Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 8

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 8

ہا ئے اللہ اتنا تیز بخا ر ۔ سلطا نہ نے ما تھے پر ہا تھ لگا کر دیکھا ۔اچا نک سے کیسے بیما ر ہو گئے میر ا بچہ ۔ دن را ت بس دفتر اپنے
اوپر بھی کو ئی تو جہ دیا کر و۔
حمید بلند آوا ز میں سلطا نہ نے پکا را۔
اگلے ہی لمحے حمید جھپا ٹ سے آگیا۔ جی بڑ ی بی بی۔
ایک پیا لے میں ٹھنڈا پا نی لا ئو اور صا ف کپڑا بھی ۔جا ئو ذرا جلدی ۔ اور ڈرا ئیو ر کو بو لو گا ڑی نکا لے صا حب کو تیز بخا ر ہے ڈا کٹر کہ
پا س لے کر جا نا ہے۔
جی بی بی بس ابھی گیا اور آیا۔
ہا ں ۔ ہاں جلدی سلطا نہ نے ہا تھ کہ اشا رے کہ سا تھ جو اب دیا۔
اتنا تیز بخا ر اور تم دفتر چلے گئے مجھے بتا یا تو ہو تا ۔ مجا ل ہے جو اپنا خیا ل رکھو ۔کھا تے پیتے تو ہو ہی نہیں۔گھر میںتو آدھی رات کو
داخل ہو تے ہو۔ اور سویر ے سویر ے نکل جا تے ہو ۔نہ جا نے کس کی نظر لگ گئی میر ے بچے کو۔
اتنی رات کو کہا ں لے کر جا ئیں گے۔ڈرا ئیور ایسا کر و ڈاکٹر ندیم کو بلا لو ۔ان سے بو لنا بی بی جی گا ڑی میں بیٹھی ہیں۔سلطا نہ گھبر ائے
ہو ئے لہجے میں ڈرا ئیو ر سے مخا طب تھی۔
جی بی بی میںبس ابھی جا تا ہوں۔ڈرا ئیور نے نہا یت مو ہد با نہ اندا ز میں جو اب دیا۔
را ت کہ با رہ سا ڈھے با رہ کا وقت تھا۔ یہ کو ن آگیا ہے؟ ہا جر ہ نے کمر ے کی لا ئٹ آن کی دا ئیں جانب لیٹے ڈاکٹر ند یم کو ہلا یا۔
اُٹھیں نہ با ہر گیٹ پر کو ئی ہے۔ کب سے بل ہو رہی ہے۔ چو کیدار لگتا گہر ی نیند سو رہا ہے۔آپ ہی دیکھ لیں۔
بمشکل ڈاکٹر ند یم نے اپنی آنکھیں کھو لیں۔ سا ئیڈ ٹیبل سے اپنا چشمہ اُٹھا کر پہنا۔ اِس وقت کو ن آگیا۔
اگلے ہی لمحے چو کیدار نے دروازے پر دستک دی۔صاحب جی باہر سلطا نہ با جی آئی ہیں سا منے والے گھر سے۔
اللہ خیر کر ے۔ ہا جرہ نے گھبر ائے ہوئے لہجے میں بو لا۔جلدی اُٹھیں۔پتہ نہیں کیا مسئلہ ہو گیا۔ اتنی را ت کو وہ ہما ری طر ف آئی ہیں۔
اکثر اوقات ان کا بیٹا بھی لیٹ ہی آتا ہے، اللہ سب خیر ہی کر ے۔جلدی چلئے آپ ایک با ر پھر ہا جرہ پر یشا نی کہ عالم میں بو لی۔

اس کو تو بہت تیز بخا ر ہے۔چو کیدا ر صا حب کو اند ر لے کر آئو۔آیئے سلطا نہ بہن آپ بھی اند ر چلیں ۔ پر یشا نی کی کو ئی بات نہیں
میں ابھی دوا ئی دیتا ہوں۔ بہتر محسو س کر ے گا۔ڈاکٹر ند یم نے تسلی دیتے ہو ئے سلطا نہ سے کہا۔
سر دی کی وجہ سے بخا ر ہو گیا ہے۔ڈاکٹر ندیم نے بخا ر چیک کر تے ہوئے بو لا۔
گھر میں ہل چل سنی تو سَحر بھی اپنے کمر ے سے با ہر آگئی۔چو کیدار اُسے سڑھیوں کہ پا س ہی مل گیا۔بی بی جی آپ کیوں جا گ
گئی۔ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
مسئلہ کا فی حیرا نی سے سَحر نے چو کیدار سے پو چھا۔
سا منے والے وکیل صا حب ہیں اُن کی طبیعت بہت خرا ب تھی۔ تیز بخا ر تھا۔اس وقت ان کی والدہ اکیلی کہا ں لے کر جا تیں۔
اس لئے ڈا کٹر صاحب کہ پا س لے آئیں۔
بیما ر۔ بخا ر۔وہ دل میں ہی سو چ رہی تھی۔
با جی ابھی تو وہ ٹھیک ہیں۔ گیسٹ رو م میں ہی بیٹھے ہیں سب لو گ۔چوکیدار اپنی با ت مکمل کر کہ چلا گیا۔

سَحر نا دم نظر وں سے کمر ے میں دا خل ہوئی۔ہا جرہ نے لا ڈ سے اپنے پا س بیٹھا لیا۔ میر ا بچہ ۔ کیوں جا گ گئی؟
نہیں بس مجھے نیند نہیںآرہی تھی۔ شور سنا تو نیچے آگئی۔چو کیدا ر نے بتا یا ۔آفتا ب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔اب آپ کیسے ہیں؟
آفتا ب سے نظریں ملا ئیے بنا ہی اُس نے پو چھا۔

جی بہتر ہوں۔ لیٹے ہوئے آفتا ب نے جو اب دیا۔
دو نو ں ایک دو سرے سے نظر یں نہیں ملا پا رہے تھے۔ دل ہی دل میں سَحر خو د کی آفتا ب کی بیما ری کا قصور وار ٹھہرا رہی تھی۔یہ سب
میر ی وجہ سے ہوا ہے۔ مجھے اس قدر بد تمیز ی سے بات نہیں کر نی چا ہئے تھی نہ جا نے میر ے تلخ الفا ظ نے کس قدر تکلیف دی۔
میںا پنی پر یشا نی میں کچھ زیا دہ ہی بو ل کر آگئی۔سَحر کی نظریں شر مند گی سے جھکی ہوئی تھیں۔
٭٭٭
اب تمہیں شا دی کر لینی چا ہئے کب تک یو ں اکیلے زند گی گز رے گی۔میںآج ہوں کل کلا ں کو مر گئی تو اکیلے پڑے رہنا ۔بس میں
کہہ رہی ہو ں تمہا رے لیے لڑکی ڈوھنڈو نی شر وع کر دی ہے اور کا فی اچھے گھر وں سے رشتے بھی آئے ہیں مجھے تو جو منا سب لگا میں
ہا ں کر دوں گی۔ تم تو اپنے منہ سے کچھ بتا ئو گے نہیں۔ اب تو آس پڑوس والے بھی پو چھتے ہیں بیٹے کی شا دی کر دیں آپ کا اکیلا پن بھی
دور ہو جا ئے گا۔ لیکن کیا بتا ئوں بیٹا ہے کہ ما نتا ہی نہیں۔
چپ سا دھے آفتا ب بریڈ پر مکھن لگا رہا تھا۔
میر ی با ت کا جو اب دو آفتا ب۔ یو ں چپ مت بیٹھا کر و غصہ ہو کر سلطا نہ اس سے مخا طب تھی۔
نہیں امی ایسی کو ئی با ت نہیں ہے آپ بلا وجہ ہی پر یشا ن ہو رہی ہیں۔
بھئی صا ف با ت کر و ۔ اگر کسی کو پسند بھی کر تے ہو تو مجھے بتا دو میں رشتہ لے کر چلی جا تی ہوں۔
پسند ۔آہستگی سے وہ بڑبڑایا ۔آپ واقع ہی میرا شتہ لے کر جا ئیں گی؟ کافی حیر انی سے وہ اپنی ما ں سے پو چھ رہا تھا۔
ہا ں اس میں کیا حر ج ؟ تم جہا ں خو ش میں بھی خو ش مجھے بس تمہا ری خو شی چا ہئے۔
تو آپ ڈاکٹر ند یم کہ گھر میرا رشتہ لے کر جا ئیں مجھے ان کی بھتجی پسند ہے۔چا ئے کا کپ ہا تھ میں لیے بو لا۔
سلطا نہ بیگم ایک دم چو نک گئی۔
تم پا گل تو نہیں ہوگئے ہو ان کہ ہا ں شا دی ۔ جا نتے بھی ہو وہ لڑکی کو ن ہے ؟ اور اس کہ سا تھ کیا ہو چکا ہے ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں
ہو سکتا ہے۔ تم اپنا مشورہ اپنے پا س رکھو۔ اور تمہا رے میں کیا کمی ہے جو اس لڑکی سے شا دی کر و گے۔دما غ خراب ہو چکا ہے تمہا را
ما تھے پہ ہا تھ رکھے سلطا نہ پریشا نی کہ اندا ز میں بو لی تھی۔
امی اس میں کیا کمی ہے؟ اور کیا برائی ہے ؟ اس کہ لہجے میںبے بسی تھی۔
با ت کمی اور برا ئی کی نہیں بس جو بات منا سب نہیں وہ نہ ہی کی جا ئے۔
ٹھیک ہے پھر میرا بھی آخر ی فیصلہ ہے اگر شا دی کر وں گا تو سَحر سے و رنہ نہیں۔ ڈا ئینگ ٹیبل کی کر سی کو زور سے ہٹا کر وہ چلا گیا۔
سلطا نہ کتنی ہی دیر وہا ں بت بنی سو چتی رہی طر ح طر ح کہ خیا ل اس کہ ذہن میںا ٓرہے تھے۔ بیو ہ لڑکی سے شا دی کر ے گا۔
اس کو سَحر کی حقیقت معلوم نہیں ہے اس لیے اتنے پر پر زے نکال رہا ہے ۔ آنے دو واپس میں سیدھے طر یقے سے سمجھا ئوں گی۔
حمید چا ئے گر م کر کہ لائو ۔بر ف کی طر ح ٹھنڈی ہو گئی ہے۔
جی بی بی ابھی لا یا۔
ایسا کر و میر ے کمر ے میں ہی لے آنا۔میں اپنے کمر ے میں جا رہی ہوں اور تم کچن کا کام نپٹا کر لان کی صفا ئی بھی کر و ا لینا۔
کبھی خو د بھی کو ئی کا م کر لیا کر و ۔ہر کا م کہ لیے میر ی راہ تکتے ہو۔ سلطا نہ نے کھڑے کھڑے حمید کو ا چھا خا صہ لیکچر دیا۔

’’جی بی بی میں سب کام دیکھ لو ں گا۔نہ جا نے کس کا غصہ مجھ پر نکا ل رہی ہیں حمید کچن کی طرف مڑا ۔‘‘

آسما ن پر گہر ے با دل چھا ئے تھے تیز ہوا سے سر دی کی شد ت میں اور اضا فہ ہو رہا تھا۔آفتا ب بھی گھر جلدی واپس آگیا۔
وہ آج اپنی ما ں سے نظر یں نہیں ملا پا رہا تھا۔اپنی صبح والی با ت کی وجہ سے وہ کا فی شر مند ہ تھا اس لیے کسی سے بات کیئے بغیر اپنے
کمر ے میں چلا گیا۔

سلطا نہ بھی شدت سے اس کہ گھر آنے کا انتظا ر کر رہی تھی لیکن اس کی بے بسی اور پر یشا نی دیکھ کر ما ں کا دل بھی مو م ہو گیا ۔
آہستگی سے کمرے کا دروا زاہ کھلا ۔ آفتا ب بیڈ پر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا ۔ کمر ے میں چا رو ں طر ف اندھیر ا تھا۔
ایک دم کمرے میں رو شنی کی وجہ سے اس نے آنکھیں کھو لیں۔چپ چا پ اپنی جگہ سے اُٹھ کر بیٹھ گیا۔میں جا نتی ہوں تم مجھ
سے نا را ض ہو۔

نا را ض با لکل بھی نہیں ۔نفی میں سر ہلا کر اس نے جو اب دیا۔

دیکھو آفتا ب میں نے بہت مشکلوں سے تم لو گو ں کو پا لا ہے ۔ اور آج اس مقا م تک لا ئی ہوں۔تم نے مجھ سے آج ایسی خوا ہش کر
ڈالی جو میں چا ہتے ہوئے بھی پو ری نہیں کر سکتی ہوں۔ خا ندا ن ۔جان پہچا ن وا لے لو گ بہت با تیں کریں گے۔ اور تمہا ری
بھا بھی تو ہما را جینا حرا م کر دے گی۔
آفتا ب چپ چا پ اپنی ما ںکی با تیں سن رہا تھا۔نہ ہا ں نہ ہوں۔نظریں جھکا ئے اپنی بے بسی پر شر مندہ بیٹھا تھا۔
چند لمحے کہ تو قف کہ بعد وہ دوبا رہ بو لی۔میں تمہا رے کہنے پر رشتہ لے بھی جا ئوں ۔ ہو سکتا ہے وہ لوگ انکا ر کر دیں۔بتا ئو
پھر کیا عزت رہ جا ئے گی ہما ری؟
امی ۔اس نے دکھی لہجے میں پکا را۔
ایک دفعہ کو شش کرنے میں کو ئی حر ج تو نہیں ہے۔ کیا آپ کو سَحر پسند نہیں ہے؟ آپ تو اُس سے مل چکی ہیں کو ئی خرا بی نظر آئی
بیٹا برا ئی کی با ت نہیں ہے وہ دبے سے لہجے میں بولی۔
تو پھر کیوں آپ کو اعترا ض ہے؟آفتا ب بو لا۔
بس تم نہیں جا نتے ہو۔الجھے ہو ئے اندا ز میں سلطا نہ نے جوا ب دیا۔
میں سب جا نتا ہوں۔ امی میں سب کچھ جا نتا ہوں۔یہ ہی نہ کہ اس کہ سا تھ قسمت نے کھیل کھیلا ہے قدر ت نے اس کہ دکھو ں
میں مز ید اضا فہ کر دیا ہے۔ نکا ح‘ شا دی‘ منگنی‘ ان سب با توں میں اُس کا کیا قصور ہے؟ کیا وہ خود یہ سب کچھ کر نا چا ہتی تھی۔
کون شخص با ر با ر رسوا ہو نا چا ہے گا۔کیا کو ئی با پ اپنی زند ہ بیٹی کو لا ش کی طر ح دیکھ کر خوش ہو تا ہو گا؟ کیا مسز ندیم اُس کو اس
حا لت میں دیکھ کر پر سکون رہتی ہوں گی؟آفتا ب تو جیسے بھڑ ک ہی اُٹھا تھا۔ایک ہی سانس میں اتنی ساری با تیں اپنی ما ں کو کہہ ڈالیں۔
ہو ں۔ تم کہہ تو ٹھیک رہے ہو۔ لیکن میرا دل نہیں ما نتا ۔ کیا کیا خوا ب دیکھے تھے تمہا ری شا دی کہ افسر دگی سے سلطا نہ
بو لی ۔

تو ابھی بھی سب کچھ ہو گا ۔ ہر خو شی ہر با ت مکمل ہو گی ۔ آپ دیکھ لینا سَحر بہت اچھی بہو اور بیو ی ثا بت ہو گی۔
ٹھیک ہے میں آج را ت کو جا ئوں گی بات کروں گی۔ اگر جو اب مثبت ہوا تو تمہیں بتا دوں گی۔ ورنہ مجھ سے تفصیلیں مت پو چھنا۔
میں جانتا ہوں امی یہ کام بہت مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے ۔ آپ پو ری کو شش کیجئے گا۔اپنی ماں کہ دو نوں ہا تھ اپنے ہا تھ میں
لیے وہ بے چا رگی سے اپنی ماں کو کہہ رہا تھا۔آپ کو شش کر یں گی نہ ؟ افسردگی سے وہ ایک با ر پھر بو لا۔
ہا ں۔ ہا ں۔ تم پر یشا ن مت ہو ۔ آفتا ب کا چہرہ اپنے ہا تھوں میں لے کر اُسے تسلی دی۔
٭٭٭٭

ما ئشا اللہ آپ نے گھر تو بہت ہی پیا را سجا یا ہو اہے ۔جا ب میں رہتے ہوئے بھی آپ نے اپنے گھر اور بچو ں پر مکمل تو جہ دی۔
آپ چا ئے لیں نہ ۔ میز پر پڑا کپ ہا جرہ نے سلطا نہ کی طر ف بڑ ھا یا ۔
آپ سے ایک با ت پو چھوں اگر آپ برا نہ منا ئیں؟
جی جی کیو ں نہیں۔‘‘ہاجرہ نے خوش اخلا قی سے جو اب دیا۔
سَحر کا کہیں رشتہ ۔وہ میں پو چھنا چا ہ رہی تھی ما ئشا اللہ جو ان ہے خوبصورت ہے پڑھی لکھی بھی ہے ۔کہیں کو ئی با ت چلا ئی؟
ایک گہر ی سا نس لیتے ہو ئے ہا جرہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
لیکن بیٹیا ں تو جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائیں اچھا ہے۔
’’جی ‘‘۔ ’’با لکل ‘‘ ۔سنجید گی سے ہا جرہ نے جو اب دیا۔
میں اپنے بیٹے آفتا ب کہ لیے آپکی بیٹی کا ہا تھ ما نگنے آئی ہوں۔ آپ بر ا مت محسو س کیجئے گا۔ مجھے تو بہت پیا ری لگتی ہے ، اور آفتا ب
کی بھی مر ضی ہے۔چند جملوں میں سلطانہ نے لائونچ میں بیٹھے بیٹھے بات مکمل کر دی۔
ایک دم حیرا نی سے ہاجرہ ۔ سلطا نہ کا چہرہ دیکھنے لگی۔ ۵ سالوں میں یہ پہلی عورت تھی جس کو سَحر میں کو ئی کمی خرا بی‘ دا غ نظر نہیںآیا۔
کو ئی فر ما ئیش ‘ نقص نہیں بتا رہی تھی۔اکثر سَحر کہ لیے شا دی شدہ مر دوں کہ رشتے آیا کر تے۔ کسی کی بیو ی مر چکی تو کسی کہ ہا ں
اولا د نہیں۔ کچھ لو گ جا ئیداد ‘ بنگلہ‘ گا ڑی کا مطا لبہ کیا کر تے۔ ان تما م با توں سے تنگ آکر اس نے شا دی کا رادہ تر ک کر دیا تھا۔
ہاجرہ اور ند یم بھی اب اُسے مجبو ر نہیں کر تے تھے۔لیکن اندر ہی اندر سے دونوں میاں بیو ی سَحر کہ غم میں ٹو ٹ رہے تھے۔

مجھے نہیں معلو م میں نے آپ سے بات کر کہ غلط کیا ہے یا سہی لیکن یقین ما نئے بہن آفتا ب کہ اسرار کر نے پر ہی میںآپ کہ گھر
آئی ہوں۔میں نے اُسے بے حد سمجھا یا ۔ بہت کو شش کی لیکن دل کہ ہا تھوں مجبو ر ہے وہ۔سلطا نہ بے بسی کہ انداز میں بو لی۔

ٹھیک ہے ۔ آپ کچھ وقت دیں میں انشا ء اللہ جلد ہی آپ کو جو ا ب دو ں گی۔ہا جرہ مطمئین سے اندا ز میں بو لی۔
مجھے آپ کہ جو اب کا انتظار رہے گا۔سلطا نہ نے واپس جا تے جاتے کہا۔
بشرٰی بی بی کو با ہر دروازے تک چھوڑکر آئو۔
جی بی بی میں جا تی ہوں۔ پراندہ گھو ما تے وہ سلطا نہ کہ پیچھے چل دی۔
٭٭٭
مجھے نہیںلگتا وہ لو گ ما نیں گے ۔چا در کند ھو ں سے ہٹا کر پا س پڑے صو فے پر رکھ دی۔حمید ایک گلا س پا نی پلائو۔
امی کیوں نہیں ما نیں گے ؟آفتا ب نے بے تا ب ہو کر پو چھا۔
بس بیٹا تم نہیں جا نتے بہت مشکل ہے۔ تم تو یہا ں ہوا نہیں کرتے تھے میں جانتی ہوں مجھے تما م حا لات کا ندازہ ہے۔
آپ ان کو میر ی پسند سے آگا ہ کرتی۔ انہیں بتا تی کہ میر ی خو شی اور رضا مند ی شا مل ہے۔
چلو اللہ کر ے اچھا ہی جو اب آئے۔میر ے سر میں درد ہے طبیعت اچا ٹ سی ہے کچھ دیر آرا م کر وں گی۔ تم بھی پر یشا ن مت
ہو۔
بے چا رگی اور بے بسی سے اپنی ماں کا منہ دیکھتا رہا۔ٹھیک ہے آرام کریں آپ میں کسی کام سے با ہر جا رہا ہوں۔

مقدر کی ہا رنے اُسے غموں اور دکھو ں میں ڈوبو دیا تھا دنیا کی رنگینی اب سَحر کو نظر ہی نہیںآتی تھی۔وہ اپنے جذبا ت کو مو ت کی نیند
سلا چکی تھی۔اُس کا اول وآخر تو صر ف شر جیل ہی تھا۔سَحر کہ لیے گز رے ہو ئے لمحا ت بھو لا نا نا ممکن تھا۔اُسے خود پر جبر کرنا اچھا لگتا ۔
مہینے نہیں اس با ت کو ۵ سال بیت گئے تھے لیکن سَحر کہ رویئے میں ایک ذرا بھی تبد یلی نہیںآئی تھی،
محر ومیاں اور تکلیفیں غم کی شد ت کو بڑھا دیتی ہیں۔ہم چا ہیں یا نہ چا ہیں لہجے تلخ ہو جا تے ہیں ۔سَحر نے بھی حا لات اور وقت کہ
سخت انداز دیکھے تھے اس لیے اُس کہ اندر کی خوا ہشا ت با لکل ختم ہو چکی تھیں۔ زندہ لاش بنے زند گی کہ دن پو رے کر رہی تھی۔
اس کا وجود کھو کھلا ہو چکا تھا خا لی ڈبے کی طر ح ظا ہری خو بصورتی دیکھا ئی دیتی تھی کبھی کبھی نا مکمل تعلق انسان کو اندر ہی اندر کھو کھلا کر دیتاہے۔

ہم آج ہیں کل کو نہیں ہوں گے مو ت بر حق ہے۔ جو دنیا میںآیا ہے اُس کو واپس تو جا نا ہی ہے۔وقت گزرنے کہ ساتھ انسان
کی زندگی کہ دن کم ہو تے ہیں۔ میں اور تمہا ری تا ئی اماں اب مزید کسی دُکھ دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں۔رشتہ بہت اچھا ہے
لڑکا بھی سلجھا ہوا ہے۔ پڑھا لکھا ہے اور اُس کی خواہش بھی ہے۔ بیٹا گز رے وقت کو بھول جا ئو۔ ہمیں دیکھو تم دونو ں کہ علا وہ
ہما را دنیا میں کچھ نہیں تھا۔ ایک قیمتی سر ما یہ تو کھو چکے ہیں۔ اب تمہیں اس حا لت میں دیکھ کر ہم دو نوں کو بہت تکلیف ہو تی ہے۔
میں نے تمہیں کبھی آج سے پہلے کسی رشتے کہ لیے نہ تو مجبو ر کیا اور نہ ہی کو شش کی کیونکہ میں بہت اچھی طر ح جا نتا تھا وہ سب
لو گ میری بیٹی کہ قا بل نہیں تھے۔آفتا ب میں مجھے قابلیت اور اپنا ئیت محسو س ہو تی ہے۔ ایک بار سو چ لو۔ڈاکٹر ندیم کا فی لمبی
گفتگو ختم کر نے کہ بعد خا مو شی سے اُٹھ کر سَحر کہ کمر ے سے با ہر چلے گئے۔

میرا خیا ل ہے سَحر کو مان جا نا چا ہئے۔ہاجرہ دودھ کا گلاس بیڈ کی سا ئیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔
ہا ں۔ایک گہری سانس لینے کہ بعد ڈاکٹر ند یم نے آنکھیں مو ند لیں۔
آپ کہ خیا ل میں اُس کا کیا جو اب ہو گا؟
کر وٹ بد لنے کہ بعد وہ چپ چا پ آنکھیں بند کئے لیٹے تھے۔
آپ میر ی کسی با ت کا جو اب کیو ں نہیں دے رہے۔ہا جرہ پھر بو لی
تمہا رے سے بہتر کون جا نتا ہے ۔ اُس کہ دل پر کیا بتتی ہو گی جب شا دی کی بات کرتے ہیں۔ ماں کا دل تو اولاد کا چہرہ پڑھ لیتا ہے
تم نے تو اُسے سینے سے لگا کر پا لا ہے۔ شر جیل کو اُس کہ لیے را توں کو جا گتے ‘ دن کو انتظا ر کرتے‘دیکھا ہے۔
ہاجرہ کا دل ہول اُٹھا۔ ایک دم اُٹھ کھڑی ہوئی۔تیزی سے قدم اُٹھا ئے اور کمر ے کا دروازہ کھو ل دیا۔بھا گتی ہوئی سَحر کہ کمرے کی طر ف
گئی ایک دم کمرے کا دروازہ کھو لا۔سسکیوں کی آواز سنتے ہی ہاجرہ کی آنکھیں نم ہو گئی۔ سَحر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ نہ میرا بچہ۔ رو نا
نہیں۔با لکل بھی نہیں۔دیکھو یہا ں میر ی طرف ۔ بھیگے ہوئے چہرے سے با ل ہٹا کر آنسو صا ف کئے۔

تا ئی اماں۔ تا ئی اماں۔سسکیاں بھر تے ہوئے دکھی آواز میں اس نے پکا را۔
جی جی میر ی جان۔ بو لو نہ کیا کہنا ہے۔
مجھے شر جیل بہت یا د آتا ہے میں ایک لمحے کو بھی اُسے بھو ل نہیں پا رہی ۔میں خو د کو کسی اور کا کیسے کر دوں؟ آپ ہی بتا ئیں
مر نے والوں کہ ساتھ مرا تو نہیں جا تا۔دکھی ‘غم زدہ لہجے میں ہا جرہ نے سَحر کہ با لو ں میںہا تھ پھیر تے ہوئے کہا۔
لیکن میں تو شرجیل کہ ساتھ ہی مر گئی تھی۔میں بہت تھک گئی ہو ں۔ بہت ر و تے روتے سَحر بو لی۔
اللہ نہ کر ے ۔گھبرا ئے ہوئے اندا ز میں ہا جرہ نے سَحر کو اپنے گلے سے لگا لیا۔ کتنی ہی دیر ما ں بیٹی اپنے دکھ با نٹتی رہی۔
ہا جرہ نے سَحر کا سر اپنے سینے پر رکھا اور اُسے بچو ں کی طر ح سہلا نے لگی۔دیکھو سَحر عور ت کی اپنی کو ئی زندگی نہیں ہوتی۔ اسکا
اپنا تو کو ئی ٹھکا نہ ہی نہیں ہو تا ۔ پہلے ما ں با پ اور پھر شو ہر کا گھر ہی دنیا میںآخری ٹھکا نہ ہو تا ہے۔میں بھی اپنے اماں‘ ابا‘
کی بہت لا ڈلی تھی چھو ٹی سی عمر میں شا دی ہو گئی۔وقت کہ ساتھ تم سب لو گو ں کہ ساتھ زندگی نے اس قدر مصر وف کر دیا کہ
ما ں با پ بہن بھا ئی سب بہت پیچھے رہ گئے۔ شر جیل کہ بعد تمہا رے لیے جینا شر وع کر دیا۔ آفتا ب بہت اچھا ہے۔ زند گی میں
اچھا ہمسفر عور ت کی قسمت بد ل دیتا ہے۔ اور مجھے پو را یقین ہے وہ تہمیں بہت خو ش رکھے گا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: