Dastan e Ishq by Sana Luqman – Last Episode 10

0

داستان عشق از ثنالقمان قسط نمبر 10

سَحر کو رابعہ کا یو ں کہنا کچھ پسند نہیںآیا تھا۔ بھا بھی میںخو د نو شی کو گھما کر لا ئوں گی۔سعد بیٹا آ پ جا ئیں۔ ہم سب لو گ خود جا ئیں گے۔
میں نو شی کو کچھ شا پنگ بھی کر وا دوں گی۔ٹھیک ہے نہ بھا بھی۔؟ کا فی سنجیدہ سے لہجے میں سَحر نے کہا۔
را بعہ نے کا فی مطمئن انداز میں ہامی بھر ی۔
پو را دن شا پنگ گھو منا پھر نا لگا رہا۔ نو شی نے اسلا م آبا د کا فی عر صے کہ بعد دیکھا تھا۔ ہر چیز نئی نئی لگ رہی تھی۔
نو شی کو اپنی چا چی کہ ساتھ گھو منے کا بہت مز ہ آرہا تھا۔ کیونکہ ان کہ لہجے میں کا فی اپنا ئیت تھی۔ ماں کی طر ح رو ک ٹوک
نہیں تھی۔کیو نکہ رابعہ کو نو شی کہ پہنا وے پر ہمیشہ ہی اعترا ض رہا کر تا۔ اُس کا دل چا ہتا تھا کہ وہ ماڈرن طر یقے سے رہے۔
لیکن اُس میں ایک بھی عا دت را بعہ جیسی نہ تھی۔دھیما لہجہ اور سا دہ طبیعت تھی۔شا م ہو نے کو تھی۔ سَحر آج دفتر نہیں گئی تھی۔
پو را دن گھو منے کہ بعد را ت کہ آٹھ بجے وہ تینوں گھر واپس آئیں۔نا صر‘ آفتا ب اور سعد باہر لائو نج میں بیٹھے با تیں کر رہے تھے۔
نوشی سید ھا اپنے کمر ے میں چلی گئی۔ سعد کو دیکھتے ہی وہ بھا گنے کی کیا کر تی۔دو نو ں ہی ایک دو سرے سے نظریں چراتے
تھے۔
ارے بھئی آپ لو گوں نے تو بہت دیر کر دی۔ آفتا ب نے سَحر سے پو چھا۔
بس وقت کا پتہ ہی نہیں چلا نو شی کہ ساتھ مز ہ ہی بہت آرہا تھا۔
ما ما مجھے بھو ک لگ رہی ہے حمید سے بو لیں کھا نا لگا دیں۔بس بیٹا میں ابھی لگو ا تی ہوں۔پیا ر سے سعد کہ سر پر ہا تھ پھیرا اور چلی گئی۔
صا حب کھا نا لگا دیا ہے آپ لو گ آجا ئیں۔ بڑی بی بی نے کہا ہے کہ ہم لو گ کھا نا کھا کر آئیں ہیں۔
ٹھیک ہے ہم آرہے ہیں۔ سعد نے حمید کو ہا تھ کہ اشا رے سے جا نے کو کہا۔

نو شی ٹیر س پر کھڑی تھی۔ کا فی پئیں گی سعد نے ہو لے سے پو چھاتھا۔
جی ۔ کا فی کا کپ ہا تھ میں پکڑ لیا۔کیسے ہیںآپ؟
آپ مجھ سے دو ر کیوں بھا گتی ہیں؟ میر ے میں کیا کا نٹے لگے ہیں۔؟ سعد کا فی سنجدگی سے بو ل رہا تھا۔
نہیں تو ایسی تو کو ئی با ت نہیں ہے۔ آپ مصر وف ہو تے ہیں اس وجہ سے میر ی آپ کی با ت کم کم ہوتی ہے۔
اچھا جی۔ سعد نے دھیمے سے لہجے میں جو اب دیا۔
کیا کر رہی ہو آجکل ؟
ایم بی اے کر رہی ہوں۔
آپ کا ایم بی بی ایس مکمل ہو گیا؟ نو شی نے سہمے سے اند از میں پو چھا۔
ہاں اب تو جا ب کر رہا ہوں۔
اچھی با ت ہے۔آپ نے اچھا پر وفیشن منتخب کیا ہے۔
ناصر ان دو نوں کو با تیں کر تا دیکھ کر گیا تو اُس کہ دل میں رشتے کی خو اہش جا گ گئی۔آفتا ب نیچے اپنے کمر ے میں بیٹھا تھا۔
نا صر نے دروازے پر دستک دی۔ آفتا ب نے اند ر آنے کو کہا۔
بھا ئی آپ اس وقت؟ خریت تو ہے نہ وہ کا فی گھبر اکر پو چھ رہا تھا۔
ہا ں ہاں سب ٹھیک ہے۔ میں کچھ با ت کر نے آیا ہوں۔ چلئے با ہر چل کر با ت کر تے ہیں۔نہیں جو بھی با ت ہو گی سَحر کے سا منے ہو گی۔
آئیے بھا ئی با ہر کیوں کھڑے ہیں سَحر نے چشمہ پہنتے ہو ئے اند ر آنے کو بو لا۔
نا صر کر سی پر بیٹھا آفتا ب اور سَحر کوکچھ کہنا چا ہ رہا تھا لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیسے با ت کر ے۔آخر ہمت کر کہ اس نے نو شی کہ
رشتے کی با ت شر وع کی۔ سَحر اگر تمہیں اعتراض نہ ہو۔میں چا ہتا ہوں نو شی اور سعد کی شا دی کر دی جا ئے۔ مجھے لگتا ہے نو شی کو
اس گھر سے اچھا گھر کہیں نہیں مل سکتا۔ اگر تم لو گوں کو ئی اعترا ض نہ ہو۔
آفتا ب نے سَحر کی طر ف سو الیہ نظر وں سے دیکھا۔
اگلے ہی لمحے سَحر نے خو شی سے ہا ں میں جو اب دیا تھا۔
شکر یہ کہ الفا ظ نہیں میر ے پا س نا صر مسکرا کر بولا۔ لیکن پھر بھی سعد سے ایک دفعہ پو چھ لیں لڑکا ہے اُس کی رضا مند ی بھی ضر وری
ہے۔
آپ اس کی فکر مت کر یں بھا ئی صا حب ہمیں پو را یقین ہے کہ وہ کبھی بھی انکا ر نہیں کر ے گا۔نو شی تو خو ش ہو گی نہ سَحر نے مد ھم سے
انداز میں پو چھا۔
مجھے اپنی بیٹی پر آنکھیں بند کر کہ یقین ہے۔ وہ میر ی با ت کبھی بھی نہیںٹا لے گی۔

Read More:  Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 37

وہ بیو ہ بن بیا ہی عورت کہ بیٹے سے میں کیسے اپنی بیٹی کی شا دی کر دوں۔ لو گ مجھے کیا کیا با تیں نہیں کر یں گے۔ میر ی بیٹی لا کھوں
میں ایک ہے۔ امیر ہے خو بصورت ہے ایک سے بڑھ کر ایک رشتے مل سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں پا کستا ن نہیںآنا چا ہتی تھی
آتے ہی اپنو ں کی محبت جا گ اُٹھی ۔نہ جا نے سعدکس کی اولا د ہے۔ پا نچ سا ل اپنے گھر سے وہ نکلی نہیں تھی ہم کیا جا نیں کیا
کہا نی تھی۔ بس ناصر صا حب میں بتا رہی ہوں۔مجھے ہر گز یہ رشتہ نہیں کر نا ہے۔اور جتنا جلدی ہو واپسی کی تیا ری کر یں۔
را بعہ کہ منہ میں جو اُلٹا سیدھا آیا بو لے جا رہی تھی آواز کی تیزی کمر ے کی دیو اروں سے با ہر تک جا رہی تھی ۔

سعد آج گھر دیر سے آیا تھا۔ کھا نا کھا کر واپس اوپر اپنے کمر ے کی طر ف آتے ہوئے اُس نے کچھ شو ر سنا ۔ اپنی ماں کہ
با رے میں اس طر ح کہ الفا ظ سن کر اس کا خون کھو لنے لگا۔ آنکھیں غصے سے سُر خ ہو نے لگی۔ اس کا دل چا ہ رہا تھا کہ
درو ازہ تو ڑ کر اند ر جا ئے اور را بعہ کو منہ تو ڑ کر جو اب دے۔لیکن اُس کی تر بیت میں یہ با ت شا مل نہیں تھی۔ہا تھوں کی
مٹھیاں جکڑے غصے سے وہ اپنے کمر ے کی طر ف تیز ی سے گیا۔ کا فی دیر تک وہ عجیب سی کشمکش میں رہا۔اسے با ر
با ر را بعہ کی با تیں کا نٹوں کی طر ح لگ رہی تھیں۔

آج سعد دیر تک سو تا رہا سَحر دو دفعہ اُس کو جگا نے آئی ۔دوسر ی با ر جب واپس مڑنے لگی تو سعد نے بے چا رگی سے اپنی
ماں کو آواز دی۔ما ما۔

جی بیٹا۔ وہ پلٹی ۔کیا ہوا بیٹا ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ما تھے پر ہا تھ لگا کر دیکھا۔
ما ما مجھے ایک با ت پو چھنی ہے کیا میں آپ سے پو چھ لوں؟
ہا ں۔کیو ں نہیں بیٹا ۔اپنی ما ما سے پو چھنے میں بھی کو ئی مشکل ہے۔

اُس نے را ت کا سنا ہوا سا را وا قعہ اپنے لفظوں میں بیا ن کر دیا ۔ چند لمحے کو وہ خا مو ش رہی میر ے مالک کیا اب میر ی یہ تذلیل با قی تھی
میر ی اولاد کہ سامنے مجھے جو اب دہ ہو نا تھا۔میں نے تو کبھی کو ئی شکو ہ شکا ئیت نہیں کی ما ضی کہ تلخ پر توں کو کبھی الٹنے کی
کو شش نہیں کی ۔ ۔سَحر کو شدید غصہ آیا لیکن اس نے صبر سے کا م لیا اور سعد کہ بالوں میں ہا تھ پھیرا۔اُٹھو تم ہا تھ منہ دھو لو۔نا شتہ کر و۔
ایسے کسی کہ کہنے سے مت پر یشا ن ہوا کر و۔ تمہا رے تما م سو الوں کہ جو اب نا نا اور نا نی دیں گے۔نا شتہ کر نے کہ بعد اُن کہ پا س چلے جا نا
ما تھے پر بو سہ دیا اور وہا ں سے چلی گئی۔
سحر اپنے کمر ے میں آنکھیں مو ند ے لیٹ گئی ما ضی کی ہر یا د اس کہ ذہن میں گھو منے لگی۔یہ تو حقیقت ہے انسان کا ماضی کبھی
بھی نہیں چھپ سکتا ‘ ہر موڑ پر منہ کہ بل گرا تا ہے۔وجود کر چی کر چی ہو نے لگتا ہے۔ حقیقیت کبھی بھی نہیں بدل سکتی۔ بدلتی ہے تو
صر ف ہما ری سو چ‘صرف ہما رے ضمیر پر ہما را اختیا ر ہو تا۔نہ کسی کی ذات ‘ رو یئے‘اور نہ ہی کسی کا ساتھ۔میرا رب مجھے اور کتنا
الجھا ئے گا۔سعد مجھ سے دور تو نہیں ہو جا ئے گا۔میرا رشتہ تو بے حد پا کیزہ تھا۔ سحر خو د کلا می کہ عالم میں تھی۔ اچا نک آفتا ب نے
کمر ے کا دروازہ کھو لا۔آنسو آنکھو ںسے بہہ رہے تھے۔جسم خو ف کہ ما رے کپکپا رہا تھا۔اولاد کی دوری اُسے مو ت نظر آرہی تھی۔
سحر کیا ہوا؟ آفتاب پر یشان ہو کر بو لا۔تم کیو ں رو رہی ہو؟ مجھے بتا ئو کیا بات ہے۔آفتا ب تو دل وجان سے اُسے محبت کر تا تھا
اس کی آنکھوں کی نمی اس کی جا ن لے لیتی۔

Read More:  Kehkashan Si Rehguzar Novel By Rubab Naqvi – Episode 3

سحربے ساختہ رو نے لگی۔سسکیا ں بھر نے لگی۔آفتا ب میر ے وجود کی گند گی مجھے جینے نہیں دے گی۔اب سعد بھی دیکھنا
مجھے چھوڑ کر چلا جا ئے گا۔میں مر رہی ہوں مجھے بچا لو۔ وہ ہچکیاں بھر رہی تھی۔آفتا ب کی جا ن نکل رہی تھی۔اس نے سحر
کو حو صلہ دینا چا ہا۔میر ی با ت سنو کیا ہو اہے۔مجھے کچھ بتا ئو۔آفتا ب نے سحر کو اپنے با زئوںکہ حصا ر میں مضبو طی سے تھا ما
بس بھی کر وکیوں رو ئے جا رہی ہو؟ کیا سعد نے رشتے سے انکا ر کر دیا ہے؟
سحر خا مو شی سے آفتا ب کہ گلے لگی رو تی رہی۔بس مجھے میرا ما ضی کبھی جینے نہیں دے گا میں کیسے خو د کو چھپا ئوں میں پل پل مر رہی
ہوں۔ میر ے پا س آخر ی ٹھکا نہ صر ف تم اور سعد ہو۔ لیکن وہ مجھ سے بد ظن ہو چکا ہے۔وہ تو مجھے اپنی ماں ہی نہیں مان رہا
اس نے خود مجھ سے سوال کیا۔ آفتا ب مجھے بکھر نے سے بچا لیں۔میرے ساتھ ہی کیوںہر آزمائش ہو تی ہے۔
لیکن اُس نے تم سے ایسا سوال کیو ں کیا؟
سحر نے تما م دا ستان آفتا ب کو اپنے لفظوں میں بلک بلک کر بیا ن کی۔
تم بھی نہ بیگم جا ن ہی نکا ل دیتی ہو۔اتنی سی بات ۔ زور سے اپنے ساتھ لگاکر سحر کو حوصلہ دیا۔بر خودار اتنے بیوقوف نہیںہیں۔
آخر اس کی رگو ں میں میرا خون ہے ۔با پ مخلص تو بیٹا اس سے زیا دہ ہی ہو گا۔ اور اتنی بہا در ماں کی اولاد ہے۔ ایسے ہی گھبرا گئی۔
ارے بھئی یو ں رو یا مت کر ومیر ی تو سانس ہی اٹک جا تی ہے۔ انکل آنٹی اس کو بہت اچھے سے مطمئین کریں گے اور بہت اچھا کیا
جو تم نے اُس کو ان کہ پا س بیھج دیا۔ہم سے زیا دہ نا نا جان کی بات مانتا ہے۔

سعد نا شتے کہ فو را بعدنا نا اور نانی سے ملنے گیا۔جب سعد نے ان سے یہ سوال کیا تو دو نوں ایک دم چو نک گئے۔
سَحر او ر شر جیل کی داستانِ عشق ڈاکٹر ند یم نے اپنے لفظوں میں سعد کو بتا ئی۔کس طر ح سے دو نوں نے اچھا وقت
ساتھ گزا را تھا۔سَحر نے اُسکی محبت میں کتنا دُکھی وقت گزارا تھا۔ آفتا ب کس طر ح سے سَحر کی زند گی میںآیا تھا۔
ہاجرہ نے آنسو صا ف کر تے ہوئے سعد کو شر جیل کی تصویر دیکھا ئی۔ فو جی یونیفا رم میں خوبصورت نو جوان تھا جو
با لکل ڈاکٹر ند یم کی طر ح دیکھا ئی دیتا تھا۔سعد نے تما م با تیں سنی تو اس کہ بعد نا نا اور نا نی کو گھر چلنے کو کہا۔
اس کہ دل میں اپنی ماں اور با پ کی عز ت اور بڑھ گئی تھی۔

Read More:  Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 12

گھر میں داخلی را ستے پر با ئیں ہا تھ لان میں را بعہ‘ َسحر‘ ناصر اورآفتا ب بیٹھے تھے۔را بعہ مسلسل سَحر کو الزام دئیے جا رہی
تھی۔وہ تینوں اس کو چپ کر وانے کی کو شش میں لگے ہوئے تھے۔ نو شی سا منے ٹیر س پر کھڑ ی یہ سا را ماجرا اپنی آنکھوں سے
دیکھ رہی تھی۔

رابعہ آنٹی آپ کو یہ حق کس نے دیا آپ کو ن ہو تی ہیں میر ی ما ں پر کیچڑ اچھا لنے والی؟میر ے ماں با پ کہ پا کیزہ
رشتے کو گند ہ کر رہی ہیں۔میں پو چھتا ہوں آخر آپ یہ سب با تیں کیوں کہہ رہی ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کسی سے
محبت کی ہے آپ کو تو شا ئید محبت لفظ کا مطلب بھی نہیں پتہ ہو گا۔یہا ں تک کہ آپ تو اپنی ہی اولاد سے محبت نہیں
کر پائی۔اگر آپ نو شی کو مامتا کی محبت دیتی تو وہ وہا ں دور کھڑی یہ سب کچھ نہ سن رہی ہوتی۔میں جا نتا ہو ں محبت
کیا ہے ۔ یہ دو لو گ جن کو آپ میر ے ما ں با پ نہیں کہتی ہیں انہوں نے مجھے محبت اور زند گی سے آشنا کر وایا۔
سعد کی آواز ہر لمحہ بلند ہو رہی تھی۔ سَحر نے اُسے چپ کر وانا چا ہا۔ آفتا ب نے اُس کا ہاتھ زور سے پکڑا اور روک لیا۔
جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ ہما را بیٹا با لکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ تم آج بھی پارسہ ہو۔آفتا ب کی آنکھو ں میںسَحر کہ لیے محبت جھلک
رہی تھی۔آفتا ب کہ چہر ے کہ تا ثرا ت بتا رہے تھی وہ آج بھی سَحر کو دل کی گہر ائیوں سے چا ہتا ہے۔یہ ہی سچا ئی وہ
اپنے اکلو تی اولاد کہ منہ سے سن کر اور زیا دہ خو شی محسو س کر رہا تھا۔

را بعہ سعد کی با تیں سن کر دھنگ رہ گئی اور اپنے کئے پر بے حد شر مند ہ تھی۔اس نے سَحر اور آفتا ب سے معافی ما نگی
اور اپنی تما م غلطیوں کی تلا فی کی۔ سَحر کا ہا تھ اپنے ہا تھ میں لیے را بعہ نے نو شی کو نیچے آنے کا اشا رہ کیا۔اور
نو شی کا ہا تھ سَحر کہ ہا تھ میں دے دیا۔ آج سے یہ تمہا ری بیٹی ہے ۔مجھے تمہیں پر کھنے میں بہت دیر لگ گئی ۔
میر ی بیٹی کو تمہا رے سا ئے اور تر بیت کی ضر ورت ہے۔
را بعہ کی غفلت ‘ لا پرواہی‘ کہ با وجو د سب نے اُس کو معا ف کر دیا ۔نو شی کہ گھر میں آنے سے بیٹی کی کمی پو ری ہو گئی تھی۔
سعد کو ایک اچھی ہمسفر مل گئی ۔زندگی میں خو شیاں حا صل کر نے کے لیے ر شتوں کو نبھا نا بہت ضر وری ہو تا ہے۔
عشق حا صل اور لا حا صل کی محدود تمنا ئوں میں سے ایک خو اہش ہو تی ہے مکمل ہو جا ئے تو زند گی رخ بدلنے لگتی کبھی
رنگین تو کبھی سیاہ لیکن اگر ادھو ری رہ جا ئے تو ہمسفر اُفق کہ درمیان منتظر رہتا ہے۔اور دا ستان بن کر لو گوں کہ دلو ں
میں زندہ رہتی ہے

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Free Download this novel PDF by clicking below the download button.

Download Novel PDF

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: