جذبا ت اور احسا سات کی پر واہ کئے بغیر وہ بو لی۔
آپ نے سو چ بھی کیسے لیا ؟ جا نتے بھی ہیں کچھ میر ے با رے میں ؟ آنسو ئو سے اسکا چہرہ گیلا ہو گیا سسکیوں سے آواز میں
لڑکھڑاہٹ آنے لگی ۔دو نوں ہا تھو ں سے بچو ں کی طر ح سَحر نے اپنا چہرہ صا ف کیا۔آپ میر ے با رے میں کچھ نہیں جا نتے
کچھ بھی نہیں جا نتے۔یہ حق کس نے دیا آپ کو ؟ شا دی کا مطلب بھی جا نتے ہیں آپ؟ وہ اب کچھ لمحے کہ لیے خا مو ش ہو ئی تھی۔

Read More:  Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 11

حق مجھے میر ے اللہ نے دیا ۔اور شا دی ایک بہت ہی پا کیزہ تعلق ہے میں نے اپنی پسند کا اظہا ر کیا ہے آپ کو گھر سے بھا گا کر
تو نہیں لے جا رہا۔اس میںحر ج ہی کیا ہے۔سَحر میں آپ کی دل سے عز ت کر تا ہوں میر ے دل میں آپ کہ لیے جو جذبا ت
ہیں اُن میں ایک فیصد بھی دکھا وا نہیں ۔پلیز آپ مجھے غلط مت سمجھئے گا۔اس کی آواز اور لہجے میں بے چا رگی جھلک رہی تھی۔

مجھے آپ کہ جذبا ت سے کو ئی لینا دینا نہیں میں تو صر ف ایک اچھا ہمسا یہ سمجھ کر عزت دی اور دوستی کا ہا تھ تھام لیا۔لیکن اس کا
ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ میر ے با رے میں اس طر ح سو چنا شر وع کر دیں۔تلخ لہجے میں اس نے اپنی بات مکمل کی۔ لیکن کون جا نتا
تھا ۔سَحر کہ دل پر کیا بیت رہی تھی ما ضی نے اُسے ایک با ر پھر اپنے گھیر ے میں لے لیا تھا۔ شر جیل کی محبت اور یا د آنسو بن کر گر نے لگی۔
اس کہ اندر کیا کچھ ٹوٹ کر بکھر رہا تھاوہ کسی کو بتا نہیں سکتی تھی۔اس کا دل فگار اور سو چیں منتشر ہو رہی تھیں۔زندگی کس کس رنگ میں مجھے
آزما رہی ہے۔میں نہیں جا نتی آپ نے یہ سب کچھ کیو ں کہا ۔ لیکن آپ کو کوئی حق نہیں میر ی بے بسی اور مجبو ری کا مذاق اڑانے کا
۔ایڈوکیٹ آفتاب آپ مسز کیپٹن شرجیل سے با ت کر رہے ہیں۔یہ بات کر نے سے پہلے آپ کو ہزار بار سو چنا چا ہئے تھا۔سَحر کا فی
غصیلے انداز میںمخاطب ہوئی۔اس کی آواز میں بلا کی تلخی تھی۔

لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں اس با ت کو ایک عر صہ گزر چکا ہے ۔یہ کو ئی گنا ہ تو نہیں اگر قسمت نے آپ کہ ساتھ بر ا کیا تو
آپ جینا چھوڑ دیں گی ؟ اپنے اردگرد دیکھو کتنی خو بصو رت دنیا ہے۔میری طر ف دیکھو میں آپکا منتظر ہوں۔
گاڑی تیز رفتا ری سے چل رہی تھی۔ آفتاب اپنی بے بسی پر اند ر ہی اندر رو رہاتھا۔انجا نہ سا ایک خو ف اُس کی ہمت تو ڑنے لگا۔

وہ آج بھی میر ے پا س ہے‘ میر ے اردگر د ہے مجھے ہر لمحہ اس کا وجود محسو س ہو تا ہے‘ آپ کہ الفا ظ اور سو چ پر مجھے اافسو س ہو رہاہے۔
میں نے آپ کو بہت ہی عزت دی ایک شر یف اور اچھا انسان سمجھا لیکن آپ نے میر ی خود اری اور انا کو ٹھیس پہنچائی ۔میرا گھر آگیا ہے
بر ائے مہر با نی گا ڑی رو ک دیں۔کافی تلخ اند از میں وہ کہہ رہی تھی۔ مجھے پہلی دفعہ آپ سے مل کر بے حد خو شی ہوئی تھی اور اچھا بھی لگا لیکن آج مجھے نہا یت بر الگ رہا ہے۔اس با ر وہ کا فی مطمئن انداز میں بو لی تھی۔میر ی کسی با ت کا اگر بر ا لگا ہو تو میں معذرت خو اہ ہوں۔
بسا اوقات انسان اپنی تکلفیں اور الجھنیں کسی سے با نٹ نہیں سکتا ‘ خا مو ش رہ رہ کر لہجے تلخ ہو نے لگتے ہیں لفظ کا نٹوں کی طر ح چبتے ہیں۔خنجر اور تلوار کہ بنا بھی احسا سات قتل ہو جا یا کر تے ہیں۔میں اب چلتی ہوں۔

اس رات آفتا ب کتنی ہی دیر جا گتا رہا جس طر ف کر وٹ بدلتا سَحر کا چہرہ دیکھا ئی دیتا۔آنکھیں بند کر تا تو سَحر کا احسا س ہو تا۔اس
کو اپنی بے بسی پر آج سخت غصہ آرہا تھا۔ایسی بھی کیا کمز وری۔ لڑکی نہ ہو ئی قیا مت ہو گئی۔ وہ مجھے اپنے قا بل نہیں سمجھتی ایک نظر میر ی
طر ف نہیں دیکھتی ۔ اُس کا خیا ل ہٹا نے کہ لیے آفتا ب نے اپنا ایک کیس سٹڈ ی کر نا شر وع کر دیا۔کا فی دیر گز رنے کہ بعد ایک
بھی لفظ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔مضطر ب ہو کر کمر ے میں سے با ہر نکل گیا ۔ ٹیر س پر ٹہلنے لگا۔بے قرا ری اُسے کہیں بھی سکو ن
نہیں لینے دے رہی تھی۔وہ کمر ے میں واپس آگیا ۔ خو د کو آ ئینے میں دیکھنے لگا ۔آج پہلی با ر آفتا ب نے خو د کو بہت کمز ور محسو س کیا۔
وہ اپنے کمر ے میں لگی گلا س ونڈو سے بے بس ہو کر ُاس کہ گھر کی جا نب کا فی دیر دیکھتا رہا۔
جب کسی مر د کو کو ئی عو رت اچھی لگنے لگتی ہے ‘ تو وہ اس کی کھو ج میں لگ جا تا پھر جب اُسے حا صل کر نے کی ٹھا ن لیتا ہے تو اس کو
محبت کا نا م دے دیتا ہے۔اس بے نا می کہ خو ابو ںکو دن را ت زندہ کر نے کی کو شش میں لگا رہتا ہے ۔لیکن میر ی محبت تو سب لو گو ں
سے مختلف ہے آج پہلی با ر وہ جا ئے نما ز پر بیٹھا گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا ما نگ رہا تھا۔ رونے سے آفتا ب کی آنکھیں سُر خ ہو چکی تھیں۔
میں اُسے اپنی محبت کا کیسے یقین دلا ئوں۔ وہ اپنے رب سے مخاطب تھا۔

Read More:  Qabristan Novel By Nazia Shazia – Episode 1

سَحر کو وقت کی تیز رفتا ری نے بھی نہیں بدلا تھا۔ وہ آج بھی صر ف شر جیل کہ نا م پر ہی بیٹھی تھی اُسے کسی میں کو ئی دلچسپی نہیں تھی۔
اُس کا وجو د آج بھی شرجیل کی ہی ا ما نت تھا۔ وہ اس کفا نئے ہو ئے شخص کو بھلا نہیں پا ئی تھی۔ہز اروں رشتے آنے کہ با وجو د
ہربا ر وہ صا ف انکا ر کر دیا کر تی۔ لمحہ لمحہ اُس کو شر جیل کی یا د ستا تی‘ گھنٹو ں اکیلی اس کی تصویر سے با تیں کر کہ گز ار دیا کر تی۔
اسے یہ با ت ہر گز قا بلِ قبو ل نہ تھی کہ کو ئی اور اس کا ہا تھ تھا مے ‘ قریب آئے‘ وہ اپنا آپ اب کسی سے نہیں با نٹ سکتی تھی۔ لیکن
آفتا ب نے سالوں بعد اس کو دوبا رہ سے بد لنا چا ہا۔ سَحر بھی اسی کشمکش میں سو نہیں پا رہی تھی۔آج اس کو کئی با ر آفتا ب پر غصہ
بھی آیا ۔کافی تلخ جو اب دینے کہ با وجود وہ شدید پر یشا نی کہ عا لم میں تھی۔میرا وجود ہر آنے والے دن کہ ساتھ دو سروں کہ
لیے وبا لِ جان بنتا جا رہا ہے۔شر جیل کہ مر نے بعد وہ ہر لمحہ ہی چپ چا پ رہا کر تی تھی لیکن آج رات وہ بہت خا مو ش تھی۔
اتنی خا مو ش اور پر یشا ن وہ زند گی میں پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ایسی خا مو شی جس میں کر ب ہی کر ب تھا۔رات کی تا ریکی میں اس
کو کہیں بھی سکو ن محسو س نہیں ہو رہاتھا۔چا روں طر ف خا مو شی کہ با وجود اسے فضا میں شور اور دکھ کی لہر محسو س ہو رہی تھی۔
نہ جا نے انسا ن کی زند گی میں کئی موڑ ایسے آتے ہیںجہا ںصرف دکھ ہی دکھ ہو تے ہیں نہ کو آسرا نہ سہارا‘سحر اس مقام پہ آ کھڑی
ہو ئی تھی جہا ں اس کی سو چ ‘دما غ‘دل‘کچھ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔یہ سب کیا ہو رہا ہے۔یہ کیسا امتحا ن شر وع ہو گیاہے؟انسا ن
جن با توں کہ بارے میں سو چنا نہیں چا ہتا ویسا ہی کیو ں ہو تا ہے۔آفتا ب کی ہر بات خوف کی طر ح اس کو اپنے سامنے نظر آرہی تھی۔
انسان کا ما ضی با ر بار اس کہ سا منے آکر کھڑا ہو جا تا ہے ما ضی کی تلخیو ں سے نہ کو ئی گھا گ سکا اور نہ ہی کو بھا گ سکتا ہے۔
وقت کہ ساتھ نظریا ت تو بد ل جا تے ہیںمگر حقیقت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔آج ایک اجنبی شخص سحر کہ سامنے یو ں محبت کا سو ال کر رہا تھا۔
اُسے رہ رہ کر اپنے ما ضی پر رو نا آرہا تھا۔ سسکیا ں بھر تی اور با ر بار شر جیل کو پکا رتی۔کیا یہ لڑکا بھی جما ل کی طر ح لالچ میں آگیا ہے۔
یہ بھی میر ی قیمت لگا نے والا ہے۔انسان کتنے ہی رنگ بد ل لے خو د کو زما نے کی تلخیوں سے نہیں بچا سکتا۔قسمت میں لکھا دکھ ہمیشہ
دکھ ہی رہتا کبھی سکھ میں نہیں بدلا جا تا۔اس نے شر جیل کہ ساتھ جو خو اب دیکھے ان میں سے ایک بھی مکمل نہیں ہو اتھا۔
٭٭٭

آفتا ب میاں اچھی وکا لت شر وع کی دوستو ں یا روں کو ملنے سے بھی گئے۔ آج کا فی دن بعد مجھے ہی جنا ب کی یا د یہا ں
تک لے آئی ۔ خو د تو نو اب صا حب نے زحمت تک نہیں کی کو ئی کیسا ہے۔ کد ھر ہے۔کیا با ت ہے میا ں بہت چپ چا پ سے
لگ رہے ہو۔کو ئی پریشا نی ہے؟ حا مد نے چٹکی بجا کر اس کو ہو ش میں لا نے کہ انداز میں پو چھا۔

پر یشا نی تو کوئی نہیں بس کیاکر وں دفتر ی کا موں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔کچھ دن سے تو با لکل بھی ٹا ئم نہیں لگ رہا کسی سے بھی
با ت کر نے کا۔سر جھکائے اپنے کام میں مصر وف آفتا ب نے جو اب دیا۔
ارے صا حب ہم تو دو ست کو سالگرہ کی مبا رک باد دینے گھر بھی گئے تھے لیکن آنٹی نے بتا یا تم دو ستوں کہ ساتھ کہیں با ہر گئے
ہو ئے ہو۔اب ہما رے علا وہ کو نسا خا ص دو ست مل گیا؟ بتا ئو تو ذرا ؟ شر یر اند از میں حا مد نے پو چھا۔
با لوں میں کھجا تے کھجاتے وہ ایک دم گھبرا گیا۔ میں کب سا لگرہ منا نے گیا تھا۔ ایسے ہی امی کو کو ئی غلط فہمی ہو ئی ہو گی۔دفتر کہ
ایک پر ائیوٹ کلا ئنٹ کہ ساتھ چھو ٹی سی میٹنگ تھی بس وہا ں ہی ٹا ئم لگ گیا۔سالگرہ اب کدھر یا ر وہ تو یو نیورسٹی کہ زما نے میں
ہی شو ق تھے۔ اب تو زند گی نے کر وٹ بد ل لی ہے۔
چلئے ما ن لیتے ہیں۔ شریر سی مسکر ہٹ اس کہ لبو ں پر ابھی بھی تھی۔مجھے تو اب کھا نے کا پو چھ لو ۔یا غیر وں کی طر ح چائے پر ہی
واپس بھیجو گے؟قسم سے پیٹ میں چو ہوں نے بھو ک سے کُشتی کر نی شر وع کر دی ہے۔حامد نے معصو م سے اندا ز میں
آفتا ب کی طر ف دیکھ کر کہا۔
اگلے ہی لمحے آفتا ب نے میز پر پڑی فا ئلیں بند کر دیں اور گا ڑی کی چا بی ڈھونڈنے لگا۔یہ آفس بو ائے بھی نہ میر ی چیز یں یہا ں سے
وہا ں رکھ دیتا ہے ۔ کتنی با ر میں نے اس کو سمجھا یا ہے لیکن مجا ل ہے کہ میر ی بات کو سمجھ لے۔ہر با ت کو سو ‘ سو ‘ ۔ بار سمجھا نا پڑتا ہے۔
کسی کام میں اس لڑکے کا دھیان نہیں ہو تا۔بو کھلا ئے ہو ئے انداز میں ٹیبل پر پڑی ہر چیز آفتا ب نے بے تر تیب کر دی۔

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 36

آفتا ب کیا ہو گیا ہے یہ تو پڑ ی ہیں چا بیاں ۔ حامد نے سامنے پڑی چا بیاں اُس کی طر ف کھسکا ئی ۔تمہیں ہو کیا گیاہے؟۔
کیو ں اتنا بوکھلا ئے ہوئے ہو؟ کو ئی پریشا نی ہے تو مجھے بتا ئو میں نے آج سے پہلے تمہیں کبھی اتنا پر یشان نہیں دیکھا۔
کو ئی گھر یلو پر یشا نی ہے؟ نا صر بھا ئی کہ ساتھ کو ئی جھگڑا ہوا ہے؟ یا پھر تمہا ری بھا بھی نے کوئی مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔
حا مد اُس کا کا فی پرا نا دوست تھا۔ اس لیے ایک دوسرے کہ گھر یلو مسئلے مسائل سے دونوں اچھی طر ح وا قف تھے۔
اسی وجہ سے حامد اتنی بے تکلفی سے آفتا ب سے مخا طب تھا۔

وہ مسلسل حامد کی با تو ں کو نظر انداز کر ر ہا تھا۔چلو کھا نا کھانے چلتے ہیں مجھے بھی بہت بھو ک لگی ہے۔آفتا ب نے اداس سے لہجے میں کہا۔
حامد اس کی بے چینی کو محسو س کر ہا تھا لیکن وجہ سمجھ نہیں پا یا اور خا مو شی سے کھا نے کہ لیے آفتا ب کہ سا تھ چلا گیا۔
کھانے کہ دو ران بھی حامد نے آفتا ب سے اُسی کی خا مو شی کی وجہ جا ننے کی کو شش کی۔ لیکن نا کام رہا۔مسئلہ کیا ہے؟
تم اس طر ح سے کیو ں اُلجھے ہوئے ہو۔مجھے بتا دو ہو سکتا ہے میں تمہا ری کچھ مدد کر سکو ں۔اکثر اوقات کچھ مسئلوں کہ
حل دو سروں کہ پا س ہی ہوا کر تے ہیں۔ نا کام عا شق کی طر ح منہ بنا کر مت بیٹھو۔حامد نے چڑ کر بو لا۔

ایسی کو ئی با ت نہیں ہے۔تمہیں کو ئی غلط فہمی ہوئی ہے میں تو با لکل ٹھیک ہوں۔ اور کیا ہوا ہے میر ے منہ کو ۔سا منے پڑے گلاس
میں پا نی ڈالا اور دائیں ہا تھ میں پکڑلیا۔ کتنی ہی دیر وہ گلا س میں ڈا لے پا نی میں کچھ تلا ش کر تا رہا۔
اُس کا چہرہ پا نی کہ گلا س میں نظر نہیں آئے گا۔کو ن ہے؟ کہا ں رہتی ہے؟ بہت خوبصورت ہے کیا؟ اتنے سارے سوال
حامد نے یکلخت کر ڈالے تھے۔
آفتا ب کی خاموشی بر قرا ر رہی۔
ارے بتا ئو بھی چا ولوں کی ڈش آفتا ب کو دیتے ہوئے حامد بو لا۔
ہاں بہت پیا ری ہے۔اُس جیسا دو سرا شا ئید کو ئی دنیا میں نہیں ہوگا۔ بنا نے والے نے بلا کا خو بصورت بنا یا ہے۔ مجھے خو د پتہ
نہیں چلامیں کب اُس کو چا ہنے لگا ‘پسند کرنے لگا‘ کیسے میرا دل میر ے قابو میں نہیں رہا لاکھ کو شش کہ با وجود اس کا چہرہ میری
نظر وں کہ سامنے سے ہٹتا ہی نہیں۔ میں خود کو اُس کہ خیا ل سے جتنا نکا لنے کی کو شش کر تا ہوں وہ اتنا ہی میر ے قر یب آتی جا رہی
ہے۔ میں بہت بے بس ہوں۔پیا ر‘ محبت ‘پسند‘ ہمدردی‘ یہ تما م لفظ میر ے جذبا ت کہ لیے چھو ٹے لگتے ہیں۔ میر ی کفیت کسی
گمنا م عا شق سی ہے۔ میں عشق کی لاعلا ج بیما ری میں مبتلا ہو چکا ہوں۔مجھے اپنا اول و آخر صرف وہ ہی لڑکی نظر آتی ہے۔نہ
جا نے اُس میں کیسی کشش ‘طلسم ‘سا ہے ۔میں دو ڑا ہوا اس کی طر ف جا تا ہوں۔ وہ بے بسی سے اپنے عشق کی دا ستان حامدسے
بیا ن کر تا گیا۔

ہوں۔حا مد نے سنجید گی سے کہا۔

کچھ لمحے کہ تو قف کہ بعد آفتاب پھر بولا۔یہ وہ ہی لڑکی ہے جس سے میں نے تمہا رے آفس کی پینٹگ بنوائی تھیں۔
مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ میں اس کہ اتنا پاس چلا جا ئوں گا ۔ وہ میر ی رو ح میں سما نے لگے گی۔ میں خود کو قا بو میں نہیں
رکھ پا رہا۔امی بھی میر ی وجہ سے بے حد پریشا ن ہیں۔ لیکن میں کیا کر وں ۔بے چا رگی سے آفتا ب نے اپنا چہرہ جھکا
کر بو لا۔

مسئلے کی نو عیت بتا ئو۔حامد نے گہر ی سا نس لیتے ہوئے کہا۔
بس یا ر مسئلے ہی مسئلے ہیں۔ اُس دن بر تھڈے پر میں سَحر کہ ساتھ ہی گیا تھا۔ لیکن امی کو اس با ت کا علم نہیں تھا۔ میں نے اُسی
دن اس کو پر پوز کیا۔ لیکن وہ انگا روں کی طر ح بڑھک گئی۔ایک ہی لمحے میں میر ی محبت کو کچل کر رکھ دیا۔میرے ارما نوں
کو قتل کر نے میں ایک سیکنڈ نہیں لگا یا ۔مجھے اس سے ہر گز ایسے جو اب کی تو قع نہ تھی۔ بہت ما ن سے میں نے سا ری بات
کا ذکر اس سے کیا لیکن وہ مجھے سمجھے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنا کر چلی گئی۔آفتا ب نے پا نچ سال پہلے ہوئے حا دثے کہ با رے
میں کا فی تفصیل سے حامد کو بتا یا۔
اچھا میاں پر یشا ن مت ہو۔ میں آنٹی سے با ت کر وں اگر تم کہو؟ حامد نے اجا زت ما نگتے ہوئے بو لا۔
آفتا ب نے نفی میں سر ہلا دیا۔
لیکن ایک بات تو ہے ۔ اتنی آسا نی سے حل ہو نے والا معاملہ نہیں ہے۔ اُس لڑکی کو کچھ ٹا ئم دو۔ ماضی کہ زخم بھر نے میں
وقت لگے گا۔تمہا ری محبت‘جذبات‘ ایک دن وہ ضر ور سمجھ جا ئے گی۔ بس ہمت سے کا م لو۔گھڑی پر ایک نظر دوڑائی تو
شا م کہ سات بجنے کو تھے۔ارے بھئی دن کب گز رگیا پتہ ہی نہیں چلا۔ ایک ضر وری کام ہے۔مجھے اجا زت دو۔
اور با لکل بھی پر یشا ن مت ہو۔مجھے بتا تے رہنا جو بھی حل نظر آئے۔فون پر را بطہ کر یں گی۔ حامد نے آفتا ب کو
زور سے اُٹھا یا اور گلے لگا یا۔ارے یا ر چل بس چھو ڑ بھی دل پر مت لو۔

پو را دن گز ارنے کہ با وجو د اس کہ ذہن میںسَحر کی با تیں گھو م رہی تھیں اسے ہر گز اتنے تلخ جو اب کی تو قع نہ تھی۔لیکن محبت اور پسند
کہ ہا تھوں وہ بے حد مجبو ر تھا۔ با لوں کو دو نوں مٹھیوئوں میں جکڑے پر یشا نی اور اضطرا ب کی حا لت میں بے سو د اپنے کمر ے میں پڑ ا تھا۔
گھر اور با ہر کسی چیز کی کو ئی خبر نہ تھی۔بس فکر تھی تو سَحر کو کھو نے کی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: