Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 1

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 1

–**–**–

جب زکوئ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
پہلا حصہ،،،،،،

“تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک حطرناک کھیل ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ھوں”

یہ تاریح الفاظ سلطان صلاح الدین نے اپنے چچا زاد بھای حلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے، ان دونوں نے صلیبوں کو درپردہ مدد زر و جوھرات کا لالچ دیا اور صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی، امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا، اسکے زاتی حیمہ گاہ سے رنگ برنگی پرندے ، حسین اور جوان رقصایئں اور گانے والیاں ساز اور سازندے شراب کے مٹکے برامد ھوے ، سلطان نے پرندوں گانے والیوں اور سازندوں کو آزاد کردیا اور امیر سیف الدین کو اس مضمون کا حط لکھا

“تم دونوں نے کفار کی پشت پناھی کر کہ ان کے ھاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوشیش کی مگر یہ نہ سوچا کہ تمھاری یہ ناپاک کوشیش عالم اسلام کا بھی نام و نشان مٹا سکتی تھی۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے ھوں تو مجھے قتل کرادیا ھوتا ، تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کرا چکے ھو۔ دونوں ناکام ھوے اب ایک اور کوشیش کر کہ دیکھ لو، ھو سکتا ھے کامیاب ھو جاو۔ اگر تم مجھے یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ھو جاے تو اسلام اور زیادہ سر بلند رھے گا تو رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمھارے تلوار سے کٹوانگا اور تمھارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا میں صرف تمھیں یہ بتادینا چاھتا ھوں کہ کوی غیر مسلم مسلمان کا دوست نھی ھو سکتا، تاریح تمھارے سامنے ھے اپنا ماضی دیکھو، شاہ فرینک اور ریمانڈ جیسے اسلام دشمن تمھارے دوست اسلیئے ھے کہ تم نے انھیں مسلمانوں کے حلاف جنگ میں اترنے کی شہ اور مدد دی ھے۔ اگر وہ کامیاب ھو جاتے تو انکا اگلا شکار تم ھوتے اور اس کے بعد ان کا یہ حؤاب بھی پورا ھوجاتھا کہ اسلام صفحہ ھستی سے مٹ جاے۔

تم جنگجو قوم کے فرد ھوں۔ فن سپاہ گری تمھارا قومی پیشہ ھےم ھر مسلمان اللہ کا سپاھی ھے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ھے۔ تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک حطرناک کھیل ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ھوں میں تم سے درحواست کرتا ھوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ھوجاو، اگر یہ نھی کرسکو تو میری محالفت سے باز آجاو، میں تمھیں کوی سزا نھی دونگا۔۔۔۔اللہ تمھارے گناہ معاف کریں۔۔۔۔۔)صلاح الدین ایوبی(”

ایک یورپی مورح لین پول لکھتا ھے

” صلاح الدین کے ھاتھوں جو مال غنیمت لگا اسکا کوی حساب نھی تھا، جنگی قیدی بھی بے اندازہ تھے، سلطان نے تما تر مال غنیمت تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ جنگیں قیدیوں میں تقسیم کر کہ انکو رھا کردیا، دوسرا حصہ اپنے سپاھیوں اور غرباء میں تقسیم کیا، اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام المک کو دے دیا، اس نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔ نہ حود کچھ رکھا اور نہ اپنے کسی جرنیل کو کچھ دیا، اس کا نتیجہ یہ ھوا کہ جنگی قیدی جن میں بھت سے مسلمان تھے اور باقی غیر مسلم ، رھا ھوکر سلطان کے کیمپ میں جمع ھوگیے اور سلطان کی اطاعت قبول کر کہ اپنی حدمات فوج کے لیے پیش کردی ایوبی کی کشادہ ظرفی اور عظمت دور دور تک مشہور ھوگئ

اس سے پہلے حسب بن صباح کے پراسرار فرقے فدائ جنھیں یورپین مورحین نے قاتلوں کا گروہ لکھا ھے صلاح الدین ایوبی پر دو بارہ قاتلانہ حملے کرچکے تھے لیکن اللہ نے اس اعظیم مرد مجاھد سے بھت کام لینا تھا دونوں بار ایک معجزہ ھوا جس میں یہ مرد مجاھد بال بال بچ گیا سلطان پر تیسرا قاتلانہ حملہ اس وقت ھوا جب وہ اپنے مسلمان بھایئوں اور صلیبوں کی سازش کی چھٹان کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کرچکا تھا۔ امیر سیف الدین میدان جنگ سے بھاگ گیا تھا مگر وہ سلطان کے حلاف بعض اور کینہ سے باز نھی آیا۔ اس نے حسن بن صباح کے قاتل فرقے کی مدد حاصل کی۔

حسن بن صباح کا فرقہ اسلام کی آستین میں سانپ کی طرح پل رھا تھا۔ اس کا تفصیلی تعارف بھت ھی طویل ھے، محتصر یہ کہ جس طرح زمین سورج سے دور ھوکر گناھوں کا گہوارہ بن گی ھے، اسی طرح ایک حسن بن صباح نامی ایک شحص نے اسلام سے الگ ھوکر نبیوں اور پیغمبروں والی عظمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا وہ اپنے آپکو مسلمان ھی کہلاتا رھا اور ایسا گروہ بنالیا جو طلسماتی طریقوں سے لوگوں کا اپنا پیروکار بناتا ، اس مقصد کے لیے اس گروہ نے نہایت حیسن لڑکیاں نشہ آور جڑی بوٹیاں ھیپناٹزم اور چرب زبانی جیسے طریقے اپناے، بہشت بنائ جس میں جاکر پتھر بھی موم ھو جاتے تھے اپنے محالفین کو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ تیار کیا، قتل کے طریقے حفیہ اور پر اسرار ھوتے تھے، اس فرقے کے افراد اس قدر چلاک زھین اور نڈر تھے کہ بھیس بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ بن جاتے تھے اور جب کوی پراسرار طریقے سے قتل ھوجاتا تو قاتلوں کو سراغ ھی نھی مل پاتا، کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ “قاتلوں کا گروہ” کے نام سے مشہور ھوا

یہ لوگ سیاسی قتل کے ماھر تھے زھر بھی استعمال کیا کرتے تھے، جو حسین لڑکیوں کے ھاتھوں شراب میں دیا جاتا تھا بھت مدت تک یہ فرقے اسی مقصد کے لیے استعمال ھوتا رھا۔۔ اسکے پیروکار “فدائ” کہلاتے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کو نہ تو لڑکیوں سے دھوکہ دیا جاسکتا تھا اور نہ ھی شراب سے۔ وہ ان دونوں سے نفرت کرتا تھا ، سلطان کو اس طریقے سے قتل نھی کیا جاسکتا تھا۔ اس کو قتل کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس پر قاتلانہ حملہ کیا جاے ، اسکے محافظوں کی موجودگی میں اس پر حملہ نھی کیا جاسکتا تھا، دو حملے ناکام ھو چکے تھے۔ اب جبکہ سلطان کو یہ توقع تھی کہ اسکا چچازاد بھای الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر توبہ کر چکے ھونگے انھوں نے اتقام کی ایک اور زیر زمین کوشیش کی۔

صلاح الدین نے اس فتح کا جشن منانے کے بجاے حملے جاری رکھے اور تین قصبوں کو قبضے میں لیا، ان میں غازہ کا مشہور قصبہ تھا، اسی قصبے کے گردونواح میں ایک روز سلطان صلاح الدین ایوبی ، امیر جاوالاسدی کے حیمے میں دوپہر کے وقت عنودگی کے عالم میں سستا رھے تھے، سلطان نے وہ پگڑی نھی اتاری تھی جو میدان جنگ میں سلطان کے سر کو صحرا کی گرمی اور دشمن کے تلوار سے بچا کر رکھتی تھی۔ حیمے کے باھر اسکے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا، باڈی گارڈز کے اس دستے کا کمانڈر زرا سی دیر کے لیے وھاں سے چلا گیا، ایک محافظ نے سلطان کے حیمے میں گرے ھوے پردوں میں سے جھانکا، اسلام کے عظمت کے پاسبان کی آنکھیں بند تھی اور پیٹھ کے بل لیٹا ھوا تھا، اس محافظ نے باڈی گارڈز کی طرف دیکھا، ان میں سے تین چار باڈی گارڈز نے اسکی طرف دیکھا، محافظوں نے اپنی آنکھیں بند کر کہ کھولی) ایک حاص اشارہ(

تین چار محافظ اٹھے اور دو تین باقی باڈی گارڈز کو باتوں میں لگالیا، محافظ حیمے میں چلا گیا۔۔۔ اور حنجر کمر بند سے نکالا۔۔۔دبے پاؤں چلا اور پھر چیتے کی طرح سوے ھوے سلطان صلاح الدین ایوبی پر جست لگای۔ حنجر والا ھاتھ اوپر اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عین اسی وقت سلطان نے کروٹ بدلی، یہ نھی بتایا جاسکتا کہ حملہ آور حنجر کہاں مارنا چاھتا تھا، دل میں یا سینے میں۔۔۔ مگر ھوا یوں کہ حنجر سلطان کی پگڑی کے بالائ حصے میں اتر گیا، اور سر بال برابر جتنا دور رھا اور پگڑی سر سے اتر گی،

سلطان صلاح الدین بجلی کی تیزی سے اٹھا، اسے سمجھنے میں دیر نھی لگی کہ یہ سب کیا ھے ۔اس پر اس سے پہلے دو ایسے حملے ھو چکے تھے۔ اس نے اس پر بھی اظہار نھی کیا کہ حملہ آور حود اسکی باڈی گارڈ کی وردیوں میں تھے، جسے اس نے حود اپنے باڈی گارڈز کے لیے منتحب کیا تھا، اس نے ایک سانس برابر بھی اپنا وقت ضایع نہ کیا ۔ حملہ آور اپنا حنجر پگڑی سے کھینچ رھا تھا۔ ایوبی کا سر ننگا تھا۔۔ اس نے بھر پور طاقت سے ایک گھونسہ حملہ آور کی توڑی پر دیں مارا۔ ھڈی ٹوٹنے کی آواز آی۔ حملہ آور کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا، وہ پیچھے کی طرف گرا اور اسکے منہ سے ھیبتناک آواز نکلی۔اسکا حنجر ایوبی کی پگڑی میں رہ گیا تھا، ایوبی نے اپنا حنجر نکال لیا تھا، اتنے میں دو محافظ اندر آے ، ان کے ھاتھوں میں تلواریں تھی، سلطان صلاح الدین نے انھیں کہا کہ ان کو زندہ پکڑو۔

لیکن یہ دونوں محافظ سلطان صلاح الدین پر ٹوٹ پڑے، سلطان صلاح الدین نے ایک حنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا۔یہ مقابلہ ایک دو منٹ کا تھا۔ کیونکہ تمام باڈی گارڈز اندر داحل ھوے تھے، سلطان صلاح الدین یہ دیکھ کر حیران تھا کہ اسکے باڈی گارڈز دو حصوں میں تقسیم ھوکر ایک دوسرے کو لہولہان کر رھے تھے، اسے چونکہ معلوم ھی نہ تھا کہ اس میں اسکا دوست کون ھے اور دشمن سو وہ اس معرکہ میں شامل ھی نھی ھوا، کچھ دیر بعد باڈی گارڈز میں چند مارے گیے کچھ بھاگ گیے کچھ زحیمی ھوے، تو انکشاف ھوا کہ یہ جو دستہ سلطان صلاح الدین کی حفاظت پر مامور تھا اس میں سات فدائ ) انکا زکر پہلے حصے میں کیا جا چکا ھے کہ یہ کون تھے کسی کو سمجھ نھی آی ھوں تو وہ پہلا حصہ پڑھ لیں شکریہ۔۔ بلیٹ( تھے جو سلطان صلاح الدین کو قتل کرنا چاھتے تھے، انھوں نے اس کام کے لیے صرف ایک فدائ کو اندر حیمے میں بیجھا تھا، اندر صورت حال بدل گی تو دوسرے بھی اندر چلے گیے، اصل محافظ بھی اندر چلے گیے وہ صورت حال سمجھ گیے ، سو سلطان صلاح الدین بچ گیا۔سلطان صلاح الدین ن اپنے پہلے حملہ آور ھونے والے کی شہ رگ پر تلوار رکھ کر پوچھا ، کہ وہ کون ھے اور اسکو کس نے بیجھا ھے۔ سچ کہنے پر سلطان نے اسکے ساتھ جان بحشی کا وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ” فدائ ” ھے اور اسکو کیمیشتکن ) جسے بعض مورحین نے گمشتگن بھی لکھا ھے( نے بیجھا ھے کیمیشتکن الصالح کے قلعے کا ایک گورنر تھا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭­٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اصل وقعات کی طرف آنے سے پہلے یہ ضروری معلوم ھوتاھے کہ ان واقعات سے پہلے کے دور کودیکھا جاے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام عظمت اسلام کی عظمت اور اسکے کارناموں سے مسلم اور نان مسلم کون واقف نھی ؟ ملت اسلامیہ تو سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھول ھی نھی سکتی۔ مسیحی دنیا بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کو رھتی دنیا تک یاد رکھے گی۔ کیونکہ سلطان صلاح الدین ایوبی صلیبی جنگوں اور صلیبوں کے دور حکومت میں ایک مسلمان شیر تھا۔جس نے ھزاروں زحم دیے مسیحی برادری کو۔

سو لہذا یہ ضروری معلوم نھی ھوتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شجرہ نسب کو

تفصیل سے بیان کیا جاے۔ آپ کے من پسند پیج دستک پر ھم آپکو ایسے واقعات سنانے جا رھے ھیں جس کی وسعت کے لیے تاریح کا دامن بھت ھی چھوٹا پڑ جاتا ھے، یہ تفصیلات

وقائع نگاروں اور قلم کاروں کی ریکارڈ کی ھوی ھے، کچھ سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک پہنچی، تاریح نے صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے کارنامے محفوظ کیے ھے کیونکہ تاریح بھت کم پڑ جاتی ھے سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے آگے،ان سازشوں کا زکر تاریح نے بھت کم کیا ھے، جو اپنوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلاف کیے اور اسکے شہرت تاریحی عظمت کو داغدار بنانے کے لیے ایسی ایسی لڑکیاں بار بار استعمال کی ، جن کا حسن طلسماتی تھا۔

تاریح اسلام کا یہ حقیقی ڈارمہ ٢٣ مارچ ١١٦٩ کے روز سے شروع ھوتا ھے جب سلطان صلاح الدین ایوبی کو مصر کا واسراۓ اور فوج کا کمانڈر انچید بنایا گیا۔ اسے اتنا بڑا ربتہ ایک تو اسلیے دیا گیا کہ وہ حکمرانوں کے گھروں کا نونہال تھا اور دوسرا اسلیئے کہ اوائل عمری میں ھی وہ فن حرب و ضرب کا ماھر ھوگیا تھا۔ سپاہ گری ورثے میں پای تھی، سلطان صلاح الدین ایوبی کے معنوں میں حکمرانی بادشاھی نھی قوم کی عظمت اور فلاح و بہبود تھا، اسکا جب شعور بیدار ھوا تو پہلی حلش یہی محسوس کی وہ یہ تھی کہ مسلمان حکمرانوں میں نہ صرف یہ کہ اتحاد نھی بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی گریز کرتے تھے، وہ عیاش ھو گیے تھے، شراب اور عورت نے جہاں انھیں انکی زندگی رنگین بنا رھی تھی وھاں عالم اسلام اور اور اس اعظیم مذھب کا مستقبل تاریک ھوگیا تھا،

ان امیروں حکمرانوں اور ریئسوں کے حرم غیر مسلم لڑکیوں سے بھرے رھتے تھے، زیادہ تر لڑکیاں یہودی اور عیسائ تھی جن کو حاص تربیت دیں کر ان حرموں میں داحل کیا گیا تھا،

غیر معمولی حسن اور ادکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سربراھوں کے کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح چاٹ رھی تھی،

اسکا نتیجہ یہ تھا کہ صلیبی جن میں فرینک) فرنگی( حاص طور پر قابل زکر ھے مسلمانوں

کی سلطنتوں کو ٹکڑے کرتے ھڑپ کرتے جارھے تھے، اور بعض مسلمان تو شاہ فرینک کو سالانہ ٹیکس اور جزیہ بھی دیتے تھے جس کی مثال غنڈہ ٹیکس کی سی تھی، صلیبی اپنی جنگی قوت کے رعب اور چھوٹے چھوٹے حملوں سے مسلمان حکمرانوں کو ڈراتے رھتے کچھ علاقوں پر قبضہ کرتے ٹیکس اور تاوان وصول کرتے۔۔ان کا مقصد یہ تھا کہ آھستہ آھستہ دنیاۓ اسلام کو ھڑپ لیا جاے۔ مسلمان رعایا کا حون چوس کر ٹیکس دیتے رھتے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ بس انکی عیش و عشرت میں حلل نھی آجانا چاھیے۔

فرقپ پرستی کے بیچ بو دیئے گیئے تھے، ان میں سب سے زیادہ حطرناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا، جو صلاح الدین کی جوانی سے ایک صدی پہلے وجود میں آیا تھا، یہ مفادپرستوں کا ٹولہ تھا ، نے حد حطرناک اور پراسرار۔یہ لوگ اپنے آپکو ” فدائ” کہلاتے تھے

) یاد رھیں کہ پاکستانی طالبان بھی حود کو فدائ کہلاتے ھے۔۔۔دستک پیج( جو بعد میں حشیشن کے نام سے مشہور ھوے، کیونکہ وہ حیشیش نامی ایک نشہ آور شے سے دوسروں کو اپنے جال پھنساتے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی، یاد رھیے کہ نظام الملک دنیاے اسلام کے ایک وزیر تھے یہ مدرسہ انھوں نے تعمیر کیا، جیس میں اسلامی تعلیم دی جاتی تھی، اور بچوں کو اسلامی تاریح اور نظریات سے بہرور کیا جاتا ۔

ایک مورح ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ھوے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع پسندی کی راہ میں چٹان بنے ھوے تھے رومیوں نے ٩١ہ١ میں انھیں فدائیوں کے ھاتھوں قتل کردیا۔ ان کا مدرسہ قائم رھا،اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے وھی تعلیم حاصل کی۔ اسی عمر میں سپاہ گری کی تربیت اپنے حاندان کے بڑوں سے لی۔ نورالدین زنگی نے اسکو جنگی چالیں سکھای، ملک کے انتظامات کے سبق سکھاے اور ڈیپلومیسی میں مہارت دی، اس تعلیم و تربیت نے اسکے اندر وہ جذبہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں ھی اس نے وہ مہارت زھانت اور اھلیت حاصل کی تھی جو ایک سالار اعظیم کے لیے اھم ھوتے ھے۔ سلطان صلاح الدین نے فن حرب و ضرب میں جاسوس گوریلا اور کمانڈو آپریشنز کو

حصوصی اھمیت دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رھے تھے۔ سلطان صلاح الدین نظریات کے محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نھی ھوتی تھی۔ ان واقعات میں آپ چل کر دکھینگے کہ سلطان صلاح الدین کی تلوار کا وار تو گہرا ھوتا ھی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا، اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ھوتی تھی جو سلطان صلاح الدین نے جوانی میں ھی حود کے اندر پیدا کر دی تھی۔سلطان صلاح الدین کو جب مصر کا وایسراۓ بناکر بیجھا گیا تو وھاں پر سینئر عہدئداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس عہدے کی آس لگاے بیٹھے تھے۔

انکی نظر میں سلطان صلاح الدین طفل مکتب تھا ، لیکن جب سلطان صلاح الدین نے انکا سامنا کیا اور باتیں سنی تو ان کا احتجاج سرد پڑگیا۔

یورپین مورح لین پول کے مطابق سلطان صلاح الدین ڈسپلن کا بھت ھی سحت ثابت ھوا ۔

اسنے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے اور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور زھنی قوت صرف اس میں حرچ کی کہ ملت اسلامیہ کو پھر سے ایک کر سکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکے۔سلطان صلاح الدین فلسطین پر ھر قیمت سے قبضہ کرنا چاھتا تھا جیسے دستک پیج ھر یمت پر یہ ناول لکھنا چاھتا ھے۔ اور یہی مقاصد سلطان صلاح الدین نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا وایسراۓ بن کر سلطان نے کہا۔۔۔۔۔۔۔

” اللہ نے مجھے مصر کی سرزمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گا،”

مگر مصر پہنچ کر سلطان پر انکشاف ھوا کہ اسکا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نھی ھے بلکل اسکے اپنے مسلمان بھائیوں نے اسکی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بنا رکھے ھے جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوتوں سے زیادہ حطرناک ھے تو یہ تھا ھلکہ سا تعارف
مصر میں جن زعما نے سلطان کا استقبال کیا ان میں ایک ناجی نامی سالار بھت اھمیت کا حامل تھا، سلطان نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔سلطان کے ھونٹوں پر مسکراھٹ اور زبان پر پیار کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے سلطان کو ایسی نظروں سے دیکھا جن میں طنز اور تمسحیر تھی۔ وہ صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف تھے یا یہ کہ یہ ایک شاھی حاندان کا فرد ھے اور اپنے چچا کا جانشین ھے، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا کیا رشتہ ھے ، ان سب کی نگاھوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی اھمیت بس اسکے حاندان بیک گراونڈ کی وجہ سے تھی یا صرف یہ کہ وہ مصر کا وایسراۓ بن کر آیا تھا اس کے سوا انھوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو کوی وقعت نہ دی، ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افس کے کان میں کہا”

“بچہ ھے۔۔۔۔۔ اسے ھم پال لینگے،”

اس وقت کے مورح یہ نھی لکھ پاے کہ آیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکی نظریں بھانپ لی تھی کہ نھی۔وہ استقبال کرنے والے اس ھجوم میں بچہ لگ رھا تھا، البتہ جب وہ ناجی کے سامنے ھاتھ ملانے کے لیے رکا تو اسکے چہرے پر تبدیلی آگی۔ وہ ناجی سے ھاتھ ملانا چاھتا تھا لیکن ناجی جو اسکے باپ کے عمر کا تھاسب سے پہلے درباری حوشامدیوں کی طرح جھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ھوگیا اس نے ایوبی کی پیشانی کو چھوم کر کہا۔

“میری حون کا آخری قطرہ بھی آپکی حفاظت کے لیے ھوگا۔ تم میرے پاس زنگی اور شردہ کی امانت ھوں”

“میری جان عظمت اسلام سے زیادہ قیمتی نھی محترم اپنے حون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیں، صلیبی سیاہ گھٹاوں کی طرح چھا رھے ھیں۔” سلطان نے کہا۔

ناجی جواب میں مسکرایا جیسے سلطان نے کوی لطیفہ سنایا ھوں،

سلطان صلاح الدین اس تجربہ کار سالار کی مسکراھٹ کو غالبا نھی سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خلافت کا پروردہ سالار تھا، وہ مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر انچیف تھا۔جس کی نفری پچاس ھزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔یہ فوج اس وقت کے جدید ھتیاروں سے لیس تھی اور یہی فوج ناجی کا ھتیار بن گی تھی جس کے زور پر ناجی بے تاج بادشاہ بن گیا تھا، وہ سازشوں اور مفاد پرستوں کا دور رھا ، اسلامی دنیا کی مرکزیت حتم ھوگی تھی، صلیبیوں کی بھی نہایت دلکش تحزیب کاریاں شروع رھی۔زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔جس کے پاس زرا سی بھی طاقت تھی وہ اسکو دولت اور اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔سوڈانی باڈی گارڈ فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراھوں کے لیے دھشت بناھوا تھا۔ اللہ نے اسکو سازش ساز دماغ دیا تھا۔ناجی کو اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا بنانے اور بگاڑنے میں حصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے سلطان صلاح الدین کو دیکھا تو اسکے چہرے پر ایسی مسکراھٹ آی جیسے ایک کمزور اور حفیف بھیڑ کو دیکھ کر ایک بھیڑیئے کے دانت نکل آتے ھے، سلطان صلاح الدین اس زھر حندہ سمجھ نھی سکا۔۔ سلطان صلاح الدین کے لیے سب سے زیادہ اھم آدمی ناجی ھی تھا۔کیونکہ وہ پچاس ھزار باڈی گارڈز کا کمانڈر رھا۔اور سلطان صلاح الدین کو فوج کی بھت اشد ضرورت تھی۔ سلطان صلاح الدین سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے تشریف لاے ھے پہلے آرام کر لیں تو سلطان صلاح الدین نے کہا،

” میرے سر پر جو دستار رکھی گی ھے میں اسکے لایق نہ تھا اس دستار نے میری نیند اور آرام حتم کردی ھے کیا آپ حضرات مجھے اس چھت کے نیچھے لیکر نھی جاینگے جس کے نیچھے میرے فرایض میرا انتظار کر رھے ھیں۔”

“کیا حضور کام سے پہلے طعام لینا پسند کرینگے” اسکے نایب نے کہا

سلطان صلاح الدین نے کچھ سوچا اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ لمبے ٹرنگے باڈی گارڈز اس عمارت کے سامنے دو رویہ دیوار بن کر کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

سلطان صلاح الدین نے فوجیوں قد بت اور ھتیار دیکھے تو اسکے چہرے پر رونق آگی۔لیکن دروازے میں قدم رکھتے ھی یہ رونق حتم ھوی وھاں چار نوجوان لڑکیاں جن کے جسموں میں زھد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ھوے ریشمی بالوں میں قدرت کا حسن سمویا ھوا تھا ھاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ھوی ٹوکریاں لیں ھوے کھڑی تھی۔انھوں نے سلطان صلاح الدین کے قدموں میں پتیاں پھینکنا شروع کی اور اسکے ساتھ دف کی تال پر طاوس درباب اور شہنایئوں کا مسحور کن نغمہ ابھرا۔سلطان صلاح الدین نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیے، ناجی اور اسکا نایب سلطان صلاح الدین کے دایئں بایئں تھے۔ وہ دونوں جھک گیے اور سلطان صلاح الدین کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔۔ یہ وہ انداز تھا جو مغلوں نے ھندوستان میں رائج کیا تھا،

” صلاح الدین پھولوں کی پتیاں مسلنے نھی آیا” ایوبی نے ایسی مسکراھٹ سے کہا جو لوگوں نے بھت ھی کم کسی کے ھونٹوں پر دیکھی تھی۔

” ھم حضور کے قدموں میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ھے” ناجی نے کہا

اگر میری راہ میں کچھ بچھانا ھی چاھتے ھوں تو وہ ایک ھی چیز ھے جو مجھے بھت بھاتی ھے۔” سلطان صلاح الدین نے کہا

“آپ حکم دیں ۔۔ وہ کونسی چیز ھے جو سلطان کے دل کو بھاتی ھے” ناجی کے نایب نے کہا۔

“صلیبیوں کی لاشیں۔۔۔سلطان صلاح الدین نے مسکرا کر کہا۔ مگر جلد ھی یہ مسکراھٹ حتم ھو گی۔ اس کے آنکھوں سے شغلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں غضب اور عتاب چھپا ھوا تھا۔کہا۔۔۔”

“مسلمانوں کی زندگی پھولوں کی سیج نھی، جانتے نھی ھوں صلیبی سلطنت ملت اسلامیہ کو چوھوںکی طرح کھا رھی ھے۔اور جانتے ھوں کہ وہ کیوں کامیاب ھو رھے ھیں

صرف اسلیئے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا چروع کیا۔ھم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کہ انکی عصمتیں روند ڈالی۔میری نظریں فلسطین پر لگی ھوی ھے تم میری راہ میں پھول ڈال کر مصر سے بھی اسلامی جھنڈا اتروا دینا چاھتے ھوں کیا۔۔؟ سلطان صلاح الدین نے سب کو ایک نظر سے دیکھا اور دبدبے سے کہا۔اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے ، میں نے ان پر قدم رکھا تو میری روح چھلنی ھو جاے گی ، ھٹا دو ان لڑکیوں کو میری آنکھوں سے ایسا نہ ھو کہی میری تلوار ان کی زلفوں میں الجھ کر بیکار ھو جاے”

“حضور کی جاہ حشمت”

“مجھے حضور نہ کہو” سلطان صلاح الدین نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کی گردن کاٹ دی ھوں سلطان صلاح الدین نے کہا ” حضور وہ ھے جن کے نام کا تم کلمہ پڑھتے ھوں، جن کا میں غلام بے دام ھوں۔ میری جان فدا ھوں اس حضور پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ھے میں یہی پیغام لیکر مصر آیا ھوں۔ صلیبی مجھ سے یہ پیغام چھین کر بحیرہ روم میں ڈبو دینا چاھتے ھے، شراب میں ڈبو دینا چاھتے ھے، میں بادشاہ بن کر نھی آیا۔”

لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر وھاں سے ھٹ گی تھی، سلطان تیزی سے دروازے کے اندر چلا گیا۔ایک وسیع کمرہ تھا جس میں ایک لمبی میز رکھی گی تھی، جس پر رنگا رنگ پھول رکھے ھوئ تھےان کے بیچ بروسٹ کیے گیے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیا کیا رکھاگیا تھا، سلطان صلاح الدین رک گیا اور اپنے نایب سے کہا کہ ” کیا مصر کا ھر ایک باشندہ ایسا ھی کھانا کھاتا ھے”

” نھی حضور غریب تو ایسے کھانے کا حواب بھی نھی دیکھ سکتے،” نایب نے کہا

” تم کس قوم کے فرد ھوں سلطان صلاح الدین نے کہا کیا ان لوگوں کی قوم الگ ھے جو ایسے کھانوں کا حواب بھی نھی دیکھ سکتے۔” کسی طرف سے کوی جواب نھی آیا

” اس جگہ جتنے ملازم ھے اور جتنےسپاھی ڈیوٹی پر ھے ان سب کو بھلاو اور یہ کھانا انکو دیں دو۔” سلطان صلاح الدین نےلپک کر ایک روٹی اٹھا اس پر دو تین بوٹیاں رکھی اور کھڑے کھڑے کھانے لگا،نہایت تیزی سے روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈزکے کمانڈر ناجی کو ساتھ لیکر اس کمرے میں چلاگیا جو وایسراۓ کا دفتر تھا،

2 گھنٹے بعد ناجی دفتر سے نکلا دوڑ کر اپنے گھوڑے پر سوار ھوا ایڑئ لگائ اور نظروں سے اوجھل ھوا۔ رات ناجی کے دو کمانڈر جو اسکے ھمراز تھے بیٹھے اسکے ساتھ شراب پی رھے تھے، ناجی نے کہا ”

جوانی کا جوش ھے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کرادونگا، کم بحت جو بھی بات کرتا ھے کہتا ھے رب کعبہ کی قسم۔۔ صلیبیوں کو ملت اسلامیہ سے باھر نکال کر ھی دم لونگا۔”

” صلاح الدین ایوبی” ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا۔ ” اتنا بھی نھی جانتا کہ ملت اسلامیہ کا دم نکل چکا ھے اب سوڈانی حکومت کرینگے”

” کیا آپ نے اسے بتایا نھی کہ یہ پچاس ھزار کا لشکر سوڈانی ھے اور یہ لشکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ھے صلیبیوں کے حلاف نھیں لڑے گا۔” دوسرے کمانڈر نے ناجی سے پوچھا
“تمھارا دماغ ٹھکانے ھے اوروش ۔۔۔؟ میں اسے یقین دلا آیا ھوں کہ یہ 50 ھزار سوڈانی شیر صلیبیوں کے پرحچے اڑا دینگے ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ ” ناجی چھپ ھوکر سوچ میں پڑ گیا

” لیکن کیا”

” اس نے مجھے حکم دیا ھے کہ مصرکے باشندوں کی ایک فوج تیار کرو۔ اس نے کہا ھے کہ ایک ھی ملک کی فوج ٹھیک نھی ھوتی اس نے بولا کہ مصر کی فوج بناکر ان میں شامل کردو” ناجی نے کہا

” تو آپ نے کیا جواب دیا۔؟”

” میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ھوگی لیکن میں اس حکم کی تعمیل نھی کرونگا، ناجی نے جواب دیا،

مزاج کا کیسا ھے” اوروش نے کہا

” ضد کا پکا معلوم ھوتا ھے” ناجی نے کہا

” آپکے دانش اور تجربے کے آگے تو وہ کچھ بھی لگتا نیا نیا امیر مصر بن کر آیا ھےکچھ روز یہ نشہ طاری رھے گا” دوسرے کمانڈر نے کہا

” میں یہ نشہ اترنے نھی دونگا اسی نشے میں ھی بدمست کر کہ مارونگا” ناجی نے جواب دیا۔

بھت دیر تک وہ سلطان کے حلاف باتیں کرتے رھے اور اس مسلئے پر غور کرتے رھے کہ اگر سلطان نے ناجی کی بے تاج بادشاھی کے لیے حطرہ پیدا کردیا تو وہ کیا کرینگے، ادھر سلطان اپنے نائیبین کو سامنے بٹھاے یہ بات زھن نشین کرارھا تھا کہ وہ یہاں حکومت کرنے نھی آیا اور نہ ھی کسی کو حکومت کرنے دیں گا اس نے انھیں کہا کہ اسکو جنگی طاقت کی ضرورت ھے اور اس نے یہ بھی کہا کہ اسکو یہاں کا فوجی ڈھانچہ بلکل پسند نھی آیا 50 ھزار باڈی گارڈز سوڈانی ھے، ھمیں ملک کے ھر باشندے کو یہ حق دینا چاھیے کہ وہ ھمارے فوج میں سے آۓ اپنے جوھر دکھاے اور مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کریں یہاں کے عوام کا معیار زندگی اسی طرح بلند ھوسکتا ھے میں نے ناجی کو کہہ دیا ھے کہ وہ عام بھرتی شروع کردیں۔

Read More:  Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 2

” کیا آپکو یقین ھے کہ وہ آپکے حکم کی تعمیل کرے گا” ایک ناظم نے اس سےپوچھا۔

” کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کریے گا”

” وہ حکم کی تعمیل سے گریز کر سکتا ھے وہ حکم کی تعمیل نھی اپنی منواتا ھے فوجی امور اسکے سپرد ھے ” ناظم نے جواب دیا

سلطان ایوبی حاموش ھوا جیسے اس پر کچھ اثر ھوا ھی نھی ھوں۔اس نے سب کو رحصت کردیا اور صرف علی بن سفیان کو اپنے ساتھ رکھا، علی بن سفیان جاسوس اور جوابی جاسوسی کا ماھر تھا، اسے سلطان بعداد سے اپنے ساتھ لایا تھا، وہ اڈھیڑ عمر آدمی تھا اداکاری چرب زبانی بھیس بدلنے کا ماھر تھا، اس نے جنگوں میں جاسوسی کی بھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی تھا، اسکا اپنا ایک گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی توڑ لاسکتا تھا، سلطان کو جاسوسی کی اھمیت سے واقفیت تھی۔ فنی مہارت کے علاوہ علی بن سفیان میں وھی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا،

” تم نے سنا علی یہ لوگ کہتے ھے کہ ناجی کسی سے حکم نھی لیتا اپنی منواتا ھے”

صلاح الدین نے کہا

” ھاں میں نے سن لیا ھے اگر میں چہرے پہچاننے میں غلطی نھی کرتا تو میری راۓ میں باڈی گارڈز کا یہ کمانڈر جس کا نام ناجی ھے ناپاک زھنیت کا مالک ھے اس کے مطابق میں پہلے سی ھی کچھ جانتا ھوں یہ فوج جو ھمارے حزانے سے تنحواہ لے رھی ھے دراصل ناجی کی زاتی فوج ھے اس نے حکومتی حلقوں میں ایسی ایسی سازشیں کی ھے جس نے حکومتی ڈھانچے کو بے حد کمزور کردیا ھے، آپکا یہ فیصلہ بلکل بجا ھے کہ فوج میں ھر حطے کے سپاھی ھونے چاھیے میں آپکو تفصیلی ریپورٹ دونگا۔ مجھے شک ھے کہ سوڈانی فوج اسکی وفادار ھے ھماری نھی۔ آپکو اس فوج کی ترتیب اور تنظیم بدلنی پڑے گی۔ یا ناجی کو سبگدوش کرنا پڑے گا” علی بن سفیان نے کہا

” میں اپنے ھی صفوں میں اپنے دشمن پیدا نھی کرنا چاھتا ناجی اپنے گھر کا بھیدی ھے اسکو سبکدوش کرکے دشمن بنالیادانشمندی نھی ھماری تلواریں غیروں کے لیے ھے اپنوں کو حون بہانے کے لیے نھی میں ناجی کی زھنیت کو پیار اور محبت سے بدل سکتا ھوں تم اس فوج کی زھنیت معلوم کرنے کی کوشیش کرو اور مجھے ٹھیک ریپورٹ دو کہ فوج کہاں تک ھماری وفادار ھے۔” سلطان صلاح الدین نے کہا۔

مگر ناجی اتنا کچا نھی تھا اسکی زھنیت پیار اور محبت کے بکھیڑوں سے آزاد تھی اسے اگر پیار تھا تو اپنے اقتدار اور شیطانیات کے ساتھ، اس لحاظ سے وہ پتھر تھا، مگر جیسے وہ اپنے جال میں پھنسا لینا چاھتا تھا اسکے سامنے موم بن جاتا تھا اس نے سلطان صلاح الدین کے سامنے یہی رویہ احتیار کیا یہاں تک کہ وہ سلطان صلاح الدین کے سامنے بھیٹتا بھی نھی ، ھاں میں ھاں ملاتا چلا جاتا ، اس نے مصر کے محتلف حصوں سے سلطان صلاح الدین کے حکم کے مطاب فوج کے لیے عام بھرتی شروع کی تھی اگر چہ یہ کام اسکے مرضی کے حلاف تھا، دن گزرتے گیے سلطان صلاح الدین اسے کچھ کچھ پسند کرنے لگا تھا ناجی نے سلطان صلاح الدین کو یقین دلایا تھا کہ سوڈانی فوج اسکے حکم کی منتظر ھے اور یہ قوم کی توقعات پر پورا اترے گی ناجی دو تین بار سلطان صلاح الدین کو کہہ چکا تھا کہ سوڈانی فوج باڈی گارڈز کی طرف سے اسے دعوت دینا چاھتا ھے اور فوج اس کے اعزاز میں جشن منانے کو بتاب ھے لیکن سلطان صلاح الدین یہ دعوت مصروفیات کی وجہ سے قبول نھی کر سکا۔۔

؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎ ؎

رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں دو متعمد جونیئر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رھا تھا دو ناچنے والیاں ھلکی ھلکی موسیقی پر مستی میں آی ھوی ناگنوں کی طرحمسحور کن اداؤں سے رقص کر رھی تھی، انکے پاؤں میں گھنگروں نھی تھے، انکے جسموں پر کپڑے صرف اس قدر تھے کہ ان کے ستر ڈھکے ھوے تھے اس رقص میں حمار کا تاثر تھا۔۔۔۔

دربان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ کہا ناجی جب شراب اور رقص کے نشے میں محو ھوتا تھا تو کوی اندر آنے کی جرات نھی کر سکتا تھا، صرف ناجی کو معلوم تھا کہ وہ کونسا کام ھے جس کے لیے ناجی شراب و شباب کے محفل سے اٹھا کرتا ھے ورنہ وہ اندر آنے کی جرات نھی کرتا تھا اسکی بات سنتے ھی ناجی باھر نکل گیا وھاں سوڈانی لباس میں ملبوس ایک اڈھیڑ عمر کا آدمی تھا اسکے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی،ناجی اسکے چہرے کی دلکشی اور اور قد کاٹھ دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ عورتوں کا شکاری تھا اسے عورتیں صرف عیاشی کے لیے درکار نھی تھی ان سے وہ اور بھی کئ کام لیا کرتا تھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ان میں سے بھت ھی حوبصورت اور عیار لڑکیوں کے زریعے بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی کہ وہ انھیں امیروں اور حکمرانوں کو بلیک میل کرنے کے استعمال کیا کرتا تھا اور ساتھ میں ان سے جاسوسی بھی کرالیا کرتا تھا، جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتاتا ھے کہ اسکا گوشت کتنا ھے اس طرح ناجی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتاتا کہ یہ لڑکی کس کام کے لیے موزوں ھے لڑکیوں کے بیوپاری اور بردہ فروش اکثر مال ناجی کے پاس ھی لایا کرتے تھے۔

یہ آدمی بھی ایسے ھی بیوپاریوں میں سے ھی لگتا تھا لڑکی کے مطاب اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ھے ناچ بھی سکتی ھے اور پتھر کو زبان کے میٹھے پن کی وجہ سے پانی میں تبدیل بھی کر سکتی ھے ناجی نے اسکا تفصیلی انٹرویو لیا وہ اس فن کا ماھر تھا اس نے راۓ قایم کی کہ جس کام کے لیے وہ اس لڑکی کو تیار کر رھا ھے تھوڑے سے ٹرینگ کے بعد یہ لڑکی اس کام کے لیے موزوں ھوگی، بیوپاری قیمت وصول کر کہ چلاگیا ناجی اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لیکر چلاگیا جہاں اسکے ساتھی رقص اور شراب سے دل بہلا رھے تھے ، اس نے لڑکی کو نچانے کے لیے کہا ، اور جب لڑکی نے اپنا چغہ اتار کر اپنے جسم کو دو بل دیئے تو ناجی اور اسکے ساتھی تڑپ اٹھے پہلے نچانے والیوں کے رنگ پیلے پڑ گیے کیونکہ ان کی قیمت کم ھو گی تھی ناجی نے اس وقت محفل برحاست کردی ، اور لڑکی کو پاس بٹھا کر سب کو باھر نکال دیا لڑکی سے نام پوچھا تو اس نے زکوئ بتایا ، ناجی نے اس سے کہا،

” زکوئ تم کو یہاں لانے والے نے بتایا ھے کہ تم پتھر کو پانی میں تبدیل کر سکتی ھوں میں تمھارا یہ کمال دیکھنا چاھتا ھوں”

” وہ پتھر کون ھے ” زکوئ نے سوال کیا

” نیا امیر مصر” ناجی نے کہا وہ سالار اعظم بھی ھے”

” سلطان صلاح الدین ایوبی” زکوئ نے پوچھا

” ھاں اگر تم اسکو پانی میں تبدیل کردو تو میں اسکے وزن جتنا سونا تمھارے قدموں میں رکھ دونگا،”

وہ شراب تو پیتا ھوگا ” زکوئ نے پوچھا

نھی شراب ناچ گانا تفریح سے وہ اتنی ھی نفرت کرتا ھے جتنی ایک مسلمان حنزیر سے کرتا ھے” ناجی نے کہا

” میں نے سنا تھا آپکے پاس تو لڑکیوں کا ایک طلسم ھے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ھے تو کیا وہ طلسم ناکام ھوا۔۔۔۔۔۔۔؟” زکوئ نے پوچھا

” میں نے ابھی تک انکو آزمایا نھی ھے یہ کام تم کر سکتی ھوں میں تم کو سلطان کی عادتوں کے بارے میں بتا دیتا ھوں ” ناجی نے کہ

“کیا آپ اسے زھر دینا چاھتے ھے” زکوی نے پوچھا

” نھی ابھی نھی میری اسکے ساتھ کوی دشمنی نھی میں بس یہ چاھتا ھوں کہ وہ ایک بار کسی تم جیسی لڑکی کے جال میں پھنس جاے پھر میں اسے اپنے پاس بیٹھ کر شراب پلا سکوں اگر اسکو قتل کرنا مقصود تھا تو میں یہ کام حشیشن سے آسانی کے ساتھ کر سکتا تھا ” ناجی نے جواب دیا۔۔۔

” یعنی آپ سلطان سے دشمنی نھی دوستی کرنا چاھتے ھوں” زکوئ نے کہا اتنا برجستہ جملہ سن کر ناجی لڑکی کو چند لمحے غور سے دیکھتا رھا لڑکی اسکے توقع سے زیادہ زھین تھی۔

” ھاں زکوئ” ناجی نے اسکے نرم و ملائم بالوں پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا میں اسکے ساتھ دوستی کرنا چاھتا ھوں ایسی دوستی کہ وہ میرا ھمنوا اور ھم پیالہ بن جاے آگے میں جانتا ھوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ھے ” ناجی نے کہا اور زرا سوچ کر بولا ” لیکن میں تمھیں یہ بھی بتا دو کہ ایک جادو سلطاں کے ھاتھوں میں بھی ھے اگر تمھارے حسن پر اسکے ھاتھ کا جادو چل گیا تو میں تمھیں زندہ نھی چھوڑنگا اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ نھی رہ سکو گی صلاح الدین تم کو موت سے بچا نھی سکے گا تمھاری زندگی اور موت میرے ھاتھوں میں ھے تم مجھے دھوکہ نھی دے سکو گی ، اسلیئے میں نے تمھارے ساتھ کھل کر بات کی ھے ورنی میرے حثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی سے پہلی ملاقات میں ایسی باتیں نھی کرتا ”

یہ آپکو آنے والا وقت بتاے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ھے زکوئ نے کہا ” مجھے یہ بتاۓ کہ میری سلطان تک رسائ کیسی ھوگی”

” میں اسے ایک جشن میں بلا رھا ھوں، ناجی نےکہا اور اسی رات میں ھی آپکو اسیکے حیمے میں داحل کردونگا۔ میں نے تمھیں اسی مصد کے لیے بلایا ھے”

باقی میں سنبھال لونگی ” زکوئ نے کہا
وہ رات گزر گئ پھر اور کئ راتیں گزر گی، سلطان صلاح الدین ایوبی انتظامی اور فوجی کی نئ بھرتی میں اتنا مصروف تھا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نھی نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو ریپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا ۔ سلطان نے علی سے کہا

” اس کا مطلب یہ ھے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ حطرناک ھے یہ سانپ ھے جیسے مصر کی امارات آستین میں پال رھی ھے”

علی بن سفیان نے ناجی کی تحزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ھاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رھا۔ اور کہا “اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار ھے وہ ھماری بجاۓ ناجی کی وفادار ھے کیا آپ اسکا کوی علاج سوچ سکتے ھے”

” صرف سوچ ھی نھی سکتا علاج شروع بھی کر چکا ھوں،مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جا رھے ھیں وہ سوڈانی باڈی گارڈز میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ھوگی اور نہ مصری ، ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ھماری فوج میں جذب ھوجاے گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آونگا۔” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

” اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ ناجی نےصلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ھے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لاکر اسلام کو وسعت دینا چاھتے ھے مگر ناجی آپکے حوابوں کو دیوانے کا حواب بنا رھا ھے”

تم اس سلسلے میں کیا کر رھے ھوں۔” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

” یہ مجھ پر چھوڑ دیں” علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رھونگا آپ مطمیئن رھیں میں نے اسکے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار میں چن دیا ھے جس کے آنکھ بھی ھے کان بھی اور یہ دیوار متحرک ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ھے”

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائ کی تفصیل نہ پوچھی، علی نے سلطان سے پوچھا” معلوم ھوا ھے وہ آپکو جشن پر بلانا چاھتا ھے اگر یہ ٹھیک بات ھے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا ”

ایوبی اٹھا اور اپنے ھاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آہ نکی وہ رک گیا اور بولا ” بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ کے ھاتھ میں ھے بے مقصد زندگی سے بہتر نھی کہ انسان پیدا ھوتے ھی مر جاے۔؟ کھبی کھبی یہ بات دماغ میں آتی ھے کہ وہ لوگ کتنے حوش نصیب ھے جن کی قومی حس مردہ ھوچکی ھوتی ھے اور جن کا کوی کردار نھی ھوتا بڑے مزے سے جیتے ھے اور اپنی آی پر مر جاتے ھے”

وہ بد نصیب ھے امیر محترم ” علی بن سفیان نے کہا

” ھاں بن سفیان میں جب انھیں حوش نصیب کہتا ھوں تو پتہ نھی کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال لیتا ھے جو تم کہی مگر سوچتا ھوں کہ اگر ھم نے تاریح کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں وادیوں میں گم ھو جاے گا ملت کی حلافت تین حصوں میں تسیم ھوگی ھے امیر من مانی کر رھے ھیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رھے ھیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ھے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رھے تو وہ ھمشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار بنے گے وہ اسی پر حوش ھونگے کہ وہ زندہ ھے مگر قوم کی حثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھوں علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ھے وہ حاموش ھوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا

” جب تباھی اپنے اندر سے تو اسے روکنا محال ھوتا ھے اگر ھمارے حلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نھی آے گی،، وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رھے ھے اس میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رھیگے، انکی سازشیں ھمیں آپس میں لڑاتی رھے گی، میں شاید اپنا عزم پورا نہ کروسکوں۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھاجاو لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاھتا ھوں وہ یہ ھے کہ کسی غیر مسلم پر کھبی بھروسہ نھی کرنا، انکے حلاف لڑنا ھے تو لڑ کر مر جانا ، کسی غیر مسلم کے ساتھ کوی سمجھوتہ کوی معاھدہ نہ کرنا”

” آپکا لہجہ بتا رھا ھے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ھوگیے ھے” علی بن سفیان نے کہا

” مایوس نھی جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پنچاو بھرتی تیز کردو اور کوشیش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھوں۔ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت نھی، بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ھونا لازمی قرار دو، اور تم اپنے لیے زھن نشین کردو کہ ایسے جاسوسوں کو دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔ اور شب حون بھی مارے یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا ، انھیں حصوصی تربیت دو ، ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکے۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ھوں۔ ان میں صحرائ لومڑی کی مکاری ھوں اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت طاقت کے مالک ھوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھوں اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یح ھوں ،، بھرتی تیز کرادو علی سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو

میں ھجوم کا قائل نھی ، مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ھے حواہ تعداد تھوڑی ھوں ، ان میں قومی جذبہ ھوں اور وہ میرے عزم کو سمجھتے ھوں ، کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ھو کہ اسے کیوں لڑایا جا رھا ھے،،

٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎­٭؎٭

اگلے دس دنوں میں ھزارھا تربیت یافتہ سپاھی امارت مصر کی فوج میں آگیے اور ان دس دنوں میں ذکوئ کو ناجی نے ٹرینئنگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کی جال میں پھنسا کر اسکی شحصیت اور اسکا کردار کمزور کر سکتی ھے ۔ ناجی کے ھمراز دوستوں نے جب ذکوئ کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ مصر کے فرغون بھی اس لڑکی کو دیکھ لیتے تو وہ حدائ کے وعدے سے دستبردار ھو جاتے ، ناجی کا جاسوسی کا اپنا نظام تھا ، بھت تیز اور دلیر ،، وہ معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا حاص مشیر ھے۔ اور عرب کا مانا ھوا سراغرساں ، اس نے علی کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا ۔ ذکوئ کو ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے تیار کیا تھا ، لیکن وہ محسوس نھی کر سکا کہ مراکش کی رھنے والی یہ لڑکی حود اسکے اپنے اعصاب پر سوار ھو گی ھے ، وہ صرف شکل و صورت ھی کی دلکش نھی تھی ، اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ھی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لی ، جو اسکی منظور نطر تھی ، تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا بھی نھی تھا، ناجی سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی جو انکے آغوش سے ذکوئ کی آغوش میں چلی گی تھی ،انھوں نے ذکوئ کو راستے سے ھٹانے کی ترکیبیں شروع کردی ، وہ آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے قتل کیا جاے ، لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا ، کونکہ ناجی نے اسے جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ھوا کرتا تھا ، اسکے علاوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بلااجازت نھی نکل سکتی تھی جو ناجی نے انھیں دے رکھا تھا ، انھوں نے حرم کی حادمہ ) نوکرانی( کو اعتماد میں لینا شروع کیا ، وہ اسکے ھاتھوں ذکوئ کو زھر دینا چاھتی تھی۔۔

علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ، یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے ، اسکی جگہ علی نے ان سپاھیوں میں باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آے تھے ، یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری میں بھی تاک تھا ، اور جذبے کے لحاظ سے ھر سپاھی اس دستے کا اصل میں مرد مجاھد تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بلکل بھی پسند نھی تھی۔۔ لیکن اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی ، اور اسکے ساتھ ھی درحواست کی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ وی ایک آدھے میں اسکو بتاے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا ۔ ناجی کے جانے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جاے ۔ علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول کریں۔۔

دوسرے دن سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ھے ، ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ھوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا میںمشغلوں کی میں منایا جاے گا،ناچ گانے کا انتظام ھوگا، باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھاےنگے ،، شمشیر زنی اور بغیر تلوار کے لڑئیوں کے مقابلے ھونگے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو رات وھی قیام کرنا پڑے گا ، رھایش کے لیے حیمے نصب ھونگے ، سلطان صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رھا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نھی کیا تھا ، ناجی نے ڈرتے اور جھجکتے ھوے کہا ” فوج کے بیشتر سپاھی جو مسلمان نھی یا جو ابھی نیم مسلمان ھے کھبی کھبی شراب پیتے ھے ، وہ شراب کے عادی نھی لیکن وہ اجازت چاھتے ھے کہ جشن میں انھیں شراب پینے کی اجازت دی جاۓ ”
“آپ ان کے کمانڈر ھوں آپ چاھیے تو ان کو اجازت دے دیے نہ چاھیں تو میں آپ پر اپنا حکم مسلط نھی کرنا چاھتا ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

ؔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا اقبال بلند ھوں میں کون ھوتا ھوں اس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سحت ناپسند کریں ” ناجی نے کہا

” انھیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ھنگامہ آرائ اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ھے اگر شراب پی کر کسی نے ھلہ گلہ کیا تو اس کو سحت سزا دی جاے گی”

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔

یہ حبر جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاھیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد کررھا ھے اور اس میں ناچ گانا بھی ھوگا شراب بھی ھوگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب خرافات کے باوجود بھی قبول کی ھے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رھے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ھے اور دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاھتا ھے اور کسی نے کہا ناجی کا سلطان صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ۔یہ راۓ ناجی کے ان افسروں کو بھی پسند آی جو ناجی کے ھم نوا اور ھم پیالہ تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ھی ان کی عش و عشرت شراب اور بدکاری حرام کردی تھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسا سحت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو بھی پہلے کی طرح اپنے فرایض سے کوتاھی کی جرات نھی ھوتی تھی ، وہ اس پر حوش تھے کہ نیے امیر مصر نے ان کو رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل وہ بھی حود ان سب چیزوں کا رسیا ھو جاے گا ،، صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی ۔

جشن کی شام آگی ، ایک تو چاندنی رات تھی ، صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ھوتی ھے کہ ریت کے زرے بھی نظر آجاتے ھے ، دوسرے ھزارھا مشغلوں نے وھاں کی صحرا کو دن بنایا تھا ، باڈی گارڈز کا ھجوم تھا جو ایک وسیغ میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ، ایک طرف جو مسند سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے رکھی گی تھی وہ کسی بھت بڑے بادشاہ کا معلوم ھوتا تھا ، اسکے دایئں بایئں بڑے مہمانوں کے لیے نششتیں رکھی گی تھی ، اس وسیع و عریض تماش گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت حوبصورت حیمے نصب تھے ، ان سے ھٹ کر ایک بڑا حیمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی۔ ۔ علی بن سفیان نے صبح سورج غروب ھونے سے پہلے وھاں جاکر محافظ کھڑے کردیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وھاں محافظ کھڑے کر رھا تھا تو ناجی ذکوئ کو آحری ھدایات دے رھا تھا۔

اس شام ذکوی کا حسن کچھ زیادہ ھی نکھر آیا تھا ۔ اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی حوشبو اٹھ رھی تھی۔ جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیے تھے ۔ سفید کندھوں پر سیاھی مائل بھورے بال زاھدوں کے نظروں کو گرفتار کرتے تھے۔اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائ دیتے تھے ، اسکے ھونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تھی ،،

ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا ” تمھارے حسن کا شاید سلطان صلاح الدین ایوبی پر اثر نہ ھو تو اپنی زبان استعمال کرنا ، وہ سبق بھولنا نھی جو میں اتنے دنوں سے تمھیں پڑھا رھا ھوں۔اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جاکر اسکی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درحت کی چھوٹی پر نظر آتا ھے مگر درحت پر چڑھ کر دیکھو تو غایب ۔ اسے اپنے قدموں میں بٹھالینا میں تمھیں یقین دلاتا ھوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ھوں ۔ اس سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آھن کو اپنے حسن و جوانی سے پھگلا کر مصر کے ریت میں بہادیا قلوپطرہ تم سے زیادہ حوبصورت نھی تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ھے وہ قلو پطرہ کی چالیں تھی، عورت کی یہ چالیں کھبی ناکام نھی ھو سکتی۔” ناجی نے کہا۔ذکوئ مسکرا رھی تھی اور بڑے غور سے سن رھی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دھرانے والی تھی سورج غروب ھوا تو مشغلیں جل گی

سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ سلطان کے آگے پیچھے دایئں بایئں اس محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتحب کیئے تھے ، اسی دستے میں سے ھی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ھی یہاں لاکر سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے ، سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائ اور صحرا” امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی زندہ باد ” کے نغروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا” آپ کے جانثار عظمت اسلام کے پاسبان آپکو بسروچشم حوش آمدید کہتے ھے ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے۔” اور حوشامد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آے ناجی نے کہہ دیئے۔

جونھی سلطان صلاح الدین ایوبی اپنی شاھانہ نشست پر بیٹھا۔ سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنایی دینے لگی گھوڑے جب روشنی میں آے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دایئں سے اور 4 بایئں سے آرھے تھے ھر ایک پر ایک ایک سوار تھا اور ان کے پاس ھتیار نھی تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرھے تھے صاف ظاھر تھا کہ وہ ٹکرا جاینگے کسی کو معلوم نھی تھا کہ وہ کیا کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آے تو سوار رکابوں میں پاؤں جماے کھڑے ھوے پھر انھوں نے لگامیں ایک ایک ھاتھ میں تھام لی اور دوسرے بازو پھیلا دیئے دونوں اطرف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگیئے اور سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گی۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشیش کی سب گھوڑے جب آگے نکل گیے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گیئے تھے ریت پر قلابازیاں کھا رھے تھے ، ایک طرف کے ایک سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جھکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر لاد کر لے جا رھا تھے ، ھجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز حود کو سنائ نھی دے رھی تھی۔ یہ سواز اندھیرے میں غائب ھوے تو دونون اطرف سے اور چار چار گھوڑ سوار آے اور مقابلہ ھوا اس طرح آٹھ مقابلے ھوے اور اسکے بعد شتر سوار آے پھر گھوڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئ کرتب دکھاے ۔ اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ھتیاروں کے لڑائ کے مظاھرے ھوے جن مین کئ ایک سپاھی زحمی ھوے سلطان صلاح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ھوکر رہ گیا تھا اسے ایسے ھی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا ” اگر اس فوج میں اسلامی جذبہ بھی ھوں میں اسی فوج سے ھی صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا سکتا ھوں”

علی بن سفیان نے وھی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا

” اگر ناجی سے کمان لی جاۓ تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ھے ” علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی ناجی جیسے سالار کو سبکدوش نھی کرنا چاھتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر لانا چاھتا تھا۔وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج احلاقی کے لحاظ سے کیسی ھے اس کو ناجی کے اس بات سے ھی مایوسی ھوی تھی کہ ناجی کے کمانڈر اور سپاھی شراب پینا چاھتے ھے اور ناچ گانا بھی ھوگا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس درحواست کی منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاھتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبا ھوا ھے۔

بہادری شجاعت شاھسواری تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پورا اترتا تھا لیکن مگر کھانے کا وقت آیا تو یہ فوج بدتمیزیوں بلانوشوں اور ھنگامہ پرور لوگوں کا ھجوم بن گی کھانے کا انتظام وسیغ و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور ان سے زرا دور سلطان صلاح الدین ایوبی اور دیگر مہمانون کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑون سالم دنبے اور بکرے اونٹوں کی سالم رانیں اور ھزارون مرغ روسٹ کیے گیے تھے دیگر لوازمات کا کوی شمار نہ تھا اور سپاھیوں کے سامنے شراب کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گی تھی ، سپاھی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑھانے لگے اور معرکہ آرائ ھونے لگی سلطان صلاح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رھا تھا اور حاموش تھا اسکے چہرے پو کوی تاثر نہ تھا جو یہ ظاھر کرتا کہ وہ کیا سوچ رھا ھے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا ” پچاس ھزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس طرح منتحب کیئے کیا یہ آپکے بدترین سپاھی ھے؟”

Read More:  Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 3

” نھی امیر مصر ،،،! یہ دو ھزار عسکری میرے بہترین سپاھی ھے آپ نے انکے مظاھرے دیکھے ان کی بہادری دیکھی ھے میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاھرہ کرینگے وہ آپکی حیران کردیگی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دکھیں یہ آپکے اشارے پر جانیں قربان کردینگے میں انھیں کھبی کھبی کھبلی چھٹی دے دیا کرتا ھوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزہ اٹھا لیں ” ناجی نے غلامانہ لہجے میں کہا

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس استدلال کے جواب میں کچھ نھی کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ھوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا ” میں جو دیکھنا چاھتا تھا وہ دیکھ لیا ھے یہ سوڈانی شراب اور ھنگامہ آرائ کے عادی ھے ، تم کہتے ھوں ان میں جذبہ نھی ھے میں دیکھ رھا ھوں ان میں کردار بھی نھی ھے ۔ اس فوج کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گیے تو یہ لڑنے کی بجاے اپنی جان بچانے کی فکر کرے گی اور مال غنیمت لؤتے گی اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے گی ”
” اسکا علاج یہ ھے کہ آپ نے جو فوج مصر کے محتلف حطوں سے بھرتی کی ھے اسکو ناجی کے 50 ھزار فوج میں مدغم کرلیں برے سپاھی اچھے سپاھیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ھے ” علی بن سفیان نے کہا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا ” تم یقینا میرے دل کا راز جانتے ھوں میرا منصوبہ یہی ھے جو میں ابھی تمھیں نھی بتانا چاہ رھا تھا ، تم اسکا زکر کسی سے نھی کرنا ”

علی بن سفیان میں یہی وصف تھی کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر زھین تھا وہ کچھ اور کہنے ھی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشغلیں روشن ھوی ، زمین پر بیش قیمت قالینں بچھے ھوے تھے ، شہنائ اور سارنگ کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ھوی ، بیس لڑکیاں ایسے باریک اور نفیس لباس میں چلی آرھی تھی کہ ان کے جسموں کا انگ انگ نظر آرھا تھا ھر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا جو شانوں س ٹحنوں تک تھا ان کے بال کھولے ھوے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرھے تھے جسکا انھوں نے لباس پہنا ھوا تھا صحرا کی ھلکی ھلکی ھوا سے اور لڑکیوں کی کے چال سے یہ ڈھیلا ڈھالا لباس ھلتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے بھولدار پودون کی ڈالیاں ھوا میں تیرتی ھوی آرھی ھوں ھر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ھر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے سے محتلف تھی لیکن حس جسم کی جلک میں ساری ایک ھی جیسی تھی انکے مرمریں بازو عریاں تھے وہ چلتی آرھی تھی لیکن قدم اٹھتے نطر نھی آرھی تھی وہ ھوا کی لہروں کی مانند تھی وہ نیم دائرے میں ھوکر رہ گی سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تغظیم کے لیے جھکی سب کے بال سرک کر شانوں پر آگے سازندوں نے ان ریشمی بالوں اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ھیکل حبشی جن کے کمر کے گرد چیتوں کی کالی تھی ایک بڑا سا ٹوکرہ اٹھاے تیز تیز قدم چلتے آے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا ساز سپیروں کے بین کی دھن بجانے لگے ، حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ھوے غایب ھوے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل گئ، اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ھوا اور پھر وہ اوپر کو ٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے یہ سرح بادلوں میں ایک چاند نکل رھا ھوں یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نھی ھوتی تھی اسکی مسکراھٹ بھی عارضی نھی تھی اسکے آنکھوں کی چمک بھی مصر کی کیسی لڑکی کے آنکھوں کی چمک نھی لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھولہ کی چوڑی پتیوں میں سے باھر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشیئوں کو مسحور کردیا ، علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھا اسکے ھونٹوں پر مسکراھٹ تھی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں میں کہا ” علی ۔۔ مجھے توقع نھی تھی کہ یہ اتنی حوبصورت ھوگی ”

ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا ” امیر مصر کا اقبال ھوں ۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئ ھے اس میں نے آپکی حاطر اسکندریہ سے بلوایا ھے ، یہ پیشہ ور رقصہ نھی یہ طوایف بھی نھی اسکو رقص سے پیار ھے شوقیہ ناچتی ھے کسی محفل میں نھی جاتی میں اسکے باپ کو جانتا ھون ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ھے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند ھے آپکو پیغمبر مانتی ھے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ھے سلطان صلاح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آے ھے اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔میرے پاس اپنی جان اور رقص کے سوا کچھ بھی نھی جو میں اس عظیم ھستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاھتا تھا ”

” کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نھی دیکھ سکتا یہ لڑکیاں جسے آپ ملبوس لاے ھے بلکل ننگی ھے” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ ” عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر رقص کو ناپسند کرتے ھے لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیوںکہ اس میں گناہ کی دعوت نھی یہ ایک باعصمت لڑکی کا رقص ھوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نھی اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ھوتی تو سلطان کی جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شام ھو جاتی” ناجی نے کھسیانہ ھوکر کہا

” آپ کیا کہنا چاھتے ھے اس لڑکی کو اپنے پاس بلا کر حراج تحسین پیش کرو کہ تم ھزاروں لوگون کے سامنے اپنا جسم ننگا کر کہ بھت اچھا ناچتی ھوں ؟ اسے اس پر شاباش دو کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں حوب مہارت حاصل کی ھے۔۔؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔

” نھی امیر مصر میں اسے اس عودے پر یہاں لایا ھوں کہ آپ سے شرف باریابی بحش گے یہ بڑی دور سے اسی امید پر آی ھے ، زرا دیکھیئے اسے۔۔ اسکی رقص میں پیشہ وارنہ تاثر نھی حود سپردگی ھے۔۔۔۔ دیکھیئے وہ آپکو کیسی نطروں سے دیکھ رھی ھے بیشک عبادت صرف اللہ کی کیجاتی ھے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رھی ھے ، آپ اسے اپنے حیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ، تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھے جس کی کوکھ سے اسلام کے جانباز پیدا ھونگے یہ اپنے بچوں کو فحر سے بتایا کرے گی کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے تنہایی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا” ناجی نے نہایت پر اثر اور حوشامدی لہجے میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے حریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ھے ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ ” اچھ اسے میرے حیمے میں بھیج دینا ” زکوئ نہایت آھستہ آھستہ جسم کو بل دیتی اور بار بار سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ، باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جسے اسکے آس پاس اڑ رھی تھی ، یہ اچھل کود والا رقص نھی تھا ،شغلوں کی روشنی میں کھبی تو یوں لگتا تھا جیسے ھلکے نیلے شفاف پانی میں جل پریاں تیر رھی ھو

چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے مطالق کوی نھی بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رھا تھا ناجی کے سپاھی جو شراب پی کر ھنگامہ کر رھے تھے وہ بھی جیسے مر گیےگیے تھے ، زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا ناجی اپنی کامیابی پر بھت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رھی تھی۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭

نصف شب کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے حیمے میں داحل ھوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے الین بچھا دیئے تھے پلنگ پر چیتے کی کال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ھلکی نیلی روشنی صحر کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی حیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ حیمے میں اندر گیا اور کہا ” اسے زرا سی دیر کے لیے بیھج دو

میں وعدہ حلافی سے بھت ڈرتا ھوں،،،،، ” بھیج دو ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

اور ناجی ھرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا حیمے سے باھر گیا ، تھوڑا ھی وقت گزرا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اسکے حیمے کی طرف آتے دیکھا

حیمے کی ھر طرف مشغلیں روشن تھی روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گروپیش میں اچھی طرح سے دیکھ سکے رقاصہ ریب آی تو انھوں نے اسے پہچان لیا انھوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وھی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوی تھی وہ رقص میں لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ، محافظوں کے کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئ نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ھے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نھی کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارے ” آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بلاے آنے کی جرات نھی کر سکتی ”

” انکا بلاوا تم کو کس نے دیا ” کمانڈر نے پوچھا

” سالار ناجی نے کہا کہ تمیھیں امیر مصر بلا رھے ھے آپ کہتے ھوں تو میں چلی جاتی ھوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم حود بھگت لینا ” زکوی نے کہا کمانڈر تسلم نھی کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے حیمے میں بلوایا ھے وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو 100 درے بھی مار جاے گے ، کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ھمت کی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے میں اندر چلا گیا ایوبی اندر ٹہل رھا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا ” باھر ایک رقاصہ کھڑی ھے کہتی ھے کہ حضور نے اسے بلوایا ھے ” اسے اندر بھیج دو” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باھر نکلا اور زکوئ کو اندر بھیج دیا ۔۔۔ سپاھیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اس لڑکی کو باھر نکال لیے گا وہ سب سلطان صلاح الدین ایوبی کی گرجدار آواز سننے کے لیے تیار ھوے تھے لیکن ایسا کچھ نھی ھوا رات گزرتی جارھی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں آرھی تھی ، محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رھا تو ایک سپاھی نے کہا” کیا یہ حکم صرف ھمارے لیے ھے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ھے ”

” ھاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ھوتا ھے ” کمانڈر نے کہا

امیر مصر کو درے نھی لگاے جاسکتے۔۔؟'”

” بادشاھوں کا کوی کردار نھی ھوتا سلطان صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ھوگا ھم پر جھوٹی پارسائ کا رعب جمایا جاتا ھے” کمانڈر نے کہا

انکی نگاھوں میں صلاح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکلا جو عیاش تھا پارسائ کے پردے میں گناہ کا مرتکب ھو رھا تھا،، ناجی بھت حوش تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی کی حوشنودی کے لیے اس نے شراب سونگی بھی نھی تھی وہ اپنے حیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رھا تھا اسکے سامنے اسکا نایب سالار اوروش بیٹھا ھوا تھا ” اسے گیے بھت وقت ھو گیا ھے معلوم ھوتا ھے ھمارا تیرے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ھے ” اوروش نے کہا۔۔۔۔” ھمارا تیر حطا کب گیا تھا اگر حطا جاتا بھی تو اب تک ھمارے آجاتا” ناجی ے قہقہ لگا کر کہا ‘ تم ٹھیک کہتے ھوں ۔ زکوئ انسان کے روپ میں ایک طلسم ھے معلوم ھوتا ھے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہ ھے ورنہ سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا بت کھبی نھی ٹورتی سکتی۔” اوروش نے کہا

” میں نے سے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشن کے کھبی وھم و گمان میں بھی نہ آے ھوبگے اب سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اترانی بای رہ گی ھے ” ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باھر آھٹ سنائ دی ناجی نے دور سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے کی طرف دیکھا ، پردے گرے ھوے تھے اور سپاھی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے کہا” اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ھوں کہ میری زکوئ نے بت توڑ ڈالا ھے”٭٭٭٭٭٭٭
رات کا آخری پہر تھا جب زکوئ سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے سے باھر نکلی ناجی کے حیمے میں جانے کے بجاے وہ دوسری طرف چلی گی راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ھی لبادے میں چھپا ھوا تھا اس نے دھیمی سی آواز میں زکوئ کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گی وہ اسکو حیمے میں لیے گیا بھت دیر بعد وہ اس حیمے سے نکلی اور ناجی کے حیمے کا رھ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رھا تھا اور کئ بار سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے کی طرف باھ نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ھے اور اسے آسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کر ناجی کی پسنت زھنیت میں لے آی ،،،” اوروش رات بھت ھوی ھے وہ ابھی تک واپس نھی آی” ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔” وہ اب آے گی بھی نھی ، ایسے ھیرے کو کوی شہزادہ واپس نھی کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جاے گا تم نے اس پر بھی غور کیا ھے۔۔؟” اوروش نے کہا

” نھی میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ھی نھی تھا ” ناجی نے کہا

کیا یہ نھی ھوسکتا کہ امیر مصر زکوئ کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ھمارے کام کی نھی رھے گی” اوروش نے کہا ۔” وہ ھے تو ھوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ،، وہ رقاصہ کی بیٹی ھے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے سکتی ھے۔۔” ناجی نے کہا ،،، وہ گہرئ سوچ میں تھا کہ زکوئ حیمے میں داحل ھوی،اس نے ھنس کر کہا ” اپنے امیر مصر کا وزن کرو لاؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟”

” پہلے بتاو ھوا کیا” ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ ” جو آپ چاھتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صلاح الدین پتھر ھے فولاد ھے اور وہ مسلمانوں کے اللہ کا سایہ ھے ” اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مارکر کہا ” وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ھے جس کو ھوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ھے ” زکوی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ”

یہ تمھارے حسن کا جادو اور زبان کی طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبحت چٹان ھے”

اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ھاں چٹان تھا لیکن اب رتیلا ٹیلا بھی نھی ” زکوی نے کہا

” میرے متعل کوی بات ھوی”؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔” ھاں پوچھ رھا تھا کہ ناجی کیسا انسان ھے میں نے کہا کہ مصر میں اگر آپکو کسی پربھروسہ کرنا چاھیے تو وہ ناجی ھے اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ھوں میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ھے ھمارے گھر گیے تھے اور کہہ رھے تھے کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام ھوں مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاونگا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ھوں، میں نے کہا میں آپکی لونڈی ھوں آپکا ھر حکم سر آنکھون پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گی ، پھر وہ اگر پتھر تھا تو موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈال لیا ، اس سے رحصت ھونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ، کہنے لگا میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ھے ، میں نے کہا یہ گناہ نھی آپ نے میرے ساتھ کوی دھوکہ نھی کیا زبردستی نھی کی مجھے بادشاھوں کی طرح حکم دے کر نھی بلوایا، میں حود آئ تھی اور پھر بھی آونگی۔” زکوئ نے ھر بات اس طرح کھل کر سنائ جس طرح اسکا جسم عریاں تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازؤں میں لیں لیا اوروش زکوئ کو حراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر حیمے سے نکل گیا ۔

٭٭٭ ا؎؎؎؎ا٭٭٭

صھرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائ صبح سے محتلف نھی تھی مگر اس صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا حواب سلطان صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ھوا ، گزشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ھوا اسکے 2 پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے دوسرے سے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافط دستہ واقف تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی اسکا سراغرسان اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئ تین ایسے افراد تھے جو اس واقعے کے دونون پہلوں سے واقف تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی اور اسکے سٹاف کو ناجی نے نہایت ھی شان اور عزت کے ساتھ رحصت کیا ، سوڈانی فوج دو رویہ کھڑی ” سلطان صلاح الدین ایوبی زندباد” کے نغرے لگا رھی تھی، سلطان صلاح الدین ایوبی نے نغروں کے جواب میں ھاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پراہ نھی کی ناجی سے ھاتھ ملایا اور اپنے گھوڑے کو ایڑی لگای اسکے پیچھے اپنے محافط اور دیگرے سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نایب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا وہ سارا دن کمرے میں بندے رھے سورج غروب ھوا تاریکی چھا گی کمرے کے اندر کھانا تو دور پانی بھی نھی گیا ، رات حاصی گزر چکی تھی جب وہ تینوں کمرے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ھوے علی بن سفیان ان سے الگ ھوا تو محافظ دوستوں کے ایک کمانڈر نے اسے روکا اور کہا۔۔۔

” محترم ۔۔! ھمارا فرض ھے کہ حکم مانے اور زبانیں بند رکھے لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی پھیل گی ھے حود میں بھی اسکا شکار ھوا ھوں”

” کیسی مایوسی ” علی بن سفیان نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔

کمانڈر نے کہا “محافظ کہتے ھے کہ فوج کو اگر شراب پینے کی اجازت ھے تو ھمیں اس سے کیون منع کیا گیا ھے اگر آپ میری شکایت کو گستاحی سمجھے تو سزا دیں دے لیکن میری شکایت سنیں ھم اپنے امیر کو اللہ کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات،،،،،،”

” مگر رات کو اسکے حیمے میں ایک رقاصہ گی” علی بن سفیان نے کمانڈر کی بات مکمل کرتے ھوے کہا ” تم نے کوی گستاحی نھی کی ، گناہ امیر کریں یا غلام سزا میں کوی فرق نھی ، گناہ بہرحال گناہ ھے میں یقین دلاتا ھوں آپکو کہ امیر مصر اور رقاصہ کے پچھلی رات کی ملاات میں گناہ کا کوی عنصر نھی کوی تعلق نھی ،، یہ کیا تھا۔۔؟ ابھی میں تمکو نھی بتاونگا آھستہ آھستہ وقت گزرتے ھوے تم سب کو پتہ چل جاے گا کہ رات کو کیا ھوا تھا ” علی بن سفیان نے کمانڈر کے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ۔ تم پرانے عسکری ھوں اچھی طرھ جانتے ھوں کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ھوتے ھے جن کی حفاظت ھم سب کا فرض ھے رقاصہ کا امیر مصر کے حیمے میں جانا بھی ایک راز ھے اپنے جانبازوں کو شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے زکر تک نہ ھو کہ رات کو کیا ھوا تھا” علی بن سفیان نے کہا

یہ کمانڈر پرانا تھا اور علی بن سفیان کی قابلیت سے آگاہ تھا سو اس نے اپنے دستے کے تمام شکوک رفو کیئے اگلے روز سلطان صلاح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رھے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاغ دی گی کہ ناجی آے ھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ھوکر ناجی سے ملے ، ناجی کا چہرہ بتارھا تھا کہ غصہ میں ھے اور گھبرایا ھوا ھے اس نے ھکلاتے ھوے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” قابل صدا احترام امیر مصر۔۔۔کیا یہ حکم آپ نے جاری کیا ھے کہ سوڈانی فوج کی پچاس ھزار نفری مصر کی اس فوج مین مدغم کردی جاے جو حال ھی میں تیار ھوی ھے ”

” ھاں ناجی میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کہ اور بڑی گہری سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا ھے کہ جس فوج کے تم سالار ھوں اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کردیا جاے کہ ھر دستے میں سوڈانیوں کی نفری صرف دس فیصد ھو اور تمھیں یہ حکم بھی مل چکا ھوگا کہ اب تم اس فوج کے سالار نھی ھوگے تم فوج کے مرکزی دفتر میں آجاوگے ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا،

” عالی مقام مجھے کس جرم کی سزا دی جارھی ھے” ناجی نے کہا

” اگر تمھیں یہ فیصلہ پسند نھی تو فوج سے الگ ھو جاو” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

“معلوم ھوتا ھے میرے حلاف سازش کردی گی ھے آپ کو بلند دماغ اور گہری نظر سے چھانبین کرنی چاھیے مرکز میں میرے بھت سے دشمن ھے” ناجی نے کہا

” میرے دوست میں نے یہ فیصلہ صرف اسلیئے کیا کہ کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا حطرہ ھمشہ کے لیے نکل جاۓ اور میں نے یہ فیصلہ اسلیئے کیا ھے کہ کسی کا عہدہ کتنا ھی کیوں نہ بلند ھوں اور کتنا ھی ادنیٰ کیوں نہ ھوں وہ شراب نہ پیئے ھلڑ بازی نہ کریں اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ھوں” صلاح الدین ایوبی نے کہا۔

” لیکن عالی جاہ۔۔۔ میں تو حضور سے اجازت لی تھی” ناجی نے کہا

” میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اسلیئے دی تھی کہ اس فوج کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم ملت اسلامیہ کا فوج کہتے ھوں ، میں پچاس ھزار نفری کو برطرف نھی کرسکتا مصری فوج میں اس کو مدغم کر کہ اسکے کردار کو سدھار لونگا اور یہ بھی سن لو کہ ھم میں کوی مصری سوڈانی شامی عجمی نھی ھے ھم سب مسلمان ھے ھمارا جھنڈا ایک اور مذھب ایک ھے ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

” امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ھوتا کہ میری کیا عزت رہ جاے گی” ناجی نے کہا

“جس کے تم اھل ھوں، اپنی ماضی پر ھی نظر ڈالوں ضروری نھی کہ اپنی کارستانیوں کی داستانیں مجھ سے ھی سنو فورا واپس جاو اور اپنی فوج کی نفری سامان جانور سامان حوردونوش وغیرہ کے کاغزات تیار کر کہ میرے نایب کے حوالے کرو سات دن کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل ضروری ھونی چاھیے” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

ناجی نے کچھ کہنا چاہ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی ملاقات کے کمرے سے باھر نکل گیے ………….
یہ بات ناجی کے حفیہ خرم میں پہنچ گی تھی کہ زکوئ کو شاہ مصر نے رات بھر شرف باریابی بحشا ھے، زکوئ کے حلاف حسد کی آگ پہلے ھی پھیلی ھوی تھی، اسے آے ابھی تھوڑا ھی عرصہ گزرا تھا لیکن آتے ھی ناجی نے اسکو اپنے پاس رکھا تھا ، اسے زرا سی دیر کے لیے بھی اس حرم میں جانے نھی دیتا جہاں ناجی کی دلچسپ ناچنے والی لڑکیاں رھتی تھی زکوی کو اس نے الگ کمرہ دیا تھا، انھیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ ناجی زکوی کو صلاح الدین کو موم کرنے کی ٹرینگ دے رھا ھے اور کس بڑے تحریبی منصوبے پر کام کر رھا ھے ، یہ رقاصایئں بس یہی دیکھ کر جل بھن گی تھی کہ زکوئ نے ناجی پر قبضہ کرلیا تھا،اور ناجی کے دل میں ان کے حلاف نفرت پیدا کردی گی ھے ، حرم کی دو لڑکیاں زکوئ کو ٹھکانے لگانے کی سوچ رھی تھی، اب انھوں نے دیکھا کہ زکوئ کو امیر مصر نے بھی رات بھر اپنے خیمے میں رکھا تو وہ پاگل ھو گئ، اسکو ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا، قتل کے دو ھی طریقے ھو سکتے تھے زھر یا کراے کے قاتل۔ جو زکوئ کو سوتے ھوے ھی قتل کردیں،دونوں ھی طریقے ناممکن لگ رھے تھے کیونکہ زکوئ باھر نھی نکلتی تھی اور اندر جانے تک اسکو رسائ کا کوی زریعہ نھی تھا،

ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ ھوشیار چالاک ملازمہ کو اعتماد میں لیا تھا ، اسے انعام و اکرام دیتی رھتی تھی، جب حسد کی انتہا نے انکی آنکھوں میں خون اتار دیا تو انھوں نے اس ملازمہ کو منہ مانگا انعام دے کر اپنا مدعا بیان کیا ، یہ ملازمہ بڑی حرانٹ اور منجھی ھوی عورت تھی، اس نے کہا کہ سالار کی رھایئشگاہ میں جاکر زکوئ کو زھر دینا مشکل نھی، موقعہ محل دیکھ کر اسکو خنجر سے قتل کیا جاسکتا ھے اس کے لیے وقت چاھیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ زکوئ کی نقل حرکت پر نظر رکھے گی ھوسکتا ھے کوی موقعہ مل جاے ، اس جرائم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقعہ نھی ملا تو حشیشن ) زکر پہلے ھو چکا ھے : بلیٹ( کی مدد لی جا سکتی ھے مگر وہ معاوضہ بھت زیادہ لیتے ھے دونوں لڑکیوں نے اسکو یقین دلایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دے سکتے ھے،٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ناجی اپنے کمرے میں بھت غصے کی عالم میں ٹہل رھا تھا زکوئ اسکو ٹھنڈہ کرنے کی کوشیش کر رھی تھی لیکن اسکا غصہ مزید بڑھتا چلا جا رھا تھا ،

” آپ مجھے اسکے پاس جانے دیں میں اسکو شیشے میں اتار لونگی” زکوی نے کہا

” بیکار ھے ،،،،،، وہ کمبحت حکم نامہ جاری کرچکا ھے ، جس پر عمل بھی ھوچکا ھے مجھے اس نے کہی کا نھی رھنے دیا ، اس پر تمھارا جادو نھی چل سکا مجھے معلوم ھے میرے حلاف سازش کرنے والے لوگ کون ھے وہ میری ابھرتی ھوی حثیت سے حسد محسوس کر رھے ھے میں امیر مصر بننے والا تھا ، یہاں کے حکمرانوں پر میں نے حکومت کی ھے حالنکہ میں معمولی سا سالار تھا اب میں سالار بھی نھی رھا،” ناجی نے دربان کو بلا کر کہا کہ اوورش کو بلاے، اسکا ھمراز اور نائب آیا تو اس نے بھی اسی موضوع پر بات کی اسے وہ کوی نئ حبر نھی سنا رھا تھا، اوورش کے ساتھ وہ صلاح الدین کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ حیال کرچکا تھا مگر دونوں اسکے حلاف کوی تفصیلی کاروائ نھی سوچ سکے تھے اب ناجی کے دماغ میں جوابی کاروائ آگی تھی اس نے اوورش کو کہا ” میں نے جوابی کاروائ سوچ لی ھے ”

Read More:  Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 29

” کیا ” اوورش نے کہا

” بغاوت ” ناجی نے کہا اور اوورش اسکو چپ چاپ دیکھتا رھا۔ناجی نے اسکو کہا ” تم حیران ھو گیے ھوں کیا تمھیں شک ھے کہ یہ 50 ھزار سوڈانی فوج ھماری وفادار نھی۔۔۔؟کیا سلطان کے مقابلے میں مجھے اور تمھیں اپنا سالار اور حیر حواہ نھی سمجھتی ۔۔؟ کیا تم اس فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر آمادہ نھی کر سکتے کہ تمھیں مصرف کا غلام بنایا جا رھا ھے مصر تمھارا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ”

” میں نے اس اقدام پر غور نھی کیا تھا بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ھو سکتا ھے لیکن مصر کی نئ فوج بغاوت کو دبا سکتی ھے اور اس نئ فوج کو کمک بھی مل سکتی ھے ، حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ھمیں ھر پہلو پر غور کرنا چاھیے” اوورش نے کہا

“میں غور کرچکا ھوں میں عیسائ بادشاھوں کو مدد کے لیے بلا رھا ھوں ، تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بھت دور جانا ھے آو میری بات بھت غور سے سنو ،، زکوئ تم اپنے کمرے میں چلی جاو ” ناجی نے کہا زکوی اپنے کمرے میں چلی گی اور وہ دونوں ساری رات اپنے کمرے میں بیٹھے رھے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا دورانیہ 7 دن رکھا تھا ، کاغذی کاروائ ھوتی رھی ناجی پوری طرح سے تعاون کرتا رھا 7 روز گزر چکے تھے ناجی ایک بار پھر سلطان صلاح الدین ایوبی سے ملا لیکن کوی شکایت نھی کی ، تفصیلی ریپورٹ دیں کر کہا کہ سات دن میں دونوں فوجیں ایک ھوجاے گی ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے نایئبین نے بھی یقین دلایا کہ ناجی ایمانداری سے تعاون کر رھا ھے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی ، اکے انٹیلی جنس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج میں کسی حد تک بے اطمینانی اور ابتری پائ جا رھی ھے وہ مصری فوج میں مدغم ھونے پر حوش نھی ان میں یہ افواھیں پھیلائ جا رھی تھی کہ مصری فوج میں مدغم ھوکر انکی حثیت غلاموں جیسی ھو جاے گی،انکو مال غنیمت بھی نھی ملے گا اور ان سے بردباری کا کام لیا جاے گا اور سب سے بڑی بات کہ انکو شراب نوشی کی اجازت نھی ھوگی علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی تک یہ حبریں پہنچا دی ،، ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل وقت سے عیش کی زندگی بسر کر رھے ھیں انکو یہ تبدیلی پسند نھی آے گی ، مجھے امید ھے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ھوجائنگے،

” اس لڑکی سے ملاقات ھوی کہ نھی ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا

” نھی اس سے ملاقات ممکن نظر نھی آرھی میرے آدمی ناکام ھوچکے ھے ناجی نے اسکو قید کر کہ رکھا ھے ” علی بن سفیان نے کہا

اس سے اگلی رات کا ھے رات ابھی ابھی تاریک ھوئ تھی زکوئ اپنے کمرے میں تھی ناجی اور اوورش ساتھ والے کمرے میں تھے اسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائ دی اس نے پردہ ھٹادیا ، باھر کے چراغوں کی روشنی میں اسکو دو گھوڑ سوار گھوروں سے دکھائ دیئے ۔ لباس سے وہ تاجر معلوم ھورھے تھے گھوڑوں سے اتر کر وہ ناجی کے کمرے کی طرف بڑھے تو انکی چال بتا رھی تھی کہ یہ تاجر نھی اتنے میں اوورش باھر نکلا دونوں گھوڑ سوار اسکو دیکھ کر رک گیے اور اوورش کو سپاھیوں کے انداز سے سلام کیا ، اوورش نے ان کے گرد گھوم کر انکا جائزہ لیا اور پھر کہا کہ اپنے ھتیار دکھاو دونوں نے پھرتی سے چغے کھولے اور ھتیار دکھاے دیئے انکے پاس چھوٹی چھوٹی تلواریں اور ایک ایک نیزہ تھا اوورش انکو کمرے کے اندر لیے گیا دربان باھر کھڑا تھا

زکوئ گہرے سوچ میں پڑ گی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کی طرف بڑھ گی

مگر دربان نے اسکو دروازے پر ھی رکا اور کہا کہ اسے حکم ملا ھے کہ کسی کو اندر جانے نہ دیں زکوئ کو وھاں ایسی حثیت حاصل ھو تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چلایا کرتی تھی ۔ دربان کے کہنے سے وہ سمجھ گی کہ کوی حاص بات ھے اسے یاد آیا کہ ناجی نے اسکی موجودگی میں اوورش سے کہا تھا میں عیسائ بادشاھوں کو مدد کے لیے بلا رھا ھوں ، تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بھت دور جانا ھے آو میری بات بھت غور سے سنو اور پھر اس نے زکوئ کو اندر جانے کا کہا اور ناجی پھر بعاوت کی باتیں کرنے لگا۔ یہ سب سوچ کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گی اسکے اور ناجی کے حاص کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھ جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے اسی دروازے کے ساتھ کان لگا دیئے ، ادھر کی آوازیں سنایی دے رھی تھی پہلے تو اسے کوی بات سمجھ نھی آرھی تھی لیکن بعد میں اسکو ناجی کی آواز بڑی صاٖف سنائ دیں رھی تھی

” آبادیوں سے دور رھنا اگر کوی شک میں پڑے تو سب سے پہلے اس پیغام کو غائب کرنا ، جان پر کھیل جانا جو بھی تمھارے راستے میں حائل ھو اس کو راستے سے ھٹا دینا تمھارا سفر بھت 4 دنوں کا ھے 3 دن میں پہچنے کی کوشیش کرنا سمت یاد کرلو ” ” شمال مشرق” ناجی کہ رھا تھا

دونوں آدمی باھر نکلے زکوئ بھی باھر نکلی اس نے دیکھا کہ دونوں سوار گھوڑوں پر سوار ھو رھے تھے ، ناجی اور اوورش بھی باھر نکلے تھے وہ شاید ان کو الوادغ کہنے کے لیے باھر کھڑے تھے گھوڑ سوار بھت تیزی سے روانہ ھوے ناجی نے زکوئ کو بھلا کر کہا کہ میں باھر جا رھا ھوں ، کام بھت لمبا ھے دیر لگے گی تم آرام کر لو اگر اکیلیے دل نہ لگے تو گھوم پھیر لینا ”

” ھاں جب سے آی ھوں باھر ھی نھی نکلی” زکوئ نے کہا

ناجی اور اوورش بھی چلے گے زکوئ نے چغہ پہنا کمر میں خنجر اڑسا اور خرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ کچھ سو گز دور تھی وہ ناجی پر یہ ظاھر کرانا چاھتی تھی کہ وہ خرم کے اندر ھی جا رھی ھےدربان کو بھی اس نے یہی بتایا خرم کے اندر جب زکوئ داحل ھوئ تو حرم والیوں نے اسکو دیکھ کر حیران ھوی وہ پہلی بار وھاں آئ تھی سب نے اسکا استقبال کیا اور اسکو پیار کیا ، ان دونوں لڑکیوں نے بھی اسکو

حوش آمدید کہا جو زکوئ کو قتل کرنا چاھتی تھی زکوئ سب سے ملی اور سب کے ساتھ باتیں کی پھر خرم سے باھر نکلی وہ حرانٹ ملازمہ بھی وھی تھی جسے نے زکوئ کو قتل کرنا تھا اس نے زکوئ کو بڑے غور سے دیکھا اور زکوئ باھر نکل گی
حرم والے مکان اور ناجی کے رھایش گاہ کا درمیانی علاقہ اونچا نیچا تھا اور ویران، زکوئ حرم سے نکلی تو ناجی کی رھایشگاہ کے بجاے بھت تیز تیز دوسری سمت کی طرف چل پڑی ، ادھر ایک پگڈنڈی بھی تھی لیکن زکوئ زرا اس سے دور جا رھی تھی ، زکوئ سے 15۔20 قدم دور ایک ساہ سایہ بھی چلا جا رھا تھا وہ کوی انسان ھو سکتا تھا لیکن سیاہ لبادے میں لپٹے ھونے کی وجہ سے کوی بھوت ھی لگ رھا تھا زکوئ کی رفتار تیز ھوئ تو اس بھوت نے بھی اپنی رفتار اور تیز کردی ، آگے گھنی جھاڑیاں تھی زکوئ ان میں سے روپوش ھوی ، سیاہ بھوت بھی جھاڑیوں سے روپوش ھوگیا ۔ وھاں سے کوی اڑھائ 300 سو گز دور سلطان صلاح الدین کی رھایشگاہ تھی جس کے اردگرد فوج کے اعلی رتبوں کے افراد رھتے تھے

زکوئ کا رح ادھر ھی تھا ، وہ جھاڑیوں سے نکلی ھی تھی کہ بائں طرف سے سیاہ بھوت اٹھا چاندنی بڑی صاف تھی لیکن پھر بھی اسکا چہرہ نظر نھی آرھا تھا اسکے پاؤں کی آھٹ بھی نھی تھی بھوت کا ھاتھ اوپر اٹھا چاندنی میں خنجر چمکا اور بجلی کی سی تیزی سے زکوئ کے بائں کندھے اور گردن کے درمیان اتر گیا زکوئ کی کوی چیح نھی نکلی ، خنجر اسکے کندھے سے نکال دیا گیا ۔ زکوئ نے اتنا گہرا وار کھا کر اپنے کمر بند سے اپنا بھی خنجر نکالا، بھوت نے اس پر دوسرا وار کیا تو زکوئ نے اسکے خنجر والے بازو کو اپنے بازو سے روک کر اپنا حنجر بھوت کے سینے میں اتار دیا ۔ زکوئ کو چیح سنائ دی جو کسی عورت کی تھی۔ زکوئ نے اپنا خنجر کھینچ کر دوسرا وار کیا جو اسکے پیٹ میں پورا حنجر اتر گیا ۔ اسکے ساتھ ھی زکوئ کے اپنے پہلو میں بھی خنجر لگا لیکن وہ اتنا گہرا نھی تھا ۔ اسکے ساتھ ھی حملہ کرنے والی عورت چکرا کر گر گی۔

زکوئ نے یہ نھی دیکھا کہ اس پر خملہ کرنے والا کون تھا ۔ وہ ڈور پڑی اسکے جسم سے خون تیزی سے بہہ رھا تھا سلطان صلاح الدین کا مکان اسکو چاندی میں نظر آنے لگا، آدھا فاصلہ طے کر کہ زکوئ کو چکر آنے لگے اسکی رفتار سست ھو گی اس نے چلانا شروع کیا

” علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔” علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔”

سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس عظیم جاسوس زکوئ کے کپڑے حون سے سرح ھونے لگے، وہ بھت مشکل سے اپنے قدم گھسیٹنے لگی تھی ، اس عظیم جاسوس کی منزل تھوڑی بھت ھی قریب تھی لیکن اس تک پہنچنا ممکن نظر نھی آرھا تھا ، زکوئ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے ایک قیمتی راز حاصل کیا تھا وہ مسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔۔۔۔­۔ ایوبی کہہ کر پکار رھی تھی، قریب ھی ایک گشتی سنتری پھیر رھا تھا اسے آواز سنائ تو وہ دوڑ کر وھاں پہنچ گیا، زکوئ اس پر گر پڑی اور کہا

” مجھے امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس پہنچا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔۔بھت­ جلدی”

سنتری نے جب اسکا حون دیکھا تو اسکو پیٹھ پر لاد کر دوڑ پڑا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لیں رھا تھا

اسکے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹیں کچھ اچھی نھی تھی ، علی بن سفیان نے بغاوت کے حدشے کا اظہار کیا تھا جس پر غور ھورھا تھا ، اتنے میں دربان دوڑتا ھوا آیا کہ ایک سپاھی ایک زحمی لڑکی کو اٹھاۓ باھر کھڑا ھے ، کہتا ھے یہ لڑکی امیر مصر سے ملنا چاھتی ھے۔ یہ سنتے ھی علی بن سفیان کمان سے نکلے ھوے تیر کی طرح باھر دوڑا ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی جب یہ الفاظ سنے تو وہ بھی علی کے پیچھے دوڑا، اتنے میں لڑکی کو اندر لایا گیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے چیح کر کہا ” طبیب اور جراح کو جلدی سے بلاو” لڑکی کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اٹھا کر اپنے پلنگ پوش پر لٹا دیا تھوڑے ھی وقت میں پلنگ پوش بھی حون سے سرح ھو رھا تھا

” کسی کو بلاو میں اپنا فرض ادا کر چکی ھوں ” لڑکی نے نحیف سی آواز میں کہا

” تمھیں زحمی کس نے کیا ھے زکوئ : علی نے کہا

” پہلے میری بات سن لو شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو ، دو سوار جاتے نظر آینگے دونوں کے چغے بادامی رنگ کے ھیں ، ایک کا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ھے وہ تاجر لگتے ھے ان کے پاس سالار ناجی کا تحریری پیغام ھے جو عیسائ باداشہ فرینک کو بھیجا گیا ھے ۔ ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی مجھے اور کچھ نھی معلوم ، سلطان آپکی سلطنت صحت حطرے میں ھے ان دو سواروں کو راستے میں ھی پکڑ لو۔ تفصیل ان کے پاس ھے ” بولتے بولتے زکوئ پر عشی طاری ھو گی

دو طبیب آگیے انھوں نے حون بند کرنے کی کوشیش کی زکوئ کے منہ میں دوایئاں ڈالی جن کے اثر سے زکوئ پھر سے بولنے کے قابل ھوئ ، مثال کے طور پر ناجی نے اوورش کے ساتھ کیا باتیں کی ناجی نے زکوئ کو کیسے اپنے کمرے میں جانے کو کہا ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ دو سواروں کا آنا جانا وغیرہ، پھر اس نے بتایا کہ اسکو یہ علم نھی کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا ، وہ موقعہ موزوں دیکھ کر ادھر ھی آرھی تھی کہ پیچھے سے کسی نے خنجر گھونپ دیا اس نے اپنا خنجر نکال کر اس پر حملہ کیا۔ حملہ آور کی چیح بتا رھی تھی کہ وہ کوی عورت تھی اس نے جگہ بتا دی تو اسی وقت فوجی وھاں دوڑا دیئے گیئے زکوئ نے کہا کہ وہ انسان زندہ نھی ھوگا کونکہ میں نے وار اسکے سینے اور پیٹ پر کیئے تھے

زکوئ کا حون نھی روک رھا تھا زیادہ تر حون پہلے بہہ گیا تھا سلطان صلاح الدین کا یہ جاسوس اپنی آخری سانسیں لے رھا تھا اپنے فرض پر اپنی زندگی قربان ھو رھی تھی ، زکوئ نے امیر مصر سلطان صلاح الدین کا ھاتھ پکڑ ا اور چھوم کر کہا

” اللہ آپکو اور آپکی سلطنت کو سلامت رکھے آپ شکست نھی کھا سکتے ، مجھ سے زیادہ کوی نھی بتا سکتا کہ سلطان ایوبی کا ایمان کتنا پحتہ ھے ، ” پھر اس نے علی بن سفیان سے کہا ” علی۔۔۔۔! میں نے کوتاھی تو نھی کی۔۔؟ آپ نے جو فرض دیا تھا وہ میں نے پورا کردیا

” تم نے اس سے زیادہ پورا کیا ھے ھمارے تو وھم و گمان میں بھی نھی تھا کہ ناجی اتنی حطرناک حد تک کاروائ کر سکتا ھے اور تمھیں جان کی قربانی دینی پڑے گی میں نے تم کو صرف محبری کے لیے وھاں بھیجا تھا” علی بن سفیان نے کہا

” اے کاش۔۔۔۔۔۔! میں مسلمان ھوتی ۔۔۔۔۔ زکوئ نے کہا اسکے آنسو نکل آے” میرے اس کام کا جو بھی معاوضہ بنتا ھے وہ میرے اندھے باپ اور صدا بیمار ماں کو دینا جن کی مجبوریوں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں رقاصہ بنادیا ”

زکوئ کا سر ایک طرف ڈھک گیا آنکھیں آدھی ن کھلی ھوی تھی اور اسکے ھونٹ آدھے نیم دا مسکرا رھے تھے طبیب نے نبض پر ھاتھ رکھا اور سلطان کی طرف دیکھ کر سر ھلا دیا زکوئ کی روح اسکے زحمی جسم سے آزاد ھوی تھی، ایک غیر مسلم نے اسلام کی عظمت اور سلطان سے وفاداری کی حاطر جان قربان کردی۔

سلطان صلاح الدین نے کہا” یہ کسی بھی مذھب سے تھی زکوئ کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کرو اس نے اسلام ھی کے لیے جان قربان کی ھے اگر چہ یہ ھمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی ”

دربان نے اندر آکر کہا کہ باھر ایک عورت کی لاش آگی ھے جا ر دیکھا گیا تو وہ ایک ادھیڑ عمر عورت کی لاش تھی جاۓ وقوعہ سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوی نھی پہچنتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ایک ملازمہ تھی جس کو انعام کی لالچ نے زکوئ پر حملہ کرنے پر مجبور کیا رات کو ھی زکوئ کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرحاک کیا گیا اور ملازمہ کی لاش گھڑا کھود کر دفنا دی گی ، دونوں کو نہایت خفیہ انداز سے دفنا دیا گیا ، جب تدفین ھو رھی تھی تو سلطان صلاح الدین نے نہایت اعلی قسم کے آٹھ جوان گھوڑے منگواۓ آٹھ جوان منگواے گیے ان کو علی بن سفیان کی کمان میں ناجی کے ان دو گھوڑ سواروں کے پیچھے دوڑا دیا گیا جو ناجی کا تحریری پیغام عیسای بادشاہ کو پہنچا رھے تھے۔۔۔۔۔۔۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زکوئ کون تھی۔۔۔۔؟وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی کسی کو بھی معلوم نھی تھا کہ اسکا مذھب کیا تھا وہ مسلمان نھی تھی وہ عیسائ بھی نھی تھی۔۔

جیسا کہ کہا گیا ھے پہلے ھی کہ علی بن سفیان سلطان کے انٹیلی جنس ) جاسوسی اور سراع رسانی ( کا سربراہ تھا اور اسے دوسروں کے راز معلوم کرنے کے کئ ڈھنگ احتیار کرنے پڑتے تھے ، صلاح الدین اسکو اپنے ساتھ مصر لایا تھا یہاں آکر معلوم ھوا کہ یہاں کا سالار ناجی نہایت ھی شیطان اور سازشی ھے اسکے اندرون حالات معلوم کرنے کے لیے علی نے جاسوسوں کا ایک جال بچھا دیا ۔۔ اس اقدام سے علی بن سفیان کو ایک بات یہ معلوم ھوی کہ ناجی حشیشن ) پہلے زکر ھوا ھے بلیٹ( کی طرح اپنے محالفین کو زھر اور حسین لڑکیوں سے پھنساتا اور اپنا گرویدہ بناتا اور مروتا ھے، علی بن سفیان نے تلاش و بسار کے بعد کسی کی وساطت سے زکوئ کو مراکش سے حاصل کیا اور حود بردہ فروش کا روپ دھار کر ناجی کے ھاتھ بیچ دیا

، زکوئ میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو سلطان کے پھنسانے کے لیے استعمال کرنا چاھتا تھا لیکن ناجی حود اس لڑکی کے دام میں پھنس گیا اور پھنسا بھی ایسا کہ زکوئ کے سامنے وہ اپنے سالار سے تمام باتیں کیا کرتا تھا ، ناجی نے زکوئ کو جشن کی رات سلطان صلاح الدین کے حیمے میں بھیج دیا اور اپنی اس فتح پر بھت حوش ھورھا تھا کہ اس نے صلاح الدین کا بت تھوڑ دیا ھے ، اب وہ اس لڑکی کے ھاتھوں شراب پلا سکے گا اور سلطان کو اپنا گرویدہ بنا لے گا مگر ناجی کے تو فرشتوں کو بھی علم نھی ھوسکا کہ زکوئ سلطان کی جاسوسہ تھی ، زکوئ سلطان کو اسی رات رپورٹیں دیتی رھی اور سلطان سے ھدایت لیتی رھی زکوئ سلطان کے حیمے سے نکل کر دوسری طرف چلی گی تھی جہاں زکوئ کو سر منہ کپڑے میں لپیٹا ایک آدمی ملا تھا وہ آدمی علی بن سفیان تھا جس نے زکوئ کو مزید کچھ اور ھدایت دی تھی ۔ اسکے بعد زکوئ ناجی کے گھر سے باھر نہ نکل سکی جس کی وجہ سے وہ علی کو کوی رپورٹ نہ دے سکی ۔ آخر کار اسکو اسی رات موقع ملگیا اور وہ ایسی رپورٹیں لیکر پہنچی جس کا علم صرف اللہ ھی کو تھا ۔ یہ زکوئ کی بدنصیبی تھی کہ زکوئ کے حلاف حرم میں صرف اسلیئے سازش ھوی کہ اس نے ناجی پر قبضہ جمایا ھے یہ سازش کامیاب رھی اور زکوئ قتل ھوگی لیکن مرنے سے پہلے وہ تمام اطلاعیں سلطان تک پہنچانے میں کامیاب رھی ۔

زکوئ کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد وہ معاوضہ جو علی بن سفیان نے زکوئ کے ساتھ طے کیا تھا ۔ سلطان کی طرف سے انعام اور وہ رقم جو علی بن سفیان نے ناجی سے بردہ فروش کی صورت میں ناجی سے وصول کی تھی ، مراکش میں زکوئ کے معذور والدین کو ادا کردئ گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت کے اس رات کے ستارے ٹوٹ گیے اور جب صبح ھوئ تو علی بن سفیان آٹھ سواروں کے ساتھ انتہائ تیز رفتاری سے شمال مشرق کی طرف جا رجا تھا ، آبادیاں دور پیچھے ھٹتی جا رھی تھی۔ علی کو معلوم تھا کہ شاہ فرینک کے ھیڈ کوارٹر تک پہنچنےکا راستہ کونسا ھے ۔ رات انھوں نے گھوڑوں کو آرام دیا ۔ یہ عربی گھوڑے تھے جو تھکے ھوے بھی تازہ دم لگتے تھے ۔ دور کجھور کے چند درحتوں میں علی کو 2 گھوڑے جاتے نظر آے ، علی نے اپنے دستے کو راستہ بدلنے اور اوٹ میں ھونے کے لیے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ھو جانے کو کہا ، علی صحرا کا راز دان تھا بھٹکنے کا کوی حدشہ نہ تھا ، علی نے رفتار اور تیز کردی ، اگلے دو سواروں اور اس دستے کے بیچ کوئ 4 میل کا فاصلہ رہ گیا ۔ یہ فاصلہ تو طے ھوا لیکن گھوڑے تھک گیے تھے ، وہ جب کھجوروں کے درحتوں تک پہنچے تو دو سوار کوئ دو میل دور مٹی کے ایک پہاڑی کے ساتھ ساتھ جا رھے تھے ، ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گیے تھے دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجھل ھوگیے

” وہ پہاڑیوں کے اوٹ میں بیٹھ گیئے ھے” علی نے کہا اور راستہ بدل دیا ۔ فاصلہ کم ھوتا گیا اور جب فاصلہ کچھ سو گز رھ گیا تو وہ دونوں بندے اوٹ سے باھر آے ، انھوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا ۔ وہ دوڑ کر غایب ھوے علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑی لگائ ۔ تھکے ھوۓ گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور اپنی رفتاری تیز کردی ۔ باقی گھوڑے بھی تیز ھوگیے وہ جب پہاڑی کے اندر گیئے تو دونوں سوار نکل چکے تھے مگر زیادہ دور نھی گیئے تھے ۔ وہ شاید گھبرا بھی گئے تھے آگے ریتیلی چٹانیں بھی تھی ۔ انھیں راستہ نھی مل رھا تھا کھبی دائیں جاتے کھبی بائیں ۔علی بن سفیان نے اپنے گھوڑے ایک صف میں پھیلا دئے اوراور بھاگنے والوں سے ایک سو گز دور جا پہنچا ۔ ایک تیر انداز نے دوڑتے ھوے گھوڑے سے تیر چلایا جو ایک گھوڑے کے ٹانگ میں جا لگا ۔ گھوڑا بے لگام ھوا۔ تھوڑی سی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ دونوں گھیرے میں آگیئے تھے اور انھوں نے ھتیار ڈال لیئے ، سوال جواب پر انھوں نے جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو تاجر ظاھر کرنے لگے ، لیکن جیسے ھی تلاشی لی گی تو وہ تحریری پیغام مل گیا جو ناجی نے انکو دیا۔ ان دونوں کو حراست میں لیا گیا۔ گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا ۔ اور پھر یہ دستہ واپس آگیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی بڑی بے چینی سے انکا انتظار کر رھا تھ، دن گزر گیا رات بھی گزرتی جا رھی تھی۔ آدھی رات گزر گی ، ایوبی لیٹ گیا ۔ اور اسکی آنکھ لگ گئ۔ سحر کے وقت دروازے پر ھلکے سے دستک پر ایوبی کی آنکھ کھل گی دوڑ کا دروازہ کھولا تو علی بن سفیان کھڑا تھا ل اسکے پیچھے آٹھ سوار اور وہ دو قیدی کھڑے تھے ۔ علی اور قیدیوں کو سلطان نے اپنے سونے کے کمرے میں ھی بلالیا علی سلطان کو ناجی کا پیغام سنانے لگا ۔ پہلے تو سلطان کے چہرے کا رنگ ھی پیلا پڑھ گیا پھر جیسے حون جوش مار کر سلطان کے چہرے اور آنکھوں میں چڑھ آیا ھوں۔ ناجی کا پیغام حاصا طویل تھا ناجی نے صلیبیوں کے بادشاہ فرینک کو لکھا تھا کہ وہ فلاں دن اور فلاں وقت یونیانیوں رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ سے بحیرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کردیں، حملے کی اطلاع ملتے ھی 50 ھزار سوڈانی فوج بھی امیر مصر کے حلافت بغاوت کردے گی ، مصر کی نیئ فوج ایک ھی وقت میں بغاوت اور حملے کے جواب کی قابل نھی ، اس کے غوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے ایک بڑے حصے کی بادشاھت کی شرط رکھی تھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں پیغام لیکر جانے والوں کو قید خانے میں ڈال دیا ، اور اسی وقت نئ مصری فوج سے ایک دستہ بھیج کر ناجی اور ناجی کے نایئبین کو ان کے گھروں میں ھی نظر بند کردیا ۔ ناجی کے خرم کی تمام کی تمام لڑکیاں آزاد کردی گئ ، ناجی کے تمام حزانے کو سرکاری حزانے میں ڈال کر سرکاری حزانہ بنادیا گیا اور یہ تمام کاروائ خفیہ رکھ گئ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی کی مدد سے اس حط میں جو پکڑا گیا تھا حملے کی تاریح مٹا کر اگلی تاریح لکھ دی۔ دو زھین فوجیوں کو شاہ فرینک کی طرف روانہ کیا گیا، ان دونوں فوجیوں کو یہ ظاھر کرنا تھا کہ وہ ناجی کے پیامبر ھے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکو روانہ کر کہ سوڈانی فوج کو مصری فوج میں مدغم کرنے کا خکم روک دیا ،

آٹھویں روز وہ دونوں پیامبر واپس آگیے اور شاہ فرنک کا جوابی حط جو اس نے ناجی کے نام لکھا تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیا ، شاہ فرنک نے لکھا تھا کہ حملے کی تاریح سے دو دن قبل سوڈانی فوج بغاوت کردیں ، تاکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو صلیبیوں کا حملہ روکنے کی ھوش تک نہ رھے ، علی بن سفیان نے ان دو پیامبروں کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی اجازت سے نظر بند کردیا ، یہ نظربندی باعزت تھی، جس میں دونوں کے آرام اور بہترین کھانوں کا حاص حیال رکھا گیا ، یہ ایک احتیاطی تدبیر تھی کہ یہ اھم راز فاش نہ ھوں ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے بحیرہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کو چھپا لیا جہاں صیلبیوں نے لنگرانداز ھوکر اپنی فوجیں اتارنی تھی ، حملے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔

ایک مورح سراج الدین نے لکھا ھے کہ سوڈانی فوج نے شاہ فرینک کے حملے سے پہلے ھی بغاوت کردی تھی ، جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے طاقت سے نھی بلکہ پیار ڈپلومیسی اور اچھے حسن سلوک سے دبل لی تھی ، بغاوت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باغیوں کو اپنا سالار ناجی کہی بھی نظر نھی آیا اور اسکا کوی نائب بھی سامنے نھی آیا،،،،، وہ سب تو ید میں تھے ،،

مگر ایک اور مورح ہیتاچی لکھتا ھے ” سوڈانی فوج نے حملے کے بھت بغاوت کی تھی ” تاھم یہ دونوں مورح باقی تمام واقعات پر متفق نظر آتے ھے دونوں نے لکھا ھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اسکے نایئبین کو سزا میں موت کی سزا دیں کر رات میں ھی گمنام قبروں میں دفن کرادیا ”

ان دونوں مورحوں اور ایک اور مورح ” لین پول” نے بھی صلیبیوں کے بحریہ کے اعداد و شمار ایک جیسے ھی لکھے ھے وہ لکھتے ھے کہ حط میں دی ھوئ تاریح کے عین مطابق صلیبیوں کی بحریہ جس میں فرینک کی یونان کی روم کی اور سسلی کی بحریہ شامل تھی ، متحدہ کمان میں بحریہ روم میں نمودار ھوی ، مورحین کے مطابق اس بحریہ میں جنگی جہازوں کی تعداد 150 تھی ، اسکے علاوہ 1 جنگی جہاز بھت بڑے تھے ان میں مصر میں اتارنے کے لیے فوجیں تھی اس فوج کا صلیبی کمانڈر ایمئرک تھا جن بادبانی کشتیوں میں رسد تھی اسکی ٹھیک تعداد کا اندازہ نھی کیا جاسکتا ، جہاز دو قطاروں میں آرھے تھے۔۔۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے دفاغ کی کمانڈ اپنے پاس رکھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے بحریہ کو مزید قریب آنے دیا دام بچھایا جا چکا تھا۔ سب سے پہلے بڑے جہاز لنگر انداز ھوے ھی تھے کہ ان پر اچانک آگ برسنے لگی ، یہ منجنیقوں سے پھیکے ھوے شغلے تھے اور آگ کے گولے اور ایسے تیر بھی جن کے پچھلے حصے جلتے ھوے شغلے کے مانند تھے ، مسلمانوں کے اس برساتی ھوئ آگ نے صلیبیوں کے جہازوں کے بادبانوں کو آگ لگا دی ، جہاز لکڑی کے تھے جو فورا جل اٹھے ، ادھر سے مسلمانوں کے چھپے ھوے جہاز آگیئے انھوں نے بھی آگ ھی برسائ ، یوں معلوم ھو رھا تھا جیسے بحیرہ روم جل رھا ھوں، صلیبیوں کے جہاز موڑ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور ایک دوسرے کو حود ھی آگ لگانے لگے جہازوں سے صلیبی فوج سمندر میں کھود رھی تھی ان میں سے جو سپاھی زندہ ساحل پر آرھے تھے وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے فوجیوں کے تیروں کا نشانہ بن رھے تھے

ادھر شیر اسلام نورالدین زنگی نے فرینک کے سلطنت پر حملہ کردیا فرینک نے اپنی فوج مصر حشکی کے زریعے روانہ کردی تھی ، فرینک اس وقت سمندر میں جنگی بیڑے کے ساتھ تھا جب اسکو اپنی سطنت پر حملے کی اطلاع ملی تو وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچھا کر بھاگ گیا لیکن جب وہ وھاں پہنچا،،،تو،،،،،،،،،،­وھاں کی دنیا بدل گی تھی،،،

بحیرہ روم میں صلیبیوں کا متحدہ بیڑہ تباہ ھوچکا تھا اور فوج جل اور ڈوب کر حتم ھورھی تھی ، صلیبیوں کا ایک کمانڈر ایملرک بچ گیا اس نے ھتیار ڈال کر صلح کی درحواست کی جو بھت بڑی رقم کے غوض منظور کی گی ، یونیوں اور سسلی کے کچھ جہاز بچ گیئے تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکو جہاز واپس جانے کی اجازت دی مگر راستے میں ھی ایسا طوفان آیا کہ تمام بچے کچھے جہاز وھی غرق ھوے

١٩دسمبر ١١٦٩ کے روز صلیبیوں نے اپنی شکست پر دستحط کئے اور ، سلطان صلاح الدین ایوبی کو تاوان ادا کردیا بیشتر مورحین اور ماھرین حرب و ضرب نے ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس فتح کا سہرہ ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے انٹیلی جنس کے سر باندھا ھے ، رقاصہ زکوئ کا زکر اس دور کے ایک مراکشی وقائع نگار اسد السدی نے کیا ھے ، اور علی بن سفیان کا تعارف بھی اسی وقائع نگار کی تحریر سے ھوا ھے ، یہ ایک ابتدا ھے۔ ، سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی اب پہلے سے بھی زیادہ حطروں میں گر رھی ھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: