Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 9

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 9

میں کمر ے میں دا خل ہوا تو وہ دلہن کہ سُرخ لبا س میںمیر ی منتظر تھی۔دروازہ بند کر کہ میں چند لمحے گہر ی سو چ میں وہا ں ہی کھڑارہا۔
اب وہ میر ی شریک ِ حیا ت تھی۔میرا دل خو شی سے دھڑک رہا تھا۔لیکن اُس کہ قریب جا نے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔مجھے ایک
بہت بڑ ی تبدیلی کا احسا س محسو س ہو رہا تھا۔وہ کس قدر خو بصورت تھی اور دلہن کہ لبا س میں کہیں زیا دہ حسین لگ رہی تھی۔ ہولے
سے میں اُس کہ قرہب جا کر بیٹھا۔اس کا نر م ہا تھ اپنے ہا تھ میں پکڑا اور سا تھ رہنے کا وعدہ کیا ۔ جیب سے ایک خو بصورت انگھو ٹھی
نکا ل کر اس کہ ہاتھ میں تھما دی۔ اسے پہنا نے کی ہمت مجھ میں نہ تھی۔
ٓآج سَحر میں پہلی مر تبہ مجھے اپنا ئیت محسو س ہوئی۔
ایسے لگا جیسے ہم ایک دو سرے کو صدیوں سے جا نتے ہیں۔
صرف ایک دو سرے کہ لیے بنے ہیں۔
سَحر۔ محبت بھر ے لہجے میں آفتا ب نے پکا را۔
وہ جھنپ سی گئی۔
تم صر ف میر ی ہو۔ میں ہمیشہ تمہیں خو ش رکھو ں گا۔ہا تھ پکڑے آفتا ب نے نہا یت عز ت سے سا تھ نبھا نے کا وعدہ کیا۔

سَحر زند گی کا جز و خا ص تھی۔ میں اس کہ علا وہ کچھ اور سو چنے سے بھی گھبرا تا تھا۔شا دی کو تین ما ہ ہو چکے تھے ہم دو نوں کہیں گھو منے
پھر نے نہیں جا سکے تھے۔ میر ی دفتر ی مصر و فیا ت ہی کچھ ایسی تھیں۔ وقت نکا لنا مشکل تھا۔ اُس نے بھی کبھی شکو ہ شکا ئیت نہ کی۔
لیکن مجھے بہت اچھی طر ح یا د تھا۔ شنگر یلا ‘‘ پا نچ ما ہ گز رنے کہ بعد مجھے پند رہ دن کی چھٹی ملی۔ اگست کا مہینہ تھا۔ مو سم نہا یت خو شگو ار
تھا۔ ہم لو گو ں کا ٹر پ یا د گار تھا۔ مجھے سَحر کہ اور قریب جا نے کا مو قع ملا۔ ہم دو نو ں میں ابھی بھی کا فی ججھک با قی تھی۔
میں نے وہاں پر سحر میں لڑکیوں کی طر ح اٹھکیلاں دیکھی۔نئے نئے کپڑے جو تے پہن کر روز مجھ سے ایک نئی جگہ کی فر ما ئش کر تی۔ خوبصورت منظر کے آگئے تصویر کشی کہ لیے بے جا ضد کر تی۔تھوڑی تھوڑی دیر کہ بعد تھک جا تی۔ گر تی سنبھلتی میرا ہا تھ تھا مے یہا ں سے وہاں جا تی تتلیوں کہ پیچھے میں نے اُسے پہلی با ر بھا گتے ہوئے دیکھا۔ہر لمحے آفتا ب نے یہ ہی دعا مانگی اس کی خو شیوں کو کبھی کسی کی نظر نہ لگے جو کام شر جیل مکمل نہیں کر پا یا میں اس ذمہ داری کو سچے دل سے نبھا ئوں۔آفتا ب میرا تو یہا ں سے جا نے کا دل ہی نہیں چا ہ رہا ہے۔
مجھے پر سکو ن جگہیں بہت پسند ہیں۔بس پھر ہم نہیں جا رہے اماں کو بھی یہا ں ہی بلا لیتے ہیں کیا خیا ل ہے؟ آفتا ب شو خی کہ ا نداز میں
مخا طب تھا۔ لیکن یہا ں سے واپس آنے کہ بعد وہ میر ے ساتھ کا فی گھل مل گئی تھی۔ مجھے پہلی با ر یو ں محسو س ہوا کہ ہم لو گ آج ایک نئے رشتے میں بند ھ گئے ہیں۔
واپس آنے کہ بعد سَحر میں کا فی بدلائو آنے لگا۔ میر ی ہر ضر ورت کا خیا ل رکھنے لگی۔ امی ہم دو نوں کو ساتھ خو ش دیکھ کر دن میں
کئی با ر سَحر کی نظر اتا رتی۔
بریسٹری کا متحا ن پا س کر نے آفتا ب کو ملک سے با ہر جا نا پڑا۔سَحر کو ساتھ لے کر جا نے کا خوا ہش مند تو تھا لیکن سلطا نہ کی طبیعت
خرا ب رہنے لگی تھی۔اس وجہ سے اکیلا ہی چلا گیا۔ نہ جا نے تم سے دو ر کیسے رہو گا۔
جیسے سب لو گ رہتے ہیں مسکر اہٹ کو ہونٹو ں میں دبا کر سَحرنے جو اب دیا۔
اچھا جی آنکھوں کو گھما کر آفتا ب نے پو چھا۔
جی ہا ں۔ شریر انداز میں پھر بو لی۔
کچھ ہی دن کی با ت ہے جلد ہی آجا ئوں گا۔ پر یشا ن تو نہیں ہو رہی ؟کند ھوں سے پکڑے اپنی با نہوں کہ حصا ر میں لیے آفتا ب
سَحر سے پو چھ رہا تھا۔
با لکل بھی نہیں۔ آفتا ب کی محبت نے اُس کہ اندر کہ تما م خوف اور اند یشے ختم کر ڈا لے تھے۔ اب وہ ایک مضبو ط عورت تھی۔
گھر میں بو ر مت ہوتی رہنا۔ امی کہ ساتھ با ہر جا یا کر نا۔ اپنی تائی اور تایا سے بھی ملتی رہنا بھئی میں نہیں سننا چا ہتا کہ میں ایک ظالم
شو ہر ہوں۔

٭٭٭
سعد ہما ری زندگی میں دا خل ہو اتو ایک خوبصو رت سی تبدیلی محسو س ہوئی۔ آنے والے مہما ن نے ہم دو نوں کی زند گی میں ایک خا ص
بدلا ئو لا کر کھڑا کردیا۔ امی اور سَحر کا زیا دہ وقت صا حب زا دے کی خدمت میں گز ر جایا کر تا۔
اب اماں بیما ر رہنے لگی تھیں۔ اچانک سے فا لج کا دورہ پڑا تو چا رپائی پر پڑ گئی۔ سَحر نے اُن کی بہت خدمت کی اور ہر کا م وقت پر کیا۔
کبھی بھی کسی شکا ئیت کا مو قع نہ دیا۔ہر کا م بے حد دلجو ئی سے کر تی۔ بچے کو بھی سنبھا لتی اور اماں کی خد مت بھی کیا کرتی۔
چند مہینو ں کہ بعد اما ں ہم دو نوں کو چھو ڑ کر چل بسی۔ان کہ نہ ہو نے کی کمی مجھ سے زیادہ سَحر کو محسو س ہو نے لگی تھی۔ سعد اب چھ سال کا
ہو گیا تھا۔ اسکو ل جا نے لگا تھا۔ سَحر کا گھر میں وقت ہی نہیں گزرتا تھا۔ اُس نے مجھ سے آگئے پڑھنے کی خو ا ہش ظا ہر کی۔
آفتا ب کو اس میں کو ئی بر ائی نہیں محسو س ہوئی۔مشو رے کہ طو ر پر اُس نے اُسے وکالت میں ایڈمیشن لینے کا کہا۔
میں اب کیا وکالت پڑھو ں گی۔ نہیں نہیں۔ میرا تو دور دور تک کو ئی تعلق نہیں اس شعبے سے۔
ارے بھئی میں خو د تمہا ری مدد کر وں گا تمہا رے لیے کو ئی مشکل نہیں ہے۔
آفتا ب نے دفتر سے بھی وقت نکا لنا شر وع کر دیا تھا۔ جلدی آتا اور سَحر کو ہر لیکچر اچھی طر ح سمجھا تا۔ اُسے اب اپنی تعلیم میںاور شعبے
میں دلچسپی پیدا ہو نے لگی تھی۔
صبح سعد کو سکول چھو ڑنے کہ بعد سَحر کالج چلی جا تی اور آفتا ب دفتر چلا جا یا کرتا۔
زندگی ایک بار پھر خوبصو رت را ستوں پر رو اں دواں تھی۔ دو نوں میاں بیو ی اپنے گھر میں بے حد خو ش تھے۔ لیکن سَحر آفتا ب کو ٹا ئم
کم دے پا تی ۔پڑھا ئی کی وجہ سے وہ کچھ مصروف رہنے لگی تھی۔لیکن آفتا ب بہت سمجھدا ری سے کام لیتا تھا۔ کبھی بھی کو ئی شکو ہ شکا یت
نہیں کیا کر تا تھا۔

بیس سال بعد
بریسٹر آفتاب اور مسز سَحرآفتاب دو نوں کا میا ب ترین بریسٹر بن چکے تھے۔سَحر اب پہلے کی طر ح خوبصورت اور جو ان نہیں رہی تھی۔
با لوں میں سفیدی آنے کہ بعد عمر نظر آنے لگی تھی۔ آفتا ب بھی وقت گز رنے کہ ساتھ ڈھل گیا تھا۔سعد نے وکالت کا شعبہ نہیں چنا تھا۔وہ خوبخو اپنے با پ کی طر ح دیکھائی دیتا تھا۔ وہ ہی چا ل‘ رنگ‘ قد‘ کھا ٹ‘خوبصورت مرادانہ آواز۔ آفتاب کی جو انی کی جیتی جا گتی تصویر تھا۔ڈاکٹری کا آخری سال مکمل ہو چکا تھا۔ اب سعد اپنی ہا ئوس جا ب کر رہا تھا۔ اپنے نا نا کہ پا س زیا دہ وقت گز ارا کر تا۔ اکثر اوقات
ان سے مشورے بھی لیا کر تا اپنے مسئلے مسا ئل بھی بتا یا کر تا۔ اصل میں ڈاکٹر ند یم سے ما نو س ہو کر ہی سعد نے ڈا کٹری کا شعبہ چنا تھا۔
ہا جرہ اور ندیم اسے پر انے قصے کہا نیا ں سنا یا کر تے۔وہ ان دو نوں کہ سا تھ وقت گز ار کر بہت خو ش ہو تا۔

اُٹھو نہ سعد دیکھو سو رج سر پر چڑھ آیا ہے۔ نا شتہ بھی ٹھنڈاہو رہا ہے۔اتنے بڑ ے ہو گئے لیکن عا دتیں نہیں بد لی تمہا ری۔
کھڑکی سے پر دے ہٹا نے کہ بعد سَحر ایک با ر پھر سعد کو جگا نے آئی ۔
اوہو ۔ ما ما ۔ مشکل سے تو نیند پو ری کر نے کو سنڈے کا دن ملتا ہے۔ آپ مجھے آج کہ دن تو سو نے دیا کر یں۔
نہیں بس جلدی سے جا گ جا ئو۔بہت دیر سے تمہا رے با با نیچے انتظا ر کر ہے ہیں۔جلدی سے فر یش ہو کر آئو۔
آآآآ۔ ایک زو ر دار انگڑائی تو ڑنے کہ بعد بس آرہا ہوں۔سعد بو لا۔

بر خو دار کیسے مز اج ہیں؟ آفتا ب نے نا شتے کہ میز پر سعد سے پو چھا۔
با با ۔ سب کچھ بہتر ین۔ ہسپتا ل والوں نے جا ب بھی دے دی۔بس اچھا گز رہا ہے سب کچھ ۔ ڈاکٹر رتو غریب ہو تے ہیں۔مسکر اتے
ہوئے سعد ۔آفتا ب سے مخا طب تھا۔
ہا ہا ہا۔ صاحبزا دے جیلس تو مت ہو۔بڑی محنت کی ہے ہم دو نوں نے۔
اچھا چھو ڑیں بھی آپ تو سنجیدہ ہی ہو گئے۔بچہ ہے مذا ق کر رہا ہے۔ویسے میں تو سو چ رہی ہوں بس اب بہو ڈ و ھو نڈنا شر وع کر دوں۔
ما ما آپ کو میر ی آزا دی اچھی نہیں لگتی۔ ؟ مسکر اتے ہوئے سعد نے جو اب دیا۔

بس تم با پ بیٹے کی ذمہ دا ری دیتے دیتے میں اکیلی تھک گئی ہوں۔ کو ئی اور بھی تو ہو میر ے ساتھ۔
٭٭

سعد تمہا رے تایا اور را بعہ آنٹی آرہے ہیں۔ با رہ سا لوں کہ بعد پا کستا ن واپس آرہے ہیں۔اپنے دور چلے جا ئیں تو جدائی کا
احسا س ہوتاہے۔آج تم جلدی آجا نا۔یہ نہ ہو آج کہ دن بھی کو ئی بہانہ بنا لو۔ میں تمہا ری ایک بھی نہیں سنوں گی۔امر یکہ سے
وہ ہم سب سے ملنے کہ لیے آرہے ہیں۔اور تمہا را گھر پر ہو نا بہت ضر وری ہے۔ سمجھ گئے نہ ۔سعد کا کان ہو لے سے کھینچا ۔

آآآ۔ ما ما اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔ ڈاکٹر بن گیا ہوں۔ ابھی بھی آپ مجھے یو ں ڈراتی ہیں۔گھر کہ ملا زم بھی دیکھ کر کیا سو چتے
ہوں گے۔
سو چنے دو ۔ ان سب کو بھی پتہ ہے کہ تم بہت لا پراواہ ہو۔
اب میں وہ پہلے والا سعد نہیں رہا کا فی ٹھا ٹھ کہ ساتھ بو ل رہا رتھا۔
بس بس اپنے نا ز اندا ز اپنے پا س رکھو وقت پر گھر آجا نا۔
جو حکم آپکا جھکنے کہ اند از میں اس نے جو اب دیا۔اب میں جا ئوں
ہا ں ٹھیک ہے۔ پا گل نہ ہو۔سَحر مسکرا کر بو لی۔

سَحر تم تو با لکل ہی عمر ریسدہ خا تو ن لگنے لگ گئی ہو۔مجھ سے تو عمر میں کئی حصے چھو ٹی ہو۔ با لوں میں سفید ی بھی آگئی۔را بعہ کی
عا دتیںآج بھی نہیں بدلی تھیں۔ نو شین نا صر اور را بعہ کی اکلو تی بیٹی تھی۔ دو بھا ئیو ں سے چھو ٹی تھی ۔ عا قب اور ثا قب۔ دو نو ں کی
شا دی ہو چکی تھی امر یکہ میں ہی سیٹ تھے۔ نو شین ایم بی اے کی اسٹو ڈنٹ تھی۔لیکن اپنی ماں سے بے حد مختلف ۔ اُس کو دیکھ
کر تو لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ را بعہ کی بیٹی ہے۔ را بعہ کہ تو وہ ہی رنگ ڈھنگ ما ڈرن ‘ اور بلا وجہ طنز کر نے کی عا دت اتنے سالوں بعد
بھی بر قرا ر تھی۔ شا م ہو نے کو ہے ۔ لیکن سَحر تمہا را بیٹا نظر نہیںا ٓیا؟ لگتا اس کو ہما رے آنے کی خو شی نہیں ہوئی۔ یا پھر ہما رے
آنے کی وجہ سے گھر سے نہیں آیا۔

ایسی کو ئی با ت نہیںہے بھا بھی۔بس کسی کام میں لگ گیا ہو گا۔ ہسپتا ل سے نکلنے میں بھی اکثر دیر ہو جا تی ہے۔ نئی نئی جا ب ہے
اس وجہ سے لیٹ ہو جا تا ہے، آتا ہی ہو گا۔نظر یں درو ازے کی طر ف کئے سَحر نے را بعہ کو جو اب دیا۔

ہو ں۔ را بعہ کو شر و ع دن سے ہی سعد پسند نہیں تھا۔ ہمیشہ اپنے دو نوں بیٹوں کو اس پر بر تری دیا کر تی۔ابھی بھی اُس کی سو چ
اُس کہ با رے میں بد لی نہ تھی۔ٹھیک ہے بھئی تم کہتی ہو تو ما ن لیتی ہوں۔ اور تمہا رے تا یا ابا اور تائی ٹھیک ہیں۔ صحت ٹھیک رہتی ہے
ٓٓٓٓٓان کی؟ بچا رے اکیلے ہی رہتے ہو ں گے۔بیٹا ہوتا تو کو ئی سہا را ہو تا ۔اکیلے تو زند گی گز ارنا مشکل ہو جا تی ہے۔کا فی تلخ لہجے میں
را بعہ بو لے چلے جا رہی تھی۔

سَحر خا مو شی سے اس کی تما م با تیں سن رہی تھی ۔چند لمحوں کہ تو قف کہ بعد وہ بو لی۔ ہم سب یہا ں ہی ہو تے ہیں۔ آتے جا تے رہتے ہیں۔سعد تو اکثر اوقات ان کہ پا س ہی اپنا زیا دہ وقت گزارتا ہے۔تا یا ابا تو کلینک پر ہو تے ہیں پو را دن کا م میں گز ر جا تا ہے۔
تا ئی اما ں بھی گھر کہ کا موں لگی رہتی ہیں۔

ہاں ۔بھئی وقت تو گز ارے گا ہی خو ن جو ان کا ہی ہے ۔نا م بس آفتا ب کا لگا ہوا۔ را بعہ اپنی عا دت سے مجبور کچھ بڑبڑائی تھی۔
سَحر کہ کا نو ں تک اس کی بات پہنچ نہ پا ئی۔
را ت کہ کھا نے پر سعد بھی گھر پہنچ آیا تھا۔ سب لو گوں سے بہت خو شی اور چا ہ کر ملا ۔اپنے کنزز کہ با رے میں پوچھا۔
نا صر کو سعد شر وع سے ہی بہت پیا را تھا۔اور اس کہ ڈاکٹر بننے کہ بعد اور زیا دہ ہر دلعز یز ہو گیا تھا۔ نا صر کی ذا تی طو ر پر خوا ہش تھی
کہ نو شی کا رشتہ سعد کہ ساتھ کر دیا جا ئے۔ گھر کا لڑکا ہے۔نیک شر یف اور سمجھدا ر ہے۔ لیکن ابھی وہ کسی سے اس با ت کا ذکر نہیں
کر نا چا ہتا تھا۔

یہ لڑکی سعد نے با رہ سال پہلے دیکھی تھی ۔ وہ صر ف اتنا جا نتا تھا کہ وہ اس کی تا یا زاد کز ن ہے۔جس کی ماں اُس کو ہمیشہ ہی سعد
سے دو ر رہنے کی تلقین کیا کر تی۔اگر وہ چو ری چھپے ہما رے گھر آجا تی تو رابعہ آنٹی ما ر ما ر کر واپس لے جایا کر تی۔ وہ سسکیا ں بھر تی
واپس چلی جا تی۔ جا تے جا تے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا کر تی۔اب خدا جا نے وہ کیسی ہو گی۔سعد کہ دل میں ایک تصویر سی بنی سو ال آنے
لگے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خو د کو ملا مت کیا جیسی بھی ہو گی مجھے اُس سے کیا لگے۔ہو سکتا ہے آنٹی را بعہ آج بھی مجھے اُس سے بات
مت کر نے دیں۔

سَحر سڑھیا ں چڑھتی ہو ئی آئی تو سامنے سعد کو کھڑے کو دیکھا ۔ارے یہا ں کیوں کھڑے ہو؟ آئو میرے سا تھ نو شی سے ملو ائوں
وہ بھی آئی ہے؟ کا فی حیرانی سے سعد نے پوچھا ۔
ہا ں بھئی وہ کیوں نہ آتی اُس کا اپنا گھر ہے۔آسکتی ہے۔ سَحر کا فی پر جو ش انداز میں بو لی۔
نہیں میں نے تو بس یو ں ہی پو چھ لیا۔
آئو نہ میں تمہا ری ملا قا ت کر وائوں۔ دونوں کا فی عر صے بعد مل رہے ہو۔ اب تو شکلیں بھی نئی لگیں گی۔
امی اب ایسی بھی با ت نہیں ہے۔دیکھا ہوا ہے میں نے اُسے ویسی ہی ہو گی۔
آئے ہا ئے اتنے اکتا ئے ہوئے لہجے میں کیوں بو ل رہے ہو؟

یہ وہ ہی لڑکی تھی جو آج سے عر صہ پہلے یہا ں سے چلی گئی تھی۔ جب ہم صر ف ایک دو سرے کہ نا م سے ما نو س تھے۔
سفید شلو ار قمیض‘ لمبے با ل‘ جھیل سی گہر ی آنکھیں کا جل کی سلا ئیاں با رکی سے آنکھو ں میں لگا ئے ہوئے اس نے پلٹ کر
میر ی جا نب دیکھا تو میں دھنگ رہ گیا۔کیا یہ را بعہ آنٹی کی بیٹی ہے؟ دل ہی دل میں سعد نے خو د سے سوال کیا۔
ان کو دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے پیدا ہی امریکہ میں ہوئی ہوں۔ اس عمرمیں بھی جینز اور ٹی شر ٹ پہنے گھو متی ہیں۔
لیکن یہ تو با لکل مختلف تھی۔
نو شی بیٹا یہا ں آئو۔ سَحر نے بہت پیا ر سے ہا تھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا۔ اس سے ملو سعد ہے ۔
اسلا م علیکم‘‘ جھجک کر اس نے سلا م کیا۔
وعلیکم سلام‘‘ بمشکل ہی میر ی زبا ن سے جو اب نکلا۔
یا د ہے تم لو گ بچپن میں بھی کھلا کر تے تھے سعد تمہیں اپنے کھلو نے دے دیا کر تا تھا۔
اور را بعہ آنٹی ہمیشہ مجھے ڈا نٹ دیا کر تی تھی۔سَحر کی بات کاٹتے ہوئے سعد بو لا۔
وہ تو بچپن تھا۔ اب تو تم لو گ بڑھے ہو گئے ہو۔سحر نے بات کو مکمل کیا۔
ہو ں۔ سعد نے سر کجھا تے ہوئے کہا۔
تم لوگ بیٹھو با تیں کر و میں ذرا ربھا بھی کہ پا س جاتی ہوں۔ سفر سے تھکی ہا ری آئی ہے ۔پو چھ لوں کوئی چیز تو نہیں چا ہئے۔
نو شی بیٹا بر ا بر والا کمر ا سعد کا ہی ہے کسی چیز کی ضر ورت ہو تو بلا جھجک بو ل دینا۔دروازے کی جانب ہا تھ بڑھا تے ہوئے سَحر
نے بہت پیا ر سے نو شی کو سا ری با تیں کہی۔
سعد تم نو شی کو اسلام آبا د دیکھا ئو ۔ میں تو کہتی ہوں تم کچھ دن کی چھٹی لے لو۔ اور اچھی طر ح سے اس کو یہا ں کی سیر کرائو۔ میر ی
بیٹی اتنی دور سے آئی ہے۔ کو نساروز روز آئے گی۔نا شتے کہ میز پر سَحر نے سعد سے کہا۔
جی ما ما کیوں نہیں ضرور۔میںآج جلدی آجا ئوں گا۔آپ تیا ر رہئے گا۔
نو شی نے نظریں جکا ئے بس سر ہا ں میں ہلا دیا۔ را بعہ نے پا س بیٹھے اُسے زور سے با زو ما را۔اور جھو ٹی سی مسکراہٹ لبو ں پر لے آئی۔
یہ اکیلی تو کہیں جا ئے گی نہیں۔ میر ے بغیر تو کبھی کہیں نہیں جا تی۔ وہا ں پر بھی اس کا یہ مسئلہ ہو ا کر تا تھا۔میر ے ساتھ ہی ہر جگہ
جا نا ہے۔تم بس وقت پر آجا نا۔ہم لو گ تیار رہیں گے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF
 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: