Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 10

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 10

–**–**–

داستان ایمان فروشوں کی
رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ

مصر کے قائم مقام امیر تقی الدین نے صلیبیوں کی نظریاتی یلغار کو بروقت فوجی کارروائی سے روک دیا اور اس خفیہ اور پراسرار اڈے کو ہی مسمار کردیا جہاں سے یہ فتنہ اٹھا تھا مگر وہ مطمئن نہیں تھا کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ یہ اسلام کش زہر قوم کی رگوں میں اتر گیا ہے۔ اس صلیبی تخریب کاری کو سوڈان سے پشت پناہی مل رہی تھی اور سوڈانیوں کو صلیبیوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ تقی الدین نے اس اڈے کو بھی تباہ کرنے کے لیے سوڈان پر حملے کی تیاریاں تیز کردیں۔ سلطان ایوبی نے وہاں بھی جاسوس بھیج رکھے تھے جن کی جانبازانہ کوششوں سے وہاں کے بڑے نازک رازمل رہے تھے مگر ان رازوں سے جو فائدہ سلطان ایوبی اٹھا سکتا تھا، وہ اس کے بھائی تقی الدین کے بس کی بات نہیں تھی۔ دونوں بھائیوں کا جذبہ تو ایک جیسا تھا لیکن دونوں کی ذہانت میں بہت فرق تھا۔ دونوں بھائی جس کارروائی کا فیصلہ کرتے تھے وہ شدید ہوتی تھی۔ فرق یہ تھا کہ سلطان ایوبی محتاط رہتا تھا اور تقی الدین بے صبر ہوکر احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا تھا۔ اسے جب فوجی مشیروں نے کہا کہ سوڈان پر حملے کا فیصلہ دانشمندانہ ہے لیکن محترم ایوبی سے مشورہ لے لینا ضروری ہے تو تقی الدین نے اپنے مشیروں کے اس مشورے کو مسترد کرتے ہوئے کہا… ”کیا آپ لوگ امیر محترم کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ آپ ان کے بغیر کچھ سوچ نہیں سکتے اور کچھ کرنہیں سکتے؟ کیا آپ بھول گئے ہیں کہ مصر سے اتنی دور محترم ایوبی کس طوفان میں گھرے ہوئے ہیں؟ اگر ہم نے ان سے مشورے اور فیصلے کا انتظار کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سوڈانی حملے میں پہل کرکے ہم پر سوار ہوجائیں گے”۔

”آپ ابھی حملے کا حکم دیں”۔ ایک نائب سالار نے کہا… ”فوج اسی حالت میں رسد کے بغیر کوچ کرجائے گی لیکن اتنی بڑی اور اتنی اہم مہم کے لیے گہری سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ ہم کوچ کی تیاری کے تمام تر انتظامات بہت تھوڑے وقت میں کرلیں گے۔ آپ محترم ایوبی کو اطلاع ضرور دے دیں تاکہ وہ اور محترم نورالدین زنگی ادھر بھی دھیان رکھیں”۔

تقی الدین چند ایسے عناصر اور کوائف کو نظر انداز کررہا تھا جو اس کے حملے کو ناکام کرسکتے تھے۔ ایک یہ کہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کے جاسوس مصر میں موجود تھے جو یہاں کی نقل وحرکت دیکھ رہے تھے۔ تقی الدین کی کمزوری یہ بھی تھی کہ اس کے دشمن کے جاسوس مسلمان بھی تھے جو انتظامیہ اور فوج میں اونچے عہدوں پر فائز تھے۔ اس کے مقابلے میں تقی الدین کے جاسوس سوڈانیوں کے پالیسی سازوں اور حکام تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ سلطان ایوبی نے ١١٦٩ء میں مصر کی جس سوڈانی فوجی کو بغاوت کے جرم میں توڑ دیا تھا۔ اس کے کئی ِایک کمان دار اور عہدے دار سوڈان میں تھے۔ وہ سلطان ایوبی کی جنگی چالوں سے واقف تھے۔ انہوں نے انہی چالوں کے مطابق اپنی فوج کی تربیت کی تھی۔ صلیبیوں نے انہیں نہایت اچھا اسلحہ اور ضرورت سے زیادہ جنگی سامان دے رکھا تھا۔ یہ گھر کے بھیدی تھے۔ تقی الدین نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ سوڈان کے جس علاقے میں پیش قدمی کرنے جارہا ہے۔ وہ ایک وسیع صحرا ہے جہاں پانی خطرناک حد تک کم ہے اور وہ مقام جہاں حملہ کرنا ہے، اتنا دور ہے جہاں تک رسد کو خطرے میں ڈالے بغیر رواں رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ مصر کے اندرونی حالات کو قابو میں رکھنے اور تخریب کاری کے انسداد کے لیے بھی فوج درکار تھی مگر تقی الدین اس قدر بھڑکا ہوا تھا کہ اس نے مکمل طور پر نیک نیتی اور اسلامی جذبے کی شدت کے زیر اثر حملے کی تیاریاں شروع کردیں اور سلطان ایوبی کو اطلاع نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اس کی اس خودمختاری میں وہی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا۔ اسے احساس تھا کہ سلطان ایوبی کا مقابلہ تند اور تیز طوفان سے ہے اور صلیبی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا اہتمام کیے ہوئے ہیں۔ اس نے جو کچھ سوچا تھا درست تھا۔ اس وقت سلطان ایوبی کرک سے آٹھ نو میل دور ایک چٹانی علاقے میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیے ہوئے تھے۔ یہ اس کا عارضی قیام تھا۔ وہ اپنے ہیڈکوارٹر کو خانہ بدوش رکھا کرتا تھا جس مقام پر اسے حملہ کرانا یا شب خون مردانا ہوتا، وہ اس کے قریب رہتا اور حملہ کرنے والے دستے کے کمانڈر کو بتا دیا کرتا تھا کہ وہ ان کی واپسی کے وقت کہاں ہوگا، اس کے چھاپہ مار )کمانڈو جانباز( صلیبی فوج کی تمام تر کمک تباہ کرچکے تھے۔ چھاپہ ماروں کے چھوٹے چھوٹے گروہ اس صلیبی فوج کے لیے ناگہانی مصیبت بنے ہوئے تھے جو صحرا میں پھیلی ہوئی تھی۔ صلیبیوں کا نقصان تو بہت ہورہا تھا لیکن چھاپہ ماروں کی شہادت غیرمعمولی طور پر زیادہ تھی۔ دس جانباز جاتے تو تین چار واپس آتے تھے۔ یہ رپورٹیں بھی ملنے لگی تھیں کہ صلیبیوں نے ایسے انتظامات کرلیے ہیں جو شب خون اور چھاپے کو کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ لہٰذا اب چھاپہ ماروں کو جان کی بازی لگانی پڑتی تھی۔ سلطان ایوبی اب اپنی چالیں اور فوجوں کا پھیلائو بدلنے کی سوچ رہا تھا۔

”معلوم ہوتا ہے کہ صلیبی مجھے آمنے سامنے آنے پر مجبور کررہے ہیں”۔ سلطان ایوبی نے اپنے فوجی نائبین سے کہا… ”میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دوں گا اور میں اب اپنے اتنے زیادہ جوان مروانے سے بھی گریز کروں گا”۔

”میں چھاپہ مار دستوں کی نفری میں اضافہ کرنے کا مشورہ دوں گا”۔ ایک نائب نے کہا… ”اور میں یہ بھی مشورہ دوں گا کہ ہمیں دشمن کی قوت کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہماری فوج میں جذبہ زیادہ ہے۔ جذبہ سپاہی کو بے جگری سے لڑا کر مروا سکتا ہے، فتح کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ صلیبیوں کے مقابلے میں ہماری نفری بہت کم ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ صلیبی فوج کا بیشتر حصہ زرہ پوش ہے”۔

سلطان ایوبی مسکرایا اور بولا… ”لوہا جو انہوں نے پہن رکھا ہے، وہ انہیں نہیں ہمیں فائدہ دے گا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ صلیبی کوچ کرتے ہیں تو رات کو کرتے ہیں یا صبح کے وقت؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دھوپ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، سورج اوپر اٹھتا ہے تو اس کی تمازت زرہ بکتر کو انگاروں کی طرح گرم کردیتی ہے۔ زرہ پوش سپاہی اور سوار لوہے کے خود اور آہنی سینہ پوش اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوہے کا وزن ان کی حرکت کی تیزی ختم کردیتا ہے۔ میں انہیں دوپہر کے وقت لڑائوں گا۔ جب ان کے سروں پر رکھا ہوا لوہا ان کا پسینہ نکال کر ان کی آنکھوں میں ڈالے گا اور وہ اندھے ہوجائیں گے۔ آپ نفری کی کمی کو متحرک طریقۂ جنگ سے اور جذبے سے پورا کریں”۔

اتنے میں سلطان ایوبی کے انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان کا ایک نائب زاہد ان آگیا۔ اس کے ساتھ دو آدمی تھے۔ سلطان ایوبی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ان دونوں آدمیوں کو اس نے بٹھایا اور پوچھا… ”کیا خبر ہے؟” دونوں نے اپنے اپنے گریبان کے اندر ہاتھ ڈالے اور لکڑی کی بنی ہوئی وہ صلیبیں باہر نکالیں جو ان کی گردنوں سے بندھی ہوئی تھیں۔ وہ صلیبی نہیں مسلمان تھے۔ اپنے آپ کو صلیبی ظاہر کرنے کے لیے وہ صلیبیں گلے میں لٹکا لیتے تھے۔ دونوں نے صلیبیں اتار کر نیچے پھینک دیں۔ ان میں سے ایک نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

یہ دونوں جاسوس تھے جو کرک سے واپس آئے تھے۔ پہلے بھی ذکر آچکا تھا کہ کرک فلسطین کا ایک قلعہ بند شہر تھا جس پر صلیبیوں کا قبضہ تھا۔ صلیبی شوبک نام کا ایک قلعہ سلطان ایوبی کے ہاتھ ہار چکے تھے۔ وہ کرک کسی قیمت پر دینا نہیں چاہتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے دفاعی انتظامات بڑے ہی سخت کردیئے تھے جن میں ایک بندوبست یہ تھا کہ وہ قلعہ بند ہوکر نہیں لڑنا چاہتے تھے۔ شوبک سے جب عیسائی اور یہودی باشندے مسلمانوں کے ڈر سے کرک بھاگ رہے تھے، اس وقت سلطان ایوبی نے اپنی فوج اور انتظامیہ کو یہ حکم دیا تھا کہ بھاگنے والے غیر مسلموں کو روکیں اور انہیں واپس لاکر ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں لیکن سلطان ایوبی نے ایک خفیہ حکم یہ بھی دیا تھا کہ زیادہ تر باشندوں کو جانے دیں۔ اس حکم میں راز یہ تھا کہ غیر مسلم باشندوں میں سلطان کے جاسوس بھی جارہے تھے۔ اپنے جاسوس دشمن کے اس شہر میں اور مضافات میں جس پر تھوڑے عرصے بعد حملہ کرنا تھا بھیجنے کا یہ موقع نہایت اچھا تھا۔ مسلمان جاسوس عیسائی اور یہودی پناہ گزینوں کے بھیس میں کرک چلے گئے تھے۔ وہاں کے مسلمان باشندوں کو ساتھ ملا کر انہوں نے خفیہ اڈے بنا لیے تھے۔ وہ وہاں سے اطلاعات بھیجتے رہتے تھے۔ سلطان ایوبی ذاتی طور پر ان کی رپورٹیں سنا کرتا تھا۔

اس روز دو جاسوس آئے تو سلطان ایوبی نے انہیں فوراً اپنے خیمے میں بلا لیا اور باقی سب کو باہر نکال دیا۔ جاسوسوں کی رپورٹ میں صلیبیوں کی فوج کی نقل وحرکت اور ترتیب کے متعلق اطلاعات تھیں۔ سلطان ایوبی ان کے مطابق نقشہ بناتا رہا۔ اس دوران اس کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جاسوسوں نے جب کرک کے مسلمان باشندوں کی بے بسی اور مظلومیت کی تفصیل سنائی تو سلطان کے چہرے پر نمایاں تبدیلی آگئی۔ ایک بار تو وہ جوش میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور خیمے میں ٹہلنے لگا۔ جاسوسوں نے اسے بتایا کہ شوبک سے صلیبی شکست کھا کرکرک پہنچے تو انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔ سلطان ایوبی کو بہت سے حالات کا تو پہلے سے علم تھا، ان دو جاسوسوں نے اسے بتایا کہ اب وہاں بازار میں جن مسلمانوں کی دکانیں ہیں، وہ بہت پریشان ہیں۔ غیر مسلم تو ان کی دکانوں پر جاتے ہی نہیں، مسلمانوں کو بھی ڈرادھمکا کر ان کی دکانوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی باقاعدہ مہم شروع کی گئی ہے۔ عیسائی اور یہودی مسجدوں کے سامنے اونٹ، گھوڑے اور دیگر مویشی باندھ دیتے ہیں۔ اذان اور نماز پر کوئی پابندی نہیں لیکن جب اذان ہوتی ہے تو غیر مسلم شور مچاتے، ناچتے اور مذاق اڑاتے ہیں۔

جاسوسوں نے بتایا کہ مسلمانوں کا قومی جذبہ ختم کرنے کے لیے وہاں اس قسم کی افواہیں زوروشور سے پھیلائی جارہی ہیں کہ صلاح الدین ایوبی اتنا شدید زخمی ہوکر دمشق چلا گیا ہے کہ اب تک مرچکا ہوگا اور یہ بھی کہ سلطان ایوبی کی فوج کمان کی کمزوری کی وجہ سے صحرا میں بکھر گئی ہے اور سپاہی مصر کی طرف بھاگ رہے ہیں اور یہ بھی کہ مسلمان اب کرک پر حملہ کرنے کے قابل نہیں رہے اور بہت جلدی شوبک بھی صلیبیوں کو واپس ملنے والا ہے اور یہ بھی کہ سوڈانی فوج نے مصر پر حملہ کردیا ہے اور مصر کی فوج سوڈانیوں کے ساتھ مل گئی ہے۔ جاسوسوں نے بتایا کہ اب علی الصبح پادری، مسلمان محلوں میں گھومتے پھرتے اور ہر مسلمان گھر کے دروازے پر گھنٹیاں بجاتے، اپنے مذہبی گیت گاتے اور مسلمانوں کو دعائیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے مذہب کا اور کوئی پرچار نہیں کرتے۔ یہ پرچار وہاں کی عیسائی اور یہودی لڑکیاں کرتی ہیں جو مسلمان نوجوانوں کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دے کر ان کے ذہن تباہ کررہی ہیں۔ یہ لڑکیاں مسلمان لڑکیوں کی سہیلیاں بن کر انہیں اپنی آزادی کی بڑی ہی دلکش تصویر دکھاتی اور انہیں بتاتی ہیں کہ مسلمان فوج جو علاقہ فتح کرتی ہے وہاں مسلمان لڑکیوں کو بھی خراب کرتی ہے۔

ان رپورٹوں میں سلطان ایوبی کے لیے کوئی بات نئی نہیں تھی۔ ابتداء میں اس کے جاسوس اسے کرک کے مسلمانوں کی حالت زار بتا چکے تھے، وہاں کے مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ وہ سلطان ا یوبی اور اس کی فوج کے خلاف کوئی حوصلہ شکن افواہ نہیں سننا چاہتے تھے لیکن وہاں جو بھی بات ان کے کانوں میں پڑتی تھی حوصلہ شکن ہوتی تھی۔ وہ ڈرتے بات نہیں کرتے تھے۔ ان کے گھروں کی دیواروں کے بھی کان تھے۔ وہ اکٹھے بیٹھنے سے بھی ڈرتے تھے۔ جنازے اور بارات کے ساتھ بھی جاسوس ہوتے تھے اور مسجدوں میں بھی جاسوس ہوتے تھے۔ ان کی بد نصیبی تو یہ تھی کہ جاسوسی ان کے اپنے مسلمان بھائی کرتے تھے۔ وہ اپنے گھروں میں بھی سرگوشیوں میں باتیں کرتے تھے۔ کسی مسلمان کے خلاف صرف یہ کہہ دینا کہ وہ صلیبی حکومت کے خلاف ہے، اسے بیگار کیمپ میں بھیجنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔

”لیکن سالار اعظم!” ایک جاسوس نے کہا… ”اب وہاں ایک اورچال چلی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک ہونے لگا ہے۔ صلیبی حکومت نے اس کی ایک مثال یہ پیش کی ہے کہ ایک عیسائی حاکم نے ایک مسجد کو بوسیدہ حالت میں دیکھا تو اس کی مرمت کا حکم دیا اور اپنی نگرانی میں مرمت کرادی۔ انہوں نے بیگار کیمپ کے مسلمانوں کو رہا تو نہیں کیا لیکن کچھ سہولتیں دے دی ہیں۔ روزمرہ مشقت کا وقت بھی کم کردیا ہے لیکن ان کے کانوں میں یہی ڈالا جاتا ہے کہ تم نے صلیب کے خلاف بہت بڑا جرم کیا ہے پھر بھی تم پر رحم کیا جارہا ہے۔ یہ پیار اور محبت کا ہتھیار بڑا ہی خطرناک ہے۔ اس جھوٹے پیار سے غیرمسلم مسلمان نوجوانوں کو نشے اور جوئے کا عادی بناتے جارہے ہیں اگر ہم نے حملے میں وقت ضائع کیا تو کرک کے مسلمان اگر مسلمان ہی رہے تو برائے نام مسلمان ہوں گے ورنہ وہ قرآن سے منہ موڑ کر گلے میں صلیب لٹکا لیں گے۔ اس صورت میں وہ اس وقت ہماری کوئی مدد نہیں کریں گے جب ہم کرک کا محاصرہ کریں گے۔ اس پیار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے اور گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی تک مسلمانوں کا جذبہ قائم ہے اور وہ ثابت قدم رہنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک غیر مسلموں کے پیار کو قبول نہیں کیا مگر وہ زیادہ دیر تک ثابت قدم نہیں رہ سکیں گے”۔

یہی وہ صورت حال تھی جس کی تفصیل سن کر سلطان ایوبی پریشان ہوگیا تھا۔ اسے یہ اطلاع بہت تکلیف دے رہی تھی کہ مسلمان مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کررہے ہیں۔ اس کے لیے پریشانی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ مقبوضہ علاقے میں صلیبیوں نے مسلمانوں کے خلاف پیار کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا تھا اور اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کی کردار کشی کا بھی عمل شروع ہوگیا تھا۔ ان دونوں سے زیادہ خطرناک وہ افواہیں تھیں جو وہاں کے مسلمانوں میں اسلامی فوج کے خلاف پھیلائی جارہی تھیں۔ اس نے اپنے نظام جاسوسی کے نائب زاہدان کو بلایا اور پوچھا… ”کیا تم نے ان کی باتیں سن لی ہیں؟”

”ایک ایک لفظ سنا اور انہیں آپ کے پاس لایا ہوں”۔ زاہدان نے جواب دیا۔

”علی بن سفیان کو قاہرہ سے بلا لوں؟”۔ سلطان ایوبی نے پوچھا … ”یا تم اس کی جگہ پر کرسکو گے؟ یہ معاملہ نازک ہے۔ دشمن کے شہر میں مسلمانوں کو افواہوں اور دشمن کے زہریلے پیار سے بچانا ہے”۔

”علی بن سفیان کو قاہرہ سے بلانے کی ضرورت نہیں” … زاہدان نے جواب دیا… ”حسن بن عبداللہ کو بھی ان کے ساتھ رہنے دیں۔ مصر کے حالات اچھے نہیں، ملک تخریب کاروں اور غداروں سے بھرا پڑا ہے۔ کرک کے مسئلے کو میں سنبھال لوں گا”۔

”تم نے کیا سوچا ہے؟” … سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا۔ وہ دراصل زاہدان کا امتحان لے رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زاہدان مخلص اور محنتی سراغ رساں ہے اور اپنے شعبے کے سربراہ علی بن سفیان کا شاگرد ہے۔ اس پر سلطان کو پورا پورا اعتماد تھا پھر بھی وہ یقین کرنا ضروری سمجھتا تھا کہ یہ شاگرد اپنے استاد کی کمی پوری کرے گا۔ اس نے زاہدان کا جواب سنے بغیر کہا… ”زاہدان! میں نے میدان جنگ میں شکست نہیں کھائی، یہ خیال رکھنا کہ میں اس محاذ پر بھی شکست نہیںکھانا چاہتا جس پر صلیبیوں نے حملہ کیا ہے۔ میں کرک کے مسلمانوں کو اخلاقی اور نظریاتی تباہی سے بچانا چاہتا ہوں”۔

”آپ جانتے ہیں کہ کرک میں ہمارے جاسوس موجود ہیں”… زاہدان نے کہا … ”میں انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کروں گا۔ وہ وہاں کے مسلمانوں کو آپ کے متعلق اور ہماری فوج اور مصر کے متعلق صحیح خبریں سناتے رہیں گے اور انہیں آپ کا پیغام دیں گے”۔

”وہاں کی مسلمان عورتوں میں قومی جذبے کی کمی نہیں”۔ ایک جاسوس بول پڑا، اس نے کہا… ”ہم جوان لڑکیوں سے کہیں گے کہ وہ گھر گھر جاکر عورتوں کے ذہن صاف کرتی رہیں گی۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ وہاں کی لڑکیاں لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں”۔

”عورتیں اگر گھر اور بچوں کی تربیت کا محاذ سنبھالے رکھیں تو اسی سے اسلام کے فروغ اور سلطنت اسلامیہ کی توسیع میں بہت مدد ملے گی” … سلطان ایوبی نے کہا۔ ”انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کرو کہ مسلمان گھرانوں میں اور بچوں میں غیراسلامی اثرات داخل نہ ہونے دیں۔ میں اس کوشش میں مصروف ہوں کہ کرک پر جلدی حملہ کردوں اور شوبک کی طرح وہاں کے بھی مسلمانوں کو آزاد کرائوں” … اس نے زاہدان سے پوچھا … ”اس مقصد کے لیے کسے کرک بھیجو گے؟”

”انہی دونوں کو”۔ زاہدان نے جواب دیا …”یہ آنے جانے کے راستوں اور طریقوں سے واقف ہوچکے ہیں اور وہاں کے حالات اور ماحول سے مانوس ہیں”۔

یہ دونوں آدمی غیر معمولی طور پر ذہین جاسوس تھے۔ سلطان ایوبی نے انہیں ہدایات دینی شروع کردیں۔

٭ ٭ ٭
کرک میں مسلمان باشندوں پر پیار کا جو ہتھیار چلایا جارہا تھا وہ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جرمن نژاد ہرمن کی اختراع تھی۔ وہ شوبک کی شکست کے بعد صلیبی حکمرانوں پر زور دے رہا تھا کہ کرک کے مسلمانوں کو پیار کا دھوکہ دے کر صلیب کا وفا دار بنایا جائے یا کم از کم صلاح الدین ایوبی کے خلاف کردیا جائے۔ صلیبی حکمران مسلمانوں سے اتنی زیادہ نفرت کرتے تھے کہ ان کے ساتھ جھوٹا پیار بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تشدد اور درندگی سے مسلمانوں کا قومی جذبہ اور وقار ختم کرنے کے قائل تھے۔ ہرمن اپنے فن کا ماہر تھا۔ انسانوں کی نفسیات سمجھتا تھا۔ اس نے صلیبی حکمرانوں کو بڑی مشکل سے اپنا ہم خیال بنایا اور یہ پالیسی مرتب کرالی کہ شہر اور مضافات کے اس علاقے کے مسلمانوں کو جو صلیبی استبداد میں ہے، جسے مشتبہ اور جاسوس سمجھا جائے اورجس مسلمان کے خلاف ذرا سی بھی شہادت ملے اسے گرفتار کرکے غائب کردیا جائے لیکن ہر مسلمان شہری کو دہشت زدہ نہ کیا جائے۔ اس پالیسی کی بنیادی شق یہ تھی کہ لڑکیوں کے ذریعے مسلمان لڑکیوں کو بے پردہ کیا جائے اور مسلمان لڑکیوں کو ذہنی عیاشی اور نشے کا عادی بنا دیا جائے۔ مختصر یہ ہے کہ ان کی کردار کشی کا انتظام کیا جائے۔ لہٰذا اس پالیسی پر عمل شروع کردیا گیا تھا۔ ابتداء افواہوں سے کی گئی تھی۔ ہرمن نے یہ منظور بھی لے لی تھی کہ مسلمانوں میں غداری کے جراثیم پیدا کرنے کے لیے خاصی رقم خرچ کی جائے۔ چند ایک مسلمانوں کو خوبصورت اور تندرست گھوڑوں کی بگھیاں دے کر انہیں شہزادہ بنا دیا جائے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف مخبری اور ان میں افواہیں پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہیں شاہی دربار میں وقتاً فوقتاً مدعو کرکے ان کے ساتھ شاہانہ سلوک کیا جائے۔ ان کی مستورات کو بھی مدعو کرکے ان کی عزت کی جائے کہ وہ اپنی اصلیت اور اپنا مذہب ذہن سے اتار دیں۔ ہرمن نے کہا تھا … ”اگر آپ مسلمان کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں تو اس کے دماغ میں بادشاہی کا کیڑا ڈال دیں۔ انہیں گھوڑے اور بگھیاں دے کر اس کے دامن میں چند ایک اشرفیاں ڈال دیں۔ پھر وہ بادشاہی کے نشے میں آپ کے اشاروں پر ناچے گا۔ شراب بھی پئے گا اور اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں ننگا کرکے آپ کے حوالے کردے گا۔ اگر آپ مسلمان کا مستقبل تاریک کرنا چاہتے ہیں تو یہ نسخہ آزمائیں۔ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب پھر بتاتا ہوں کہ یہودیوں نے مسلمانوں کی اخلاقی تباہی کے لیے اپنی لڑکیاں پیش کی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کا سب سے پرانا اور سب سے بڑا دشمن یہودی ہے۔ اسلام کی جڑیں تباہ کرنے کے لیے یہودی اپنی بیٹیوں کی عزت اور اپنی پونجی کا آخری سکہ بھی قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں”۔

یہودیوں میں خطرہ یہ تھا کہ وہ اسی خطے کے رہنے والے تھے، اس لیے مسلمانوں کی زبان بولتے تھے اور ان کے رسم ورواج اور گھریلو زندگی سے بھی واقف تھے۔ ان کی شکلیں اور کئی دیگر کوائف ملتے جلتے تھے۔ کوئی یہودی لڑکی مسلمانوں کا لباس پہن کر کسی مسلمان گھر میں جا بیٹھے تو اسے بلاشک وشبہ مسلمان سمجھ لیا جاتا تھا۔ اس مشابہت سے یہودی پورا پورا فائدہ اٹھا رہے تھے اور اسلامی معاشرت میں غیر اسلامی زہر داخل ہونا شروع ہوگیا تھا۔

جس روز سلطان ایوبی نے دو جاسوسوں کو ہدایات دیں اور زاہدان سے کہا تھا کہ وہ کرک میں جاسوسوں کے ذریعے مسلمانوں کو صحیح خبریں پہنچائے اس سے بیس روز بعد کرک میں ایک پاگل اور مجذوب اچانک کہیں سے نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھ میں لکڑی کی بنی ہوئی گز بھر لمبی صلیب اٹھا رکھی تھی، جسے وہ اوپر کرکے چلاتا تھا… ”مسلمانوں کی تباہی کا وقت قریب آگیا ہے، شوبک میں مسلمان اپنی بیٹیوں کی عصمت دری کررہے ہیں۔ مصر میں مسلمانوں نے شراب پینا شروع کردی ہے۔ خدائے یسوع مسیح نے کہا ہے کہ اب یہ قوم روئے زمین پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ مسلمانو! نوح کے دوسرے طوفان سے بچنا چاہتے ہوتو صلیب کے سائے میں آجائو۔ اگر صلیب پسند نہیں تو خدائے یہودہ کے آگے سجدہ کرو۔ مسجدوں میں تمہارے سجدے بے کار ہیں”۔

لباس اور شکل وصورت سے وہ اچھا بھلا لگتا تھا لیکن باتوں اور انداز سے پگلا معلوم ہوتا تھا۔ اس کی داڑھی بھی تھی، لمبا چغہ پہن رکھا تھا، سرپر پگڑی اور اس پر رومال ڈالا ہوا تھا جو کندھوں پر بھی پھیلا ہوا تھا۔ اس کے چہرے اور کپڑوں پر گرد تھی جس سے پتا چلتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے۔ اس کے پائوں گرد آلود تھے۔ اسے کوئی روکتا اور بات کرتا تھا تو وہ رک جاتا تھا لیکن کوئی جواب نہیں د یتا تھا۔ کوئی بات جیسے سنتا سمجھتا ہی نہیں تھا۔ سوال کوئی بھی پوچھو وہ اپنا اعلان دہرانے لگتا تھا… ”مسلمانوں کی تباہی کا وقت قریب آگیا ہے وغیرہ”… کسی نے بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کی کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ عیسائی اس لیے خوش تھے کہ اس نے ہاتھ میں صلیب اٹھا رکھی تھی اور خدا یسوع مسیح کا نام لیتا تھا۔ یہودی اس لیے خوش تھے کہ وہ خدائے یہودہ کا نام لیتا تھا اور دونوں کی یہ خوشی مشترک تھی کہ وہ مسلمانوں کی تباہی کی خوشخبری سنا رہا تھا۔ صلیبی فوج کے چند ایک سپاہیوں نے اس کی للکار سنی تو انہوں نے قہقہہ لگایا۔ شہری انتظامیہ کی فوج )جو بعد میں پولیس کہلائی( نے اسے دیکھا تو اسے پاگل کہہ کر نظر انداز کردیا۔ مسلمانوں میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کا منہ بند کرتے۔ مسلمان اس کے منہ سے اپنی تباہی کا اعلان سن کر ڈر بھی گئے تھے اور انہیں غصہ بھی آیا تھا مگر کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔

یہ مجذوب شہر کی گلیوں اور بازاروں میں گھوم رہا تھا اور اس اعلان کو دہراتا جارہا تھا … ”مسلمانو! صلیب کے سائے میں آجائو، تمہاری تباہی کا وقت آگیا ہے۔ مسجدوں میں تمہارے سجدے بے کار ہیں”۔ کہیں کہیں وہ یہ بھی کہتا تھا… ”کرک میں مسلمانوں کی فوج نہیں آئے گی۔ ان کا صلاح الدین ایوبی مرچکا ہے”۔ بعض اوقات وہ اوٹ پٹانگ اور بے معنی فقرے سے بولتا تھا جو ثابت کرتے تھے کہ وہ پاگل ہے۔ بچے اس کے پیچھے پیچھے چلے جارہے تھے۔ بڑے عمر کے آدمی بھی کچھ دور تک اس کے پیچھے پیچھے چلتے اور رک جاتے تھے۔ وہاں سے چند اور آدمی اس کے پیچھے چل پڑتے تھے۔ مسلمان اسے غصے کی نگاہ سے بھی دیکھتے تھے اور اپنے بچوں کو اس کے پیچھے جانے سے روکتے تھے۔ صرف ایک مسلمان تھا جو اس پاگل کے پیچھے پیچھے جارہا تھا۔ وہ پاگل سے دس بارہ قدم دور تھا۔ یہ ایک جواں سال مسلمان تھا۔ راستے میں دو عیسائی نوجوانوں نے اسے طعنے دیئے، ایک نے اسے کہا …”عثمان بھائی تم بھی صلیب کے سائے میں آجائو”۔ اس نے انہیں قہر بھری نظروں سے دیکھا اور چپ رہا۔ ان عیسائیوں کو معلوم نہیں تھا کہ عثمان کے پاس ایک خنجر ہے اور وہ اس پاگل کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے جارہا ہے۔

اس کا پورا نام عثمان صارم تھا۔ اس کے ماں باپ زندہ تھے اور اس کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جس کا نام النور صارم تھا۔ اس لڑکی کی عمر بائیس تئیس سال تھا۔ عثمان اس سے تین چار سال بڑا تھا جو جوشیلا جوان تھا۔ اسلام کے نام پر جان نثار کرتا تھا۔ صلیبی حکومت کی نظر میں وہ مشتبہ بھی تھا کیونکہ وہ مسلمان نوجوانوں کو صلیبی حکومت کے خلاف زمین دوز کارروائیوں کے لیے تیار کرتا رہتا تھا۔ وہ ابھی کوئی جرم کرتا پکڑا نہیں گیا تھا۔ اس نے جب اس پاگل کی آواز سنی تو باہر نکل آیا۔ پاگل اتنی بڑی صلیب بلند کیے مسلمانوں کے خلاف بلند آواز میں واہی تباہی بکتا جارہا تھا۔ عثمان صارم نے یہ بھی نہ دیکھا یہ تو کوئی پاگل ہے۔ اس نے صلیب دیکھی اور پاگل کے الفاظ سنے تو اس پر دیوانگی طاری ہوگئی۔ اپنے گھر جاکر اس نے خنجر لیا اور کُرتے کے اندر ناف میں اڑس کر پاگل کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ وہ اسے ایسی جگہ قتل کرنا چاہتا تھا جہاں اسے کوئی پکڑ نہ سکے۔ وہ صلیبیوں کے خلاف مزید کارروائیوں کے لیے زندہ رہنا چاہتا تھا۔ وہ پاگل سے دس بارہ قدم پیچھے چلتا گیا اور اس کا اعلان سنتا گیا۔ جب دو عیسائیوں نے اسے طعنے دیئے اور ایک نہ کہا کہ عثمان بھائی تم بھی صلیب کے سائے میں آجائو تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس کے دل میں قتل کا ارادہ اور زیادہ پختہ ہوگیا۔

پاگل کے پیچھے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں اور بچوں کا جلوس جمع ہوگیا تھا۔ قتل کا یہ موقعہ اچھا نہیں تھا۔ دن گزرتا گیا اور پاگل کی آواز دھیمی پڑتی گئی۔ اس کے پیچھے چلنے والے کم ہوتے گئے۔ سورج غروب ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ ایک مسجد آگئی۔ پاگل مسجد کے دروازے میں بیٹھ گیا اور اس نے صلیب اوپر کرکے کہا… ”اب یہ گرجا ہے، مسجد نہیں ہے” … اس وقت عثمان صارم اس کے قریب جاکھڑا ہوا۔ اسے اچھی طرح احساس تھا کہ یہ بے شک پاگل ہے لیکن اس کے قتل کی سزا بھی موت ہوگی کیونکہ اس نے صلیب اٹھا رکھی ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہا ہے۔ عثمان صارم نے پاگل کے قریب ہوکر دھیمی آواز میں کہا … ”یہاں سے فوراً اٹھو اور اپنی صلیب کے ساتھ غائب ہوجائو ورنہ صلیبی یہاں سے تمہاری لاش اٹھائیں گے”۔

پاگل نے اسے نظر بھر کر دیکھا، اس کے سامنے بہت سے بچے کھڑے تھے، اس نے عثمان صارم کی دھمکی کا جواب دیئے بغیر بچوں کو ڈانٹ کر بھاگ جانے کو کہا۔ بچے ڈر کر بھاگ گئے تو پاگل مسجد کے اندر چلا گیا۔ عثمان صارم کے لیے یہ موقعہ بہت اچھا تھا۔ اس نے کچھ سوچے بغیر چوکڑی بھری، دروازے کے اندر گیا اور دروازہ بند کردیا۔ اس نے بہت تیزی سے خنجر نکالا مگر وار کرنے لگا تو پاگل نے گھوم کر دیکھا۔ عثمان کے خنجر کا وار اپنی طرف آتا دیکھ اس نے صلیب آگے کرکے وار صلیب پر لیا اور کہا… ”رک جائو جوان، اندر چلو، میں مسلمان ہوں”۔

عثمان صارم نے دوسرا وار نہ کیا۔ پاگل جوتے اتار کر مسجد کے اندرونی کمرے میں چلا گیا۔ اس نے صلیب اپنے ہاتھ میں رکھی۔ اندر جاکر اس نے عثمان صارم سے نام پوچھا اور کہا … ” میں مسلمان ہوں، میری باتیں غور سے سن لو۔ مجھے بتائو کہ تم کب سے میرے پیچھے آرہے ہو؟”

”میں سارا دن تمہارے پیچھے پھرتا رہا ہوں”۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ”مگر مجھے قتل کا موقعہ نہیں مل رہا تھا”۔

”تم مجھے قتل کیوں کرنا چاہتے ہو؟” پاگل نے پوچھا۔

”کیونکہ میں اسلام اور صلاح الدین ایوبی کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتا”۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ”تم پاگل ہویا نہیں، میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا”۔

پاگل نے اس سے کئی اور باتیں پوچھیں، آخر اس نے کہا… ”مجھے تم جیسے ایک جوان کی ضرورت تھی۔ اچھا ہوا کہ تم خود ہی میرے پیچھے آگئے۔ میرا خیال تھا کہ مجھے اپنے مطلب کا کوئی مسلمان بڑی مشکل سے ملے گا۔ میں صلاح الدین ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں۔ میں نے یہ ڈھونگ صلیبیوں کو دھوکہ دینے کے لیے رچایا ہے۔ میں نے اس بھیس میں سفر کیا ہے۔ مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ یاد رکھو کہ مسجد میں کوئی صلیبی آگیا تو میں پھر وہی بکواس شروع کردوں گا جو دن بھر کرتا رہا ہوں۔ تم غور سے سنتے رہنا جیسے تم مجھ سے متاثر ہورہے ہو۔ میں بہت تیزی سے بولوں گا۔ شام کی نماز کا وقت ہورہا ہے۔ مسلمانوں میں صلیبیوں کے بھی جاسوس ہیں۔ میںنمازیوں کے آنے تک اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں”۔

عثمان صارم نے کبھی جاسوس نہیں دیکھا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ غیرمعمولی طور پر ذہین جاسوس ہے جس نے اسے چند سوال پوچھ کر پہچان لیا ہے کہ یہ جوان قابل اعتماد ہے۔ جاسوس نے اسے کہا… ”اپنے جیسے چند ایک جوان اکٹھے کرو اور کچھ مسلمان لڑکیوں کو بھی تیار کرو۔ تمہیں ہر ایک مسلمان گھرانے میں یہ پیغام پہنچانا ہے کہ صلاح الدین ایوبی زندہ ہے اور وہ اپنی فوجوں کے ساتھ یہاں سے صرف آدھے دن کی مسافت جتنا دور ہے۔ اس کی تمام فوج کرک پر حملہ کرنے کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ اس فوج نے صلیبی فوج کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ مصر میں حالات پر سکون ہیں، وہاں صلیبیوں نے جو تخریب کاری کی تھی وہ جڑ سے اکھاڑ دی گئی ہے”۔

”صلاح الدین ایوبی کب حملہ کرے گا؟”… عثمان صارم نے پوچھا۔ ”ہم اس کی راہ دیکھ رہے ہیں، ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ تم باہر سے حملہ کرو گے تو ہم صلیبیوں پر اندر سے حملہ کریں گے۔ خدا کے لیے جلدی آئو”۔

”تحمل سے کام لو جوان!” …جاسوس نے کہا… ”پہلے صلاح الدین ایوبی کا پیغام سن لو اور یہ ہر ایک نوجوان کے ذہن پر نقش کردو۔ ایوبی نے کہا ہے کہ کرک کے مسلمان نوجوانوں سے کہنا کہ تم ملک اور مذہب کے پاسبان ہو۔ میں نے پہلی جنگ لڑکپن میں لڑی تھی اور محاصرے میں لڑی تھی۔ فوج کی کمان میرے چچا کے پاس تھی، اس نے مجھے کہا تھا کہ محاصرے میں گھبرانہ جانا۔ اگر تم اس عمر میں گھبرا گئے تو تمہاری ساری عمر گھبراہٹ اور خوف میں گزرے گی۔ اگر اسلام علم بردار بننا چاہتے ہو تو یہ علم آج ہی اٹھا لو اور دشمن کی دیواریں توڑ کر نکل جائو پھر گھوم کر آئو اور دشمن پر جھپٹ پڑو۔ میں گھبرایا نہیں۔ تین مہینوں کے محاصرے نے ہمیں فاقہ کشی بھی کرائی لیکن ہم محاصرہ توڑ کر نکل آئے اور ہم نے جس خوراک سے پیٹ بھرے وہ دشمن کی رسد سے چھینی ہوئی خوراک تھی۔ ہمارے جو گھوڑے محاصرے میں بھوک سے مر گئے تھے، ہم نے ان کی کمی دشمن کے گھوڑوں سے پوری کی۔

”صلاح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ میری قوم کے بیٹوں سے کہنا کہ تم پر دشمن نے پیار کے ہتھیار سے حملہ کیا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھنا کہ کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ صلیبی میدان جنگ میں ٹھہر نہیں سکے، ان کے منصوبے خاک میں مل گئے ہیں، اس لیے وہ اب مسلمانوں کی بھرتی ہوئی نسل کے ذہن سے قومیت اور مذہب نکالنے کے جتن کررہے ہیں۔ انہوں نے جو ہتھیار استعمال کیا ہے وہ بڑا ہی خطرناک ہے۔ یہ ہے ذہنی عیاشی، کاہلی اور کوتاہی۔ تم میں یہ تینوں خرابیاں پیدا کرنے کے لیے عیسائی اور یہودی ایک ہوگئے ہیں۔ یہودی اپنی لڑکیوں کے ذریعے تم میں حیوانی جذبہ بھڑکا رہے ہیں اور تمہیں نشے کا عادی بنا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ حیوانی جذبے اور نشے سے تمہاری عاقبت خراب ہوگی اور موت کے بعد تم جہنم میں جائو گے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کردار کی یہ خرابیاں تمہارے لیے اس دنیا کو ہی جہنم بنا دیں گی۔ تم جسے جنت کی لذت سمجھتے ہو وہ جہنم کا عذاب ہے۔ تم صلیبیوں کے غلام ہوجائو گے جو تمہاری بہنوں کو بے آبرو کرتے پھریں گے۔ تمہارے قرآن کے ورق گلیوں میں اڑیں گے اور تمہاری مسجدیں اصطبل بن جائیں گی۔

”صلاح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ باوقار قوم کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنی روایات کو نہ بھولو۔ صلیبی ایک طرف تم پر تشدد کررہے ہیں اور دوسری طرف تمہیں دولت اور گھوڑا گاڑیوں کا لالچ دے رہے ہیں۔ مسلمان ان عیاشیوں کا قائل نہیں ہوتا… تمہاری دولت تمہارا کردار اور ایمان ہے۔ یہ صلیبیوں کی شکست کا ثبوت ہے کہ وہ تمہاری تلوار سے خوف زدہ ہوکر اتنے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بے حیا بنا کر تمہیں اپنا غلام بنانے کے جتن کررہے ہیں۔ میری قوم کے بیٹو! اپنے کردار کو محفوظ رکھو، آپنے آپ کو قابو میں رکھو، ظالم حکمران دراصل کمزور حکمران ہوتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین میں سے کسی کو ظلم وتشدد سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی کو دلت کا لالچ دے کر۔ تم ظلم وتشدد سے بھی نہ ڈرو اور کسی لالچ میں بھی نہ آئو۔ تم قوم کا مستقبل ہو۔ ہم قوم کا ماضی ہیں۔ دشمن تمہارے ذہنوں سے تمہارا اور خشندہ ماضی نکال کر اس میں اپنے نظریات اور مفادات کی سیاہی بھرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ اسلام کا مستقبل تاریک ہوجائے۔ اپنی اہمیت پہچانو۔ دشمن تمہیں صرف اس لیے اپنے تابع کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ تم سے خائف ہے۔ اپنی نظر آج پر نہیں کل پر رکھو کیونکہ تمہارے دشمن کی نظر تمہارے مذہب کے کل پر ہے۔ تم نے د یکھ لیا ہے کہ کفار تمہارا کیا حال کررہے ہیں۔ اگر تم ذہنی عیاشی میں پڑ گئے تو تمام تر ملت اسلامی کا یہی حشر ہوگا”۔

جاسوس نے سلطان ایوبی کا پیغام بہت تیزی سے عثمان صارم کو سنا دیا اور اسے عمل کے طریقے بتانے لگا۔ اس نے کہا …”سالار اعظم نے خاص طور پر کہا ہے کہ اپنے اوپر جوش اور جذبات کا غلبہ طاری نہ کرنا۔ عقل پر جذبات کو غالب نہ آنے دینا۔ اشتعال سے بچنا، اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ احتیاط لازمی ہے۔ جاسوس نے اسے بتایا کہ وہ اور اس کے دو ساتھی کسی نہ کسی روپ میں اسے خود ہی ملتے رہیں گے اور یہ رابطہ قائم رہے گا۔ فوری طور پر ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنے گھروں میں چوری چھپے کمانیں، تیر اور برچھیاں بنائیں اور گھروں میں چھپا کر رکھیں، عورتوں کو گھروں کے اندر ہی خنجر اور برچھی مارنے اور وار سے بچنے کے لیے طریقہ سکھائیں۔ یہودی لڑکیوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں، ان کے ساتھ ایسی کوئی بات نہ کریں جس سے انہیں کوئی شک پیدا ہو۔ اپنے طور پر کوئی جنگی کارروائی نہ کریں۔ پہلے منظم ہوجائیں پھر قیادت بنائیں۔ ہر ایک فرد کا ذرا سا بھی عمل قائد کی نظر میں ہونا چاہیے اور کسی فرد کا کوئی اقدام قائد کی اجازت کے بغیر نہ ہو”۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 64

سورج غروب ہونے لگا تھا۔ مسجد کا پیش امام آگیا۔ اسے دیکھتے ہی جاسوس نے صلیب اٹھائی اور دوڑتا ہوا باہرنکل گیا۔ باہر سے پھر وہی اعلان سنائی دینے لگا… ”مسلمانو! صلیب کے سائے میں آجائو، تمہارا اسلام مر گیا ہے”… امام نے عثمان صارم کو قہر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا… ”یہ یہاں کیا کررہا تھا؟ اور تم نے اسے اندر کیوں بٹھا رکھا تھا؟ اسے ہلاک کیوں نہ کردیا؟ تمہاری رگوں میں مسلمان باپ کا خون جم گیاہے؟ میں اتنا بوڑھا نہ ہوتا تو یہاں سے اسے زندہ باہر نہ جانے دیتا”۔

”میں اس کے پیچھے اسی لیے آیا تھا کہ یہ یہاں سے زندہ نہ نکل سکے”۔ عثمان صارم نے کہا اور امام کو اپنا خنجر دکھا کر کہنے لگا… ”خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرا خنجر صلیب پر روک لیا تھا۔ یہ آدمی پاگل نہیں، عیسائی اور یہودی بھی نہیں، یہ مسلمان ہے۔ صلاح الدین ایوبی کا پیغام لایا ہے”… اس نے بوڑھے امام کو سلطان ایوبی کا پیغام سنایا اور کہا… ”میں اس پیغام پر عمل کروں گا۔ آج شام سے ہی بسم اللہ کررہا ہوں لیکن ہمیں ایک امیر کی ضرورت ہے۔ کیا آپ ہماری قیادت کریں گے؟ یہ سوچ لیں کہ صلیبی حکومت کو خبر مل گئی تو سب سے پہلے امیر کی گردن اڑائی جائے گی”۔

”کیا مسجد میں کھڑے ہوکر میں کہنے کی جرأت کرسکتا ہوں کہ میں قوم سے الگ رہوں گا؟”۔ امام نے جواب دیا۔ ”لیکن یہ فیصلہ قوم کرے گی کہ میں امیر اور قائد بننے کے قابل ہوں یا نہیں، میں خدا کے گھر میں کھڑا یہ عہد کرتا ہوں کہ میری دانش، میرا مال میری اولاد اور میری جان اسلام کے تحفظ اور فروغ کے لیے اور صلیب کو روبہ زوال کرنے کے لیے وقف ہوگئی ہے… میرے عزیز بیٹے صلاح الدین ایوبی کے پیغام کا ایک ایک لفظ ذہن میں بٹھا لو۔ اس نے ٹھیک کہا ہے کہ نوجوان قوم اور مذہب کا مستقبل ہوتے ہیں۔ وہ اسے روشن بھی کرسکتے ہیں اور وہ آوارہ ہوکر اسے تاریک بھی کرسکتے ہیں۔ جب کوئی نوجوان صلیبیوں اور یہودیوں کی بے حیائی کا دلدارہ ہوکر لڑکیوں کو بری نظر سے دیکھتا ہے تو وہ محسوس نہیں کرتا کہ اس کی اپنی بہن بھی اس جیسے نوجوانوں کی بری نظر کا شکار ہورہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قومیں تباہ ہوتی ہیں… میرے نوجوان بیٹے! خدا کے اس گھر میں عہد کرو کہ تم صلاح الدین ایوبی کے پیغام پر عمل کرو گے”۔

عثمان صارم نے گھر جاکر اپنی بہن النور کو الگ بٹھا کر سلطان ایوبی کا پیغام سنایا اور کہا… ”النور! ہمارا مذہب اور ہمارا قومی وقار تم سے بہت بڑی قربانی مانگ رہا ہے۔ آج سے اپنے آپ کو پردہ نشین لڑکی سمجھنا چھوڑ دو۔ مسلمان لڑکیوں تک یہ پیغام پہنچا کر انہیں اس جہاد کے لیے تیار کرلو۔ میں تمہیں خنجر، تیر کمان اور برچھی کا استعمال سکھا دوں گا۔ احتیاط یہ کرنی ہے کہ کسی کو شک بھی نہ ہو کہ ہم لوگ کیا کررہے ہیں”۔

”میں ہر طرح کی قربانی کے تیار ہوں”۔ النور نے کہا …”میں اور میری تمام سہیلیاں تو پہلے ہی سوچ رہی ہیں کہ ہم اپنی آزادی اور اپنی قوم کے لیے کیا کرسکتی ہیں۔ ہم تو مردوں کے منہ کی طرف دیکھ رہی ہیں”۔

عثمان صارم نے اسے بتایا کہ صلاح الدین ایوبی اور اس کی فوج کے متعلق جتنی خبریں یہاں مشہور کی جاتی ہیں، وہ سب جھوٹی ہوتی ہیں۔ تمام مسلمان گھرانوں میں جاکر عورتوں کو صحیح خبریں سنائو۔ عثمان صارم نے اسے صحیح خبریں سنائیں اور یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں میں غدار اور صلیبیوں میں مخبر بھی ہیں۔ اس نے بہن کو ایسے تین چار گھرانے بتائے اور کہا کہ ان عورتوں کو ہاتھ میں لو اور انہیں بتائو کہ ان کے آدمی غدار ہیں۔ انہیں یہ بھی کہو کہ عیسائی اور یہودی لڑکیوں کے پیار سے بچو۔ ان کا پیار محض دھوکہ ہے۔

”کیا میں رینی کو یہاں آنے سے روک دوں؟” …عثمان صارم نے کہا … ”وہ بہت تیز اور ہوشیار لڑکی ہے”۔

رینی ایک نوجوان عیسائی لڑکی تھی، عثمان صارم کے گھر سے تھوڑی ہی دور اس کا گھر تھا۔ اس کا باپ شہری انتظامیہ کے کسی اونچے عہدے پر فائز تھا۔ لڑکی کا پورا نام رینی الیگزینڈر تھا۔ وہ النور کی سہیلی بنی ہوئی تھی، عثمان صارم کے ساتھ بھی اس نے گہرے مراسم پیدا کرلیے تھے۔ اسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتی تھی۔ عثمان صارم ابھی اس کے قریب نہیں ہوا تھا، یہ وجیہہ جوان سمجھتا تھا کہ یہ عیسائی لڑکی ہے اور یہاں جاسوسی کرنے آتی ہے۔ اس نے رینی کو کبھی ناپسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیتا تھا تاکہ اسے شک نہ ہو۔ اب جب اسے یہ ضرورت پیش آئی کہ رینی اس کے گھر نہ آیا کرے تو رینی کو یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہوگیا کہ اب ہمارے گھر نہ آیا کر و مگر اسے روکنا ضروری تھا کیونکہ وہ گھر میں اپنی بہن کو جنگی ٹرینگ دینا چاہتا تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اس گھر میں اب کیا کیا راز آئیں گے۔ اس نے سوچ سوچ کر یہ طریقہ پسند کیا کہ النور سے کہا کہ رینی جب کبھی آئے تم یہ کہہ کر باہر چلی جایا کرو کہ کسی سہیلی کے گھر جا رہی ہوں۔ اس طرح اسے ٹالتی رہو، وہ خود ہی آنا چھوڑ دے گی۔

کرک شہر کے لوگ اس پاگل کی باتیں کررہے تھے جو مسلمانوں کی تباہی کی پیشن گوئی کرتا پھر رہا تھا۔ غیر مسلموں کو وہ بہت ہی اچھا لگا تھا۔ سب اسے ڈھونڈتے پھرتے تھے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ سرکاری طور پر بھی اسے تلاش کیا جارہا تھا کیونکہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کا جذبہ سرد کرنے کے لیے اس پاگل کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں چلا گیا ہے۔ وہ اسی رات کہیں لاپتہ ہوگیا تھا۔ دس بارہ روز اس کی تلاش ہوتی رہی۔ صلیبی حکام نے شہر کے باہر بھی گھوڑ سوار دوڑا دیئے۔ انہیں توقع تھی کہ وہ اس شہر سے کہیں دوسرے شہر جارہا ہوگا مگر وہ کسی کو نہ ملا اور دس بارہو دن گزر گئے۔

ان دس بارہ دنوں میں عثمان صارم نے النور اور اس کی تین سہیلیوں کو ہتھیاروں کا استعمال سکھا دیا۔ اس نے انہیں تیغ زنی بڑی محنت سے سکھائی۔ اس کے علاوہ اس نے مسلمان نوجوانوں کو درپردہ سلطان ایوبی کا پیغام سنا کر زمین دوز محاذ پر جمع کرلیا۔ ان نوجوانوں نے ان مسلمان کاریگروں کو تیار کرلیا جو برچھیاں اور تیروکمان وغیرہ بناتے تھے۔ یہ سب صلیبیوں کے ملازم تھے۔ وہ اپنے لیے کوئی ہتھیار نہیں بنا سکتے تھے۔ مسلمانوں کو کوئی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کاریگروں نے گھروں میں چوری چھپے ہتھیار بنانے شروع کردیئے۔ یہ بہت ہی خطرناک کام تھا۔ پکڑے جانے کی صورت میں صرف سزائے موت ہی نہیں تھی بلکہ مرنے سے پہلے صلیبی درندوں کی بھیانک اذیتیں تھیں۔ وہاں کوئی مسلمان کوئی معمولی سے جرم میں بامحض شک میں پکڑا جاتا تو اس سے پوچھا جاتا تھا کہ مسلمان گھرانوں کے اندر کیا ہورہا ہے اور جاسوس کہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو روئی کی طرح دھننا شروع کردیتے تھے۔ کاریگر جو ہتھیار بناتے تھے وہ عثمان صارم جیسے نوجوان رات کو مختلف گھروں میں چھپا دیتے تھے۔ دن کے وقت لڑکیاں بقعہ نما لبادوں میں خنجر اور تیروکمان چھپا کر مسلمانوں کے گھروں میں لے جاتی رہتی تھی مگر ہتھیار بنانے اور گھروں میں پہنچانے کی رفتار بہت سست تھی۔

ادھر سلطان ایوبی کو ایک جاسوس نے اطلاع دے دی کہ کرک اور مضافات کے مسلمانوں تک اس کا پیغام پہنچ گیا ہے اور وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے زمین دوز محاذ بنا لیاہے۔ یہ اطلاع لانے والا بھی ایک ذہین اور نڈر جاسوس تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ جاسوس جس نے سلطان ایوبی کا پیغام عثمان صارم تک پہنچایا تھا پاگل کے روپ میں کامیاب رہا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اس اطلاع پر بہت خوش تھا۔ اس نے کہا … ”جس قوم کے نوجوان بیدار ہوجائیں اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی”۔

”اس کامیابی نے میرا حوصلہ بڑھا دیا ہے”۔ شعبہ جاسوسی کے نائب زاہدان نے کہا …”اگر آپ اجازت دیں تو میں مقبوضہ علاقے کے نوجوانوں کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے اتنا بھڑکا سکتا ہوں کہ وہ شعلے بن کر کرک اور یروشلم کو آگ لگا دیں گے”۔

”اور اس آگ میں وہ خود بھی جل مریں گے”۔ سلطان ایوبی نے کہا …”میں نوجوانوں کو شعلے نہیں بنانا چاہتا۔ میں ان کے سینوں میں ایمان کی چنگاری سلگانا چاہتا ہوں۔ نوجوانوں کو بھڑکانا کوئی مشکل کام نہیں ۔ ان میں سے کوئی اشرفی کی چمک اور لالچ سے تمہارے ہاتھ میں کھیلنے لگے گا اور زیادہ تعداد ان کی ہے جو جذباتی الفاظ اور جوشیلے نعروں سے بھڑک اٹھتے ہیں پھر تم ان سے جو کچھ کرانا چاہتے ہو کرالو۔ انہیں آپس میں بھی لڑا سکتے ہو۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ جاہل اور گنوار ہیں اور ان کا اپنا دماغ ہی نہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ خون کا جوش کچھ کر گزرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس عمر میں ذہن عیاشی کی طرف مائل ہوتا ہے اور عمل صالح کی طرف بھی۔ تم نوجوان ذہن کو جو بھی تحریک اور اشتعال دے دو وہ اسی کا اثر قبول کرلے گا۔ تمہارے دشمن ہماری قوم کے ابھرتے ہوئے ذہن میں عیاشی اور جنسی لذت کے جراثیم ڈال رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم انہیں جہاد کی طرف مائل کرکے دشمن کے خلاف استعمال نہ کرسکیں۔ تم یہ کوشش کرو کہ نوجوان بھڑکیں نہیں بلکہ سردر ہیں اور سوچیں، رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کو سمجھیں کہ اپنے آپ کو جانو اپنے دشمن کو پہچانو۔ ان کی سوچیں بدل دو۔ ان میں قومیت کا احساس پیدا کرو۔ یہ نوجوان قوم کا بڑا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں بھڑکا کر جلنے سے بچائو۔ انہیں مردانہ دانشمندی نہیں، دانائی یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں دشمن کو مروائو لیکن دشمن کا تصور واضح کرو۔ کوئی مسلمان مجھے برا بھلا کہے تو وہ نہ اسلام کا دشمن ہے، نہ غدار ہے، وہ میرا دشمن ہے۔ میں اسے قانون کا سہارا لے کر سزا نہیں دوں گا جو اسلام در سلطنت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ ملت کا قانون ملت کے امیر کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہوتا۔ غداری کی سزا اسے دی جاتی ہے جو ملک اور قوم کی جڑیں کاٹے اور دین کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرے۔ خواہ حکمران خود ہی اس کا مجرم ہو۔ وہ غدار ہے اور سزا کا مستحق”۔

”اس صورت میں جبکہ وہاں نوجوان تیار ہوگئے ہیں ہم انہیں کس طرح استعمال کریں”۔ زاہدان نے پوچھا۔

”انہیں جوش میں نہ آنے دو”۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا… ”ان کی سوچیں بیدار کرو، وہاں کے حالات کے مطابق وہ خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ وہ جذبات کے غلبے کے تحت نہ سوچیں، وہاں اور زیادہ ذہین جاسوس بھجو اور یہ یاد رکھو زاہدان کہ دشمن ہمیں نہیں ہمارے نوجوان بچوں کا کردار بگاڑنے کی کوشش کررہا ہے یا ہمارے ان حاکموں کا جن کے ذہن بچوں کی طرح خام ہیں۔ کسی بھی قوم کو جنگ کے بغیر شکست دینا چاہو تو اس کے نوجوانوں کو ذہنی عیاشی میں ڈال دو۔ یہ قوم اس حد تک تمہاری غلام ہوجائے گی کہ اپنی مستورات تمہارے حوالے کرکے اس پر فخر کرے گی۔ صلیبی اور یہودی ہماری قوم کو اسی سطح پر لانے کی کوشش کررہے ہیں” … سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے زاہدان سے کہا … ”میں نے کسی سے کہا تھا کہ کرک کے ان مسلمانوں تک جو ہتھیار بنا رہے ہیں، آتش گیر مادہ پہنچا دو یا انہیں بتا دو کہ یہ کس طرح بنتا اور استعمال ہوتا ہے”۔

”وہ انہیں بتا دیا گیا ہے”۔ زاہدان نے جواب دیا … ”اطلاع ملی ہے کہ مسلمانوں نے یہ مادہ تیار کرنا شروع کردیا ہے”۔کرک میں ایسے حالات فوراً ہی پیدا ہوگئے جن میں وہاں کے نوجوانوں کو خود ہی سوچنا اور عمل کرنا پڑا۔مقبوضہ علاقوں میں صلیبیوں نے قافلے لوٹنے کا بھی سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ قافلے اتنے عام نہیں تھے۔ تاجر اور دیگر سفر کرنے والے اکٹھے ہوتے رہتے تھے۔ ان کی تعداد ڈیڑھ دو سو ہوجاتی تو قافلے کی صورت میں چلتے تھے۔ یہ ایک حفاظتی اقدام ہوتا تھا۔ قافلے کے ساتھ لڑنے والے مسلح افراد بھی ہوتے تھے۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی افراط ہوتی تھی۔ تاجروں کا بے شمار مار اور دولت ہوتی تھی۔ قافلے میں چند ایک کنبے بھی ہوتے تھے۔ یہ لوگ نقل مکانی کرتے تھے۔ صلیبی استبداد میں آئے ہوئے مسلمان اکثر وہاں سے ہجرت کرکے مسلمانوں کی حکمرانی کے علاقوں میں جاتے رہتے تھے۔ اتنے بڑے قافلے کو چند ایک ڈاکو نہیں لوٹ سکتے تھے۔ قافلے والے مقابلہ کرتے تھے۔ صلیبیوں نے یہ کام اپنی فوج کے سپرد کیا تھا۔ انہیں اگر کسی قافلے کی اطلاع مل جاتی تو اپنی فوج کے ایک دو دستوں کو صحرائی لوگوں کے بھیس میں بھیج کر اسے لوٹ لیتے تھے۔ قافلوں میں صرف مسلمان ہوتے تھے۔ یہ جرم ان صلیبی بادشاہوں نے بھی کرایا اور لوٹے ہوئے مال سے حصہ وصول کیا، جنہیں آج تاریخ میں صلیبی جنگوں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

اس جرم میں مسلمان امراء بھی شامل تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی اسلامی ریاستوں کے حکمران تھے۔ ان کے پاس فوج بھی تھی۔ لٹے ہوئے قافلوں کے دوچار آدمی فریاد لے کر ان حکمرانوں کے دربار میں جاتے تھے تو ان کی شنوائی نہیں ہوتی تھی کیونکہ ان حکمرانوں کو بھی صلیبی لڑکیوں، شراب اور تھوڑے سے سونے کی صورت میں حصہ دیا کرتے تھے۔

اگر یہ حکمران چاہتے تو صلیبی ڈاکوئوں کا قلع قمع کرسکتے تھے مگر انہوں نے صلیبی ڈاکوئوں کو ایسی کھلی چھٹی دے رکھی تھی کہ یہ ڈاکو ان کی ریاستوں کے اندر بھی آکر لوٹ مار کر جاتے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں اندھا کرکے یہ فائدہ بھی اٹھایا کہ ان کی ریاستوں کے سرحدی علاقے ہڑپ کرتے گئے۔ انہوں نے بعض چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو مسلسل ڈاکوئوں سے پریشان کرکے جزیہ بھی وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ اس طرح سلطنت اسلامیہ سکڑتی چلی جارہی تھی۔ نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی ان مسلمان ریاستوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ان حکمرانوں کو وہ صلیبیوں سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھے۔ ایک بار نورالدین زنگی نے صلاح الدین ایوبی کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کئی اور باتوں کے علاوہ ان چھوٹے چھوٹے مسلمان حکمرانوں کے متعلق لکھا تھا… ”ان مسلمان حکمرانوں نے اپنی عیش وعشرت کے لیے اپنی ریاستیں صلیبیوں کے پاس گروی رکھ دی ہیں۔ وہ کفار سے تحفے اور زروجواہرات اور اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکیاں لیتے اور اسلام کا نام ڈبوتے جارہے ہیں۔ یہ مسلمان کفار سے زیادہ ناپاک اور خطرناک ہیں۔ وہ بادشاہی کے نشے میں بدمست ہیں اور صلیبی ان کی جڑوں میں داخل ہوگئے ہیں۔ صلیبیوں کو شکست دینے سے پہلے ضروری ہوگیا ہے کہ ان مسلمان ریاستوں پر قبضہ کرکے انہیں سلطنت اسلامیہ میں مدغم کیا جائے اور خلافت بغداد کے تحت لایا جائے۔ اس کے بغیر اسلام کا تحفظ ممکن نہیں”۔

ان خطروں کے باوجود کبھی کبھی کوئی بہت بڑا قافلہ صحرا میں جاتا نظر آجاتا تھا۔ کرک سے چند میل دور سے ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ اس میں ایک سو سے زیادہ اونٹ تھے۔ بہت سے گھوڑے بھی تھے، قافلے میں تاجروں کا مال تھا اور چند ایک کنبے تھے۔ ایک کنبہ ایسا بھی تھا جس میں دو جوان لڑکیاں تھیں، یہ بہنیں تھیں۔ قافلہ حسب معمول مسلمانوں کا تھا۔ کرک کے علاقے سے قافلہ گزر رہا تھا تو صلیبیوں کو پتا چل گیا۔ انہوں نے اپنی فوج کا ایک دستہ بھیج دیا جس نے دن دہاڑے قافلے پر جا حملہ کیا۔ قافلے کے گھوڑ سواروں نے مقابلہ تو بہت کیا مگر صلیبیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہاں ریت خون سے لال ہوگئی۔ صلیبیوں نے بچوں تک کو کاٹ ڈالا۔ پندرہ سولہ جواں سال مسلمان رہ گئے۔ انہیں قیدی بنا لیا گیا۔ دونوں لڑکیوں کو پکڑ لیا۔ اونٹوں اور گھوڑوں کو مال واسباب سمیت کرک لے گئے۔

یہ قافلہ جب کرک میں داخل ہوا تو آگے آگے قیدی تھے۔ ان کے پیچھے دو گھوڑوں پر دو لڑکیاں سوار تھیں جن کا لباس بتاتا تھا کہ مسلمان ہیں۔ ان کے پیچھے صلیبی تھے جن کے چہروں پر نقاب تھے اور ان کے پیچھے مال واسباب سے لدے ہوئے اونٹوں کی قطار تھی۔ لڑکیاں رو رہی تھیں۔ کرک کے شہری تماشا دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے، وہ تالیاں پیٹتے اور قہقہے لگاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لٹا ہوا یہ قافلہ مسلمانوں کا ہے اور قیدی بھی مسلمان ہیں۔ ان قیدیوں میں ایک جواں سال قیدی آفاق نام کا تھا۔ دونوں مغویہ لڑکیاں اس کی بہنیں تھیں۔ آفاق زخمی بھی تھا، اس کی پیشانی اور کندھے سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ لٹے ہوئے قافلے کے آگے آگے شہر میں داخل ہوا تو تماشائیوں کو دیکھ کر اس نے بلند آواز سے کہا… ”کرک کے مسلمانو! ہمارا تماشا دیکھ رہے ہو؟ ڈوب مرو۔ ان لڑکیوں کو دیکھو، یہ میری نہیں تمہاری بہنیں ہیں۔ یہ مسلمان ہیں”۔

ایک صلیبی نے پیچھے سے اس کی گردن پر گھونسہ مارا، وہ منہ کے بل گرا۔ اس کے ہاتھ رسیوں سے پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ ایک قیدی نے اسے اٹھایا تو آفاق پھر چلایا… ”کرک کے مسلمانو! یہ تمہاری بیٹیاں ہیں”… اسے دو تین نقاب پوشوں نے پیٹنا شروع کردیا۔ اس کی بہنیں چیخ چیخ کر رو رہی تھیں اور فریادیں کرتی تھیں… ”خدا کے لیے ہمارے بھائی کو نہ مارو، ہمارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہو کرلو، اسے نہ مارو”… ایک بہن چلا رہی تھی… ”آفاق خاموش ہوجائو، تم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے”… مگر آفاق چپ نہیں ہورہا تھا۔ تماشائیوں میں مسلمان بھی تھے جو اپنا خون پی رہے تھے مگر بے بس تھے۔ ان کی غیرت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتی جارہی تھی اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ان میں نوجوان مسلمان بھی تھے اور ان میں عثمان صارم بھی تھا۔ اس نے اپنے نوجوان دوستوں کی طرف دیکھا۔ سب کی آنکھیں لال تھیں اور دل زور زور سے دھڑک رہے تھے۔

عثمان صارم تھوڑی دور تک اس قافلے کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ آگے ایک غریب سا موچی بیٹھا تھا جو لوگوں کے جوتے مرمت کیا کرتا تھا۔ اسے کسی مسلمان نے اپنی گھر کی ڈیوڑھی میں سونے کی جگہ دے رکھی تھی۔ دن بھر وہ باہر بیٹھا جوتے مرمت کرتا رہتا تھا۔ بدقسمت قافلہ اس کے سامنے سے بھی گزرا۔ اس نے بھی آفاق کی للکار اور لڑکیوں کی آہ وزاری سنی۔ آفاق کے چہرے کو خون سے لال دیکھا، اس پر صلیبیوں کا ظلم ہوتا بھی دیکھا لیکن اس طرح دیکھا جیسے اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اس موچی کو نہ کبھی کسی نے مسجد میں جاتے دیکھا تھا، نہ گرجے میں۔ وہ یہودیوں کی عبادت گاہ میں بھی کبھی نہیں گیا تھا۔ اس کی طرف وہی توجہ دیتا تھا جسے جوتا مرمت کرانا ہوتا تھا۔ اسے کبھی کسی نے بولتے نہیں سنا تھا، وہ خلق کا راندہ ہوا انسان تھا جسے صلیبیوں کے ساتھ بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اسلامیوں کے ساتھ بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔

عثمان صارم چلتے چلتے اس موچی کے قریب سے گزرنے لگا تو رک گیا۔ قیدی آگے نکل گئے تھے، اونٹ جارہے تھے۔ جب آخری اونٹ گزر گیا تو عثمان صارم نے دونوں جوتے اتار کر موچی کے آگے رکھ دیئے اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ موچی کسی کا جوتا مرمت کررہا تھا، اس نے عثمان صارم کو سر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ عثمان نے ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی میں کہا… ”ان دونوں لڑکیوں کو آج رات آزاد کرانا ہے”۔

”جانتے ہو، یہ لڑکیاں رات کو کہاں ہوں گی؟” … موچی نے سراٹھائے بغیر اتنی دھیمی آواز میں پوچھا کہ عثمان صارم کے سوا کوئی اور نہیں سن سکتا تھا۔

”جانتا ہوں”۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ”صلیبی بادشاہوں کے پاس ہوں گی لیکن ہم میں سے کسی نے بھی وہ جگہ اندر سے نہیں دیکھی”۔

”میں نے دیکھی ہے”۔ موچی نے اپنے کام میں مگن رہ کر کہا… ”وہاں سے لڑکیوں کو نکالنا ممکن نہیں”۔

”تم کس مرض کی دوا ہو؟”… عثمان صارم نے ایسے لہجے میں کہا جس میں جذبات کا لرزہ اور غصہ تھا۔ کہنے لگا ”ہماری رہنمائی کرو اگر ہم لڑکیوں تک پہنچ گئے تو پکڑے گئے تو لڑکیوں کی گردنیں کاٹ دیں گے۔ انہیں صلیبیوں کے پاس نہیں رہنے دیں گے”۔

”کتنے جوانوں کی قربانی دے سکتے ہو؟” موچی نے پوچھا”۔

”جتنے جوان مانگو گے”۔

”کل رات”۔

”آج رات”۔ عثمان صارم نے دبدبے سے کہا… ”آج ہی رات برجیس! آج ہی رات”۔

”امام کے پاس پہنچو”۔ موچی نے کہا۔

”کتنے جوان؟”

برجیس موچی نے سوچ کر کہا… ”آٹھ… ہتھیار سن لو۔ خنجر۔ آتش گیر مادہ”۔

عثمان صارم نے اپنے جوتے پہنے اور چلا گیا۔

٭ ٭ ٭
سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔ عثمان صارم نے راستے میں اپنے سات ہم جولیوں کو گھروں سے بلا کر انہیں امام کے گھر پہنچنے کو کہا اور خود امام کے گھر چلا گیا۔ یہ اسی مسجد کا امام تھا جس میں عثمان صارم کی ملاقات ”پاگل” سے ہوئی تھی۔ عثمان نے ہی امام کو اپنی زمین دوز جماعت کی امامت پیش کی تھی جسے جماعت کے ہر فرد نے قبول کرلیا تھا۔ یہ لوگ کسی نہ کسی کے گھر میں مل بیٹھتے اور لائحہ عمل تیار کرتے تھے۔ اب ان دو مغویہ لڑکیوں کا مسئلہ سامنے آگیا تو عثمان صارم نے ان کی رہائی کا ارادہ کرلیا جو دراصل خودکشی کا ارادہ تھا۔ وہ موچی کے کہنے کے مطابق امام کے گھر چلا گیا۔ امام بے چینی سے اپنی ڈیوڑھی میں ٹہل رہا تھا۔ عثمان صارم کو دیکھ کر رک گیا اور پوچھا …”عثمان! تم نے اس قیدی کی للکار سنی تھی؟ معلوم ہوتا تھا، وہ لڑکیاں اس کی بہنیں تھیں”۔

”میں اسی للکار پر لبیک کہنے آیا ہوں محترم امام!” عثمان صارم نے کہا… ”برجیس آرہا ہے اور میرے سات دوست بھی آرہے ہیں”۔

”تم کیا کرو گے؟” امام نے پوچھا… ”تم کرہی کیا سکو گے؟… میں جانتا ہوں کہ ہماری بے شمار لڑکیاں کافروں کے قبضے میں ہیں مگر ان دو لڑکیوں نے مجھے امتحان میں ڈال دیا ہے”۔ اس نے منہ اوپر کرکے گہری آہ بھری اور کہا… ”یاخدا مجھے صرف ایک رات کے لیے جوان کردے یا آج ہی رات میری جان لے لے۔ اگر میں زندہ رہا تو تمام عمر ان لڑکیوں کی آہ وزاری مجھے سنائی دیتی رہے گی اور میں پاگل ہوجائوں گا”۔

”ہمیں اپنی دانش کی روشنی دکھائیں”۔ عثمان صارم نے کہا… ”مجھے امید ہے کہ ہم آپ کو ایک رات سے زیادہ بے چین نہیں رہنے دیں گے”۔

عثمان صارم کے دو ساتھی اندر آئے، امام نے انہیں بیٹھنے کو کہا اور تینوں سے مخاطب ہوکر کہا… ”آج یوں معلوم ہوتا ہے جیسے میری دانش جواب دے گئی ہے۔ مجھے اس طرح بے قابو نہیں ہونا چاہیے لیکن کوئی غیرت کو للکارے تو جذبے بھڑک اٹھتے ہیں۔ جنہیں مطمئن کرنے کے لیے جوان ہونا ضروری ہوتا ہے… لیکن میرے بچو! میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں، مجھ میں اب برداشت کی قوت نہیں رہی تم جو کچھ کرنے کا ارادہ کرو سنبھل کر کرنا”۔

ایک ایک کرکے سات نوجوان جمع ہوگئے اور ان کے فوراً بعد موچی آگیا۔ اس نے بوری اٹھا رکھی تھی جس میں پرانے جوتے اور اوزار تھے۔ اس نے بوری پھینکی اور کمر سیدھی کی۔ وہ ہنس پڑا۔ وہ جب سیدھا کھڑا ہوا تو کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ وہ موچی ہے جو دنیا کی گہما گہمی سے رشتہ توڑے ہوئے راستے میں بیٹھا جوتے مرمت کرتا رہتا ہے۔ اس وقت جب وہ امام کے گھر میں تھا اور دروازہ بند ہوچکا تھا وہ موچی نہیں برجیس تھا… علی بن سفیان کے محکمہ جاسوسی کے ایک خفیہ شعبے کا تجربہ کار اور نہایت عقل مند جاسوس… اس نے امام سے کہا … ”یہ لڑکے آج ہی ان دونوں لڑکیوں کو صلیبیوں کی قید سے آزاد کرانے پر تلے ہوئے ہیں، اس کام میں صرف پکڑے جانے کا یا ناکامی کا ہی خطرہ نہیں بلکہ یقینی موت کا خطرہ ہے”۔

”ہم یہ خطرہ قبول کرتے ہیں محترم برجیس!”… ایک نوجوان نے کہا… ”آپ اس فن کے استاد ہیں، ہماری رہنمائی کریں”۔

”اگر عقل کی بات سنیں تو میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں”… برجیس نے کہا … ”صلیبیوں کے پاس بہت سی مسلمان لڑکیاں ہیں، ان میں سے بعض کو انہوں نے بچپن میں قافلوں اور گھروں سے اغوا کیا تھا اور انہیں اپنی تعلیم وتربیت دے کر ہمارے خلاف جاسوسی اور تمہاری کردار کشی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ تم لوگ ایک ایک لڑکی کو تو آزاد نہیں کراسکتے اگر تم سب میرے فن سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوتو میں کہوں گا کہ دو لڑکیوں کی خاطر تم جیسے آٹھ جوان قربان کردینا عقل مندی نہیں۔ بربادری اور تحمل ضروری ہے”۔

”میں تحمل کو کس طرح قبول کرسکتا ہوں؟”… عثمان صارم نے بھڑک کر کہا۔

”میری طرح”۔ برجیس نے کہا… ”کیا میں پیشے کا موچی ہوں؟ میں جب مصر میں ہوتا ہوں تو میری سواری کے لیے عربی گھوڑا تیار رہتا ہے اور میرے گھر میں دو ملازم ہیں مگر یہاں تین مہینوں سے راستے میں بیٹھا لوگوں کے غلیظ جوتے مرمت کرتا رہتا ہوں… میں تمہیں دو لڑکیوں کی آزادی کے لیے پورے کرک اور اس سے آگے کے بہت وسیع علاقے کو آزاد کرانے کے لیے زندہ رکھنا چاہتا ہوں، برداشت کرو، انتظار کرو”۔

عثمان صارم اور اس کے ساتوں دوست برداشت کی حدوں سے نکل چکے تھے۔ ان کی باتوں سے پتا چلتا تھا کہ ان میں انتظار کی بھی ہمت نہیں رہ۔ وہ کسی کی رہنمائی کے بغیر ہی اس جگہ پر حملہ کرنے کو تیار تھے جہاں توقع تھی کہ لڑکیاں ہوںگی۔ انہوں نے امام کی بھی باتیں سننے سے انکار کردیا۔ آخر برجیس نے انہیں بتایا کہ اس کے دو جاسوس اس جگہ معمولی ملازم ہیں جہاں صلیبی حکمران رات کو اکٹھے ہوتے ہیں اور شراب پیتے ہیں۔ یہ دونوں جاسوس عیسائیوں کے بھیس میں شوبک کی فتح کے بعد وہاں سے بھاگنے والے عیسائیوں کے ساتھ آئے تھے۔ انہیں یہاں نوکری مل گئی تھی اور وہ کامیاب جاسوسی کررہے تھے۔

”تم سب نے وہ عمارت دیکھی ہے جہاں وہ صلیبی حکمران جو ہماری فوج کے خلاف لڑنے کے لیے برطانیہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ سے آئے ہوئے ہیں، رہتے ہیں۔ اس عمارت میں ایک بڑا کمرہ ہے جہاں وہ شام کے بعد اکٹھے ہوتے، شراب پیتے اور ناچتے ہیں۔ ان کی تفریح کے لیے لڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔ وہ آدھی رات تک وہاں ادھم مچاتے رہتے ہیں۔ تم نے دیکھا ہے کہ وہ جگہ ذرا بلندی پر ہے جہاں سے پورا شہر نظر آتا ہے۔ وہاں فوج کا پہرہ بھی ہوتا ہے۔ اس عمارت تک پہنچنا ممکن نہیں۔ کوئی عام آدمی بلکہ کوئی خاص شہری بھی اس عمارت کے قریب نہیں جاسکتا۔ میں یہ معلوم کرسکتا ہوں کہ یہ دو لڑکیاں کہاں ہوں گی مگر ان تک رسائی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ہماری فوج باہر سے ابھی حملہ کردے۔ اس صورت میں تمام حکمران اور فوجی حکام اس عمارت سے چلے جائیں گے اور حملہ روکنے میں لگ جائیں گے مگر آج رات حملہ نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صلاح الدین ایوبی کب حملہ کریں گے”۔

”ضرورت حملے کی ہے”۔ امام نے برجیس سے وضاحت چاہی… ”دوسرے لفظوں میں ضرورت یہ ہے کہ اس عمارت میں جو لوگ ہیں وہ وہاں سے چلے جائیں اور لڑکیاں وہیں رہ جائیں۔ اس صورت میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اس عمارت میں داخل ہوکر لڑکیوں کو اٹھا لائیں”۔

”جی ہاں!” برجیس نے اپنے تجربے کی بناء پر خود اعتمادی سے کہا۔ ”اگر شہر کے اندر کوئی بڑا ہی شدید اور خطرناک قسم کا ہنگامہ ہوجائے، کہیں آگ لگ جائے اور آگ جنگی سازوسامان کو لگے تو شاید حکمران اور دیگر لوگ وہاں سے نکل کر موقع واردات پر چلے جائیں”۔ برجیس گہری سوچ میں کھوگیا۔ اس نے عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو باری باری دیکھا اور کچھ دیر بعد کہا… ”ہاں میرے مجاہدو! اگر ایک جگہ آگ لگا سکتے ہو تو لڑکیوں کی رہائی کی صورت پیدا ہوسکتی ہے”۔

”جلدی بتائو محترم!” … عثمان صارم نے بے صبر ہوکر پوچھا… ”کہاں آگ لگانی ہے، کہو تو سارے شہر کو آگ لگادیں”۔

”تم سب نے وہ جگہ دیکھی ہے جہاں صلیبیوں کی فوج کے گھوڑے بندھے رہتے ہیں؟” برجیس نے کہا… ”وہاں اس وقت کم وبیش چھ سو گھوڑے ایک جگہ بندھے ہوئے ہیں، باقی مختلف جگہوں پر ہیں۔ ان کے قریب اتنی ہی تعداد میں اونٹوں کی بندھی ہوئی ہے۔ ان سے ذرا ہی پرے گھوڑوں کے خشک گھاس کے پہاڑ کھڑے ہیں۔ اس سے تھوڑا ہٹ کر فوج کے خیموں کے ڈھیر پڑھے ہیں، وہاں گھوڑا گاڑیاں بھی کھڑی ہیں اور ایسا سامان بے شمار پڑا ہے، جسے فوراً آگ لگ سکتی ہے مگر اس کے اردگرد سنتری گھوم پھر رہے ہوتے ہیں وہاں سے رات کے وقت کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں۔ اگر تم اس گھاس اور خیموں کے انباروں کو آگ لگا سکو تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ صلیبی حکمران ساری دنیا کو بھول کر وہاں پہنچ جائیں گے۔ گھاس، کپڑے اور لکڑی کے شعلے آسمان تک جائیں گے۔ سارے شہر پر خوف طاری ہوجائے گا۔ آگ لگانے کے ساتھ ہی اگر تم زیادہ سے زیادہ گھوڑوں کو کھول دو تو وہ ڈر کر ایسا بھاگیں گے کہ لوگوں کو کچلتے پھریں گے مگر سوچنا یہ ہے کہ آگ کون لگائے گا؟ گھوڑے کون کھولے گا؟ اور آگ لگانے کے لیے وہاں پہنچا کس طرح جائے گا؟”

”فرض کرلو، آگ لگ گئی” ایک نوجوان نے کہا… ”اس عمارت میں تم میرے بغیر نہیں جاسکو گے وہاں میرے دو ساتھی موجود ہیں۔ وہ مجھے بتا دیں گے کہ لڑکیاں کہاں ہیں مگر یہ بھی سوچ لو کہ لڑکیوں کو اٹھا لائیں گے تو انہیں کہیں چھپانا بھی ہوگا اور اس کے بعد کرک کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ صلیبی یقین ہی نہیں کریں گے کہ یہ مسلمان کے سوا کسی اور کا کام ہوسکتاہے”۔

”مسلمان پہلے کتنے کچھ آرام میں ہیں؟”… امام نے کہا… ”میں مشورہ دیتا ہوں کہ ہم یہ کام کر گزریں۔ صلیبیوں کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ مسلمان کتنا ہی مجبور اور بے بس کیوں نہ ہو وہ غلام نہیں رہ سکتا اور اس کا وار جگر چاک کردیا کرتا ہے”۔

برجیس تو تھا ہی کمانڈو قسم کا جاسوس، وہ کئی راز معلوم کرکے سلطان ایوبی تک پہنچا چکا تھا لیکن اسے اس قسم کی تخربی کاری کا کوئی موقع نہیں ملا تھا۔ وہ ایسی شدید کارروائی کو ضروری سمجھتا تھا تاکہ صلیبیوں کو معلوم ہوجائے کہ مسلمان کیا کرسکتا ہے۔ اس نے عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو سمجھانا شروع کردیا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس سلسلے کی دو کڑیاں بہت نازک تھیں۔ ایک یہ کہ آگ لگانے کے لیے تین چار لڑکیاں جائیں، وہ سنتری سے کسی اعلیٰ فوجی حاکم کا پتہ پوچھیں اور سنتری کو مارڈالیں، برجیس نے لڑکیوں کو بھیجنے کی اس لیے سوچی تھی کہ عورت، خصوصاً نوجوان لڑکی، جو تاثر پیدا کرسکتی ہے، وہ کوئی مرد نہیں کرسکتا۔ مرد شک پیدا کرسکتا ہے۔ دوسرا خطرناک مرحلہ یہ آیا کہ کتنے نوجوان صلیبی حکمرانوں کی عمارت پر حملہ آور ہوں۔ برجیس اور امام نے متفقہ طو رپر کہا کہ زیادہ نہ ہوں۔ یہی آٹھ ہوں تو بہتر ہے کیونکہ زیادہ ہجوم نظر آسکتا ہے اور کسی نہ کسی کے پکڑے جانے کا خطرہ زیادہ ہوگا۔

پھر یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ اتنی دلیر لڑکیاں کہاں سے ملیں گی۔ عثمان صارم نے کہا کہ ایک اس کی بہن النور ہوگی، ایک اور نوجوان نے کہا کہ دوسری اس کی بہن ہوگی۔ باقی چھ نوجوانوں میں کسی کی بہن نہیں تھی۔ امید ظاہر کی گئی کہ یہ دو لڑکیاں اپنی اپنی ایک سہیلی کو ساتھ لے لیں گی۔ برجیس نے ان لڑکیوں کو ان کا کام سمجھانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لی۔ سورج غروب ہوگیا تھا۔ امام مسجد ایک طرف چلا گیا، باقی سب ایک ایک کرکے باہر نکلے۔ سب سے آخر میں برجیس باہر نکلا۔ وہ پھر وہی موچی تھا جسے کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کے اردگرد کیا ہورہا ہے۔ وہ جھکا جھکا اس طرح مری ہوئی چال چلا جارہا تھا جیسے ساری دنیا کے رنج وغم کا بوجھ اس کے کندھوں پر گر پڑا ہو۔

٭ ٭ ٭

عثمان صارم اپنے گھر سے ابھی کچھ دور تھا کہ اسے رینی الیگزینڈر مل گئی۔ وہ عثمان کی بہن النور کی گہری سہیلی بنی ہوئی تھی۔ دونوں بہن بھائی چاہتے تھے کہ وہ ان کے گھر نہ آیا کرے لیکن عثمان صارم اسے اچانک گھر آنے سے روک کر کسی شک میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ رینی اس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش کیا کرتی تھی جس سے عثمان کو یہ خیال بھی آتا تھا کہ وہ اس کا کردار خراب کرکے اس کا قومی جذبہ مارنا چاہتی ہے۔ اس شام رینی راستے میں مل گئی۔ اس نے مسکرا کر دیکھا اور رکنا نہ چاہا مگر رینی رک گئی اور اس کا راستہ روک لیا۔ عثمان صارم کو ایسا کوئی ڈر نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہے اور ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ رازونیاز کی باتیں کرتا پکڑا گیا تو سزا پائے گا۔ وہ جانتا تھا کہ صلیبی اور یہودی انہیں دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ان کی ایک لڑکی مشتبہ مسلمان نوجوان کو اپنا گرویدہ بنا رہی ہے۔ وہ بھی رک گیا اور بولا… ”میں ذرا جلدی میں ہوں رینی”۔

”تمہیں کوئی جلدی نہیں عثمان!”… رینی نے دوستانہ لہجے میں کہا… ”کیا تم اتنی آسانی سے مجھ سے پیچھا چھڑا سکو گے؟”۔

”میں تم سے پیچھا چھڑانے کی تو نہیں سوچ رہا”۔

”جھوٹ نہ بولو عثمان!” رینی نے مسکرا کر کہا… ”میں تمہارے گھر سے آرہی ہوں، تمہاری بہن نے مجھے صاف کہہ دیا ہے کہ یہاں اب کم آیا کرو، عثمان ناراض ہوتا ہے… کیوں عثمان! یہ بات تم نے خود کیوں نہ کہہ دی؟”۔

عثمان صارم کی ذہنی حالت کچھ اور تھی، وہ جلدی میں تھا اور اس کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے۔ وہ ٹالنے کے لیے کوئی موزوں جواب نہ سوچ سکا۔ اس کے منہ سے وہی بات نکل گئی جو اس کے دل میں تھی۔ اس نے کہا… ”رینی! معلوم نہیں میں خود کیوں نہ تمہیں کہہ سکا کہ ہمارے گھر نہ آیا کرو۔ اب سن لو۔ ہماری آپس میں کتنی ہی محبت کیو نہ ہو ہم قومی لحاظ سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ تم ذاتی محبت کی بات کرو گی مگر میں قومی محبت کا قائل ہوں جو صلیب اور قرآن مجید میں کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ میرا وطن ہے۔ تمہاری قوم یہاں کیا کررہی ہے؟… جب تک تمہاری قوم کے آخری آدمی کا بھی وجود یہاں رہے گا ہم ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے… میرے دل میں جو کچھ تھا، وہ تمہیں بتا دیا ہے”۔

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 3

”اور میرے دل میں جو کچھ ہے وہ بھی سن لو”۔ رینی نے کہا… ”میرے دل سے تمہاری محبت نہ صلیب نکال سکتی ہے، نہ قرآن مجید۔ میں جب تک تمہیں دیکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تمہیں مسکراتا دیکھتی ہوں تو میری روح بھی مسکرا اٹھتی ہے۔ سن لو عثمان ! اگر تم نے مجھے اپنے گھر آنے سے روکا تو ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا”۔

”تم مجھے دھمکی دے سکتی ہو، تم حکمران قوم کی لڑکی ہونا!” عثمان صارم نے تحمل سے کہا۔

”اگر میرے دماغ میں حکمرانی کا نشہ ہوتا تو تم یہاں نہ کھڑے ہوتے، قید خانے میں گل سڑ رہے ہوتے”۔ رینی نے کہا… ”تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ مجھے تمہارے متعلق کچھ معلوم نہیں؟ کہو تو تمہاری زمین دوز کارروائیوں کی تفصیل سنا دوں۔ کہو تو تمہارے گھر سے وہ سارے خنجر، تیروکمان اور آتش گیر مادہ برآمد کرادوں جو تم نے اپنے گھر میں میری قوم اور میری حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے چھپا رکھا ہے اور جو تمہیں گھر میں رکھنے کی اجازت نہیں۔ النور کو تم تیغ زنی سکھا رہے ہو اور تمہارے ساتھ جو دوست ہمارے خلاف کام کررہے ہیں، ان میں سے کئی ایک کو جانتی ہوں لیکن عثمان! تم نہیں جانتے کہ تمہارے اور قید خانے کے درمیان میرا وجود حائل ہے۔ تم جانتے ہوکہ میرا باپ کون ہے اور وہ کیا نہیں جانتا اور کیا نہیں کرسکتا۔ وہ پانچ مرتبہ گھر میں بتا چکا ہے کہ عثمان کی گرفتاری ضروری ہوگئی ہے۔ میں نے پانچوں مرتبہ باپ سے منت کرکے کہا ہے کہ عثمان کی بہن میری بڑی پیاری سہیلی ہے اور اس کا باپ ایک ٹانگ سے معذور ہے۔ دو تین بار میرے باپ نے مجھے ڈانٹ کر کہا ہے کہ میں تم لوگوں کے ساتھ تعلق توڑ دوں، مجھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمان اس قابل نہیں کہ ان کے ساتھ ا تنی زیادہ محبت اور مروت کی جائے لیکن میں ماں باپ کی اکیلی اولاد ہوں، وہ مجھے ناراض نہیں کرنا چاہتے”۔

سورج غروب ہوگیا تھا، شام تاریک ہونے لگی تھی۔ عثمان صارم خاموش رہا۔ اس کا ذہن کسی اور طرف تھا۔ وہ کچھ جواب دئیے بغیر چل پڑا۔ ابھی دو ہی قدم اٹھائے تھے کہ رینی نے آگے ہوکر اسے اس طرح روک لیا کہ اس کا سینہ عثمان کے سینے سے لگ گیا۔ رینی نے دونوں ہاتھ اس کے کولہوں پر رکھ دیئے۔ اس کے جسم سے عثمان کو ایسی عطر بیز بو آئی جو مسلمان گھرانوں میں نہیں ہوتی تھی۔ لڑکی اس کے قریب ہوگئی، اتنی قریب کے ان کی سانسیں ٹکرانے لگیں۔ رینی کے ملائم ریشم جیسے بال جب عثمان صارم کے گالوں سے لگے تو وہ یوں تڑپ اٹھا جیسے پھندے سے آزاد ہونے کی کوشش کی ہو۔ رینی نے اسے چھوڑ دیا۔

”مجھے آزاد کردو رینی!”عثمان صارم نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا… ”مجھے پتھر بن جانے دو، میرا راستہ کوئی اور ہے۔ ہم اکھٹے نہیں چل سکیں گے”۔

”محبت قربانی مانگتی ہے”۔ رینی نے نشیلی آواز میں کہا… ”کہو کیا قربانی مانگتے ہو، میں وعدہ کرتی ہوں کہ تم جو جی میں آئے کرو میں تمہیں قید نہیں ہونے دوں گی”۔

”اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں”۔ عثمان صارم نے طنزیہ کہا۔ ”کہ میں تمہیں بتائوں گا ہی نہیں کہ میرے جی میں کیا آئی ہے اور میں کیا کرنے والا ہوں۔ میں تمہارے اس حسین جسم اور ریشمی بالوں کے جادو میں نہیں آئوں گا”۔

”تو پھر مجھے ثابت کرنا پڑے گا کہ میں تمہارے لیے قربانی کرسکتی ہوں”۔ رینی نے کہا… ”جائو عثمان! تم جلدی میں ہو لیکن میں تمہارے گھر آنے سے باز نہیں آئوں گی”۔

عثمان صارم دوڑ پڑا۔ رینی اسے دیکھتی رہی اور آہ بھر کر چلی گئ-

عثمان صارم گھر میں داخل ہوا تو برجیس وہاں پہنچ چکا تھا۔ عثمان اندر چلا گیا اور اپنے باپ، ماں اور النور کو تفصیل سے بتایا کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کا ایک قافلہ لوٹا ہے اور دو لڑکیوں کو بھی ساتھ لے آئے ہیں۔ اس نے تمام تر واقعہ سنا کر کہا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان لڑکیوں کو آزاد کرانے جارہا ہے اور اس مہم میں النور کی بھی ضرورت ہے۔ عثمان صارم کے باپ کی ٹانگ صلیبیوں کے خلاف لڑتے ہوئے جوانی میں کٹ گئی تھی اور وہ باقی عمر اس افسوس میں کاٹ رہا تھا کہ وہ جہاد کے قابل نہیں رہا۔ اس نے عثمان سے کہا … ”بیٹا! تم نے اگر اتنے خطرناک کام کا ارادہ کرلیا ہے تو مجھے یہ سننا نہ پڑے کہ تم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی ہے۔ اس کام میں پکڑے جانے کا امکان زیادہ ہے اگر تم پکڑے گئے اور تمہارے ساتھی نکل آئے تو جان دے دینا اپنے ساتھیوں کے نام پتے نہ بتانا۔ میں تمہیں صلاح الدین ایوبی کی فوج کے لیے جوان کررہا تھا لیکن تمہاری بہن کی شادی کرکے تمہیں رخصت کرنے کا سوچا تھا۔ جائو اور میری روح کو مطمئن کردو۔ ایک بار پھر سن لو میں کسی سے یہ نہیں کہلوانا چاہتا کہ تمہاری رگوں میں صارم کا خون نہیں تھا”۔

باپ نے بیٹی کو بھی اجازت دے دی، عثمان صارم نے اسے بتایا کہ برجیس ڈیوڑھی میں بیٹھا ہے اور وہ اس مہم کی کمان اور رہنمائی کرے گا۔ باپ ڈیوڑھی میں برجیس کے پاس چلا گیا۔ عثمان نے النور سے کہا کہ وہ فوراً اپنی ایک یا دو ایسی سہیلیوں کو بلا لائے جو اس کام میں شامل ہونے کی جرأت رکھتی ہیں۔ النور اسی وقت باہر نکل گئی اور ذرا سی دیر میں دو سہیلیوں کو بلا لائی۔ اتنے میں عثمان صارم کا ایک ساتھی اپنی بہن کے ساتھ آگیا۔ ایک ایک کرکے ساتوں جوان آگئے۔ برجیس نے لڑکیوں کو بتایا کہ وہ کس راستے کہاں جائیں گی۔ راستے میں انہیں ایک سنتری روکے گا، لڑکیاں اس سے پوچھیں گی کہ اوپر کو کون سا راستہ جاتا ہے۔ وہ کہیں گی کہ شاہ رینالڈ نے انہیں بلایا ہے لیکن وہ غلط راستے پر آگئی ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی نوکرانیوں کے بھیس میں ہوگی جس کے سر پر سامان ہوگا۔ سنتری کو ختم کرنا ہوگا، پھر آگ لگانی ہوگی۔ آگ لگانے والا سامان ”نوکرانی” کے سر پر ہوگا۔ گھوڑے اس طرح بندھے ہوں گے کہ لمبے لمبے رسوں کے سرے زمین میں دبائے ہوئے ہوں گے اور گھوڑوں کی پچھلی ایک ایک ٹانگ سے زنجیر یا رسی بندھی ہوگی جو رسوں سے گزاری ہوئی ہوگی۔ ان لمبے رسوں کو خنجروں سے کاٹ دینا ہوگا اور چند ایک گھوڑوں کو خنجر بھی مارنے ہوں گے تاکہ وہ منہ زور ہوکر بھاگ اٹھیں۔

برجیس نے لڑکیوں کو فوراً لباس اور حلیہ درست کرنے کو کہا اور ایک کو نوکرانی بنا دیا۔ اس کے منہ اور ہاتھوں پر مٹی اور سیاہی سی مل دی۔ پھر وہ عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو ہدایات دینے لگا۔ وہ خود اس کے ساتھ جارہا تھا۔ عثمان صارم کے باپ نے بھی انہیں کچھ مشورے دیئے۔ پھر سب کو خنجر دیئے گئے۔ خاصا وقت گزر گیا تھا لیکن برجیس کہہ رہا تھا کہ ابھی شہر جاگ رہا ہے۔ اس جگہ کی رونق اس وقت جاگتی تھی جب شہر سو جاتا تھا۔ تیاریوں میں وقت گزرتا رہا اور روانگی کا وقت ہوگیا۔ سب کو اکیلے اکیلے جانا اور ایک طے شدہ مقام پر ملنا تھا۔ لڑکیوں کا راستہ الگ تھا۔ انہیں اندازاً وقت بتا دیا گیا تھا جب انہیں آگ لگانی تھی۔ اس وقت برجیس کی جماعت کو حملے کے مقام پر ہونا چاہیے… یہ بے حد نازک اور خطرناک مہم تھی جس میں وقت کی غلطی اور کسی کی کوئی بے احتیاطی سب کو ایسے قید خانے میں ڈال سکتی تھی جو جہنم سے کم نہیں تھا۔ سب سے زیادہ خطرہ لڑکیوں کا تھا کیونکہ وہ لڑکیاں تھیں۔ تصور کیا جاسکتا تھا کہ ان کے پکڑے جانے کی صورت میں ان کا کیا حشر ہوگا۔ النور نے کہا کہ پکڑے جانے کا خطرہ ہوا تو لڑکیاں اپنے خنجروں سے خودکشی کرلیں گی۔ وہ کفار کے ہاتھ زندہ نہیں آئیں گی۔

شہر پر خاموشی طاری ہوتے ہوتے سارا شہر خاموش ہوگیا۔ کہیں کوئی روشنی نظر نہیں آتی تھی۔ صرف ایک جگہ تھی جہاں رات کے سکوت کا ذرہ بھر اثر نہیں تھا۔ یہ وہ عمارت تھی جہاں صلیبیوں کی متحدہ کمان کا ہیڈکوارٹر تھا۔ وہیں صلیبی حکمرانوں اور اعلیٰ کمانڈروں کی رہائش بھی تھی۔ یہ لوگ اس ہال میں ایک ایک کر کے آچکے تھے، جہاں وہ ہر رات شراب نوشی اور رقص کی محفل جمایا کرتے تھے۔ اس رات ان کا موضوع دو نئی مسلمان لڑکیاں اور مال واسباب تھا جو قافلے سے لوٹا گیا تھا… کسی نے پوچھا کہ یہ لڑکیاں کسی اور کام بھی آسکتی ہیں؟ اس کا جواب ایک فوجی کمانڈر نے یہ دیا کہ لڑکیاں بالغ ذہن کی ہیں، اس لیے انہیں جاسوسی وغیرہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ایک کی عمر سولہ سترہ سال ہے اور دوسری بائیس تئیس سال۔ کچھ عرصہ تفریح کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔

”اس کے بعد انہیں اپنے دو فوجی افسروں کے حوالے کردینا”… ایک اعلیٰ کمانڈر نے کہا… ”وہ ان کے ساتھ شادی کرلیں گے”۔

یہ لڑکیاں ان کے ہنسی مذاق اور غلیظ باتوں کا موضع بنی رہیں اور وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے رہے۔ اس وقت لڑکیاں دو الگ الگ کمروں میں تھیں، وہ رو رو کر بے حال ہورہی تھیں۔ دونوں کے ساتھ ایک ایک خادمہ تھی، یہ ادھیڑ عمر عورتیں بڑی خرانٹ اور اس فن کی ماہر تھیں۔ وہ لڑکیوں کو نہلا چکی تھیں اور انہیں رات کا لباس پہنا رہی تھیں۔ لڑکیوں نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا، ان کے آگے ایسے ایسے کھانے رکھے گئے تھے جو انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھے تھے لیکن انہوں نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ دونوں کو ایک دوسرے کے متعلق معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہے اور اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ دونوں عورتیں انہیں بڑے ہی حسین سبز باغ دکھا رہی تھیں۔ ایک کو بتایا جارہا تھا کہ اسے فرانس کے بادشاہ نے پسند کیا ہے جو اسے زرد جواہرات سے لاد دے گا۔ دوسری کو جرمن کے بادشاہ کی ملکہ بننے کے خواب دکھائے جارہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں بڑے پیار سے دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں کہ انہوں نے اگر ان بادشاہوں کو ناراض کیا تو وہ انہیں فوجی سپاہیوں کے حوالے کردیں گے۔

یہ لڑکیاں صحرائی دیہات کی رہنے والی تھیں، کوئی ایسی بزدل بھی نہیں لیکن بے بس ہوگئی تھیں۔ اپنے تحفظ میں کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔ ان کے ماں باپ اور بڑے بھائی نے ان کی عصمت کی خاطر صلیبی استبداد کے علاقے سے ہجرت کی تھی مگر صلیبیوں کے پھندے میں آگئے۔ لڑکیاں پکڑی گئیں۔ ماں باپ مارے گئے اور بھائی قید ہوگیا۔ خدا کے سوا ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ قید سے نکل بھاگنے کے بھی قابل نہیں تھیں۔ وہ روتی تھیں تو صرف خدا کو یاد کرتی اور خدا کو ہی مدد کے لیے پکارتی تھیں۔ اپنی عزت کے علاوہ اپنے بھائی آفاق کے لیے وہ بہت پریشان تھیں۔ اس وقت آفاق بیگار کیمپ میں تڑپ رہا تھا۔ وہ زخمی تھا اور اسے پیٹا بھی بہت گیا تھا۔ پہلے کے قیدی شام کے وقت روز مرہ کی مشقت سے آئے تھے۔ انہوں نے ان نئے قیدیوں کو دیکھا ان کی بپتا سنی۔ ان میں صرف آفاق زخمی تھا۔ کسی نے اس کی مرہم پٹی نہیں کی تھی۔ تین چار قیدیوں نے مرہم اور کچھ دیسی دوائیاں چھپا کرکھی ہوئی تھی۔ رات کو انہوں نے آفاق کے زخم صاف کیے اور مرہم بھر کر اوپر کپڑے باندھ دئیے۔

آفاق کو اپنے زخموں کا درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔ اس کا دھیان اپنی بہنوں کی طرف تھا۔ قیدیوں سے وہ پوچھتا تھا کہ اس کی بہنیں کہاں ہوں گی اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہوگا۔ اسے بتایا گیا کہ اس قید خانے کی کوئی دیوار نہیں اور انہیں بیڑیاں بھی نہیں ڈالی گئیں، پھر بھی وہ یہاں سے بھاگ نہیں سکتا کیونکہ سنتری گھوم پھر رہے ہیں اور اگر وہ یہاں سے نکل بھی جائے تو جائے گا کہاں، کہیں نہ کہیں پکڑا جائے گا۔ اس کی سزا اتنی اذیت ناک موت ہوگی جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں کئی کئی سالوں سے قیدی پڑے ہیں جو کرک ہی کے رہنے والے ہیں لیکن بھاگنے کی جرأت نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ پکڑے نہ گئے تو صلیبی ان کے پورے خاندان کو قید میں ڈال دیں گے۔ ان تمام مجبوریوں اور خطروں کے باوجود آفاق فرار اور بہنوں کو رہا کرانے کی سوچ رہا تھا۔ اس کا جسم چلنے کے بھی قابل نہیں تھا۔ قیدی دن بھر کے تھکے ماندے بے ہوشی کی نیند سوگئے اور آفاق جاگ رہا تھا۔

٭ ٭ ٭

”لڑکیاں پکڑی نہ گئی ہوں”۔ عثمان صارم نے سرگوشی میں کہا۔

”خدا کو یاد کرو عثمان!” برجیس نے کہا… ”ہم اس وقت موت کے منہ میں ہیں۔ دل سے تمام خوف نکال دو اور خدا کو دل میں بٹھا لو… تمہیں دوسرے لڑکوں پر بھروسہ ہے؟”۔

”پورا بھروسہ”۔ عثمان نے کہا… ”ان کی فکر نہ کرو۔ مجھے لڑکیوں کی فکر ہے”۔

”خدا کو یاد کرو”۔ برجیس نے کہا… ”ہم چوری کرنے نہیں آئے، اللہ مدد کرے گا”۔

اس وقت عثمان صارم اور برجیس گھر میں نہیں تھے۔ وہ اس عمارت سے جس میں مغویہ لڑکیاں تھیں، اتنی دور جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے جہاں سے عمارت انہیں اپنے سر پر کھڑی نظر آرہی تھی۔ ان کے سات ساتھی ان سے تھوڑی ہی دور بکھر کر انہی کی طرح چھپے ہوئے تھے۔ برجیس نے انہیں اچھی طرح بتا دیا تھا کہ کون سے اشارے پر انہیں کیا کرنا ہے۔ عثمان صارم کو ان چار لڑکیوں کا غم تھا جو فوجی سامان اور گھاس کو آگ لگانے کے لیے لے گئی تھیں۔ ان میں اس کی اپنی بہن النور بھی تھی۔ اس وقت تک آگ لگ جانی چاہیے تھی۔ توقع یہ تھی کہ اگر سکیم کامیاب رہی تو آگ کے شعلے اٹھیں گے، پھیلیں گے۔ اس عمارت سے تمام کمانڈر وغیرہ آگ کی طرف بھاگیں گے جو ایک قدرتی ردعمل تھا کیونکہ فوجی سامان کو آگ لگنے کی صورت میں وہ اپنی محفل عیش وطرب میں مگن نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کے جاتے ہی ان نوجوانوں کو عمارت پر ٹوٹ پڑنا تھا مگر لڑکیوں کو گئے بہت وقت ہوگیا تھا۔ شاید سنتری نے انہیں روک کر واپس بھیج دیا ہوگا۔

لڑکیاں ابھی سنتری تک ہی نہیں پہنچی تھی کیونکہ وہاں سنتری تھا ہی نہیں۔ سنتری کا نہ ہونا خطرہ تھا کیونکہ زندہ رہنے کی صورت میں وہ انہیں آگ لگاتے پکڑ سکتا تھا۔ لڑکیوں نے سنتری کو ڈھونڈنا شروع کردیا۔ وہ خشک گھاس کے پہاڑوں جیسے ڈھیروں کے پاس سے گزر رہی تھیں۔ اندھیرے میں انہیں خیموں کے انبار نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ اکٹھی جارہی تھیں۔ انہیں ایک جگہ ڈنڈے سے بندھی ہوئی مشعل کا شعلہ نظر آیا۔ وہ ادھر چلی گئیں۔ سنتری سامنے آگیا۔ مشعل کا ڈنڈا زمین میں گڑھا ہوا تھا۔ سنتری نے مشعل اٹھالی اور لڑکیوں کے قریب آکر انہیں روکا۔ وہ لڑکیوں کا بھڑکیلا لباس اور سج دھج دیکھ کر مرعوب ہوگیا۔ ان کے ساتھ ایک نوکرانی تھی جس نے سر پر گٹھڑی سی اٹھا رکھی تھی۔ سنتری نے ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور کہاں جارہی ہیں۔

”معلوم ہوتا ہے ہم غلط راستے پر آگئی ہیں”۔ النور نے بڑی شوخ ہنسی سے کہا… ”شاہ رینالڈ کا دعوت نامہ آیا تھا۔ ہم نے رات کو آنے کا وعدہ کیا تھا۔ ذرا دیر ہوگئی تو کسی نے بتایا کہ یہ راستہ چھوٹا ہے۔ یہاں تو آگے معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے وغیرہ بندھے ہوئے ہیں، ہم کدھر جائیں؟”

ایک معمولی سے سنتری پر رعب طاری کرنے کے لیے شاہ رینالڈ کا نام ہی کافی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ صلیبی بادشاہ کس قماش کے لوگ ہیں۔ رینالڈ نے ان لڑکیوں کو عیش وعشرت اور ناچ گانے کے لیے بلایا ہوگا۔ لڑکیوں کے لباس، عمریں اور ان کی شکل وصورت اور النور کے بات کرنے کا نڈر اور کھلنڈر سا انداز بتا رہا تھا کہ یہ اس کے اعلیٰ حکام کے مطلب کی لڑکیاں ہیں۔ اس نے انہیں راستہ بتانا شروع کردیا۔ ایک لڑکی اس کے پیچھے ہوگئی اور اتنی زور سے خنجر اس کی پیٹھ میں گھونپا کہ دل کو چیرتا آگے نکل گیا۔ اس کے ہاتھ سے مشعل گر پڑی۔ النور نے مشعل پر دونوں پائوں رکھ کر اس کا شعلہ بجھا دیا۔ باقی لڑکیوں نے بھی سنتری کے جسم میں اپنا خنجر داخل کردیا۔ سنتری کی آوازبھی نہ نکلی۔ برجیس نے انہیں بتایا تھا کہ گھاس کو آگ لگے گی تو اس کی روشنی میں انہیں خیموں کے ڈھیر اور گاڑیاں نظر آجائیں گی۔ گھاس کے پہاڑ تو انہیں اندھیرے میں بھی نظر آرہے تھے جو لڑکی نوکرانی بنی ہوئی تھی، اس نے جلدی سے سر سے گٹھڑی اتاری۔ اس میں آتش گیر مادہ اور آگ لگانے کا سامان تھا۔

انہوں نے گھاس کے ایک ڈھیر کو آگ لگا دی۔ پھر دوسرے اور تیسرے کو اور ذرا سی دیر میں تمام ڈھیروں کو آگ لگ گئی۔ اب خطرہ بڑھ گیا تھا کیونکہ روشنی ہوگئی تھی۔ تھوڑی دور انہیں لپٹے ہوئے خیموں کے ڈھیر نظر آگئے۔ یہ کپڑا تھا۔ اسے آگ لگانا مشکل نہ تھا۔ خیمے بھی جلنے لگے۔ خالی گھوڑا گاڑیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھیں۔ لڑکیوں میں غیرمعمولی پھرتی آگئی تھی۔ انہوں نے تین چار گاڑیوں پر آتش گیر مادہ پھینکا اور آگ لگا دی۔ اتنی دیر میں گھاس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے۔ لڑکیاں گھوڑوں کی طرف بھاگیں۔ ابھی تک کوئی بیدار نہیں ہوا تھا۔ لڑکیوں نے خنجروں سے وہ لمبے لمبے رسے کاٹ دیئے جن کے سرے زمین میں دبے ہوئے تھے اور ہر رسے کے ساتھ چالیس سے پچاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ لڑکیوں نے چند ایک گھوڑوں کو خنجر مارے۔ وہ بدک کر اور شعلوں کے ڈر سے ہیبت ناک آوازسے ہنہنانے لگے اور اندھا دھند بھاگنے لگے۔ جو گھوڑے کھل نہ سکے، انہوں نے اودھم بپا کردیا۔ معلوم نہیں کتنے گھوڑے کھل کر ادھر ادھر دوڑنے اور ہنہنانے لگے۔ اونٹ کھلے تھے اور آرام سے بیٹھے تھے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اندھا دھند بھاگنے لگے۔

چاروں لڑکیاں بے لگام گھوڑوں اور بے مہار اونٹوں کے نرغے میں آگئیں۔ دوسری طرف شعلے تھے جن کی تپش دور سے بھی جسموں کو جلاتی تھی اور جانوروں کے اس قدر زیادہ شوروغل اور دھماکوں جیسے ٹاپوئوں سے فوج بیدار ہوگئی۔

مغویہ لڑکیوں کو دلہنیں بنا دیا گیا تھا، دونوں کے کمروں میں بیک وقت ایک ایک آدمی داخل ہوا۔ یہ صلیبیوں کے جنگجو حکمران تھے۔ وہ شراب میں بدمست تھے، خادمائیں باہر نکل گئیں، لڑکیاں کمروں میں بھاگ دوڑ کر پناہیں ڈھونڈنے لگیں۔ ان کی عصمت کا پاسبان خدا کے سوا کوئی نہ تھا۔ ایک لڑکی دوزانو گر پڑی اور ہاتھ جوڑ کر رو کر خدا کو مدد کے لیے پکارا۔ صلیبی نے قہقہہ لگایا اور اس کی طرف بڑھا… باہر اسے شوروغل سنائی دیا۔ یہ غیرمعمولی شور تھا۔ اس نے دروازہ کھول کر دیکھا تو ایسے لگا جیسے پورے شہر کو آگ لگ گئی ہو۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی خوف زدگی کا یہ عالم کہ کچھ گھوڑے اس بلندی پر بھی چڑھ آئے جس پر یہ عمارت تھی۔ اس کا نشہ فوراً اتر گیا۔ دوسرا بھی باہر نکل آیا۔ دو تین آدمی دوڑتے آئے اور گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا کہ گھاس، خیموں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی ہے۔ دوڑتے ہوئے جانوروں نے کئی آدمیوں کو کچل دیا ہے۔

اگر آگ شہر کو لگتی تو یہ حکام پروانہ کرتے، وہاں فوج کا سامان جل رہا تھا اور فوج کے سینکڑوں جانور کھل گئے تھے۔ ذرا سی دیر میں تمام حکمران اور کمانڈر اور وہاں جو کوئی بھی تھا دوڑتے نکل گئے۔ وہ اپنی نگرانی میں آگ بجھانے کا بندوبست کرنا چاہتے تھے۔ اس عمارت کے اردگرد جو مسلح پہرہ تھا وہ بھی وہاں سے ہٹ گیا۔ باڈی گارڈز بھی اپنے حکام کے پیچھے دوڑتے گئے۔ برجیس نے بلند آواز سے پکارا… ”تم بھی چلو”… اور وہ عمارت کی طرف اٹھ دوڑا۔ اس کے آٹھ جوان بھی دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھو ں میں خنجر تھے۔ عمارت کے برآمدوں میں جاکر اس نے اپنے ان دو ساتھیوں کو پکارنا شروع کردیا جو وہاں عیسائیوں کے بھیس میں ملازم تھے۔ ان میں سے ایک مل گیا۔ اس نے برجیس کو پہچان لیا۔ برجیس نے اس سے پوچھا کہ آج جو لڑکیاں یہاں لائی گئی ہیں۔ وہ کہاں ہیں۔ اسے معلوم نہیں تھا۔ اس نے کمرے دکھا دئیے اور خود بھی ساتھ ہولیا۔ وہاں اب سہولت یہ پیدا ہوگئی تھی کہ کوئی ذمہ دار آدمی موجود نہ تھا۔ پیچھے نوکر چاکررہ گئے تھے جو آگے جاکر بلندی سے آگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ برجیس کی سکیم پوری طرح کامیاب تھی۔

وہ ملازم کی رہنمائی میں ان کمروں میں جانے لگے جہاں لڑکیاں ہوتی تھیں، وہاں برآمدوں میں کچھ لڑکیاں کھڑی تھی۔ ان میں بعض نیم برہنہ تھیں، ان سے پوچھا گیا کہ آج جو لڑکیاں آئی ہیں وہ کہاں ہیں؟ انہیں بھی معلوم نہ تھا۔ آخر ایک کمرے میں گئے تو ایک لڑکی مل گئی۔ وہ کمرے میں دبکی ہوئی تھی۔ عثمان صارم اور اس کے بعض ساتھیوں نے اسے دن کے وقت دیکھا تھا۔ جب ان دونوں کو لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ لے جایا جارہا تھا۔ برجیس کی پارٹی کے تمام آدمی نقاب پوش تھے۔ انہیں دیکھ کر لڑکی نے چیخ ماری۔ برجیس نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور اسے رہا کرانے آئے ہیں۔ مگر وہ لڑکی اتنی ڈری ہوئی تھی کہ ان کے ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے اسے زبردستی اٹھا لیا۔ دوسرے کمرے میں اس کی بہن مل گئی اس کا ردعمل بھی یہی تھا۔ اسے بھی زبردستی اٹھایا گیا۔ دوسری لڑکیاں جو ایک عرصے سے صلیبیوں کے پاس تھیں یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ وہ آدمیوں کو ڈاکو سمجھ کر ادھر ادھر بھاگ گئیں۔ مغویہ بہنیں چیخ وپکار کررہی تھیں۔ انہیں برجیس نے غصے سے کہا کہ وہ سب مسلمان ہیں انہیں مسلمان گھرانوں میں لے جاکر چھپائیں گے۔ بڑی ہی مشکل سے انہیں خاموش کیا گیا اور جانبازوں کی یہ جماعت وہاں سے نکل گئی۔

٭ ٭ ٭
آگ کا منظر بے حد خوفناک تھا، شعلے توقع سے کہیں زیادہ اونچے جارہے تھے اور دوردور تک پھیل گئے اور پھیلتے ہی چلے جارہے تھے۔ گھوڑوں اور اونٹوں نے سارے شہر میں قیامت بپا کرکھی تھی۔ سارا شہر جاگ اٹھا تھا۔ گلیوں میں، سڑکوں پر اور میدانوں میں ان جانوروں نے اس قدر دہشت گردی پھیلا دی تھی کہ لوگ دبک کر گھروں میں بیٹھ گئے تھے اور آگ نے جو دہشت پھیلائی تھی، اس سے بعض لوگ گھروں سے بھاگنے کی تیاریاں کرنے لگے تھے۔ افراتفری اور بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ سلطان ایوبی کے جاسوس بھی وہاں موجود تھے۔ وہ عقلمند اور موقع شناس تھے۔ انہوں نے آگ، بھاگتے دوڑتے جانور اور افراتفری دیکھی تو یہ معلوم کیے بغیر کہ یہ معاملہ کیا ہے، یہ مشہور کردیا کہ صلاح الدین ایوبی کی فوجیں شہر میں داخل ہوگئی ہیں اور شہرکو آگ لگا رہی ہیں۔ یہ افواہ مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزا تھی۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے ہوش اڑ گئے۔ یہ افواہ آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ غیرمسلموں نے بھاگنا شروع کردیا۔

صلیبی حکمران اور اعلیٰ حکام آگے کی جگہ پہنچے تو وہاں کوئی انسان نہیں تھا۔ انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ مسلمانوں کی فوج قلعے میں کہیں نقب لگا کر اندر آگئی ہے۔ انہوں نے فوج کو قلعے کے دفاع کے لیے جنگی ترتیب میں فوراً چلے جانے کا حکم دیا اور اسی فوج کے کچھ حصے کو قلعے کے باہر جانے کو کہا۔ دو تین کمانڈر دوڑ کر قلعے کی دیوار پر چڑھے اور باہر دیکھا۔ باہر خاموشی تھی۔ کسی طرف سے حملہ نہیں ہوا تھا۔ قلعے کا عقبی دروازہ کھول دیا گیا تاکہ فوج باہر جاسکے۔ رات کے وقت قلعے کا دروازہ نہیںکھولا جاتا تھا لیکن اس خیال سے دروازہ کھول دیاگیا کہ سلطان ایوبی کا کوئی جانباز دستہ اندر آگیا ہے جس نے بھگدڑ مچا دی ہے۔ یہ باہر کے حملے کا پیش خیمہ ہے، فوج آرہی ہوگی۔ اس فوج کو شہر سے دور روکنے کے لیے صلیبیوں نے رات کو ہی فوج باہر بھیج دی اور دروازہ کھولنے کا خطرہ مول لے لیا۔ یہ فیصلہ دراصل گھبراہٹ میں کیا گیا تھا اور یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ بعض غیرمسلموں نے جو عقب دروازے کے قریب تھے، دیکھ لیا کہ وہ دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ اندھا دھند دروازے کی طرف بھاگے۔ انہیں دیکھ کر دوسرے شہری بھی ان کے پیچھے گئے۔ وہاں سے فوج گزر رہی تھی۔ شہریوں کا سیلاب آگیا جسے کوئی نہ روک سکا۔

آگ پھیلتی جارہی تھی، گھوڑا گاڑیوں کے قریب ہی رسد کی بوریوں کے انبار تھے۔ بہت سا دیگر اقسام کا سامان بھی پڑا تھا۔ آگ پر قابو پانا ضروری تھا۔ شہری گھروںمیں چھپ گئے تھے یا بھاگ رہے تھے۔ یہ کام فوج کرسکتی تھی۔ فوج کی کچھ نفری کو بلا لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی کسی کو ان مسلمان قیدیوں کا خیال آگیا جو بیگار کیمپ میں پڑے ہوئے تھے۔ فوراً حکم دیا گیا کہ قیدیوں کو اس اعلان کے ساتھ لے آئو کہ وہ آگ پر قابو پالیں تو انہیں صبح کے وقت رہا کردیا جائے گا۔ قیدی باہر کے شور سے جاگ اٹھے تھے اور سنتری انہیں ڈنڈے مار مار کر سوجانے کو کہہ رہے تھے۔ اتنے میں حکم آگیا کہ قیدیوں کو پانی لانے اور آگ پر پھینکنے کے لیے لے چلو۔ رہاں کا اعلان بھی کیا گیا، ان میں آفاق بھی تھا۔ اس کا جسم ٹھنڈا ہوکر اور زیادہ دکھنے لگا تھا۔ اس نے ایک قیدی سے کہا… ”صلیبیوں کی ساری سلطنت جل جائے میں آگ بجھانے نہیں جائوں گا”۔

”پاگل نہ بنو”… ایک قیدی نے اسے کہا… ”ان لوگوں نے کہہ دیا ہے کہ آگ بجھائو اور کل رہا ہوجائو لیکن یہ دھوکہ ہے۔ یہ کافر جھوٹ بولتے ہیں، تم ہمارے ساتھ چلو اور بھاگ نکلو۔ ہم نہیں بھاگ سکتے کیوکنکہ یہ لوگ ہمارے گھروں سے واقف ہیں، تم نکل جانا”۔

”جائوں گا کہاں”۔

قیدی نے اسے اپنے گھر کا پتہ بتا کر کہا… ”میں کوشش کروں گا کہ موقع محل دیکھ کر تمہیں اپنے گھر پہنچا دوں لیکن وہاں زیادہ دن نہ رکنا کیونکہ صلیبی میرے سارے کنبے کو سزا دیں گے”۔

قیدیوں کو صلیبی لے گئے اور انہیں تقسیم کرکے مختلف کنوئوں پر لے جایا گیا۔ فوجی پانی نکال رہے تھے، قیدیوں نے مشکیزے اٹھانے شروع کردیئے۔ وہ دوڑ دوڑ کر جاتے اور آگ پر پانی پھینکتے تھے۔ ایک دو چکروں میں سنتری ان کے ساتھ رہے مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ قیدی اور فوجی گڈ مڈ ہوگئے۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا۔ صلیبی کمانڈر گھبراہٹ میں سب کو گالیاں دے رہے تھے۔ اتنے میں گھوڑوں کا ڈرا ہوا ریوڑ دوڑتا ہوا آیا۔ آگ بجھانے والے قیدی اور فوجی ان کی زد میں آگئے۔ سب ادھر ادھر بھاگ اٹھے۔ بعض کچلے بھی گئے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آفاق کو وہ پرانا قیدی اپنے ساتھ لے گیا۔ مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہ خوش تھے کہ مسلمان فوج آگئی ہے۔ قیدی اپنے گھر میں د اخل ہوا۔ اس کا سارا خاندان جاگ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر سب بہت مسرور ہوئے لیکن اس نے آفاق کو ان کے حوالے کرکے کہا… ”اسے چھپالو اور جلدی شہر سے نکال دینا۔ میں نہیں رک سکتا۔ صلیبیوں نے کل رہائی کا وعدہ کیا ہے۔ اسے ابھی کوئی نہیں جانتا، اگر میں یہاں رک گیا تو شاید کبھی بھی رہائی نہیں ملے گی”۔

”کیا یہ سچ ہے کہ صلاح الدین ایوبی کی فوج اندر آگئی ہے؟”… قیدی کے باپ نے پوچھا۔

”کچھ پتا نہیں”… قیدی نے جواب دیا… ”آگ بہت زور کی ہے، معلوم نہیں کب بجھے گی”۔

”اگر ہماری فوج نہیں آئی تو پھر ہم یہ خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں؟”… قیدی کے باپ نے کہا۔

”یہ آدمی خود ہی نکل جائے گا”… قیدی نے کہا… ”یہ کل یہاں سے نکل جائے گا”۔

”اس کا ہمیں کوئی خطرہ نہیں”… قیدی کے باپ نے کہا… ”ابھی ابھی تمہارا چھوٹا بھائی دو مسلمان لڑکیوں کو لایا ہے۔ انہیں اس نے اور صارم کے بیٹے عثمان نے اور ان کے دوستوں نے صلیبیوں کے شاہی خانے سے اغوا کیا ہے۔ دونوں کو ہم نے گھر میں چھپا لیا ہے”۔

”کون ہے وہ لڑکیاں؟ ”… قیدی نے پوچھا۔

”کہتے ہیں انہیں کل ایک قافلے سے صلیبیوں نے اغوا کیا تھا”… باپ نے جواب دیا… ”ان کا بھائی سنا ہے، قید میں ہے”۔

آفاق نے تڑپ کر پوچھا… ”کہاں ہیں وہ لڑکیاں؟”

ذرا سی دیر میں آفاق اپنی بہنوں کو گلے لگا رہا تھا، خدا نے ان کی فریادیں سن لی تھیں، یہ بڑا ہی جذباتی منظر تھا۔ ان کے ماں باپ مارے گئے تھے۔ وہ لٹ گئے تھے۔ انہیں ایسی معجزہ نما ملاقات کی توقع نہیں تھی… جس قیدی کا یہ گھر تھا، وہ دوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہ قید سے بھاگنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی، برجیس اور عثمان صارم کے ساتھ تھا۔ وہ لڑکیوں کو گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا۔

وہ اچانک آگیا، اس نے لڑکیوں سے کہا… ”فوراً اٹھو شہر سے نکلنے کا موقع پیدا ہوگیا ہے”… آفاق کے متعلق اسے بتایا گیا کہ ان لڑکیوں کا بھائی ہے اور قید سے فرار ہوکر آیا ہے۔ اس نے آفاق کو بھی اپنے ساتھ لیا اور باہر لے گیا۔ باہر تین گھوڑے تھے۔ یہ برجیس کا انتظام تھا۔ اس نے دونوں بہنوں کو گھوڑوں پر سوار کیا اور جب تیسرے گھوڑے پر خود سوار ہونے لگا تو اسے آفاق کے متعلق بتایا گیا۔ اس نے آفاق کو تیسرے گھوڑے پر سوار کیا اور خود چل پڑا اس نے اتنا ہی کہا… ”خدا حافظ دوستو! زندہ رہے تو پھر ملیں گے”… اور وہ دوڑ پڑا۔ وہ شہر کے عقبی دروازے کی طرف جارہا تھا، جہاں سے ڈرے ہوئے شہریوں کا جلوس باہر کو بھاگا جارہا تھا۔ یہ دروازہ برجیس نے پہلے سے دیکھ رکھا تھا۔ شہر سے نکلنے کا موقع پیدا ہوگیا تھا۔ اس نے کہیں سے تین گھوڑے پکڑے اور لے آیا۔ کسی صلیبی کمانڈر نے دیکھ لیا کہ شہری تو بھاگ رہے ہیں اس نے ذروازہ بند کرنے کا حکم دے دیا۔ برجیس جب وہاں پہنچا تو دروازہ آہستہ آہستہ بند ہورہا تھا اور شہریوں کا ایک ہجوم دروازے میں پھنس گیا تھا۔ ایک واویلا بپا تھا، برجیس نے چلانا شروع کردیا… ”پیچھے سے فوج آرہی ہے، دروازہ کھول دو، بھاگو۔ مسلمان آرہے ہیں”۔ ہجوم نے آگے کو زور لگایا تو بند ہوتے ہوتے دروازہ کھل گیا۔ انسان رکے ہوئے دریا کی طرح بند توڑ کر نکل گئے۔

باہر نکل کر برجیس نے آفاق سے کہا کہ کسی ایک بہن کے پیچھے سوار ہوجائو اگر میں تمہارے ساتھ سوار ہوا تو ایک گھوڑے پر دو مردوں کا وزن زیادہ ہوجائے گا۔ ہمارا سفر لمبا ہے۔ آفاق ایک بہن کے پیچھے سوار ہوگیا۔ دوسری سے اس نے کہا کہ وہ سواری سے ڈرے نہیں، گھوڑا اسے گرائے گا نہیں۔ انہوں نے گھوڑے دوڑادئیے۔ برجیس کو معلوم تھا کہ راستے میں صلیبی فوج خیمہ زن ہے، اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کون سی جگہ فوج نہیں ہے۔ وہ اس سمت ہولیا۔ کرک کے بھاگے ہوئے لوگ ادھر ادھر بکھرتے جارہے تھے۔ شعلوں کی روشنی دور دور تک جارہی تھی۔ آفاق اور لڑکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں کس طرح رہا کرایا گیا ہے۔ برجیس خاموش تھا۔ وہ اگر بولتا تو صرف اتنا کہ آفاق سے اس کی خیریت پوچھتا تھا اور اس کی جو بہن گھوڑے پر اکیلی سوار تھی اس سے پوچھ لیتا تھا کہ وہ ڈر تو نہیں رہی۔ کرک کے شعلے پیچھے ہٹتے جارہے تھے اور رات گھوڑوں کی رفتار کے ساتھ گزرتی جارہی تھی۔

٭ ٭ ٭

صبح طلوع ہوئی تو برجیس سلطان ایوبی کی فوج کے علاقے میں داخل ہوچکا تھا، اس نے ایک کمان دار سے اپنا تعارف کرایا اور سلطان ایوبی کے متعلق پوچھا کہ کہاں ہوگا۔ کمان دار اسے اپنے دستوں کے کمان دار کے پاس لے گیا، جس نے اسے بتا دیا کہ سلطان ایوبی کہاں ہوسکتا ہے۔ برجیس اپنی اس کامیابی پر بے حد خوش تھا۔ اس نے صرف لڑکیوں کو صلیبیوں سے آزاد نہیں کرایا تھا بلکہ کرک میں آتش زنی جیسی تخریبی کارروائی کرکے صلیبی فوج کے غیرمسلم شہریوں کو جذبے پر خوف طار ی کرآیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کو یہ مشورہ دینا چاہتا تھا کہ کرک پر فوراً حملہ کردیا جائے۔

کرک کی صبح بڑی بھیانک تھی۔ شعلوں کی بلندی اورتندی ختم ہوگئی تھی لیکن ا گ ابھی تک سلگ رہی تھی۔ صلیبی فوج کی رسد اور جانوروں کا تمام تر خشک چارہ جل گیا تھا۔ خیموں کے علاوہ بے شمار جنگی سامان نذر آتش ہوگیاتھا۔ کچھ اونٹ زندہ جل گئے تھے۔ تمام گھوڑے اور اونٹ رات بھر دوڑ دوڑ کر تھک گئے اور اب سارے شہر میں آوارہ پھر رہے تھے۔ جگہ جگہ ان لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں جو بے لگام گھوڑوں اور بے مہار اونٹوں کی زد میں آکر کچلے گئے تھے۔ فوجی اور قیدی ابھی تک کنوئوں سے پانی لالا کر آگ پر پھینک رہے تھے۔ صلیبی حکام ابھی تک یہ سمجھ رہے تھے کہ سلطان ایوبی کی فوج اندر آگئی ہے لیکن وہاں ایسے کوئی آثار نہیں تھے۔ انہوں نے قلعے کی دیواروں پر جاکر ہر طرف دیکھا۔ باہر صلیبیوں کی اپنی فوج قلعے کے اردگرد موجود تھی۔ اسلامی فوج کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ اب یہ تفتیش کرنی تھی کہ آگ کس طرح لگی۔

اس سنتری کی لاش ملی جسے لڑکیوں نے خنجروں سے ہلاک کیا تھا لیکن گھوڑوں اور اونٹوں نے اسے ایسی بری طرح روندا تھا کہ خنجروں کے زخم پہچانے نہیں جاتے تھے۔ اس سے تھوڑی دور چار زنانہ لاشیں ملیں۔ یہ اس میدان میں پڑی ہوئی تھیں جہاں گھوڑے اور اونٹ باندھے جاتے تھے۔ یہ تفتیش کرنے والا حاکم کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر ہرمن تھا۔ اس میدان میں لاشیں تو اور بھی پڑی تھیں لیکن اسے چار عورتوں کی لاشیں ملیں۔ ان کے چہرے گھوڑوں کے پائوں تلے آ آ کر مسخ ہوگئے تھے۔ جسم کا کوئی حصہ سلامت نہیں تھا۔ یہ لاشیں ایک دوسری سے دور دور پڑی تھیں۔ ان کے کپڑے تارتار ہوگئے تھے۔ خاک وخون میں ان کا اصل رنگ نظر نہیں آتا تھا۔ اتنا ہی پتا چلتا تھا کہ یہ زنانہ کپڑے ہیں۔ لاشیں دیکھ کر بھی یہ ثبوت ملتا تھا کہ یہ عورتوں کی ہیں۔ سب کے جسموں سے کھال اکھڑی ہوئی اور کئی جگہوں سے گوشت باہر آیا ہوا تھا۔ کئی ہڈیاں ننگی ہوگئی تھیں اور ٹوٹی ہوئی بھی تھیں۔ ہر لاش کے گلے میں زنجیر اور زنجیر کے ساتھ ایک چھوٹی صلیب بندھی ہوئی تھی۔ یہ صلیبیں اس امر کا ثبوت تھا کہ عورتیں عیسائی تھیں۔

ہرمن اور فوجی افسر حیران تھے کہ عورتوں کی لاشیں یہاں کیوں پڑی ہیں۔ یہ فوجی علاقہ تھا اور اس طرف سے کسی شہری کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی یہ عام گزرگاہ تھی۔ یہ تو جانوروں اور رسد وغیرہ کی جگہ تھی، وہاں چند اور لاشیں بھی پڑی تھیں وہ فوجیوں کی تھیں۔ عورتیں رات کے وقت ادھر کیوں آئیں؟… اس سوال کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ صرف قیاس آرائی کی جاسکتی تھی جو کی گئی۔ کہا گیا کہ فوجی پیشہ ور عورتوں کو ادھر لے آئے ہوں گے مگر اصل مسئلہ تو یہ تھا کہ آگ کس طرح لگی۔ شہر کے مسلمانوں پر شک کیا جاسکتا تھا لیکن مجرموں کا سراغ لگانا آسان نہیں تھا۔ حکم دے دیا گیا کہ خفیہ پولیس اور فوج کے سراغ رساں شہر میں مشتبہ مسلمانوں کی چھان بین کریں اور جس پر ذرا بھی شک ہو اسے قید میں ڈال کر اذیت رساں تحقیقات کریں۔

Read More:  Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 14

النور اور اس کی تینوں لڑکیوں کے گھر والے بہت پریشان تھے۔ لڑکیاں واپس نہیں آئی تھیں، ڈر یہ تھا کہ پکڑی نہ گئی ہوں۔ انہوں نے اپنا فرض مکمل کامیابی سے ادا کیا تھا لیکن وہ ابھی تک لاپتہ تھیں۔ عثمان صارم اور اس کے دوست ان تماشائیوں کے ہجوم میں جاکھڑے ہوئے جو آتش زدہ جگہ کھڑے تھے۔ وہاں انہیں پتا چلا کہ چار عورتوں کی لاشیں ملی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد اعلان ہوا کہ چار عورتوں کی لاشیں فلاں جگہ رکھ دی گئی ہیں۔ تمام شہری انہیں دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کریں۔ تماشائیوں کا ہجوم ادھر چلا گیا۔ عثمان صارم اور اس کے دوستوں نے اکٹھی رکھی ہوئی چار لاشوں کو دیکھا۔ ان کی صلیبیں ان کے سینوں پر رکھ دی گئی تھیں۔ کوئی بھی کسی لاش کو نہ پہچان سکا۔ پہچاننے کے لیے وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ چہروں سے بھی کھال اتری ہوئی تھی، بعض کے چہرے اندر کو پچک گئے تھے۔

عثمان صارم کے آنسو نکل آئے، وہ تماشائیوں میں سے نکل گیا۔ اس کے دوست بھی اس سے جاملے۔ ان سب کو معلوم تھا کہ یہ لاشیں کن کی ہیں۔ ان میں ایک عثمان صارم کی بہن النور کی لاش تھی۔ باقی تین لاشیں اس کی سہیلیوں کی تھیں۔ چاروں رات کو اپنا فرض ادا کر کے شہید ہوگئی تھیں۔ ان کی شہادت کا عینی شاہد کوئی بھی نہیں تھا۔ لاشوں کی حالت جو کہانی بیان کرتی تھی وہ کچھ ا س طرح ہوسکتی تھی کہ ان لڑکیوں نے سنتری کو ہلاک کرکے آگ لگائی۔ بعد میں گھوڑوں کے رسے کاٹے اور انہی گھوڑوں کی بھگدڑ کی زد میں آگئیں۔ معلوم نہیں کتنے سو گھوڑے اور اونٹ لاشوں کو روندتے رہے۔ دو لڑکیوں کی عصمت بچانے کے لیے چار لڑکیاں قربان ہوگئیں۔ برجیس نے اپنے ہاتھوں ان لڑکیوں کے گلوں میں صلیبیں لٹکائی تھیں تاکہ بوقت ضرورت وہ صلیبیں دکھا کر ظاہر کرسکیں کہ وہ عیسائی ہیں۔

ان لڑکیوں کا جنازہ نہیں پڑھا گیا۔ انہیں صلیبیوں نے عیسائی سمجھ کر اپنے قبرستان میں کہیں دفن کردیا۔ ان کے لواحقین نے ماتم نہیں کیا۔ ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ گھروں میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ چاروں لڑکیوں کے باپوں نے ایک ہی جیسے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر وہ چار بیٹے قربان کرنے کو تیار ہیں مگر ان سے جو قربانی لی جانے لگی وہ بڑی ہی اذیت ناک تھی۔ صلیبی فوج نے تمام مسلمان گھروں کی خانہ تلاشی شروع کردی۔ خطرہ تھا کہ جو ہتھیار انہوں نے گھروں میں چھپا رکھے ہیں، وہ پکڑے جائیں گے۔ سب نے ہتھیار اندرونی کمروں کے فرش کھود کر دبا دئیے۔ دوسرا خطرہ یہ تھا کہ جو چار لڑکیاں شہید ہوگئی تھیں، ان کے متعلق جواب دینا مشکل تھا کہ کہاں چلی گئی ہیں۔ آگ کی رات کے دوسرے ہی دن امام کو جب لڑکیوں کی شہادت کی خبر سنائی گئی تو اس نے پہلی بات یہ کہی… ”تمہارے غیرمسلم پڑوسی اور مسلمان مخبر ضرور پوچھیں گے کہ لڑکیاں کہاں ہیں تو کیا جواب دو گے؟”

امام دانشمند اور دوراندیش انسان تھا، اس نے گہری سوچ کے بعد کہا… ”چاروں لڑکیوں کے باپ اور بھائی میرے ساتھ آئیں”… وہ آگئے تو اس نے سب کو ایک طریقہ بتایا اور کچھ باتیں ذہن نشین کرائیں۔ وہ سب کو صلیبیوں کی انتظامیہ کے دفتر میں لے گیا اور وہاں کے سب سے بڑے حاکم سے ملاقات کی اجازت لے کر بڑے غصے اور جذباتی لہجے میں کہا… ”میں ان لوگوں کا امام ہوں، یہ میرے پاس فریاد لے کر آئے ہیں کہ رات آگ لگی تو یہ سب آگ بجھانے کے لیے اٹھ دوڑے۔ یہ رات بھر کنوئوں سے پانی نکالتے رہے، شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا۔ یہ لوگ صبح کے وقت گھروں کو گئے تو انہیں پتا چلا کہ آپ کی فوج کے کچھ آدمی ان کے گھروں میں گھس گئے اور ان کی کنواری لڑکیاں اٹھا کر لے گئے۔ ہماری چار لڑکیاں لاپتہ ہیں”۔

”ہماری فوج پر الزام لگانے سے پہلے سوچ لو”… صلیبی حاکم نے رعب سے کہا۔

”جناب! میں مذہبی پیشوا ہوں”… امام نے کہا… ”میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں دھتکار سکتے ہیں اور اپنی فوج کو بے گناہ کہہ سکتے ہیں لیکن خدا سے آپ کوئی اچھا برا عمل نہیں چھپا سکتے۔ آپ ہمارے حاکم ہیں۔ خدا تو نہیں۔ ان لوگوں نے آپ کی فوج کو نقصان سے بچانے کے لیے ساری رات آگ سے لڑائی لڑی۔ آپ انہیں یہ صلہ دے رہے ہیں کہ یہ بھی تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ان کی لڑکیوں کو آپ کے فوجی اٹھالے گئے ہیں”۔

کچھ دیر بحث کے بعد حاکم نے انہیں کہا کہ ان لڑکیوں کو تلاش کیا جائے گا۔ امام اس سے یہی کہلوانا چاہتا تھا۔ باہر آکر جب وہ واپسی کے لیے چلے تو امام نے سب سے کہا کہ اب یہی مشہور کردو کہ رات ان کی لڑکیاں اغوا ہوگئی ہیں۔ چنانچہ یہی مشہور کردیا گیا۔ ان کے پڑوس میں رہنے والے غیرمسلموں نے یقین کرلیا۔ رات شہر کی حالت ہی ایسی تھی کہ لوٹ مار اور اغواء آسانی سے کی جاسکتی تھی۔

٭ ٭ ٭

برجیس سلطان ایوبی کے خیمے میں بیٹھا تھا، آفاق کی مرہم پٹی سلطان ایوبی کا جراح کرچکا تھا۔ آفاق کی دونوں بہنیں بھی خیمے میں بیٹھی تھیں۔ برجیس رات کا کارنامہ سنا چکا تھا۔ سلطان ایوبی بار بار لڑکیوں کو دیکھتا تھا۔ ہر بار اس کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں۔ برجیس نے کہا کہ وہ کرک کو ایسی افراتفری اور بھگدڑ میں چھوڑ آیا ہے کہ فوری طور پر حملہ کیا جائے تو حملہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ شہر میں فوجوں کے لیے رسد نہیں رہی۔ جانوروں کے لیے چارہ نہیں رہا، جانور ڈرے ہوئے ہیں، شہر پر خوف طاری ہے۔ فوجی بھی ڈری ہوئی ہے۔

سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھوگیا۔ بہت دیر بعد اس نے سراٹھایا اور اپنے نائبین اور مشیروں کو بلایا۔ اس نے پہلا حکم یہ دیا کہ ان لڑکیوں اور ان کے بھائی کو قاہرہ روانہ کردیا جائے اور ان کی رہائش اور وظیفے کا انتظام کیا جائے۔

”آپ میری بہنوں کو اپنی عافیت میں لے لیں”… آفاق نے کہا… ”میں آپ کے ساتھ رہوں گا، مجھے اپنی فوج میں شامل کرلیں۔ مجھے اپنی ماں اور باپ کے خون کا انتقام لینا ہے۔ اگر آپ مجھے کرک میں داخل کرسکیں تو میں اندر تباہی مچا دوں گا”۔

”جنگ جذبات سے نہیں لڑی جاتی”… سلطان ایوبی نے کہا… ”بڑی لمبی تربیت کی ضرورت ہے۔ تم صرف اپنی ماں اور اپنے باپ کے خون کا انتقام لینے کو بیتاب ہو، مجھے ان تمام باپوں اور تمام بیٹیوں کے خون کا انتقام لینا ہے جو صلیبی درندوں کا شکار ہوئی ہیں۔ اپنے آپ کو ٹھنڈا کرو”۔

آفاق کی جذباتی حالت ایسی تھی کہ سلطان ایوبی اسے زبردستی قاہرہ بھیجنے سے گریز کرنے لگا۔ اسے کہا کہ پہلے اپنا علاج کرائے، صحت یاب ہوجائے پھر اس کی خواہش پوری کردی جائے گی… اتنے میں نائب سالار اور اعلیٰ کمان دار آگئے۔ ان میں زاہدان بھی تھا۔ سلطان ایوبی نے آفاق اور اس کی بہنوں کو باہر بھیج دیا۔ اس نے اجلاس میں یہ مسئلہ پیش کیا کہ کیا کرک کو فوراً محاصرے میں لے لیا جائے؟… اس نے سب کو کرک کی اس وقت کی کیفیت بتائی۔ اس مسئلے پر بحث شروع ہوگئی۔ زاہدان نے اپنے جاسوسوں اور رپورٹوں کی روشنی میں کہا کہ صلیبی فوج صرف کرک میں نہیں باہر بھی ہے اور اس کا ایک حصہ ایسی پوزیشن میں ہے جو ہماری فوج کا محاصرہ باہر سے توڑ دے گا۔ انہوں نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ رسد کی آمدورفت کی حفاظت کے لیے ان کی پوری فوج موجود ہے اگر ان کے پاس وقتی طور پر رسد کی کمی آگئی ہے تو یہ سمجھ کر حملہ کرنا کہ ہمارا محاصرہ کامیاب ہوگا محض خوش فہمی ہے۔ ان کے پاس صرف وہی رسد اور سامان نہیں تھا جو جل گیا ہے۔ ان کی ہر ایک فوج کے ساتھ اپنی اپنی رسد اور سامان موجود ہے اور ان کی نفری ہم سے پانچ چھ گنا ہے۔

اجلاس کے دوسرے شرکاء نے اپنے اپنے مشور ے پیش کیے۔ ان کی اکثریت فوری حملے کے حق میں تھی اور بعض نے انتظار کی تجویز پیش کی۔ تجاویز اور مشورے جیسے کیسے بھی تھے سلطان ایوبی نے سنے۔ اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ کمانڈروں کا جذبہ شدید تھا۔ ان میں بیشتر نے کہا کہ حملہ جلدی کریں یا دیر سے، یہ پیش نظر رکھیں کہ ایک بار حملہ کرکے یہ نہ سننا پڑے کہ محاصرہ اٹھالو کیونکہ ہم کمزور ہیں۔ سلطان ایوبی خاموشی سے سنتا رہا، اس نے آخر میں فوج کے جذبے اور دیگر کوائف کے متعلق پوچھا، اسے تسلی بخش جواب ملا۔

”میں جلدی حملہ کرنا چاہتا ہوں”… آخر میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا… ”لیکن میں جلد بازی کا قائل نہیں، میرے سامنے صرف کرک کا قلعہ بند شہر نہیں بلکہ صلیبیوں کی وہ تمام فوج ہے جو انہوں نے باہر پھیلا رکھی ہے۔ زاہدان نے ٹھیک کہا ہے کہ کرک کے اندر تباہی سے ہمیں خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے تاہم حملہ جلدی ہوگا۔ فاصلہ زیادہ نہیں۔ ایک ہی رات میں ہمارے دستے کرک تک پہنچ سکتے ہیں ا گر انہیں ایک جنگ قلعے سے باہر لڑنی پڑے گی۔ کوچ سے بیشتر ہمیں کرک کے مسلمانوں کو تیار کرنا پڑے گا۔ مجھے اندر کی جو تازہ اطلاع ملی ہیں، وہ یہ ہیں کہ وہاں کے مسلمان درپردہ ایک جماعت کی صورت میں منظم ہوچکے ہیں، امید کی جاسکتی ہے کہ وہ محاصرے کی صورت میں شہر میں تخریب کاری کریں گے۔ ان کی لڑکیاں بھی میدان میں نکل آئی ہیں۔ صرف چار لڑکیوں نے صلیبیوں کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ پچاس پچاس نفری کے چار دستے بھی نہیں پہنچا سکتے۔ ہم کوشش کریں گے کہ شہر میں اپنے چھاپہ مار بھی داخل کردیں”۔

”مداخلت کی معافی چاہتا ہوں”… برجیس نے کہا… ”اگر چھاپہ مار بھیجنے ہیں تو فوراً بھیجئے۔ کرک کے جو شہری بھاگ گئے ہیں وہ یقینا واپس جائیں گے۔ ان کے پردے میں چھاپہ مار داخل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد ممکن نہیں ہوگا۔ آتش زنی کے واقعہ کے بعد صلیبی محتاط ہوجائیں گے اور شہر کے تمام دروازے بند کردیں گے۔ مجھے اجازت دیں کہ میں ان کے ساتھ آج ہی روانہ ہوجائوں۔ وہ اپنے ساتھ کوئی ہتھیار نہ لے جائیں۔ وہاں سے ہتھیار مل جائیں گے”۔

آخر فیصلہ یہ ہوا کہ آج ہی رات چھاپہ مار برجیس کی قیادت میں روانہ کردیئے جائیں۔ جہاں تک گھوڑے لے جاسکتے ہیں، وہاں تک گھوڑوں پر جائیں۔ آگے پیدل جائیں۔ گھوڑے واپس لانے کے لیے کچھ آدمی ساتھ بھیج دیئے جائیں۔ اسی وقت زاہدان سے کہا گیا کہ وہ برجیس کی ہدایات کے مطابق چھاپہ ماروں کو شہری لباس مہیا کرے اور شام کے بعد روانہ کردے۔ سلطان ایوبی نے اپنے فوجی کمانڈروں کو جنگی نوعیت کی ہدایات دیں اور خاص طور پر کہا … ”یہ یاد رکھنا کہ جس فوج سے ہم حملہ کرارہے ہیں، یہ وہ فوج نہیں جس نے شوبک فتح کیا تھا۔ یہ فوج مصر سے آئی ہے جس میں دشمن نے بے اطمینانی پھیلائی تھی۔ اس فوج کو محاصرے میں لڑنے کا تجربہ نہیں۔ کمان داروں کو چوکنا رہنا پڑے گا۔ مجھے شک ہے کہ اس فوج میں تخریبی ذہن کے سپاہی بھی ہیں۔ میں نے جو دستے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں وہ ترک اور شامی ہیں اور نورالدین زندگی کی بھیجی ہوئی کمک کو بھی اپنے پاس محفوظ میں رکھوں گا۔ حالات تمہارے خلاف ہوگئے تو گھبرا کر پیچھے نہ ہٹ آنا۔ میں تمہارے پیچھے موجود رہوں گا… اور یہ بھی یاد رکھو کہ کرک کے مسلمانوں کے ساتھ امیدیں وابستہ نہ کیے رکھنا۔ ان کے لیے جو ہدایات بھیج رہا ہوں، وہ ایسی ہرگز نہیں ہوں گی کہ یہ اپنے آپ کو ایسے خطرے میں ڈال لیں کہ ان کی مستورات کی عزت بھی محفوظ نہ رہے۔ میں ان سے اتنی زیادہ قربانی نہیں مانگوں گا۔ وہ محکوم اور مجبور ہیں۔ ظلم وتشدد کا شکار ہیں۔ ہم ان کی آزادی اور نجات کے لیے جارہے ہیں، ان کے بھروسے پر نہیں جارہے”۔

چار پانچ دنوں تک کرک میں یہ کیفیت رہی کہ مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے تھے۔ کئی مسلمان محض شک میں گرفتار کرلیے گ ئے تھے۔ بیگار کیمپ کے جن قیدیوں کو اس وعدے پر آگ بجھانے کے لیے لے گئے تھے کہ انہیں رہا کردیا جائے گا، انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔ صلیبیوں نے مظالم کا ایک نیا دور شروع کردیا تھا۔ ان کا نقصان معمولی نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کے سوا یہ دلیرانہ تخریب کاری اور کوئی نہیں کرسکتا۔ گرفتار ہونے والوں میں عثمان صارم کے دو دوست بھی تھے جو لڑکیوں کو رہا کرانے کے لیے ان کے ساتھ تھے۔ انہیں درندوں کی طرح اذیتیں دی جارہی تھیں۔ صلیبی بربریت کی حدوں سے بھی آگے نکل گئے تھے مگر انہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ صرف یہ دو کم عمر لڑکے تھے جن کے سینوں میں سراغ تھا لیکن ان کی زبانیں بند تھیں۔ ان کے جسموں میں کچھ نہیں تھا۔ چکر شکنجے میں کس کس کر اور جھٹکے دے دے کر ان کے جوڑ الگ کردئیے گئے تھے لیکن لڑکے خاموش تھے۔

آخر ہرمن خود قید خانے میں گیا، اس کی توجہ بھی ان دو لڑکوں پر تھی۔ اسے مسلمان مخبروں نے بتایا تھا کہ آتش زنی میں ان دو لڑکوں کا بھی ہاتھ ہے۔ مخبر دو مسلمان تھے، دونوں ان لڑکوں کے پڑوسی تھے۔ وہ معمولی سی حیثیت کے آدمی ہوا کرتے تھے لیکن اب گھوڑا گاڑیوں میں سواری کرتے تھے اور صلیبیوں کے درباری بن گئے تھے۔ وہ صلیبی حاکموں کو گھروں میں بھی مدعو کرتے تھے اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ بٹھاتے اور فخر کرتے تھے۔ ان کی دو دو تین تین بیویاں تھیں اور وہ شراب بھی پیتے تھے۔ انہوں نے ان دو لڑکوں کو آتش زنی کی رات کہیں مشکوک حالت میں دیکھا تھا اور انہیں گرفتار کرادیا۔ ہرمن نے قید خانے میں ان دونوں نوجوانوں کی حالت دیکھی تو اس نے محسوس کیا کہ نزع کی حالت میں پہنچ کر بھی انہوں نے کچھ نہیں بتایا تو یہ کچھ بھی نہیں بتائیں گے۔ ان کے جسم عادی ہوچکے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔ انہیں بڑا اچھا کھانا کھلایا، پیار شفقت سے پیش آیا۔ ڈاکٹروں کو بلا کر انہیں دوائی پلائی اور تشدد کے زخموں اور چوٹوں کا علاج کرایا۔ پھر انہیں سلا دیا۔ وہ فوراً ہی گہری نیند سوگئے۔

ہرمن دونوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ان میں سے ایک نوجوان صاف الفاظ میں بڑبڑانے لگا۔ ”میں کیا جانوں؟ میرا جسم کاٹ دو، مجھے کچھ بھی معلوم نہیں اگر کچھ معلوم ہوگا تو کبھی نہیں بتائوں گا، تم گردن کے ساتھ صلیب باندھتے ہو میں نے قرآن کی ایک آیت باندھی ہوئی ہے”۔

”تم نے آگ لگائی تھی”… ہرمن نے کہا… ”تم نے صلیبیوں کی کمر توڑ دی ہے، تم بہادر ہو، مرگئے تو شہید کہلائو گے”۔

”اگر مرگیا تو”… نوجوان بڑبڑایا… ”اگر مرگیا تو، جب تک جسم میں جان ہے، اس جان میں ایمان بھی رہے گا، جان نکل جائے گی، ایمان نہیں نکلے گا”۔

ہرمن نے اس کے سوئے ہوئے ذہن میں اپنے مطلب کی باتیں ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن نوجوان کے ذہن نے قبول نہ کیں۔ اتنے میں دوسرا لڑکا بھی بڑبڑانے لگا۔ ہرمن نے اس کی طرف توجہ دی۔ اسی طرح اس کے ذہن میں بھی باتیں ڈالیں جو اس نوجوان نے اگل دیں۔ ہرمن کے ساتھ اس کے تین چار سراغ رساں بھی تھے۔ اس نے بہت دیر کی کوشش کے بعد آہ بھری اور کہا … ”مزید کوشش بے کار ہے، ان کی زبان سے تم کوئی راز نہیں اگلوا سکو گے۔ یہ بے گناہ معلوم ہوتے تھے مگر میں تمہیں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ اپنے عقیدے اور جذبے کے پکے ہیں۔ میں نے انہیں مرغن کھانوں میں اتنی زیادہ حشیش کھلائی ہے جتنی گھوڑے کو کھلا دو تو وہ بھی باتیں کرنے لگے مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا قومی جذبہ جسے یہ لوگ ایمان کہتے ہیں ان کی روحوں میں اترا ہوا ہے۔ تم ان کی روحوں پر کوئی نشہ طاری نہیں کرسکتے۔ دوسری صورت یہی ہے کہ یہ بے گناہ ہوں گے”۔

وہ بے گناہ نہیں تھے، وہ آتش زنی اور لڑکیوں کو آزاد کرانے کی مہم میں شریک تھے۔ صلیبی جسے گناہ اور جرم کہہ رہے تھے وہ مسلمان کے لیے عظیم نیکی اور جہاد تھا جو ان لڑکوں نے روح اور ایمان کی قوت سے کیا تھا۔ حشیش نے انہیں بے ہوش کردیا تھا۔ ان کی عقل کو سلا دیا تھا مگر ان کی روحیں بیدار تھیں۔ صلیبی ان کی زبان سے ہلکا سا اشارہ بھی نہ لے سکے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ لڑکے بے قصور ہیں۔ یہ صلیبیوں کی مجبوری تھی … ان لڑکوں کی آنکھ کھلی تو باہر ویرانے میں پڑے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں دور لے جاکر پھینک دیا۔ وہ اٹھے، ایک دوسرے کو دیکھا اور گھروں کو چل دیئے۔

جو عیسائی اور یہودی باشندے آتش زنی کی رات شہر سے نکل گئے تھے، وہ یہ دیکھ کر کہ کوئی حملہ نہیں ہوا اور امن وامان ہے تو واپس آنے لگے۔ صلیبیوں کی فوج جو باہر خیمہ زن تھی، اس نے بھی انہیں یقین دلایا کہ کوئی حملہ نہیں ہوا۔ وہ چلے جائیں۔ چنانچہ ایک حکم کے تحت شہر کے دو دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے رکھے گئے جو واپس آرہے تھے۔ لوگ کنبہ در کنبہ داخل ہوگئے۔ کرک کے لوگوں نے دیکھا کہ وہ چپ چاپ اور غریب سا موچی جو دنیا کے ہنگاموں سے بے خبر راستے میں بیٹھا جوتے مرمت کیا کرتا تھا، تین دنوں کی غیرحاضری کے بعد پھر راستے میں آبیٹھا ہے۔ اس نے رات ہی رات پندرہ چھاپہ ماروں کو عثمان صارم اور اس کے نوجوان ساتھیوں کی مدد سے مسلمان گھرانوں میں چھپا دیا تھا۔ ان میں اب کوئی کسی دکان میں ملازم تھا، کوئی صلیبیوں کے اصطبل کا سائیس بن گیا تھا، کوئی مذہب کے طالب علم کے روپ میں مسجد میں جھاڑو دیتا تھا۔

انہیں اب یہ دیکھنا تھا کہ سلطان ایوبی کے حملے کی صورت میں وہ اندر سے کیا کرسکتے ہیں۔ کرنے والا کام صرف یہ تھا کہ کہیں سے قلعے کی دیوار میں اتنا بڑا شگاف پیدا کریں کہ اس میں سے گھوڑے بھی اندر آسکیں یا قلعے کا کوئی دروازہ کھول سکیں۔ وہ انہی کاموں کے لیے زمین ہموار کررہے تھے۔ عثمان صارم نے اپنی نوجوان جماعت میں اضافہ کرلیا تھا۔ لڑکیاں بھی تیار ہوگئی تھیں مگر رینی الیگزینڈر سائے کی طرح عثمان کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اسے راستے میں روک لیتی تھی، اس کے گھر چلی جاتی تھی اور ایک روز اس نے عثمان صارم سے پوچھا… ”عثمان! النور کہاں ہے؟”

”تمہاری قوم کے کسی گناہ گار کے پاس”… عثمان صارم نے جل کر جواب دیا… ”اس پر اللہ کی لعنت”۔

”رحمت کہو عثمان!”… رینی نے کہا… ”تم ہمارے خلاف لڑ کر مرنے والوں کو شہید کہا کرتے ہو۔ النور شہید ہوگئی ہے”۔

”عثمان صارم چکرا گیا، اسے کوئی جوا ب نہ بن پڑا”۔

”اور ان دو لڑکیوں کوا ٹھانے والوں میں تم بھی تھے”۔ رینی نے کہا… ”لیکن تم ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ میں نے کہا تھا کہ تمہاری قید اور آزادی کے درمیان میرا وجود حائل ہے… کہو اور کتنی قربانی مانگتے ہو”۔

عثمان صارم آخر نوجوان تھا، جسم میں جتنا جوش اور جذبہ تھا، اتنی عقل نہیں تھی۔ وہ دانشمند نہیں تھا۔ رینی کی باتوں نے اسے پریشان کردیا۔ اس نے جھنجھلا کر پوچھا… ”رینی! تم کیا چاہتی ہو؟”

”ایک یہ کہ میری محبت قبول کرلو”… رینی نے جواب دیا… ”دوسرا یہ کہ ان زمین دوز حرکتوں سے باز آجائو”۔

”تم اپنی قوم اور اپنی حکومت سے محبت کرتی ہو”۔ عثمان صارم نے کہا… ”اگر تمہارے دل میں میری محبت اتنی ہی شدید ہے تو میری قوم سے ہمدردی کیوں نہیں کرتی؟”

”مجھے نہ اپنی قوم سے محبت ہے نہ تمہاری قوم سے”۔ رینی نے کہا… ”میں تمہیں خطرناک کارروائیوں سے صرف اس لیے روک رہی ہوں کہ تم مارے جائو گے۔ حاصل کچھ بھی نہ ہوگا۔ میں جذباتی نہیں، حقیقت کی بات کررہی ہوں کہ سلطان ایوبی کرک فتح نہیں کرسکے گا۔ اپنے باپ کی بتائی ہوئی باتوں کے مطابق بات کررہی ہوں۔ جنگ محاصرے کی نہیں ہوگی، باہر کرک سے دور ہوگی۔ ہمارے کمانڈر سلطان ایوبی کی چالیں سمجھ گئے ہیں۔ شوبک کی شکست سے انہوں نے سبق حاصل کرلیا ہے۔ اب کرک کے محاصرے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ اگر تم لوگوں نے شہر کے اندر سے کوئی کارروائی کی تو اس کا ن تیجہ یہی ہوگا کہ مارے جائو گے یا گرفتار ہوکر باقی عمر ناقابل برداشت اذیتوں میں گزارو گے۔ میں تمہیں صرف زندہ اور سلامت دیکھنا چاہتی ہوں”۔

عثمان صارم سرجھکائے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔ اسے رینی کی آواز سنائی دی… ”سوچوعثمان! سوچو۔ میری باتیں ایک غیرقوم کی لڑکی کی باتیں سمجھ کر ذہن سے اتار نہ دینا”۔

٭ ٭ ٭

”میں آپ سب کو ایک بار پھر بتا دیتا ہوں کہ یہ کرک ہے شوبک نہیں”۔ سلطان ایوبی نے اپنے کمانڈروں کو آخری ہدایات دیتے ہوئے کہا… ”صلیبی چوکنے اور بیدار ہیں، میری جاسوسی مجھے بتا رہی ہے کہ ہمیں ایک جنگ کرک سے باہر لڑنی پڑے گی۔ شہر کے اندر سے مسلمانوں نے کوئی زمین دوز کارروائی کی تو شاید وہ ہمارے کام نہیں آسکے گی۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بے چارے مارے جائیں۔ میں انہیں اتنے بڑے امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ انہیں بچانے کی ایک ہی صورت ہے کہ حملہ تیز اور بہت سخت کرو”… ایسے ہی چند اور ضروری احکامات کے بعد سلطان ایوبی نے اس فوج کو کوچ کا حکم دے دیا جسے کرک کا محاصرہ کرنا تھا۔

کوچ سورج غروب ہونے کے بعد کیا گیا، فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ صبح طلوع ہونے تک فوج کرک کے مضافات میں پہنچ گئی جہاں سے محاصرے کی ترتیب میں آگے بڑھی۔ اس فوج کے سالار کے لیے یہ ایک عجوبہ تھا کہ راستے میں اسے صلیبیوں کا کوئی ایک دستہ بھی نظر نہ آیا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ صلیبیوں نے باہر بھی فوج خیمہ زن کررکھی ہے۔ اسے ایسے راستے سے بھیجا گیا تھا جس طرف صلیبیوں کی فوج نہیں تھی۔ پھر بھی مزاحمت ضروری تھی جو بالکل ہی نہ ہوئی۔ مسلمانوں کی اس فوج نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ قلعے کی دیواروں سے تیروں کی بارش برسنے لگی۔ سلطان ایوبی کی فوج نے اس کے جواب میں کوئی شدید کارروائی نہ کی۔ اس کے کمان دار ادھر ادھر سے دیواروں پر چڑھنے یا نقب لگانے یا کسی دروازے کو توڑ کر اندر جانے کے امکانات دیکھتے پھر رہے تھے۔ انہوں نے تیر اندازوں کو بھی خاموش رکھا۔ ان کے ساتھ وہ جاسوس تھے جو شہر سے واقف تھے۔ وہ انہیں بتا رہے تھے کہ اندر کون سی اہم جگہ کہاں ہے۔

شہر کے اندر ابھی کسی کو خبر نہیں ملی تھی کہ سلطان ایوبی کی فوج نے قلعے کا محاصرہ کرلیا ہے لیکن یہ محاصرہ ابھی مکمل نہیں تھا۔ عقب ابھی خالی تھا جہاں دو دروازے تھے۔ اچانک قلعے کے اندر فوجی علاقے میں آگ برسنے لگی۔ یہ آتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کی ایجاد تھی۔ یہ منجنیقوں سے اندر پھینکی جارہی تھیں۔ شہر کے لوگوں نے دیکھا کہ ان کی فوج قلعے کی دیوار پر چڑھ گئی اور باہر کو تیر پہ تیر چلا رہی تھی۔ شہر میں خوف وہراس پھیل گیا۔ عیسائی اور یہودی باشندے گھروں میں دبک گئے۔ مسلمان باشندے دعائوں میں مصروف ہوگئے۔ وہ سلطان ایوبی کی فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ مسلمان ایسے تھے جو دعائوں کے ساتھ بڑی خطرناک سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ یہ وہاں کے نوجوان تھے جن میں لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں سلطان ایوبی کے پندرہ چھاپہ مار بھی تھے۔ شہر کی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کہیں اکٹھے ہوگئے اور قلعے کے بڑے دروازے کو اندر سے کھولنے یا توڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔

دروازہ بہت مضبوط اور موٹی لکڑی کا تھا جس پر لوہے کی موٹی موٹی پتریاں بھی مڑی ہوئی تھیں۔ اسے توڑنا آسان نہیں تھا، باہر سے مسلمان فوج نے دروازے پر منجنیقوں سے ہانڈیاں پھینکیں، یہ دوسری قسم کی تھیں۔ یہ ٹوٹتی تھیں تو ان میں سے سیال مادہ بکھر جاتا تھا۔ اس پر فلیتے والے آتشیں تیر چلائے جاتے تو سیال مادہ کو آگ لگ جاتی تھی۔ اس طریقے سے دروازے کو آگ لگائی گئی لیکن لوہے نے لکڑی کو نہ جلنے دیا۔ دروازہ بہت ہی مضبوط تھا۔ اوپر سے صلیبیوں نے وہ تیر برسانے شروع کردیئے جو بہت دور تک جاتے تھے۔ یہ منجنیقوں تک پہنچ گئے جن سے کئی آدمی زخمی اور شہید ہوگئے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے منجنیقیں پیچھے کرلی گئیں اور آگ پھینکنے کا طریقہ ناکام ہوگیا۔

آخر مسلمان تیر اندازوں کو حکم دیا گیا کہ قلعے کی دیواروں پر جو دشمن کے سپاہی ہیں ان پر تیر برسائیں۔ سارا دن دونوں طرف سے تیر اندازی ہوتی رہی۔ ہوا میں صرف تیر اڑتے نظر آتے تھے۔ صلیبی دفاعی پوزیشنوں میں تھے اور دیواروں کی بلندی پر بھی تھے، اس لیے زیادہ نقصان مسلمان فوج کا ہورہا تھا۔ مسلمانوں کے نقب زن جو قلعوں کی دیواریں توڑنے کے ماہر تھے، ہر طرف گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے کہ دیوار میں کہاں شگاف ڈالا جاسکتا ہے۔ وہاں چاروں طرف سے اتنے تیر آرہے تھے کہ دیوار کے قریب جانا خودکشی کے برابر تھا۔ شام سے کچھ دیر پہلے نقب زنوں کی آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت آگے بڑھی۔ یہ جانباز جب دیوار سے تھوڑی دور رہ گئے تو اوپر سے ان پر اس قدر تیر برسے اور تیروں کے ساتھ اتنی زیادہ برچھیاں آئیں کہ آٹھوں جانباز وہیں شہید ہوگئے۔ ایک ایک کے جسم میں کئی کئی تیر اور برچھیاں لگیں۔

رات کا پہلا پہر تھا، رینی اپنے گھر میں تھی۔ اس کا باپ تھکا ہوا آیا تھا۔ یہ کہہ کر سوگیا کہ جلدی جاگ اٹھے گا کیونکہ رات کو بھی اسے کام پر جانا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ شہر کے مسلمانوں کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ وہ اندر سے کوئی بڑی خطرناک کارروائی کرنے والے ہیں۔ ہمیں ہر ایک مسلمان گھرانے پر نظر رکھنی پڑے گی۔ یہ کہہ کر وہ سو گیا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی تو کسی ملازم کے بجائے رینی نے دروازہ کھولا۔ باہر ایک مسلمان کھڑا تھا جو بڑی اونچی حیثیت کا مالک تھا۔ صلیبیوں کی طرف سے اسے خوب انعام واکرام ملتا تھا۔ رینی نے اسے بتایا کہ اس کاباپ سویا ہوا ہے، وہ پیغام دے دے۔ تھوڑی دیر بعد وہ جاگے گا تو اسے بتا دیا جائے گا۔ مسلمان نے کہا کہ وہ خود بات کرنا چاہتا ہے۔ بات بہت اہم اور نازک ہے۔

”آج رات مسلمان کے بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اندر سے قلعے کی دیوار توڑ دیں گے”… رینی کے پوچھنے پر اس نے مختصراً بتایا اس نے کہا… ”میں نے ان کا ہمدرد اور ساتھی بن کر یہ راز حاصل کیا ہے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ ان میں باہر سے آئے ہوئے چھاپہ مار بھی ہیں اور نیاک انکشاف یہ ہے کہ وہ غریب موچی جو راستے میں بیٹھا رہتا ہے وہ سلطان ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہے اور اس کا نام برجیس ہے… میں تمہارے والد کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں تاکہ ان لوگوں کو پھانسنے کے لیے گھات لگائی جائے”۔

رینی نے چند ایک مسلمان نوجوانوں کے نام لے کر عثمان صارم کا بھی نام لیاا ور پوچھا… ”کیا یہ لڑکے بھی اس مہم میں شامل ہیں؟”

”صارم کا بیٹا عثمان تو اس گروہ کا سرغنہ ہے”… مسلمان مخبر نے بتایا… ”اور ان کا سب سے بڑا سرغنہ امام رازی ہے”۔

”آپ تھوڑی دیر تک آجائیں”… رینی نے اسے کہا… ”باپ کو ذرا سی دیر سونے دیں”۔

مگر وہ جانا نہیں چاہتا تھا۔ صلیبیوں کو خوش کرنے اور ان سے انعام وصول کرنیکا اسے نہایت موزوں موقع مل گیا تھا۔ اس کے متعلق مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا کہ قرآن کے بجائے صلیب کا وفادار ہے۔ اسی روز مسلمان نوجوانوں اور چھاپہ ماروں نے دیوار توڑنے کی سکیم بنائی تھی۔ اس خفیہ اجتماع میں تین چار بزرگ، امام اور یہ مسلمان بھی تھا جس نے لڑکوں کو اچھے مشورے دیئے اور سب سے زیادہ جذبے کا اظہار کیا تھا۔ مسلمانوں کو شک تک نہ ہوا کہ وہ صلیبیوں کا پالا ہوا سانپ ہے، سبھی اسے شہر کا امیر اور معزز تاجر سمجھتے تھے جس کے حسن سلوک کی بدولت صلیبی بھی اس کی عزت کرتے تھے۔

وہ واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ رینی گہری سوچ میں کھوگئی۔ اس نے اسے اندر بٹھانے کے بجائے یہ کہا کہ وہ اسے پوری بات سنائے اور یہ بھی کہا کہ آئو ذرا باہر ٹہل لیتے ہیں، اتنی دیر میں باپ جاگ اٹھے گا۔ وہ تو صلیبیوں کا غلام تھا۔ اتنے بڑے افسر کی بیٹی کے ساتھ خراماں خراماں چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ کنویں تک پہنچ گئے۔ یہ کنواں شہریوں کے لیے کھودا گیا تھا۔ بہت ہی دور سے پانی نکلا تھا۔ رینی کنویں کے منہ پر رک گئی۔ مسلمان مخبر اسے بات سنا رہا تھا وہ بھی کنویں کے قریب کھڑا تھا۔ رینی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اور پوری طاقت سے دھکا دیا۔ مسلمان پیچھے کو گرا اور سیدھا کنویں میں گیا۔ اس کی چیخ سنائی دی جو ”دھڑام”کی آواز میں ختم ہوگئی۔

رینی اس مسرت کے ساتھ گھر آگئی کہ اس نے ایک ایسا راز کنویں میں ڈبو دیا ہے جو عثمان صارم کی یقینی موت کا باعث بن سکتا تھا۔

٭ ٭ ٭

وہاں سے وہ ڈرتی ہوئی عثمان صارم کے گھر گئی۔ ا س کی ماں کے پاس بیٹھی، النور کی باتیں کرتی رہی۔ اس نے عثمان کے متعلق پوچھا تو اس کی ماں نے بتایا کہ وہ شام کے بعد ہی گھر سے نکل گیا تھا۔ رینی کو خیال آگیا کہ وہ دیوار توڑنے کی مہم پر چلا گیا ہوگا۔ وہ اسے روکنا چاہتی تھی۔ اسے ڈر یہ تھا کہ ان کیااجتماع میں کوئی اور مخبر بھی ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور نے فوج کو اطلاع دے دی ہو۔ وہ باہر نکل گئی اور اس طرف چل پڑی جس طرف سے ان لوگوں نے دیوار توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مسلمان نے جیسے اس نے کنویں میں پھینک دیا تھا، بتا دیا تھا کہ چھاپہ مار دیوار کے اوپر جاکر صلیبی تیر اندازوں کو ایسے طریقے سے ختم کریں گے کہ کسی کو پتا نہ چل سکے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نیچے سے دیوار کھودیں گے۔ اس کی کھدائی مشکل نہیں، وقت طلب تھی۔ اس پارٹی نے بوقت ضرورت لڑائی کا انتظام بھی کررکھا تھا۔ ان کے پاس خنجر اور برچھیاں بھی تھیں۔ یہ ایک غیرمعمولی طور پر دلیرانہ مہم تھی جس کی ناکامی کے امکانات زیادہ تھے۔ انہوں نے جگہ ایسی منتخب کی تھی جہاں پکڑے جانے کا امکان ذرا کم تھا۔

یہ گروہ مقررہ جگہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ رینی اس طرف دوڑی جارہی تھی، وہ عثمان صارم کو روکنا چاہتی تھی۔ اسے شاید علم ہوگیا تھا کہ یہ لوگ پکڑے جائیں گے اور عثمان صارم مارا جائے گا۔ ان جانبازوں کا جانے کا طریقہ اور راستہ کچھ اور تھا۔ رینی پہلے وہاں پہنچ گئی جہاں سے دیوار توڑنی تھی۔ وہاں ابھی کوئی نہیں پہنچا تھا۔ اس نے اندھیرے میں ادھر ادھر دیکھا۔ اچانک پیچھے سے اسے کسی نے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر پرے لے گیا۔ یہ ایک فوجی تھا۔ پرے لے جا کر فوجی نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اس نے باپ کا نام لیا، اسے کہا گیا کہ وہ وہاں سے چلی جائے مگر وہ وہاں سے نہیں ہٹنا چاہتی تھی۔ وہاں دراصل فوج کا ایک پورا دستہ چھپا ہوا تھا۔ اس کے کمانڈر نے رینی کو بتایا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ یہاں نقب لگانے آرہا ہے اور اسے پکڑنے کے لیے گھات لگائی گئی ہے… یہ اطلاع ایک اور مسلمان مخبر نے فوج کو دی تھی۔

رینی انہیں یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ گھات سے اٹھ جائیں، وہ تو صرف عثمان صارم کو بچانا چاہتی تھی۔ اس مسلمان نوجوان کی محبت نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اتنے میں ایک فوجی نے کہا… ”اطلاع غلط نہیں تھی، وہ آرہے ہیں”… رینی تڑپ اٹھی۔ اس نے چلا کر کہا… ”عثمان! واپس چلے جائو”… دستے کے کمانڈر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا …”یہ بدبخت جاسوس معلوم ہوتی ہے، اسے گرفتار کرلو”… لیکن گرفتاری کی انہیں مہلت نہ ملی کیونکہ کچھ دور سے شورشرابہ سنائی دینے لگا تھا۔

جانبازوں کی یہ پارٹی سیدھی گھات میں آگئی تھی۔ صلیبیوں کے دستے کی تعداد زیادہ تھی۔ پیشتر اس کے کہ جانباز سنبھلتے، وہ گھیرے میں آچکے تھے۔ مشعلیں جل اٹھیں جن کی روشنی میں جانباز صاف نظر آنے لگے۔ ان کے پاس کھدائی کا سامان، برچھیاں اور خنجر تھے۔ بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ ان میں گیارہ لڑکیاں تھیں، صلیبی کمانڈر نے بلندآواز سے کہا… ”لڑکیوں کو زندہ پکڑو”… چھاپہ ماروں میں سے کسی نے کہا… ”مجاہدو! بھاگنا نہیں۔ ایک ایک لڑکی کو ساتھ رکھو”۔

اور جو معرکہ لڑا گیا، وہ بڑا ہی خون ریز تھا۔ چھاپہ مار تو تربیت یافتہ لڑاکے تھے، خوب لڑے لیکن لڑکوں اور لڑکیوں نے صلیبیوں کو حیران کردیا۔ لڑکیاں ڈرنے کے بجائے نوجوانوں کو للکار رہی تھیں۔ انہیں زندہ پکڑنے کی کوشش میں متعدد صلیبی ان کے خنجروں کا شکار ہوگئے مگر صلیبی تعداد میں زیادہ تھے چونکہ یہ معرکہ قلعے میں لڑا جارہا تھا اس لیے صلیبی فوج کے دو دستے اور آگئے۔ اس معرکے میں ایک نسوانی آواز باربار سنائی دیتی تھی… ”عثمان نکل جائو… عثمان! تم نکل جائو”… یہ رینی کی آوازتھی۔ اس وقت تک عثمان لڑ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک صلیبی آیا، عثمان کے پاس خنجر تھا اور صلیبی کے پاس تلوار اچانک اس صلیبی کی پیٹھ میں ایک خنجر داخل ہوگیا۔ یہ رینی کا خنجر تھا۔ ایک اور صلیبی نے اسے للکارا، اس نے مرے ہوئے صلیبی کی تلوار اٹھا لی اور مقابلے پر اتر آئی۔

عثمان صارم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا لیکن کسی صلیبی کی تلوار نے اسے شہید کردیا۔ کچھ دیر بعد جانبازوں میں صرف دو لڑکیاں زندہ رہیں۔ وہ اکٹھی تھیں اور بہت سے صلیبیوں کے گھیرے میں آگئیں۔ گھیرا تنگ ہورہا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ خنجر پھینک دیں، دونوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا۔ دونوں نے بیک وقت اپنا اپنا خنجر اپنے اپنے دل پر رکھا اور دوسرے لمحے انہوں نے خنجر اپنے دلوں میں اتار دیئے۔ رینی کو زخمی کرکے پکڑ لیا گیا تھا۔ اس نے بعد میں پاگل پن کی کیفیت میں بیان دیا کہ وہ اس سکیم کو ناکام کرکے عثمان صارم کو بچانا چاہتی تھی۔

قلعے کی دیوار توڑنے کی امید ختم ہوگئی۔ شہر کے اندر مسلمانوں کی تخریب کاری بھی ختم ہوگئی۔ مسلمانوں کی قیادت کرنے والے جانباز شہید ہوچکے تھے۔ برجیس بھی شہید ہوچکا تھا لیکن سلطان ایوبی کی امیدیں صرف ان سرفروشوں کے ساتھ وابستہ نہیں تھیں۔ وہ قلعے سر کرنا جانتا تھا۔ ابھی تو محاصرے کا دوسرا دن تھا مگر اب کے صلیبیوں نے بھی قسم کھالی تھی کہ وہ کرک کا قلعہ سلطان ایوبی کو نہیں دیں گے۔

رینی الیگزینڈر‎ ‎کا آخری معرکہ بهی ختم ہوا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: